تعارف:
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ (470ھ-561ھ) اسلامی تصوف و روحانیت کے میدان میں ایک نابغۂ روزگار عالم،مفکر، واعظ و محقق اور جلیل القدر صوفی تھے- آپ سلسلہ ٔ قادریہ کے بانی اور اپنی تعلیمات میں قرب و وصال الٰہی اور باطنی و روحانی طہارت وپاکیزگی کی خصوصی تلقین کے باعث مرجعِ خلائق ہیں- آپ کی تصانیف خصوصاً ’’الفتح الرّبانی ‘‘ تصوف کے عمیق افکار و تصورات کی تفہیم میں آج بھی بنیادی مصدر و مآخذ کی حیثیت رکھتی ہیں-
’’الفتح الرّبانی‘‘شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے اُن خطبات و مجالس کا مجموعہ ہے جو آپؒ نے اپنے تلامذہ اور اپنے عہد کے سماج(لوگوں) کو ارشاد فرمائے- کتاب کا ہر خطبہ روحانی زندگی کے گوناگوں پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے اور قارئین کو اس امر کی تلقین کرتا ہے کہ کس طرح قربِ حق تعالیٰ تک رسائی حاصل کی جائے- مزید آپؒ عملی زندگی میں اخلاقیات، ایمان اور اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت و بندگی کی ضرورت و اہمیت کو اُجاگر کرتے ہیں -
الفتح الرّبانی میں شیخ عبد القادر جیلانیؒ ایسے قابل عمل رہنما اصول بھی پیش کرتے ہیں جو آج ہر مسلمان کی زندگی میں قابلِ اطلاق ہیں- یہ کتاب دنیوی و اخروی حیات کے مابین اعتدال و توازن کی تاکید اور مذہبی اعمال و عبادات میں ہر طرح کے غلو کی نفی کے ساتھ ساتھ تفہیمِ اسلام کے لیے ایک ہمہ جہت و ہمہ گیر نظریہ پیش کرتی ہے- لہٰذا اِس کتاب کا تجزیہ اُن صوفیانہ اقدار و روایات کی عمیق تفہیم کے حصول کےلیے بہت اہمیت رکھتا ہے جن کی آپؒ نے ترویج و تلقین فرمائی ہے- زیرِ نظر تحقیق کا مقصد شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی تصنیفِ لطیف ’’الفتح الرّبانی‘‘ میں بیان کردہ افکار کے تناظر میں توحید، زہد، توکل،شریعت وطریقت کے مابین تعلق نیز محاسبہ نفس کا تجزیاتی مطالعہ پیش کرنا ہے -
شیخ عبد القادر جیلانیؒ کا تصورِ توحید:
الفتح الرّبانی کا ایک اہم اور کلیدی موضوع توحید خالص کابیان ہے-آپؒ اس بات پہ زور دیتے ہیں کہ ایک مسلمان کےلیے لازم ہے کہ وحدانیتِ حق تعالیٰ پہ راسخ ایمان رکھے اور ہر قسم کے شرک سے کلی اجتناب کرے - اُن کے نزدیک توحید ہی اسلام میں تمام صحیح عقائد اور عبادات کی بنیاد و اساس ہے-شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ توحید محض اقرار باللسان کا نام نہیں بلکہ تصدیقِ قلب اور روزمرہ زندگی میں عملی طور پر اپنانے کانام ہے-
چنانچہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے نزدیک توحید زندگی کی اصل و بنیاد ہے جو انسان کو روحانی و مادی دونوں سطح پہ فلاح و کامیابی سے ہمکنار کرتی ہے- یہ محض خالی خولی عقیدہ نہیں بلکہ سراسر عمل سے عبارت ہے جو سیر ت و کردار کی تعمیر ، تعلق باللہ میں استحکام اور جدید طرزِ حیات میں خیرو برکات کا موجب ہے- توحید کی کامل تفہیم اور عملی اطلاق کے ذریعے انسان زندگی کے چیلنجز اور مسائل سے نبردآزماہونے کے باوجود حقیقی سعادت و شادمانی اور قلبی و باطنی سکون حاصل کرسکتا ہے-
توحید الافعال(توحیدِ افعالی):
توحیدِ افعالی سے مراد یہ عقیدہ ہے کہ کائنات میں رونما ہونے والے تمام افعال و حوادث فقط مشیتِ الٰہی اور قدرتِ کاملہ کا مظہر ہیں-الفتح الربّانی میں شیخ عبد القادر جیلانیؒ تاکید فرماتے ہیں کہ ہر حرکت اور تغیر و تبدل اللہ تعالیٰ کے حکم و مشیت کے تابع ہے-
آپؒ یاد دہانی کرواتے ہیں کہ انسان کےلیے یہ ادراک حاصل کرنا لازم ہے کہ دنیا میں ہرشئے جو نمود پاتی ہے خواہ وہ خیر ہو یا شر، مشیتِ الٰہی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کیلئے ایک امتحان و آزمائش ہے- لہٰذا ایک مسلمان کو چاہیے کہ و ہ ابتلاء اور آزمائش کے دوران صبر و تحمل کا دامن کبھی ہاتھ سے نہ جانے دے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطاکردہ نعمتوں پہ شکر بجالائے کیونکہ یہ سب کچھ عطائے خداوندی سے ہے-
مزید برآں شیخ عبد القادرجیلانی ؒ تاکید فرماتے ہیں:
کسی انسان کےلیے زیبا نہیں کہ وہ کوئی فعل انجام دیتے وقت مخص خود پہ (یعنی اپنی میں یا انا کو بیچ میں لانا) یا کسی دوسری مخلوق (غیر اللہ) پہ بھروسہ کرے کیونکہ ہر قوت و استطاعت (توفیق) اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے- زندگی کے ہر پہلو میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل توکّل و بھروسہ ہی توحیدِ افعال کا حقیقی اظہار ہے-
الفتح الربّانی میں آپؒ نے عبادتِ الٰہی میں اخلاص کی اہمیت کو بھی اُجاگر فرمایا ہے- آپؒ کے نزدیک عبادت میں اخلاص ہی توحیدِ حقیقی کا عکاس ہے کیونکہ ایسی عبادات جو ریاکاری و دکھاوے یا مادی و نفسانی اغراض سے آلودہ ہوں شرکِ خفی کاسبب بن سکتی ہیں-
اس کے علاوہ شیخ عبد القادر جیلانیؒ توحید کے عمیق مشاہدے کے ضمن میں تصورِ فنا پر بھی مفصل روشنی ڈالتے ہیں – آپؒ کے نزدیک جو شخص حقیقتاً توحید کاادارک و معرفت حاصل کر لیتا ہے اس پہ یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ انسان محض اللہ کے عبد و بندے ہیں جبکہ ذاتِ الٰہ کے سوا ہرشئے فانی و عارضی ہے- لہٰذا ہر انسان پہ لازم ہے کہ وہ قلب کو نفسانی و مادی خوہشات کے بندھن سے آزاد کرنے کیلئے سعی و کوشش (نفس کے خلاف جہاد )کرے تاکہ اسے معرفتِ الٰہی نصیب ہو- چنانچہ شیخ عبد القادر جیلانی ؒ کے نزدیک توحید الافعال باطنی قرار و سکون اور دنیاوی فلاح و کامیابی کی بنیاد ہے- اس پہ عمل پیرا ہوتے ہوئے مسلمان حددرجہ اطمینانِ قلب ،صبر و استقامت اور اللہ تعالیٰ کی ذات پہ کامل بھروسہ کے ساتھ جدید دور کے چیلنجز اور مسائل کا مقابلہ کرسکتے ہیں-
توحیدِ ربوبیّت اور توحید اُلوہیّت :
ربُوبیّت اسلامی عقائد کی ایک اہم اصطلاح ہے جو عربی زبان کے لفظ ’’ربَّ‘‘ سے ماخوذ ہے جس کا معنی ہے پروردگار، پالنہار (پالنے ولا) اور قادرِ مطلق جبکہ اُلوہیّت عربی لفظ ’’إِلٰه‘‘ سے ماخوذ ہے جس سے مراد معبودِ برحق یا وہ واحد و لاشریک ذات جو عباد ت و بندگی کے لائق ہے-
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے افکار میں توحیدِ ربوبیت سے مراد یہ عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کل کائنات کا یکتا خالق، مالک اور پرودگار و نگہبان ہے- الفتح الربّانی میں شیخ عبد القادر جیلانیؒ اس حقیقت پہ زور دیتے ہیں کہ اس دنیا میں جملہ حوادث محض اللہ تعالیٰ کے حکم و مشیتِ کے تحت ہی رونما ہوتے ہیں- لہٰذا انسا ن کو ایمان کامل رکھنا چاہیے کہ روزی و رزق، موت و حیات اور قضاو قدر کے جملہ احکام اللہ رب العزت کی قدرتِ مطلق کے تابع ہیں-
توحیدِ اُلوہیّت کے ضمن میں شیخ عبد القادر جیلانی ؒ اس بات کی اہمیت پہ زور دیتے ہیں کہ ثالث و شریک ٹھہرا ئے بغیر عبادت صرف ذاتِ الٰہی کےلیے خاص ہے- آپؒ اس امر کی تاکید فرماتے ہیں کہ انسان کو ذاتِ الٰہ کی عبادت اوراُس سے وابستگی کے سوا ہر قسم کی عبادت بشمول غیر اللہ پہ حد سے زیادہ انحصار اور مادی وسائل سے قلبی وابستگی کو قطعی طور پہ ترک کردینا چاہیے- عبادات کی ادائیگی اخلاص کے ساتھ اور محبتِ الٰہی کی خاطر ہونی چاہیے نہ کہ محض اجرو ثواب اور مادی فوائد کے حصول کی خاطر -
آپؒ کے نزدیک توحیدِ اُلوہیت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ انسان اپنی زندگی کے ہر شعبے میں احکامِ الٰہی کو مقدم رکھے- شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مسلمان کو اپنی حتمی و قطعی رہنمائی کے طور پر اسلامی شریعت کے علاوہ کسی بھی نظام کو اختیار نہیں کرنا چاہیے کیونکہ اطاعت و بندگی کا قطعی حق صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے- اس لیے آپؒ اہلِ ایمان کو تلقین فرماتے ہیں کہ وہ ہر طرح کے اعتقادی انحرافات سے اجتناب کریں جو ان کے عقیدہ توحید کی پاکیزگی کو مجروح کرسکتے ہوں- چنانچہ توحیدِ ربوبیت اور توحیدِ اُلوہیت ایک ایسی متوازن اور بامقصد زندگی کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے جس میں مرکز و محور اور منتہائے مقصود صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہو-
عقیدۂ توحید کو عملی زندگی میں راسخ کرنا:
شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اس حقیقت پر زور دیتے ہیں کہ معرفتِ توحید محض نظری سطح تک محدود نہ ہو بلکہ اسے روزمرہ زندگی میں عملی طور پر بھی جھلکنا چاہیے- الفتح الرّبانی میں آپؒ تلقین فرماتے ہیں ایک مسلمان کو اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اطاعتِ الٰہی اور راضی بہ رضائے الٰہی کا کامل پیکر ہونا چاہیے-اِس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان حصولِ رزق ، مصائب و آزمائشوں سے نبرد آزماہونے اور زندگی کے ہر فیصلے میں اللہ تعالیٰ پر مکمل توکل اختیار کرے-
مزید برآں آپؒ دل کو کبر و ریا اور حسد جیسے باطنی امراض سے پاک کرنے کی اہمیت پہ زور دیتے ہیں کیونکہ یہ امراض انسان کو توحید حقیقی کی کامل معرفت و پہچان سے محروم کرسکتے ہیں -آپؒ فرماتے ہیں جو لوگ توحید کا صحیح معنوں میں ادارک حاصل کرلیتے ہیں ان کے قلوب پاکیز ہ اور زندگی خوشحال و پرسکون ہوجاتی ہے کیونکہ وہ فانی دنیا کے معاملات پہ تکیہ نہیں کرتے بلکہ فقظ ذاتِ الٰہی پہ توکل و بھروسہ کرتے ہیں-
شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اس امر کی تلقین فرماتے ہیں کہ معرفتِ توحید سماجی زندگی میں انسان کے باہمی تعلقات و تعاملات میں عملی طور پر نمایاں ہونی چاہیے-توحید میں کامل شخص دیانتدار،قابلِ اعتماد اور ذمہ دار و فرض شناس ہوگا کیونکہ وہ بخوبی جانتا ہے اللہ تعالیٰ ہر لمحہ اس کے اعمال سے باخبر ہے-چنا نچہ توحید کی حقیقی معرفت نہ صرف انسان کا تعلق الٰہی مضبوط بناتی ہے بلکہ دیگر انسانوں کے ساتھ تعلقات کو بھی نکھارتی ہے-
مزید برآں! شیخ عبد القادر جیلانیؒ اس امر کی تاکید فرماتے ہیں کہ توحید میں رفعت و کمال صرف مجاہدہ نفس اور ریاضت (روحانی تربیت) کے ذریعے ہی ممکن ہے- جو شخص صدقِ دل سے توحید کو اپناتا ہے وہ اپنی زندگی کے ہر پہلو میں ذاتِ باری تعالیٰ کی موجودگی محسوس کرے گا اور مقامِ احسان تک رسائی کےلیے سعی جمیلہ کو اپنائے گا- مقام احسان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرو گویا کہ تم اس کو دیکھ رہے ہو، اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو یہ سمجھو کہ وہ تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے-
غرضیکہ توحید حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے افکار و نظریات کی بنیاد ہے- آپؒ کے نزدیک عقیدہ توحید تمام اعمالِ صالحہ کی اساس ہے-الفتح الربانی میں آپؒ بارہا اس امر کی اہمیت اجاگر فرماتے ہیں کہ انسان اپنے جملہ امور و معاملات اللہ تعالیٰ کےسپرد کر دے اور شرک جلی و شرکِ خفی سے اجتناب کرے-جو شخص صحیح معنو ں میں توحید پہ قائم ہو اس کے توکل، امید اور اعتماد کا محور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہوتی ہے اور وہ غیر اللہ پہ تکیہ نہیں کرتا-
اہلِ ایمان کی زندگی میں زُہد کی اہمیت و افادیت:
شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی فکر میں زُہد سے مراد متاعِ دنیا سے قلبی بے رغبتی اور حیاتِ اخروی کواولین ترجیح دینا ہے- الفتح الرّبانی میں آپؒ بیان فرماتے ہیں کہ زُہد سے قطعی طور پر ترکِ دنیا مراد نہیں بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ انسان دنیا کی محبت اور مال و متاع کو منتہائے مقصود نہ سمجھ بیٹھے-
آپؒ کے نزدیک زُہد کا حامل مسلمان مال و دولت اورجاہ و منصب کو اپنا مقصدِ حیات نہیں بناتا بلکہ اسے محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے حصول کی خاطر استعمال کرتا ہے-حقیقی زُہد یہ نہیں کہ انسان دنیا کو ترک کردے بلکہ یہ ہے کہ دنیا اس کے ہاتھ میں ہو مگردنیا کی محبت کو دل میں جگہ نہ دے-
شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ زُہد کے ساتھ قناعت اور توکل اختیار کرنا بھی ضروری ہے- آپؒ یاد دہانی کرواتے ہیں کہ دنیا محض ابتلاء و آزمائش کی جگہ ہے جبکہ حقیقی فلاح و کامیابی آخرت میں رضائے الٰہی کے حصول میں مضمر ہے-
تزکیۂ نفس میں زُہد کا کردار:
الفتح الربانی میں شیخ عبدالقادر جیلانیؒ واضح فرماتے ہیں کہ تزکیۂ نفس میں زُہد کلیدی کردار ادا کرتا ہے- آپؒ کے نزدیک اپنے دل سے دنیا کی محبت کو نکالنے والا شخص اللہ تعالیٰ کے زیادہ قریب ہو جاتا ہے اور اُس کا دل حرص و ہوس اور عُجب و تکبر سے پاک ہو جاتا ہے-
زُہد افراد کو اپنی نفسانی خواہشات پہ قابو پانے میں معاون ہوتا ہے اور انہیں عبادتِ الٰہی میں مزید خالص بنادیتا ہے – شیخ عبد القادر جیلانیؒ توجہ دلاتے ہیں کہ دنیا کی محبت بندے کو آخرت سے غافل کرسکتی ہے جبکہ صرف وہی لوگ جو زُہد اختیار کرتے ہیں ارفع روحانی مراتب تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں-
آپؒ یہ بھی تاکید فرماتے ہیں کہ زُہد محض ظاہری طور پر ترکِ دنیا کرنے کا نام نہیں بلکہ اس کا مقصد دل کو یہ تربیت دینا ہے کہ وہ اِس ( حقیر دنیا) پر انحصار نہ کرے بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں رضائے الٰہی کو سب سے مقدم رکھے-
توکل: ایمان کے لیے ایک مضبوط قلعہ کی حیثیت سے
شیخ عبد القادر جیلانیؒ کے افکار میں توکل سے مراد حتّی الوسع جدوجہد کے بعد اللہ تعالیٰ پہ کامل بھروسہ کرنا ہے- الفتح الربانی میں آپؒ بیان فرماتے ہیں کہ توکل کوئی غیر فعال رویہ یا بے عملی کانام نہیں بلکہ اخلاص کےساتھ بھرپور جدوجہد کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل اعتماد اور انحصار کی ایک صورت ہے-
آپؒ تاکید فرماتے ہیں کہ حقیقی توکل ایمان کی علامت اور قربِ الٰہی کے حصول کےلیے بنیادی عناصر میں سے ہے-آپؒ کے نزدیک متوکلین ہمیشہ قلبی و اطمینان و سکون کی کیفیت میں رہتے ہیں کیونکہ انہیں یقینِ کامل ہوتا ہے کہ اللہ رب العزت سب سے بہتر تدبیر فرمانے والا ہے-
شیخ عبد القادر جیلانیؒ توکل کو طہارتِ قلبی اور استقامتِ ایمانی کےساتھ مربوط قراردیتے ہیں-آپؒ بیان فرماتے ہیں کہ جو لوگ حقیقی معنوں میں اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہیں وہ دنیاوی خوف و اندیشے یا مال و اسباب کے نقصان سے غمگین و متزلزل نہیں ہوتے کیونکہ وہ یقین محکم رکھتے ہیں کہ ہر عطا کا حقیقی سر چشمہ اور مسبّب الاسباب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے- لہذا توکل نہ صرف انسان کے یقین کو راسخ کرتا ہے بلکہ زندگی کی مشکلات و چیلنجز سے نمٹنے کے لیے روحانی سکون اور استقامت و ثابت قدمی بھی عطا کرتا ہے-
معرفت و شریعت میں ہم آہنگی :
شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی فکر میں معرفت سے مراد اللہ تعالیٰ کی گہری اور حقیقی معرفت ہے- آپؒ اپنی کتاب الفتح الرّبانی میں اس بات پر زور دیتے ہیں کہ معرفتِ الٰہی راہِ سلوک کا ارفع ترین مقام ہے جس تک رسائی صرف باطنی اخلاص ، خالص بندگی اور تزکیۂ نفس کے ذریعے ہی ممکن ہے-
آپؒ کے نزدیک معرفت محض عقلی علم کانام نہیں بلکہ ایک ایسی روحانی بصیرت ہے جو انسان کو عظمت و وحدانیتِ حق تعالیٰ میں یقینِ کامل کے مرتبے تک پہنچاتی ہے- جو لوگ معرفت الٰہی حاصل کرتے ہیں انہیں قلبی و باطنی سکون نصیب ہوتا ہے اور وہ اپنی زندگی کے ہر پہلو میں اللہ تعالیٰ کی ذات پہ کامل توکل و بھروسہ رکھتے ہیں-
آپؒ اس امر پہ بھی زور دیتے ہیں کہ معرفتِ الٰہی دنیا و آخرت میں سعادت کا سر چشمہ ہے کیونکہ یہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے حقیقی قرب تک پہنچاتی ہے- لہذاشیخ عبد القادر جیلانیؒ کے نزدیک رضائے الٰہی کے حصول کی راہ میں معرفت الٰہی مومن کا اولین مقصد ہوناچاہیے-
شریعت و معرفت کے مابین اعتدال و توازن:
شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ معرفت بغیر شریعت کے گمراہی کا سبب بن سکتی ہے جبکہ شریعت بغیر معرفت کے محض ظاہری و رسمی عبادات کا مجموعہ ہے جن سے کوئی روحانی فیض و منفعت حاصل نہیں ہوتی - الفتح الرّبانی میں آپؒ بیان فرماتے ہیں کہ معرفت و شریعت کے مابین اعتدال و توازن قائم رکھنا ہی ہم آہنگ اسلامی طرزِ حیات کی کلید ہے-
آپؒ کے نزدیک معرفت حقیقتِ الٰہیہ کا عمیق ادراک عطا کرتی ہے لیکن اسے ہمیشہ اتباعِ شریعت کا پابند رہنا چاہیے تاکہ انسان باطل وگمراہ کن عقائد میں مبتلا نہ ہو- شریعت وہ بنیاد ہے جو یہ ضمانت دیتی ہے کہ انسان کے اعمال و عبادات صراطِ مستقیم پہ قائم رہیں جبکہ معرفت روحانی تجربے کو جلا بخشتی اور انسان کو اسلام کی حقیقی شناسائی سے بہرہ مند کرتی ہے-
مسلمان کی زندگی میں محاسبۂ نفس کا کردار :
شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے مسلمان کی زندگی میں محاسبۂ نفس کی غیر معمولی اہمیت کو اُجاگر کیا ہے-الفتح الرّبانی میں آپؒ بیان فرماتے ہیں کہ محاسبۂ نفس (خود احتسابی) تزکیۂ نفس (روح کی طہارت و پاکیزگی) اور تقویتِ ایمان کی بنیاد ہے- ایک مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے اعمال کا محاسبہ اور اپنی کوتاہیوں و لغزشوں کی اصلاح کرتا رہے تاکہ وہ اُس راہ پر ثابت قدم رہ سکے جو رضائے الٰہی کا باعث ہے-
آپؒ کے نزدیک دائمی محاسبۂ نفس انسان کو قربِ الٰہی تک رسائی اور اُسے غفلت و معصیت سے محفوظ رکھنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے-اپنی خامیوں اور عیوب کو پہچان کر ایک مسلمان نہ صرف اپنی عبادات کی اصلاح کرسکتا ہے بلکہ خالق سے اپنے تعلق کو بھی مضبوط بناتاہے-
تزکیۂ نفس: اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ
شیخ عبد القادر جیلانیؒ تاکید فرماتے ہیں کہ تزکیۂ نفس مسلمان کیلئے ’’سیر الی اللہ‘‘ کا بنیادی زینہ ہے- الفتح الرّبانی میں آپؒ بیان فرماتے ہیں کہ قلبِ سلیم (پاکیزہ و مطہر دل) معرفتِ الٰہی اور قربِ حق تعالیٰ کے حصول کے لئے ناگزیر ضرورت ہے-
آپؒ اس بات پہ زور دیتے ہیں کہ مسلمان کو حسد،ریا اور تکبر جیسے روحانی امراض سے بچنا چاہیے کیونکہ یہ امراض بندے اور حق تعالیٰ کے درمیان حجاب اور دوری کا سبب بن سکتے ہیں- تزکیۂ نفس کا عمل مجاہدے کا تقاضا کرتا ہے یعنی ’’اپنی نفسانی خواہشات پہ قابو پانے اور عبادات کو خالص بنانےکےلیے مسلسل ریاضت و جدوجہد کرنا‘‘-
شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے نزدیک معرفتِ الٰہی کے طالب کے لیے ضروری ہے کہ وہ اعمالِ صالحہ کی ادائیگی میں صبر و استقامت اختیار کرے- الفتح الرّبانی میں آپؒ تاکید فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سچے محبین ہمیشہ اپنی اصلاح اور تقویٰ میں بلندی کے لیے کوشاں رہتے ہیں-
حاصلِ کلام:
مجموعی طور پر الفتح الرّبانی میں شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کے افکار اس حقیقت کو اُجاگر کرتے ہیں کہ ایک مسلمان کی زندگی میں توحید، تصوف اور شریعتِ مطہرہ کی کامل اتباع میں باہم توازن و اعتدال اور ہم آہنگی ہونی چاہیے- آپؒ توحیدِ خالص، تزکیۂ نفس اور تقویٰ کو قربِ الٰہی کے حصول کیلئے بنیادی اصول قرار دیتے ہیں-
آپؒ کے بیان کردہ تصوراتِ توحید (توحیدِ ربوبیت، توحیدِ الوہیت اور توحیدِ افعال) اسلام میں تصورِ اُلوہیت کی ایک جامع و ہمہ گیر تفہیم پیش کرتے ہیں-اسی طرح آپؒ کے ہاں تزکیۂ نفس کو معرفتِ الٰہی اورقربِ خداوندی تک رسائی کےلیے کلیدی حیثیت حاصل ہے- یہ تمام عناصر مل کر ایک مسلمان فرد کی شخصیت سازی میں معاون و مددگار ثابت ہوتے ہیں جو نہ صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کرتا ہے بلکہ روز مرہ زندگی میں اخلاقِ عالیہ و حسنِ کردار کا بھی مظاہر ہ کرتا ہے-
شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی تعلیمات عصرِ جدید میں پور ی طرح مؤثر اور قابلِ عمل ہیں جہاں کوئی بھی انسان زندگی کے مسائل و چیلنجز سے نبر دآزماہونے کےلیے ان کی حکمت و بصیرت سے فیض حاصل کرکے خالقِ کائنات سے اپنے تعلق کو مضبوط اور اپنے ایمان کو مزید مستحکم بناسکتا ہے-
٭٭٭