مولانا رومی کا فلسفۂ حیات: انسان، روح اور حقیقت کی جستجو

مولانا رومی کا فلسفۂ حیات: انسان، روح اور حقیقت کی جستجو

مولانا رومی کا فلسفۂ حیات: انسان، روح اور حقیقت کی جستجو

مصنف: صاحبزادہ سلطان احمد علی ستمبر 2026

فلسفہ انسانی سماج کی تشکیل میں اتنا ہی بنیادی اور مؤثر کردار ادا کرتا ہے جتنا سائنس  یا علم کا کوئی دوسرا شعبہ-فلسفیانہ تناظر میں جب مولانا جلال الدین رومی کی شخصیت کا مطالعہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ ان کی فکری و روحانی عظمت کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ اس کے پس منظر میں ایک غیر معمولی علمی، روحانی اور خاندانی روایت کارفرما تھی-

مولانا رومی کے والد، شیخ بہاؤالدین وَلَد، اپنے عہد کے ممتاز عالم، صوفی اور صاحبِ اثر شخصیت تھے- سلطنتِ خوارزم میں انہیں ’’سلطان العلماء‘‘ کے معزز خطاب سے نوازا گیا تھا- یہ لقب محض رسمی اعزاز نہیں تھا بلکہ ان کے غیر معمولی علمی مقام، دینی خدمات اور فکری قیادت کا اعتراف تھا- جس طرح برطانوی روایت میں نمایاں خدمات انجام دینے والی شخصیات کو مختلف اعزازات اور خطابات، جیسے سر (Sir)،آرڈر آف دی باتھ (Order of the Bath)، رائل وکٹورین آرڈر (Royal Victorian Order)، یا برصغیر میں ’’خان بہادر‘‘ اور ’’رائے بہادر‘‘جیسے خطابات دیے جاتے تھے، اسی طرح مسلم سلطنتوں میں بھی اہلِ علم، اہلِ قلم اور صاحبانِ خدمت کو ان کی غیر معمولی خدمات کے اعتراف میں باوقار القابات دیے جاتے تھے- ’’سلطان العلماء‘‘ کا خطاب بھی اسی علمی روایت کا ایک نمایاں مظہر تھا-

شیخ بہاؤالدین وَلَد کسی عام عالم یا صوفی کا نام نہیں تھا- وہ سلطنتِ خوارزم کے علمی اور روحانی افق کا روشن ترین ستارہ تھے اور شاہی دربار میں غیر معمولی احترام و اعتماد کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے- ان کے علم، تقویٰ اور روحانی وجاہت نے انہیں شاہی خاندان کا معتمد اور مقرب بنا دیا تھا-

شیخ بہاؤالدین وَلَد، سلسلۂ کبرویہ کے ممتاز شیخ بھی تھے- یہ صوفی سلسلہ روس میں سوویت یونین کے قیام سے قبل قفقاز اور وسطی ایشیا،جنہیں آج وسطی ایشیائی ریاستوں کے نام سے جانا جاتا ہے،میں غیر معمولی مقبولیت رکھتا تھا- اس خطے کی روحانی، فکری اور سماجی زندگی پر کبرویہ مشائخ کے اثرات گہرے اور دیرپا تھے-

منگول اور تاتاری حملوں کی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ جن فاتح اقوام نے مسلم دنیا پر تباہ کن یلغار کی، وقت گزرنے کے ساتھ وہی اسلام کے دامن میں آگئیں- اس عظیم فکری و روحانی انقلاب میں اگر کسی ایک سلسلے نے فیصلہ کن کردار ادا کیا تو وہ کبرویہ صوفی سلسلہ تھا- اس کے مشائخ نے اپنے اخلاق، کردار، روحانی تربیت اور دعوت کے ذریعے ان فاتح اقوام کے دلوں کو مسخر کیا اور یوں تلوار کے زور سے آنے والے لوگ روحانیت کی طاقت کے سامنے سرِ تسلیم خم کر گئے- شیخ بہاؤالدین وَلَد بھی انہی جلیل القدر مشائخ میں شمار ہوتے تھے جنہوں نے اس روحانی روایت کو استحکام بخشا-

ان کی علمی و روحانی عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ خود سلطان ان کی مجلس میں حاضر ہوتا، ان کے حلقۂ درس میں بیٹھ کر علم حاصل کرتا اور ان کے ساتھ مراقبہ و روحانی ریاضت میں شریک رہتا تھا- یہ تعلق محض ایک حکمران اور عالم کا نہیں بلکہ اقتدار اور روحانیت کے اس باوقار رشتے کی علامت تھا جس میں علم، تقویٰ اور اخلاقی اقدار سیاسی قوت پر بھی اثرانداز ہوتا تھا-

مولانا جلال الدین رومی کی شخصیت کی تشکیل میں جہاں ان کے والد شیخ بہاؤالدین وَلَد کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے، وہیں ان کی والدہ کی علمی و روحانی وراثت بھی کم نہیں تھی- ان کی والدہ کا تعلق نیشاپور (موجودہ ایران) کے ایک ایسے ممتاز خاندان سے تھا جو علم، دین اور روحانیت کے اعتبار سے اپنی الگ شناخت رکھتا تھا- اس اعتبار سے مولانا رومی کو والد اور والدہ، دونوں جانب سے ایسی علمی اور روحانی روایت ورثے میں ملی جس نے ان کی شخصیت کی بنیادیں نہایت مضبوط کر دیں-

مولانا رومی کی ابتدائی زندگی ایک ایسے عہد میں گزری جو سیاسی انتشار، خانہ جنگیوں اور بیرونی یلغاروں سے عبارت تھا- ایک طرف مسلم سلطنتوں میں اقتدار کی کشمکش اور درباری سازشیں جاری تھیں، تو دوسری طرف منگولوں کی برق رفتار فتوحات پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہی تھیں- انہی پُرآشوب حالات نے شیخ بہاؤالدین وَلَد کو اپنے خاندان سمیت بلخ چھوڑنے پر مجبور کیا- یہ سفر محض ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف نقل مکانی نہیں تھا بلکہ علم و روحانیت کی ایک ایسی ہجرت تھی جس نے بعد ازاں اسلامی تاریخ کے ایک عظیم باب کو جنم دیا-

بلخ سے نکل کر یہ قافلہ پہلے نیشاپور پہنچا، جہاں مولانا رومی کی والدہ کے آباؤ اجداد موجود تھے- کچھ عرصہ وہاں قیام کے بعد انہوں نے اناطولیہ کا رخ کیا، جو آج کا ترکی ہے- ابتدا میں وہ لارندہ نامی مقام پر آباد ہوئے، جسے آج کارامان کے نام سے جانا جاتا ہے- یہی وہ مقام تھا جہاں مولانا رومی نے اپنی نوجوانی کے اہم ایام گزارے-

جب رومن سلجوق سلطنت کے مقتدر فرمانروا سلطان علاء الدین کیقباد کو معلوم ہوا کہ شیخ بہاؤ الدین وَلَد دار الحکومت سے کچھ فاصلے پر کارامان میں مقیم ہیں تو انہوں نے نہایت احترام کے ساتھ انہیں دارالحکومت قونیہ منتقل ہونے کی دعوت دی- یہ دعوت محض ایک رسمی شاہی فرمان نہ تھی بلکہ ایک ایسے عالم اور روحانی پیشوا کے مقام کا اعتراف تھی جس کی شہرت دور دور تک پہنچ چکی تھی-

مؤرخین بیان کرتے ہیں کہ جب شیخ بہاؤالدین وَلَد اپنے خاندان کے ہمراہ قونیہ کی جانب روانہ ہوئے تو سلطان علاء الدین کیقباد خود دارالحکومت سے کئی میل باہر اپنے امراء، لشکر اور درباری شخصیات کے ساتھ ان کے استقبال کے لیے آئے- انہوں نے نہایت عزت و تکریم کے ساتھ اس علمی و روحانی قافلے کو اپنے ہمراہ شہر میں داخل کیا- اس واقعہ سے اس دور میں اہلِ علم اور اہلِ روحانیت کی قدر اور مقام و مرتبے کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے- اسی استقبال کے بعد مولانا رومی اور ان کا خاندان ہمیشہ کے لیے قونیہ میں آباد ہو گیا، جو اس زمانے میں رومن سلجوق سلطنت کا سیاسی، علمی اور تہذیبی مرکز تھا-

مولانا رومی کا زمانہ اسلامی دنیا کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے- بظاہر مسلم سلطنتیں وسیع تھیں، مگر اندرونی طور پر وہ مختلف سیاسی اکائیوں میں تقسیم ہو چکی تھیں- بغداد میں عباسی خلافت موجود تھی، مصر اور شام کے وسیع علاقوں پر ایوبیوں کی حکومت قائم تھی، مشرق میں خوارزم شاہی سلطنت اپنی طاقت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی تھی، جبکہ برصغیر میں شہاب الدین غوری کے بعد قطب الدین ایبک دہلی سلطنت کی بنیاد رکھ چکے تھے- اندلس میں بھی مسلمانوں کی حکومت قائم تھی اور مصر میں بعد ازاں مملوک اقتدار ابھر رہا تھا- اس وسیع جغرافیے کے باوجود مسلم دنیا ایک مضبوط سیاسی وحدت سے محروم ہو چکی تھی اور باہمی اختلافات نے اسے بیرونی خطرات کے مقابلے میں کمزور بنا دیا تھا-

اسی داخلی انتشار کے دوران منگولوں کے حملے شدت اختیار کرتے گئے- ایک ایک کر کے مسلم ریاستیں اس سیلاب کی زد میں آتی چلی گئیں، سیاسی استحکام ٹوٹنے لگا اور بالآخر عباسی خلافت بھی تاریخ کے سب سے المناک سانحات میں سے ایک کا شکار ہوئی- مولانا رومی نے اپنی زندگی میں مسلم تہذیب کے عروج کی آخری جھلک بھی دیکھی اور اس کے بعد سیاسی زوال، بے یقینی اور تباہی کے وہ مناظر بھی دیکھے جنہوں نے پورے عالمِ اسلام کو ہلا کر رکھ دیا- چنانچہ رومی کی فکر صرف تصوف یا روحانیت کا اظہار نہیں، بلکہ ایک ایسے عہد کی گہری داخلی کیفیت کا آئینہ بھی ہے جس میں انسان کو سیاسی انتشار، تہذیبی بحران اور روحانی اضطراب کے درمیان اپنے وجود کا سہارا تلاش کرنا پڑ رہا تھا-

مولانا جلال الدین رومی کی شخصیت کو محض ایک صوفی، شاعر یا فلسفی کے طور پر دیکھنا ان کے فکری مقام کا مکمل تعارف نہیں- ان کی شخصیت ایک ایسی علمی اور روحانی روایت کا تسلسل تھی جس کی جڑیں مختلف خطوں، مختلف مکاتبِ فکر اور متعدد عظیم شخصیات تک پھیلی ہوئی تھیں- ان کے والدین نے ان کی ابتدائی تربیت کی بنیاد رکھی، مگر ان کی فکری تشکیل صرف خاندانی وراثت تک محدود نہ رہی- وہ ایک ایسے عہد کے وارث تھے جس میں بلخ، نیشاپور، بغداد، دمشق، قونیہ، قاہرہ، ملتان اور اندلس جیسے شہر علم، فلسفے اور تصوف کے ایک ہی وسیع سلسلے میں پروئے ہوئے تھے- اس دور کے اہلِ علم مسلسل سفر کرتے، ایک دوسرے سے اکتسابِ فیض کرتے، مختلف علمی مراکز میں قیام کرتے اور یوں ایک ایسی مشترکہ فکری روایت تشکیل دیتے جس نے اسلامی تہذیب کو غیر معمولی وسعت عطا کی- مولانا رومی کی فکر کو سمجھنے کے لیے اسی وسیع علمی منظرنامے کو پیشِ نظر رکھنا ضروری ہے-

اس علمی افق کو سمجھنے میں تین شخصیات خصوصی اہمیت رکھتی ہیں: شیخ محی الدین ابن عربیؒ، مولانا جلال الدین رومیؒ اور فخر الدین عراقیؒ- اگرچہ ان تینوں کے زمانے، اسفار اور علمی اختصاصات میں فرق تھا، لیکن انہیں ایک ہی فکری اور روحانی زنجیر کی کڑیاں کہا جا سکتا ہے- ان کی زندگیاں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ اس دور میں مسلم دنیا جغرافیائی اعتبار سے چاہے مختلف سلطنتوں میں تقسیم تھی، مگر علمی اور روحانی اعتبار سے ایک دوسرے سے وابستہ تھی-

اس روایت کا پہلا بڑا ستون شیخ محی الدین ابنِ عربی ہیں- ان کی ولادت اندلس کے شہر مرسیّہ میں ہوئی، جو اس زمانے میں اسلامی اسپین کا ایک ممتاز علمی مرکز تھا- ابتدائی عمر اندلس میں گزاری، پھر مراکش، تیونس، مصر اور حجاز کا سفر کیا- مکہ مکرمہ میں قیام کے دوران انہوں نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف’’الفتوحات المکیہ‘‘ کا آغاز کیا، جو اسلامی تصوف اور فلسفے کی اہم ترین کتابوں میں شمار ہوتی ہے بلکہ  تصوف و روحانیت میں ایک آئین کا درجہ رکھتی ہے- بعد ازاں وہ بغداد، بیت المقدس، حلب اور دمشق جیسے علمی مراکز میں مقیم رہے اور کچھ عرصہ رومن سلجوق سلطنت کے دارالحکومت قونیہ میں بھی قیام کیا- آخرکار دمشق ہی ان کی مستقل قیام گاہ اور آخری آرام گاہ بنا- ابنِ عربی کے یہ مسلسل اسفار اس بات کی علامت ہیں کہ اس دور میں علم کسی ایک شہر یا سلطنت کی میراث نہیں تھا بلکہ پورے عالمِ اسلام کی مشترکہ دولت تھا-

مولانا رومی کی زندگی بھی اسی علمی روایت کا حصہ تھی- ان کی ولادت بلخ میں ہوئی، لیکن منگول حملوں اور سیاسی انتشار نے ان کے خاندان کو ہجرت پر مجبور کر دیا- بلخ سے نیشاپور، پھر ایران کے مختلف شہروں سے گزرتے ہوئے وہ اناطولیہ پہنچے اور آخرکار قونیہ میں سکونت اختیار کی- تاہم ان کی علمی جستجو یہیں ختم نہ ہوئی- مزید تحصیلِ علم کے لیے وہ حلب اور دمشق گئے، جہاں اس زمانے کے ممتاز علماء سے استفادہ کیا اور پھر واپس قونیہ لوٹ آئے- یہی شہر ان کی علمی، روحانی اور ادبی سرگرمیوں کا مرکز بنا اور یہیں سے ان کی تعلیمات نے عالمِ اسلام اور بعد ازاں پوری دنیا کو متاثر کیا-

اسی علمی سلسلے کی ایک اور اہم کڑی فخر الدین عراقی ہیں- ان کی ولادت ہمدان میں ہوئی- بعد ازاں نوجوانی ہی میں وہ قلندروں کے ایک قافلے کے ساتھ برصغیر پہنچے- اس زمانے میں ملتان پورے عالمِ اسلام میں تصوف کا ایک عظیم مرکز تھا، جہاں حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانی، بابا فرید الدین گنجِ شکر، حضرت لال شہباز قلندر اور دیگر اکابر صوفیاء کی خانقاہیں طالبانِ حق کیلئے چشمۂ فیض بنی ہوئی تھیں- فخرالدین عراقی نے ملتان میں تقریباً 20برس گزارے اور اسی ماحول میں روحانی تربیت حاصل کی-

اسی زمانے میں ابنِ عربی کے افکار پورے عالمِ اسلام میں غیر معمولی مقبولیت حاصل کر چکے تھے- ان کی تعلیمات کو سمجھنے اور ان کی تشریح سے آگاہ ہونے کے لیے اہلِ علم دور دراز علاقوں سے سفر کرتے تھے- ابنِ عربی کے بعد ان کے مکتبِ فکر کی سب سے مستند تشریح صدر الدین قونوی نے کی- وہ نہ صرف ابنِ عربی کے ممتاز شاگرد اور داماد تھے بلکہ ان کی وفات کے بعد ان کی علمی میراث کے سب سے بڑے امین بھی ثابت ہوئے- ان کی نگرانی میں ابنِ عربی کی تصانیف کی تدوین، اشاعت اور فکری روایت کو منظم صورت ملی-

فخر الدین عراقی بھی اسی علمی تشنگی کے باعث ملتان سے قونیہ پہنچے تاکہ صدر الدین قونوی سے براہِ راست ابنِ عربی کے افکار سے استفادہ کر سکیں- انہوں نے طویل عرصہ ان کی صحبت میں گزارا اور اسی دوران مولانا جلال الدین رومی سے بھی ان کا تعلق قائم ہوا- صدر الدین قونوی اور مولانارومی ایک ہی عہد کی دو عظیم شخصیات تھے اور قونیہ اس زمانے میں اسلامی دنیا کے اہم ترین علمی اور روحانی مراکز میں شمار ہوتا تھا، جہاں تصوف، فلسفہ اور دینی علوم ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہو کر پروان چڑھ رہے تھے-

روایات کے مطابق جب مولانا رومی کا وصال ہوا تو صدر الدین قونوی ان کی نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے آگے بڑھے، لیکن اپنے دیرینہ رفیق کے فراق کے صدمے سے اس قدر مغلوب ہوئے کہ امامت نہ کرا سکے- چنانچہ نمازِ جنازہ سلجوقی سلطان نے پڑھائی- یہ واقعہ دونوں شخصیات کے گہرے تعلق اور اس دور میں اہلِ علم و اہلِ عرفان کے باہمی احترام کی ایک مؤثر علامت ہے-

صدر الدین قونوی کے انتقال کے بعد فخر الدین عراقی قاہرہ چلے گئے اور بعدازاں دمشق میں سکونت اختیار کی، جہاں ان کا وصال ہوا- اس طرح ابنِ عربی، فخر الدین عراقی اور متعدد دیگر اہلِ عرفان کی طرح دمشق بھی اسلامی فکر اور تصوف کی تاریخ کا ایک نمایاں مرکز بن گیا-

مولانا رومی کے عہد کے اس علمی منظرنامے پر نظر ڈالنے سے ایک حقیقت پوری وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ اس زمانے میں مسلم دنیا کی علمی وحدت محض ایک تصور نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت تھی- اندلس سے لے کر ملتان تک اگر کوئی طالبِ علم، صوفی، فلسفی یا عالم اعلیٰ درجے کی علمی و فکری تربیت حاصل کرنا چاہتا تو اس کا رخ چند مخصوص مراکز کی طرف ہوتا تھا- حلب، دمشق، بغداد اور قونیہ اس دور کے ایسے علمی مراکز تھے جہاں مختلف خطوں سے آنے والے اہلِ علم جمع ہوتے، ایک دوسرے سے استفادہ کرتے اور نئے افکار کو جنم دیتے تھے- ان شہروں کی حیثیت آج کی ممتاز جامعات اور تحقیقی اداروں جیسی تھی، جہاں مختلف تہذیبوں اور فکری روایتوں کا سنگم دکھائی دیتا تھا-

تاریخِ فلسفہ میں اس نوع کی مثالیں کم نہیں ملتیں- انگریز فلسفی جان اسٹورٹ مل کی زندگی اس کی ایک معروف مثال ہے- ان کے والد جیمز مل خود فلسفی تھے اور انہوں نے اپنے بیٹے کی تربیت نہایت منظم انداز میں کی- کہا جاتا ہے کہ جان اسٹورٹ مل پانچ برس کی عمر میں یونانی زبان پڑھنے لگے تھے اور چند ہی برس بعد افلاطون کے مکالموں اور ارسطو کی تحریروں سے واقف ہو چکے تھے- اسی طرح یورپ کے بعض دوسرے مفکرین کی غیر معمولی علمی استعداد کے پس منظر میں بھی ان کے ابتدائی علمی ماحول کا بنیادی کردار تھا- مولانا رومی کی ابتدائی تربیت بھی اسی نوعیت کی تھی، جہاں ان کے والد نے ان کے غیر معمولی ذہن کی آبیاری کی-

مولانا رومی کی شخصیت کی تعمیر میں ایک دوسری اہم شخصیت برہان الدین محقق ترمذی تھے- وہ شیخ بہاؤالدین وَلَد کے ممتاز شاگرد اور روحانی جانشین تھے- اگرچہ اس دور میں وہ شاہی خاندانوں کے شہزادوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بھی معروف تھے، لیکن اپنے استاد سے خصوصی تعلق کی بنا پر انہوں نے مولانا رومی کی تربیت کی ذمہ داری بھی سنبھالی- ان کی صحبت نے رومی کی فکری اور روحانی شخصیت کو مزید گہرائی عطا کی اور ان میں علم و عرفان کے ساتھ عملی زندگی کی مختلف جہتوں کو بھی پروان چڑھایا-

اسی جامع تربیت کا نتیجہ تھا کہ رومی کی شخصیت صرف ایک مدرس، فقیہ یا صوفی تک محدود نہ رہی-بلکہ ان میں ادب، فلسفہ، موسیقی، جمالیات، جسمانی مہارت اور عملی زندگی کے مختلف پہلو یکجا ہو گئے- ان کی تحریروں میں موسیقی کا ذوق، رقص کی معنویت، گھڑسواری اور میدانِ جنگ کی باریک جزئیات اور انسانی نفسیات کی حیرت انگیز گہرائی بھی جھلکتی ہے- خصوصاً مثنوی میں جنگی مناظر، عسکری حکمتِ عملی اور گھڑسواری سے متعلق جو دقیق اشارات ملتے ہیں، وہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ رومی ان امور سے محض نظری طور پر نہیں بلکہ عملی سطح پر بھی واقف تھے- یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں زندگی کی وسعت اپنے پورے تنوع کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے-

ابتدائی تعلیم کے بعد رومی نے حلب میں قیام کیا، جہاں وہ ایک علمی ادارے میں زیرِ تعلیم رہے- اس کے بعد دمشق کا سفر کیا، جو اس زمانے میں فلسفے، طب، ریاضی اور دیگر عقلی علوم کا ایک عظیم مرکز تھا- ان شہروں میں انہوں نے صرف دینی علوم ہی نہیں بلکہ اپنے عہد کے عصری علوم سے بھی گہرا شغف پیدا کیا- یہی وسیع علمی پس منظر آگے چل کر ان کی فکر میں اس توازن، گہرائی اور وسعت کا سبب بنا جس کی مثال اسلامی تاریخ میں کم ملتی ہے-

اسی متنوع تعلیم و تربیت نے مولانا رومی کو محض اپنے زمانے کا ایک ممتاز عالم نہیں بنایا بلکہ انہیں ایک ایسی ہمہ گیر شخصیت میں ڈھال دیا جس کے اثرات آنے والی صدیوں تک محسوس کیے گئے- انہوں نے اسلامی فلسفے کے فکری دھاروں کو نئی جہت دی، تصوف کی زبان اور اسلوب کو نئی وسعت عطا کی، فارسی شاعری کو نئے استعارے، نئی معنویت اور نئی جمالیات بخشیں اور بعد کے تقریباً تمام بڑے صوفی سلاسل پر گہرے اثرات مرتب کیے- ان کی تعلیمات نے روحانی تربیت کے ساتھ ساتھ جمالیاتی شعور کو بھی نئی تعبیر دی، یہاں تک کہ سماع اور رقص کی روایت کو ایک منظم فکری اور روحانی قالب عطا کیا جو بعد میں مولویہ سلسلے کی شناخت بن گئی-

رومی کا اثر صرف ادب اور تصوف تک محدود نہیں رہا- موسیقی کی دنیا میں بھی ان کی فکر نے ایک مستقل روایت قائم کی- ترک تہذیب میں ’’نَے‘‘(بانسری) کو جو مرکزی حیثیت حاصل ہے، وہ محض ایک موسیقی کا ساز نہیں بلکہ رومی کی روحانی فکر کی علامت بن چکی ہے- ان کی مثنوی کا آغاز بھی اسی بانسری کی فریاد سے ہوتا ہے اور بعد کی صدیوں میں ترک موسیقی، سماع اور مولوی درویشوں کی روایت نے اسی علامت کو اپنی شناخت کا حصہ بنا لیا- آج بھی ترک موسیقی اور ثقافت میں ’’نَے‘‘ کی جو اہمیت دکھائی دیتی ہے، اس کے پس منظر میں رومی کی وہی روحانی اور جمالیاتی روایت کارفرما ہے-

یہ تمام حقائق اس نتیجے تک پہنچاتے ہیں کہ مولانا رومی کی غیر معمولی فکری وسعت کسی ایک استاد، ایک شہر یا ایک علمی روایت کا حاصل نہیں تھی- وہ ایک ایسے ہمہ جہت علمی ماحول کی پیداوار تھے جس میں خراسان کی فکری روایت، شام کے علمی مراکز، اناطولیہ کی روحانی فضا، ابنِ عربی کے فلسفیانہ افکار، برہان الدین محقق کی تربیت اور مختلف علوم و فنون کا گہرا امتزاج شامل تھا- یہی تنوع ان کی شخصیت کی اصل قوت بنااور اسی نے انہیں ایسا مفکر، شاعر اور صوفی بنایا جس کی آواز آٹھ صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی دنیا کے مختلف معاشروں، تہذیبوں اور فکری روایتوں میں یکساں طور پر سنائی دیتی ہے-

مولانا رومی کی ادبی اور فکری شخصیت پر جن اہلِ علم کے اثرات سب سے نمایاں ہیں، ان میں شیخ فرید الدین عطار کا نام اولین حیثیت رکھتا ہے- فارسی تصوف اور تمثیلی شاعری کی روایت میں ’’منطق الطیر‘‘ کو جو مقام حاصل ہے، وہ غیر معمولی ہے- یہ محض ایک شعری تصنیف نہیں بلکہ انسانی روح کے سفر، معرفت کی جستجو اور حقیقتِ مطلقہ کی تلاش کا ایک گہرا فلسفیانہ بیان ہے- اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جو شخص ’’منطق الطیر‘‘ سے واقف نہیں، وہ فارسی صوفیانہ شاعری اور اس کے فکری پس منظر کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتا-

مولانا رومی نے خود بھی اس روایت کو آگے بڑھایا- ان کی ’’مثنوی معنوی‘‘کا شعری آہنگ اور اسلوبِ بیان بڑی حد تک اسی روایت سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں جسے فرید الدین عطار نے اپنی شاعری میں کمال تک پہنچایا تھا- روایت ہے کہ جب رومی کے مخلص شاگرد حسام الدین چلپی نے ان سے ایک ایسی کتاب تصنیف کرنے کی درخواست کی جو عام لوگوں کے لیے روحانی رہنمائی کا ذریعہ بن سکے، تو انہوں نے خاص طور پر یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ فرید الدین عطار کی ’’منطق الطیر ‘‘کے طرز پر ایک مثنوی تحریر کریں- چنانچہ ’’مثنوی معنوی‘‘صرف ایک نئی تصنیف نہیں بلکہ اس عظیم ادبی روایت کا ارتقا بھی ہے، جس کی بنیاد عطار نے رکھی تھی اور جسے رومی نے نئی فکری وسعت عطا کی-

مولانا رومی کی فکری اور ادبی دنیا پر دوسرا گہرا اثر حکیم سنائی غزنوی کا تھا- اگرچہ جدید علمی حلقوں میں حکیم سنائی کے مقام پر نسبتاً کم گفتگو ہوتی ہے، لیکن خود مولانا رومی نے اپنی مثنوی میں متعدد مقامات پر حکیم سنائی کا نہایت احترام سے ذکر کیا ہے- چھے دفاتر پر مشتمل مثنوی کا مطالعہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ حکیم سنائی کے اشعار، اقوال اور افکار جگہ جگہ مولانا رومی کے استدلال اور تمثیلات کا حصہ بنتے ہیں- حکیم سنائی نے فارسی صوفیانہ شاعری کو جس فکری گہرائی اور اخلاقی معنویت سے آشنا کیا، رومی نے اسی روایت کو مزید وسعت دے کر اسے انسانی تجربے کی ہمہ گیر تعبیر میں تبدیل کر دیا-

تاہم رومی کی فکری دنیا کو سمجھنے میں سب سے اہم نام شیخ محی الدین ابن عربی کا ہے-ابن عربیؒ کے دقیق، پیچیدہ اور فلسفیانہ مباحث عام قاری کیلئے آسان نہیں تھے، لیکن مولانارومی کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے انہی بلند فلسفیانہ تصورات کو نہایت سادہ، دل نشیں اور تمثیلی زبان میں بیان کر دیا- یوں کہا جا سکتا ہے کہ جہاں ابنِ عربی نے اپنے افکار کو عربی کی علمی نثر میں پیش کیا، وہاں رومی نے انہی افکار کو فارسی شاعری کی زبان عطا کی-

مولانا رومی نے ابنِ عربی کی فکر یعنی انسان، کائنات اور خدا کے باہمی تعلق کی ایسی شاعرانہ تعبیر دی جو فلاسفہ کے حلقوں سے نکل کر عام انسان کے دل تک جا پہنچی- یہی وجہ ہے کہ ابنِ عربی کے افکار جہاں علمی حلقوں میں زیرِ بحث رہے، وہیں رومی کی مثنوی نے انہی تصورات کو عوامی اور تہذیبی شعور کا حصہ بنا دیا-

اسی ذریعے سے مولانا رومی کی فکر فارسی، ترکی، اردو، پنجابی، سندھی اور پشتو ادب تک پہنچی- برصغیر کی صوفیانہ روایت میں وحدت الوجود کے تصور کی مقبولیت کا بڑا ذریعہ بھی یہی مثنوی بنی- یہاں یہ نظریہ براہِ راست ’’فصوص الحکم‘‘ یا ابنِ عربی کی دیگر عربی تصانیف کے ذریعے نہیں، بلکہ مولانا رومی کی شاعری اور ان کے روحانی بیانیے کے ذریعے عام ہوا- یہی سبب ہے کہ برصغیر کے صوفی شعراءخواہ وہ پنجابی، اردو، سندھی یا پشتو روایت کے نمائندے ہوں، سب کسی نہ کسی درجے میں مولانا رومی کی فکری روایت سے متاثر نظر آتے ہیں- شاہ عبداللطیف بھٹائی، رحمان بابا اور بعد کے متعدد صوفی شعراء کے ہاں اس اثر کی واضح جھلک دیکھی جا سکتی ہے-

یہ تمام علمی، ادبی اور روحانی اثرات مل کر رومی کو ان کے عہد کا ایک بے مثال مفکر بنا چکے تھے- وہ فقہ، تفسیر، حدیث، فلسفہ، ادب اور تصوف میں غیر معمولی مقام حاصل کر چکے تھے، ان کی شہرت دور دور تک پھیل چکی تھی اور وہ اپنے زمانے کے ممتاز ترین علماء میں شمار ہوتے تھے- لیکن اس تمام علمی عظمت کے باوجود ان کے باطن میں ایک ایسی تشنگی باقی تھی جو صرف کتابوں سے دور نہیں ہو سکتی تھی- انہیں محسوس ہوتا تھا کہ علم کی منزل ابھی مکمل نہیں ہوئی اور حقیقت کی جستجو ابھی اپنے آخری مرحلے تک نہیں پہنچی-

یہی وہ مقام ہے جہاں مولانا رومی کی زندگی ایک نئے موڑ میں داخل ہوتی ہے- ان کے علمی سفر کو اب ایک ایسے روحانی تجربے سے گزرنا تھا جو ان کی پوری شخصیت، ان کی فکر، ان کی شاعری اور ان کے اندازِ حیات کو ہمیشہ کے لیے بدل دینے والا تھا- اس تبدیلی کا نقطۂ آغاز شمسِ تبریز سے ان کی وہ تاریخی ملاقات تھی جس نے ایک جلیل القدر عالم کو عشق و معرفت کے ایسے مسافر میں تبدیل کر دیا جس کی بازگشت آٹھ صدیوں بعد بھی پوری دنیا میں سنائی دیتی ہے-

تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا رومی اور شمس تبریز کی پہلی ملاقات کسی خوشگوار تعارف سے عبارت نہیں تھی- دونوں کی شخصیت، مزاج اور ظاہری حالت میں زمین آسمان کا فرق تھا- مولانا رومی اپنے عہد کے نامور مدرس، مفتی اور صاحبِ وقار عالم تھے، جبکہ شمس تبریز دنیاوی رسوم و ظواہر سے بے نیاز ایک آوارۂ حق، قلندر منش درویش تھے- بظاہر ان دونوں کے درمیان کوئی مناسبت دکھائی نہیں دیتی تھی، لیکن تاریخ کی بڑی تبدیلیاں اکثر دو متضاد روایتوں کے امتزاج سے جنم لیتی ہیں-

مولانا رومی نے اپنی پوری زندگی کتابوں، درس گاہوں اور علمی مجالس میں گزاری تھی- وہ فلسفے، الٰہیات اور تصوف کے دقیق ترین مباحث سے پوری طرح واقف تھے، لیکن شمس تبریز نے انہیں اس حقیقت سے روشناس کرایا کہ علم اور تجربۂ علم میں ایک بنیادی فرق ہوتا ہے- نظری علم انسان کو حقیقت کا تصور دیتا ہے، مگر زندہ تجربہ اسے حقیقت کا مشاہدہ عطا کرتا ہے- یہی وہ فرق تھا جسے رومی نے شمس کی صحبت میں محسوس کیا-

اس فرق کو ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا ہے- اگر کوئی شخص برسوں طبیعات کی کتابیں پڑھتا رہے لیکن کبھی تجربہ گاہ میں قدم نہ رکھے، تو اس کا علم اپنی جگہ اہم ضرور ہوگا، مگر وہ عملی تجربے کی گہرائی سے محروم رہے گا- اس کے برعکس اگر وہ چند ماہ کسی ایسے سائنس دان کی رفاقت میں گزارے جس نے اپنی زندگی تجربات میں صرف کی ہو، تو اس مختصر صحبت سے حاصل ہونے والی بصیرت اس کی برسوں کی کتابی معلومات کو ایک نئی معنویت عطا کر سکتی ہے- اسی طرح موسیقی کے اصولوں پر ہزاروں صفحات کا مطالعہ اپنی جگہ، لیکن کسی عظیم موسیقار کی قربت میں گزارا ہوا مختصر وقت اس فن کی روح سے آشنا کر دیتا ہے- مولانا رومی کے لیے شمس تبریز کی صحبت بھی کچھ ایسی ہی تھی- انہوں نے محسوس کیا کہ جن حقائق تک وہ اب تک فلسفے، الٰہیات اور شاعری کے ذریعے پہنچنے کی کوشش کرتے رہے تھے، شمس تبریز انہیں انہی حقائق کا زندہ اور محسوس تجربہ عطا کر رہے ہیں-

شمس تبریز کی رفاقت نے مولانا رومی میں ایسی تبدیلی پیدا کی کہ ان کی ترجیحات یکسر بدل گئیں- وہ ظاہری شہرت، تدریس کی مصروفیات اور معاشرتی مقام سے بے نیاز ہو کر پوری طرح اپنے مرشد کی صحبت میں ڈوب گئے- اس کیفیت کو صوفیانہ روایت میں بارہا مختلف انداز سے بیان کیا گیا ہے- حضرت سلطان باھوؒ اپنے پنجابی ابیات میں اس کیفیت کی یوں ترجمانی کرتے ہیں :

سَے عالم چھوڑ مَسِیتاں نَٹھّے باھوؒ جَد لگے نیں دِل ٹِکانے ھو

اس شعر کا مفہوم یہ نہیں کہ علم یا مسجد کی نفی کی جا رہی ہے، بلکہ یہ ہے کہ جب انسان کو دل کی اصل منزل مل جاتی ہے تو ظاہری مرتبے اس کے لیے ثانوی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں- مولانا رومی کی زندگی میں بھی یہی تبدیلی رونما ہوئی- انہوں نے علم کو ترک نہیں کیا بلکہ علم کے ظاہر سے اس کے باطن کی طرف سفر کیا-

اگر اس روحانی سفر کا تقابل مغربی ادب کی کسی بڑی روایت سے کیا جائے تو ہومر کی ’’odyssey‘‘ایک دلچسپ مثال فراہم کرتی ہے- ہومر کا ہیرو بیرونی دنیا کی جنگوں، مصائب اور آزمائشوں سے گزرتا ہے، جبکہ مولانا رومی کا سفر انسان کے باطن میں برپا ہونے والی کشمکش کا سفر ہے- ایک میں سمندر، میدانِ جنگ اور اجنبی سرزمینیں ہیں، دوسرے میں نفس، عشق، معرفت اور روح کی منازل- دونوں میں سفر مشترک ہے، مگر منزل مختلف ہے-

مولانا رومی کی ’’odyssey‘‘کی انفرادیت یہ ہے کہ اس کا اختتام کسی جغرافیائی منزل پر نہیں بلکہ ایک روحانی انکشاف پر ہوتا ہے- وہ تشنگی جو برسوں کے مطالعے، مناظروں اور علمی مباحث سے پوری نہ ہو سکی تھی، شمس تبریز کی صحبت میں ایک نئے یقین میں ڈھلنے لگی- یہاں مولانا رومی نے اس حقیقت کا تجربہ کیا کہ بعض اوقات استدلال وہاں رک جاتا ہے جہاں مشاہدہ آغاز کرتا ہے-

شمسِ تبریز کی صحبت میں مولانا رومی نے اسی باطنی یقین کا ذائقہ چکھا- یہ یقین اندھی تقلید کا نام نہیں تھا بلکہ ایک ایسے زندہ تجربے کا حاصل تھا جس نے ان کے علم کو نئی روح عطا کر دی- یہی وجہ ہے کہ شمس تبریز صرف ان کے استاد یا مرشد نہ رہے بلکہ ان کی پوری فکری اور شعری کائنات کا محور بن گئے- رومی کی غزلوں، رباعیات اور خصوصاً ’’دیوانِ شمسِ تبریزی‘‘ میں شمس تبریز کا ذکر محض ایک انسان کے طور پر نہیں بلکہ اس نور، عشق اور معرفت کی علامت کے طور پر سامنے آتا ہے جس نے ان کے باطن کو نئی زندگی عطا کی اور ان کے علم کو مشاہدے کی روشنی سے منور کر دیا-

شمس تبریز سے ملاقات کے بعد مولانا رومی کی شخصیت میں جو انقلاب برپا ہوا، وہ محض ایک فکری تبدیلی یا روحانی ارتقا نہیں تھا بلکہ ان کی پوری ہستی کی ازسرِ نو تشکیل تھی- اسی لیے جب آج دنیا مولانا رومی کا نام لیتی ہے تو درحقیقت وہ اس رومی کا ذکر نہیں کرتی جو شمس سے ملاقات سے پہلے ایک جلیل القدر فقیہ، مفسراور فلسفی کی حیثیت سے معروف تھے- دنیا جس مولانا رومی کو یاد کرتی ہے، وہ وہی رومی ہیں جو شمس تبریز کی صحبت میں ایک نئی روحانی ولادت سے گزرے-

تصوف کی زبان میں عشق کا سفر دراصل انسان کی اسی باطنی تبدیلی کا نام ہے- یہ سفر انسان میں موجود خود پسندی، انا اور محدود شناخت کو بتدریج تحلیل کرتا ہے اور اسے ایک وسیع تر حقیقت سے ہم آہنگ کر دیتا ہے- مولانا رومی کے نزدیک محبت محض ایک جذبہ نہیں بلکہ ایک ایسا روحانی عمل ہے جو انسان کی پوری شخصیت کو بدل دیتا ہے- اسی لیے وہ لکھتے ہیں کہ اگر محبت انسان کی خودی اور انانیت کو نہ بدلے، اگر وہ اس کی پرانی شخصیت کو توڑ کر ایک نئی شخصیت کی تعمیر نہ کرے، تو وہ محبت اپنے حقیقی مفہوم میں محبت نہیں ہے- عشق کی پہلی منزل ہی انسان کے نفس کا انہدام ہے، تاکہ اس کی جگہ ایک نئی اور پاکیزہ شخصیت جنم لے سکے-

مولانا رومی نے اس روحانی تجربے کو صرف نظری طور پر بیان نہیں کیا بلکہ شمس تبریز کی صحبت میں خود اس تجربے سے گزرے-یہی وجہ ہے کہ وہ بارہا اپنی غزلوں اور رباعیات میں شمس تبریز سے اپنے والہانہ تعلق کا اظہار کرتے ہیں- ایک مقام پر کہتے ہیں:

شکر ایزد را که دیدم روی تو
یافتم ناگه رهی من سوی تو
چشم گریانم ز گریه کند بود
یافت نور از نرگس جادوی تو
بس بگفتم: ’’کو وصال و کو نجاح؟‘‘
برد این کو کو مرا در کوی تو
خاک را هایی و هویی کی بدی
گر نبودی جذب‌ های و هوی تو؟

’’اللہ کا شکر ہے کہ میں نے تیرا چہرہ دیکھ لیا اور اچانک مجھے تیری طرف جانے کا راستہ مل گیا-میری روتی ہوئی آنکھیں مسلسل رونے سے کمزور ہو چکی تھیں، مگر تیری جادو بھری نرگس جیسی آنکھوں سے انہیں روشنی اور زندگی مل گئی-میں بار بار کہتا تھا:وصال کہاں ہے؟ کامیابی اور نجات کہاں ہے؟مگر اسی سوال کی جستجو مجھے تیرے کوچے تک لے آئی-میں تیری راہوں کی خاک بھی نہ بنتا، اگر تیری کشش اور تیری محبت کا جذبہ مجھے اپنی طرف نہ کھینچتا‘‘-

ایک اور مقام پر شمسِ تبریز کے مقام کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

شمس تبریزی کہ نورِ مطلق است
آفتاب است و ز انوارِ حق است

’’ شمس تبریزی نورِ مطلق ہیں، وہ خود ایک آفتاب ہیں اور اس آفتاب کے انوار اللہ تعالیٰ کے نور سے ہیں‘‘-       

اسی کیفیت کو وہ ایک اور شعر میں نہایت لطیف انداز سے بیان کرتے ہیں:

اے لقائے تو جوابِ هر سوال
مشکل از تو حل شود بے قیل و قال

’’اے میرے محبوب! تیرا دیدار ہی ہر سوال کا جواب ہے اور میری ہر مشکل کی گرہ قیل و قال کے بغیر کھل جاتی ہے‘‘-       

البتہ مولانا رومی کی شخصیت کا ایک اور پہلو بھی اتنا ہی دلکش ہے جس پر نسبتاً کم گفتگو ہوتی ہے، اور وہ ہے ان کا غیر معمولی حسِ مزاح- عام طور پر جب لوگ مثنوی کا نام سنتے ہیں تو ان کے ذہن میں ایک نہایت سنجیدہ، دقیق اور فلسفیانہ کتاب کا تصور آتا ہے، لیکن مثنوی کا مطالعہ کرنے والا جلد محسوس کرتا ہے کہ اس کی فضا حیرت انگیز طور پر زندہ، متحرک اور انسانی ہے- رومی نہایت گہرے روحانی مباحث کے درمیان اچانک ایسا لطیف طنز یا مزاح پیدا کرتے ہیں کہ قاری بے اختیار مسکرا اٹھتا ہے- یہی خصوصیت مثنوی کو  انسانی زندگی کا آئینہ بنا دیتی ہے-

مثلاً ایک حکایت میں وہ ایک تاجر کا ذکر کرتے ہیں جو قیمتی عطروں اور خوشبودار تیلوں کی تجارت کرتا تھا- اس کے پاس ایک طوطا بھی تھا- اتفاق سے طوطے سے ایک نہایت مہنگی شیشی گر کر ٹوٹ گئی- تاجر غصے میں آگیا اور اس نے طوطے کو اس قدر مارا کہ اس کے سر کے پر جھڑ گئے اور وہ گنجا ہو گیا- کچھ عرصے بعد ایک حاجی صاحب، جس نے حج کے بعد سر منڈوایا ہوا تھا، اس دکان پر آیا- طوطے نے اسے دیکھا تو فوراً بول اٹھا:

تو مگر از شیشہ روغن ریختی؟

’’کیا تم سے بھی تیل کی شیشی ٹوٹ گئی تھی؟‘‘      

یہ مختصر سا جملہ انسانی ذہن کی اس فطری عادت پر نہایت لطیف طنز ہے کہ انسان دوسروں کو بھی اکثر اپنے ہی تجربات کی کسوٹی پر پرکھتا ہے-

اسی طرح ایک اور حکایت میں وہ ایک ایسے شخص کا ذکر کرتے ہیں جو شادی کی تیاری میں جلدی جلدی ایک نائی کے پاس پہنچا اور اس سے کہا کہ میری داڑھی کے سفید بال فوراً نکال دو- نائی بار بار کہتا رہا کہ میرے پاس وقت نہیں، مگر وہ شخص بضد رہا- آخرکار نائی نے اس کی پوری داڑھی کے بال کاٹ کر اس کی جھولی میں رکھ کر مسکراتے ہوئے کہا کہ اب فرصت سے بیٹھ کر سفید بال الگ کر لینا-

ایسی حکایات مثنوی میں جگہ جگہ ملتی ہیں- کہیں وہ ہنساتے ہیں، کہیں چونکا دیتے ہیں، کہیں انسان کو اپنے باطن میں جھانکنے پر مجبور کرتے ہیں اور کہیں آنکھیں نم کر دیتے ہیں- یہی وجہ ہے کہ مثنوی کا مطالعہ محض ایک کتاب پڑھنے کا تجربہ نہیں بلکہ ایک مکمل روحانی اور انسانی سفر ہے- اس سفر میں قاری کبھی مسکراتا ہے، کبھی حیران ہوتا ہے، کبھی اپنے نفس سے روبرو ہوتا ہے اور کبھی اپنے رب کی طرف ایک نئے شعور کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے- شاید یہی وہ وصف ہے جس نے’’مثنوی معنوی‘‘ کو صرف فارسی ادب کا شاہکار نہیں بلکہ انسانی تہذیب کی عظیم ترین روحانی کتابوں میں شامل کر دیا ہے-

مولانا رومی کی فکر کا سب سے نمایاں اور اثر انگیز پہلو وحدتِ انسانیت (Unity of Humanity) کا تصور ہے- ان کی تعلیمات میں متعدد ایسے موضوعات موجود ہیں جو انسانی وجود، کائنات اور خدا کے تعلق کو نئے زاویوں سے سمجھنے کی دعوت دیتے ہیں، مگر ان میں وحدتِ انسانیت کا تصور اپنی معنویت اور وسعت کے اعتبار سے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے- مولانا رومی نے اس حقیقت کو محض فلسفیانہ استدلال سے نہیں، بلکہ نہایت دل نشین مثالوں کے ذریعے واضح کیا ہے؛ ایسی مثالیں جو انسان کے ذہن کے ساتھ ساتھ اس کے باطن کو بھی مخاطب کرتی ہیں-

مولانا رومی کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص سمندر کو صرف ساحل سے دیکھے تو اسے اس کی بے شمار لہریں الگ الگ وجود رکھتی ہوئی محسوس ہوں گی- چھوٹی بڑی ہر لہر اپنی جداگانہ شناخت رکھتی دکھائی دے گی، گویا ہر ایک لہر  ایک مستقل ہستی ہے- لیکن جب وہی شخص سمندر کی گہرائی میں اترتا ہے تو اس پر یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ لہریں اپنی ذات میں کوئی الگ وجود نہیں رکھتیں؛ وہ سب ایک ہی سمندر کے مختلف ظہور ہیں- ان کی کثرت محض ظاہری ہے، جبکہ حقیقت میں ان سب کی اصل ایک ہی ہے-

اسی حقیقت کو واضح کرنے کے لیے مولانا رومی ایک اور مثال دیتے ہیں کہ جب سورج کی روشنی مختلف دریچوں یا درخت کے پتوں کے درمیان سے گزرتی ہے تو انسان کو بے شمار الگ الگ شعاعیں دکھائی دیتی ہیں- دیکھنے والا اگر صرف ان شعاعوں تک محدود رہے تو اسے محسوس ہوگا کہ روشنی کے کئی سرچشمے ہیں، مگر جب وہ نگاہ اٹھا کر خود سورج کو دیکھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام شعاعیں ایک ہی آفتاب کی تجلیات ہیں- کثرت صرف زاویۂ نظر کا دھوکا ہے، حقیقت میں منبع ایک ہی ہے-

مولانا رومی کے نزدیک انسانیت کی حقیقت بھی یہی ہے- انسان اپنے محدود زاویۂ نگاہ سے افراد کو ایک دوسرے سے جدا، مختلف اور متنوع دیکھتا ہے، لیکن جب وہ روح کی آنکھ سے دیکھنا سیکھتا ہے تو اس پر آشکار ہوتا ہے کہ تمام انسان ایک ہی اصل سے وابستہ ہیں- قرآنِ مجید اسی حقیقت کو یوں بیان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ’’نفسِ واحدہ‘‘ سے پیدا کیا-

مولانا رومی اس قرآنی تصور کو نہایت لطیف معنویت عطا کرتے ہیں- ان کے نزدیک ’’نفس‘‘محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر علامت ہے- عربی زبان میں نفس کا تعلق سانس سے بھی ہے، روح سے بھی اور اس اولین انسانی وجود سے بھی جس سے پوری نسلِ انسانی نے جنم لیا- اس اعتبار سے ’’نفسِ واحدہ ‘‘ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ تمام انسان ایک ہی روحانی سانس، ایک ہی روحانی سرچشمے اور ایک ہی روحانی اصل سے وابستہ ہیں-

یہی وجہ ہے کہ مولانا رومی انسانوں کے درمیان رنگ، نسل، زبان، قوم یا سماجی مرتبے کی بنیاد پر قائم تمام امتیازات کو ظاہری قرار دیتے ہیں- ان کے نزدیک یہ اختلافات صرف لہروں اور شعاعوں کی مانند ہیں، اصل حقیقت ان کی وحدت ہے- جب انسان روح کے زاویۂ نظر سے اپنے وجود کو دیکھتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ پوری انسانیت ایک دوسرے سے گہرے رشتے میں بندھی ہوئی ہے- کوئی انسان دوسرے سے کمتر یا برتر نہیں، بلکہ سب ایک ہی حقیقت کے مختلف مظاہر ہیں-

مولانا رومی کے اس تصور کو بعد کے صوفیانہ افکار میں مزید وسعت اور گہرائی ملی- وحدتِ وجود اور وحدتِ انسانیت کا یہی فلسفہ بعد کی صدیوں میں متعدد اہلِ فکر کے لیے باعثِ کشش بنا اور اس نے دنیا کے بہت سے بڑے اذہان کو متاثر کیا- اس نے انسان کو مذہبی، نسلی اور تہذیبی تقسیموں سے بلند ہو کر اپنے مشترک روحانی رشتے کو پہچاننے کی دعوت دی-

مولانا رومی کی فکر کا ایک اور قابلِ توجہ پہلو ارتقا (Evolution) کے تصور سے متعلق ہے- اگرچہ اس موضوع پر گفتگو جدید سائنس کے دائرۂ کار سے تعلق رکھتی ہے، تاہم حیرت انگیز طور پر ارتقا سے ملتے جلتے خیالات مولانا رومی اور ان سے پہلے متعدد مسلم مفکرین کی تحریروں میں بھی ملتے ہیں- جدید دنیا اپنے زعم میں اس نظریے کو عموماً چارلس ڈارون کے نام سے منسوب کرتی ہے ، جس نے اسے سائنسی دلائل، مشاہدات اور تجرباتی شواہد کی بنیاد پر ایک منظم نظریے کی صورت میں پیش کیا-

تاہم بعض اہلِ علم اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ارتقا کے بنیادی تصورات مسلم علمی روایت میں ڈارون سے بہت پہلے موجود تھے- ابو عثمان عمرو بن بحر الجاحظ اور ابنِ مسکویہ جیسے مفکرین نے حیات کے تدریجی ارتقا کے حوالے سے ایسے خیالات پیش کیے جنہیں بعد کے ادوار میں خصوصی توجہ حاصل ہوئی- علامہ محمد اقبال نے بھی اپنی کتاب ’’The Reconstruction of Religious Thought in Islam‘‘ میں ابنِ مسکویہ کے افکار کا ذکر کرتے ہوئے اس علمی روایت کی طرف اشارہ کیا ہے- رومی کی بعض تعبیرات بھی اسی فکری سلسلے سے ہم آہنگ دکھائی دیتی ہیں-

اس کے باوجود جدید دنیا کی نظر میں ڈارون کی انفرادیت اپنی جگہ مسلم ہے- کیونکہ  اس  نے ارتقا کے تصور کو فلسفیانہ یا ادبی سطح پر بیان کرنے کی بجائے سائنسی تحقیق، تجرباتی شواہد اور مشاہداتی دلائل کے ذریعے ایک مربوط نظریۂ علم کی صورت دی- یہی پہلو اسے تاریخِ سائنس میں الگ تشخص عطا کرتا ہے-

یہاں ایک وضاحت ضروری ہے تاکہ کوئی غلط فہمی پیدا نہ ہو- مولانا رومی کے ہاں وجودِ انسانی کے ارتقائی مراحل یا ارتقا (Evolution) کے تصور کا ذکر کرنا ہرگز اس بحث کا مقصد نہیں کہ وہ جدید ڈارونی نظریۂ ارتقا کے حامی تھے یا مخالف، یا اس موضوع پر مصنف کی اپنی کیا رائے ہے- یہ ایک الگ اور خالصتاً سائنسی و فلسفیانہ بحث ہے، جس پر اہلِ علم تفصیل سے گفتگو کر چکے ہیں- یہاں اس کا ذکر صرف اس لیے مقصود ہے کہ مولانا رومی کو محض ایک صوفی شاعر سمجھ لینا اور یہ گمان کرنا کہ ان کی تمام گفتگو صرف وجد، جذب، عرفان یا روحانی کیفیات تک محدود ہے، ان کے فکر و فن کے ساتھ ناانصافی ہوگی- ان کے ہاں انسان، کائنات، حیات، موت، محبت، اخلاق، فلسفہ، نفسیات، وجود اور حتیٰ کہ ارتقا جیسے موضوعات بھی اسی گہرائی کے ساتھ زیرِ بحث آتے ہیں- یہی فکری تنوع (diversity)مولانا رومی کو اپنے عہد ہی نہیں بلکہ ہر زمانے کا شاعر اور مفکر بناتا ہے-

مولانا رومی کے ہاں ارتقا کا تصور ان کے ان معروف اشعار میں نہایت خوبصورتی سے سامنے آتا ہے:

از جمادی مردم و نامی شدم
وز نما مردم بہ حیوان برزدم
مردم از حیوانی و آدم شدم
پس چہ ترسم کی ز مردن کم شدم

’’میں بے جان پتھر کی منزل سے گزر کر نباتات کی زندگی تک پہنچا-پھر نباتات کی دنیا سے آگے بڑھا تو حیوانی حیات نصیب ہوئی-اس کے بعد حیوانی درجے سے بلند ہو کر انسان بنا-پھر مجھے موت کا خوف کیوں ہو؟ میں تو ہر موت کے بعد پہلے سے بلند تر وجود میں داخل ہوا ہوں، کبھی کم نہیں ہوا‘‘-

مولانا رومی اس تمثیل میں انسانی وجود کے مسلسل ارتقا کو بیان کرتے ہیں-یہاں ’’موت‘‘ سے مراد محض فنا نہیں بلکہ ایک درجے سے بلند تر درجے کی طرف انتقال ہے- ہر موت درحقیقت ایک نئی اور زیادہ کامل زندگی کا دروازہ کھولتی ہے- لہٰذا انسانی زندگی کے اختتام پر بھی انہیں زوال کا نہیں بلکہ ایک بلند تر وجود میں داخل ہونے کا یقین ہے-

اسی خیال کو وہ اگلے شعر میں مزید واضح کرتے ہیں:

حملهٔ دیگر بمیرم از بشر
تا بر آرم از ملایک پر و سر
و ز ملک هم بایدم جستن ز جو
کل شیء هالک الا وجهه

’’پھر ایک اور مرحلہ آئے گا کہ میں اپنی بشری حالت سے بھی گزر جاؤں گا،تاکہ فرشتوں جیسی پاکیزگی، بلندی اور نورانیت حاصل کر سکوں-مگر میرا سفر وہاں بھی ختم نہیں ہوگا؛ مجھے فرشتوں کے مرتبے سے بھی آگے بڑھنا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا ہر چیز فنا ہونے والی ہے‘‘-

مولانا رومی کی فکری عظمت اور امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسان کو صرف ایک حیاتیاتی وجود نہیں، بلکہ ایک مسلسل ارتقا پذیر روح کے طور پر دیکھتے ہیں، جو ہر مرحلے پر اپنی محدودیت سے نکل کر ایک بلند تر حقیقت کی طرف سفر کرتی ہے-یعنی جہاں ڈارون کا سفر ختم ہوتا ہے، وہاں سے رومی انسان کو ایک ایسے سفر پر روانہ کرتے ہیں جس کی آخری منزل قربِ الٰہی اور معرفتِ حق ہے-

مولانا رومی کی فکر کا مرکزی استعارہ بھی اسی روحانی سفر کی ترجمانی کرتا ہے، اور وہ ہے نَے یا بانسری کا استعارہ، جس سے مثنوی معنوی کا آغاز ہوتا ہے- فارسی ادب کی تاریخ میں شاید ہی کوئی اور افتتاحیہ اتنا مؤثر، درد انگیز اور آفاقی ہو:

بشنو این نی چون شکایت می ‌کند
از جدایی‌ ها حکایت می‌ کند

’’سنو! یہ بانسری کس طرح اپنی فریاد سنا رہی ہے، یہ جدائیوں کی ایک طویل داستان بیان کر رہی ہے‘‘-

کز نِیِستان تا مرا بُبریده ‌اند
در نفیرم مرد و زن نالیده‌ اند

’’جس دن سے مجھے اپنے اصل نیستان (بانسوں کے جھنڈ) سے کاٹ کر جدا کیا گیا ہے، اس دن سے میری آہ و فغاں میں مرد بھی روئے ہیں اور عورتیں بھی‘‘-

سینه خواهم شَرحه‌ شَرحه از فراق
تا بگویم شرحِ دردِ اشتیاق

’’مجھے ایسا سینہ چاہیے جو جدائی کے غم سے ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا ہو، تاکہ میں اس کے سامنے شوقِ وصال کے درد کی پوری داستان بیان کر سکوں‘‘-

من به هر جمعیّتی نالان شدم
جفت بد حالان و خوش‌ حالان شدم

’’میں ہر مجلس اور ہر طبقے میں اپنی فریاد سناتا رہا- میں غم زدہ لوگوں کا بھی ساتھی بنا اور خوش حال لوگوں کا بھی‘‘-

هر کسی از ظّن خود شد یار من
از درون من نجُست اسرار من

’’ہر شخص نے اپنے اپنے گمان اور اپنی اپنی سمجھ کے مطابق مجھے اپنا ہمراز سمجھا، مگر کسی نے میرے باطن میں اتر کر میرے راز کو جاننے کی کوشش نہ کی‘‘-

سرِّ من از نالهٔ من دور نیست
لیک چشم و گوش را آن نور نیست

’’میرا راز میری اسی فریاد میں پوشیدہ ہے، مگر افسوس کہ آنکھ اور کان میں وہ نور نہیں جو اس راز کو دیکھ اور سن سکے‘‘-

تن ز جان و جان ز تن مستور نیست
لیک کس را دیدِ جان دستور نیست

’’جسم اور جان ایک دوسرے سے جدا اور پوشیدہ نہیں ہیں، مگر ہر شخص کو روح کا مشاہدہ کرنے کی اجازت اور صلاحیت حاصل نہیں ہوتی‘‘-

مولانا رومی کی فکر میں ’’نَے‘‘(بانسری) محض ایک موسیقی کا آلہ نہیں بلکہ انسانی روح کا سب سے بڑا استعارہ ہے- مثنوی معنوی کا آغاز اسی استعارے سے ہوتا ہے، اور یہی استعارہ ان کی پوری  فکر کو سمجھنے کی کنجی بھی ہے-

مولانا رومی کے عہد میں نَے بانس سے تیار کی جاتی تھی- اس کی ابتدا ایک سرسبز نیستان، یعنی بانس کے جنگل سے ہوتی تھی- وہاں سے بانس کو کاٹا جاتا، دھوپ میں سکھایا جاتا، اس کے اندر کا حصہ خالی کیا جاتا اور پھر اس کے جسم میں سوراخ کیے جاتے- یہی زخم، یہی شگاف اور یہی خالی پن اسے بانس کے ایک بے جان ٹکڑے سے ایک نغمہ آفرین بانسری میں تبدیل کرتے تھے-

یہ استعارہ محض ایک ادبی تصویر نہیں بلکہ صوفیانہ فلسفے کی بنیادی تعبیر ہے- رومی کے نزدیک بانسری وہی نسبت رکھتی ہے جو انسانی روح اپنے اصل وطن سے رکھتی ہے- جس طرح بانسری اپنے نیستان سے کٹ کر جدائی کے کرب میں مبتلا ہے، اسی طرح انسانی روح بھی اپنے حقیقی سرچشمۂ وجود سے جدا ہو کر اس دنیا میں آئی ہے اور مسلسل اپنی اصل کی طرف لوٹنے کی آرزو میں بے قرار ہے-

قرآنی تناظر میں اس تصور کی بنیاد اس عہد پر رکھی جاتی ہے جسے اہلِ تصوف ’’عہدِ الست‘‘کہتے ہیں- یعنی اللہ تعالیٰ نے تمام ارواح کو جمع کر کے پوچھا:

’’اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ ط قَالُوْا بَلٰی‘‘[1]

’’کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟انہوں نے کہا: کیوں نہیں!ہم اس پر گواہی دیتے ہیں‘‘-

صوفیانہ روایت میں یہی عہد پوری روحانی فکر کی بنیاد ہے- ان کے نزدیک انسانی روح اپنے آغاز میں انوارِ الٰہی کے قرب سے بہرہ مند تھی- پھر اسے دنیا کے اس مادی سفر پر بھیجا گیا، جہاں وہ اپنے اصل وطن سے دور ہو گئی- چنانچہ جس طرح بانسری اپنے نیستان کی طرف لوٹنے کی آرزو رکھتی ہے، اسی طرح روح بھی اپنے محبوبِ حقیقی سے دوبارہ وصل کی تمنّا اپنے اندر لیے ہوئے ہے- پوری روحانی زندگی اسی اشتیاقِ وصال اور اسی سفرِ رجوع کا نام ہے-

اسی تناظر میں اہلِ تصوف قرآن مجید کی اس ہدایت کو بھی خاص اہمیت دیتے ہیں:

’’وَذَکِّرْہُمْ بِاَیّٰىمِ اللہِ‘‘[2]

’’ اور انہیں اللہ کے دن یاد دلائیے‘‘-

صوفیانہ تعبیر میں اس یاد دہانی کا ایک مفہوم یہ بھی ہے کہ انسان کو اس کے اس اولین عہد کی یاد دلائی جائے جب اس کی روح اپنے رب کے قرب میں تھی- گویا سارا روحانی سفر انسان کو اس کی اصل شناخت، اس کے پہلے وعدے اور اس کے حقیقی وطن کی یاد دلانے کا سفر ہے-

اسی لیے تصوف کی اصطلاح میں جب بھی ’’وطن‘‘ کا ذکر آتا ہے تو اس سے مراد دنیا کا کوئی جغرافیائی خطہ نہیں ہوتا، بلکہ روح کا وہ ازلی وطن ہوتا ہے جہاں سے اس کا آغاز ہوا، جہاں اس نے اپنے رب کے حضور عہد الست کیا-

مولانا رومی کے نزدیک خود شناسی (Self-Discovery) انسان کے تمام روحانی سفر کی بنیاد ہے- ان کی تعلیمات میں انسان کو سب سے پہلے اپنے باطن کی پہچان کی دعوت دی جاتی ہے، کیونکہ جو شخص اپنے حقیقی وجود سے ناواقف ہو، وہ نہ اپنے رب کو پہچان سکتا ہے اور نہ اپنی منزل کو- اسی حقیقت کو واضح کرنے کیلئے رومی نہایت مؤثر حکایات بیان کرتے ہیں:

’’ایک چرواہے کو اتفاق سے جنگل میں شیر کا ایک نومولود بچہ ملا- وہ اسے اٹھا کر اپنے ریوڑ میں لے آیا، جہاں وہ بھیڑوں اور بکریوں کے درمیان ہی پرورش پانے لگا- وہ انہی کے ساتھ گھاس کھاتا، انہی کے ساتھ چلتا پھرتا اور انہی کی طرح خوفزدہ ہو کر بھاگتا- اس کی پوری زندگی اس غلط فہمی میں گزری کہ وہ بھی ایک بھیڑ ہی ہے-ایک دن ریوڑ ایک جنگل سے گزر رہا تھا کہ ایک شیر نے حملہ کر دیا- اس کی نگاہ اچانک اس نوجوان شیر پر پڑی جو بھیڑوں کے ساتھ اسی کی طرح خوفزدہ ہو کر بھاگ رہا تھا- یہ منظر اس کے لیے حیرت کا باعث تھا- اس نے باقی ریوڑ کو چھوڑ دیا اور سیدھا اس نوجوان شیر کو پکڑ لیا-خوف سے کانپتے ہوئے شیر کے بچے نے سمجھا کہ اب اس کی موت یقینی ہے، مگر جنگل کے شیر کا مقصد اسے مارنا نہیں بلکہ اس کی اصل شناخت سے آشنا کرنا تھا- وہ اسے ایک ایسی شفاف جھیل کے کنارے لے گیا جس کا پانی آئینے کی طرح عکس دکھاتا تھا- پہلے اس نے اپنے چہرے کی طرف اشارہ کیا، پھر نوجوان شیر سے کہا کہ اپنے چہرے کو غور سے دیکھو- دونوں کے چہرے ایک جیسے تھے- اس نے اس کے پنجے بھی دکھائے اور بتایا کہ تمہاری ساخت، تمہاری قوت اور تمہاری فطرت بھیڑوں جیسی نہیں بلکہ شیر جیسی ہے- مگر چونکہ تم نے اپنی پوری زندگی بھیڑوں کے درمیان گزاری ہے، اس لیے تم نے خود کو بھی وہی سمجھ لیا ہے-اس کے بعد جنگل کے شیر نے ایک بھیڑ کا شکار کیا اور نوجوان شیر کو اپنی فطرت کے مطابق عمل کرنے پر آمادہ کیا- جب اس نے پہلی مرتبہ اپنی اصل جبلت کا تجربہ کیا تو اس کے اندر سوئی ہوئی شناخت بیدار ہو گئی- اس نے پہلی بار جان لیا کہ وہ بھیڑ نہیں بلکہ شیر ہے‘‘-

مولانا رومی کے نزدیک اس حکایت کا اصل مفہوم یہی ہے کہ انسان بھی دنیا میں آ کر اپنی حقیقی شناخت بھول جاتا ہے- وہ اپنے ماحول، معاشرے اور ظاہری نسبتوں کو ہی اپنی حقیقت سمجھ لیتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک منفرد شرف، وقار اور روحانی عظمت عطا کی ہے- یہی انسانی کرامت اسے دوسری مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے-

ابنِ عربی کی تعبیر میں انسان ایک ایسی ہستی ہے جس کی روح کا تعلق براہِ راست ربّ تعالیٰ کی ذات سے ہے- اسی نسبت سے انسان کے اندر ایک ایسی عظمت اور وقار موجود ہے جو اسے محض حیوانی وجود سے بلند کر دیتا ہے- مولانا رومی کے نزدیک دنیا کی باقی تمام مخلوقات گویا ایک ریوڑ کی مانند ہیں، جبکہ انسان کے اندر وہ روحانی جوہر موجود ہے جو اسے اپنے خالق کی معرفت اور قرب کے قابل بناتا ہے- مگر اس حقیقت کا شعور صرف اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنی اصل کو پہچان لے-

مولانا رومی اس حکایت سے ایک اور نہایت اہم نکتہ اخذ کرتے ہیں- ان کے نزدیک انسان صرف اپنی قوت سے ہمیشہ اپنی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا- اسے کسی ایسے رہنما، مرشد یا کامل انسان کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کے اندر سوئی ہوئی شناخت کو بیدار کر دے- جس طرح جنگل کے شیر نے نوجوان شیر کو اس کی اصل یاد دلائی، اسی طرح مولانا رومی کی اپنی زندگی میں حضرت شمس تبریز وہ شخصیت تھے جنہوں نے ان کے باطن میں پوشیدہ حقیقت کو بیدار کیا- مولانا رومی کی روحانی زندگی میں شمس تبریز کا کردار صرف ایک استاد کا نہیں بلکہ ایک آئینے کا تھا، جس میں انہوں نے پہلی مرتبہ اپنی حقیقی صورت دیکھی-

اسی تصورِ خود شناسی کو رومی ایک دوسری حکایت کے ذریعے مزید واضح کرتے ہیں:

’’ایک مسافر کے پاس ایک قیمتی ہیرا تھا- سفر کے دوران ایک دوسرا مسافر بھی اس کا ساتھی بن گیا- پہلے مسافر کو شبہ ہوا کہ شاید اس کا ساتھی اس کا ہیرا چُرانا چاہتا ہے- رات کو دونوں ایک درخت کے نیچے سوئے- سونے سے پہلے اس نے خاموشی سے اپنا ہیرا اپنے ساتھی کے سامان میں رکھ دیا اور خود مطمئن ہو کر سو گیا-دوسرے مسافر کے دل میں ہیرے کی خواہش پیدا ہو ئی- رات بھر وہ اپنے ساتھی کا سامان ٹٹولتا رہا، مگر اسے کچھ نہ ملا، کیونکہ جس خزانے کی وہ تلاش کر رہا تھا، وہ اس کے اپنے ہی سامان میں موجود تھا- صبح روانگی سے قبل پہلے مسافر نے خاموشی سے اپنا ہیرا دوبارہ اپنے سامان میں رکھ لیا- جب دونوں کے راستے جدا ہونے لگے تو دوسرے مسافر نے اعتراف کیا کہ اس نے پوری رات ہیرا تلاش کیا مگر ناکام رہا- اس نے کہا:میں صرف یہ جاننا چاہتا ہوں کہ تم نے وہ ہیرا آخر کہاں چھپایا تھا؟پہلے مسافر نے مسکرا کر جواب دیا: میں جانتا تھا کہ تم پوری رات میرا سامان تلاش کرتے رہو گے، اس لیے میں نے ہیرا اپنے سامان میں نہیں بلکہ تمہارے سامان میں رکھ دیا تھا- اگر تم دوسروں کے بجائے اپنے سامان کی تلاشی لیتے تو وہ تمہیں فوراً مل جاتا‘‘-

مولانا رومی کہتے ہیں کہ انسان کی حالت بھی کچھ ایسی ہی ہے- وہ پوری زندگی خدا کو مسجدوں، خانقاہوں اور بیرونی مظاہر میں تلاش کرتا رہتا ہے، مگر کبھی اپنے باطن میں جھانکنے کی زحمت نہیں کرتا- حالانکہ جس حقیقت کی تلاش میں وہ ساری دنیا کا سفر کرتا ہے، اس کا سراغ اس کے اپنے دل میں پوشیدہ ہے-

صوفیانہ روایت میں اسی حقیقت کو اس معروف حدیث قدسی سے بیان کیا جاتا ہے:

’’لَا یَسَعُنِیْ اَرْضِیْ وَ لَا سَمَآئِیْ وَ لٰکِنْ یَّسَعُنِیْ قَلْبُ عَبْدِ الْمُؤْمِنِ‘‘[3]

’’مَیں زمین اور آسمانوں میں نہیں سماتا بلکہ بندۂ مومن کے دل میں سما جاتا ہوں‘‘-

مولانا رومی کے نزدیک خود شناسی کا سفر درحقیقت خدا شناسی کا سفر ہے- انسان جتنا اپنے باطن میں اترتا ہے، اتنا ہی اپنے رب کے قریب ہوتا جاتا ہے- اسی لیے مولانا رومی بار بار انسان کو اپنے اندر جھانکنے، اپنے وجود کی تہوں کو کھولنے اور اس پوشیدہ ہیرے کو تلاش کرنے کی دعوت دیتے ہیں جو ہمیشہ سے اس کے اپنے وجود میں موجود ہے، مگر انسان ہمیشہ وہ باہر کی دنیا میں ڈھونڈتا رہتا ہے-

مولانا رومی کی فکر کا بنیادی اور سب سے اہم نتیجہ انسان کی روحانی شناخت کا شعور ہے- انسان خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو یا کسی مذہبی روایت کا پیرو نہ بھی ہو، اس کی روحانیت اس کی شخصیت کا ایک ناگزیر حصہ ہے-انسانی وجود صرف جسم سے عبارت نہیں، اس کی اصل بنیاد اس کی روح ہے-جب تک انسان اپنی روح کو نہیں پہچانتا، وہ اپنے وجود کی مکمل حقیقت سے آشنا نہیں ہو سکتا-اس لیے خود شناسی کا سفر دراصل روح کی بازیافت کا سفر ہے اور یہی وہ منزل ہے جس کی طرف مولانا رومی مسلسل دعوت دیتے ہیں-

مولانا رومی کی فکر کو سمجھنے کیلئے صرف مثنوی کا مطالعہ کافی نہیں، بلکہ اس کے فکری اور ادبی پس منظر سے واقفیت بھی ضروری ہے- مثنوی ایک کلاسیکی متن ہے جس کی معنوی گہرائی اور علامتی زبان قاری سے ایک خاص علمی اور ادبی تیاری کا تقاضا کرتی ہے-اسی لیے بہتر یہ ہے کہ اس کے مطالعے سے پہلے تصوف، اسلامی فلسفے اور  مولانا رومی کی فکری روایت سے متعلق بنیادی کتابوں کا مطالعہ کیا جائے-جو لوگ کتابوں کے بجائے سیریز دیکھنا پسند کرتے ہیں، ان کے لیے بھی مولانا رومی کی دنیا تک پہنچنے کے کئی مؤثر راستے موجود ہیں-ایسی ابتدائی تیاری قاری کو مثنوی کے پیچیدہ استعاروں، روحانی اشاروں اور فکری مباحث کو زیادہ گہرائی سے سمجھنے کے قابل بناتی ہے-

٭٭٭


[1](الاعراف:172)

[2](ابراہیم:5)

[3](مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الرقاق)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر