نورمصطفی(ﷺ) اور تخلیقِ موجودات

نورمصطفی(ﷺ) اور تخلیقِ موجودات

نورمصطفی(ﷺ) اور تخلیقِ موجودات

مصنف: امام ابوبکرعبدالرزاقؒ اگست 2026

حضور نبی اکرم (ﷺ) کی نورانیت ان اہم مباحث میں سے ہے جن پر محدثین، مفسرین اور صوفیائے کرام نے اپنے اپنے انداز میں مختلف زاویوں سے گفتگو کرتے ہوئے علم و اسرار و رموز کے موتی بکھیرے -قرآنِ مجید نے آپ (ﷺ) کو ’’قَدْ جَاءَكُمْ مِّنَ اللهِ نُوْرٌ‘‘ اور ’’وَ سِرَاجًا مُّنِيْرًا‘‘ جیسے مبارک اوصاف سے یاد فرمایا-جبکہ متعدد روایات آپ (ﷺ) کی نورانیت پر بحیثیت مہر کے ثبت ہیں-اسی حقانیت کی بنا پر اہلِ علم نے حقیقتِ محمدیہ اور نورِ محمدی (ﷺ) کے موضوعات پر مستقل کتابیں تصنیف کیں-انہی روایات میں حضرت جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ)سے منقول ایک مشہور روایت خصوصی اہمیت کی حامل ہے، جس میں رسول اللہ (ﷺ) کے نورِ اقدس کی اولین تخلیق کا ذکر کیا گیا ہے-

امام ابوبکر عبد الرزاق بن ہمام بن نافع الصنعانیؒ  (المتوفیٰ:211ھ) ’’الجزء المفقود من الجزء الاول من المصنف‘‘ میں حدیث پاک لکھتے ہیں کہ:

’’حضرت جابر (رضی اللہٓ عنہ) بیان فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (ﷺ) کی بارگاہِ اقدس میں عرض کیا(یارسول اللہ (ﷺ)!)وہ پہلی چیز کیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا؟آپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: اے جابر! وہ تمہارے نبی کا نور ہے جسے اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا، پھر اس میں ہر بھلائی پیدا فرمائی اور اس کے بعد ہر چیز کو پیدا فرمایا - جب اسے پیدا فرمایا تو اسے اپنے سامنے مقامِ قرب میں 12 ہزار سال تک رکھا، پھر اسے چار حصوں میں تقسیم فرمایا -پس عرش اور کرسی کو ایک حصے سے پیدا فرمایا اور عرش اٹھانے والے فرشتوں اور کرسی کے نگہبانوں کو ایک حصے سے پیدا فرمایا اور چوتھے حصے کو مقامِ محبت میں 12 ہزار سال رکھا- پھر اسے چار حصوں میں تقسیم فرمایا -پس قلم کو ایک حصے سے، لوح کو دوسرے حصے سے اور جنت کو تیسرے حصے سے پیدا فرمایا پھر چوتھے حصے کو مقامِ خوف میں 12ہزار سال رکھا- پھر اسے چار اجزاء میں تقسیم فرمایا - پس فرشتوں کو ایک جز سے، سورج کو دوسرے جز سے اور چاند و ستاروں کو تیسرے جز سے پیدا کیا اور چوتھے جز کو مقامِ رجاء (امید) میں 12 ہزار سال رکھا- پھر اسے چار اجزاء میں تقسیم فرمایا -پس عقل کو ایک جز سے اور علم، حکمت، عصمت اور توفیق کو دوسرے جز سے پیدا فرمایا اور چوتھے جز کو مقامِ حیا میں 12 ہزار سال رکھا- پھر اللہ عزوجل نے اس کی طرف نظر فرمائی تو وہ نور پسینے کی صورت میں ٹپکا- جس سے ایک لاکھ چوبیس ہزار نور کے قطرے ٹپکے-پس اللہ نے ہر قطرے سے ایک نبی یا رسول کی روح کو پیدا فرمایا پھر ان انبیاء کرام (علیھم السلام)کی ارواح (مبارکہ ) نے سانس لی تو اللہ تعالیٰ نے ان کے سانسوں سے اولیاء، شہداء، نیک بختوں اور قیامت تک کے فرمانبرداروں کو پیدا فرمایا- پس عرش اور کرسی میرے نور سے ہیں اور مقرب فرشتے، روحانیت والے اور تمام فرشتے میرے نور سے ہیں اور جنت اور اس کی تمام نعمتیں میرے نور سے ہیں اور ساتوں آسمانوں کے فرشتے میرے نور سے ہیں اور سورج، چاند اور ستارے میرے نور سے ہیں اور عقل و توفیق میرے نور سے ہے، اور رسولوں و نبیوں کی روحیں میرے نور سے ہیں اور شہداء، نیک بخت اور صالحین میرے نور کا نتیجہ ہیں-پھر اللہ نے 12 ہزار حجابات (پردے) پیدا فرمائے - پس اللہ عزوجل نے میرے نور کو جو کہ چوتھا حصہ تھا، ہر حجاب میں ایک ہزار سال تک رکھا، اور یہ بندگی، سکون، صبر، سچائی اور یقین کے مقامات تھے- اللہ پاک نے اس نور کو ہر حجاب میں ایک ہزار سال ڈبوئے رکھا- پھر جب اللہ تعالیٰ نے اس نور کو حجابات سے نکالا تو اسے زمین میں پیوست کیا پس وہ مشرق و مغرب کے درمیان ایسے روشن ہوتا تھا جیسے اندھیری رات میں چراغ چمکتا ہے- پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا اور ان کی پیشانی میں وہ نور رکھ دیا-پھر وہ حضرت شیت (رضی اللہ عنہ) کی طرف منتقل ہوا اور وہ پاک پشتوں میں (پاک مردوں سے طیب عورتوں کی طرف ) منتقل ہوتا رہا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حضرت عبداللہ بن عبد المطلب کی پشت تک پہنچایا اور وہاں سے میری ماں آمنہ بنتِ وہب کے رحم میں- پھر مجھے دنیا میں بھیجا اور مجھے تمام رسولوں کا سردار، نبیوں کا خاتم، جہانوں کیلئے رحمت اور قیامت کے دن نورانی چہروں والوں کا قائد بنایا- اے جابر! تیرے نبی کی تخلیق کی ابتدا یوں ہوئی تھی‘‘-[1]

٭٭٭


[1](الجزء المفقود من الجزء الاول من المصنف، کتاب الایمان)

(جواہر البحار فی فضائل  النبی المختار،باب: لمّا خلق اللہ آدم )

(حاشيہ الصاوی على الشرح الصغير ،باب:نُوره (ﷺ)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر