اقتباس

اقتباس

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

’’وَلَوْ بَسَطَ اللہُ  الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰکِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُط اِنَّہٗ  بِعِبَادِہٖ خَبِیْرٌۢ  بَصِیْرٌ‘‘

’’اور اگر اللہ اپنے سب بندوں کا رزق وسیع کردیتا تو ضرور زمین میں فساد پھیلاتے ، لیکن وہ اندازہ سے اتارتا ہے جتنا چاہے، بیشک وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے، انہیں دیکھتا ہے ‘‘-(الشورٰی:27)

رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’حضرت جابربن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا:اے لوگو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور رزق طلب کرنے میں جائز طریقہ اختیار کرو، کیونکہ کوئی شخص اس وقت تک نہیں مرے گا جب تک اپنا پورا رزق حاصل نہ کر لے، اگرچہ اس کے ملنے میں تاخیر ہی کیوں نہ ہو-لہٰذا اللہ سے ڈرو اور رزق طلب کرنے میں اچھا اور جائز طریقہ اختیار کرو- جو چیز حلال ہے اسے اختیار کرو اور جو حرام ہے اسے چھوڑ دو‘‘- (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح۔ بَابُ التَّوَكُّلِ وَالصَّبْرِ)

فرمان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ :

’’اولیاء اللہ نے رزق کا فکر اپنے دل سے نکال رکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ رزق وقت مقررہ میں مقدر ہے ضرور ملے گا-انہوں نے  رزق کی طلب کو چھوڑ کر شہنشاہی دروازے پر ڈیرہ جما لیا ہے-اللہ تعالیٰ  کے قُرب ،علم اور فضل کی وجہ سے ہر ایک چیز سے بے پرواہ ہو گئے ہیں-پس جب ان کو یہ مرتبہ مل گیا تو وہ مخلوقات کے قبلہ بن گئے  اور بادشاہ حقیقی  کے دربار میں داخلے کے واسطے خطیب بن گئے -اپنے دلوں کے ہاتھوں سے  مخلوق کو خالق کی طرف لے جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ  سے ان کے لیے قبولیت اور رضا کی خلعت طلب کر نے کی مشقت برداشت کرتے ہیں-بعض    اہل اللہ سے مروی  ہے  کہ انہوں نےفرمایا کہ اللہ تعالیٰ  کے  وہ بندے جن کی بندگی اللہ تعالیٰ کیلئے پختہ ہو جائے  تو وہ اللہ تعالیٰ سے نہ  دنیا طلب کرتے ہیں اور نہ آخرت- وہ اس سے  اسی کو طلب کرتے ہیں  اس کےعلاوہ کچھ نہیں مانگتے  اے اللہ تمام مخلوق کو اپنے دروازے کا راستہ دکھا دے میرا تو ہمیشہ یہی سوال ہے(باقی ) معاملہ تیرے دستِ اقدس میں ہے‘‘-(الفتح الربانی)

فرمان سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ:

ت: تُلہ بَنھ تَوکّل وَالا ہو مَردانہ ترئیے ھو
جِس دُکھ تھِیں سُکھ حاصِل ہووے اُس دُکھ تھِیں نہ ڈَرئیے ھو
اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا آیا چِت اُسے  َول دَھرئیے ھو
اوہ بے پَرواہ درگاہ ہے باھوؒ اوتھے رو رو حاصِل بھَرئیے ھو (ابیاتِ باھو)

فرمان قائداعظم محمد علی جناحؒ :

ایمان ، اتحاد، تنظیم

’’الغرض! ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کے کردار کی تعمیر کرنی چاہیے جس کا مطلب ہے کہ ان میں وقار، راست بازی اور قوم کی بے لوث خدمت کا بے پناہ جذبہ اور احساس ذمہ داری پیدا کر دیا جائے اور اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ اس میں اقتصادی زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کرنے کی اہلیت اور  صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہو اور اس طرح سے کام کریں جو پاکستان کیلئے نیک نامی کا باعث بنے ‘‘-(کراچی 27 نومبر 1947ء)

فرمان علامہ محمد اقبالؒ:

اے طائر لاہوتی! اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
دارا و سکندر سے وہ مرد فقیر اولی
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہی (بالِ جبریل)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر