نام و نسب اور ولادت :
آپ کا نام محمد کنیت ابوبکر اور والد کا نام سیرین تھا-آپ کے والد کا تعلق عراق سے تھا اور وہ تانبے کا کام کرتے تھے-
اُن کی دکان عین التمر میں تھی لیکن حضرت عمرفاروق کے دورخلافت میں حضرت خالد بن ولید کی قیادت میں جب معرکہ عین التمر بپاہُوا تو سیر ین گرفتار ہُوئے اور کسی مجاہد کے حصے میں آئے بعد میں وہ انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) کی غلامی میں تھے تو ممکن ہے کہ انہی کے حصہ میں آئے ہوں یا انہوں نے کسی مجاہد سے خریداہوگا بہرحال وہ حضرت انس بن مالک کی غلامی میں تھے- سیربن چونکہ بڑے کاریگرتھے اور کافی کماتےتھے تو انہوں نے حضرت انس سے عقد مکاتبت کیا تو حضرت انس نے کچھ عرصہ بعد بیس ہزاریا چالیس ہزار درہم لےکر انہیں آزاد کر دیا- [1]
امام سیرین کی بیوی صفیہ حضرت ابوبکرصدیق کی لونڈی تھی اور ایسی لونڈی تھی کہ اُس کی ذات آزاد عورتوں کیلئے قابل رشک تھی اُن کے نکاح کے وقت تین امہات المومنین نے اُن کو سنوارا تھا اور تقریباً اٹھارہ بدری صحابی شریک نکاح تھے جنہوں نے اُن کیلئے دعا خیر کی -[2]
امام محمد بن سیرین کی ولادت حضرت عثمان غنی کے عہد خلافت میں سنہ 32ھ میں ہُوئی اور ایک روایت کے مطابق سنہ31ھ میں ہُوئی -[3]
اساتذہ :
امام صاحب نے کبار صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) سے تحصیل علم کیا جن حضرات سے انہیں اکتساب فیض کا موقع ملا ہے اُن میں چند درج ذیل ہیں:
’’حضرت انس بن مالک ،حضرت زید بن ثابت،حضرت حسن بن علی بن ابی طالب ،عبداللہ بن عمر،حضرت عبد اللہ بن عباس، عثمان بن ابی العاص ،حضرت ابوہریرہ، ابو سعید خدری، ابی قتادۃ، سمرۃ بن جندب، حضرت عمران بن حصین، جندب بن عبداللہ ،حذیفہ بن یمان ،رافع بن خدیج، اُم المٔومنین حضرت عائشہ، اُم عطیہ، حمید بن عبد الرحمٰن، عبداللہ بن شقیق، عبد الرحمٰن بن ابی بکرۃ (رضی اللہ عنھم)[4]
تلامذہ :
آپ سے مستفید ہونے والی شخصیات بھی بڑی نامور ہیں:
’’یونس بن عبید،ابن عون، خالد الحذاء، ہشام بن حسان،قرۃبن خالد، مہدی بن میمون، جریربن حازم، ابو ہلال محمدبن سلیم، عقبہ بن عبداللہ،سعیدبن ابی عروبہ، ابوبکرسلمی، حیان بن حصین، شبیب بن شیبہ، سلیمان بن المغیرہ، خلید بن دعلج، منصور بن زازان، عمران القطان،علی بن زید،امام شعبی ،اشعث بن عبد الملک،عاصم الاحول (رحمتہ اللہ علیھم)‘‘-[5]
حدیث میں فضل و کمال :
امام محمد بن سیرین علم حدیث میں بڑی فضیلت و کمال رکھتے تھے اُس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے کئی نامور علمی شخصیات کی صحبت اختیار کیے رکھی صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) میں سے حضرت انس اور حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) کی بہت زیادہ صحبت اختیار کی اور تابعین میں حضرت حسن بصری کی صحبت میں بھی کافی عرصہ رہے جس کی وجہ سے ان بزرگوں کی صحبت کے فیضان نے امام ابن سیرین کو علم و عمل کا پیکر بنا دیا-
اس وسعتِ علم کے باوجود وہ حدیث میں بڑے محتاط تھے- سماع اور روایت دونوں میں انتہائی احتیاط کرتے تھے وہ معمولی درجے کے اشخاص سے تحصیل علم اور اخذِ حدیث خلافِ احتیاط سمجھتے تھے یہی وجہ ہےکہ آپ کا بڑا مشہور قول ہے کہ آپ نے فرمایا :
’’ان ہذالعلم دین فانظرواعن من تاخذونہ ‘‘[6]
’’یہ علم دین ہے لہذا تم خوب غورفکر کرلیا کرو کہ یہ علم تم کس سے لے رہے ہو ‘‘-
روایت میں اتنے محتاط تھےکہ علماء فرماتےہیں
’’کان محمد یاتی الحدیث علی حروفہ ‘‘[7]
’’محمد بن سیرین حدیث کو بعینہ الفاظ کے ساتھ بیان کرتےتھے ‘‘-
مطلب کہ جس طرح انہوں نے حدیث کو سنا ہوتا انہیں الفاظ کے ساتھ روایت کرتے تنہامعنی بیان کرنا کافی نہیں سمجھتے تھے -
حدیث اتنی احتیا ط کے ساتھ بیان کرتے تھےکہ علامہ ابن عون فرماتےہیں :
’’کان محمد بن سیرین اذاحدث کا نہ یتقی شیئا کانہ یحذر شیئا ‘‘[8]
’’محمد بن سیرین جب حدیث بیان فرماتے تو ایسا لگتا تھاکہ کوئی چیزصاف کررہے ہیں یا کسی چیز کا خوف ہے ‘‘-
اسی احتیاط کی بنا پر آئمہ فن کے نزدیک وہ بڑے معتبر اور سچے تھے اور ا ن کی مرویات کو بڑی قدرکی نگاہ سے دیکھاجاتا تھا - ہشام بن حسان فرماتے ہیں کہ :
’’میں جن لوگوں سے ملاہُوں اُن میں سب سے زیادہ سچا ابن سیرین کوپایا ہے ‘‘-[9]
ثقاہت اور آئمہ کرام کے تاثرات :
امام محمد بن سیر ین اپنے علمی کمالات کی وجہ سے میدان علم میں ایک نمایاں مقام رکھتے تھےیہی وجہ ہےکہ علمی حلقوں میں انہیں بڑی قدرکی نگاہ سے دیکھاجاتاہے ،نہ صرف اُن کے معاصر علماء بلکہ بعد میں آنے والے آئمہ کرام نے بھی مختلف انداز میں اُن کی ثقاہت و علمی شان کو اُجاگر کیا ہے اما م ابن سعد اُن کی ثقاہت ورفعت کو بیان کرتےہُوئے لکھتے ہیں :
’’وکان ثقۃ مامونا عالیا رفیعا فقیھا اماما کثیر العلم ‘‘[10]
’’وکان ثقہ، مامون بلند رتبے والے، فقیہ، امام اور کثیرعلم والے تھے ‘‘-
ابن عون اُن کی شخصیت پر روشنی ڈالتے ہُوئے فرماتے ہیں:
’’لم ارفی الدنیا مثل ثلاثۃ محمد بن سیرین باالعراق والقاسم بن محمد باالحجاز ورجاء بن حیوۃ بالشام ولم یکن فی ھؤ لاء مثل محمد‘‘[11]
’’میں نے دنیامیں تین شخصیات جیسا کوئی نہیں دیکھا، محمدبن سیر ین عراق سے، قاسم بن محمد حجاز سے اور رجاء شام سےاور اِن میں سے محمد بن سیرین جیسا کوئی نہ تھا ‘‘-
امام صاحب کی ثقاہت کا عالم یہ تھاکہ بڑے بڑے آئمہ حدیث شائقین علم کو اُن کی صحبت اختیار کرنے کا حکم دیتے تھے-شعیب بن حجاب فرماتے ہیں کہ
امام شعبی ہمیں کہتے تھے کہ:
’’ تم لوگ امام ابن سیرین کی صحبت کو لازم پکڑو ‘‘-[12]
امام یافعی اُن کی علمی وجاہت کچھ اس انداز میں بیان کرتےہیں :
’’کان اما ما یقتدی بہ ‘‘[13]
’’ وہ ایسے امام تھے کہ اُن کی اقتداء کی جاتی ہے ‘‘-
امام عجلی فرماتے ہیں :
’’محمد بن سیرین بصری تابعی ثقۃ ‘‘[14]
’’محمد بن سیرین بصر ی تابعی اور ثقہ شخصیت تھے ‘‘-
فقہی مہارت:
امام ابن سیرین ایک نامور محدث ہونے کے ساتھ ساتھ فقہ میں بھی مہارت تامہ رکھتے تھے - یہی وجہ ہےکہ آپ کا شمار اپنے عہد کے نامور فقہاء میں ہوتاتھا اور آئمہ کرام فقہ میں اُن کی امامت کے معترف بھی نظر آتے ہیں، امام ذہبی اُن کی فقہی مہارت کو ان الفاظ کے ساتھ بیان فرماتے ہیں :
’’وکان فقیھا اماما غزیر العلم ثقۃ ثبتا‘‘[15]
’’ وہ ایک فقیہ ،امام، بہت زیادہ علم والے اور ثقہ تھے ‘‘-
امام ابن حبان اُن کی فقہی قابلیت کو بیان کرتے ہُوئے فرماتےہیں:
’’وکان فقیھا فاضلا حافظا متقنا‘‘[16]
’’وہ نامور فقیہ ،فاضل حافظ الحدیث اور متقن تھے ‘‘-
امام ابن خلکا ن اُن کی فقا ہت کے بارے فرماتے ہیں :
’’وھو احد الفقھاء من اھل البصرۃ‘‘[17]
’’وہ بصرہ کےنامور فقہاء میں سے ایک تھے ‘‘-
اتنی فقاہت ہونےکےباوجود وہ مسائل کےجواب میں اتنے محتاط تھے کہ جواب دیتے وقت شدتِ احتیاط یاخوف سے گھبراجاتے تھے اور اُن کی حالت بدل جاتی تھی -
علامہ اشعث امام ابن سیرین کے بارے فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جب امام صاحب کے پاس بیٹھتے تھے تو وہ ہمارے ساتھ باتیں کرتےتھے ہنستے بھی تھے حالات وغیرہ بھی پوچھتے تھے لیکن جب اُن سے کوئی فقہی مسئلہ حلال و حرام کے بارے پوچھاجاتا تو اُن کا رنگ متغیر ہوجاتا اور یہ معلوم ہی نہ ہوتاکہ تھوڑی دیر پہلے وہ ہنس اور بول رہے تھے -[18]
فقہی کمال کی بناپر انہیں قضاء میں بڑی مہارت تھی عثمان التیمی فرماتےہیں کہ بصرہ میں امام ابن سیر ین سے زیادہ قضاء کا عالم کوئی نہ تھا -[19]
لیکن اُن میں خشیت الہٰی کا بہت زیادہ غلبہ تھا جب آپ کو عہدہ قضاء پیش کیا گیا تو اس خوف سے کہ کہیں کوئی فیصلہ غلط نہ ہوجائے آپ شام چلے گئے پھر کچھ عرصہ بعد واپس لوٹے -[20]
زہد و تقویٰ:
امام صاحب ایک کمال درجےکے عابد و زاہد تھے اسی چیز کے پیش نظر کئی علماء کرام نے اپنی کتب میں اُنکے زہدو تقوی کا ذکرکیا ہے -
امام ابن حبان اُن کےزہد کا تذکرہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’وکان محمد بن سیرین من اور ع اہل البصرۃ‘‘ [21]
’’امام محمد بن سیرین اہل بصرہ میں سب سے زیادہ تقوٰی والے تھے‘‘-
علامہ مورق العجلی فرماتےہیں:
’’مارأیت احد افقہ فی ورعہ‘‘[22]
’’ میں نےاُن سے زیادہ متقی فقیہ نہیں دیکھا‘‘-
آپ کے تقوی اور دیانت داری کا یہ عالم کہ نقصان تو برداشت کر لیتے لیکن امانت و دیانت داری کا دامن کبھی بھی نہیں چھوڑتے تھے -
اور یہی چیز آپ کی قید کا سبب بھی بنی علماء فرماتے ہیں :
’’اُن کے قید ہونے کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے چالیس ہزار درہم کا زیتون خریدا تو ایک برتن میں چوہا پایا گیا اُن کے دل میں یہ بات آئی کہ چوہا تو کولہو میں گراہوگا تو آپ نے سارا تیل بہادیا تو اس قرض کی وجہ سے آپ کو جیل جانا پڑا‘‘-[23]
آپ کی دیانت داری کا اندازہ اس بات سے بھی بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ جب آپ قید خانہ میں تھے تو نگران نے آپ پر رحم کھاتے ہوئے عرض کی کہ جب رات ہوتو آپ اپنے گھر والوں کے پاس چلے جایاکریں اور صبح کے وقت لوٹ آئیں تو آپ نے جواباً فرمایا :
’’اللہ کی قسم میں بادشاہ کی خیانت پر تیری مدد نہیں کروں گا‘‘-[24]
تعبیر خواب میں مہارت :
امام ابن سیرین دیگر علوم کی طرح اس فن کے بھی بڑے ماہر سمجھے جاتےتھے، اس پرعلماء کے اعترافات بطور ثبوت کےموجود ہیں -
امام ابن خلکان فرماتےہیں کہ وہ تعبیررؤیامیں ید طولیٰ رکھتے تھے -[25]
امام ذہبی نے اُن کو علامۃ التعبیر کے طور پر ذکر کیا ہے -امام یافعی نے ان کے تعبیر خواب کےدو واقعے نقل کیے ہیں کہ ایک عورت امام ابن سیرین کے پاس آئی جبکہ آپ کھانا کھارہے تھے اُس نے عرض کی اے ابوبکر میں نے ایک خواب دیکھاہے کہ چاند ثریا (ستاروں کےجھرمٹ) میں داخل ہوگیا ہے پھر ایک آواز دینے والے نے مجھے پکار کر کہا کہ میں ابن سیرین کے پاس جاؤں اور یہ خواب اُن سے بیان کروں تو آپ نےجب یہ سنا تو اپنا ہاتھ کھانے سے کھینچ لیا اور کہا افسوس کہ تم نے یہ خواب دیکھا ہے عورت نے خواب دوبارہ بیان کیا تو یہ سن کر ابن سیرین کا چہرہ زردہوگیا اور اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کھڑے ہوگئے آپ کی بہن نے پوچھا کیا ہُوا آپ کو آپ نے فرمایا کہ یہ عورت گمان کرتی ہے کہ میں سات دن میں وفات پاجاؤں گا تو پھر ایسا ہی ہوا کہ آپ کا وصال ہو گیا راوی کہتےہیں کہ لوگوں نے اس دن سےسات دن گنے تو ساتویں دن امام صاحب کو دفن کردیا گیا-
مزید یہ بھی روایت کیا گیا ہےکہ ایک آدمی ابن سیرین کے پاس آیا اورکہا کہ میں نے خواب میں ایک موٹا تازہ پرندہ دیکھا مگرمیں نہیں جانتا کہ وہ کیاہے وہ آسمان سے نیچے آیا اور ایک درخت پر آکر پھول چننے لگا پھر اُڑگیا یہ سن کر امام ابن سیرین کا چہرہ خوف سےمتغیر ہوگیا اور فرمایا اس خواب کا مطلب یہ ہے کہ علماء وفات پائیں گے -
چنانچہ اسی سال امام حسن البصری اور امام محمد بن سیرین وفات پاگئے -[26]
آپ کی وفات جمعہ کے دن ماہ شوال سنہ 110ھ کو بصرہ میں ہُوئی -[27]
٭٭٭
[1](وفیات الا عیان ،جز:4،ص:181)
(سیراعلام النبلاء ،جز:4،ص:606)
[2](ایضاً)
[3](طبقات الکبری لابن سعد ،جز:7،ص:143)
(تاریخ دمشق ،جز:53،ص174)
[4](تہذیب التہذیب ،جز:9،ص:214)
[5](سیراعلام النبلاء ،جز:4،ص:607)
(تہذیب التہذیب ،جز:9،ص:215)
[6](الطبقات الکبری لا بن سعد ،جز :7،ص:144)
[7](سیر اعلام النبلاء ،جز:4،ص:608)
[8](الطبقات الکبری ،جز:7،ص:145)
[9](تہذیب التہذیب ،جز :9،ص؛215 )
[10](الطبقا ت الکبری ،جز:7،ص 143)
[11](تہذیب التہذیب ،جز9،ص:216)
[12](الطبقات الکبری ،جز:7،ص:145)
[13](مرآۃ الجنان،جز:1،ص:184)
[14](الثقات للعجلی ،جز1،ص:405)
[15](تذکرۃ الحفاظ ،جز:1،ص:62)
[16](الثقات لابن حبان ،جز:5،ص:349)
[17](وفیات الاعیان ،جز:4،ص:182)
[18](الطبقات الکبری ،جز:7،ص:145)
[19](تہذیب التہذیب ،جز:9،ص:216)
[20](العبر ،جز:1،ص:103)
[21](الثقات لابن حبان ،جز:5،ص:349)
[22](تذکرۃ الحفاظ ،جز :1،ص:62)
[23](تہذیب الاسماء واللغات،جز 1،ص:84)
[24](ایضاً)
[25](وفیات الاعیان ،جز:4،ص:182)
[26](مرآۃ الجنان جز:1،ص:184)
[27](وفیات الاعیان ،جز:4،ص:182 )