قدرت الہٰی اور شان تخلیق مصطفےٰ(ﷺ)

قدرت الہٰی اور شان تخلیق مصطفےٰ(ﷺ)

قدرت الہٰی اور شان تخلیق مصطفےٰ(ﷺ)

مصنف: حضرت مولانامحمد عمراِچھرویؒ اگست 2026

(اللہ تعالیٰ مختلف قسم کی مخلوقات کو پیدا کرنے والا ہے جیسا کہ ) ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَاللہُ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّۃٍ مِّنْ مَّآءٍ ج فَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰٓی بَطْنِہٖ ج وَ مِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ ج وَ مِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰٓی اَرْبَعٍ ط یَخْلُقُ اللہُ مَا یَشَآءُط اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘‘[1]

’’ اور اللہ نے زمین پر چلنے والے تمام جان داروں کو پانی سے پیدا کیا ہے، سو ان میں سے بعض پیٹ کے بل رینگتے ہیں، اور ان میں سے بعض دو ٹانگوں پر چلتے ہیں، اور ان میں سے بعض چار ٹانگوں پر چلتے ہیں، اللہ جو چاہے پیدا فرماتا ہے اور بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے‘‘-

سوال: اس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ آقا کریم () بھی ہمارے ہی جیسے پیدا ہوئے اور ہمارے جیسے بشر تھے؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کو اس آیت کریمہ میں زمین پر چلنے والوں کی قسمیں بیان فرما کر اخیر میں پھر اپنی قدرت کا اضافہ بھی فرمایا-یعنی ’’دَآبَّۃٍ‘‘ سے ایسے بھی پیدا کرتا ہوں-قانون یہی ہے-لیکن آگے فرمایا:’’ یَخْلُقُ اللہُ مَا یَشَآءُ‘‘(اللہ جو چاہے پیدا فرماتا ہے) ان کے علاوہ جو چاہے اور جس سے چاہے پیدا کرسکتا ہے-جیسا کہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی’’مِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰٓی اَرْبَعٍ‘‘(ان میں سے بعض چار ٹانگوں پر چلتے ہیں) کا مصداق موجود ہے-لیکن وہ ’’ مِنْ مَّآءٍ‘‘ سےمبرا ہے-بلکہ حضرت صالح (علیہ السلام) کی دعا اور قدرت الٰہیہ سے مخلوق تھی-اسی لئے اس کو رب العزت نے ’’نَاقَۃُ اللہِ‘‘کہہ کر تخصیص فرما دی اور پھر ’’مِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰٓی اَرْبَعٍ‘‘(ان میں سے بعض چار ٹانگوں پر چلتے ہیں)سے ایسے بھی ہیں جن کے متعلق ارشاد ہے:

’’وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَہَا ج لَکُمْ فِیْہَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَمِنْہَا تَاْکُلُوْنَ‘‘[2]

’’اور اس نے چوپایوں کو پیدا کیا، ان میں تمہارے لئے گرم کپڑے اور دوسرے فوائد ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو‘‘-

اور ایک مقام پہ فرمایا:

’’ وَ یَخْلُقُ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ‘‘[3]

’’اور ان چیزوں کو پیدا کرتا ہے جن کو تم نہیں جانتے‘‘-(جیسا کہ ناقۃ اللہ)

دوسرے انعام کو جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال فرمایا ہے ، مثلاً اونٹنی کو مطلقاً حلال فرمایا جس کی کوئی قسم حرام ہے ہی نہیں-تمام کو حلال کرنا اور کھانا جائز ہے-ان کو حرام کہنے والا منکرِ قرآن ہے-لیکن انہیں اونٹوں پر قیاس کرکے کوئی شخص ’’نَاقَۃُ اللہِ‘‘ کو بھی ذبح کرے تو رب العزت نے منع فرما دیا –

’’وَ لَا تَمَسُّوْہَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَکُمْ عَذَابُ یَوْمٍ عَظِیْمٍ ‘‘[4]

’’اور اسے برائی کے ساتھ نہ چھوؤ کہ تمہیں بڑے دن کا عذاب آلے گا ‘‘-

تو اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اس اونٹنی کے ذبح کرنے کو ’’سُوْٓءٍ‘‘ کا حکم لگادیا اور ساتھ ہی سزا سنا دی کہ اگر تم نے اس کو ذبح کیا یا مارا یا کاٹا اس پر کوئی اونٹ بٹھایا تو تمہیں فورًا عذاب خداوندی پکڑے گا-تو اب یہ ’’ خَلَقَ کُلَّ دَآبَّۃٍ مِّنْ مَّآءٍ‘‘ (اور اللہ نے زمین پر چلنے والے تمام جان داروں کو پانی سے پیدا کیا ہے)سے خارج ہے کہ نہیں-کیوں جناب اس ’’نَاقَۃُ اللہِ‘‘ کی پیدائش میں تمہیں اختلاف ہے یا نہیں-ضرور خارج ہے لیکن ’’ مَنْ یَّمْشِیْ عَلٰٓی اَرْبَعٍ‘‘(ان میں سے بعض چار ٹانگوں پر چلتے ہیں) کا مصداق ضرور ہے-خلقت میں نرالی ہے ، اونٹنی ہے لیکن اس کا کھانا حرام ، اونٹنی ہے لیکن اس کو مارنا پیٹنا حرام ہے، اونٹنی ہے لیکن اس پر اونٹ بٹھانا حرام-ثابت ہوا کہ ناقۃ اللہ کی حقیقت اور ہے-

ایسے ہی عصائے موسیٰ(علیہ السلام) ’’ فَمِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰٓی بَطْنِہٖ‘‘(سو ان میں سے بعض پیٹ کے بل رینگتے ہیں) کا مصداق ہے لیکن ’’مِنْ مَّآءٍ‘‘ کا مصداق نہیں-لاٹھی چلتی نہیں لیکن عصائے موسیٰ(علیہ السلام) اپنے پیٹ کے بل چلتا ہے-آنکھیں ہیں، منہ ہے، کان ہے ، ناک ہے، پیٹ ہے، دم ہے، کھاتا پیتا ہے جو ’’فَاِذَا ہِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِکُوْنَ‘‘[5](پس موسیٰ (علیہ السلام)نے اپنا عصا ڈال دیا تو اچانک وہ ان کی شعبدہ بازیوں کو نگلنے لگا) کا مصداق ہے-جادوگروں کی رسیاں حضرت موسیٰ(علیہ السلام)

 کی لاٹھی نگل گئی-صورت لاٹھی کی کام سانپ کا کرتا ہے، بلکہ اس سے طاقت میں زیادہ ہے-حضرت موسیٰ(علیہ السلام) کی فرمانبرداری میں زیادہ ہے-ثابت ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے عصاکی حقیقت باقی لاٹھیوں سے ممتاز تھی اور یہ قدرتِ الٰہی کی نرالی تخلیق کا کرشمہ ہے-

حضرت جبریل (علیہ السلام) جب دربار مصطفے (ﷺ) میں حاضر ہوتے ہیں تو دحیّہ کلبی کی شکل میں تشریف لاتے ہیں-’’مِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ‘‘(ان میں سے بعض دو ٹانگوں پر چلتے ہیں)صحیح ہے لیکن ’’ مِنْ مَّآءٍ‘‘ کے مصداق نہیں- معلوم ہوا کہ ’’مِنْہُمْ مَّنْ یَّمْشِیْ عَلٰی رِجْلَیْنِ‘‘دونوں پاؤں سے چلنے والے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اس کی خلقت نطفے سے ہی ہو- بلکہ اس کی قدرت کاملہ کا قانون نرالا ہے- یہ بھی فرمادیا کہ ’’یَخْلُقُ اللہُ مَا یَشَآءُ‘‘ (اللہ جو چاہے پیدا فرماتا ہے)ان مذکورہ متعیّنہ اقسام کے علاوہ جو چاہے پیدا کر کے زمین پر چلا سکتا ہے اور جسے چاہے جس سے چاہے جو چاہئے پیدا فرما دے اور اعلیٰ سے اعلیٰ پیدائیش میں ہونے والا ہے- الوہیت کامصداق نہیں بن سکتا کیونکہ ’’الٰہ‘‘ پیدائیش سے مُبرّا ہے- دوسرا جواب اگر ’’ مِنْ مَّآءٍ‘‘سے ممتاز زمین پر چلنے کے منافی نہیں یعنی زمین پر چلنے والا ’’ مِنْ مَّآءٍ‘‘  سے مُبرا ہو سکتا ہے - تو لباسِ انسانی سے ’’عِنْدَ سِدْرَۃِ  الْمُنْتَہٰی‘‘[6] (سدرۃ المنتہیٰ کے نزدیک)عالم ملکوت میں پہنچنے کی نفی کرتا ہے-

آپ ()کی حقیقت انسانی اور حقیقی نور ہونے کا ثبوت یقینی ہے:

ارشادِباری تعالیٰ ہے:

’’وَ مَا کَانَ  لِبَشَرٍ اَنْ یُّکَلِّمَہُ اللہُ  اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنْ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوْلًا فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَآءُ ط اِنَّہٗ عَلِیٌّ  حَکِیْمٌ‘‘

’’اور کسی آدمی کو نہیں پہنچتا کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر ،یا یوں کہ وہ بشر پردۂِ عظمت کے ادھر ہو، یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چاہے،بیشک وہ بلندی و حکمت والا ہے‘‘-

اس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ بشر بلا حجاب خدا وند کریم سے ہم کلام نہیں ہو سکتا، تو حضور نبی کریم (ﷺ) کا بلا حجاب ہم کلام ہونا آپ کی محض بشریت کی نفی کرتا ہے- چنانچہ رب العزت نے فرمایا:

’’ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی؁ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ  اَوْ اَدْنٰی‘‘[7]

’’پھر مصطفٰے  کریم (ﷺ) قریب ہوئے تو رب العزت نے بھی نزول فرمایا- تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم‘‘-

تو اس آیت کریمہ سے ثابت ہوا کہ مصطفٰے  کریم (ﷺ) کی حقیقت بشری نہ  تھی جبکہ حقیقت نوری تھی اور نور محض کو جمعیت انسانی عطا فرما کر والدہ کے شکم پاک میں پاک جسمیت انسانی کے سمیت نور کا ظہور فرمایا اور آپ (ﷺ)کا لباسِ انسانی ہماری خاطر تھا- یہ بھی اللہ رب العزت کی کمال قدرت کی علامت ہے-

 بشریت کے متعلق خدائی فیصلہ:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَ ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا‘‘[8]

’’وہی ذات ہے جس نے پانی سے بشر کو پیدا فرمایا‘‘-

 یہ بھی صحیح ہے- مزید فرمان خداوندی  ہے:

’’اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ  مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی‘‘[9]

’’بے شک ہم نے تم کو مرداورعورت  سے پیدا کیا‘‘-

یہ بھی صحیح  ہےاور مزید فرمانِ خداوندی ہے:

’’ اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَۃٍ‘‘[10]

’’بے شک ہم نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا‘‘-

یہ بھی صحیح  ہے؛ اور ابو البشر حضرت آدم (علیہ السلام) کو بغیر ماں باپ کے مٹی سے پیدا فرمایا - یہ بھی صحیح ہے-

اصل بشریت :

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَ مِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ‘‘[11]

’’ اور اللہ کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا‘‘-

اگر تمہاری طرح ظاہری معنیٰ ہی لیے جاویں- تو معاذ اللہ دعوٰی خداوندی غلط ثابت ہوتا ہے حقیقت یہ ہے چونکہ ہمارے باپ آدم (علیہ السلام)کو رب العزت نے مٹی سے پیدا فرمایا- اور ہم حضرت آدم (علیہ السلام)کی اولاد سے ہیں - اس لیے رب العزت نے ہماری طرف بھی ’’خَلَقَکُمْ مِّنْ تُرَابٍ‘‘ (اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا) کو منسوب فرمایا- اس کے بعد فرمانِ الٰہی ’’ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ  مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی‘‘ (بے شک ہم نے تم کو مرداورعورت  سے پیدا کیا)بھی صحیح ہوا- اور اس کی قدرت نے ’’ اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘‘[12](یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے)کی رو سے حضرت عیسٰی (علیہ السلام) کو بغیر مذ کرپیدا فرمایا- اب اس قدرت الٰہیہ سے اس کے قانون ’’اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ  مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی‘‘ (بے شک ہم نے تم کو مرد اور عورت  سے پیدا کیا)   کو غلط نہیں کہہ سکتے- بلکہ رب العزت کی اس قدرت کو بھی ’’اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘‘(یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے) اور ’’یَخْلُقُ اللہُ مَا یَشَآءُ‘‘(، اللہ جو چاہے پیدا فرماتا ہے) کے ارشادِ الٰہی کی رو سے حق پر سمجھنا پڑے گا- اور اس پر بھی ایمان لانا مومن کے ایمان کا جزو ہے- جو اس قانون الٰہی پر ایمان نہ لائے اور صرف  ’’ اِنَّا خَلَقْنٰکُمْ  مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی‘‘ (بے شک ہم نے تم کو مرداورعورت  سے پیدا کیا)کی ہی رٹ لگاتا رہے تو اس کو منکر قرآن کریم و منکر قدرت الٰہیہ کہا جاوے گا- ایسے ہی قدرت الٰہیہ نے اپنے کمال سے باوجود مذکر و مونث کی وساطت کے مصطفٰے کریم (ﷺ) کو جو حقیقتاً نور تھے- جسمیت انسانی نوری عطا کر کے ظاہر فرمایا- تمہارا اپنے جیسا بشر ہونے کا عقیدہ رکھنا یہ غلط ہے-

سوال: یہ بات تو سمجھ میں آگئی کہ واقعی وہ خداوندکر یم اپنی  قدرت سے بشرسے نور پیدا کر سکتا ہے لیکن ’’مِنْ اَنْفُسِکُمْ‘‘ کا کیا ترجمہ کرو گے؟

’’مِنْ اَنْفُسِکُمْ‘‘كى تحقیق :

جواب:جناب ہمیں  ’’مِنْ اَنْفُسِکُمْ‘‘ کلامِ خداوندی سے کب انکا رہے ،فقیر اس امر کو ابھی ثابت کر چکا ہے کہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ (ﷺ) حقیقتاً نور ہیں- اور قدرتِ خداوندی نے آپ (ﷺ)کے ماں باپ کی وساطت سے دنیا میں نور کو جمعیت انسانی نوری عطا کر کے مبعوث فرمایا ہے - اور آپ (ﷺ)کے جسم مبارک پر آپ کی حقیقت محمدیہ نور غالب ہے- مثلاً مخلوقات میں نوری پیدائیش سے ملائکہ بھی نوری خلقت ہیں- لیکن جب حضرت جبریل امین (علیہ السلام) جسم انسانی میں ملبوس ہو کر تشریف لاتے ہیں تو ان کی نورانیت پر جسمانی بشریت اتنی غالب ہو جاتی ہے کہ وہ اس جسمانی ہیئت کذائیہ میں سدرۃ المنتہی کی طرف پرواز نہیں کر سکتے بلکہ آسمانِ اول کی طرف بھی نہیں بڑھ سکتے لیکن مصطفےٰ کریم (ﷺ) کا حقیقی نور آپ کے جسم انسانی پرغالب ہے، جو بمع جسمیت نوری تمام آسمانوں کو عبور کرتا ہوا سدرۃ المنتہی کے پار لا مکان پر تشریف لے گیا- لامکان پر تشریف لے جانے سے جسمیت میں فرق لازم نہ آیا، جیسا کہ زمین میں قیام فرمانے سے نور میں فرق نہ آیا- ثابت ہوا کہ آپ کی جسمیت حقیقتاً نور ہی تھی- جو عالم سماوی و عالم ملکی کو عبور کرتے ہوئے لا مکان تک پہنچ گئے-

قدرتِ خداوندی کا عجیب نمونہ:

جواب : ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَ  اِنَّ لَکُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَۃً ط نُسْقِیْکُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِہٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّدَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ‘‘[13]

’’اور بیشک تمہارے لئے چوپایوں میں نگاہ حاصل ہونے کی جگہ ہے ہم تمہیں پلاتے ہیں اس چیز میں سے جوان کے پیٹ میں ہے گوبر اور خون کے بیچ میں سے خالص دودھ گلے سے سہل اترتا پینے والوں کے لئے‘‘-

 کیوں صاحب کبھی تم نے دودھ پینے سے گریز کیا ہے- اور اعتراض کیا ہے کہ ہم دودھ نہیں پئیں گے- کیونکہ چوپایوں کے خون اور گوبر کا نچوڑ ہے حالانکہ بناوٹی دودھ کو ترک کر کے تم چوپایوں کو سامنے دو ہے ہوئے دودھ کو جلدی اور مہنگا خریدتے ہو- تم دودھ سے کیوں نہیں ناک چڑھاتے- حالانکہ وہ بھی چوپایوں کے پیٹ کے فضلوں کا نچوڑ ہوتا ہے- ثابت ہوا کہ وہ خلّاق جو چاہے جس سے چاہے پیدا کر سکتا ہے- اور سنیئے !

’’وَ اَوْحٰی رَبُّکَ اِلَی النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّمِنَ الشَّجَرِ وَمِمَّا یَعْرِشُوْنَ؁ ثُمَّ کُلِیْ مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُکِیْ سُبُلَ رَبِّکِ ذُلُلًا ط یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِہَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُہٗ  فِیْہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً  لِّقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ ‘‘[14]

’’ اور تمہارے رب نے شہد کی مکھی کو الہام کیا کہ پہاڑوں میں گھر بنا اور درختوں میں اور چھتوں میں- پھر ہر قسم کے پھل میں سے کھا اور اپنے رب کی راہیں چل کہ تیرے لئے نرم و آسان ہیں اس کے پیٹ سے ایک پینے کی چیز ،رنگ برنگ نکلتی ہے جس میں لوگوں کی تندرستی ہے، بیشک اس میں نشانی ہے  دھیان کرنے والوں کو ‘‘-

کیوں جناب مکھی کے پیٹ میں قدرتِ خداوندی شہد تیار کر دے تو تمہارے لیے شفا اور تمہاری عقل اس خدائی کاریگری کوتسلیم کرے- چوپایوں کے پیٹوں میں رب العزت گوبر سے دودھ تیار کردے تو تمہاری عقل تسلیم کرے لیکن اگر حضرت عبداللہ کی پشت سے اور حضرت آمنہ کے بطن سے مصطفٰے  کریم (ﷺ) کا نورانی جسم اطہر پیدا فرمادے تو خدا وندکریم کی اس قدرت کاملہ کا تمہیں انکار ہے- حالانکہ رب العزت نے اس کی تشریح قرآن کریم میں فرما دی-

’’وَ قَدْ خَلَقَکُمْ  اَطْوَارًا‘‘[15]

’’اور تمہیں اللہ تعالیٰ نے قِسم قِسم کا پیدا فرمایا ‘‘-

حضرت آدم (علیہ السلام) کو بغیر مذکر مؤنث کے اور حضرت حوا (علیہا السلام) کو بغیر مؤنث کے اور حضرت عیسٰی (علیہ السلام) کو بغیر مذکر کے- رب العزت کی حکمت کاملہ تھی کہ بغیر باپ کے نطفے کے اگرحضرت عیسٰی  (علیہ السلام) کو روح القدس نبی پیدا کر سکتا ہے اور باوجود روح القدس ہونے کے پھر بھی وہ اس کے بندے اور رسول کہلا سکتے ہیں تو مصطفےٰ کریم (ﷺ) کو والد ماجد کے وجود سے، والدہ ماجدہ کے بطن پاک میں نور نقل فرماکر روح اللہ کی طرح نور اللہ کا ظہور فرما سکتا ہے جو اس کا بندہ اور رسول کہلا سکتا ہے تو حضرت محمد رسول اللہ (ﷺ) کو بوساطت ماں باپ کے نور پیدا فرمایا، یہ اس معبود و خالق  خلاق العظیم اور خلاق العلیم کی قدرت کا نشان ہے جس سے کوئی مومن مسلمان انکار نہیں کر سکتا کیونکہ بہ قانون ’’اَلَا لَہُ  الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ‘‘[16] (اور حکم دینا اسی کی شان کے لائق ہے)خلق اور امر اسی کے قبضہ قدرت میں ہے، جیسے چاہے، جو چاہے، جس طرح چاہے پیدا کر سکتا ہے، کسی کو کوئی اعتراض کی گنجائش نہیں - بلکہ معترض منکر کہلا ئے گا -

’’ذٰلِکُمُ اللہُ رَبُّکُمْ ج  لَآ  اِلٰہَ  اِلَّا ہُوَ ج خَالِقُ کُلِّ شَیْءٍ‘‘[17]

’’ یہ تمہارا للہ تمہارا پروردگارہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں - ہر شے کا خالق ہے‘‘-

نورِ مصطفٰے (ﷺ) کے منکرین پر بڑا افسوس ہے کہ صرف بنی اسرائیل کی طرف اللہ رب العزت روح اللہ کو مبعوث فرما ئے- اور فرمائے کہ روح الله بھی بنی اسرائیل کے مستقل رسُول اللہ ہیں- اور ’’عبد اللہ‘‘ بھی ہیں- اور اسی رب العزت نے پھر فرمایا کہ مصطفٰے کریم (ﷺ) نور اللہ بھی ہیں  اور عالمین کی طرف مبعوث ہیں- اور باوجود نوراللہ ہونے کے عبدہ ورسولہ بھی ہیں- تو تم نے بنی اسرائیل کے نبی روح اللہ کو عبداللہ اور رسول اللہ تسلیم کر لیا اور تمہارے نزدیک حضرت عیسٰی (علیہ السلام)با وجود عبد اللہ اور رسول اللہ ہونے کے ان کے روح اللہ ہونے میں فرق لازم نہ آیا- اور نہ ہی تم نے اعتراض کیا کہ روح الله ،رسول اللہ نہیں ہو سکتا- یا عبد اللہ کے خطاب سے تم نے حقیقتاً روح اللہ ہونے کا انکار نہ کیا-

لیکن میرے پیارے محبوب مصطفٰے  (ﷺ) کے رسول اللہ ہونے سے یا عبداللہ ہونے سے تمہیں حقیقتاً نور اللہ ہونے میں پس و پیش ہے اور تمہارے ایمانوں میں خلل واقع ہونے لگ گیا- حالانکہ تمہیں چاہیئے تھا کہ حضرت عیسٰی (علیہ السلام)  کے روح اللہ ہونے کا صاف انکار کرتے کیونکہ اُن کی قوم نے انہیں روح اللہ ہونے کی وجہ سے ہی ابن اللہ کہنا شروع کردیا اور تمام عالمین میں مصطفٰے  کریم (ﷺ) کاکوئی ایسا امتی نہیں جس نے آپ کو نور اللہ ہونے کی وجہ سے یا کسی اور صفات کا ملہ کی وجہ سے معاذ اللہ ابن اللہ یا اخو اللہ کا خطاب دیا ہو-

ہمارا وہ خداوند جس نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو بغیر مرد و عورت کے نطفے کے مٹی سے عبداللہ بنایا- اس کو رسول اللہ (ﷺ)کے خطاب سے نوازا- اسی عزیز نے حضرت عیسٰی (علیہ السلام)کو بغیر باپ کے نطفے کے صرف حضرت مریم (علیہ السلام) کے بطن سے روح الله کو پیدا فرمایا اور عبداللہ اور رسول اللہ سے عزت بخشی- اسی خداوند تعالیٰ جل شانہ نے اپنی قدرت جوادہ سے بوساطت والدین محمد رسول اللہ (ﷺ) کو نوراللہ  و عبداللہ ظاہر  فرمایا-اب تمہارے انکار سے مصطفےٰ کریم (ﷺ) کی حقیقت نوری نہیں بدل سکتی-جیسا کہ روح اللہ سے بدل نہیں سکتی-

 اگر ’’اَللہُ یَصْطَفِیْ مِنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ  رُسُلًا‘‘[18](اللہ فرشتوں میں سے رسولوں کو چُن لیتا ہے) کے قانون سے حضرت جبریل (علیہ السلام) نوری وجود والا انسانی لباس میں تشریف لاکر رسول بن سکتا ہے- تو ’’وَمِنَ النَّاسِ‘‘ کے قانون سے مصطفٰے (ﷺ) بھی نوری وجود رکھنے والے رسول اللہ تشریف لاسکتے ہیں-

حضرت جبریل (علیہ السلام) بھی عبد اللہ آپ بھی عبد اللہ و بھی رسول اللہ آپ (ﷺ) بھی رسول اللہ وہ صرف نبیّوں  کے رسول اللہ آپ عالمین کے رسول اللہ (ﷺ) جبریل کی رسالت ختم ہو گئی-آپ کی قیامت تک اور بعد میں بھی جاری و ساری ہے-

وہ خداوند کریم جو نحل سے یعنی شہد کی مکھی کے پیٹ سے شہد تیار کرنے کا کا ریگر ہے - حالانکہ باقی مکھیاں بھی ہیں- جن کے اندر سے گند نکلتا ہے - جن سے بچنے کیلئے لوگ جالیاں اور پردے لگاتے ہیں کہ کہیں ہمارے گھروں میں داخل نہ ہو جائیں- برتنوں پر نہ بیٹھیں- کیونکہ ان کے پیٹ سے جو غلاظت نکلتی ہے- اس سے بیماری لاحق ہو جائے گی اور شہد لگنے والی مکھیوں کو لوگ اپنے گھروں میں قیمتاً‎ خرید خرید کر لاتے ہیں اور جگہ دیتے ہیں - تاکہ ہمیں اپنا گوہ اکٹھا کر کے دے  اور اچھے اچھے برتنوں میں رکھ کر کھاتے ہیں اور ’’شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ‘‘ سے اپنے اندر کی بیماریوں سے شفا پاتے ہیں- حالانکہ یہاں مثلیت صحیحہ ہے مکھی ہونے میں دونوں یکساں ہیں- حقیقت میں رب العزت نے دونوں کو علیحدہ علیحدہ تیار فرمایا ہے - لیکن ایک کا ہگا ہوا شفا ہے اور ایک کا ہگا ہوا بیماری ہے - یہاں ’’مِثْلُکُمْ‘‘ کا سوال کبھی نہیں اُٹھا- شہد کی مکھی کی حقیقت کے علیحدہ ہونے کا کسی منکر کو انکار کا موقعہ نہیں ملا- تو ایسے ہی رب العزت نے حضرت آمنہ (رضی اللہ عنہا)  کو صُورت تو دوسری عورتوں میں عنایت فرمائی لیکن حقیقت علیحدہ تیار فرمائی- دوسری عورتیں میں اگر حقیقتاً صرف انسان و بشر کو ہی پیدا کرتی ہیں- تو حضرت آمنہ (رضی اللہ عنہا) نور اللہ کی حاملہ ہوئیں- باقی عورتیں ایسے بھی انسان پیدا کرتی ہیں- جن کے متعلق ارشادِ الٰہی ہے:

’’فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ‘‘[19]

’’اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظلم کرنے والے لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو‘‘-

جن کو مسلمانوں کے ہاں جگہ دینے سے گریز ہے- ان سے اجتناب لازمی ہے-اور حضرت آمنہ (رضی اللہ عنہا) نے ایسا عبداللہ جنا کہ جس کی حقیقت نور اللہ ہے- جس کو اللہ تعالیٰ کے ہاں  ’’ قَابَ قَوْسَیْنِ  اَوْ اَدْنٰی‘‘(تو وہ ( نبی مکرم (ﷺ)، اللہ سے) دو کمانوں کی مقدار قریب ہوگئے یا اس سے بھی زیادہ)  کا مقام عطا ہوا –

مثلیث کے جھگڑے کو ترک کرو- حقیقت کو دیکھنے کی کوشش کرو اور حقیقت کے طلب گار بن جاؤ- مثلیث کو دیکھ کر پیچھے نہ ہٹ جاؤ- محروم رہ جاؤ گے- ایسے ہی مثلیث کو دیکھنے والا اگر بھینس کا دودھ دوہ کر مثلیث میں دھوکا کھا جائے اور پھینے کے نیچے دودھ دوھنے کے لئے بیٹھ جائے تو خود سوچو کہ اسے کیاحاصل ہو گا-

’’ اِنَّمَآ  اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ‘‘كی تحقیق:

سوال : محمد ()تو ہمارے جیسے بشرہی تو ہیں  اور یہ عقیدہ قرآن کے مطابق  ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

’’قُلْ اِنَّمَآ  اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوْحٰٓی اِلَیَّ اَنَّمَآ  اِلٰـہُکُمْ  اِلٰہٌ  وَّاحِدٌ‘‘[20]

آپ ()کہیے میں (خدا نہ ہونے میں) تمہاری ہی مثل بشر ہوں، میر طرف یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے‘‘-

جب اللہ فرماتا ہے کہ تم کہہ دو میں تمہاری مثل بشر ہوں تو ہمیں کہنے سے کوئی خرابی نہیں؟

جواب:’’ اِنَّمَآ  اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ‘‘ کی تفسیر از تفاسیر:

’’قَالَ الْحَسَنُ عَلَّمَهُ اللهُ تَعَالَى التَّوَاضُعَ‘‘[21]

حضرت حسن نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ’’ قُلْ اِنَّمَآ  اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ‘‘ فرما کر تواضع کا سبق سکھایا ہے-

’’ قُلْ إِنَّمَاْ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ‘‘،اَمَرَ مُحَمَّدًا (ﷺ) بِأَنْ يَّسْلُكَ طَرِيقَۃَ التَّوَاضُعِ‘‘[22]

’’یہ اللہ تعالیٰ نے اس واسطے مصطفٰے کریم (ﷺ) فرمایا تاکہ آپ (ﷺ) کو تواضع اور عاجزی کا سبق ملے‘‘-

اور آپ (ﷺ) کی سنت پر آپ کی امت عمل کرے اور اپنے آپ کو عاجز کہیں فخرنہ کریں- اوراپنے آپ کو بڑائی کی طرف   نہ لے جا دیں- اور نہ اپنے آپ کو  بڑوں سے تشبیہ دیں- لیکن بعض امتی ایسے بدفہم نکلے ، جنہوں نے اس آیت کریمہ کا الٹ مطلب سمجھ لیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آپ (ﷺ) کو ’’ بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ‘‘ کا سبق سکھایا ہے تو ہم بھی آپ (ﷺ) کو ’’ بَشَرٌ مثلنا‘‘ ہی کہیں گے- افسوس ایسی امت کے ایسے دماغ وسمجھ پر! امت  کا حق تو یہ تھاکہ عرش معلیٰ کی سیاحی کرنے والوں کو جب ’’ بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ‘‘کی تواضع کا حکم ہورہاہے ،ہم تو آپ کے امتی ہیں ہمیں تو اپنے آپ کو کمترین سے کمترین کے مشابہ سمجھنا چاہیئے تاکہ مصطفٰے کریم (ﷺ) کی سنت پر عمل ہو نہ کہ مثل کہنے سے عمل ہوا ہے- مثلکم کا لفظ  تواضعاً تو آپ نے فرمایا ،تمہاری تواضع تو تب ہے کہ اس سے بھی کم تواضع کا لفظ ہو-

جواب:  آقا کریم (ﷺ) نے فرمایا:

’’عَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: خَلَقَ اللهُ آدَمَ عَلٰى صُورَتِهٖ‘‘[23]

’’حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام)  کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا ‘‘- (صحیح بخاری ،3326)

اگر آدم (علیہ السلام)  تمہارے عقیدے کے ہوتے تو فرماتے کہ میں خدا  کی مثل ہوں یا مصطفٰے کریم (ﷺ) حکم فرما دیتے کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو اپنی صورت پر پیدا فرمایا ہے- لہٰذا حضرت آدم (علیہ السلام)خدا جیسے ہوئے- اور جب حضرت آدم (علیہ السلام)خدا جیسے ہوئے  تو ہم تمام خدا جیسے ہوئے-اگر وہاں مثلکم میں حضور (ﷺ) کی مماثل بنتے ہو تو یہاں خدا کی مثل بھی بن جاؤ-نچلا درجہ کیوں پسند کرتے ہیں-ترقی کر کے خدائی مرتبہ پر کیوں نہیں فائز ہوجاتے-کچھ خدا کا خوف کرو-

جواب:اب قرآن کریم سے عرض کرتا ہوں:

’’ رَبَّنَا ظَلَمْنَآ  اَنْفُسَنَا سکتہ وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْلَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ‘‘[24]

’’ اے رب ہمارے ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیاتو اگر تُو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور نقصان والوں میں ہوئے‘‘-

کیا تم بھی حضرت آدم (علیہ السلام) کی سنت ادا کرتے ہوئے کہوگے کہ معاذاللہ حضرت آدم (علیہ السلام) ظالم و خاسر تھے، کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے اپنے آپ کو کہا تم کیوں نہ کہو اگر تم حضرت آدم (علیہ السلام)کے فرمائے کو کہو تو  تمہارا ایمان نہیں رہتا- تو ایسے ہی مصطفٰے کریم (ﷺ) کے فرمائے ہوئے کو تمہارا ویسے کہنا بھی ایمان سے خارج کر دیتا ہے-کیونکہ حضرت آدم (علیہ السلام) نے عجز و انکساری سے فرمایا اور حضور نبی کریم (ﷺ) کو بھی آبائی سبق عجز و  انکساری کا ’’قُلْ اِنَّمَآ  اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ ‘‘ نے سکھایا-ایسے ہی حضرت یونس (علیہ السلام) نے فرمایا:

’’لَآ اِلٰہَ  اِلَّآ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ ق صلے اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ‘‘[25]

’’تیرے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے تو پاک ہے، بیشک میں (ہی) زیادتی کرنے والوں میں سے تھا ‘‘-

جواب: ’’قُلْ اِنَّمَآ  اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ‘‘ کی نفس عبارت کو ہی اگر دیکھا جائے تو بھی تمہارا مطلب اس آیت کریمہ سے ثابت نہیں ہوتا کیونکہ حضور نبی کریم (ﷺ) کا اپنی مثل کہنا اگر امت کو حکم ہوتا  کہ تم کہو کہ ہم مصطفےٰ کریم (ﷺ) کی مثل ہیں پھر تو تم سچے تھے اور جب تمہیں حکم نہیں ہوا تو تم جھوٹے ہو جو  مصطفےٰ (ﷺ) کو اپنی مثل کہتے ہو-یہ تمہارا اپنی مثل کہنا سراسر قرآن کریم کے خلاف ہے -مصطفےٰ کریم (ﷺ) کو اپنی مثل بشر کہنا شرعاً  و عقلاً  بھی منع ہے-

٭٭٭

(ماخوذ از : مقیاسِ نور، ص:21-32، ص:185-187/ تالیف:مناظراسلام ابو عبدالوہاب مولانا  محمد عمر اِچھرویؒ  / مطبوعہ: مکتبہ سلطانیہ،لاہور)


[1](النور:45)

[2](النحل:5)

[3](النحل:8)

[4](الشعراء:156)

[5](الشعراء:45)

[6](النجم:14)

[7](النجم:8-9)

[8](الفرقان:54)

[9](الحجرات:13)

[10](الدھر:2)

[11](الروم:20)

[12](البقرۃ:20)

[13](النحل:66)

[14](النحل:68-69)

[15](النوح:14)

[16](الاعراف:54)

[17](الانعام:102)

[18](الحج:75)

[19](الانعام:68)

[20](الکہف:110)

[21](تفسیر خازن، زیر آیت الکہف:110)

[22](تفسیر کبیر، زیر آیت الکہف:110)

[23](صحیح بخاری)

[24](الاعراف:23)

[25](الانبیاء:87)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر