ذکر اسم اللہ ذات: تعلیماتِ غوث اعظمؒ کی روشنی میں

ذکر اسم اللہ ذات: تعلیماتِ غوث اعظمؒ کی روشنی میں

ذکر اسم اللہ ذات: تعلیماتِ غوث اعظمؒ کی روشنی میں

مصنف: ڈاکٹرلئیق احمد ستمبر 2026

ابتدائیہ:

اسلام ایک ایسا جامع دین ہے جو انسان کی ظاہری اور باطنی زندگی دونوں کی اصلاح کا اہتمام کرتا ہے- شریعتِ مطہرہ نے جہاں عقائد، عبادات اور معاملات کے ذریعے انسان کے ظاہر کو سنوارنے کی تعلیم دی ہے، وہیں قلب و باطن کی تطہیر کو بھی ایمان و احسان کی تکمیل کا لازمی جز قرار دیا ہے- اسی حقیقت کے پیشِ نظر ائمۂ تصوف اور صوفیائے کرام نے اپنی تمام تر تعلیمات کی بنیاد کتاب و سنت اور شریعت کی کامل اتباع پر رکھی- انہوں نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ طریقت، شریعت سے الگ کوئی راستہ نہیں بلکہ شریعت ہی طریقت کی اساس اور بنیاد ہے- جو شخص احکامِ شریعت کی پابندی نہیں کرتا، وہ روحانی منازل اور قربِ الٰہی کے راستے پر درست طور پر گامزن نہیں ہو سکتا-

صوفیائے کرام کے نزدیک جب انسان ظاہری احکامِ شریعت کی پابندی کرتے ہوئے اپنے ظاہر کو اعمال ظاہر کے ذریعے پاک کر لیتا ہے تو اس کے بعد باطن کی اصلاح اور قلب کی تطہیر ناگزیر ہو جاتی ہے باطن کی پاکیزگی دراصل دل کی پاکیزگی کا نام ہےاور دل کی حقیقی طہارت کا سب سے مؤثر ذریعہ ذکرِ الٰہی ہے-

قرآن و احادیث کی روشنی میں ذکرِ اسم اللہ ذات

اسی بنا پر صوفیائے کرام نے نماز، تلاوت، تقویٰ اور شریعت کی مکمل پابندی کے ساتھ ساتھ ذکر اللہ کو اپنے نظامِ تربیت کا بنیادی ستون قرار دیا- بالخصوص ذکرِ قلبی کو تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب اور قربِ الٰہی کے حصول کا نہایت مؤثر وسیلہ سمجھا گیاکیونکہ یہی ذکر انسان کے دل کو غفلت سے نکال کر یادِ الٰہی میں مستغرق کرتا، روح کو جِلا بخشتا اور بندے کو اپنے رب کے ساتھ دائمی تعلق میں استوار کرتا ہے- چنانچہ ذکرِ قلبی کی حقیقت، اس کی شرعی بنیاد، روحانی اہمیت اور صوفیائے کرام کے ہاں اس کی عملی حیثیت کا مطالعہ نہایت اہم اور مفید ہے-اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

’’ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ لِذِكْرِيْ‘‘[1]

’’نماز قائم کرو میرے ذکر کے لئے ‘‘-

اس آیتِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگرچہ نماز بذاتِ خود ایک مستقل اور عظیم عبادت ہے لیکن اس کا بنیادی مقصد بندے کو ذکرِ الٰہی سے وابستہ کرنا ہے- اس اعتبار سے نماز اور ذکر کا باہمی تعلق نہایت گہرا ہے؛ نماز ایک مستقل عبادت ہے جبکہ ذکرِ الٰہی وہ روح اور مقصد ہے جس کیلئے نماز قائم کرنے کا حکم دیا گیا- اس سے ذکرِ الٰہی کی غیر معمولی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ شریعت کی سب سے عظیم عملی عبادت بھی بندے کے دل میں اللہ تعالیٰ کی یاد کو زندہ اور مستحکم کرنے کا ذریعہ قرار دی گئی- یہی وجہ ہے کہ صوفیائے کرام نے نماز کی کامل پابندی کے ساتھ ساتھ مستقل ذکرِ الٰہی کو بھی ضروری قرار دیا تاکہ نماز سے حاصل ہونے والی کیفیتِ ذکر انسان کی پوری زندگی پر محیط ہو جائے اور اس کا قلب ہر آن اپنے رب کی یاد سے آباد رہے-

حضرت معاذ بن انس(رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ:

’’ایک شخص نے رسول اللہ (ﷺ) سے پوچھا: کون سا جہاد سب سے زیادہ اجر والا ہے؟آپ (ﷺ) نے فرمایا:وہ جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کیا جائے-اس نے پوچھا: سب سے زیادہ اجر والا روزہ کس کا ہے؟ آپ (ﷺ)نے فرمایا:جس میں اللہ کا ذکر کثرت سے کیا جائے -پھر اس نے نماز، زکوٰۃ، حج اور صدقہ کے بارے میں پوچھا اور ہر مرتبہ رسول اللہ (ﷺ) نے یہی فرمایا: جس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کیا جائے‘‘-[2]

قرآن مجید میں اللہ  تعالیٰ نے متعدد آیات میں کثرت سے اللہ  تعالیٰ کے ذکر کا حکم دیا ہے جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے:

’’وَاذْکُرُوا اللہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ‘‘[3]

’’اور اللہ  تعالیٰ کا ذکر کثرت سے کر و تاکہ فلاح پا جاؤ‘‘-

بلکہ کثرت سے ذکر الٰہی اہل ایمان پر فرض کیا گیا ہے جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے:

’’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اذْکُرُوا اللہَ  ذِکْرًا کَثِیْرًا ‘‘[4]

’’اے ایمان والوں تم اللہ کا ذکر کثرت سے کیا کرو‘‘-

جو بھی اہل ایمان چاہے مرد ہو یا عورت کثرت سے اللہ کا ذکر کرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور بڑا اجر تیار ہے جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے:

’’وَ الذَّاکِرِیْنَ اللہَ کَثِیْرًا وَّ الذّٰکِرٰتِ  اَعَدَّ اللہُ  لَہُمْ مَّغْفِرَۃً وَّ اَجْرًا عَظِیْمًا ‘‘[5]

’’اور کثرت سے ذکر کرنے والے مرد اور کثرت سے ذکر کرنے والی عورتیں، اللہ  تعالیٰ نے ان کیلئے بخشش اور بڑا اجر تیار کیا ہے‘‘-

کثرتِ ذکر کو بیان کرتے ہوئے حضرت مجاہد (رضی اللہ عنہ) بیان کرتے ہیں :

’’انسان کا شمار اس وقت تک کثرت سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنے والوں میں ہوتا جب وہ کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہوئے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کو یاد کرے‘‘-[6]

جیسا کہ فرمان باری تعالیٰ ہے:

’’فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَاذْکُرُوا اللہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِکُمْ‘‘[7]

’’بس جب تم نماز ادا کر چکو تو کھڑے بیٹھے لیٹے اور کروٹوں کے بل اللہ کا ذکر کرو ‘‘-

اس آیت کے تحت حضرت عبداللہ بن عباس (رضی اللہ) نے فرمایا:

’’اللہ تعالیٰ نے ہر فرض کی ایک حد معیَّن فرمائی سوائے ذکر کے کہ اس کی کوئی حد نہ رکھی بلکہ فرمایا کہ ذکر کرو کھڑے بیٹھے کروٹوں پر لیٹے، رات میں ہو یا دن میں، خشکی میں ہو یا تری میں، سفر میں ہو  یا حضر میں، غناء میں  یا فقر میں، تندرستی  میں ہو یا بیماری میں پوشیدہ  میں ہو یا ظاہر‘‘- [8]

ذکر کا طریقہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود ارشاد فرمادیا:

’’وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَہْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ‘‘[9]

’’اور ذکر کرو اپنے رب کا ، اپنے جی میں ، سانسوں کے ساتھ ، عاجزی سے اور خفیہ طریقے سے بغیر آواز نکالے صبح و شام ذکر کرو اور غافلین میں سے مت بنو‘‘-

حضور نبی کریم (ﷺ) کا فرمان مبارک ہے:

’’سانس گنتی کے ہیں جو سانس ذکراللہ کے بغیر نکلا وہ مردہ ہے‘‘-[10]

حضرت سلطان باھُوؒ  فرماتے ہیں :

جو دَم غافِل سو دم کافِر‘ اسانوں مُرشد ایہہ پَڑھایا ھو
سُنیا سخن گَیاں کھُل اَکھیں اَساں چِت مَولا وَل لایا ھو
کِیتی جَان حَوالے ربّ دے اَساں ایسا عِشق کَمایا ھو
مَرن توں اَگے مَر گئے باھوؒ تاں مَطلب نوں پایا ھو

ان ابیات میں آپؒ فرما رہے ہیں:

جو لوگ اللہ پاک کا ذکرسانسوں کے ساتھ دل میں کرتے ہیں وہ مرنے سے پہلے مر جاتے ہیں یعنی’’ موتوا قبل ان تموتوا‘‘کا مصداق بن جاتے ہیں مرنے سے پہلے مرنے کا مطلب یہ ہے کہ نفس مرجاتا ہے اور دل زندہ ہوجاتا ہے جس سے قرب الہی نصیب ہوتا ہے -

’’محمد بن فضلؒ نے فرمایا: زبان سے ذکر کرنا گناہوں کا کفارہ ہے اور بلندی درجات ہے اور دل کا ذکر قرب الٰہی کا سبب ہے‘‘-[11]

جیسا کہ حضور (ﷺ) کا فرمان مبارک ہے:

’’سب سے بہتر ذکر خفی ذکر ہے‘‘-[12]

تعلیماتِ غوثیہؒ کی روشنی میں ذکرِ اسم اللہ ذات :

شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی تعلیماتِ اسلامی تصوف میں تزکیۂ نفس، اصلاحِ قلب اور قربِ الٰہی کیلئے ایک روشن رہنما سی حیثیت رکھتی ہیں- آپؒ کی تحریروں میں ذکرِ الٰہی کو انسانی روح کی پاکیزگی، قلبی زندگی اور معرفتِ حق تعالیٰ تک پہنچنے کا بنیادی ذریعہ قرار دیا گیا ہے- ذکرِ اسمِ اللہ ذات کے ذریعے بندہ ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کی اصلاح کرتا ہے اور دل کو غیر اللہ کی محبت سے پاک کر کے اللہ تعالیٰ کی یاد میں مشغول کرتا ہے- زیرِ نظر تحریر میں سیدنا شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی تصنیفات فتوح الغیب، سر الاسرار اور الفتح الربانی کی روشنی میں ذکرِ اسمِ اللہ کی حقیقت، اس کے درجات اور اس کے روحانی اثرات کو بیان کیا گیا ہے-

1. ذکر کی بے پایاں عطا

ذکر اللہ میں محو ہونے والا بندہ اپنی حاجات کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیتا ہے- ایسا استغراق خدا کی عنایت پر کامل اعتماد کی علامت ہے-سیدنا غوث پاکؒ نقل فرماتے ہیں:

حضور نبی کریم (ﷺ) حدیثِ قدسی میں فرماتے ہیں:

’’خدا تعالیٰ نے کہا کہ جس شخص نے میرے ذکر میں مصروف رہنے کی وجہ سے مجھ سے سوال نہ کیا، میں اسے تمام سوال کرنے والوں سے زیادہ دوں گا“- [13]

2. ہر حال میں ذکر اللہ کرنا

ذکر کو تمام اخلاقی خوبیوں کا سرچشمہ قرار دیا گیا ہے- مسلسل یادِ الٰہی انسان کے اعمال، وقت اور باطنی کیفیت کو درست سمت عطا کرتی ہے-سیدنا شیخ عبد القادر جیلانیؒ نصیحت فرماتے ہیں:

’’اے خدا کے ولی! تم ہر حال میں خدا تعالیٰ کا ذکر کیا کرو کیونکہ اس امر میں تمام نیکیاں جمع ہیں- تمہارے لیے ضروری ہے کہ خدا کے عہد و پیمان کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ لو کیونکہ ہر ضرر سے دور کرنے والا وہی ہے- تمہیں چاہیے کہ قضائے الٰہی سے پیش آنے والے تمام موقعوں کیلئے ہمہ وقت تیار رہو- کیونکہ قضا کی آمد حق ہے اور جان لو کہ ہر حرکت اور ہر سکون پر تمہاری پرسش ہوگی، اس لیے وقت کی مناسبت سے جو کام سب سے اچھا ہو، اس میں مشغول رہو اور اپنے اعضا و جوارح کو فضول اور لغو کاموں سے بچائے رکھو‘‘- [14]

3. ذکر کی ہمہ وقتی کیفیت(حکمِ قرآن)

کلامِ الٰہی کے مطابق ذکر  کسی خاص جگہ، وقت یا جسمانی حالت تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ کہ بندے کی پوری زندگی اللہ کی یاد سے منسلک ہوجائے- محبوبِ سبحانیؒ فرماتے ہیں:

’’طالبانِ مولیٰ پر ہر وقت ذکر اللہ میں غرق رہنا فرض کر دیا گیا ہے جیسا کہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے:”پس اللہ کا ذکر کرو چاہے تم کھڑے ہو یا بیٹھے ہو یا لیٹے ہو“ -–

4. قلبی و روحی نماز

صوفیانہ فکر میں بیدار قلب ہر لمحہ اپنے پروردگار کے حضور رہتا ہے-ذکر اللہ قلبی نماز ہست- اسی متعلق سیدنا غوث الاعظمؒ ارشاد فرماتے ہیں:

’’باطنی زبان سے اسمائے توحید کا دائمی ذکر ہے-اُس کا امام اندورنِ دل جذبۂ شوق ہے اور اُس کا قبلہ حضوریٔ احدیتِ جل جلالہٗ اور جمالِ صمدیت ہے جسے قبلۂ حقیقت بھی کہا جاتا ہے- یہ وہ نماز ہےکہ جس میں قلب و روح ہر وقت مشغول رہتے ہیں کیونکہ قلب سوتا ہے نہ مرتا ہے بلکہ سوتے جاگتے ہر وقت اِس نماز میں مشغول رہتا ہے- قلبی نماز حیاتِ قلب سے حاصل ہوتی ہے جس میں قیام وقعود کے بغیر دل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی متابعت میں اپنے معبود سے ’’اِيَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاکَ نَسْتَعِیْنُ‘‘ کہہ کر مخاطب ہوتا ہے‘‘- [15]

5. امتزاجِ ظاہر و باطن اور ذکر اللہ

شریعت کی ظاہری پابندی اور معرفت کی باطنی کیفیت ایک دوسرے کا تکملہ ہے-کامل عبادت وہ ہے جس میں جسم اطاعت اور قلب حضورِ الٰہی میں مصروف ہو- شیخ عبدالقادر جیلانیؒ ارشاد فرماتے ہیں:

’’پس جب ظاہری و باطنی نمازیں جمع ہو جاتی ہیں تو نماز مکمّل ہو جاتی ہے جس کا بہت بڑا اجر ہے ، روحانی طور پر قربِ ذاتِ حق تعالیٰ اور جسمانی طور پر درجاتِ جنت - اِس قسم کا نمازی ظاہری طور پر عابد ہوتا ہے اور باطنی طور پر عارف - اگر حیاتِ قلب حاصل نہ ہونے کی وجہ سے کوئی نمازِ شریعت کے ساتھ نمازِ طریقت جمع نہ کرسکا تو اُس کی نماز ناقص ہے اور اُس کا اجر محض درجاتِ جنت ہے نہ کہ قربِ حق تعالیٰ ‘‘- [16]

6. تطہیرِ قلب اور ذکر اللہ

معرفتِ الٰہی کا آغاز دل کو نفسانی خواہشات اور حیوانی میلانات سے پاک کرنے سے ہوتا ہے-ذکرِ اللہُ قلب کو صیقل کرکے انسان کو صفاتِ الٰہی کے ادراک اور باطنی بصیرت تک پہنچاتا ہے-غوث الاعظمؒ فرماتے ہیں:

’’جب آئینۂ قلب صاف ہو جائے تو چشمِ قلب کو اللہ تعالیٰ کے صفاتی نور سے ایسی نظر حاصل ہوجاتی ہے کہ جس سے وہ آئینۂ قلب میں جمالِ الٰہی کا نقش دیکھتا ہے چنانچہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے: (1)” مومن اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے“- (2)”مومن آئینۂ قلب ہے“-(3)عالم نقش و نگار کرتا ہے اور عارف صیقل کرتا ہے“- جب آئینۂ قلب اسمائے توحید کے دائمی ذکر سے صاف ہو جاتا ہے تو اُس میں صفاتِ حق تعالیٰ کے جلوے نظر آتے ہیں جس سے معرفتِ صفات حاصل ہوتی ہے‘‘- [17]

7. تزکیہ نفس و تصفیہ قلب

تصوف کا اصل مقصد ظاہری نمود کے بجائے نفس کی اصلاح اور قلب کی پاکیزگی ہے- اخلاص، ذکر اور صالحین کی پیروی انسان کو ایسی روحانی کیفیت تک پہنچاتی ہے جہاں اس کے اعمال اللہ  تعالیٰ کی رضا کیلئے خالص ہو جاتے ہیں- شیخ عبدالقادر جیلانیؒ تصوف کے متعلق بیان فرماتے ہیں:

’’تصوف کا اوّلین مقصد دل کو اِن تمام ذمائم سے پاک کر کے ہوائے نفس کا قلع قمع کرنا ہے- پس جو شخص خلوت و ریاضت و خاموشی اختیار کر کے ذکرِ دوام و محبت و توبہ و اخلاص و صحیح و روشن اعتقاد کے ساتھ صحابۂ کرام و تابعین و مشائخ و علمائے عاملین جیسے سلف صالحین کی اتباع کرتے ہوئے اپنے نفس و قلب کی اصلاح کر لیتا ہے اور خالص مومن بن کر توبہ و تلقین و مذکورہ بالا تمام شرائط کے ساتھ خلوت نشین ہوتا ہے تو اُس کا علم و عمل اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہو جاتا ہے، اُس کا قلب روشن ہو جاتا ہے ، اُس کی جلد نرم ہو جاتی ہے، اُس کی زبان پاک ہو جاتی ہے، اُس کے ظاہری و باطنی حواس ایک ہوجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنی بارگاہ میں اُس کے اعمال کو رفعت بخش کر قبول کر لیتا ہے‘‘-[18]

8. موافقت سے تکلیف کا زوال

سالک ذکرِ جہری سے جب آگے بڑھتا ہے تو قلبی ذکر اس کا نصیبہ بنتا ہے- صاحبِ ذکر ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی حضوری محسوس کرتا ہے اور اس کی رضا کو اپنی رضا پر مقدم رکھتا ہے-تصوف میں یہ کیفیت قربِ الٰہی، اطمینانِ قلب اور باطنی بیداری کی علامت سمجھی جاتی ہے-حضور غوث پاکؒ اس متعلق تفصیل سے بیان فرماتے ہیں:

’’ذکر جب قلب میں جگہ پکڑ لیتا ہے تو بندہ کا اللہ عزوجل کو یاد رکھنا دائمی بن جاتا ہے- اگرچہ زبان سے یاد بھی نہ کرے اور جب بندہ ہمیشہ اللہ عزوجل کی یاد میں رہتا ہے تو اس کی موافقت اور اس کے افعال پر راضی رہنا دائمی ہو جاتا ہے اگر گرمی کا موسم آئے اور ہم حق تعالیٰ کی موافقت نہ کریں تو گرمی ہم کو پریشان کر دے گی- اسی طرح سردی کا موسم آنے میں اس کی موافقت کریں تو بہتر ہے ورنہ جاڑا ہم کو ٹھٹرا دے گا اور ان دونوں موسموں میں موافقت کا اختیار کرنا ان کی اذیّت اور اثر کی شدّت کو زائل کر دے گا (کہ نہ گرمی کی تکلیف معلوم ہوگی نہ سردی کی) ‘‘-[19]

ایک اور مقام پر ارشاد ہوا:

’’ذاکر وہی ہے جو اپنے قلب سے اللہ کا ذکر کرے اور جو قلب سے ذکر نہ کرے وہ ذاکر نہیں - زبان تو قلب کی غلام اور خادم ہے ( اور اعتبار آقا کا ہے نہ کہ غلام کا) وعظ کے سُننے پر مداومت (پابندی)کر کیوں کہ قلب و عظ کے سُننے سے جب غیر حاضر رہنے لگتا ہے تو اندھا بن جاتا ہے توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ جُملہ احوال میں حق تعالیٰ کے امر کی عظمت ملحوظ رہے اور اسی لئے ایک بزرگ نے فرمایا ہے کہ  سَاری بھلائی دو باتوں میں ہے- یعنی حق تعالیٰ کے حکم کی عظمت کو ملحوظ رکھنا اور اس کی مخلوق پر شفقت کرنا‘‘[20]

ایک اور مقام پر آپؒ بارگاہِ الٰہی میں مستجاب پیش فرماتے ہیں:

’’یا اللہ ہمارے قلوب کو زندگی بخش اپنے اوپر توکّل سے اپنی طاعت سے- اپنے ذکر سے، اپنی موافقت سے اور اپنی توحید سے- اگر وہ لوگ نہ ہوتے جن کے قلوب میں یہ حیات موجود ہے کہ وہ زمین میں پھیلے ہوئے ہیں تو تم سب لوگ ہلاک ہو جاتے کیونکہ اُنہی کی دُعا سے حق تعالیٰ اپنا عذاب اہلِ زمین سے اُٹھاتا ہے‘‘ - [21]

آپؒ نے ایک مقام پر قلبی ذکر کی اہمیت کو کچھ اس طرح بیان فرمایا ہے:

’’قلب کے بغیر صرف زبان کے ذکر میں نہ تیری عزّت ہے نہ وقعت - اصل ذکر تو قلب اور باطن کا ذکر ہے - اس کے بعد درجہ ہے زبانی ذکر کا - جب بندہ کے لئے حق تعالیٰ کی یاد صحیح ہو جاتی ہے تو حق تعالیٰ اس کو یاد فرماتا ہے چنانچہ ارشاد فرمایا ہے کہ ” تم یاد کرو مجھ کو میں یاد کروں گا تم کو اور میرے شُکر گزار رہو اور نا شُکری مت کرو “ -تو اس کو یاد رکھ تاکہ وہ تجھ کو یاد رکھے تو اس کو یاد کرتا رہ کہ وہ تیرے بوجھ تجھ سے اُتار دے - پس تو ہر گُناہ سے خالی ہو جائے - سر تا پا طاعتِ بلا معصیت بن جائے - پس اس وقت منجملہ ان کے جن کا ذکر فرمایا کرتا ہے تیرا بھی ذکر فرمائیگا اس وقت تو اس کے سَاتھ مشغول ہو کر اس کی مخلوق سے بے خبر بَن جائیگا اور اس کا ذکر تجھ کو سَوال سے غافِل بنا دے گا - تیرا سارا مقصود وہی بَن جائیگا پس تو اپنے جُملہ مقاصد سے غافِل ہو جائیگا اور جب وہی تیرا کُل مقصود بَن جائے گا تو مُلکی خزانوں کی کُنجیاں تیرے قلب کے ہاتھ میں دے دے گا- جو شخص اللہ تعالیٰ سے محبّت کرتا ہے وہ دُوسروں سے محبّت نہیں رکھتا اس کی محبّت تیرے قلب سے جُملہ ماسواء کی محبّت زائل کر دے گی ‘‘-[22]

9.نفس کی تربیت اور ذکراللہ:

ایک مقام پر آپؒ نے سالک کو باطن کی اصلاح اور قلبی ذکر کی اہمیت کی طرف متوجہ فرمایاہے جہاں ’’حقیقی ذکرِ اسم اللہ ذات‘‘دل کی گہرائیوں سے شروع ہوتا ہے-آپؒ نصیحت فرماتے ہیں:

’’صاحبزادہ- اوّل حق تعالیٰ کو اپنے قلب سے یاد کر اس کے بعد دوسرے نمبر پر اپنے قالب سے اپنے قلب سے اس کا ذکر ہزار مرتبہ کر اور زبان سے ایک مرتبہ مصیبتوں کے آنے کے وقت اس کو یاد رکھ ان پر صبر کرنے سے اور دُنیا آنے کے وقت دُنیا کو چھوڑنے سے اور آخرت کے آنے کے وقت اس کو قبول کرنے سے اور حق تعالیٰ کے آنے کے وقت اس کو یگانہ سمجھنے سے اور جمؔلہ ماسوٰی اللہ کے آنے کے وقت ان سے مُنہ پھیر لینے سے- جب تو اپنے نفس کی باگ ڈھیلی کر دے گا تو اس کو تیرے اندر طمع لاحق ہوگی اور وہ تجّھ کو (بدل کرآخر) گرا دے گا- اس کے مُنہ میں تقوٰی کی لگام ڈال اور قیل و قال کو ترک کر‘‘- [23]

10.دل سے ماسویٰ اللہ کا اخراج ا ور ذکر اللہ

تصوف کے بنیادی نظریے ’’تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب اور تخلیۂ سر‘‘ میں دل کو غیر اللہ کی وابستگیوں سے پاک کیا جاتا ہے-صوفیاء کے نزدیک کامل بندہ وہ ہے جس کا دل دنیاوی تعلقات سے آزاد ہو کر صرف اللہ کی محبت کا مرکز بن جائے-یہ کیفیت قلبی آزادی، روحانی سکون اور قربِ الٰہی کی نشانی قرار دی جاتی ہے-حضور سیدنا غوث الاظمؒ ارشاد فرماتے ہیں:

’’بس ان کے نزدیک وہی وہ ہے – مدد فرمانے والا بھی وہی اور بے یارو مددگار رکھنے والا بھی وہی - دینے والا بھی وہی نہ دینے والا بھی وہی - نقصان پہنچانے والا بھی وہی اور نفع دینے والا بھی وہی - ان کے پاس خالص مغز ہے بلا پوست کے صفائی پر صفائی اور لذّت پر لذّت - بس یہی بات ہے جو ساری مخلوقات کو ان کے قلوب سے نکال باہر کرتی ہے کہ ان کے قلوب میں بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی بھی باقی نہیں رہتا - ان کے قلوب میں اسی کا ذکر خفی رہ جاتا ہے نہ کہ غیر کا ‘‘- [24]

11.ذاکر کی خصوصیت

ہمیشگی سے ذکر اللہ کرنا سالک کے ظاہر و باطن کو سنوار دیتا ہے-صوفیانہ تعلیمات میں دائمی ذکر کو سعادتِ دنیا و آخرت کا بنیادی ذریعہ قرار دیا گیا ہے-یہ کیفیت بندے کو اللہ تعالیٰ کی قربت اور روحانی اطمینان کی منزل تک پہنچاتی ہے-جیسا کہ آپؒ فرماتے ہیں:

’’ہر وقت ذکر میں رہنا دُنیا و آخرت میں ہمیشہ کی بھلائی کا سبب ہے - جبْ قلب درست ہو جاتا ہے تو ذکر اُس میں ہر وقت رہنے لگتا ہے کہ اس کی ہر جانب اور سَارے بدن پر لکھ دیا جاتا ہے - پس اس کی آنکھیں سو جاتی ہیں مگر اس کا قلب اپنے پروردگار کے فکر میں لگا رہتا ہے - وہ اس ( ذکرِ قلبی ) کا اپنے نبی  مکرم (ﷺ) کی طرف سے وارث بنتا ہے‘‘- [25]

حرفِ آخر:

زیرِ غور مقالہ میں ہم نے آپؒ کی تصانیفِ قدسیہ میں سے ذکر اللہ کے متعلق جانا- اس کا مختصر بیان درج ذیل پیش کیا ہے-

  1. ذکراللہ میں محو رہنے والے کو اللہ تعالیٰ اس کے مانگے بغیر بھی سوال کرنے والوں سے بڑھ کر عطا فرماتا ہے-
  2. سالک کو ہر حال میں ذکراللہ، رضائے الٰہی اور مفید اعمال اختیار کرتے ہوئے اپنے اعضا کو فضول کاموں سے محفوظ رکھنا چاہیے-
  3. طالبِ مولیٰ کو کھڑے، بیٹھے اور لیٹے ہر حالت میں ذکراسم اللہ ذات سے وابستہ رہنا چاہیے-
  4. ذکرِ باطنی وہ دائمی قلبی نماز ہے جس میں دل اور روح ہر وقت حضورِ الٰہی میں عبادت اور استعانت کرتے رہتے ہیں-
  5. ظاہری عبادت کے ساتھ قلبی حضوری جمع ہو جائے تو نماز کامل ہو کر قربِ الٰہی کا وسیلہ بنتی ہے-
  6. اللہ پاک کے اسم پاک کا دائمی ذکر قلب کو نفسانی آلودگیوں سے پاک کرکے اسے انوار و صفاتِ الٰہیہ کے مشاہدے کے قابل بناتا ہے-
  7. تصوف کا بنیادی مقصد ذکر، توبہ، اخلاص، ریاضت اور صالحین کی پیروی کے ذریعے نفس و قلب کو پاک کرکے اعمال کو مقبول بنانا ہے-
  8. ذکر کے مختلف مراتب سالک کو زبانی یاد سے بتدریج معرفت، مشاہدۂ انوار اور اسرارِ حقیقت کے بلند ترین مقام تک پہنچاتے ہیں-
  9. جب ذکر قلب میں راسخ ہو جاتا ہے تو بندہ ہر حالت میں اللہ تعالیٰ کی یاد، رضا اور افعالِ الٰہی کی موافقت میں قائم رہتا ہے-
  10. حقیقی ذاکر وہ ہے جو قلب سے اللہ کو یاد کرتے ہوئے حکمِ الٰہی کی تعظیم اور مخلوقِ خدا پر شفقت اختیار کرے-
  11. زندہ قلوب والے اولیاء، ابدال اور علماء اپنی عبادت و دعاؤں کے ذریعے فیضانِ نبوت کے وارث اور مخلوق کے لیے رحمت کا وسیلہ بنتے ہیں-
  12. سالک کو قلبی ذکر، صبر، ترکِ دنیا، قبولِ آخرت اور تقویٰ کے ذریعے نفس کو قابو میں رکھ کر غیر اللہ سے منہ موڑنا چاہیے-
  13. عارف ہر نفع و نقصان کا حقیقی فاعل صرف اللہ تعالیٰ کو جان کر اپنے قلب کو مخلوق سے خالی اور ذکرِ خفی سے آباد کر لیتا ہے-
  14. سچا قلبی ذکر بندے کو اللہ تعالیٰ کی یاد، محبت، اطاعت اور قرب میں ایسا محو کرتا ہے کہ اس کے دل سے تمام غیر اللہ کی محبت نکل جاتی ہے-

15. قلب کی اصلاح کے بعد ذکرِ اللہ بندے کی دائمی باطنی کیفیت بن جاتا ہے اور وہ حالتِ نیند میں بھی اپنے پروردگار سے وابستہ رہتا ہے-

٭٭٭


[1](طٰہٰ: 14)

[2](مسند احمد بن حنبل، ج:3، ص:438)

[3](الانفال:45)

[4](الاحزاب:41)

[5](الاحزاب:35)

[6](أخرجه ابن المبارک في کتاب الزهد : 280)

(أبو نعیم في حلیۃ الأولیاء،ج:3، ص:283)

[7](النساء:103)

[8](تفسیر طبری، زیر آیت النساء:103)

[9](الاعراف:205)

[10](حلیة الاولیاء و طبقات الاصفیاء، ج:8، ص:261)

[11](السّلمي في طبقات الصّوفیۃ، ص:216)

[12](مسند احمد بن حنبل، ج:1، ص:372)

[13]( فتوح الغیب، ص: 94)

[14]( فتوح الغیب، ص:144)

[15]( سرالاسرار،ص:141)

[16]( سرالاسرار،ص:143)

[17]( سرالاسرار،ص:145)

[18]( سرالاسرار،ص:175)

[19]( الفتح الربانی،ص :116)

[20](الفتح الربانی،ص :169)

[21]( الفتح الربانی، ص:263)

[22](الفتح الربانی،ص: 434)

[23](الفتح الربانی،ص: 350)

[24](الفتح الربانی،ص: 425)

[25](الفتح الربانی، ص: 447)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر