نفاق کا لغوی و اصطلاحی معنی:
نفاق عربی زبان کے لفظ نَافَقَ کا مصدر ہےجس کے مادہِ اشتقاق کے بارے میں اہل لغت کی مختلف آراء ہیں- اہل علم کا ایک طبقہ اسے نافقاء سے ماخوذ مانتا ہے- نافقاء چوہے کے بل کے اس پوشیدہ سوراخ کو کہتے ہیں جہاں سے وہ خطرے کے وقت اچانک نکل کر بھاگ جاتا ہے- بعض دوسرے لغت نویسوں کے نزدیک یہ لفظ نَفَقَ سے نکلا ہےجس کے معنی اس سرنگ کے ہیں جس میں انسان خود کو چھپا لیتا ہے -[1] جہاں تک شرعی اصطلاح کا تعلق ہےتو نفاق سے مراد زبان سے اسلام کا اقرار و اظہار کرنا اور دل میں کفر و شرک کو چھپائے رکھنا ہے- اس طرزِ عمل کو نفاق کا نام اس لیے دیا گیا کہ ایسا شخص دینِ اسلام کے ایک دروازے سے داخل ہوتا ہے اور چور دروازے سے باہر نکل جاتا ہے- اسی روشِ بد پر متنبہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
’’اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ ہُمُ الْفٰسِقُوْنَ‘‘[2]
”بیشک منافقین ہی فاسق ہیں‘‘-
یہاں فسق سے مراد دین کی حدود اور شریعت سے باہر نکل جانا ہے-
قرآن مجید اور حدیث مبارکہ کی روشنی میں نفاق کا بیان:
اللہ تعالیٰ نے منافقین کو عام کافروں سے بھی زیادہ بدتر اور مستحقِ عذاب قرار دیا ہے- چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْکِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ وَلَنْ تَجِدَ لَہُمْ نَصِیْرًا‘‘[3]
’’ بے شک منافق دوزخ کے سب سے نیچے طبقہ میں ہیں اور تو ہر گز اُن کا کوئی مددگار نہ پائے گا‘‘-
منافقین کے مکر و فریب کی حقیقت کو بے نقاب کرتے ہوئے مزید ارشاد ہوا:
’’اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ یُخٰدِعُوْنَ اللہَ وَہُوَ خَادِعُہُمْ‘‘[4]
’’بے شک منافق لوگ اپنے گمان میں اللہ کو فریب دینا چاہتے ہیں‘‘-
کلامِ الٰہی میں ان کا احوال یوں بھی بیان کیا گیا ہے:
’’یُخٰدِعُوْنَ اللہَ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ج وَمَا یَخْدَعُوْنَ اِلَّآ اَنْفُسَہُمْ وَمَا یَشْعُرُوْنَ o فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ لا فَزَادَہُمُ اللہُ مَرَضًا ج وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌلا بِمَا کَانُوْا یَکْذِبُوْنَ ‘‘[5]
’’وہ (اپنے گمان میں) اللہ کو اور ایمان والوں کو دھوکہ دیتے ہیں اور (درحقیقت) وہ صرف اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں اور وہ اس کا شعور نہیں رکھتے- ان کے دلوں میں بیماری ہے تو اللہ نے ان کی بیماری کو زیادہ کردیا ،اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے کیونکہ وہ جھوٹ بولتے تھے‘‘-
نفاق کی بنیادی طور پر دو انواع بتائی جاتی ہیں- پہلی قسم اعتقادی نفاق ہے، جسے نفاقِ اکبر بھی کہا جاتا ہے- اس کا مرتکب بظاہر تو کلمہِ اسلام پڑھتا ہے مگر اس کے باطن میں کفر کی تاریکی چھپی ہوتی ہے- ایسا شخص حقیقی معنوں میں دین سے بالکل محروم ہوتا ہے اور آخرت میں ہمیشہ کے لیے دوزخ کا ایندھن بنے گا- اللہ تعالیٰ نے ایسے منافقین کو فتنہ و فساد کا سرچشمہ قرار دیا ہے جو ہر قسم کی اخلاقی برائیوں اور بدعقیدگی میں مبتلا ہوتے ہیں- کفر، عدمِ ایمان، شعائرِ اسلام اور مسلمانوں کا تمسخر اڑانا اور اہل ایمان کو اذیت پہنچانا ان کا مستقل شیوہ ہوتا ہے- ان کا دلی میلان ہمیشہ دشمنانِ دین کی طرف رہتا ہے کیونکہ اسلام دشمنی میں ان دونوں کے مفادات مشترک ہوتے ہیں-یہ فتنہ پرور لوگ ہر عہد میں پائے جاتے ہیں- خاص طور پر جب اسلام کو غلبہ اور شوکت حاصل ہوتی ہے اور ان میں اتنی ہمت نہیں رہتی کہ وہ اعلانیہ مسلمانوں کا مقابلہ کر سکیں تو وہ مصلحت کے تحت ظاہری طور پر اسلام کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں- ان کا اصل مقصد مسلمانوں کی صفوں میں گھس کر انہیں نقصان پہنچانا اور ان کے خلاف ریشہ دوانیاں کرنا ہوتا ہے-
قرآنِ کریم نے منافقین کے مکر و فریب، کفر اور خفیہ سازشوں کو پوری طرح بے نقاب کیا ہے- اللہ تعالیٰ نے اپنے مخلص بندوں کے سامنے منافقین کے احوال تفصیل سے بیان فرمائے ہیں تاکہ مسلمان ان کے شر سے باخبر رہیں اور خود کو نفاق کے موذی مرض سے محفوظ رکھ سکیں- اسی لیے سورہ بقرہ کے آغاز میں انسانوں کے تین گروہوں کا ذکر ملتا ہے، جن میں مومن، کافر اور منافق شامل ہیں- جہاں مؤمنین کے تذکرے کے لیے چار آیات اور کفار کے لیے دو آیات نازل ہوئیں، وہیں منافقین کی تفصیلات کو 13 آیات میں بیان کیا گیا ہے- اس کثرتِ تذکرہ کی وجہ منافقین کی بڑی تعداد، مسلمانوں کا ان سے روزمرہ کا واسطہ اور دین و اہل دین کو ان کی ذات سے پہنچنے والے شدید نقصانات ہیں- نادان لوگ منافقین کی عیب جوئی اور معترضانہ رویوں کو علم اور مصلحت پسندی پر محمول کرتے ہیں، حالانکہ ان کا یہ طرزِ عمل سراسر جہالت اور فتنہ انگیزی پر مبنی ہوتا ہے-[6] اس اعتقادی نفاق کی7 صورتیں بیان کی جاتی ہیں- جیسا کہ :
- رسول اللہ(ﷺ)کی تکذیب کرنا
- آپ (ﷺ) کے بارے ایسے کلمات کہنا جو آپ (ﷺ) کی شان کے خلاف ہوں جیسا کہ نجد کے ذولخویصرہ تمیمی یا دیگر منافقین نے کہے
- رسول اللہ(ﷺ) کی بعض تعلیمات کا انکار کرنا
- رسول اللہ(ﷺ) کے بعض ان فضائل و کمالات کا انکار کرنا جو کتاب و سنت سے ثابت شدہ ہیں
- بظاہر مسلمان کہلانا لیکن دلی طور پہ رسول اللہ (ﷺ) سے بغض و عداوت رکھنا
- دینِ محمدی(ﷺ)کی پستی اور اس کی زوال پذیری پر دلی فرحت محسوس کرنا
- دینِ محمدی(ﷺ) کی نشر و اشاعت اور اسلام کی عروج و بالا دستی پر کڑھنا
نفاق کی دوسری نوع عملی نفاق کہلاتی ہے- اس سے مراد دل میں ایمان کی موجودگی کے ساتھ ساتھ عمل کے میدان میں منافقین جیسا کوئی رویہ یا عادت اختیار کرنا ہے- اس نفاق کی وجہ سے انسان ملتِ اسلامیہ سے خارج تو نہیں ہوتا- لیکن یہ روش کفر و نفاق کے راستے پر لے جانے کا ایک بڑا سبب بن سکتی ہے- ایسے شخص میں ایمان اور نفاق کے دونوں پہلو یکجا ہوتے ہیں اور ان بری عادات پر اصرار اور ان کا کثرت سے ارتکاب انسان کو پکے منافق کے درجے تک پہنچا سکتا ہے- اس کی واضح دلیل حضور رسالتِ مآب(ﷺ)کا یہ فرمانِ گرامی ہے:
’’ چار چیزیں جس بھی آدمی میں ہوں گی وہ پکا منافق ہو گا، جس میں ان چار میں سے ایک چیز ہو گی اس میں نفاق کی ایک عادت ہو گی یہاں تک کہ اسے چھوڑ نہ دے- وہ چار یہ ہیں:
- جب بھی اس کے پاس امانت رکھی جائے اس میں خیانت کرے-
- جب بھی بات کرے جھوٹ بولے-
- جب بھی عہد و پیمان کرے اسے پورا نہ کرے-
- جب بھی لڑائی جھگڑا کرے گالی گلوچ کرے‘‘-[7]
چنانچہ جس انسان میں یہ چاروں خصائل جمع ہو جائیں، وہ شر کا مجموعہ بن جاتا ہے اور اس میں منافقین کی تمام نشانیاں پوری ہو جاتی ہیں- اگر ان میں سے کوئی ایک صفت پائی جائے تو اس میں نفاق کی ایک شاخ موجود ہوتی ہے- انسان کی ذات میں بیک وقت اچھے اور برے اوصاف جمع ہو سکتے ہیں- اسی طرح ایمان کے ساتھ کفر و نفاق کی کچھ خصلتیں بھی مل سکتی ہیں اور انسان اپنے اچھے یا برے اعمال کے مطابق ہی ثواب یا سزا کا مستحق ٹھہرتا ہے- مومن سے بعض اوقات عملی نفاق کا کوئی پہلو سرزد ہو سکتا ہے لیکن وہ جلد ہی توبہ کر لیتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ہے- بسا اوقات مومن کے دل میں کچھ ایسے خیالات ابھرتے ہیں جن کا تعلق نفاق سے ہوتا ہےمگر پروردگار ان وسوسوں کو دور فرما دیتا ہے- مومن کو شیطانی اور کفریہ خیالات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے اس کا دل شدید اضطراب اور بے چینی کا شکار ہو جاتا ہے- اس کا اندازہ اس روایت سے ہوتا ہے جس میں صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) نے رسول اللہ(ﷺ)کے سامنے اپنے دِلی احوال کا اظہار کرتے ہوئے عرض کیا:
’’اے اللہ کے رسول(ﷺ)! ہم میں سے کسی کو ایسے خیالات بھی آتے ہیں جن کے اظہار سے کہیں آسان، آسمان سے زمین پر گرنا محسوس ہوتاہے- آپ(ﷺ) نے فرمایا: یہی تو حقیقی ایمان ہے‘‘-[8]
ایک اور روایت کے الفاظ ہیں کہ سائل نے جب عرض کیا کہ اسے بیان کرنا نہایت کٹھن لگتا ہے تو آپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں جس نے شیطان کے مکر کو محض وسوسے تک محدود کر کے اسے بے حیثیت کر دیا -[9] اس کا مطلب یہ ہے کہ کفر و نفاق سے انتہائی بیزاری کے باوجود اگر دل میں ایسے خیالات آئیں اور ختم ہو جائیں، تو یہ سچے ایمان کی علامت ہے - [10]
اس کے برعکس، نفاقِ اکبر کے مریضوں کی حالتِ زار کے بارے میں ربِ ذوالجلال کا یہ فرمان گواہ ہے:
’’صُمٌّۢ بُکْمٌ عُمْیٌ فَہُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ‘‘[11]
’’ بہرے ہیں ، گونگے ہیں، اندھے ہیں ، پس وہ (ہدایت کی طرف) رجوع نہیں کریں گے ‘‘-
منافقین کبھی سچے دل سے دینِ اسلام کی طرف رجوع نہیں کرتے- انہی کے حق میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’ اَوَلَا یَرَوْنَ اَنَّہُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ کُلِّ عَامٍ مَّرَّۃً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَلَا ہُمْ یَذَّکَّرُوْنَ‘‘[12]
’’کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہر سال ایک دو مرتبہ یہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں، مگر اس پر بھی نہ تو یہ توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی کوئی سبق سیکھتے ہیں“-
علمِ تصوف میں تزکیۂ نفس اور تصفیۂ قلب کو بنیادی اہمیت حاصل ہے جہاں باطنی امراض میں سب سے مہلک مرض نفاق یعنی ظاہر و باطن کا تضاد ہے- سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو(قدس سرہٗ العزیز)نے اپنی کتابوں میں نفاق کی مختلف تہوں کو بے نقاب کیا ہے اور اس روحانی کینسر کا شافی علاج تجویز فرمایا ہے- ذیل میں آپ(قدس سرہٗ العزیز)کی چار کتابوں (محک الفقر کلاں، عین الفقر، کلید التوحید کلاں اور اسرار القادری) سے استفادہ کیا گیا ہے-تاکہ اللہ کی راہ کے مسافر اس مہلک مرض کی حقیقت سے واقف ہو سکیں جیسا کہ واقف ہونے کا حق ہے -
1. ظاہر و باطن کا تضاد
زبان پر تلاوتِ قرآن اور دل میں کفر کے زنار رکھنا منافقت کا وہ اعلیٰ درجہ ہے جو انسان کے باطنی دیوالیہ پن کا کھلا ثبوت ہے- آپ(قدس سرہٗ العزیز)فرماتے ہیں:
ابیات : ”اے تن کے اُجلے اور من کے کالے اِنسان ! یہ کیا منافقت ہے کہ تیری زبان پر اِقرار ہے اور دل میں انکار ہے؟تیرے طرزِعمل نے دین کو زبانِ قلم کی طرح دو رویہ کردیا ہے کہ تیری زبان پر تلاوتِ قرآن ہے اور دل میں زُنار ہیں‘‘- [13]
2. علم، مراقبہ اور قلب کا تفاوت
صوفیانہ فکر میں دنیا سے والہانہ لگاؤ اور اس کی تعظیم کو منافقت کی حتمی مُہر تسلیم کیا گیا ہے کیونکہ یہ قلب کو اس کے حقیقی معبود سے دور کر دیتی ہے- اسی تناظر میں آپ(قدس سرہٗ العزیز)کافرمان ہے:
’’دنیا کو ایک طلاق، دو طلاق، تین طلاق- جو شخص دنیا کو اچھا سمجھتا ہے وہ منافق ہے‘‘- [14]
نفاق کا اصل تعلق دل سے ہے-جب تک دل گواہی نہ دے، زبان کی حد تک مانا گیا ایمان محض ایک حجاب بن کر رہ جاتا ہے- اس باریک نکتے کی وضاحت کرتے ہوئے آپؒ بیان فرماتے ہیں:
’’نفاق کا تعلق دل سے ہے- جس آدمی کو تصدیقِ قلب حاصل نہیں اور وہ ذکرِ ”اَللہُ“ سے دِل کو صاف کرکے معرفتِ الٰہی حاصل نہیں کرتا وہ نفاق سے پاک نہیں ہو سکتا کہ وہ ظاہر باطن میں محض اقرارِ زبان تک محدود ہے اسی لئے فرمایا گیا ہے: ”علم اللہ تعالیٰ کے حجابات میں سب سے بڑا حجاب ہے‘‘-[15]
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں ذکرِ خداوندی ہی وہ اکسیر ہے جو دل کو شیطانی حملوں سے محفوظ رکھتی ہے اور نفاق کی تمام آلائشوں کو جلا دیتی ہے- اس ضمن میں آپ (قدس سرہٗ العزیز)ارشادفرماتے ہیں:
’’حدیثِ قدسی میں فرمانِ حق تعالیٰ ہے :’’جب تُو دیکھے کہ میرا بندہ میرے ذکر سے غافل ہو گیا ہے تو مَیں اُسے محجوب کر دیتا ہوں‘‘- حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے: ذکرِ اَللہُ علامتِ ایمان ہے، نفاق سے خلاصی ہے اور شیطان سے حفاظت کا قلعہ ہے-آقا کریم (ﷺ) کا فرمان ہے :سب سے بہتر ذکر اَللہُ کا ذکر ہے‘‘-[16]
ذکرِ خداوندی کی اتنی کثرت کرنا کہ نفاق پسند معاشرہ انسان کو دیوانہ قرار دے، مومنِ صادق کے پختہ ایمان اور نفاق سے برأت کی سب سے بڑی دلیل ہے- آپ (قدس سرہٗ العزیز)فرماتے ہیں:
’’حضور علیہ الصلوٰة و السلام کا فرمان ہے:اللہ کے نام کا ذکر اِتنی کثرت سے کیا کرو کہ منافق لوگ تمہیں دیوانہ کہنے لگیں‘‘- [17]
مگر یہ ذکر اسی وقت ثمر آور ثابت ہوتا ہے جب انسان دل کی تصدیق کے ساتھ نفس کو موت کے گھاٹ اتار دے- ورنہ محض زبانی جمع خرچ منافقت کے دائرے میں ہی رہتا ہے-
مراقبہ دل کی کامل یکسوئی اور ارتکازِ توجہ کا نام ہے، جبکہ دل کا بٹا ہونا اور دو عملی کا شکار ہونا منافقت کی علامت ہے- اس لطیف صوفیانہ راز کو آپؒ یوں افشا فرماتے ہیں:
’’مراقبہ یک دلی کا نام ہے کہ دودلی منافقت ہے‘‘- [18]
دل کی اس یکسوئی کو چھوڑ کر جب انسان دنیا کی ہوس میں اندھا ہوتا ہے تو وہ بے ادبی اور گستاخی کے ادنیٰ درجے پر گر جاتا ہے جہاں نفس اس کا معبود بن جاتا ہے- مزیدبرآں، تصدیقِ قلب کے بغیر باطنی طہارت کا دعویٰ لغو ہے اور جو شخص اس تصدیق سے محروم رہے، نفسانی خواہشات اس کے وجود پر حاوی رہتی ہیں- آپ کا ارشادہے:
’’نفس کی موت تصدیق سے ہے ، جسے تصدیق حاصل نہیں وہ منافق ہے ‘‘- [19]
3. اسمِ اللہ ذات اور تصفیۂ باطن
جاننا چاہیے کہ محض ظاہری علوم اور فقہی مسائل کی واقفیت انسان کے اعضاء کو تو ضابطے کا پابند بنا سکتی ہےمگر باطن کی تاریکی اور نفاق کو دور کرنے کے لیے معرفتِ الٰہی کا نُور ناگزیر ہے- اسی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے حضرت سخی سلطان باھو(قدس سرہٗ العزیز)فرماتے ہیں:
’’جان لے کہ فقہ کا علم آدمی کے جسم وجان اور زبان کو تو پاک کردیتا ہے لیکن اِس کے پڑھ لینے سے آدمی کے دل سے نفاق، حرص اور حسد نہیں جاتا- فقہ کاعالم دل کی پاکیزگی سے بے خبر رہتا ہے- یہ فقط ذکرِ اَللّٰہُ معرفتِ الٰہی، علمِ تصوف اوراشتغالِ توحید ہی ہیں کہ جن سے بندہ روشن ضمیر و صاحبِ تاثیر ہوتا ہے لیکن علمِ فقہ کے بغیر فقیری محض فضیحت و فساد اور کفر و شرک ہے کہ فقہ شرحِ بنائے اسلام ہے اور فقر شرحِ بنائے اسمِ اللہ ذات ہے جس سے معرفتِ الٰہی کھلتی ہے‘‘- [20]
اس مادی سرور اور باطنی ظلمت کے برعکس، قلبِ سلیم کی حقیقی فطرت تو اﷲ تعالیٰ کے نور سے معمور ہونا ہے، جہاں کسی کذب یا نفاق کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی- آ پ(قدس سرہٗ العزیز)فرماتے ہیں:
’’مصنف کہتا ہے کہ قلب صدق وصفا اور راستی کی کان ہے جو اَللہُ کے نور سے روشن رہتی ہے اُس میں کذب و نفاق، تاریکی ودوروغ اور ظلمت کی کوئی گنجائش نہیں- حضور علیہ الصلوٰةُ السلام کا فرمان ہے: نرم خو ہوکر معدنِ اخلاق بن جاؤ اور کاذبین کے فرقہ میں شامل نہ ہوں- دل جب ذکرِ اسمِ اَللہُ میں محو ہو جاتا ہے تو اُس میں کبرو کذب اور نفاق وطلبِ دنیا کی صفات مکمل طور پہ ناپید ہو جاتی ہیں‘‘- [21]
قرآن مجید کی تلاوت اور مسائلِ فقہ کے علم سے بڑھ کر دل کی حقیقی زندگی اور نفس کی موت دائمی ذکرِ الٰہی اور اخلاص کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی- آپؒ فرماتے ہیں:
’’محض ظاہری اعمال اختیار کرنے سے آدمی کے دل سے نہ تو نفاق جاتا ہے اور نہ ہی دل کی سیاہی اور زنگار ختم ہوتا ہے جب تک کہ دل تصورِ اسم اللہ ذات اور عشق و محبت و معرفتِ الہٰی کی آگ میں نہ جلے اور ذکرِ خاص اختیار کر کے اخلاص قبول نہ کرے- ذکر کے بغیر دل کو نہ تو زندگی نصیب ہوتی ہے اور نہ ہی نفس مرتا ہے چاہے زندگی بھر قرآن کی تلاوت کی جائے یا مسائلِ فقہ کا مطالعہ کیا جائے کیونکہ دل کی صفائی صرف دائمی ذکر اللہ ہی سے ممکن ہے‘‘- [22]
انسانی روح اور دل کی کامل طہارت، خلوصِ نیت کا حصول اور شیطانی اثرات سے دائمی نجات اسمِ ذات کی باطنی حیات بخشی کے بغیر ہرگز ممکن نہیں ہو سکتی- اس حتمی سچائی پر روشنی ڈالتے ہوئے آپؒ فرماتے ہیں:
’’قلب نفاق سے ہرگز پاک نہیں ہوتا نہ وہ خناس و خرطوم و وسوسہ و و ہمات و خطراتِ شیطانی و ہوائے نفسانی سے خلاصی پاتا ہے اور نہ وہ مع اللہ اخلاص کے مرتبۂ خاص پر پہنچتا ہے جب تک کہ اُسے تصورِ اسم اللہ ذات کی تاثیر سے حیات نہ بخشی جائے‘‘- [23]
4. ظاہر و باطن کی یکسوئی اور نفاق سے مفر
آپؒ نے ظاہر اور باطن کی یکسوئی کو ایمان کی ناگزیر شرط قرار دیتے ہوئے نفاق سے نجات کا راستہ اتباعِ سنتِ رسول(ﷺ) میں تلاش کیا-باطنی نفاق سے کلی طور پر چھٹکارا پانے کے لیے شریعت اور طریقت دونوں پر بیک وقت گامزن ہونا فرض ہے، کیونکہ ان دونوں کا ملاپ ہی انسان کو کامل مومن بناتا ہے- چنانچہ آپؒ فرماتے ہیں:
’’اِسلام کے ظاہری وباطنی دونوں طریق مسلمان کیلئے بال وپر کی حثییت رکھتے ہیں- جب تک وہ ظاہر وباطن کے دونوں قدم حضور علیہ الصلوٰة والسلام کے قدم پر نہیں لے جاتا نفاق سے باہر نہیں نکل سکتا- جب تک وہ نفاق سے باہر نہیں نکلتا وہ مومن مسلمان حاجی اور ذاکرِ قلبی کہاں ہوسکتا ہے؟ ‘‘[24]
ایمانی تپش اور سچائی سے محروم ہو جانے والا وجود اخلاقی و روحانی طور پر مفلوج ہو کر منافقت اور دنیا پرستی کی پناہ گاہ بن جاتا ہے- اس المناک انجام سے پناہ مانگتے ہوئے آپؒ فرماتے ہیں:
’’جس کا دین و ایمان مردہ ہو جائے وہ منافقت، کفر، معصیت اور حبِّ دنیا میں مبتلا ہو جاتا ہے- مَیں اِس سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ‘‘- [25]
دنیا داری کے غبار میں لت پت لوگ اپنے باطنی زنگ کی وجہ سے اولیائے حق اور فقرا کے مخلصانہ رویے کا ادراک نہیں کر پاتے اور الٹا ان پر منافقت کا سنگِ طعنہ چلاتے ہیں-خلوصِ دل سے عاری دنیا پرست لوگ اللہ کے سچے بندوں کی عظمت کو پہچاننے سے قاصر رہتے ہیں اور ان سے دلی اخلاص رکھنے کے بجائے عداوت کا رویہ اپنائے رکھتے ہیں- اس تعجب کا اظہار آپ(قدس سرہٗ العزیز)ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’مَیں حیران ہوتا ہوں اُن لوگوں پر جو خدا کی خاطر فقیر سے اخلاص رکھنے کی بجائے اُسے منافقت کے پتھر مارتے ہیں‘‘- [26]
فقراء کی ہم نشینی جہاں باطن کو جلا بخشتی ہے اور اخلاقِ متقین کو جنم دیتی ہے، وہیں ان سے دوری اختیار کرنا نفاقِ قلب کا واضح ثبوت ہے- آپؒ کا فرمان ہے:
’’حدیث:”رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا:فقراء و مساکین سے محبت اخلاقِ انبیاء میں سے ہے، اُن کی صحبت اختیار کرنا اخلاقِ متقین میں سے ہے اور اُن سے دوری اختیار کرنا اخلاقِ منافقین میں سے ہے“ -[27]
اولیائے کاملین، بالخصوص سیدنا پیرانِ پیر غوثِ اعظم دستگیرؒ سے بغض و کینہ رکھنا درحقیقت شقاوتِ باطنی اور منافقانہ خصلت کا حتمی اعلان ہے- آپؒ کا ارشاد ہے:
’’حضرت پیر دستگیر () کا دشمن تین حکمتوں سے خالی نہیں ہوتا- (1) یا تو وہ لعنتی شیطانِ ابلیس رافضی ہوگا (2) یا خارجی لعنتی نجس خبیث ہوگا (3) یا فقرو درویشی اورمعرفتِ الہٰی سے محروم بدبخت منافق ہوگا- آپ کا دشمن خدا کا دشمن ہے‘‘- [28]
5. یقینِ کامل بمقابلہ منافقانہ کج روی
حق پر کامل یقین مومنِ صادق کا وہ قیمتی سرمایہ ہے جسے وہ کسی دنیاوی طمع کے عوض قربان نہیں کرتا، جبکہ منافقین مادی آلائشوں کے اسیر ہو کر بھٹکتے پھرتے ہیں- آپ(قدس سرہٗ العزیز) فرماتے ہیں:
’’اہلِ حرب کافروں، رافضیوں، خارجیوں اور منافقوں کو یقین نصیب نہیں ہوتا کہ یقین کا تعلق پاکیزگیٔ حق سے ہے اور یہ خبیث لوگ قرآن و حدیث اور اہلِ سنت و جماعت کے مخالف ہیں- اُن کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا کہ اُن کا اعتماد جھوٹے اور ناپاک عقائدپر ہے- اہلِ سنت و جماعت کو وہ یقینِ کامل نصیب ہے کہ خواہ اُس کے پاس روزانہ کی خوراک بھی نہ ہو اور کوئی اُسے سونے کے ایک لاکھ سکے پیش کرے تو اُس کے بدلے یقین سے دست بردار نہیں ہوتا کیونکہ دینِ محمدی (ﷺ) سے اُسے معرفتِ قربِ الٰہی کا بہتر اِنعام حاصل ہوتا ہے‘‘- [29]
6. حصولِ دنیا کے لیے علم کا استعمال
ظاہر و باطن کے تال میل سے انحراف تب پیدا ہوتا ہے جب انسان علمِ دین کو باطنی سدھار کے بجائے دنیاوی جاہ و جلال اور مادی منفعت کے حصول کا ذریعہ بنا لیتا ہے- اس المناک صورتحال پر روشنی ڈالتے ہوئے حضرت سلطان باھو (قدس سرہٗ العزیز)نے ارشاد فرمایا:
’’جو آدمی علم شریف کو وسلیۂ دنیا بناتا ہے اللہ تعالیٰ اُسے دنیا میں غرق و خراب کرکے اہلِ دنیا بنا دیتا ہے اور اُس کا شمار ظالموں میں کر دیتا ہے- اگر کوئی ایسا اہلِ دنیا ظالم عالم فاضل ہو جائے اُس سے بدتر ظالم دنیا و آخرت میں اور کوئی نہیں ہوتا، اُس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت برستی ہے جیسا کہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ”ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے“- ایسا ظالم اہلِ دنیا نفاق سے کبھی فارغ نہیں ہوتا‘‘- [30]
مادی کائنات کی طلب اور جھوٹ کا گٹھ جوڑ انسانی ہوش و حواس پر ایسا غلبہ پا لیتا ہے کہ اس کا باطنی فساد ام الخبائث سے بھی زیادہ مہلک ثابت ہوتا ہے- اس ہولناک حقیقت کو آ پ (قدس سرہٗ العزیز)یوں بیان فرماتے ہیں:
’’کوئی آدمی دنیا کو طلب نہیں کرتا سوائے جھوٹے اور منافق کے کیونکہ جھوٹ و نفاق سے ایسا سکر پیدا ہوتا ہے جو اُمُ الخبائث شراب کے سکر سے بھی زیادہ شدید ہے کہ اِس سے بیٹا باپ اور باپ بیٹے کو قتل کر دیتا ہے‘‘- [31]
مادی دنیا فی نفسہٖ نفاق کی ہی ایک شکل ہے، لہٰذا اس کی تڑپ رکھنے والے باطنی طور پر منافق ہی کہلانے کے مستحق ہیں- آپؒ اس کا خلاصہ یوں پیش کرتے ہیں:
’’دنیا نفاق ہے اور طالبانِ دنیا منافق ہیں‘ ‘- [32]
دنیا کے پجاریوں کا خمیر ہی بے حیائی، منافقت اور بخل سے اٹھا ہوتا ہے کیونکہ مادی دنیا ہمیشہ باطنی طور پر کمزور اور نفسانی خواہشات کے اسیر لوگوں کی آبیاری کرتی ہے- آپؒ لکھتے ہیں:
’’جان لے کہ حصولِ دنیا کا خواہش مند بےحیا ومنافق وبے ادب و ظالم کے سوا اور کوئی نہیں ہوتا کیونکہ دنیا ایسے ہی کمینوں کی پرورش کرتی ہے- دنیا کی اصل ہی کچھ ایسی ہے کہ اُس کا طالب ہمیشہ وہ آدمی بنتا ہے جو نفس کا مرید اور شیطان کا ساتھی ہو -یہی وجہ ہے کہ طالبِ دنیا آدمی ہمیشہ حرص و حسد کی پریشانی میں مبتلا رہتا ہے‘‘- [33]
دنیا داری کے اس غبار میں لت پت لوگ اپنے باطنی زنگ کی وجہ سے اولیائے حق اور فقرا کے مخلصانہ رویے کا ادراک نہیں کر پاتے اور الٹا ان پر منافقت کا سنگِ طعنہ چلاتے ہیں-حضور نبی اکرم (ﷺ) کی فرمان مبارک سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ نیت کا بگاڑ علمِ دین جیسے پاکیزہ نور کو بھی منافقت کا ذریعہ بنا سکتا ہے- آپؒ رقم فرماتے ہیں:
’’حضور علیہ الصلوٰۃوالسلام کا فرمان ہے:جس نے حصولِ دنیا کی خاطر علم حاصل کیا وہ کافر ہے، جس نے حجت بازی کے لئے علم حاصل کیا وہ منافق ہے اور جس نے رضائے الٰہی کی خاطر علم حاصل کیا وہ مسلمان ہے‘‘-[34]
دنیاوی منصبوں پر اترانے والے لوگ ہمیشہ باطنی تہی دستی اور نفاق کا شکار رہتے ہیں کیونکہ مادی آسائشیں معرفتِ رب کے حصول میں آڑ بن جاتی ہیں- آپؒ ایسوں کے متعلق فرماتے ہیں:
’’اہلِ مراتبِ دنیا منافق و بخیل ہیں اور محروم از معرفتِ ربِّ جلیل ہیں‘‘- [35]
طلبِ دنیا کے مریضوں کا طبیب شیطان ہوتا ہے جو انہیں نفاق کی بھول بھلیوں میں گم رکھتا ہے، جبکہ عشقِ الٰہی کے مسافر اپنی جان قربان کر کے حیاتِ ابدی حاصل کرتے ہیں- آپ(قدس سرہٗ العزیز)کا فرمان ہے:
’’پس معلوم ہوا کہ انسان کو چند امراض و بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں- طلبِ دنیا کے مریض کا طبیب شیطان ہے جو اُسے منافقت کی دوا پلا کر پریشان رکھتا ہے- مریضِ عقبیٰ کا طبیب تقویٰ ہے اور تقویٰ روایت کی دلیل سے نفس کو قتل کرنے کا فتویٰ دیتا ہے- مریضِ عشق لا دوا ہے، دیدار و لقاء کے سوا اُس کی کوئی دوا نہیں اور جو آدمی عشق طلب کرتا ہے اُسے سر قربان کرنا پڑتا ہے‘‘- [36]
بظاہر پروقار اور زاہدانہ نظر آنے والی خاموشی بھی اگر باطنی خلوص سے عاری ہو تو وہ شیطان کے ہزارہا فتنوں اور فریب کا پیش خیمہ بن جاتی ہے- آپؒ فرماتے ہیں:
’’جان لے کہ خاموشی میں نفاق بھی ہو سکتا ہے اور جس خاموشی کا تعلق نفاق سے ہو اُس کا اتفاق شیطان کے ستر ہزار فتنہ و فریب سے ہوتا ہے‘‘- [37]
7. اثراتِ لقمۂ حرام اور باطنی امراض
روحانی امراض اور اخلاقی پستی کا براہِ راست تعلق انسان کی خوراک سے ہے؛ لقمۂ حرام باطن میں اندھیرا پیدا کر کے نفاق کی جڑوں کو مضبوط کرتا ہے- اسی اثر کا نقشہ کھینچتے ہوئے آپ (قدس سرہٗ العزیز)فرماتے ہیں:
’’جان لے کہ علم و معرفت اور عبادت کی جڑ لقمۂ رزق ہے اور لقمہ بھی دو قسم کا ہے- ایک لقمہ حرام و مشتبہ ہے جو آتشِ دوزخ کی مثل ہے، اُس کے کھانے سے وجود میں حرص و حسد، غیبت و بغض،عنادونفاق اور ریا و بے جمعیتی پیدا ہوتی ہے اور نفس و شیطان سے اختلاط بڑھ جاتا ہے- یہ ساری تاثیر حرام لقمے کی ہے‘‘-[38]
رزقِ حلال توکلِ علی اللہ کی راہ سے ملتا ہے جبکہ رزقِ حرام کا حصول نفسانی خواہشات اور شیطانی راگ رنگ کی پیروی سے جنم لیتا ہے- اس تقابل کو نمایاں کرتے ہوئے آپ (قدس سرہٗ العزیز)فرماتے ہیں:
’’رزق دو قسم کا ہے، ایک حلال ذرائع سے کمایا ہوا رزق ہے یہ رزق رضائے خداوندی سے خاصانِ خدا کا خاص نصیبہ ہے جسے وہ توکل و رضائے الٰہی کی راہ سے حاصل کرتے ہیں- فرمانِ حق تعالیٰ ہے:”اور روزی دے اُسے جہاں سے اُس کو خیال بھی نہ ہو اور جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے اللہ اُس کے لئے کافی ہے، بے شک اللہ اپنا کام پورا کرتا ہے، بے شک اللہ نے ہر چیز کا اندازہ کر رکھا ہے“- دوسرا عوام کا رزق ہے جو حرام ذرائع سے کمایا جاتا ہے چنانچہ ظالم مردہ دل اہلِ نفاق منافق و کاذب طلبِ رزق میں ہوائے نفس کے تابع رہتے ہیں اور خصوصاً وہ آوازِ سرود سے خوش رہتے ہیں حالانکہ وہ شیطان کی آواز ہے، اُس سے نفس کو قوت حاصل ہوتی ہے جو عارفانِ صاحبِ حضور کے لئے روح کی گرانی اور دل کےملال کا باعث بنتی ہے‘‘- [39]
خلاصہ کلام:
پس ہمیں ان فرامین سے معلوم ہوتا ہے :
- ظاہر و باطن کا تضاد انسان کے باطنی دیوالیہ پن کی فاش ترین صورت ہےجس میں زبان تو تلاوتِ حق سے معطر ہوتی ہے مگر دل انکار اور نفاق کے کفر آمیز زنار سے بندھا رہتا ہے-
- حقیقی علم اور مراقبے کا واحد مقصد قلب کو دنیا کی ہوس سے پاک کر کے اس میں تصدیق اور ذکرِ اللہ کی شمع کو روشن کرنا ہےکیونکہ تذبذب اور دو دلی ہی منافقت کی اصل بنیاد ہے-
- باطن کی تاریکی، نفسانی خطرات اور شیطانی وسوسوں سے کلی نجات فقط اور فقط ظاہری اعمال یا کتابی بحث سے ممکن نہیں بلکہ یہ صرف تصورِ اسمِ اللہ ذات کے عشق اور کیمیاء اثر نور سے ہی میسر آسکتی ہے-
- نفاق کی ہولناک دلدل سے نکلنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ سالک شریعت و طریقت پر یکساں طور پر کاربند ہو کر قدمِ رسول (ﷺ) پر گامزن رہے اور اولیائے عظام و فقراءِحق سے عقیدت و محبت رکھے-
- مومنِ صادق کا یقینِ کامل وہ انمول سرمایہ ہے جسے وہ کائنات کی کسی بھی مادی منفعت کے بدلے ترک کرنے پر آمادہ نہیں ہوتا جبکہ منافق دنیا کے غلیظ جیفے پر تکیہ کر کے ابدی یقین اور سچی طہارت سے محروم رہ جاتا ہے-
- علم کو محض حصولِ دنیا، حجت بازی اور مادی جاہ و حشم کا ذریعہ بنانا علم کی توہین ہے جو انسان کو نفسانی سرور اور شیطانی دامِ تزویر کا اسیر کر کے منافقت کی دائمی مہر کے سپرد کر دیتا ہے-
- لقمۂ حرام وجود میں حرص، حسد اور نفاق جیسے موذی باطنی امراض کو جنم دینے کا سب سے بڑا محرک ہےجبکہ توکل اور رضائے الٰہی سے حاصل کردہ رزقِ حلال قلب کو طہارت، سکون اور بندگی کی سچی معراج عطا کرتا ہے-
اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہمارے ظاہر و باطن کو یکسو فرمائے اور ہمارے قلوب و اذہان کو عشقِ مصطفےٰ (ﷺ) سے لبریز فرمادے تاکہ ہم نفاق کی لعنت سے پاک رہیں اور ہمارا ایمان اور عشق کامل ہو سکے-آمین!
٭٭٭
[1](ابن الاثیر، النہا یۃ:جلد:5، ص:98)
[2](التوبہ:67)
[3](النساء:145)
[4](النساء:142)
[5](البقرۃ:9-10)
[6](ابن القیم، صفات المنافقین،ص: 4)
[7](صحیح بخاری/ صحیح مسلم)
[8](صحیح مسلم / مسند احمد)
[9](سنن ابی داؤد/ مسند احمد)
[10](ابن تیمیہ، کتاب الایمان، ص:238)
[11](البقرۃ:18)
[12](التوبہ:126)
[13]( کلید التوحید، ص: 169)
[14](عین الفقر، ص:299)
[15](محک الفقر کلاں، ص: 671)
[16](عین الفقر، ص: 257)
[17](کلید التوحید، ص:439)
[18]( عین الفقر، ص: 235)
[19]( کلید التوحید، ص: 441)
[20](محک الفقر کلاں، ص: 41)
[21](محک الفقر کلاں، ص: 235)
[22](کلید التوحید، ص: 57)
[23]( اسرار القادری، ص: 133)
[24]( محک الفقر کلاں، ص: 51)
[25]( عین الفقر، ص: 207)
[26]( کلید التوحید، ص: 129)
[27](کلید التوحید، ص: 613)
[28](کلید التوحید، ص: 189)
[29]( کلید التوحید، ص: 553 – 555)
[30]( محک الفقر کلاں، ص: 113)
[31]( محک الفقر کلاں، ص: 115)
[32](عین الفقر، ص: 363)
[33](کلید التوحید، ص: 71)
[34]( عین الفقر، ص: 121)
[35](کلید التوحید، ص: 403)
[36](کلید التوحید، ص: 85)
[37]( اسرار القادری، ص: 127)
[38]( محک الفقر کلاں، ص: 459)
[39](محک الفقر کلاں، ص: 719)