یکم جولائی 2026ء کو اتر پردیش کے تاریخی شہر وارانسی کے علاقے ’’دال منڈی‘‘ میں سڑک کو چوڑا کرنے اور ’’تزئین و آرائش‘‘ کے ایک منصوبے کے تحت انتظامیہ نے کئی مساجد کی دیواروں کو مسمار کرنا شروع کر دیا- اس کارروائی کی زد میں آنے والی عبادت گاہوں میں مسجد کریم اللہ بیگ، مسجد لنگڑے حافظ، مسجد نثاراں، مسجد رنگیلے شاہ، مسجد علی رضا اور سنگِ مرمر مسجد شامل تھی- اس آپریشن کے دوران دہشت، خوف اور یاس کے ماحول میں جائے وقوعہ پر تقریباً 1860 سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے تھے، جبکہ سیکیورٹی کے نام پہ دیگر انتظامات کے ساتھ ساتھ علاقے کی فضائی نگرانی کے لیے ڈرون کیمروں کی 3 ٹیمیں متحرک تھیں اور توڑ پھوڑ کے لیے متعدد بلڈوزر بھی استعمال کیے گئے- آس پاس کی سڑکوں اور گلیوں میں لوگوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے پورے علاقے کو بیریکیڈز، بانس کے جنگلوں اور ٹین کی چادریں لگا کر مکمل طور پر سیل کر دیا گیا تھا-
اگست 2026ء کے اوائل میں اتراکھنڈ کے مشہور سیاحتی مقام مسوری میں 1918ء کے نقشے کے مطابق قائم ایک تاریخی مسجد کو بلدیاتی انتظامیہ نے ’’غیر قانونی تعمیر‘‘ قرار دے کر مسمار کر دیا- اس کارروائی کے خلاف مقامی مسلمانوں، بالخصوص خواتین نے شدید احتجاج کیا اور مسماری کو ’’غیر قانونی اور برادری کو دانستہ نشانہ بنانے کی چال‘‘قرار دیا-
بھارت میں چھ ریاستوں میں مئی اور جون کے درمیانی عرصہ میں کم از کم 23 مسلم مذہبی عمارتوں جن میں مساجد، مزارات، اسلامی مدارس اور عیدگاہیں شامل ہیں، کو مسمار کر دیا گیا ہے- انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹ کے مطابق ان 45 دنوں میں یہ کارروائیاں بی جے پی کی زیرِ اقتدار چھے ریاستوں، دہلی، مہاراشٹر، اتر پردیش، گجرات، راجستھان اور ہریانہ، میں کی گئیں- قلیل عرصہ میں یہ کارروائیاں اتفاقی یا انتظامی نوعیت کی نہیں، بلکہ مسلم ثقافت کے خلاف ایک منظم پالیسی کا حصہ معلوم ہوتی ہیں-
مسلم مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے والی مسماری کی اس لہر میں 1000 سال پرانی مسجد سے لے کر 200 سال پرانی درگاہ تک شامل ہیں، جس نے بھارت کی بے جی پی کی برسرِاقتدار ریاستوں میں مسلمانوں کے اندر شدید تشویش پیدا کر دی ہے- یہ واقعات ارد گرد کے اسلامی مقامات اور تاریخی ورثے، بالخصوص تیموری بابری دور میں تعمیر کی گئی عمارتوں کی تباہی کی ایک طویل تاریخ کا تسلسل ہیں-
تاریخی طور پر، سب سے اہم مسماریوں میں سے ایک 6 دسمبر 1992ء کو عمل میں آئی، جب ہندوتوا قوم پرستوں کے ایک ہجوم نے ایودھیا میں 16ویں صدی کی تاریخی بابری مسجد کو شہید کر دیا، جس کے بعد ملک بھر میں ہونے والے فسادات میں تقریباً 2000 افراد لقمہ اجل بنے- بابری مسجد کی شہادت کے بعد، ہندو قوم پرست جماعت نے ’’ایودھیا کیول جھانکی ہے، کاشی متھرا باقی ہے‘‘ (ایودھیا تو صرف ایک جھلک ہے؛ کاشی اور متھرا ابھی باقی ہیں) کے نعرے بلند کیے، جو بعد میں ان کی مہم کا مرکزی حصہ بن گئے-بابری مسجد کے اس سانحے نے ایک خطرناک مثال قائم کر دی اور اب ہندو قوم پرست گروپ دیگر اہم قرونِ وسطیٰ (عہدِ وسطیٰ) کی مساجد پر ملکیت کا دعویٰ کرنے یا انہیں تبدیل کرنے کے لیے عدالتوں میں سرگرمی سے درخواستیں دائر کر رہے ہیں اور بغیر کسی ٹھوس ثبوت کے عدالتیں بھی سرکاری سرپرستی میں یکطرفہ فیصلے کر رہی ہیں-
انسانی حقوق کی تنظیم ’’ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس‘‘(APCR) کی رپورٹ کے مطابق، بھارتی ریاست راجستھان کے سرحدی اضلاع میں مسلم برادری کی عبادت گاہوں اور املاک کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے- رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک مبینہ سرکاری مہم کے تحت اب تک کم از کم 8 مساجد، متعدد مزارات، قبرستانوں اور دینی مدارس کو مسمار یا خالی کروایا جا چکا ہے- مقامی لوگوں اور تنظیم نے ٹھوس ثبوت پیش کئے ہیں کہ انتظامیہ نے اس مسماری کے دوران قانونی تقاضوں کو یکسر نظر انداز کیا، زمینوں کے تاریخی ریکارڈز کو تسلیم نہیں کیا اور متاثرہ فریقین کو اپنا دفاع کرنے یا اپنا مؤقف پیش کرنے کا کوئی موقع نہیں دیا-
بھارت میں شناخت کو مٹانے کا یہ طریقہ کار ’’ثقافتی بالادستی‘‘ (cultural hegemony) کے دعوے کی عکاسی کرتا ہے، یہ وہ نظریہ ہے جسے انتونیو گرامشی (Antonio Gramsci) نے پیش کیا تھا؛ یہ نظریہ واضح کرتا ہے کہ کس طرح ایک حکمران طبقہ اپنے انتہا پسندانہ نظریات، میڈیا اور قوانین کا استعمال کر کے اپنے نقطہ نظر کو عام عوام کے لیے ایک عام اور قابلِ قبول ’’فہمِ عامہ‘‘ (common sense) بنا دیتا ہے- روزمرہ کی زندگی میں ہندوتوا نظریے کو شامل کر کے، مودی حکومت نے مؤثر طریقے سے عوام کے ذہنوں کو اس بات پر آمادہ کر دیا ہے کہ وہ بلدیاتی قوانین اور بھاری بلڈوزر کے اس جارحانہ استعمال کو ریاست کی معمول کی سرگرمیوں کے طور پر قبول کریں- صدیاں پرانے مسلم تاریخی ورثے کو مسمار کرنا اسی منصوبے کا ایک حصہ ہے، جو ایک کثیر الثقافتی اور متنوع ملک کو ایک یک رنگ (monolithic) ہندو ریاست میں تبدیل کرنے کی براہِ راست کوشش ہے- بھارت کے 22 کروڑ سے زائد مسلمانوں کی شناخت کو جبر و استبداد اور حکومتی سرپرستی میں زبردستی غائب اور اوجھل کر دیے جانے کا یہ عمل ایک واضح اور ہلاکت خیز پیغام دیتا ہے کہ ’’آپ کی صدیوں پرانی عظیم تاریخ کو مٹایا جا رہا ہے، اور ریاستی مشینری کے اس ملبے تلے برابر کے شہری ہونے کی آپ کی حیثیت کو باقاعدہ ایک نظام کے تحت تباہ کیا جا رہا ہے‘‘- دوسری طرف یہ عمل عالمی اداروں اور عالمی برادری کا منہ چڑانے کے برابر ہے جو ببانگ دہل یہ کہتا ہے ہم عالمی قوانین کو کسی خاطر میں نہیں لاتے- اس بالادستی کی سوچ کو بیان کرتے ہوئے سماجی و قانونی امور کی ماہر کیتھلین کاوانا کہتی ہیں کہ ریاست اپنی پسندیدہ شناخت کو سب پر نافذ کرنے کیلیے ایسا نظام بنا رہی ہے، جس میں مختلف شناخت رکھنے والے لوگوں کو آہستہ آہستہ نظر انداز کیا جاتا ہے، اور ان کے حقوق محدود کئے جاتے ہیں-
’جارج ٹاؤن جرنل آف انٹرنیشنل افیئرز‘ میں لکھتے ہوئے کاوانا کہتی ہیں کہ بی جے پی کے دورِ حکومت میں تاریخی عمارتوں اور ڈھانچوں کی شکل و صورت کو دانستہ بدلا اور مسخ کیا جا رہا ہے، ان کی مسلم شناخت کو مٹایا جا رہا ہے، اور ماضی کے واقعات کو ایک نئے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے تاکہ ریاست کی مرضی کی ایک ’سرکاری کہانی‘ گھڑی جا سکے جس کا واحد نشانہ مسلم اقلیت ہے-
سال 2014ء سے اب تک، بی جے پی کے زیرِ اقتدار ریاستوں بشمول اتر پردیش، اتراکھنڈ، دہلی، گجرات اور مدھیہ پردیش میں ہزاروں مساجد، درگاہوں اور مزارات کو یا تو مسمار کیا جا چکا ہے، ان کے گرد باڑ لگا دی گئی ہے یا انہیں قانونی تنازعات میں الجھا دیا گیا ہے- ’’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘‘ کی جانب سے 60 سے زائد ایسے واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں مسماری سے متعلق نوٹس اکثر یا تو بہت دیر سے موصول ہوتے ہیں یا سرے سے ملتے ہی نہیں اور یہاں تک کہ عدالتوں کی طرف سے حکمِ امتناع (stay orders) جاری ہونے کے بعد بھی مسماری کا عمل جاری رہتا ہے-
جینوسائیڈ واچGenocide Watch)) کی رپورٹ کے مطابق، بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد اور ان کی عبادت گاہوں کی مسماری کو انتظامیہ یا حکومت کی جانب سے ’’تجاوزات کے خلاف عام کارروائی‘‘ قرار دینا دراصل نسل کشی کے دسویں اور آخری مرحلے انکار Denial)) کو ظاہر کرتا ہے-ادارے کے مطابق، ریاست کا اس منظم سرکوبی سے انکار کرنا اور اسے قانونی جواز دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ بھارتی اقلیتیں اس وقت شدید اور پرتشدد نسل کشی کے شدید خطرے سے دوچار ہیں-
تاریخی اور صدیوں پرانے مذہبی مقامات کو عوامی زمین پر محض ’’غیر مجاز تعمیرات‘‘ یا ’’غیر قانونی تجاوزات‘‘ کا نام دے کر، ریاست ان یادگاروں کو ان کی تاریخی اہمیت سے محروم کر دیتی ہے-’’اگر آپ نے آواز اٹھائی، تو آپ کا گھر مسمار کر دیا جائے گا: بھارت میں بلڈوزر ناانصافی‘‘کے عنوان سے کی گئی ایک جامع تحقیقاتی رپورٹ میں، ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اقلیتی آبادی کو نشانہ بنانے والی تادیبی کارروائیوں کے پیچھے کارفرما تنظیمی و ساختی طریقہ کار کو باریک بینی سے دستاویزی شکل دی ہے-’’پیو ریسرچ سینٹر‘‘ کے گورنمنٹ ریسٹرکشن انڈیکس (GRI) یعنی حکومتی پابندیوں کے اشاریئے کے مطابق، بھارت نے 10 میں سے 6.4 کا تشویشناک اسکور حاصل کیا ہے- یہ اسکور بھارت کو اقلیتوں کی عبادت گاہوں پر ریاستی سطح کی پابندیوں کے لحاظ سے دنیا کے سخت ترین ممالک کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے- آج کے بھارت میں اکثریتی تشدد (majoritarian violence) کو باقاعدہ ایک ادارہ جاتی اور بیوروکریٹک شکل دے دی گئی ہے- اب تاریخی ورثے کو مٹانے کا کام محض ہجوم کی مرضی پر نہیں چھوڑا جاتا، بلکہ اسے سرکاری سطح پر بے دخلی کے نوٹسوں، صبح سویرے کی جانے والی انتظامی کارروائیوں اور ریاستی سرپرستی میں نیم فوجی دستوں (paramilitary) کی بھاری تعیناتی کے ذریعے منظم طریقے سے انجام دیا جاتا ہے- مقدس مقامات اور تاریخی اراضی کو نشانہ بنا کر، مودی حکومت ملک کی تاریخ کو دوبارہ سے اس طرح لکھنا چاہتی ہے جو ہندوتوا کے ایک محدود اور اکثریتی بیانیے میں فٹ بیٹھ سکے-
ان عمارتوں کو گرانا 20 کروڑ سے زائد مسلمانوں کو ان کے اپنے ہی وطن میں اجنبی اور دوسرے درجے کا شہری محسوس کرانے کا ایک طریقہ ہے- حکومت ایک پوری برادری کو منظرنامے سے غائب کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاکہ ایک نام نہاد سیکولر ازم کے لبادے میں چھپا ہوا مشترکہ اور کثیر الثقافتی ملک کو ایک ایسی جگہ میں تبدیل کیا جا سکے جہاں صرف ایک ہی مذہب کی اہمیت ہو-
اس منظم شناختی مٹاؤ (تخریبِ شناخت) کا مقابلہ کرنے کیلئے، ایک ایسی مربوط حکمتِ عملی ناگزیر ہے جس میں علاقائی سفارتی دباؤ اور بین الاقوامی قانونی احتساب دونوں شامل ہوں- ملکی سطح پر، پاکستان کو روایتی بیانات سے آگے بڑھ کر ایک مخصوص، ریاستی سرپرستی میں تعلیمی و قانونی ٹاسک فورس قائم کرنی چاہیے جو بھارت میں مسلمانوں کے ڈھانچہ جاتی مسماری کے ہر واقعے کو دستاویزی شکل دے، اس کا تجزیہ کرے اور اسے محفوظ (archive) کرے اور ان ڈیجیٹل ذخائر کو مستقل طور پر غیر ملکی سفارت خانوں اور عالمی اداروں کو بریفنگ دینے کے لیے استعمال کرے- عالمی سطح پر، بین الاقوامی برادری کو جس کی قیادت اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (UNHRC) اور اسلامی تعاون تنظیم (OIC) کے پاس ہے،ان مسماریوں کو محض اندرونی بلدیاتی معاملات سمجھنا بند کرنا ہوگا- انہیں اقوامِ متحدہ کے ’’یونیورسل پیریوڈک ریویو‘‘اور ’’امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی‘‘(USCIRF) کی 2026ء کی رپورٹ کی سفارشات پر عمل درآمد کرنا چاہیے؛ جس کے تحت ماورائے عدالت بلڈوزر کارروائیوں کی منظوری دینے والے علاقائی انتظامی سربراہان پر ہدف شدہ اقتصادی اور سفری پابندیاں عائد کی جائیں اور نئی دہلی کے ساتھ دو طرفہ تجارت اور سیکیورٹی شراکت داریوں کو اقلیتی ورثے کے تحفظ اور انسانی حقوق کے عالمی قوانین کی پاسداری سے مشروط کیا جائے-
اس سنگین بحران کے مستقل تدارک کے لیے عالمی سطح پر مؤثر سفارتی اور قانونی اقدامات اٹھانے کی فوری ضرورت ہے، جس میں یونیسکو (UNESCO) کا کردار کلیدی نوعیت کا حامل ہونا چاہیے- یونیسکو کو چاہیے کہ وہ اپنی بنیادی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے اس معاملے کو فوری طور پر عالمی برادری کے سامنے اٹھائے اور عالمی فورمز پر اس بات کو واضح کرے کہ یہ کارروائیاں 1954ء کے ہیگ کنونشن سمیت ثقافتی ورثے کے تحفظ کے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں- اس کے ساتھ ہی، اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے تحت آثارِ قدیمہ کے عالمی مبصرین پر مشتمل ایک خود مختار تحقیقاتی پینل تشکیل دیا جانا چاہیے جو ان متاثرہ مقامات کا زمینی جائزہ لے، تاکہ اس نوعیت کی دانستہ تباہی کو محض ’’تجاوزات کے خلاف مہم‘‘ کے بجائے عالمی سطح پر ’’ثقافتی نسل کشی‘‘ کے طور پر تسلیم کروا کر بھارت پر سفارتی دباؤ بڑھایا جا سکے-
مزید برآں، بھارت کو عالمی ثقافتی ورثے کے تحفظ کے کنونشنز کا پابند بنانے کے لیے عالمی عدالتِ انصاف (ICJ) سمیت دیگر متعلقہ عدالتی فورمز کو متحرک کیا جانا چاہیے تاکہ سیاسی مقاصد کے تحت ہونے والی ان غیر قانونی مسماریوں کو روکا جا سکے- اس عمل کو تیز کرنے کے لیے یہ بھی ناگزیر ہے کہ یونیسکو کے فنی اور تکنیکی تعاون سے بھارت کی تمام قدیم مساجد اور تاریخی اوقافی املاک کی جدید ڈیجیٹل نقشہ سازی کی جائے تاکہ کسی بھی مسماری کی صورت میں تاریخی شواہد کو ہمیشہ کے لیے محفوظ اور عالمی عدالتوں میں بطور ثبوت پیش کیا جا سکے-
مسلم ممالک بالخصوص وسطی ایشیائی ریاستوں کو تیموری بابری ورثے کی حفاظت کیلئے بھارتی حکومت پہ دباؤ ڈالنا چاہئے کہ وہ صدیوں سے موجود مسلم تہذیب کے نشانات اور مسلم ثقافت کے مظہر عمارات، مساجد اور خانقاہوں کی حفاظت کو یقینی بنائے- کسی بھی پرانی عمارت پہ ہونے والے کسی دعوے کو پرکھنے کیلئے عالمی معیارات کے تحت شفاف عدالتی کارروائی بنائی جائے- اس مقصد کیلئے پاکستان کو متعلقہ ممالک کے ساتھ سفارتی محاذ پہ مزید متحرک ہونے کی ضرورت ہے-
آخر میں، عالمی برادری کو بھارتی عدلیہ پر یہ زور دینا ہوگا کہ وہ بین الاقوامی قانونی معیار (Due Process of Law) کو برقرار رکھتے ہوئے یکطرفہ بلڈوزر کارروائیوں پر فوری حکمِ امتناع جاری کرے اور متاثرہ فریقین کو شنوائی اور اپیل کا منصفانہ موقع فراہم کرے-
٭٭٭