قصیدہ بُردہ شریف میں حضور نبی کریم(ﷺ) کے ظاہر و باطنی فضائل و کمالات

قصیدہ بُردہ شریف میں حضور نبی کریم(ﷺ) کے ظاہر و باطنی فضائل و کمالات

قصیدہ بُردہ شریف میں حضور نبی کریم(ﷺ) کے ظاہر و باطنی فضائل و کمالات

مصنف: مفتی محمد اسماعیل خان نیازی اگست 2026

تعارف:

اسم گرامی ’’محمد بن سعید ‘‘کنیت ’’ابو عبداللہ ‘‘ اور لقب ’’شرف الدین ‘‘ہے ،یوں آپ کا پورا نام ’’شرف الدین ابو عبد اللہ محمد بن سعید بن حماد بن محسن بن عبد اللہ البوصیری‘‘ ہے -آپ 608ھ بمطابق 7 مارچ 1213ء میں مصر کے شہر دُلاص میں پیداہوئے ،مصر کی ایک بستی ’’بوصیر ‘‘ میں سکونت کی وجہ سے آپ بوصیری مشہور ہوئے -آپ کا یومِ وصال 694ھ کو اسکندریہ میں ہوا- [1]

امام بوصیری کا عہد اسلامی علوم کا سنہرا عہد کہا جا سکتا ہے جس میں امام ابو الحسن شاذلیؒ ، بابا فرید الدین گنجِ شکرؒ اور بہاؤ الدین زکریاؒ ملتانی جیسے اولیاء اللہ ، امام بیضاویؒ اور امام قرطبیؒ جیسے نابغہ روزگار مفسرین ، امام یحییٰ بن شرف النوَوِیؒ اور امام ابن صلاحؒ شہرزوری جیسے محدثین ،  صدر الدین قونویؒ اور عِز بن عبد السلامؒ جیسے آئمہ عقیدہ اور سعدیؒ شیرازی و فخر الدین عراقیؒ جیسے شعراء نے زمانہ پایا - 

اس قصیدے کا پورا نام ’’قصیدۃ الکواکب الدریہ فی مدح خیر البریہ(ﷺ)‘‘ ہے، لیکن عوام الناس میں یہ قصیدہ بُردہ کےنام سے مشہور ہے جس کی مشہوروجہ کچھ بیان کی جاتی ہے کہ علامہ بوصیری پر فالج کا حملہ ہوا، جسم کا نصف حصہ بےحس ہو گیا، اس مصیبت کے عالم میں دل میں خیال آیا کہ ایک قصیدہ سیّدی رسول اللہ (ﷺ) کی مدح میں لکھوں اور اس کے ذریعے سے اپنے لیے شفا طلب کروں، چنانچہ ایسی حالت میں قصیدہ لکھا اور رات کو سوئے تو خواب میں سیّد الکونین(ﷺ) کی زیارت سے مشرف ہوئے کہ حضور نبی رحمت(ﷺ) نے اپنی چادر مبارک علامہ بوصیری پر ڈالی اور اپنے دست انور کو ان کے اعضاء پر پھیرا، جب آنکھ کھلی تو علامہ بوصیری نے اپنے آپ کو بالکل صحت یاب پایا-

عربی میں چونکہ بُردہ چادر کو کہا جاتا ہے، تو حضور نبی کریم (ﷺ) کی چادر مبارک کی برکت سے یہ قصیدہ بھی اصل نام کی بجائے قصیدہ بُردہ کے نام سے مشہور ہوگیا ، یعنی ایسا قصیدہ جس کی برکت سے اُنہیں رحمتِ محمدی (ﷺ) کی چادر کا سایہ نصیب ہو گیا -[2]

اب تک اس کلام کی نوے 90 سے زائد شروحات تحریر کی جاچکی ہیں اور اس کے تراجم فارسی، اردو، ترکی، بربر، پنجابی، انگریزی، فرانسیسی، جرمن، سندھی و دیگر بہت سے زبانوں میں کیے جا چکے ہیں-[3]

حضور نبی کریم( ) کے ظاہری فضائل و کمالات:

یہ قصیدہ عشقِ رسول، عقیدتِ نبوی اور فضائلِ مصطفوی (ﷺ) کا ایسا حسین مرقع ہے جس نے صدیوں سے اہلِ ایمان کے دلوں کو منور کیا ہے- امام بوصیری نے اس قصیدے میں آپ(ﷺ)کے ظاہری حسن و جمال اور باطنی کمالات و خصائص کو نہایت دلنشیں انداز میں بیان کیا ہے- اختصار کو ملحوظِ رکھتے ہوئے یہاں صر ف 6 اشعار  کو لکھنے کی سعی سعید کرتے ہیں:

1: مُحَمَّدٌ سَيِّدُ الْكَوْنَيْنِ وَ الثَّقَلَيْنِ
وَ الْفَرِيقَيْنِ مِنْ عَرَبٍ وَّ مِنْ عَجَمِ

’’سیّدنا حضرت محمد( ﷺ) دونوں جہانوں کے سردار ہیں، انسانوں اور جنوں کے بھی، عربوں اور عجم کے بھی‘‘-

امام بوصیری نے حضور نبی کریم (ﷺ) کے اسماء مبارکہ میں سے ’’محمد(ﷺ)‘‘ کا ذکر فرمایا - علماء کرام نے آپ (ﷺ) کے اسماء مبارکہ کی تعداد مختلف بیان فرمائی ہے- مواہب لدنیہ میں آپ (ﷺ) کے اسماء مبارکہ کی تعداد 500سے زائد بیان کی گئی ہے اورقاضی عیاض مالکی نے آپ (ﷺ) کے 30 ایسے اسماء مبارکہ ذکر فرمائے ہیں جواللہ تعالیٰ کےاسماء مبارکہ کے ساتھ مشترک ہیں جیسے رؤف ،رحیم وغیرہ –

مفتیٔ بغداد سید محمود احمد آلوسی (المتوفیٰ:1270ھ) ’’تفسیر روح المعانی‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’یاد رکھ آپ(ﷺ) حق کا آئینہ ہیں جس سے مومنین پر اللہ تعالیٰ تجلی فرماتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ (حق کے آئینہ) کے وسیلے کے بغیر تجلی فرماتا تو وہ تمام پہلے لمحہ میں ہی اللہ تعالیٰ کی عظمت کے جلال کی وجہ سے جل جاتے‘‘-

شیخ روز بہان بقلی شیرازی (المتوفی:606ھ) ’’تفسیر عرائس البیان‘‘ لکھتے ہیں:

’’حضور نبی کریم(ﷺ)حق کا آئینہ ہیں جس میں اللہ پاک اپنے مقربین اورصدیقین کیلئے اپنے جلال اور جمال کے ساتھ جلوہ فرماتا ہے اور جس میں وہ آپ (ﷺ) کے وسیلہ جلیلہ سےاللہ پاک کا دیدار کرتے ہیں ‘‘-

اسی شعر میں مزید یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ آپ (ﷺ) اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے جن وانس کے سردار ہیں-اس  میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے-

اللہ تعالیٰ نے آپ (ﷺ) کی شان و عظمت ، رفعت، و بلندی کے کئی پہلوؤں کو اس آیت مبارکہ میں جمع فرمایا دیا ہے-ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَمَآ  اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً  لِّلْعٰلَمِیْنَ‘‘[4]

’’(اے محبوب(ﷺ)! ہم نے آپ کو تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر بھیجا ہے)‘‘-

یہ آیت کریمہ واضح کرتی ہے کہ جہاں جہاں تک اللہ عزوجل کی ربوبیت ہے وہاں وہاں تک آپ (ﷺ) کی رحمت ہے-مزید اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کو اور ان میں موجود اپنی مخلوق کو محتاج اور اپنے حبیب (ﷺ) کو محتاج الیہ بنا دیا ہے- انہی تمام جہانوں میں انبیاء و رسل بھی آتے ہیں- مزید یہ کرم نوازیاں صرف دنیا تک محدود نہیں بلکہ بروز محشر میں پوری شان کے ساتھ موجود ہوں گی- جیساکہ ’’صحیح بخاری اورصحیح مسلم‘‘ میں ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) نے ارشادفرمایا:

’’میں قیامت کے دن تمام لوگوں کاسردارہوں گا ‘‘-

2: فَإِنَّ لِي ذِمَّةً مِنْهُ بِتَسْمِيَتِي
مُحَمَّدًا وَ هُوَ أَوْفَى الْخَلْقِ بِالذِّمَمِ

’’پس بے شک میرانام بھی ’’محمدؐ‘‘ رکھاگیا ہے اس لیے (اس نام کی نسبت کی برکت سے) آپ (ﷺ) کی بارگاہ اقدس میں میری امان ہے اور آپ (ﷺ) تمام مخلوقات میں سے سب سے زیادہ وعدہ کو پورا فرمانے والے ہیں ‘‘-

امام بوصیری کا نام ’’محمدؐ‘‘ تھا اورآپ اس پہ فخر فرما رہے ہیں آپ فخر کیوں نہ فرمائیں کیونکہ مستند روایات مبارکہ میں رسول اللہ (ﷺ) کے نامِ نامی اسم گرامی ’’محمد (ﷺ)‘‘ کے بہت زیادہ فضائل منقول ہیں- حضرت ابو امامہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ رسول  اللہ(ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’جس کا لڑکا پیدا ہوا اور وہ میری محبت اور میرےنام پاک سے تبرک کے لئے اس کا نام’’محمد‘‘رکھے وہ اور اس کا لڑکا دونوں بہشت میں جائیں‘‘-[5]

اسی طرح حضرت جعفر بن محمد (رضی اللہ عنہ)اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ :

’’جب قیامت کا دن ہوگا تو ایک ندا کرنے والا پکارے گا ہر وہ شخص کھڑا ہوجائے جس کا نام ’’محمد‘‘ ہے- تو حضور نبی کریم (ﷺ) کے نام مبارک کی عزت و توقیر کی وجہ سے وہ جنت میں داخل ہوجائے‘‘-[6]

حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’ مجھے میری عزت و جلال کی قسم ! میں کسی ایسے شخص کو عذاب نہیں دوں گاجس کا نام آپ (ﷺ) کے نام مبارک پر ہوگا‘‘-[7]

ان روایات سے معلوم ہوا کہ ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے بچے کا نام حضور نبی رحمت(ﷺ) کے نام مبارک پر رکھے-

ایک روایت میں ہے حضرت آدم (علیہ السلام)کی توبہ کی قبولیت کی وجہ بھی سردارِ دو عالم حضرت محمد (ﷺ) کی ذاتِ اقدس بنی - حدیث شریف میں ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام)  اپنی مصیبت کے وقت پڑھتے:

’’اَللّٰهُمَّ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ اغْفِرْ لِي‘‘

’’اے اللہ!محمد (ﷺ) کے واسطے میری مغفرف فرما اور میری توبہ قبول فرما لے‘‘-

اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا تم نے محمد (ﷺ) کو کہاں سے پہچانا؟ عرض کیا کہ میں نے جنت میں ہر جگہ لکھا دیکھا’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘ او ر ایک روایت میں ہے کہ لکھا ہوا ہے کہ وہ میرا بندہ اور میرا رسول ہے تو میں نے جان لیا کہ وہ تیرے نزدیک ساری مخلوق سے افضل و اکرم ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول فرمالی-[8]

دراصل تمام کائنات کی اصل آپ (ﷺ) کی ذاتِ اقدس ہیں- جیساکہ اللہ عزوجل نے کائنات کی تخلیق کے بارے میں ارشاد فرمایا:

 ’’لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاكَ‘‘[9]

 ’’(اے محبوب (ﷺ) اگر آپ (ﷺ) نہ ہوتے تو افلاک کو پیدانہ فرماتا)‘‘-

اس روایت کو علامہ اسماعیل حقی نے تفسیر روح البیان میں، نظام الدين الحسن بن محمد بن حسين النيسا بوری نے تفسیر نیسابوری میں بھی رقم فرمایا ہے اور تفسیر مظہری میں یوں مرقوم ہے:

’’لَوْلَاكَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَفْلَاكَ وَلَمَا أَظْهَرْتُ الرَّبُوْبِيَّةِ‘‘ [10]

’’اے محبوب (ﷺ) اگر آپ (ﷺ) نہ ہوتے تو افلاک کو پیدا نہ فرماتا اور اپنا رب ہونا بھی ظاہر نہ فرماتا‘‘-

ان روایات کی ترجمانی علامہ اقبال نے کیا خوب کی:

ہو نہ یہ پھول تو بلبل کا ترنم بھی نہ ہو
چمن دہر میں کلیوں کا تبسم بھی نہ ہو
یہ نہ ساقی ہو تو پھرمے بھی نہ ہو، خم بھی نہ ہو
بزم توحید بھی دنیا میں نہ ہو، تم بھی نہ ہو
خیمۂ افلاک کا استادہ اسی نام سے ہے
نبض ہستی تپش آمادہ اسی نام سے ہے

3: يَا أَكْرَمَ الْخَلْقِ مَا لِي مَنْ أَلُوذُ بِهِ
سِوَاكَ عِنْدَ حُلُولِ الْحَادِثِ الْعَمَمِ

’’اے سب سے زیادہ عزت والے، میرے پاس کوئی نہیں جس کی پناہ لوں سوائے آپ(ﷺ)کے، جب بڑی مصیبت نازل ہو‘‘-

یعنی بندہ مومن جب ظاہری بالخصوص باطنی آزمائش میں گرفتار ہوتا ہے تو اس کی جائے پناہ’’وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ جَآءُوْکَ‘‘کے تحت حضور نبی رحمت (ﷺ) کا دامن کرم ہی ہوتا ہے اورصحابہ کرام کا آپ (ﷺ) کی ظاہری حیات مبارکہ میں بھی یہ معمول تھا کہ وہ ہرمشکل میں سیّدی رسول اللہ (ﷺ) کی طرف رجوع کرتے اور وصال مبارک کے بعد بھی- جیسا کہ روایت میں ہے :

’’حضرت علی المرتضیٰ(رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ حضور نبی رحمت(ﷺ) کے وصال مبارک کے بعد ایک اعرابی آیا اور اس نے اپنے آپ کو قبرِ اقدس پر گرا دیا اور روضہ شریفہ کی خاک پاک سر پر ڈالنے لگا پھر عرض کرنے لگا : ’’یَارَسُوْلَ اللہِ! اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ صَلَّی اللہُ عَلَیْکَ‘‘

جو آپ(ﷺ) نے ارشاد فرمایا ہم نے سُنا اور جو آپ (ﷺ) پر نازل ہوا اس میں یہ آیتِ مبارکہ بھی ہے:

’’وَ لَوْ اَنَّہُمْ اِذْ ظَّلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ جَآءُوْکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا ‘‘[11]

’’اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب (ﷺ)! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ تعالیٰ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں‘‘-

تو میں نے اپنے آپ پر ظلم کیا ہے اور اب میں آپ (ﷺ) کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں تاکہ آپ (ﷺ) مجھے رب تعالیٰ سے بخشوائیں - قبرِ اقدس کے اندر سے ندا آئی:اے شخص! تجھے بخش دیا گیا‘‘-[12]

4: خِدْمَتَهٗ بِمَدِيْحٍ أَسْتَقِيْلُ بِهٖ
ذُنُوْبَ عُمْرٍ مَضٰى فِي الشِّعْرِ وَ الْخِدَمِ

’’میں نے رسول اللہ (ﷺ) کی شان ِاقدس میں یہ نعت بشکل قصیدہ لکھی ہے اس کے طفیل میں اپنے عمر بھی کے گناہوں کا کفارہ چاہتاہوں جو(میری ) عمر فضول قسم کی شعر وشاعری اور (امراء کی) خدمت میں گزری‘‘-

حضور نبی کریم (ﷺ) کی ذاتِ اقدس کو وسیلہ بناکر اللہ تعالیٰ کے کرم کی بھیک مانگنا اور اپنے گناہوں کی مغفرت چاہنا اولیاءکرام اور صلحاءعظام کا طریق رہا ہے- حضرت انس بن مالک(رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ:

’’جب لوگوں پہ قحط پڑا تو حضرت عمربن خطاب (رضی اللہ عنہ) نے حضرت عباس بن عبدالمطلب (رضی اللہ عنہ) کے وسیلے سے بارش طلب فرمائی اور آپ نے عرض کی: اے اللہ بے شک ہم تیر ی بارگاہ اقدس میں اپنے نبی مکرم (ﷺ) کا وسیلہ پیش کرتے تھے پس تُو ہم پر بارش نازل فرماتا تھا اور اب ہم تیری طرف اپنے نبی پاک (ﷺ) کے چچا کا وسیلہ پیش کرتے ہیں سو تو ہم پر بارش نازل فرما، راوی فرماتے پھران پر بارش نازل ہوتی ‘‘- [13]

حضرت حسان بن ثابت (رضی اللہ عنہ)نے جو بارگاہِ رسالت مآب (ﷺ) کے منظورِ نظر شاعر تھے ،اس واقعہ کا ذکر اپنے اشعار میں یوں فرماتے ہیں:

سُئِلَ الْإِمَامُ وَقَدْ تَتَابَعَ جُدُبُنَا
فَسَقَى الْغَمَامُ بِغُرَّةِ الْعَبَّاسِ
أَحْيَا الْإِلَهٗ بِهِ الْبِلَادَ فَأَصْبَحَتْ
مُخْضَرَّةَ الْأَجْنَابِ بَعْدَ الْيَأْسِ[14]

’’امیر المؤمنین نے اس حالت میں دعا مانگی کہ لگاتار کئی سال سے قحط پڑا ہوا تھا تو بادل نے حضرت عباس (رضی اللہ عنہ) کی روشن پیشانی کے طفیل میں سب کو سیراب کر دیا- معبود برحق نے اس بارش سے تمام شہروں کو زندگی عطا فرمائی اور نا امیدی کے بعد تمام شہروں کے اطراف ہرے بھرے ہو گئے‘‘-

5:وَ كُلُّهُمْ مِنْ رَسُوْلِ اللهِ مُلْتَمِسٌ
غَرْفًا مِّنَ الْبَحْرِ أَوْ رَشْفًا مِّنَ الدِّيَمِ

’’اور وہ تمام رسول اللہ (ﷺ) سے التماس گزار ہیں سمندر میں سے ایک گھونٹ کے یا موسلادھار بارش سے ایک قطرہ کے‘‘-

امام بوصیری فرماتے ہیں کہ تمام انبیاء کرام رسول اللہ (ﷺ) کے بحرِ سخاوت سے ایک گھونٹ کے یا آپ (ﷺ) کے کرم کی موسلادھار بارش سے ایک قطرہ کے التماس کرنے والے ہیں-

مزید ایک مقام لکھتے ہیں:

وَ كُلُّ آيٍ أَتَى الرُّسُلُ الْكِرَامُ بِهَا
فَإِنَّمَا اتَّصَلَتْ مِنْ نُورِهِ بِهِمُ

’’جتنے بھی معجزات انبیاء کرام(علیھم السلام) کو ملے، وہ سب حضور نبی رحمت( ﷺ) کے نور سے وابستہ ہیں‘‘-

مزید ایک اور مقام پہ لکھتے ہیں :

وَ وَاقِفُوْنَ لَدَيْهِ عِنْدَ حَدِّهِمِ
مِنْ نُّقْطَةِ الْعِلْمِ أَوْ مِنْ شَكْلَةِ الْحِكَمِ

’’اور وہ کھڑے ہیں حضور نبی رحمت (ﷺ) کے سامنے اپنے اپنے مقام پر علم کے نقطہ یا حِکم کی شکل کی مانند‘‘-

یعنی تمام انبیاء کرام (علیھم السلام)بارگاہِ مصطفے (ﷺ) میں اپنے اپنے مقام و مرتبہ پر فائز ہیں جو آپ(ﷺ) کی کتابِ علم کا ایک نقطہ یا آپ(ﷺ) کی حکمتوں کے دفتر میں ایک اعراب کی مانند ہیں-

اس شعر میں حضرت امام بوصیری فرمانا چاہتے ہیں کہ جملہ انبیاء کرام، اللہ کریم کی بارگاہ سے نوازے ہوئے لوگ ہیں- ان کے سینے علم و عرفان کے بحرِ زخار ہیں- اپنی اپنی حیثیت میں ہر ہستی معرفت کی بلندیوں پر ہے- ان میں سے کسی کی بھی تنقیص یا توہین بالکل روا نہیں ہے- لیکن اس ساری جماعت میں جو مرتبہ اس ہستی کا ہے، جن کو اللہ نے اپنے حریمِ ذات میں سب سے ممتاز رکھ کے شرفِ باریابی بخشا ہے- چہرۂ قدرت سے پردے اٹھا کر جمالِ ذات کا دیدار بخشا ہے- اس سے اپنی شان کے لائق عرشِ نور پر پیار بھری باتیں کی ہیں، اس حبیب مکرم (ﷺ) کی مثل کوئی نہیں ہے-دراصل نقطہ بھی علم کا ایک جز ہوتا ہے اور اعراب بھی کتابِ علم سے باہر نہیں ہوتا- بس فرق یہ ہے کہ باقی انبیاء کرام کے علوم و معارف نقطہ اور اعراب کے درجے میں ہیں جبکہ آپ (ﷺ) کا علم کتاب اور دفتر کے حکم میں ہے-

6: وَ مُنْذُ أَلْزَمْتُ أَفْكَارِيْ مَدَائِحَهٗ

وَ جَدْتُّهٗ لِخَلَاصِي خَيْرَ مُلْتَزِمِ

’’اورجب سے میں نے یا رسول اللہ (ﷺ) کی مدح و نعت خوانی کو اپنی فکر پرلازم کیا ہے تو میں نے اپنی نجات کے لیے آپ (ﷺ) کو بہتر ین معاون پایا ہے ‘‘-

جب بندہ مومن اپنے آقا و مولا سیدی رسول اللہ (ﷺ) کے ذکر فکر کو اپنے اوپر لازم کرلیتا ہے تو یہ چیز اس کے لیے قرب ِ خداوندی اوردونوں جہانوں میں نجات کااکمل ذریعہ ہے- جیساکہ حضرت ابی بن کَعْب (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ :

’’یا رسول اللہ(ﷺ) میں تو آپ (ﷺ) پر بَہُت زیادہ دُرُود شریف پڑھا کرتا ہوں، آپ (ﷺ) بتا دیجئے کہ کتنا حصہ دُرود خوانی کیلیے مقرر کردوں ؟ تو حضور نبی کریم (ﷺ)نے ارشادفرمایا:’’تم جس قدر چاہو مقرر کرلو‘‘ حضرتِ ابی بن کعب(رضی اللہ عنہ) نے عرض کی: میں اپنے اوراد و وظائف کا چوتھائی حصہ دُرود خوانی کے لیے مقرر کر لوں؟ تو سید ی رسول اللہ (ﷺ)نے ارشاد فرمایا: ’’تم جس قدر چاہو مقرر کرلو، اگر تم چوتھائی سے زِیادہ حصہ مقرر کرلو گے تو تمہارے لیے بہتر ہی ہوگا‘‘-حضرت ابی بن کعب (رضی اللہ عنہ)نے عرض کی:میں اپنے اوراد و وظائف کا نِصْف حصہ دُرود خوانی کیلیے مقرر کرلوں؟ آپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: ’’تم جس قدر چاہو مقرر کرلو اور اگر تم اِس سے بھی زِیادہ وَقْت مقرر کرلو گے تو تمہارے لیے بہتر ہی ہوگا‘‘- حضرت ابی بن کعب نے (رضی اللہ عنہ)عرض کی: میں اپنے اوراد و وظائف کا دوتہائی حصہ مقرر کرلوں ؟ حضور نبی رحمت (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:’’تم جتنا چاہو وَقْت مقرر کرلو اور اگر تم اِس سے زِیادہ وَقْت مقرر کرو گے تو تمہارے لیے بہتر ہی ہوگا‘‘- تو حضرت اُبی بن کعب(رضی اللہ عنہ) نے عرض کی: ’’میں اپنے اوراد و وظائف کا کل حصّہ دُرود خوانی ہی میں خرچ کروں گا‘‘- تو آقا کریم(ﷺ) نے اِرشاد فرمایا:

’’إِذًا تُكْفٰى هَمَّكَ، وَيُغْفَرُ لَكَ ذَنْبُكَ ‘‘ [15]

’’(اگر ایسا کرو گے تو) دُرُود شریف تمہارے غموں کو دُور کرنے کیلیے کافی ہوجائے گا اور تمہارے تمام گناہوں کے لیے کفَّارہ ہوجائے گا‘‘-

ہر وقت اپنے آقا کریم (ﷺ)کا تذکرہ کرنا،صرف صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) کا پسندیدہ طریق نہیں رہا بلکہ سلف صالحین کا بھی یہ معمول رہا ہے- بزبانِ علامہ اقبال:

کافر ہندی ہوں میں، دیکھ میرا ذوق و شوق
دل میں صلوٰۃ و درُود، لب میں صلوٰۃ و درُود

خلاصہ کلام:

یہاں جو قصیدہ بردہ شریف سےحضوررسالت مآب (ﷺ) کے اوصاف کو لکھنے کی جسارت کی گئی ہے یہ سمندر سے ایک قطر ے سے بھی کم ہے -

فَهُوَ الَّذِيْ تَمَّ مَعْنَاهُ وَ صُوْرَتُهٗ
ثُمَّ اصْطَفَاهُ حَبِيْبًا بَارِءُ النَّسَمِ

’’پس سیّدی رسول اللہ (ﷺ) کی ذاتِ اقدس جو اپنی ظاہری صورت اور باطنی کمالات میں درجہ کمالات کو پہنچے ہوئے ہیں اور آپ (ﷺ)کو اللہ تعالیٰ نے خلّاق اعظم اپنا حبیب منتخب فرما کر مقامِ محبوبیت سے نوازا ہے‘‘-

٭٭٭


[1])ابو الکاشف القادری، شرح قصیدہ بُردہ شریف(

[2](تحفة الورده شرح قصيدة برده، مکتبہ حمادیہ کراچی)

[3](شرح قصیدہ بردہ، پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی،مکتبہ دانیال لاہور)

[4](الانبیاء:107)

[5]المجالس الوعظية في شرح أحاديث خير البرية (ﷺ) من صحيح الإمام البخاري، شمس الدين محمد بن عمر بن أحمد السفيري الشافعي (المتوفى: 956هـ)

[6](الشفا بتعريف حقوق المصطفٰے(ﷺ)، الباب الثالث، الْفَصْلُ الْأَوَّلُ مَكَانَتُهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وآلہٖ وَسَلَّمَ۔

[7](السيرة الحلبية)

[8](مدارج النبوۃ از حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی )

[9](حاشیه الشھاب علی تفسیر البیضاوی، ج:8، ص: 309، الناشر: دار صادر-بيروت)

[10](تفسیر مظہری،زیرآیت:1-5)

[11](النساء :64)

[12](تفسیرالقر طبی، زیر آیت النساء:64)

[13](صحیح البخاری،کتاب المناقب)

[14](صحیح البخاری  کتاب  فضائل اصحاب النبی (ﷺ)

[15]الترمذی ،محمد بن عيسى، سنن الترمذی ،ایڈیشن دوم،(الناشر: شركۃ مكتبۃ ومطبعۃ مصطفےٰ البابی الحلبی-مصر(1395ھ) رقم الحدیث:2457،ج:4،ص:636

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر