فنافی اللہ اور شانِ رسالت(ﷺ) کی قرآنی دلیل

فنافی اللہ اور شانِ رسالت(ﷺ) کی قرآنی دلیل

فنافی اللہ اور شانِ رسالت(ﷺ) کی قرآنی دلیل

مصنف: حضرت مفتی احمد یار خان نعیمیؒ اگست 2026

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللہَ رَمٰی‘‘[1]

’’اے محبوب (ﷺ)وہ خاک جو آپ نے پھینکی تم نے نہ پھینکی تھی‘‘-

 یہ آیت کریمہ حضور نبی کریم (ﷺ) کی صریح نعت ہے- اولاً غور کرنا چاہیئے کہ اس میں کس واقعہ کی طرف اشارہ ہے- دوسرا اس میں نعت کس طرح ہے-

واقعہ یہ ہوا کہ جنگ بدر جو سنہ ۲ھ میں واقع ہوئی اس میں کفار مکہ بہت سازو سامان کے ساتھ مدینہ طیبہ پر حملہ کرنے آئے اور اہل مدینہ کے پاس سوائے اللہ تعالیٰ کی مدد اور رسول کریم (ﷺ) کی برکت کے اور کچھ بھی نہ تھا- کفار تقریباً ایک ہزار تھے اور مسلمان تین سو تیرہ - کفار کے پاس ہر طرح کے کھانے پینے کے سامان مگر مسلمانوں کے منہ میں دن بھر روزہ اور رات میں آیاتِ قرآن- کفار کے پاس تیر، تلوار، نیزے، بھالے، مسلمانوں کے پاس خرمے کی لکڑیاں- بدن پر کپڑے بھی پھٹے ہوئے اور پاؤں میں چھالے- کفار کے لشکر میں گانے والوں کے گانے اور باجوں کے نغمے اور مسلمانوں کی طرف آیات قرآنی اور تکبیر کے کلمے ، رات کے وقت کفار شراب میں مخمور، مسلمان نشہ ذکر الٰہی اور شراب محبت میں چور، غرضیکہ اُدھر شیطان اِدھر رحمٰن کا لشکر- مسلمانوں کی اس ظاہری حالت کو دیکھ کر حضور نبی کریم (ﷺ)  نے سجدہ میں سر رکھ کر بارگاہ الٰہی میں  عرض کیا کہ خدایا اس وقت روئے زمین پر تیری سچی عبادت کرنے والی صرف مسلمانوں کی بے سر و سامان چھوٹی سی جماعت ہے- اگر آج تو نے ان کی امداد نہ فرمائی کہ اس جگہ شکست کھا کر ہلاک ہو گئی تو دنیا میں تیرا سچا نام لیوا کوئی بھی نہ رہے گا اور اس قدر گریہ و زاری فرمائی کہ اس جگہ کی کنکریاں حضور نبی کریم (ﷺ) کے آنسوؤں  مبارک سے تر ہو گئیں، پھر سجدے سے سر اٹھایا اور ایک مٹھی خاک کی لے کر لشکر کفار کی طرف پھینکی- وہ اللہ جانے ایک مشت خاک تھی یا ابا بیل کی کنکریاں تھیں کہ تمامی کافروں کی آنکھوں میں پہنچ گئیں اور وہ کافر آ نکھیں ملتےہوئے رہ گئے-

بعد میں اللہ  تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں کی اس تھوڑی سی جماعت نے کافروں کے اس سا زو سامان والے لشکر پر ایسی فتح پائی کہ جس  کا آج تک ذکر چلا آ رہا ہے ، بڑے بڑے سرداران قریش کفار اس جنگ میں مارے گئے اور بہت سے قید ہوئے-

یہ تو واقعہ تھا جس کا اس آیت پاک میں ذکر ہوا ہے، اب آیت کیا فرما رہی ہے؟ یہ فرما ر ہی ہے کہ اے محبوب (ﷺ) وہ واقعہ جبکہ آپ نے ایک مشت خاک کفار کی طرف پھینکی، اور سب کی آنکھوں میں پہنچ گئی، اے پیارے تم نے نہ پھینکی، بلکہ تمہارے رب نے پھینکی تھی- یعنی ہاتھ تو تمہارے تھے مگر کام ہمارا تھا-

حضور نبی کریم (ﷺ) کے ایک کام کو رب نے ایسا پسند فرمایا کہ فرما دیا تم نے یہ کام کیا ہی نہیں تھا بلکہ ہم نے کیا تھا- اس سے دو فائدے حاصل ہوئے، ایک تو یہ کہ تصوف کا اعلیٰ درجہ ہے فنافی اللہ، جب بندہ فنافی اللہ اور باقی باللہ ہو جائے اور دیکھنے میں تو وہ اپنی شکل میں ہو، مگر عشقِ الٰہی اس کی رگ رگ میں اس طرح سرایت کر جاوے کہ اس کے ہر کام کو رب کی طرف منسوب کیا جاوے- جس طرف مولانا روم اشارہ فرماتے ہیں:

 گفته او گفتہ اللہ بود
گرچہ از حلقوم عبد اللہ بود

یعنی جب وہ کلام کرتا ہے تو زبان عبد اللہ کی ہوتی ہے اور کلام اللہ کا ہوتا ہے-

چون روا باشد انا الله از درخت
کے روا نہ بود که گوید نیک بخت

دیکھو حضرت موسٰی (علیہ السلام) جب کلامِ الٰہی سے مشرف ہونے کوہ طور پر گئے تھے تو ایک درخت سے آواز آئی تھی:

’’ مِنَ الشَّجَرَۃِ  اَنْ یّٰمُوْسٰٓی  اِنِّیْٓ  اَنَا اللہُ  رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘[2]

’’ایک درخت سے نداء کی گئی کہ اے موسیٰ ! بیشک میں ہی اللہ رب العالمین ہوں ‘‘-

’’اے موسیٰ میں ہوں پروردگار عالم‘‘، تو کیا یہ درخت کی آواز تھی یا درخت کہہ رہا تھا کہ میں اللہ ہوں-ہرگز نہیں، بلکہ رب کا کلام تھا درخت اس کا مظہر-

اسی طرح ایک کو ئلہ آگ میں رکھا گیا، آگ نے ایسی تاثیر کی کہ کوئلہ بھی آگ بن گیا- اب جس چیز کو یہ انگارا چھو جاوے جلا دے، اسی طرح ایک شخص کو جن نے چھولیا ہے- اب وہ جنوں کی حالت میں جو بولتا ہے کہ میرا یہ نام ہے- میں فلاں جگہ کا جن ہوں اور مجھ میں یہ طاقت ہے، کیا یہ اس آدمی کی بات ہے؟ نہیں بلکہ زبان تو اس انسان کی ہے، اور جسم تو اس کوئلہ کا ہے، مگر کلام اور کام اس کا ہے جں نے اس میں سرائیت کی-

یہ تو مثال تھی اب سمجھو کہ اس درجہ میں قدم رکھ کر بعض عارفین ’’آنَا اللهُ يَا سُبحَانِيْ مَا أَعْظَمُ شَانِیْ‘‘ وغیرہ وغیرہ بول جاتے ہیں، یہ کلام ان کا نہیں ہو تا زبان ان کی ہے، کلام کسی اور کا ہے- یہ ہی فرق ہے فرعون اور حضرت منصور میں کہ فرعون نے جب کہا :

’’انا ربکم الاعلیٰ‘‘         میں تمہارا بڑا رب ہوں

تو کافر ہوا کیونکہ وہ ’’میں‘‘ تھا اور پھر رب بنا،  مگر حضرت منصور نے جب کہا ’’انا الحق‘‘ یعنی میں حق ہوں تب وہ اپنی انانیت فنا کر چکے تھے، "تُو ہی تُو" میں فنا ہو گئےتھے-

مگر لطف یہ ہے کہ یہاں تو منصور نے کہا ’’انا الحق‘‘ میں حق ہوں - واجب القتل ہوئے، مگریہ ضبطِ مصطفیٰ (ﷺ) ہے کہ اپنے پر اتنا قابو رکھتے ہیں کہ ہردم ’’انا العبد‘‘ (میں عبد اللہ ہوں)ہی فرماتے ہیں- ہاں رب فرماتا ہے کہ اے محبوب (ﷺ) تم فنافی اللہ کے اس درجہ میں ہو کہ تمہارا کلام اور کام سب ہمارا ہوتا ہے- حضرت موسٰی (علیہ السلام) نے تجلی صفات الٰہی دیکھی اور بے ہوش ہو گئے- مصطفیٰ کریم (ﷺ) کی آنکھوں پر قربان کہ تجلی ذات دیکھ کر بھی معراج میں تبسم ہی فرمارہے ہیں-

موسی ز ہوش رفت به یک پر تو صفات
تو عین ذات مے نگری در تبسمی

رب تعالیٰ نے صرف اسی آیت میں یہ نہ فرمایا، بلکہ ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ اے پیارے جو تم سے بیعت کرتے ہیں وہ اللہ سے بیعت کرتے ہیں- اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے-[3] ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ ہمارے نبی اپنی خواہش سے بولتے ہی نہیں، ان کا کلام وحیٔ الٰہی ہوتی ہے-[4]

دوسرا فائدہ یہ حاصل ہوا کہ جو شخص حضور نبی کریم (ﷺ) کے کسی کام، کسی کلام یا حضور کی کسی چیز کی توہین کرے وہ کافر ہے، کیونکہ یہ در پردہ رب کی توہین ہے- اگر کوئی شخص صدہا سال تک عبادت کرتا رہے متقی ہو، پر ہیز گار ہو، مولوی ہو، پیر ہو، دنیا دار ہو، مگر کبھی کسی موقع پر نعلین پاک مصطفیٰ (ﷺ)  کی توہین کر دے تو اس کی تمام عبادات ضبط ہو گئیں اور وہ مرتد وہ کافر ہوگیا-[5] جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالُکُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تَشْعُرُوْنَ‘‘[6]

’’کہ کہیں تمہارے عمل اکارت نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر نہ ہو ‘‘-

  اللہ تعالىٰ اس بارگاہ کا ادب نصیب فرما دے- آمین!

٭٭٭

(ماخوذ از : شانِ حبیب الرحمٰن (ﷺ) من آیات القرآن، ص:91-95 / تالیف: مفتی احمد یار خان نعیمیؒ / مطبوعہ: مکتبہ اسلامیہ، لاہور)


[1](الانفال :17)

[2](القصص:30)

[3](الفتح:10)

[4](النجم:3-4)

[5]((الشفاء شریف /ردالمختار )

[6](الحجرات:2)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر