بیت: ’’علمِ باطن مکھن ہے اور علمِ ظاہر دودھ- بھلا دودھ کے بغیر مکھن کہاں سے آئے گا اور پیر کے بغیر بزرگی کہاں سے آئے گی؟‘‘
علم وہ ہے جو معلوم (ذاتِ حق تعالیٰ )تک پہنچا کر باخبر کر دے ورنہ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے فرمان کے مطابق ’’علم ہی سب سے بڑا حجاب ہے‘‘-
بیت: ’’یار سے ملانے والا علم کتابوں سے نہیں ملتا کہ راہِ وصل میں یہ درسی علم کسی کام نہیں آتا‘‘-
محض قیل و قال کے عالموں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
’’ان کی مثال اس گدھے کی طرح ہے جس پر کتابوں کا بوجھ لدا ہوا ہے‘‘- [1]
بیت: ’’اسرارِ معرفت اہل ِمدرسہ سے مت پوچھ کہ کیڑا اگر کتاب کو کھا لے تو نکتہ دان نہیں بن جاتا‘‘-
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حضرت ابوذر غفاری (رضی اللہ عنہ) سے فرمایا: ’’اے ابو ذ! اکیلے چلا کرو، اللہ تعالیٰ آسمانوں میں اکیلا ہے، تم زمین میں اکیلے رہو- اے ابوذر ! بے شک اللہ تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند کرتا ہے- اے ابو ذر !کیا تجھے معلوم ہے کہ مَیں کس غم و فکر میں محو رہتا ہوں اور کس چیز کا مشتاق ہوں؟ حضرت ابوذر (رضی اللہ عنہ)نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول! مجھے اپنے غم و فکر سے آگاہ فرما دیں- رسول اللہ (ﷺ)نے فرمایا: آہ! آہ! آہ! مجھے اپنے اُن بھائیوں سے ملاقات کا شوق ہے جو میرے بعد آئیں گے، وہ انبیاء کی سی شان کے مالک ہیں اور بارگاہِ الٰہی میں اُن کا مرتبہ شہداء کا ہے، وہ رضائے الٰہی کی خاطر اپنے والدین، بھائی بہنوں اور اولاد سے جدائی اختیار کریں گے، اپنے مال و اسباب سے دست بردار ہو جائیں گے، اپنے آپ کو تواضع اور انکساری سے سنواریں گے- ہوائے نفس و حصولِ دنیا کی طرف راغب نہ ہوں گے- وہ محبت ِالٰہی میں غرق ہو کر مسجدوں میں جمع ہوں گے اور اُن کے دل اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں گے، اُن کی ارواح منجانب اللہ ہوں گی، اُن کا علم اللہ تعالیٰ کی خاطر ہو گا، اُن میں سے جب کوئی بیمار ہو گا تو اُس کی بیماری بارگاہِ الٰہی میں ہزار سالہ عبادت سے افضل ہو گی- اے ابوذر ! اگر تم چاہو تو اُن کی شان میں کچھ اور بیان کروں ؟ حضرت ابوذر (رضی اللہ عنہ)نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول ! مزید ارشاد فرمائیں - فرمایا ! اُن میں سے جب کوئی فوت ہو گا تو ایسا ہو گا گویا کہ آسمان والوں میں سے کوئی فوت ہو گیا ہے کیونکہ اُن کی عزت افزائی اللہ تعالیٰ پر لازم ہے- (جاری ہے)
[1](پارہ:28، الجمعہ: 5)