ابتدائیہ:
26 اگست 2026ء کی صبح اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (PIMS) کے مادر و طفل صحت (Mother and Child Health) وارڈ میں پیش آنے والا سانحہ پورے ملک کو سوگوار کر گیا- دارالحکومت کے ایک بڑے سرکاری اسپتال کی نرسری میں لگنے والی آگ نے 14 نومولود بچوں کی جان لے لی- یہ وہ بچے تھے جو ابھی دنیا میں آئے ہی تھے، جن کے والدین نے ان کیلئے زندگی کے خواب دیکھنا شروع کیے تھے مگر افسو کہ اچانک سے یہ خواب ماتم میں بدل گئے- ابتدائی اطلاعات کے مطابق وارڈ میں 15 نومولود موجود تھے، جن میں سے صرف ایک کو بچایا جا سکا - [1]یہ واقعہ محض آگ لگنے کا حادثہ نہیں بلکہ انسانی جان کی حفاظت، ہسپتالوں کے انتظامی نظام، فائر سیفٹی (Fire Safety) اور ہنگامی صورتِ حال سے نمٹنے کی ہماری مجموعی صلاحیت پر ایک بڑا سوال ہے-
سانحے کی صبح:
اطلاعات کے مطابق آگ 26 اگست کی صبح تقریباً 6:38 سے 6:45 بجے کے درمیان نرسری میں لگی- پمز کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق ایک چنگاری (spark) کے بعد آگ تیزی سے پھیلی، جبکہ وارڈ میں موجود آکسیجن کے نظام نے آگ کی شدت میں اضافہ کیا- بعض ابتدائی بیانات میں ایئر کنڈیشننگ یونٹ میں خرابی یا دھماکے کو بھی ممکنہ وجہ قرار دیا گیا ہے، تاہم واقعے کی حتمی وجہ کا تعین مکمل تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہے -[2]
پمز انتظامیہ کے مطابق دو ڈاکٹر اور دو نرسیں ڈیوٹی پر موجود تھیں اور سیکیورٹی عملے کی مدد سے بچوں کو نرسری سے نکالنے کی کوشش کی گئی- ایک بچے کو نرسری سے جبکہ چار بچوں کو ملحقہ کمرے سے بچایا گیا- اسی دوران قریب موجود گائنی وارڈ سے درجنوں مریضوں کو بھی نکالا گیا-
ریسکیو کارروائی کے حوالے سے بھی مختلف بیانات سامنے آئے- انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فائر اور ریسکیو ٹیمیں اطلاع ملنے کے چند منٹ بعد موقع پر پہنچ گئیں، جبکہ بعض عینی شاہدین نے امدادی کارروائی میں تاخیر، بند دروازوں اور عمارت سے نکلنے میں مشکلات کی شکایات کیں- اسپتال انتظامیہ نے بعض الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامی راستے (Emergency Exits) کھلے اور قابلِ استعمال تھے-[3]
یہ متضاد بیانات اس بات کی اہمیت بڑھا دیتے ہیں کہ تحقیقات صرف ذمہ دار افراد کی نشاندہی تک محدود نہ رہیں بلکہ پورے واقعے کی لمحہ بہ لمحہ صورتِ حال، فائر الارم، آکسیجن سسٹم، بجلی، دروازوں، ایمرجنسی راستوں، عملے کی موجودگی اور ریسکیو رسپانس کا غیر جانب دارانہ جائزہ لیا جائے-
والدین کا ناقابلِ بیان دکھ:
اس سانحے کا سب سے بڑا بوجھ ان والدین پر پڑا جنہوں نے اپنے بچوں کو علاج اور حفاظت کیلئے ہسپتال کے حوالے کیا تھا- کئی والدین ہسپتال کے باہر بے بسی کے عالم میں اپنے بچوں کے بارے میں معلومات کا انتظار کرتے رہے- ایک والد نے بتایا کہ اس کی صرف تین دن کی بیٹی آگ میں جاں بحق ہو گئی-
یہ صرف 14 اموات نہیں تھیں- یہ 14 خاندانوں کی امیدوں اور خوابوں کا خاتمہ تھا- نومولود کی موت کا غم شاید اس لیے بھی زیادہ گہرا ہوتا ہے کہ والدین ابھی اس بچے کو زندگی میں دیکھنا، سمجھنا اور اس کے ساتھ تعلق بنانا شروع ہی کرتے ہیں- پمز کے باہر موجود والدین کا غم اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ ہسپتال صرف عمارتیں نہیں ہوتے، وہ لوگوں کے لیے امید کی جگہ بھی ہوتے ہیں-
ذمہ داری کا تعین :
وزیراعظم پاکستان نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے اعلیٰ سطحی تحقیق کا حکم دیا اور وفاقی صحت سیکریٹری کو عہدے سے ہٹا دیا- ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کی گئی جسے آگ کی وجہ، ریسکیو کارروائی، فائر سیفٹی اور ممکنہ غفلت کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی -[4]
ذمہ داری کے تعین کا مطلب صرف کسی ایک فرد کو سزا دینا نہیں بلکہ پورے نظام میں موجود کمزوریوں کو سامنے لانا ہے- اگر غفلت ثابت ہوتی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے، لیکن اس کے ساتھ ان اداروں اور ذمہ داران کی بھی جواب دہی ضروری ہے جو کئی برسوں سے فائر سیفٹی اور انتظامی معیار کی نگرانی کے ذمہ دار ہیں-
بنیادی مسائل:
پاکستان میں ہسپتالوں میں آگ لگنے کے واقعات کوئی نئی بات نہیں- گزشتہ برسوں میں لاہور کے سروسز ہسپتال، کراچی کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ اور ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں بھی آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں -[5] اس تسلسل سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہر سانحے کے بعد افسوس، تحقیقات اور یقین دہانیوں کے باوجود مستقل اصلاحات کیوں نہیں ہو پاتیں؟
بنیادی مسئلہ اکثر وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ انتظامی غفلت (Administrative Negligence)، کمزور نگرانی (Weak Oversight)، پرانے انفراسٹرکچر، ناقص منصوبہ بندی اور قوانین پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کا ہوتا ہے- ایک اسپتال میں صرف فائر ایکسٹنگوشر (Fire Extinguisher) رکھ دینا کافی نہیں- فائر الارم، اسپرنکلر سسٹم، آکسیجن لائنوں کی حفاظت، بجلی کے نظام کی باقاعدہ جانچ، محفوظ ایمرجنسی راستے اور تربیت یافتہ عملہ سب ایک مربوط نظام کا حصہ ہیں-
خصوصاً نوزائیدہ بچوں کے وارڈ عام وارڈز سے مختلف ہوتے ہیں- ایسے بچے خود نہیں نکل سکتے- بہت سے بچے انکیوبیٹرز، آکسیجن اور دیگر طبی آلات سے منسلک ہوتے ہیں- اس لیے ان کیلئے ایمرجنسی ایویکیویشن (Emergency Evacuation) کا منصوبہ پہلے سے تیار، آزمایا ہوا اور ہر شفٹ کے عملے کو معلوم ہونا چاہیے-
اس کے علاوہ، اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ 2025ء کے مطابق پاکستان 193 ممالک میں 168ویں نمبر پر ہے اور کم انسانی ترقی (Low Human Development) والے ممالک میں آتا ہے-گزشتہ رپورٹ میں پاکستان 164ویں نمبر پر تھا، یعنی اس کی درجہ بندی میں چار درجے تنزلی ہوئی ہے-[6] یہ دیگر شعبہ جات کے ساتھ صحت کے شعبے کے لیے ایک سنگین خطرے کی نشاندہی ہے، اس لیے انسانی جانوں کے تحفظ اور انہیں بچانے کے لیے صحت کے نظام میں نمایاں بہتری لانا ضروری ہے-
قومی و عالمی ردعمل:
اس سانحے پر وزیراعظم، صدر، سیاسی قیادت اور مختلف سرکاری عہدیداروں نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا- بین الاقوامی سطح پر بھی اس واقعے پر ردعمل سامنے آیا- اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے 14 نومولود بچوں کی موت پر تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ہر نومولود کو زندگی کا محفوظ آغاز ملنا چاہیے اور ہسپتالوں میں ماؤں اور بچوں کے لیے محفوظ ماحول یقینی بنایا جانا چاہیے- یونیسیف نے صحت کے مراکز میں فائر پریوینشن (Fire Prevention) اور حفاظتی معیار فوری طور پر بہتر بنانے پر زور دیا -[7]
پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن، سعودی عرب، ترکیہ، چین، اسپین اور فرانس سمیت سفارتی مشنز نے بھی اپنے تعزیتی پیغامات میں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا- اس عالمی ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ پمز کا سانحہ صرف پاکستان کے لیے نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک بڑا المیہ سمجھا گیا ہے -[8]
آئندہ کا لائحۂ عمل:
سب سے پہلے پمز سمیت تمام بڑے سرکاری اور نجی ہسپتالوں کا جامع فائر سیفٹی آڈٹ (Safety Audit) ہونا چاہیے- یہ آڈٹ صرف کاغذی کارروائی نہ ہو بلکہ عملی بنیادوں پر کیا جائے- فائر الارم، آکسیجن سسٹم، بجلی، ایمرجنسی راستوں، دروازوں، فائر ایکسٹنگوشرز اور دیگر آلات کی باقاعدہ جانچ ضروری ہے-
نومولود بچوں کے وارڈز کے لیے الگ اور واضح ایمرجنسی پروٹوکول بنائے جائیں- ہر ڈاکٹر، نرس، سیکیورٹی اہلکار اور متعلقہ ملازم کو عملی مشقیں (Drills) کرائی جائیں تاکہ ہنگامی صورتِ حال میں چند سیکنڈ بھی ضائع نہ ہوں-
فائر سیفٹی سرٹیفکیٹ صرف ایک رسمی دستاویز نہ ہو- اگر کوئی اسپتال حفاظتی معیار پورا نہیں کرتا تو متعلقہ افسران کو جواب دہ بنایا جائے اور خامیاں دور ہونے تک باقاعدہ نگرانی جاری رکھی جائے-
اسپتالوں میں آکسیجن کے استعمال اور بجلی کے نظام کی حفاظت کو خصوصی اہمیت دی جانی جائے- جہاں آکسیجن، بجلی اور طبی آلات ایک ہی جگہ موجود ہوں وہاں خدانخواستہ معمولی تکنیکی خرابی بھی بڑے سانحے میں تبدیل ہو سکتی ہے-
ہر بڑے اسپتال میں آزادانہ ہنگامی جائزہ نظام ہونا چاہیے جو انتظامیہ سے بالاتر ہو کر حفاظتی خامیوں کی نشاندہی کرے- صرف حادثے کے بعد کمیٹی بنانا کافی نہیں، حادثے سے پہلے خطرات کی نشاندہی اور خطرات سے حفاطت کے لئے فوری عمل زیادہ اہم ہے-
اختتامیہ:
پمز کا سانحہ ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ ریاست کی اصل ذمہ داری صرف شہریوں کو علاج کی سہولت فراہم کرنا نہیں بلکہ انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنا بھی ہے- جن نومولود بچوں نے ابھی زندگی کا سفر شروع کیا تھا، ان کی جانیں ایک ایسے مقام پر ضائع ہوئیں جہاں انہیں سب سے زیادہ محفوظ ہونا چاہیے تھا-14بچوں کی موت کو صرف ایک افسوسناک خبر سمجھ کر آگے بڑھ جانا ان خاندانوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی- تحقیقات ہونی چاہئیں، ذمہ داروں کا تعین ہونا چاہیے اور جہاں غفلت ثابت ہو وہاں قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے- لیکن اس سے بھی بڑھ کر ضروری ہے کہ پمز کا سانحہ ایک مستقل اصلاحی عمل (Reform Process) کا آغاز بنے- ان معصوم بچوں کو واپس نہیں لایا جا سکتا، مگر ان کی یاد میں ایسا نظام ضرور بنایا جا سکتا ہے جہاں کسی اور ماں کی گود ہسپتال کی غفلت کی وجہ سے خالی نہ ہو-
٭٭٭
[1]Ikram Junaidi, "Casualties Feared as Fire Breaks Out at Pims' Gynae Ward in Islamabad," Dawn, August 26, 2026, www.dawn.com/news/2025385.
[2]"At Least 14 Infants Killed in Islamabad Hospital Fire," Reuters, August 26, 2026,
[3]"Pakistan Hospital Fire: 14 Newborns Killed," BBC News, August 26, 2026,
[4]"'Heads Must Roll': Politicians, Journalists Demand Accountability as Pims Fire Claims Lives of 14 Infants," Dawn, August 26, 2026, www.dawn.com/news/2025399.
[5]"No Lessons Learnt: A Timeline of Hospital Fires Reported in Pakistan since 2010," Dawn, August 27, 2026, www.dawn.com/news/2025406.
[6]United Nations Development Programme (UNDP) Pakistan, “Human Development Progress Slows to a 35-Year Low, According to UNDP’s 2025 Human Development Report,” March 12, 2025,
[7]UNICEF Pakistan, "UNICEF Statement on the Deaths of 14 Newborns Following Hospital Fire in Islamabad, Pakistan," August 26, 2026,
[8]News Desk, "From Riyadh to Ankara, Global Condolences Pour In After PIMS Tragedy," The Diplomatic Insight, August 27, 2026,
thediplomaticinsight.com/from-riyadh-to-ankara-global-condolences-pour-in-after-pims-tragedy/.