[1]پکتھال کا انتقال 19 مئی 1936ء کو 61 برس کی عمر میں ہوا- ان کی اہلیہ میوریل (1871-1942ء)نے مسز این فریمنٹل(1909-2002ء) سے پکتھال کی سوانح عمری لکھنے کی درخواست کی- این فریمنٹل، جن کا اصل نام این ہتھ جیکسن تھا، ایک دولت مند بینکر کی بیٹی تھیں- این فریمنٹل کے نانا جان کسی زمانے میں لبرل پارٹی کے رکن پارلیمنٹ، جونیئر وزیر اور نوآبادیاتی منتظم سر ماؤنٹ اسٹیورٹ ایلفنسٹن گرانٹ ڈف تھے- ہتھ جیکسن خاندان کا لندن میں ایک گھر اور سسیکس(Sussex) کے علاقے والڈرون کے قریب پوزنگ ورتھ میں ایک وسیع و عریض دیہی جاگیر بھی تھی- این فریمنٹل کی والدہ سماجی طور پر نہایت بااثر خاتون اور لندن کی سیاسی و ادبی حلقوں میں معروف تھیں-
این ایک غیر معمولی ذہین بچی تھیں جو 1909ء میں پیدا ہوئیں - کم عمر این اور اس وقت 40کے پیٹے میں مارماڈیوک پکتھال (1875-1936ء)ایک دوسرے کو جاننے لگے اور ان میں باپ بیٹی والی گہری دوستی ہوگئی- اس دوستی کی تفصیلات ہمارے پاس صرف این کے بیانات سے ملتی ہیں، لیکن معلوم ہوتا ہے کہ پکتھال نے اس بچی کو اس طرح پدرانہ شفقت سے نوازا کہ اُن کے درمیان ایک باپ بیٹی کی طرح تبادلہ ِخیالات ہوتا رہا- این کے اپنے والد بہت مصروف اور فاصلے پر رہنے والے انسان تھے اور 1921ء میں ان کا انتقال ہوگیا، اس وقت تک پکتھال ہندوستان منتقل ہوچکے تھے- این ان کے فلسطین اور شام کے ابتدائی سفرناموں، قصوں اور عرب روایات سے بہت متاثر ہوئیں- ان کا دعویٰ تھا کہ جب پکتھال ہندوستان گئے تو وہ پکتھال کی شفقت اور تحریروں سے اتنی متاثر ہوئیں کہ اُسی کم عمری میں مسلمان ہوگئیں- معلوم ہوتا ہے کہ پکتھال انہیں باقاعدگی سے خطوط لکھتے تھے جن میں ہندوستان کی زندگی اور ملاقاتوں کا ذکر ہوتا-بر صغیر میں 15 سالہ قیام کے دوران سال میں ایک دو مرتبہ برطانیہ آمد پربھی ان کی ملاقاتیں ہوتی رہیں- اپنی زندگی کے آخری برس میں بھی، جب وہ حیدرآباد میں دس سال گزار کر انگلینڈ واپس آئے تو دونوں کی ملاقات ہوئی-
این فریمنٹل بہت وسیع المطالعہ خاتون تھیں اور 23 برس کی عمر میں انہوں نے جارج اییلٹ (1919-1880ء) پر ایک کتاب بھی لکھی - وہ سیاسی طور پر بھی سرگرم تھیں اور 1935ء کے پارلیمانی انتخابات میں ڈف کوپر کے مقابلے میں لیبر پارٹی کی امیدوار بنیں- بعد میں 1961ء میں انہوں نے فیبین سوسائٹی کی تاریخ کو بھی مدون کیا -
اگرچہ پکتھال کی بیوہ میوریل نے این فریمنٹل سے سوانح عمری لکھنے کی درخواست کی تھی، لیکن این کی میوریل کے بارے میں رائے کے اندر وہ عقیدت نہیں تھی جس کا اظہار وہ پکتھال کیلئے کرتی تھیں - انہوں نے اپنی خود نوشت میں لکھا:
’’وہ نہ پکتھال کے ایمان میں شریک تھی اور نہ ان کی صلاحیتوں میں- وہ ایک باصلاحیت اور کامیاب ناول نگار تھے جبکہ وہ ایک معمولی شخصیت معلوم ہوتی تھیں، جو نہ انگلستان کے علاقے سسیکس میں خوش تھیں اور نہ بعد میں ہندوستان میں‘‘-
حقیقت یہ ہے کہ پکتھال ایک وسیع النظر، وسیع المطالعہ اور دوسروں کی رائے کا احترام کرنے والے فرد تھے -آپ نے تبلیغ کے تقاضوں کے مطابق دینی تعلیمات کتاب کی مصنفہ این فریمنٹل کے سامنے رکھیں تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا،اسی طرح اپنی زوجہ محترمہ کے سامنے بھی عملی اسلام پیش کیا جس کی گواہی محترمہ نے اپنے مضمون ’’اے گریٹ انگلش مسلم‘‘[2]میں دی جس میں انہوں نے لکھا کہ 1914ء میں ترکی سے واپسی پر گھر آکر پکتھال نے اپنے قبول اسلام کا اعلان کر دیا تھا لیکن میں پانچ سال تک اپنے آبائی عقیدہ پر ہی عمل پیرا رہی-
پیٹر کلارک نے کہا کہ مجھے یہ تاثر ملتا ہے کہ این فریمنٹل چاہتی تھیں کہ--- ایک بیٹی کی حیثیت سے--- مارماڈیوک پکتھال پر صرف انہی کا حق ہو اور وہی واحد عورت ہوں جو انہیں صحیح معنوں میں سمجھتی ہو- این فریمنٹل نے پکتھال کے بہت سے ذاتی اور دلچسپ خطوط اپنے شوہر کے اصرار پر ضائع کردیے- اسی لئے کتاب کی تدوین کے وقت مزید مواد اکٹھا کرنے میں انہیں دشواری پیش آئی- انہوں نے پکتھال کے ایک رشتہ دار کو لکھا:
’’مارماڈیوک ---اپنے افکار کے حوالے سے ---پراسرار انسان ہیں جن کے بارے میں حقائق یا مواد حاصل کرنا بہت مشکل ہے‘‘-
این فریمنٹل کی کتاب، جو 1938ء میں شائع ہوئی، 441 صفحات پر مشتمل تھی- یہ ایک شرمیلے، منکسر المزاج انسان کی نہایت ذاتی تصویر پیش کرتی ہے جس نے ایک ذہین بچی کے ساتھ پدرانہ تعلق قائم کیا اور وہ بچی ان کی عقیدت مند ہوگئی- تاہم محسوس ہوتا ہے کہ کتاب جلد بازی میں لکھی گئی- اگرچہ اس میں خطوط اور مضامین سے طویل اقتباسات شامل ہیں، لیکن حوالہ جات موجود نہیں- کتاب کی تدوین اور تصحیح اغلاط کمزور ہے، یہاں تک کہ جافا اور جدہ کو بھی خلط ملط کردیا گیا ہے- عربی الفاظ کی نقلِ صوت کہیں غلط اور کہیں عجیب انداز میں کی گئی ہے-ایک اور مثال نواب سر نظامت جنگ بہادر کا نام ہندی لہجے میں ’’نجامت‘‘ [3] لکھا ہے-
این کے بچپن میں پکتھال نے قرآن کریم کے بعض مقامات ان کے لیے ترجمہ بھی کیے تھے-این فریمنٹل لکھتی ہیں کہ انہیں ’’دا میننگ آف دا گلوریئس قرآن ‘‘کا اصل مسودہ بھی مطالعہ کے لیے دیا گیا تھا-
این فریمنٹل ’’لائل اینیمی‘‘ کی اشاعت کے بعد مزید 60 برس زندہ رہیں اور زیادہ عرصہ امریکہ میں گزارا- 1980ء کی ابتدائی دہائی میں جب میں پکتھال پر اپنی کتاب تیار کررہا تھا تو میں نے انہیں خطوط اور کاغذات کے بارے میں لکھا- اکتوبر 1983ء میں انہوں نے جواب دیا کہ وہ یہ سب حیدرآباد بھیج چکی ہیں-
’’کیونکہ میرا خیال تھا کہ شاید انہیں پکتھال کے مجموعۂ آثار میں شامل کردیا جائے‘‘-
وہ اس شخص کے دیگر ذاتی کاغذات کے بارے میں کچھ نہ بتاسکیں جسے انہوں نے میرے نام خط میں یوں بیان کیا:
’’میرے والد کی وفات کے بعد، جب میں بارہ برس کی تھی، ان(پکتھال ) کی اپنی وفات تک وہ بزرگوں میں میرے سب سے بڑے دوست رہے‘‘-
1992ء میں، یعنی میری کتاب کی اشاعت کے چھ برس بعد، میں حیدرآباد گیا- حیدرآباد میں پکتھال کے دوستوں میں ایک مؤرخ بھی تھے- جب پکتھال 1935ء میں حیدرآباد سے روانہ ہوئے تو فاروق شیروانی اپنے نوجوان بیٹے مصطفیٰ کے ساتھ انہیں ریلوے اسٹیشن پر الوداع کہنے گئے- مصطفیٰ اس وقت تقریباً پندرہ برس کے تھے-
یہی مصطفیٰ بعد میں حیدر آباد کے قیام کے دوران میرے رہنما بنے اور ہم نے ان بزرگ حضرات سے ملاقاتیں کیں جو مارماڈیوک پکتھال کو جانتے تھے- میں نے ان سے ذاتی کاغذات کے بارے میں پوچھا تو مصطفیٰ نے مجھے بتایا کہ پکتھال کو ذاتی سامان سے کوئی دلچسپی نہ تھی- وہ غالباً ایک بھورے رنگ کےصندوق کے ساتھ حیدرآباد آئے تھے اور ایک ہی کےصندوق کے ساتھ واپس گئے-
The Meaning of the Glorious Qur’ān
پکتھال کو بجا طور پر ’’دا میننگ آف دا گلوریئس قرآن‘‘ کے مصنف کے طور پر سب سے زیادہ یاد رکھا جاتا ہے، جسے پہلی بار 1930ء میں نیویارک سے نوف پبلشر نے شائع کیا- اس کے بعد اس کے مختلف ممالک میں کئی ایڈیشن شائع ہوئے- حیدر آباد کے گورنمنٹ سینٹرل پریس نے 1938ء میں عربی متن اور انگریزی ترجمے کو اُ س طرح ایک ساتھ شائع کیا، جیسا کہ پکتھال چاہتے تھے-
حیدر آبادی اشاعت کی نصف صدی مکمل ہونے پر عربی متن کے ساتھ اسی ترجمہ قرآن کریم کو ادارہ تحقیقاتِ اسلامی انٹرنیشل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد نے 1988ء میں شائع کیا -یہ بڑی تقطیع کے 448 صفحات پر مشتمل ہے-دو رنگی طباعت کے ساتھ اس کو دو کالموں میں پیش کیا گیا -دائیں طرف عربی متن جبکہ بائیں جانب انگریزی ترجمہ دیا گیا ہے-سنہری پھولوں کی ایک مسلسل کیاری متن اور ترجمہ کو جدا کرتی ہے-اسلامک ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے ڈائیریکٹر ڈاکٹر شیر محمد زمان(پ1932ء) نے دو صفحات پر مشتمل فصیح علمی انگریزی میں اس کا تعارف لکھا -[4]
پاکستان میں 1990ء کی دہائی سے چھوٹی تقطیع کے اخباری کاغذ پر 464 صفحات پر مشتمل ’’دا میننگ آف دا گلوریئس قرآن ‘‘ کو شائع کیا جارہا ہے -[5]یہ نسخہ سستا مل جاتا ہے لیکن اسی کو بنیاد بنا کر اقبال حسین انصاری نے پکتھال کے ترجمہ قرآن کے حوالے سے 24صفحات پر مشتمل ایک اغلاط نامہ[6] شائع کیاتھا-
یو نائیٹڈ کنگڈم اسلامک مشن دعوہ سینٹر،برمنگھم نے درمیانی تقطیع کے 565 صفحات پر مشتل ’’دا میننگ آف دا گلوریئس قرآن ‘‘کو 1997 ءمیں شائع کر کے یو-کے میں مفت تقسیم کیا-اس کی دوسری اشاعت اکیسویں صدی کے پہلے سال 2000ء میں مفت تقسیم کے لیے سامنے آئی - [7]
1970ء میں دہلی کے ایک ناشر نے اردو، عربی اور انگریزی پر مشتمل سہ لسانی ایڈیشن شائع کیا- دس برس بعد شارجہ کے حکمران کی سرپرستی میں اس ترجمے کی آڈیو کیسٹیں تیار کی گئیں جنہیں ’’گائی ایٹن،اسلامی نام حسن عبدالحکیم (1921-2010ء)‘‘نے اپنی آواز سے سجایا-
اسلام پر پکتھال کے وہ خطبات جو انہوں نے 1925ء میں مدراس، یعنی موجودہ چنئی میں دیے تھے، بار بار ہندوستان اور پاکستان میں شائع ہوتے رہے ہیں- ان کا عنوان ’’دا کلچرل سائڈ آف اسلام یا اسلام کا ثقافتی پہلو‘‘ہے اور میرے خیال میں آج بھی اس کی نئی اشاعت ہونی چاہیے-
پیٹر کلارک کا پکتھال سے تعارف:
1970ء کی دہائی کے اواخر میں پہلی بار میں پکتھال کی زندگی اور کام سے واقف ہوا- میں اردن اور لبنان میں رہ چکا تھا اور دمشق سے واقف تھا، جب میں نے ان کا ناول ’’سعید دا فشر مین یا سعید ملاح ‘‘ پڑھا، میں اس سے اس قدر متاثر ہوا کہ مکمل پڑھے بغیر اسے ہاتھ سے رکھ نہ سکا- ہر صفحہ بصیرت سے جگمگاتا تھا- مجھے ان کا مکالمے کا انداز پسند آیا، جس میں انہوں نے شامی عربی بول چال کو لفظی طور پر انگریزی میں منتقل کیا تھا- مجھے یہ بھی پسند آیا کہ وہ کس طرح عام شامی اور فلسطینی لوگوں کی زندگیوں کو بغیر جذباتی مبالغے یا تحقیر کے پیش کرتے ہیں- عام لوگوں کی الفاظ کے ذریعے کھینچی گئی حقیقت پسندانہ اور ہمدردانہ تصویریں مجھے سر والٹر سکاٹ (1832-1771ء) اور تھامس ہارڈی(1840-1928ء) کی تحریروں کی یاد دلاتی تھیں-
جب ایڈورڈ سعید(1935-2003ء) کی اورینٹلزم پہلی بار 1978ء میں شائع ہوئی تو میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ پکتھال کے کام کو جیسے ’’معمولی مصنفین کی عجیب و غریب فکشن‘‘ کے ساتھ رکھ کر نظر انداز کردیا گیا تھا- میں سوچنے لگا کہ کیا ایڈورڈ سعید نے واقعی پکتھال کے مشرق وسطیٰ پر مبنی ناول پڑھے بھی تھے؟
میں نے پکتھال کے مزید ناول تلاش کیے اور جلد ہی ’’دا چلڈرن آف دا نیل --- وادی نیل کے باشندگان‘‘، ’’اورینٹل اینکاؤنٹرز --- مشرق کی ملاقاتیں ‘‘ ،’’دا ویلی آف دا کنگز --- وادی ملوک‘‘ حاصل کرلیے- ان سب میں ہمدردانہ حقیقت نگاری کی وہی خوبی موجود تھی جس نے مجھے متاثر کیا تھا-
پھر میں نے ان کی باقی تمام تحریریں تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کی، ان ناولوں سمیت جو انگلستان کے پس منظر میں لکھے گئے تھے- انہوں نے قریباً 14ناول لکھے، جن میں نصف مشرق وسطیٰ اور ترکی جبکہ نصف انگلستان کے پس منظر میں تھے-
میں خوش قسمت تھا کہ ابتدا میں جو چار ناول میں نے خریدے وہ ان کے بہترین ناول تھے- میں نے این فریمنٹل کی کتاب ’’لائل اینیمی‘‘بھی حاصل کی- اگرچہ اس میں پکتھال کی ایک محبت و عقیدت سے مملو ذاتی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے، لیکن مجھے محسوس ہوا کہ این فریمنٹل پکتھال کی ادبی اور سیاسی اہمیت کو سمجھنے میں ناکام رہیں- میری رائے کے مطابق ان کے انداز میں کچھ جذباتی، ناپختہ اور حد سے زیادہ سادہ پن تھا-
پکتھال ایک ایسا شخص تھا جس کی تحریروں کو ، ایچ -جی ویلز (1866-1946ء)،ڈی -ایچ لارینس (1885-1930ء) اور ای-ایم-فارسٹر(1879-1970ء) جیسے سخت معیار رکھنے والے ناقدین نے سراہا تھا، جس کا ناول ’سعید دا فشرمین‘ 1903ء میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والا ناول رہا تھا، لیکن پھر بھی وہ بیسویں صدی کی ادبی تاریخ کی معیاری کتابوں میں نظر انداز کردیا گیا-
مجھے یہ بھی محسوس ہوا کہ این فریمنٹل پکتھال کی بیسویں صدی کے ایک مسلم مفکر کی حیثیت کو بھی پوری طرح نہیں سمجھ سکیں، اسی لئے میں نے پکتھال پر اپنی کتاب لکھنے کا فیصلہ کیا-
Marmaduke Pickthall: British Muslim
میں نے اپنی کتاب اس وقت لکھی جب میں یمن اور تیونس میں برٹش کونسل کے ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہا تھا- میں نے ان کے ذاتی کاغذات کے بارے میں معلومات کے لیے اشتہار دیا، عثمانیہ یونیورسٹی اور حیدرآباد کے آندھرا پردیش اسٹیٹ آرکائیوز کو خط لکھا لیکن کچھ نہیں ملا- میں نے کراچی پاکستان کے اخبار ڈان کو بھی لکھا- میں جانتا تھا کہ بہت سے پرانے حیدرآبادی ،اس ’’پولیس ایکشن‘‘ کے بعد، جس نے امارت حیدر آباد کو آزاد بھارت میں ضم کر دیا، کراچی ہجرت کر چکے تھے- میرے پاس کئی جوابات تھے جنہیں میں نے اپنی کتاب میں استعمال کیا- مسز فریمنٹل نے مجھے بتایا کہ انہیں نہیں لگتا کہ مارماڈیوک کے بھائی روڈولف (پ1876ء) کی کوئی اولاد ہے؛ اس معاملے میں وہ غلطی پر تھیں- میں نے 1983ء میں اچانک لندن کے ایک پکتھال کو خط لکھا لیکن مجھے کبھی جواب نہیں ملا- تاہم، میں نے 32 سال بعد جانا کہ یہ خط روڈولف کی ایک پوتی کو ملا، جو مارماڈیوک کے بھائی تھے- انہوں نے مجھے کبھی جواب نہیں دیا، لیکن ان کی بیٹی سارہ پکتھال، جو مارماڈیوک کی پڑپوتی ہیں نے مجھے 2015ء میں یہ خط دکھایایعنی خط محفوظ رکھا گیا تھا-
پکتھال کے والد کے 12 بچوں میں سے صرف تین صاحبِ اولاد ہوئے، اس لیے چارلس گریسن پکتھال (1822-1881ء) کے 12 بچے لیکن صرف تین پوتے پوتیاں ہوئیں - رڈولف کے اکلوتے بیٹے کے علاوہ، دو پوتیاں تھیں، جو دونوں بے اولاد رہیں- ان میں سے ایک مارجوری پکتھال تھیں، جن کے والد نے کینیڈا ہجرت کی، مارجوری ایک معروف کینیڈین ناول نگار بن گئیں- دوسری لنکن شائر کی مورخ، مسز ڈوروتھی روڈکن تھیں، جو 1984ء میں وفات پا گئیں- انہوں نے کچھ خاندانی تصاویر سنبھال کر رکھی تھیں اور ان کے منتظم ڈاکٹر رابرٹ پیسی کی مہربانی سے میں ان میں سے تین تصاویر اپنی کتاب میں استعمال کر سکا- دوسرا بڑا ذریعہ جو میں نے استعمال کیا، جو این فریمنٹل نے اتنی شدت سے نہیں کیا، وہ پکتھال کی اپنی صحافت تھی، خاص طور پر وہ مضامین جو انہوں نے اسلامک ریویو، نیو ایج اور اسلامک کلچر کے لیے لکھے تھے- ان مضامین میں بہت سے خودنوشت اشارے ایسے تھے جن کے روابط اُن کے افسانوں سے تھے، کبھی کبھار صحافت کے کسی واقعے کو ان کے ناولوں میں شامل کیا جاتا تھا- میں کہہ سکتا ہوں کہ کئی لحاظ سے میری کتاب ’’لائل اینیمی‘‘کی تکمیل کرتی ہے-
جب میں اپنی کتاب پڑھتا ہوں تو میرا خیال ہے کہ میں ---اپنی تربیت کے مطابق ---مختصر انداز میں ایک طویل تحریر کی عکاسی کرتا ہوں - اس میں پی ایچ ڈی کے مقالہ اور دفتری روئیداد دونوں کا ذائقہ ہے جس میں آرائشی یا غیر ضروری نثر سے گریز کیا جاتا ہے- میرا مقصد ایک ممتاز مگر نظر انداز شدہ بیسویں صدی کے مصنف کی طرف توجہ دلانا تھا- پکتھال ایک ایسے شخص ہیں جن کی میں--- فکری اختلاف کے باوجود --- بہت عزت کرتا ہوں - میں ان کی مشرق وسطیٰ کے بارے میں بصیرت کا قدر دان ہوں، میرے علم میں کوئی اور انگریزی مصنف ایسا نہیں ہے جو اس حوالے سے ان کا مقابلہ کر سکے- اُن میں برٹن(1821-1890ء) اور بلنٹ (1840 -1922ء) کی خود غرضیت نہیں تھی ،وہ اسٹینلے لین پول (1854-1931ء) سے زیادہ قابل رسائی تھے- میرے پاس یونیورسٹی سپورٹ یا تعلیمی نیٹ ورکس کے وسائل نہیں تھے- میں یا تو بہت مصروف تھا، بہت فارغ تھا، یا اتنا بے صبر تھا کہ ایسے اشارات کے پیچھے نہ بھاگ سکا جو شاید مجھے زیادہ معلومات تک لے جاتے- اگر کسی کو پکتھال کی حیات،خدمات اور افکار میں دلچسپی ہے تو اسے چاہئے کہ این فریمنٹل کی اور میری دونوں کتابیں پڑھے-
میری کتاب ’’مارماڈیوک پکتھال:برٹش مسلم‘‘ کی اشاعت کے تین سال بعد، 1986ء میں، سلمان رشدی کی ’’شیطانی اشعار ‘‘شائع ہوئی- اگر میری کتاب اسی سال شائع ہوئی ہوتی تو شاید یہ مسلمانوں کی اخلاقیات اور ذمہ داریوں پر ایک باخبر بحث میں اضافہ کرتی، لیکن میری کتاب پہلے ہی کتابوں کی دکانوں پر دستیاب تھی- پکتھال کی عثمانی سلطنت کیلئے ہمدردیاں ترکی میں قدر کی نگاہ سے دیکھی گئیں، ترک عالم کمال کلیچمان نے ان پر ایک مقالہ لکھاجو 1994ء میں شائع ہوا - کلیچمان میری کتاب پر بہت انحصار کرتے ہیں لیکن پبلک ریکارڈ آفس سے آرکائیوز بھی نکالتے ہیں- ایک اور ترک عالم پکتھال کی زندگی پر 30 منٹ کی فلم تیار کر رہے ہیں جس کی انہیں امید ہے کہ دنیا بھر کے ٹیلی ویژن اسٹیشنز پر نشر کی جائے گی- ہمایوں انصاری کی کتاب :The Infidel Within: Muslims in Britain since 1800
اور جیفری نیش کے کام میں میری کتاب کا کہیں کہیں حوالہ دیا گیا اور پکتھال کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا- پہلا انہیں ایک مسلم دانشور تسلیم کرتا ہے، دوسرا ایک مصنف کے طور پر، لیکن پچھلے 10 سالوں میں مارماڈیوک پکتھال کی زندگی اور کام میں دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے- اب محققین حوالہ جاتی کاموں میں دلچسپی لے رہے ہیں -اقبال حسین انصاری نے کراچی پاکستان سے 1990ء کی دہائی میں چوبیس صفحات پر مشتمل ایک کتابچہ بعنوان :
“CORRECTIONS OF ERRORS IN PICKTHALL’S ENGLISH TRANSLATION OF THE GLORIOUS QUR’AN THE SCRIPTURE WHEREOF THERE IS NO DOUBT” [8]
شائع کیا-پکتھال کے ترجمہ قرآن کی تفہیم اور اعتباریت کو ایک زندہ حقیقت بنانے میں اس کتابچے کا بھی اہم کردار رہاہے-
پاکستان کی علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی کے شعبہ عربی و علوم ِ اسلامیہ کے تحت حافظ خورشید احمد قادری نے 2008ء میں درج ذیل عنوان کے تحت ایم-فل سطح کا ایک مقالہ پیش کیا :
“A CRITICAL STUDY OF PICKTHALL’S CONTRIBUTION TO ISLAM”
پاکستان میں یونیورسٹی کی سطح پر پکتھال کی حیات و خدمات کے حوالے سے یہ پہلی کاوش تھی-بعد ازاں اسی اسکالر نے پکتھال کے حوالے سے مضامین سپردِ قلم کئے جو وطن ِ عزیز پاکستان کے معتبر مجلات کی زینت بنتے رہے-
- معروف مترجمِ قرآن کریم،محمد مارماڈیوک ولیم پکتھال، خدمات کا تعارف اور ایک علمی سفر کی روداد [9]
- معروف مترجمِ قرآن کریم،محمد مارماڈیوک ولیم پکتھال [10]
محمد شاہین نے آکسفورڈ ڈکشنری آف نیشنل بایوگرافی کے لیے 2007 ء میں شائع ہونے والا ایک مضمون لکھا، جو اب آن لائن شائع ہو رہا ہے- پکتھال کے بہت سے حوالہ جات انٹرنیٹ اور ورلڈ وائڈ ویب پر موجود ہیں- انہیں برطانوی مسلم کمیونٹی میں سراہا جاتا ہے اور لندن کے کیمڈن میں پکتھال اکیڈمی بھی ہے- بی بی سی نے 2012ءمیں پکتھال اور ان کے دو ہم عصر نو مسلموں، لارڈ ہیڈلی (1855-1935ء) اور عبداللہ کوئلیئم (1856-1932ء)کے بارے میں ایک فلم بنائی - اس فلم میں پیٹر کلارک کے ساتھ مارماڈیوک کی پڑپوتی سارہ پکتھال ،اور رون گیوز اور ہمایوں انصاری نے بھی حصہ لیا- سارہ کے خاندان نےپکتھال کے ذکر کو فخر اور ہچکچاہٹ کے ملے جلے جذبات سے لیا، لیکن سارہ ان کے نام کا جشن منانے کے لیے پوری طرح مستعدی دکھائی دیں - بی بی سی کی فلم رمضان کے دوران رات گئے دکھائی گئی جسے 700,000 ناظرین نے دیکھا-بعد میں اسے بی بی سی انٹرنیشنل چینلز پر نشر کیا گیا-
پھر 2014 میں، دو کتابوں میں پکتھال پر تفصیلی ابواب شامل تھے- اینڈریو سی لانگ نے اپنی کتاب 'ریڈنگ عربیہ: برٹش اورینٹلزم ان دی ایج آف ماس پبلیکیشن 1880 تا 1939ء' میں پکتھال کو اپنے ہم عصر افراد کے تناظر میں ایک سفرنامہ نگار کے طور پر پیش کیا ہے- جیمز گلہم نے اپنی کتاب 'وفادار دشمن: برٹش کنورٹس ٹو اسلام 1850 سے 1950' میں پبلک ریکارڈ آفس کے کاغذات اور پکتھال کو لکھے گئے خطوط کا مطالعہ کیا ہے تاکہ پکتھال کی پہلی جنگ عظیم کی سرگرمیوں کی اچھی تفصیل دی جا سکے، جن کے بارے میں ہم نے محمد سیدون سے کچھ سنا تھا- یونیورسٹی آف یارک کی کلیر چیمبرز نے اپنی تازہ ترین کتاب 'برطانیہ تھرو مسلم آئیز' میں مسلم مصنفین کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ پکتھال کے ناولوں میں برطانوی سماج کے نقطہ نظر پر بات کرتی ہیں- مسلم اکیڈمک ٹرسٹ نے 2010ءمیں 'دی ارلی آورز' کو دوبارہ شائع کیا، جو پکتھال کے ترکی پس منظر والے ناولوں میں سے ایک تھا اور پہلی بار 1921 میں شائع ہوا، جس میں ٹموتھی ونٹر اسلامی نام عبدالحکیم مراد (پ1960ء) کا لکھا ہوا 30 صفحات پر مشتمل سوانحی خاکہ شامل ہے - پکتھال کے ناول 'دی ارلی آورز' اور عبدالحکیم کا لکھا ہوا تعارف بھی البانوی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے- مسلم برطانیہ کے ممتاز مورخ، ایم-اے- شریف نے ایک مطالعہ ’’بریو ہارٹس‘‘ لکھا ہے جس میں پکتھال اور ان کے ہم عصر عبداللہ فلبی (1885 -1960ء) کے خیالات اور متضاد شخصیات کا جائزہ لیا گیا ہے -
ایک سعودی عالم احمد العماری (م2019ء)نے امریکہ کی ایک یونیورسٹی کے لیے پکتھال پر ایک مقالہ لکھا اور پیٹر کلارک کی کتاب کا عربی میں ترجمہ کیا جو قطر میں شائع ہوئی- شعبہ ادبیات کے ایک اسکالر کی حیثیت سے مقالہ میں انہیں ناول نگار کے طور پر جانچا گیا ہے - ملک عبدالعزیز یونیورسٹی میں مقیم ایک اور سعودی خاتون پروفیسر ، ڈاکٹر ابتسام صادق علی، نے پکتھال کی افسانوی کہانیوں پر ایک کتاب تیار کی ہے- وہ یہ دلیل دے رہی ہیں کہ پکتھال کے کاموں کو اُسی طرح انگریزی ادب کی معیاری کتب کا حصہ سمجھا جانا چاہیے جس طرح ایچ- جی- ویلز (1866-1946ء)، آرنلڈ بینٹ (1867-1931ء) یا تھامس ہارڈی (1840-1928ء) کو جانا جاتا ہے- جیفری نیش نے پکتھال کے بارے میں مضامین کا ایک مجموعہ مرتب کیا ہے جو برل کی طرف سے شائع ہوگا- برطانوی پبلشر بیکن بکس نے پیٹر کلارک کی کتاب 'مارماڈیوک پکتھال: برٹش مسلم' دوبارہ شائع کی ہے- مذکورہ ناشر پکتھال کے مشرق وسطیٰ کے پس منظر میں لکھے گئے کچھ ناول بھی دوبارہ شائع کر رہے ہیں-
دورِ جدید کی تحدیات:
پکتھال میں نئی دلچسپی کو اکیسویں صدی کی نئی شناختی سیاست نے جنم دیا ہے- نیویارک میں 11 ستمبر 2001ء اور اسلام کے نام پر لندن میں 7 جولائی 2005 کے واقعات نے مسلمانوں اور تمام امن پسند لوگوں کو چیلنج کیا ہے- اسلام کے ساتھ کچھ شیاطین کو وابستہ کرنا بدقسمتی سے آسان رہا ہے، جس سے تمام مسلمانوں اور بہت سے غیر مسلموں کو پریشانی ہوتی ہے- برطانوی پریس کے ایک حصہ میں اسلام کو ایک پرتشدد غیر ملکی عقیدہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے، لیکن پکتھال مکمل طور پر انگریز تھے، رویے اور سیاست دونوں میں قدامت پسند- وہ اپنی وابستگی میں پرجوش تھے، ایک فکری رہنما تھے- مارماڈیوک پکتھال کی کہانی پریس میں مقبول بہت سے تبصروں کے منفی دقیانوسی تصورات کو چیلنج کرتی ہے- اگرچہ ان کی جڑیں برطانیہ میں تھیں، وہ عالمی نقطہ نظر رکھنے والے انسان تھے- مزید برآں، اپنی تحریروں میں وہ لبرل تھے، اسلام کو کھلا، روادار اور ترقی پسند سمجھتے تھے -
سفارشات:
میرا پختہ یقین ہے کہ حیدرآباد،ووکنگ،مصر اور بمبئی میں پکتھال کے کام کے مختلف پہلووں پرمزید تحقیقی مقالے ہو سکتے ہیں- آرکائیوز دیکھنے اور دیگر مصادر و مراجع کی تلاش کے علاوہ، نئے سوانح نگار کو پکتھال کی ادبی تخلیقات کا مجموعی جائزہ لینا چاہیے-پیٹر کلارک نے اپنی کتاب میں ان کی صحافت کو ان کی افسانہ نگاری سے جوڑا، لیکن ان کے ناولوں کا بغور مطالعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ان کے مشرق وسطیٰ کے ناولوں کے انداز اور قرآن کے ترجمے کے درمیان ایک تعلق ہے- اپنے 1923ء کے مضمون ’’سلامی برائے مشرق‘‘ میں، ای ایم فورسٹر (1879-1970ء) نے پکتھال کی مشرق قریب کی افسانوی کہانیوں کی تعریف کی- فورسٹر کے مطابق وہ ایک قابل قدر مصنف تھے جو عوامی حلقوں میں اپنی پہچان نہیں بنا سکے-
٭٭٭
[1]’’یہ کیمبرج مسلم کالج انگلستان میں مارماڈیو پکتھال کی حیات وخدمات پر ستمبر 2016ء میں دیا گیا پیٹر کلارک کا ایک محاضرہ ہے -راقم نے انگریزی سے اردو ترجمہ کے علاوہ درج ذیل اقدامات کے بعد اسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا ہے:تقریر کو تحریر کی شکل دی ہے-تقریر کے بعض لوازمات کو ہٹا دیا ہے-محاضرہ میں مذکور شخصیات کے سنینِ پیدائش و وفات لکھے ہیں - محاضر کی وطنِ عزیز پاکستان میں پکتھال پر ہونے والی تحقیق سے ناواقفیت کی کمی کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے-ستمبر 2016ء کے بعد پکتھال اور اُن کے ترجمہ قرآن پر ہونے والے کاموں کو شامل کیا ہے-راقم نے جن حقائق کو اس محاضرہ میں شامل کیا ہے اُن کے حوالہ جات کا بھی اہتمام کیا ہے‘‘-
[2]Islamic Culture ,The Hyderabad Quarterly Review ,Vol.11,No.1 January 1937, A Great English Muslim p140
[3]Anne Fremantle ,Loyal Anemy , Hutchinson & Co.Ltd.London ,1938 ,p438
[4]Muhammad Marmaduke Pickthall ,The Meaning of the Glorious Qur’an,IRI ed. 1988,Islamabad,pp448
[5]Muhammad Marmaduke Pickthall ,The Meaning of the Glorious Qur’an, Islamic Propagation Services, Aibak Road ,Lahore,nd,pp464
[6]Iqbal Husain Ansari, CORRECTIONS OF ERRORS IN PICKTHALL’S ENGLISH TRANSLATION OF THE GLORIOUS QUR’AN THE SCRIPTURE WHEREOF THERE IS NO DOUBT, 47-H, PECHS, Karachi (Pakistan)
[7]Muhammad Marmaduke Pickthall, The Meaning of the Glorious Qur’an, U.K. Islamic Mission, Dawah Centre, Birmingham (U.K.),Sec. Print,2000, pp 565
[8]Iqbal Husain Ansari , CORRECTIONS OF ERRORS IN PICKTHALL’S ENGLISH TRANSLATION OF THE GLORIOUS QUR’AN THE SCRIPTURE WHEREOF THERE IS NO DOUBT , 47-H , PECHS , Karachi (Pakistan)
[9]ماہنامہ ضیائے حرم، نومبر 2016ءاسلام آباد،ص ص 47-58
[10]ماہنامہ روح بلند،دسمبر 2016ءلاہور،ص ص 38-40
[11]Al-Qalam, Vol.17, Issue 1, June
2012، Abstracted and Indexed by Index Islamicus, ISSN 2071-8683, Department of Islamic Studies, University of the Punjab, Lahore. (HEC Approved, Category-Y), pp.1-17
[12]Abhāth, vol.1, Issue 4, Oct-Dec, 2016 Department of Islamic Studies, Lahore Garrison University, Lahore, Pakistan, Co-Author, Dr. Muhammad Kaleem Ullah Khan, pp.1-16