دستک: خواندگی اور تعلیم: قومی خوشحالی کا راستہ

دستک: خواندگی اور تعلیم: قومی خوشحالی کا راستہ

دستک: خواندگی اور تعلیم: قومی خوشحالی کا راستہ

مصنف: ستمبر 2026

خواندگی اور تعلیم: قومی خوشحالی کا راستہ

حصولِ علم ہر مسلمان کے لئے فرض قرار دیا گیا ہے- خواندگی حصولِ علم کے ساتھ ساتھ فرد کی زندگی کو  شعور اور خود اعتمادی فراہم کرنے کا بنیادی ذریعہ بنتی ہے-  پڑھنے اور لکھنے کی صلاحیت، انسان کو اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ کرنے میں مدد دیتی  ہے اور اسے معاشرے میں ایک بیدار اور خودمختار شہری بناتی ہے- تعلیم یافتہ اور فکری طور پر بااختیار فرد نہ صرف زندگی کے فیصلے آزادانہ اور منطقی انداز میں کر سکتا ہے بلکہ وہ سماجی ناہمواریوں اور استحصال کے خلاف آواز اٹھانے کے قابل بھی ہوتا ہے- یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری خواندگی کو بنیادی انسانی حقوق میں تصور کرتی ہے-

آج کے جدید دور میں کسی بھی قوم کی معاشی خودمختاری اور عدم مساوات کے خاتمے کے لیے بھی خواندگی کلیدی حیثیت اختیار کر گئی ہے- آج جس دور میں ہم زندہ ہیں اس جدید تکنیکی دور میں جہاں مہارتوں اور ڈیجیٹل آگاہی کو بنیادی ترجیح حاصل ہے، وہاں ناخواندہ افراد سماجی و معاشی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں- خواندگی افراد کیلئے روزگار کے بہتر مواقع، فنی مہارتوں کے حصول اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو نکھارنے کے نئے راستے کھولتی ہے- حتیٰ کہ سماجی علوم اور معاشرے کی سوجھ بوجھ کیلئے بھی خواندگی بڑی اہمیت اختیار کر گئی ہے- علاوہ ازیں، خواتین کی خواندگی خاندانی کفالت اور نسلِ نو کی تربیت میں انقلابی کردار ادا کرتی ہے- جب قوم کا ہر فرد تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوتا ہے تو سماجی رواداری اور جمہوری اقدار کو فروغ ملتا ہے، یہ عمل کسی بھی قوم کی طویل المدتی اور پائیدار ترقی کا ضامن ہے-

حکومت پاکستان کے جاری کردہ حالیہ اقتصادی سروے کے مطابق، 10 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں پاکستان کی مجموعی شرحِ خواندگی میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے اور یہ 61 فیصد سے بڑھ کر 63 فیصد تک پہنچ گئی ہے (جس میں مردوں کی شرح 73 فیصد اور خواتین کی 54فیصد ہے)- تاہم ان اعداد و شمار کا مطلب یہ ہے کہ اندازاً 6 کروڑ افراد اب بھی ناخواندہ ہیں-  اس تمام پیشرفت کے پسِ پردہ کئی تشویشناک حقائق بھی موجود ہیں- سب سے بڑا مسئلہ تعلیم کیلئے مختص سرکاری اخراجات میں مسلسل کمی ہے، جہاں پورے پاکستان کا تعلیمی بجٹ جی ڈی پی کے 1.9 فیصد سے کم ہو کر 0.8 فیصد ہو کر خطرے کی سرحدوں کو چھو رہا ہے- مزید برآں، ملک بھر میں بہت سے اسکولوں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے؛ محض 65 فیصد اسکولوں میں بجلی کی سہولت میسر ہے، جبکہ پرائمری اسکولوں کی ایک بڑی تعداد پینے کے صاف پانی اور چار دیواری جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہے- اگرچہ اسکول سے باہر بچوں کی تعداد میں کچھ کمی واقع ہوئی ہے، لیکن تعلیمی بجٹ میں کٹوتیوں اور غیر مساوی سہولیات کے باعث خواندگی کی  بظاہر بہتری پائیدار اور معاشی طور پر ثمر آور ثابت نہیں ہو پا رہی-

یونیسکو اور ورلڈ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق، جہاں جنوبی ایشیا میں اوسط شرحِ خواندگی تقریباً 78 فیصد ہے، وہاں پاکستان محض 63 فیصد شرح کے ساتھ خطے میں کافی پیچھے ہے- مالدیپ (%98) اور سری لنکا (%93) تعلیمی میدان میں سرِ فہرست ہیں، جبکہ بھارت (%87) اور بنگلہ دیش (%79) نے بھی بنیادی تعلیم اور خواتین کی خواندگی میں پیشرفت کی ہے- حتیٰ کہ نیپال (%68) اور بھوٹان (%65)  بھی پاکستان سے بہتر پوزیشن پر ہیں- جنوبی ایشیا کے ممالک میں پاکستان کی شرحِ خواندگی صرف  افغانستان (%37) سے بہتر ہے، جس کے باعث یہ خطے میں سب سے کم خواندگی والا دوسرا ملک بنتا ہے- یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق اس کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ اس وقت پاکستان میں تقریبا 2 کروڑ 51 لاکھ 50 ہزار بچے سکولوں سے باہر ہیں - یہ حالات ہماری توجہ طلب کرتے ہیں کہ ہنگامی بنیادوں پر تعلیمی ترجیحات کی تجدید کس قدر لازمی ہے-

خواندگی کی اہمیت کے پیش نظر ہر سال 8 ستمبر کو دنیا بھر میں ’’عالمی یومِ خواندگی‘‘منایا جاتا ہے تاکہ ناخواندگی کے خاتمے کیلئے قومی و بین الاقوامی سطح پر عزم کا اعادہ کیا جائے- پاکستان کے تناظر میں یہ دن صرف ایک روایتی تقریب کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے جو ہمیں اپنے تعلیمی نظام اور مستقبل کی حکمتِ عملی کا جائزہ لینے کی دعوت دیتا ہے-  پاکستان کی پائیدار ترقّی، معاشی استحکام اور سماجی خوشحالی کا راز صرف اور صرف علم، تحقیق اور کتاب کی روشنی کو عام کرنے میں مضمر ہے- بقول علامہ اقبال:

جہانِ تازہ کی افکارِ تازہ سے ہے نمود

 

کہ سنگ و خشت سے ہوتے نہیں جہاں پیدا

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر