رسالہ قُشَیریہ میں سیرت النبی(ﷺ) کی مباحث

رسالہ قُشَیریہ میں سیرت النبی(ﷺ) کی مباحث

رسالہ قُشَیریہ میں سیرت النبی(ﷺ) کی مباحث

مصنف: مفتی محمد صدیق خان قادری اگست 2026

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں محبوب کریم (ﷺ) کی سیرت طیبہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’لَقَدْ کَانَ لَکُمْ  فِیْ رَسُوْلِ اللہِ  اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ  لِّمَنْ کَانَ یَرْجُو اللہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللہَ کَثِیْرًا‘‘[1]

’’بیشک رسول اللہ میں تمہارے لیے نہایت عمدہ نمونہ ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور قیامت کے دن کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو بہت یاد کرتا ہو‘‘-

اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو صرف قرآن ہی  کی طرف متوجہ نہیں کیا بلکہ محبوب کریم (ﷺ) کی سیرت کو بھی اپنانے کی طرف توجہ دلائی ہے کیونکہ آپ کی سیرت مبارکہ قرآن مجید کی عملی تفسیر ہے لہذا آقا کریم (ﷺ) کی سیرت طیبہ مسلمانانِ عالم کے لئے ایک ایسا عملی نمونہ ہے جس کو اپنا کر ایک انسان اپنی سیرت و کردار کو سنوار کر دونوں جہانوں کی سعادتیں سمیٹ سکتا ہے-جس طرح خالقِ کائنات نے اپنی لاریب کتاب میں حضور اکرم (ﷺ) کی سیرت مبارکہ کا تذکرہ کیا ہے تو اسی طرح تاریخ اسلامی کا ہر مصنف چاہے وہ مفسر ہو یا محدث، فقیہ ہو یا صوفی وہ اپنی کتاب میں آقا کریم (ﷺ) کی سیرت مبارکہ کا ذکر ضرور کرتا ہے کیونکہ اس کے بغیر تو کتاب ہی ادھوری معلوم ہوتی ہے  تو زیر نظر مضمون میں تصوف کی امہات کتب میں سے الرسالۃ القشیریہ میں جو سیرت النبی (ﷺ) کی  مباحث ہیں ان میں سے چند گوشوں  کا مختصر جائزہ  پیش کیا جائے گا-

اگر ہم رسالہ قشیریہ کا بنظر عمیق مطالعہ کریں تو اکثر مقامات پر امام ابو القاسم عبد الکریم القشیری کا یہ اسلوب بالکل واضح نظر آتا ہے کہ جب آپ کسی موضوع پر بحث کرتے ہیں تو پہلے اس کے تحت قرآن مجید کی آیت مبارکہ لاتے ہیں تو پھر اس کے متعلقہ رسول اکرم (ﷺ) کے فرمان و سیرت کو لاتے ہیں جس سے اس موضوع کی قرآن و سنت دونوں سے خوب وضاحت ہوجاتی ہے-

جو لوگ اللہ تعالیٰ کی کامل بندگی اختیار کرتے ہیں اور اپنے منصب کے تقاضوں کو بجا لاتے ہیں اور ان کے تعلقات و عبادات کا مقصد صرف رضائے الٰہی ہوتا ہے تو ایسے لوگ یقیناً آخرت میں بہت بڑے انعام کے مستحق ہوں گے تو امام قشیری علیہ الرحمہ ان جیسے لوگوں کیلئے آقا کریم (ﷺ) کا فرمان ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

’’حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن سات طرح کے لوگ اللہ تعالیٰ کے عرش کے سائے میں ہوں گے جس دن اس کے سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا-پہلا عادل بادشاہ دوسرا وہ نوجوان جو اللہ تعالیٰ کی عبادت میں لگا رہتا ہے تیسرا وہ آدمی جس کا دل مسجد سے جڑا رہتا ہے کہ جب مسجد سے نکلتا ہے تو اس وقت تک سکون نہیں پاتا جب تک واپس نہ لوٹ جائے چوتھا وہ آدمی جو فقط رضائے الٰہی کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور اسی لئے آپس میں ملاقات کرتے ہیں اور اسی کے لئے ایک دوسرے سے جدا ہوتے ہیں –پانچواں وہ شخص جو علیحدگی میں ذکر اللہ کرے اور اس کی آنکھوں  سے آنسو بہہ نکلیں چھٹا وہ آدمی جسے حسین و جمیل صاحب اختیار خاتون زنا کے لئے بلائے اور وہ کہہ دے میں تو اللہ سے ڈرتا ہوں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے-ساتواں وہ آدمی جو چھپا کر صدقہ کرتا ہے حتیٰ کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی معلوم نہیں ہوتا کہ دائیں نے خرچ کیا ہے‘‘-[2]

بلاشبہ مذکورہ اعمال اختیار کرنا تقوٰی کی علامت ہیں اور صاحبِ تقوٰی ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں معزز شمار ہوتا ہے اسی لئے تو قرآن مجید میں صاحب تقوٰی کی فضیلت بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’ اِنَّ  اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰکُمْ ‘‘[3]

’’بے شک تم میں سے اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ معزز وہ ہے جو تم میں زیادہ متقی ہے‘‘-

امام قشیری تقوٰی کی اہمیت پر آقا کریم (ﷺ) کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ حضرت ابوسعید خدری سے روایت ہےکہ :

’’ایک آدمی آپ (ﷺ) کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوا اور  عرض کی یا رسول اللہ (ﷺ) مجھے نصیحت کیجئے تو رحمت دو عالم (ﷺ) نے فرمایا تم پر تقوٰی لازم ہے بلاشبہ تقوٰی تمام اچھائیوں کا جامع ہے تم پر جہاد لازم ہے بلاشبہ جہاد ہی مسلمان کی رہبانیت (ترکِ دنیا) ہے اور تم پر اللہ تعالیٰ کا ذکر لازم ہے یقیناً ذکر ہی تمہارے لئے نورانیت ہے‘‘-[4]

لہذا ایسا کامل بندہ جو تقوٰی میں انتہائی درجے کو پہنچا ہوا ہو تو وہ شب و روز اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کے ذکر میں مشغول رہتا ہے-وہ دنیا کے مال و متاع اور اس کی رنگینیوں کی طرف ایک نظر بھی نہیں دیکھتا-ذکر الٰہی کی کثرت سے اس کا دل اللہ تعالیٰ کے انوار کا منبع بن جاتا ہے-تو ایسے کامل انسان کی صحبت اختیار کرنا فائدے سے خالی نہیں ہوتا-

ایسا بندہ جسے دنیا سے زہد کی توفیق ملی ہے اس کے بارے امام قشیری آقا کریم (ﷺ) کا قول مبارک نقل فرماتے ہیں:

حضرت ابوخلاد (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ مجھے رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ:

’’جب تم کسی ایسے آدمی کو دیکھو جسے دنیا سے زہد (بے رغبتی)اور اس سلسلہ میں گفتگو کی توفیق دی گئی ہے تو تم اس کا قرب اختیار کرو کیونکہ اسے حکمت عطا کی گئی ہے‘‘-[5]

اسی طرح  زبان سے تکلیف دینے کے حوالے سے امام قشیری سیرت رسول (ﷺ) سے رہنمائی لیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ :

’’حضرت ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اپنے ہمسائے کو تکلیف نہ دے اور جو کوئی اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے‘‘-

’’اسی طرح ایک اور حدیث مبارکہ ہے کہ حضرت عقبہ بن عامر سے روایت ہے کہ حضرت ابوامامہ (رضی اللہ عنہ) نے محبوب کریم (ﷺ) کی بارگاہ میں عرض کی کہ نجات کیا ہے آپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: اپنی زبان کی حفاظت کرو اور اپنے گناہوں پر رویا کرو‘‘-[6]

کاش کہ آج کا انسان اگر اپنی زبان کو کنٹرول رکھتا تو معاشرے میں فتنہ و فساد کے معاملات کسی حد تک کم ہو جاتے لیکن المیہ  یہ ہے کہ ہم خاموشی اختیار کرنا پسند نہیں کرتے بے محل جب زبان چلاتے ہیں تو اس کا نتیجہ بڑا بھیانک نکلتا ہے حالانکہ کسی مسلمان کو تکلیف دینا اور خاموشی اختیار نہ کرنا ایک مؤمن بندے کا شیوہ نہیں ہے  ۔

لوگوں کو تکلیف دینا، خاموشی اختیار نہ کرنا ، معاملات میں درگزر نہ کرنا،  عاجزی اور انکساری کے پہلو کو یکسر نظر انداز کر دینا یہ ہٹ دھرمی اور تکبر کی علامت ہے اور تکبر انسان کو خسارے میں ڈال دیتا ہے -متکبر آدمی کے انجام کے بارے امام قشیری آقا کریم (ﷺ)  کا فرمان مبارک نقل کرتے ہیں کہ:

’’حضرت عبد اللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ)سے  مروی ہے کہ سرکار دو عالم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا جس آدمی کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا-ایک صحابی نے عرض کی کہ ایک آدمی عمدہ لباس (ایک روایت میں ہے کہ عمدہ لباس اور جوتا) پہننا چاہتا ہے تو آقا کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے -تکبر یہ ہے کہ آدمی حق بات قبول  نہ کرے اور لوگوں کو حقیر جانے‘‘-[7]

اس فرمانِ رسول (ﷺ) سے ایک بات تو واضح ہو گئی کہ اچھا لباس اور اچھا جوتا پہننا یہ تکبر کی علامت نہیں جسے بعض نادان  عاجزی اور انکساری کے خلاف سمجھتے ہیں اور مشائخ و علماء پر اپنی زبان دراز کرتے ہیں اچھا لباس وغیرہ پہن کر نہ صرف خوبصورتی کا اظہار ہے جسے اللہ تعالیٰ پسند فرماتا ہے بلکہ اس نعمت کا اظہار بھی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے مال و دولت کی صورت میں عطا کی ہوتی ہے-تکبر کپٹروں اور لائف سٹائل میں   نہیں ہوتا بلکہ تکبر انسان کے دل اور رویہ جات میں ہوتا ہے اور فرمانِ رسول (ﷺ) کے مطابق حق بات کو قبول نہ کرنا اور لوگوں کو حقیر سمجھنا اصل میں یہ تکبر ہے -ایک انسان پر جو دوسروں کے حقوق لازم ہیں ان حقوق کو بجا نہ لے آنا یہ تکبر ہے-

آقا کریم (ﷺ) کی سیرت طیبہ ہمیں حق بات کو تسلیم کرنے اور دوسرے کے حقوق ادا کر کے ہمیں عاجزی اور انکساری اختیار کرنے کا درس دیتی ہے-حضرت انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ :

’’آپ (ﷺ) مریض کی عیادت کو جایا کرتے جنازے کے ساتھ جاتے دراز گوش پر سوار ہوتے اور  غلا م کی  دعوت کو بھی قبول کر لیتے -غزوہ بنی قریظہ اور غزوہ بنو نظیر میں آپ درازگوش پر سوار تھے جس کی لگام کھجور کی چھال کی تھی اور جھول بھی چھال کا تھا‘‘-[8]

امام قشیری علیہ الرحمہ آقا کریم (ﷺ) کی سیرت مبارکہ کے چند پہلو بیان کرتے ہوئے لکھتے  ہیں کہ:

’’حضرت ابو سعید خدری نے فرمایا کہ رسول اللہ (ﷺ) خود اونٹ کے آگے چارہ ڈالا کرتے ، کپڑوں اور جوتوں کو پیوند لگاتے اور بکری  کا دودھ دوہتے ، خادم کے ساتھ کھانا کھاتے اور جب وہ تھک جاتا تو اس کے ساتھ مل کر چکی پیستے-آپ (ﷺ) بازار سے سودا سلف اٹھا کر لانے  میں شرم محسوس نہیں کرتے تھے آپ امیر و غریب سے مصافحہ کرتے، سلام کرنےمیں پہل کرتے ، کسی قسم کی دعوت ہوتی آپ اسے حقیر نہ سمجھتے، خواہ وہ ادنیٰ قسم کی کھجوریں ہی کیوں نہ ہوتیں، آپ نرم مزاج اور اخلاق والے تھے اور کریم الطبع تھے-آپ لوگوں  سے اچھی طرح میل جول رکھتے ، خندہ پیشانی اور تبسم سے پیش آتے ، ضحک و ہنسی کا مظاہرہ نہ کرتے، آپ صاحب تواضع تھے، مگر ذلت کا شائبہ تک نہ ہوتا، بغیر اسراف کے سخی تھے، رقیق القلب تھے، ہر مسلمان کے ساتھ رحم دل تھے، آپ نے کبھی سیر ہو کر کھانا نہیں کھایا اور نہ ہی کسی قسم کے لالچ کی وجہ سے کسی چیز کی طرف ہاتھ بڑھایا‘‘-[9]

آج کے انسان میں یہ چیز بھی محسوس کی گئی ہے وہ تھوڑے مال پر نہ قناعت اختیار کرتا ہے اور نہ ہی اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہے بلکہ مال کی زیادتی کے چکر میں دوسروں کے حقوق پر بھی ڈاکہ مارنا شروع کر دیتا ہے جو کہ سراسر زیادتی و نا انصافی ہے حالانکہ محبوب کریم (ﷺ) کی سیرت طیبہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ تھوڑے پر صبر کرو اور دوسروں کے حقوق کا خیال رکھو یہاں تک کہ اگر کامل مؤمن بننا چاہتے ہو تو جو چیز اپنے لئے پسند کرتے ہو وہ دوسروں کیلئے بھی پسند کرو-اس لئے امام قشیری انہیں چیزوں کے متعلق آقا کریم (ﷺ) کے اقوال مبارک نقل کرتے ہیں:

’’حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ سرکار دو عالم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ قناعت نہ ختم ہونے والا خزانہ ہے‘‘-

اسی طرح حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کا فرمان مبارک ہے کہ متقی بنو تم سب سے زیادہ عبادت گزار بن جاؤ گے- قانع بنو تم سب سے زیادہ شکر گزار ہو جاؤ گے -تم جو کچھ اپنے لئے پسند کرتے ہو وہی دوسروں کے لئے پسند کرو، تم سچے مومن بن جاؤ گے-اپنے ہمسائے سے حسن اخلاق کے ساتھ پیش آؤ تم مسلمان کہلاؤ گے -کم ہنسو کیونکہ زیادہ  ہنسنا قلب کو مردہ کر دیتا ہے‘‘-[10]

مذکورہ فرمان مبارک کو مدنظر رکھ کر ذرا ہم اپنی گریبانوں میں جھانکیں آیا ہم تھوڑے مال پر صبر کر کے اس ذات کا شکر ادا کر رہے ہیں جس طرح ہمیں اپنی عزت و مال اور حقوق پیارے ہیں اور ہم چاہتے ہیں ہماری عزت و مال اور حقوق کی طرف کوئی میلی آنکھ بھی نہ دیکھے تو کیا ہم دوسروں کی عزت و مال اور حقوق کو عزیز رکھتے ہیں یا نہیں کیونکہ کامل مؤمن بننے کے لئے ضروری ہے کہ جو چیز اپنے لئے پسند کرتے ہو وہ دوسروں کیلئے بھی پسند کرو-یہی عدل و انصاف کا تقاضا ہے- کیا ہمارے پڑوسی ہمارے رویوں سے مطمئن ہیں یا وہ ہمارے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں اگر ہم صحیح  معنوں میں اللہ تعالیٰ کے شکر گزار ہیں اور ہمارے اندر عدل و انصاف والا پہلو بطریق اتم موجود ہے اور معاشرے کے لوگ ہماری ایذاء رسانی سے محفوظ ہیں تو پھر مبارک ہو اگر یہ صورت حال نہیں تو پھر سیرت مبارکہ کو اپناتے ہوئے اپنے اندر ایک ایسی تبدیلی پیدا کرنا ہوگی کہ جس سے ہم ایک باوقار شخصیت بن سکیں-

قارئین! اگر ہم اپنے اردگرد کے ماحول میں نظر دوڑائیں تو یہ چیز بھی بڑی واضح نظر آتی ہے کہ ہمارے معاشرے سے شرم و حیا کا پہلو  ختم ہو تا جا رہا ہے جس کی بنیادی وجہ سیرت النبی (ﷺ) سے دوری اور سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال ہے حالانکہ اگر دیکھا جائے تو حیاء کو اسلامی تعلیمات میں مرکزی حیثیت حاصل ہے -یہی وجہ ہے کہ امام قشیری حیا کے بارے محبوب کریم (ﷺ) کے ارشادات عالیہ نقل فرماتے ہیں کہ :

’’حضرت عبد اللہ بن عمر (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ  آپ نے فرمایا حیاء ایمان کا شعبہ ہے‘‘-

’’اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ (ﷺ) نے صحابہ سے فرمایا حیاء کرو اللہ تعالیٰ سے جیسا کہ حیاء کرنے کا حق ہے-صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) نے عرض کی یا رسول اللہ (ﷺ) ہم تو حیاء کرتے ہیں آپ (ﷺ) نے فرمایا ایسے نہیں بلکہ جو آدمی اللہ سے حیاء کرتا ہے حتی کہ حیاء کا حق ادا کرتا ہے تو اسے اپنے سر اور اس  میں موجود چیزوں (آنکھوں اور زبان) کی حفاظت کرنی چاہیے -ایسے آدمی کو اپنے پیٹ اور جو اس میں موجود ہے (دل) اس کی حفاظت کرنی چاہیے وہ موت کو یاد رکھے اور  دنیاوی زندگی کی زینت کو چھوڑ دے پس جس نے اس طرح کیا اس نے اللہ تعالیٰ سے اس طرح حیاء کی جس طرح حیاء کرنے کا حق تھا‘‘-[11]

معلوم ہوا حیاء والا  انسان   اپنے دل و دماغ کو غلط  خیال و تصورات  سےبچاتا ہے-شرم و حیاء والا  انسان  کبھی بھی اپنے پیٹ میں حرام کا لقمہ نہیں جانے دیتا، اس کی آنکھ کسی غیر کی عزت کی طرف نہیں اٹھتی اس کی زبان غیبت، چغل خوری ، بہتان اور گالم گلوچ سے محفوظ رہتی ہے اور وہ ہمیشہ اپنی موت کو یاد رکھتا ہے-

الغرض حضور نبی کریم (ﷺ) کی سیرت مبارکہ انسانیت کی معراج کے لئے نہ صرف عملی نمونہ ہے بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات بھی ہے -آقا کریم (ﷺ) نے اپنے فرمودات عالیہ اور اعمال و افعال دونوں طرح سے انسانیت کی راہنمائی کی ہے-اگر ایک ناقص انسان ہادی دو عالم (ﷺ) کی سیرت مبارکہ کو پڑھ کر اسے اپنانا شروع کر دے تو وہ یقیناً کاملیت کی معراج کو پہنچ جائے گا-لہذا اس پُر فتن اور مادیت پرست دور میں اس چیز کی اشد ضرورت ہے کہ محبوب کریم (ﷺ) کی سیرت کو پڑھا جائے اور پڑھ کر اپنے وجودوں پر لاگو کیاجائے تاکہ ہمیں دارین کی سعادتیں نصیب ہو جائیں-

٭٭٭


[1](الاحزاب:21)

[2](الرسالۃ القشیریہ، ص:225)

[3](الحجرات:3)

[4](الرسالۃ القشیریہ، ص:124)

[5](ایضاً، ص:143)

[6](ایضاً، ص:147)

[7](ایضاً، ص:172)

[8](ایضاً)

[9](ایضاً، ص:174)

[10](ایضاً، ص:187)

[11](ایضاً، ص:243)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر