م:مُرشد میرا شہباز الٰہی ونج رَلیا سنگ حَبیبَاں ھو
تقدیر الٰہی چھِکیاں ڈوراں کداں مِلسی نال نصیباں ھو
کوہڑیاں دے دُکھ دور کریندا کرے شفا مریضاں ھو
ہرہِک مرض دا دارو تُوہیں باھوؒ کیوں گھتنائیں وَس طَبیباں ھو
My murshid is royal falcon of Almighty, with beloved he has joined Hoo
Destiny has pulled the strings of fate, perhaps fortunately with him will be intertwined Hoo
Removed griefs of lappers and grants cure to the people sick Hoo
You are the cure of every ailment Bahoo why are you sending me towards physicians quick Hoo
Murshid mera ‘Shahbaz Ilahi wanj ralya sang Habiba’N Hoo
Taqdeer e ilahi chikya’N ‘Dora’N kada’N milsi nal naseeba’N Hoo
Koh’riya’N day dukh door karainda kary shifa mariza’N Hoo
Har hik marz da daro tohai’N Bahoo kiyon ‘Ghatnai’N was tabiba’N Hoo
تشریح:
|
مرد عارف آن بود حاضر نبیؐ |
|
ہر حدیثی آیتی ز آن بشنوی |
1:’’مرد عارف وہ ہے جو ہر وقت مجلس ِنبوی(ﷺ) میں حاضر رہتا ہے اور ہر آیت و ہرحدیث حضور نبی کریم(ﷺ) سے سنتا ہے‘‘-(اسرار القادری)
’’مرشد حاضرات ِاسم اللہ ذات سے فنا فی اللہ ہوتا ہے، حاضرات ِاسمِ محمد(ﷺ) سے فنا فی محمد سرور ِکائنات (ﷺ) ہوتا ہے اور حاضرات ِفقیر شیخ سے فنا فی الشیخ ہوتا ہے-ایسا فنا فی اللہ ولی اللہ صاحب ِمعرفت مرشد حضوری کشا و حضوری نما ہوتا ہے‘‘- (عقل بیدار)
دراصل مرشد کامل ہوتا ہی وہ ہے جس کو بارگا ہ نبوی (ﷺ) کی حضوری اور اللہ کے محبوب محمدرسول اللہ (ﷺ) کا وصال باکمال نہ صرف حاصل ہوتا ہے بلکہ اس کی نگاہ ِ ناز اور وجود مسعود کی برکت سےطالبان ِ مولا کو مجلس محمدی(ﷺ) کاشرف حاصل ہوتا ہے جیسا کہ حضرت سخی سُلطان باھوؒ ، سیّدناالشیخ عبد القادر جیلانیؒ کی ذاتِ اقدس کے بارے میں عرض کرتے ہیں :’’ الغرض! عارف باللہ، مظہر متبرکات قدرت سبحانی، محبوب ربانی، پیر دستگیر حضرت شاہ عبدالقادرجیلانی قدس سرہ ٗ دوران حیات ہر روز پانچ ہزار مریدوں اور طالبوں کو اس شان سے بامراد فرماتے رہے کہ تین ہزار کو مشاہدہ نور وحدا نیت اور معرفت ’’اِلَّااللّٰہُ‘‘ میں غرق کر کے ’’اِذَاتَمَّ الْفَقْرُفَھُوَاللّٰہ‘‘ کے مرتبے پر پہنچاتے رہے اور دو ہزار کو مجلس محمدی (ﷺ) کی حضور ی سے مشرف فرماتے رہے‘‘- (شمس العارفین)
2: اس مصرعہ میں حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں کہ اللہ پاک نے میری توجہ کو بھی اسی طرف پھیردیا خداجانے کب وہ خوش نصیب گھڑیاں ہوں گی جب اس محبوب حقیقی کا وصال نصیب ہوگا - دراصل دنیا میں مرشد کامل کا ملنااور مجلس محمدی (ﷺ) کا حصو ل قسمت اور عطا کی بات ہے اس لیے آپؒ ارشاد فرماتے ہیں:’’ اگر کوئی ساری عمر ریاضت میں صرف کردے اور 130 سال تک ایک ہی پاؤں پر کھڑا ہو کر مجاہدہ کرتا رہے تو پھر بھی اُسے باطن میں طریقت و معرفت و لقا و بقا و فنا کی کوئی خبرنہیں ہوتی کہ مرشد ِکامل کی عطائے توفیق و تحقیق کے بغیر کبھی کوئی از خود باطن کے اِن مراتب تک نہیں پہنچ سکتا- سالہا سال کی عبادت کے ثواب سے مرشد ِکامل کی ایک بار کی توجہ بہتر ہے کہ وہ توجہ اُسے اللہ تعالیٰ کے بے حجاب دیدارسے سرفراز کرتی ہے‘‘-(امیر الکونین)
3: اِسے بھی جمعیت کہتے ہیں کہ بندہ معرفت ِاللہ ذات کے نور سے اپنے وجود کو تمام خطرات سے پاک کر دے-یہ بھی مرتبۂ جمعیت ہے کہ مرشد طالبوں کے وجود سے بیماری و زحمت و امراض کو شرفِ لقائے دیدار و معراجِ مشاہدۂ دوام کی دوا و داروئے معالجہ سے شفابخشے اوراُنہیں لا یحتاج و بے غم ولا رجعت ولا غلط و لاسلب و لازوال کرکے معرفت ِقرب اللہ وصال کی حضوری بخشے‘‘(امیر الکونین)- دراصل مرشد کامل کی توجہ سے طالب کے تمام ظاہری وباطنی مسائل حل ہوجاتے ہیں جیسا کہ آپؒ اپنے پنجابی کلام میں ارشادفرماتے ہیں :’’ سَبّھے مُراداں حاصل ہویاں باھوؒ جاں کامل نظر مہر دی تکّی ھو ‘‘-
4:اے میرے کریم مرشد جب اللہ پاک نےآپ کو سب اختیار عطافرمائے تو آپ مجھے دنیا کے ظاہری طبیبوں کے حوالے کیوں کرتے ہیں خود ہی نظر کرم کر کے شفا عطافرمادیں -جیساکہ آپؒ ارشادفرماتے ہیں :’’جس پر مرشد ِکامل نگاہ ِ التفات کر دے اُس کے حجابات ختم ہو جاتے ہیں اور وہ غر ق فنا فی اللہ ہو کر نجات پا جاتا ہے‘‘(محک الفقر کلاں)- مزید ارشادفرمایا :’’مرشد ِکامل کی پہچان کیا ہے؟طالب اللہ کا ہاتھ پکڑتے ہی اُسے امن الامان کے مقام پر پہنچا دیتا ہے‘‘-(عین الفقر)