استسقاء ’’سَقٰی‘‘ (باب ضَرَبَ یَضْرِبُ سے ماخوذ ہے (جس کے معنی ہیں پانی پلانا)اور استسقاء کا معنی پانی طلب کرنا [1] اصطلاح شرع میں اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ سے دعاکرنا کہ وہ شہروں اور اپنے بندوں پر بارش نازل فرمائے-[2]
نماز استسقاء اس وقت پڑھی جاتی ہے جب بارش کا سلسلہ بند ہوجائے، شدید خشک سالی ہو اور پانی کی کمی کا سامنا ہو- اس وقت تمام لوگ انتہائی تواضع اور عاجزی کے ساتھ کسی میدان یا صحراء کی طرف نکل کر اللہ تعالیٰ سے بارانِ رحمت کے لئے دعا کرتے ہیں تاکہ بارش نازل ہو اور لوگوں کو راحت ملے-
نماز استسقاء اورقرآن مجید:
’’اِسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْطاِنَّهٗ كَانَ غَفَّارًالا یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا لا وَّ یُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّ بَنِیْنَ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ یَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًا‘‘ [3]
’’ اپنے رب سے معافی مانگو بے شک وہ بڑا معاف فرمانے والا ہےتم پر شرّاٹے کا مینہ(موسلا دھار بارش) بھیجے گا-اور مال اور بیٹوں سے تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے لیے باغ بنادے گا اور تمہارے لیے نہریں بنائے گا ‘‘-
’’شان نزول: حضرت حسن (رضی اللہ عنہ)سے مروی ہے ایک شخص آپ(رضی اللہ عنہ) کے پاس آیا اور اس نے بارش کے نہ ہونے کی شکایت کی ، آپ (رضی اللہ عنہ) نے استغفار کا حکم دیا، دوسرا آیا، اس نے غربت کی شکایت کی، اسے بھی یہی حکم فرمایا، پھر تیسرا آیا ، اس نے اولاد کے نہ ہونے کی شکایت کی، آپ(رضی اللہ عنہ) نے اسے بھی استغفار کا حکم دیا ، پھر چوتھا آیا، اس نے اپنی زمین کی قلّتِ پیداوار کی شکایت کی ، اس سے بھی یہی فرمایا ، ربیع بن صبیح(رضی اللہ عنہ) جو حاضر خدمت تھے انہوں نے عرض کیا چند لوگ آئے قِسم قِسم کی حاجتیں انہوں نے پیش کیں، آپ (رضی اللہ عنہ) نے سب کو ایک ہی جواب دیا کہ استغفار کرو تو آپ(رضی اللہ عنہ)نے یہ آیات تلاوت فرمائی‘‘-[4]
یعنی آپ (رضی اللہ عنہ) نے اس کو سبق دینا چاہا کہ تمام مسائل کا حل تمہارے استغفارکرنے میں ہے اور نماز استسقاء بھی دراصل اللہ عزوجل کی بارگاہ ِ اقدس میں دعا و استغفار ہی ہے-
نماز استسقاء اوراحادیث مبارکہ:
حضرت عباد بن تمیم (رضی اللہ عنہ) اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ :
’’سیدی رسول اللہ (ﷺ )عیدگاہ کی طرف تشریف لے گئے، پھر بارش کی دعا (استسقاء) فرمائی، قبلہ رخ ہوئے، اپنی چادر(مبارک) کو الٹ لیا اور دو رکعت نماز ادا فرمائی‘‘- [5]
حضرت انس بن مالک(رضی اللہ عنہ)بیان فرماتے ہیں:
’’سیّدی رسول اللہ (ﷺ) دعاؤں میں کسی موقع پر بھی اتنے ہاتھ بلند نہیں فرماتے تھے جتنے استسقاء (بارش مانگنے) کے وقت بلند فرماتے تھے، یہاں تک کہ آپ (ﷺ) کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی تھی‘‘-[6]
حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) نے یہ جوارشادفرمایا کہ حضور نبی رحمت( ﷺ)نماز استسقاء میں دعا کیلئےاپنے ہاتھ مبارک اتنے بلند فرماتے تھے، یہاں تک کہ آپ (ﷺ) کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی تھی -اس کا یہ مطلب قطعاً نہیں کہ باقی دعاؤں کے لیے آپ (ﷺ) نے ہاتھ بلند نہیں فرمائے کیونکہ امام نوویؒ نے شرح المہذب میں باقی دعاؤں کے وقت ہاتھ بلند کرنے کے بارے میں 30سے زیادہ روایات مبارکہ نقل فرمائی ہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ (ﷺ) نماز استسقاء کیلئے بہت زیادہ اپنے ہاتھ مبارک بلندفرمایا کرتے تھے ‘‘- [7]
حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)بیان فرماتے ہیں کہ :
’’ایک مرتبہ ہم سیّدی رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ تھے اور بارش ہورہی تھی ،فرماتے ہیں کہ رسو ل اللہ (ﷺ) نے (اپنے جسم اقدس سے) اپنے کپڑے کو ہٹایا یہاں تک کہ آپ (ﷺ)تک بارش گرنے لگی تو ہم نے عرض کی یارسول اللہ (ﷺ)! جناب نے یہ عمل کیوں فرمایا تو آپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: کیونکہ یہ بارش اللہ تعالیٰ کی بارگاہ ِ اقدس سے نئی نئی آئی ہے ‘‘- [8]
سیّدی رسول اللہ (ﷺ) کا یہ عمل مبارک ہم سب کو بارش کو رحمت سمجھ کراپنے جسموں سے مَس کرنے کی ترغیب دیتا ہے -
ام المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں:
’’لوگوں نے سیّدی رسول اللہ(ﷺ )سے بارش نہ ہونے اور قحط کی شکایت کی- آپ (ﷺ )نے ایک منبر لانے کا حکم فرمایا ، پس آپ (ﷺ)کے لیے عیدگاہ میں منبر رکھ دیا گیا اور لوگوں کے لیے ایک دن مقرر فرمایا کہ وہ اس دن باہر نکلیں-حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں: سیّدی رسول اللہ (ﷺ) اس دن اس وقت تشریف لائے جب سورج کا کنارہ نمودار ہوا- آپ (ﷺ) منبر پر تشریف فرما ہوئے، اللہ اکبر کہا اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی، پھر ارشاد فرمایا: ’’تم نے اپنے علاقوں کی خشکی اور اپنے مقررہ وقت پر بارش کے نہ آنے کی شکایت کی ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ تم اس سے دعا کرو، اور اس نے تم سے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ تمہاری دعا قبول کرے گا-پھر آپ (ﷺ) نے دعا ارشاد فرمائی:
’’ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ یَفْعَلُ مَا یُرِیْدُ - اَللّٰہُمَّ أَنْتَ اللّٰہُ لَا إِلٰہَ إِلَّا أَنْتَ الْغَنِیُّ وَنَحْنُ الْفُقَرَاءُ أَنْزِلْ عَلَیْنَا الْغَیْثَ وَاجْعَلْ مَا أَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّۃً وَّبَلَاغًا إِلٰی حِیْنٍ‘‘
’’سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، بہت رحم کرنے والا نہایت مہربان ہے- روز جزا کا مالک ہے- جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے- اے اللہ تو سچا معبود ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں- تو سخی اور بے پرواہ ہے اور ہم تیرے محتاج اور فقیر (بندے) ہیں ہم پر بارش برسا اور جو بارش تو نازل فرمائے اسے ہمارے لیے ایک مدت تک قوت اور (مقاصد تک) پہنچنے کا ذریعہ بنا-
آپ (ﷺ) نے اپنے دونوں ہاتھ مبارک بلند فرمائے یہاں تک کہ آپ(ﷺ) کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی- پھر آپ (ﷺ) نے لوگوں کی طرف پشت کر لی اور اپنی چادر کو الٹ لیا (یا اس کا رخ بدل لیا) جبکہ آپ(ﷺ) کے ہاتھ بلند تھے- اس کے بعد لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے، منبر سے اترے اور دو رکعت نماز ادا فرمائی، پھر اللہ تعالیٰ نے ایک بادل پیدا فرمایا، وہ گرجا، چمکا، اور پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے بارش برسنے لگی- یہاں تک کہ رسول اللہ (ﷺ) اپنی مسجد تک واپس نہ پہنچے تھے کہ نالوں اور وادیوں میں پانی بہنے لگا‘‘- [9]
ام المؤمنین سیّدہ عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا) فرماتی ہیں:
’’جس دن آندھی آتی یا بادل ہوتے تو حضور نبی کریم (ﷺ) کے چہرہ مبارک پر اس کی کیفیت ظاہر ہو جاتی، آپ(ﷺ)(اضطراب کی حالت میں) کبھی آگے بڑھتے اور کبھی پیچھے ہٹتے- لیکن جب بارش برستی تو آپ (ﷺ) اظہارمسرت فرماتے اورآپ (ﷺ) کی وہ کیفیت ختم ہو جاتی- حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا)فرماتی ہیں کہ میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو آپ(ﷺ) نے ارشاد فرمایا:مجھے خوف ہوتا ہے کہ کہیں یہ میری امت پر عذاب نہ ہو-اور جب بارش دیکھتے تو ارشاد فرماتے: یہ رحمت ہے‘‘- [10]
اس حدیث مبارک کو پڑھ کر یاسُن کر ذہن میں سوال پید ا ہوتا ہے کہ معاذاللہ کیا حضور نبی کریم(ﷺ) کو اپنی امت پہ ہلاکت کا اندیشہ تھا ؟حالانکہ اللہ تعالیٰ آپ (ﷺ) سے وعدہ فرماچکے تھے:
وَمَا کَانَ اللہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَاَنْتَ فِیْہِمْ‘‘[11]
’’اور اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں کہ انہیں عذاب دے جب تک اے حبیب مکرم (ﷺ)!تم ان میں تشریف فرما ہو‘‘-
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دراصل تعلیم امت کیلئے ہے کہ ایما ن خوف اور امید کے درمیان ہے کہ انسان جس مقام پہ بھی پہنچ جائے اس کو اللہ عزوجل سے ڈرتے رہناچاہیےاور اس کی خفیہ تدبیر سے بے خوف نہیں ہوناچاہیے کیونکہ اس نے خود ہی اپنے بارے میں ارشادفرمایا ہے:
’’وَ اللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓى اَمْرِهٖ وَ لٰـكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ‘‘[12]
’’اور اللہ تعالیٰ اپنے کام پر غالب ہے مگر اکثر آدمی نہیں جانتے‘‘-
یعنی اللہ پاک اپنے کام پر غالب ہے ،وہ جو چاہے کرے اور جیسا چاہے حکم فرمائے، اس کے حکم کو کوئی روکنے والا ہے نہ اس کی قضا کو کوئی ٹالنے والا ہے اور نہ ہی کوئی چیز اس پر غالب ہے-اس لیے انسان کی عظمت ا س کی ذاتِ اقدس سے ہمہ وقت ڈرنے اور اس کی بارگاہ لم یزل میں عاجزی و انکساری کرنے میں ہے -
حضرت سالم (رضی اللہ عنہ) اپنے والد سے روایت بیان کرتے ہیں کہ بسا اوقات مجھے شاعر کایہ قول یاد آتا ہے:
’’جب میں حضور نبی کریم(ﷺ)کے چہرہ مبارک کو دیکھتا اس حال میں کہ آپ (ﷺ) بارش طلب کر رہے ہوتے ،آپ (ﷺ) ابھی منبر سے نہیں اترتے تھے حتی کہ ہر پرنالہ زور و شورسے بہہ رہا ہوتااور وہ شعر یہ تھا:’’وہ سفید چہرہ جس کے سبب بادل سے بارش طلب کی جاتی ہے، وہ یتیموں کا سہارا ہیں اور بیواؤں کیلئے حفاظت کا ذریعہ ہیں ‘‘-[13]
یہ کلام اس بات کی دلیل ہے کہ آقا کریم (ﷺ) کی دعا اور چہرۂ مبارک کو اللہ تعالیٰ نے رحمت اور برکت کا ذریعہ بنایا-
فقہ اور نماز استسقاءکاطریقہ فقہاء کرام کی تصریحات کی روشنی میں:
ظاہر ہے قرآن پاک اور احادیث مبارکہ کے بعض احکاما ت مجمل اوربعض منسوخ بھی ہیں اس لیے صحیح العقیدہ مفسرین،محدثین اورفقہاء کرام کی رہنمائی اور وضاحت کے بغیر قرآن وحدیث سے کماحقہ استفادہ مشکل ہے-
علامہ حسن بن عمار بن علی الشرنبلالیؒ (المتوفى: 1069ه) اس کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’یہ بارش کی طلب کے لیے بغیر جماعت کے نماز ہے اور اس میں اللہ عزوجل سے مغفرت طلب کی جاتی ہے- مستحب یہ ہے کہ اس کیلئے تین دن پیدل چل کر جائیں، ایسے کپڑوں میں جو پرانے، دھلےہوئے یا پیوند لگے ہوئے ہوں اور اللہ عزوجل کی بارگاہ اقدس میں عاجزی و انکساری کا اظہار کریں سر جھکائے ہوئے اور ہر روز جانے سے پہلے صدقہ دیں-جانوروں،بوڑھوں ،بزرگوں اور بچوں کو ساتھ لےجانا مستحب ہے ، مکہ مکرمہ والے مسجد حرام میں اور بیت المقدس والے لوگ مسجد اقصٰی میں جمع ہوں- آقا کریم (ﷺ) کے شہر والوں کو بھی ایسا ہی کرناچاہیے -امام قبلہ کی طرف رخ کر کے اپنے ہاتھ اٹھائے ہوئے کھڑے ہوں اور لوگ بیٹھ کر قبلہ کی طرف متوجہ ہوں اور اس کی دعا پر آمین کہیں‘‘-[14]
قرآن مجید،احادیث مبارکہ اور فقہاء کرام کی تصریحات کی روشنی میں نماز استسقاء کا آسان طریقہ کچھ یوں ہے :
نماز استسقاء نفل نمازوں میں سے ہے، یعنی یہ فرض نہیں ہے اورنماز استسقاء کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے، تین اوقات مکروہ ( طلوع شمس، استواء شمس، غروب شمس)کے علاوہ کسی بھی وقت پڑھ سکتے ہیں-نماز استسقاء کیلئے بہترہے کہ امام ایک دن متعین کرکے اس دن سب لوگوں کو لے کر نہایت تواضع و انکساری کے ساتھ صحراء (کھلی جگہ)پہنچے،تمام لوگ سادگی سے، نرم اور صاف کپڑے پہن کر اور عاجزی و انکساری کا پیکر بن کر اپنے گناہوں پہ نادم ہوکر کوئی خاص جگہ (مثلاً میدان) میں اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں کیونکہ سیّدی رسول اللہ (ﷺ) عیدگاہ کی طرف تشریف لے گئے، وہاں دو رکعت نماز بغیر اذان واقامت کے پڑھائیں، جس میں بہتر یہ ہے کہ پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الاعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الغاشیۃ پڑھے، جس میں جہراً یعنی بلند آواز سے قرأت کرے، نیز امام کے لیے یہ بھی مستحب ہے کہ نماز کے بعد لوگوں کو ایک خطبہ دے، جس میں استغفار، دعا، اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کی طلب کی جائے- نماز کے بعد دعا کی جاتی ہے اور امام اللہ تعالیٰ سے بارش کی طلب کرتا ہے- اور سب لوگ بیٹھ کر اس پر آمین کہیں- استسقاء کے وقت قبلہ کی طرف منہ کرنا سنت ہے-چادر یا ردائے مبارک کو الٹنا سنت ہے دعا کے وقت چادر الٹنا تبدیلیِ حال اور رحمتِ الٰہی کی امید کی علامت ہے- نمازِ استسقاء میں دو رکعت نماز ادا کی جاتی ہےحدیث سے دو رکعت نماز پڑھنا ثابت ہے- نیز استسقاء کی نماز کے لیے تین دن نکلنا مستحب ہے اور ان ایام میں انسان جتنی عاجزی وانکساری اختیار کرسکتا ہےکرے- ہو سکے تو بچوں،چوپایوں اور بزرگوں کو ساتھ لے جائے -
نوٹ: علامہ حسن بن عمار بن علی شرنبلالیؒ کی نقل کردہ عبارت کے شروع میں لکھا ہوا ہے کہ یہ نماز بغیر جماعت کے ہے یہ دراصل امام ابوحنیفہؒ اوردیگر چند علماء ذی احتشام کامؤقف ہے لیکن جمہور فقہاء احناف کے نزدیک نمازِ استسقاء انفرادی اورباجماعت دونوں طرح جائز ہے جیسا کہ علامہ غلام رسول سعیدیؒ لکھتے ہیں :
’’قرآن مجید ، احادیث ، آثار اور عبارات فقہاء کی روشنی میں یہ معلوم ہوتا ہے کہ استستقاء میں اصل استغفار اور دعا ہے خواہ انفرادی طور پر ہو یا اجتماعی طور پر اور الگ الگ نماز پڑھنا یا اجتماعی طور پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا بھی جائز ہے- امام محمد اور امام ابو یوسفؒ کا بھی یہی قول ہے - جن احادیث مبارکہ میں بغیر نماز کے استسقاء میں صرف دعا یا استغفار کا ذکر ہے-علامہ نودیؒ کہتے ہیں کہ جمہور کے نزدیک یہ احادیث مبارکہ بیان جواز پر محمول ہیں، میں کہتا ہوں کہ امام ابوحنیفہؒ کی طرف سے بھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ استسقاء میں اصل دعا اور استغفار ہے اور با جماعت نماز پڑھنا بھی جائز ہے‘‘- [15]
حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)بیان فرماتے ہیں کہ :
’’حضور نبی کریم( ﷺ) کے زمانے میں لوگوں پر قحط سالی آ گئی- ایک جمعہ کے دن سیّدی رسول اللہ( ﷺ) خطبہ ارشادفرمارہے تھے کہ ایک دیہاتی کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا:یا رسول اللہ(ﷺ)! مال مویشی ہلاک ہو گئے اور بال بچے بھوک کا شکار ہیں، ہمارے لیے اللہ سے دعا فرمائیے-چنانچہ سیّدی رسول اللہ ( ﷺ) نے اپنے ہاتھ اٹھائے، اس وقت آسمان میں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نظر نہیں آ رہا تھا- حضرت انس(رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے! ابھی آپ (ﷺ) نے ہاتھ نیچے نہیں کیے تھے کہ پہاڑوں جیسے بادل اٹھ آئے- پھر آپ (ﷺ) منبر سے ابھی نیچے بھی نہیں اترے تھے کہ میں نے دیکھا بارش کا پانی آپ(ﷺ) کی مبارک داڑھی سے ٹپک رہا تھا-پھر اس دن بھی بارش ہوئی، اگلے دن بھی، اس کے بعد والے دن بھی، اور مسلسل اگلے جمعہ تک بارش ہوتی رہی-پھر وہی دیہاتی یا کوئی اور شخص کھڑا ہوا اور عرض کیا:یا رسول اللہ(ﷺ)! عمارتیں گر گئی ہیں اور مال مویشی ڈوب گئے ہیں، ہمارے لیے اللہ سے دعا فرمائیے-تب سیّدی رسول اللہ(ﷺ) نے ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی:’’اَللّٰهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا‘‘
’’اے اللہ! بارش ہمارے اردگرد برسا اور ہم پر نہ برسا‘‘
حضرت انس(رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں کہ آپ( ﷺ) جس سمت بادلوں کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے، بادل وہاں سے چھٹ جاتے- یہاں تک کہ مدینہ ایک گڑھے یا پیالے کی مانند ہو گیا اور اس کے اردگرد بارش ہوتی رہی- وادیٔ قَنَاة ایک مہینے تک بہتی رہی، اور جو شخص بھی کسی طرف سے آتا وہ اس موسلا دھار بارش کا ذکر کرتا‘‘- [16]
غور فرمائیں کہ صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) خود ایک عظیم مقام پہ فائز تھے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ ِ اقدس سے انہیں ’’ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمْ وَرَضُوْا عَنْہُ ‘‘ کی سند حاصل تھی - لیکن انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ مبارک میں دعا کے لئے بارگاہ ِ مصطفٰے (ﷺ) سے رجوع کیا-
حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ :
’’حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے دورِ خلافت میں جب قحط واقع ہوا تو آپ (رضی اللہ عنہ)حضرت عباس بن عبدالمطلب (رضی اللہ عنہ) کے وسیلہ سے دعا مانگتے اورفرماتے :اے اللہ ! ہم تیری بارگاہ اقدس میں پہلے اپنے نبی مکرم حضرت محمد مصطفٰے (ﷺ)کا وسیلہ پیش کرتے تھے تو توُ ہم پر بارش نازل فرماتا تھا اب ہم تیری بارگاہ ِ اقدس میں اپنے نبی مکرم (ﷺ) کے چچا کا وسیلہ پیش کرتے ہیں تو ہم پر بارش نازل فرما-تو حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں ان پر (حضرت عباس (رضی اللہ عنہ)کے وسیلہ کی برکت سے) بارش نازل ہوجاتی ‘‘- [17]
اس سے ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ ِ مبارک میں کسی عظیم وبزرگ ہستی کا وسیلہ پیش کرکے خیر وبرکت طلب کرسکتے ہیں -
نماز استسقاء کیلئے آقا کریم(ﷺ) سے منقول دعائیں:
رسول اللہ (ﷺ) سے بارش کے متعلق کئی دعائیں منقول ہیں یہاں سیاق وسباق کو ذ کرکئے بغیر صرف دعا ؤں کو لکھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں :
سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے جمعہ کے خطبہ میں دعا فرماتے ہوئے ارشادفرمایا:
’’اَللّٰہُمَّ أسْقِنَا، اَللّٰہُمَّ أسْقِنَا، اَللّٰہُمَّ أسْقِنَا‘‘[18]
’’اے اللہ! ہمیں پانی پلا، اے اللہ! ہمیں پانی پلا، اے اللہ! ہمیں پانی پلا‘‘-
حضرت جابر بن عبد اللہ(رضی اللہ عنہ)سے مروی ہے کہ سیدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا:
’’اللَّهُمَّ اسْقِنَا غَيْثًا مُغِيثًا مَرِيئًا نَافِعًا غَيْرَ ضَارٍّ عَاجِلًا غَيْرَ آجِلٍ‘‘[19]
’’اے اللہ عزوجل! ہمیں پانی پلا، ہم پر ایسی بارش نازل فرما جو ہماری تشنگی بجھا دے، غلہ اگانے والی، نفع دینے والی ہو نہ کہ نقصان پہنچانے والی، جلد آنے والی ہو نہ کہ دیر لگانے والی‘‘-
سیّدی رسول اللہ(ﷺ) نے ارشادفرمایا:
’’اللَّهُمَّ اَسْقِ عِبَادَكَ وَبَهَائِمَكَ، وَانْشُرْ رَحْمَتَكَ، وَأَحْيِ بَلَدَكَ الْمَيِّتَ‘‘[20]
’’اے اللہ! اپنے بندوں اور جانوروں کو پانی پلا اور اپنی رحمت پھیلا دے اور اپنے مردہ (بنجر) شہروں کو زندہ (آباد) فرمادے‘‘-
خلاصہ کلام :
اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا:
’’اور تمہیں جو مصیبت پہنچی وہ اس کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا اور بہت کچھ تو معاف فرمادیتا ہے ‘‘- [21]’’(کیونکہ) اگر اللہ لوگوں کو اُن کے کئے پر پکڑتا تو زمین کی پیٹھ پر کوئی چلنے والا نہ چھوڑتا‘‘- [22]
سیّدی رسول اللہ (ﷺ)نے ارشادفرمایا:
’’پانچ چیزیں پانچ چیزوں کے بدلے میں ہیں-صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) نے عرض کیا: یا رسول اللہ(ﷺ)! وہ پانچ چیزیں پانچ کے بدلے میں کیا ہیں؟آپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:(عہد شکنی) جب کوئی قوم عہد توڑتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان پر دشمن کو مسلط کر دیتا ہے-(غیر شرعی فیصلے) جب وہ اللہ کے نازل کردہ حکم کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے تو ان میں فقر و محتاجی عام ہو جاتی ہے-(فحاشی کا ظہور) جب ان میں فحاشی ظاہر ہو جاتی ہے تو ان میں موت (یعنی وبائیں اور کثرتِ اموات) پھیل جاتی ہیں، (ناپ تول میں کمی) جب وہ ناپ تول میں کمی کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے نباتات روک لیتا ہے اور قحط سالی میں مبتلا کر دیتا ہے-(زکوٰۃ کی روک) جب وہ زکوٰۃ دینا چھوڑ دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے بارش روک لیتا ہے‘‘- [23]
امام حاکمؒ کی مستدرک حاکم میں روایت کردہ حدیث مبارک میں مزید الفاظ مبارکہ یہ بھی ہیں:
’’وَلَوْلَا الْبَهَائِمُ لَمْ يُمْطَرُوْا‘‘
’’اور اگر حیوانات نہ ہوتے تو (ایسے لوگوں پر) قطعاً بارش نہ ہوتی‘‘-
اس حدیث پا ک میں ہمارے لیے باقی اسباق کی طرح یہ سبق بھی ہے کہ اجتماعی گناہوں کے اثرات صرف آخرت تک محدود نہیں رہتے بلکہ دنیا میں بھی ان کے نتائج ظاہر ہوتے ہیں اس لیے جب بارش کی کمی ہو تو جہاں حکومت وقت اور لوگوں کو موسمی تبدیلیوں کے پیش ِ نظر اقدامات کرنے چاہییں وہاں لوگوں کو استغفار اور توبہ کی کثرت کرنی چاہیے، زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے، دوسروں کے حقوق ادا کرنے چاہییں، فطرت کی حفاظت کرنی چاہیے اور دل سے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے-
٭٭٭
[1](المنجد)
[2]( لسان العرب، فصل السين المهملة)
[3](النوح: 10-12)
[4](خزائن العرفان، زیرآیات النوح:10-12)
[5]( صحیح مسلم ، كِتَابُ صَلَوۃ الِاسْتِسْقَاءِ)
[6](صحیح البخاری، َبابُ رَفْعِ الإِمَامِ يَدَهُ فِي الِاسْتِسْقَاءِ)
[7](شرح صحیح مسلم،فرید بک سٹال (لاہور)،ج:02،ص:717)
[8](صحیح مسلم ، كِتَابُ صلوٰۃ ِ الِاسْتِسْقَاءِ)
[9](سنن ابی داؤد، كتاب صلوٰۃ الاستسقاء)
[10](ایضاً)
[11](الانفال:33)
[12](یوسف:21)
[13](صحیح البخآری ،کتاب الاستسقاء)
[14](مراقی الفلاح شرح نورالایضاح،باب الاستسقاء)
[15](شرح صحیح مسلم، کتاب صلوٰۃ الاستسقاء)
[16](صحیح البخاری، بَابُ الِاسْتِسْقَاءِ فِي الخُطْبَةِ يَوْمَ الجُمُعَةِ)
[17](صحیح بخاری،بَابُ سُؤَالِ النَّاسِ الإِمَامَ الِاسْتِسْقَاءَ إِذَا قَحَطُوا)
[18]( صحیح البخاری، کتاب الاستسقاء)
[19]( سنن ابی داؤد ، كتاب صلوٰۃ الاستسقاء)
[20](ایضاً)
[21](الشورٰی:30)
[22](الفاطر:45)
[23](المعجم الكبير،باب: طاوس، عن ابن عباس)