غلامانہ ذہنیت سے نجات سیرت النبی(ﷺ) کی روشنی میں

غلامانہ ذہنیت سے نجات سیرت النبی(ﷺ) کی روشنی میں

غلامانہ ذہنیت سے نجات سیرت النبی(ﷺ) کی روشنی میں

مصنف: صاحبزادہ سلطان احمد علی اگست 2026

خاتم النبیین حضور نبیِ کریم(ﷺ) کی سیرتِ طیبہ پر صدیوں سے اہلِ علم اپنی اپنی استعداد کے مطابق اس بحرِ بے کراں سے گوہر چنتے اور دنیا کے سامنے پیش کرتے آئے ہیں، مگر اس کے باوجود سیرتِ مصطفیٰ (ﷺ)کا دامن آج بھی اتنا ہی وسیع ہے کہ ہر آنے والا اس سے اپنی وسعتِ نظر کے مطابق فیض حاصل کرتا ہے-

عربی ادب کے عظیم شاعر المتنبی عباسی دور کے ان نابغۂ روزگار شعراء میں شمار ہوتے ہیں جن کا دیوان آج بھی مدارس، علمی حلقوں اور ادبی مجالس میں قدر و منزلت کے ساتھ پڑھا جاتا ہے- اہلِ لغت، اہلِ بیان اور اہلِ علم ان کے مقام و مرتبے سے بخوبی واقف ہیں-المتنبی نے اپنے محبوب کے بارے میں ایک ایسا مضمون باندھا ہے جو ہمارے مدعا کو نہایت خوبصورتی سے واضح کرتا ہے- وہ کہتے ہیں کہ:

تَجَاوَزَ قَدْرَ الْمَدْحِ حَتّٰى كَاَنَّهٗ
بِأَكْثَرِ مَا يُثْنٰى عَلَيْهِ يُعَابُ

’’وہ مدح کی حد سے اس قدر آگے بڑھ چکا ہے کہ گویا جتنی زیادہ اس کی تعریف کی جائے، اتنا ہی وہ (تعریف) اس کے حق میں عیب محسوس ہوتی ہے‘‘-

یعنی میرا محبوب مدح و ستائش کی ہر حد سے بلند ہو چکا ہے- اس کی بہترین تعریف بھی اس کی شان کے مقابلے میں ایسی محسوس ہوتی ہے جیسے کوئی خاص تعریف کی ہی نہ گئی ہو- گویا تعریف کرنے والا جتنا بھی بلند سے بلند تر الفاظ اختیار کرے، وہ محبوب کی عظمت کا احاطہ نہیں کر سکتا- اس کی رفعتِ مقام کے سامنے زبان کی وسعت محدود اور بیان کی طاقت کمزور دکھائی دیتی ہے-

اسی مضمون کو المتنبی نے ایک اور مقام پر مزید وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے- وہ کہتے ہیں کہ:

وَ عَظُمَ قَدْرُكَ فِي الْآفَاقِ أَوْهَمَنِيْ
أَنِّيْ بِقِلَّةِ مَا أَثْنَيْتُ أَهْجُوْكَا

’’تیرا مرتبہ آفاق میں اتنا عظیم ہے کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا ہے کہ میں نے جتنی کم ثنا کی ہے، گویا میں نے تیری ہجو کر دی ہے‘‘-

یعنی اے محبوب تیرا مرتبہ آفاق میں اس قدر بلند اور عظیم ہو گیا ہے کہ مجھے گمان ہونے لگا ہے کہ میری تمام تر ثنا و ستائش درحقیقت قلتِ بیان کا اظہار ہے- میں نے جو کچھ کہا، وہ تیری شان کے مقابلے میں اتنا کم ہے کہ یوں لگتا ہے جیسے مدح نہیں بلکہ ہجو کر رہا ہوں- اس لیے نہیں کہ تعریف میں کوئی کمی رہ گئی، بلکہ اس لیے کہ ممدوح کی عظمت ہر بیان سے کہیں زیادہ وسیع اور بلند ہے-

یہ وہ مقام ہے جہاں مبالغہ بھی اپنی انتہا پر پہنچ کر رک جاتا ہے- عام طور پر شاعر مبالغے کے ذریعے اپنے محبوب کے اوصاف کو بلند تر انداز میں پیش کرتا ہے، لیکن یہاں صورتِ حال اس کے برعکس ہے- محبوب کی شان ایسی بلند ہے کہ مبالغہ بھی اس کا ساتھ نہیں دے سکتا- بیان پیچھے رہ جاتا ہے اور عظمت آگے نکل جاتی ہے- لفظ رک جاتے ہیں اور مقامِ محبوب اپنی بلندیوں پر قائم رہتا ہے-

اگر یہ کیفیت ایک انسانی محبوب کے بارے میں کہی جا سکتی ہے تو پھر تصور کیجیے کہ جب بات اللہ تعالیٰ کے محبوب کی ہو ، جب بات سیدِ کائنات، رحمتِ عالم، محمد مصطفیٰ (ﷺ) کی ہو تو زبان کی عاجزی اور قلم کی بے بسی کس قدر بڑھ جاتی ہے- آپؐ کی سیرت، آپؐ کے اوصاف، آپؐ کے اخلاق، آپؐ کی رحمت، آپؐ کے کمالات اور آپؐ کی عظمت کا احاطہ کسی فرد، کسی زبان اور کسی بیان کے بس کی بات نہیں- جو کچھ کہا جائے وہ حقیقت کے مقابلے میں نہایت کم ہےاور جو کچھ لکھا جائے وہ آپؐ کی شانِ اقدس کے سمندر سے ایک قطرے کی حیثیت رکھتا ہے- اسی لیے اہلِ محبت اور اہلِ معرفت جب حضور نبی اکرم (ﷺ)کا ذکر کرتے ہیں تو ان پر سب سے نمایاں کیفیت عجز کی طاری ہوتی ہے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مدح کے تمام چراغ مل کر بھی اُس آفتابِ رسالت کی کامل روشنی کو بیان نہیں کر سکتے-

المتنبی کے ان اشعار سے استفادہ کرنے کا مقصد دراصل یہ تھا کہ جب سیرتِ طیبہ پر ساڑھے چودہ سو برس کے دوران بے شمار اہلِ علم، محدثین، مؤرخین، مفسرین، فقہاء اور اہلِ محبت اپنی اپنی بساط کے مطابق لکھ چکے ہوں تو پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب ہم کیا نیا کہہ سکتے ہیں؟ کون سا پہلو ایسا ہے جو بیان سے رہ گیا ہو؟ کون سا وصف ایسا ہے جو نگاہوں سے اوجھل رہ گیا ہو؟

حقیقت یہ ہے کہ سیرتِ رسول (ﷺ)اپنی ذات میں کامل اور جامع ہے- اس میں اضافے کی کوئی گنجائش نہیں، البتہ ہر دور اپنے مخصوص سوالات، اپنے منفرد مسائل اور اپنی نئی تحدّیات (Challenges)  کے ساتھ آتا ہے- یہی چیلنجز انسان کو اس بات پر مجبور کرتے ہیں کہ وہ سیرتِ نبوی (ﷺ) کو نئے زاویوں سے سمجھے، نہ اس لیے کہ مطالعہ سیرت میں کوئی کمی ہے، بلکہ اس لیے کہ زمانے کے سوالات بدل جاتے ہیں-

ہم ایک ایسے عہد میں زندہ ہیں جس نے انسانیت کو ایسے فکری، تہذیبی اور نفسیاتی چیلنجز سے آشنا کیا ہے جن کی اس سے پہلے مثال نہیں ملتی- معلومات کی فراوانی ہے مگر یقین کی کمی ہے، ذرائع بے شمار ہیں مگر رہنمائی ناپید ہے، آوازیں بہت ہیں مگر حق کی پہچان دشوار ہوتی جا رہی ہے- ایسے ماحول میں سب سے بڑی ضرورت ایک محفوظ منہج کی، ایک قابلِ اعتماد زاویۂ نظر کی اور ایک ایسی فکری پناہ گاہ کی ہے جہاں بیٹھ کر سیرتِ رسول (ﷺ) کا مطالعہ کیا جا سکے اور انسان اپنے ایمان، اپنی دنیا اور اپنی آخرت کے بارے میں اطمینان محسوس کر سکے-

اسی تناظر میں ’’گہوارہ‘‘کا تصور نہایت معنی خیز معلوم ہوتا ہے- گہوارہ ایک وسیع اور دل نشین لفظ ہے- یہ گھونسلے کیلئے بھی بولا جاتا ہے، ماں کی گود ، آغوش اور اس پنگھوڑے کے لیے بھی جس میں بچہ خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے- گہوارہ دراصل ایسی پناہ گاہ کا نام ہے جہاں خوف کی جگہ اطمینان، بے یقینی کی جگہ اعتماد اور اضطراب کی جگہ سکون میسر آتا ہے-

سوال یہ ہے کہ سیرتِ نبوی (ﷺ) کا مطالعہ کس انداز سے کیا جائے کہ وہ ہمارے لیے ایک گہوارہ بن جائے؟ ایسا گہوارہ جس میں داخل ہو کر ہم خود کو محفوظ محسوس کریں، جہاں ہمارے ایمان کو استحکام ، ہمارے افکار کو سمت اور ہماری زندگی کو مقصد ملے-

یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ آج جب ہم کتابوں کی دنیا میں قدم رکھتے ہیں تو سیرتِ طیبہ پر لکھی ہوئی ہزاروں کتابیں ہمارے سامنے آ جاتی ہیں- ہر مصنف کا اپنا اسلوب ہے، ہر سیرت نگار کا اپنا زاویۂ نظر ہے اور ہر کتاب اپنے مخصوص منہج کے مطابق لکھی گئی ہے- ایسی صورت میں ایک عام قاری کیلئے یہ فیصلہ کرنا آسان نہیں رہتا کہ کون سی کتاب اس کیلئے زیادہ مفید، زیادہ متوازن اور زیادہ محفوظ ہے-

ہم حضور نبی اکرم (ﷺ) پر صرف تاریخی شخصیت کے طور پر ایمان نہیں رکھتے، بلکہ اپنی ابدی نجات کیلئے آپ (ﷺ)کی نبوت و رسالت کی گواہی دیتے ہیں- یہ دنیا  چند برسوں  ،چند دنوں، اور چند سانسوں کی مہلت ہے،مگر اس کے بعد ایک ایسی زندگی ہے جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے- اسی ابدی زندگی کی کامیابی کیلئے ہم قرآنِ مجید پر ایمان لاتے ہیں، رسول اللہ (ﷺ) کی اطاعت کو اختیار کرتے ہیں اور آپ(ﷺ) کے اسوۂ حسنہ کو اپنی چھوٹی سی زندگی کا معیار بناتے ہیں-

چنانچہ جب ہم سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ محض علمی مشغلہ نہیں ہوتا، بلکہ ہماری دنیا اور آخرت دونوں سے جڑا ہوا ایک نہایت سنجیدہ معاملہ ہوتا ہے- یہی وجہ ہے کہ سیرت نگاری کے مختلف مکاتبِ فکر، مختلف اسالیب اور مختلف مناہج کے درمیان انتخاب کا مسئلہ اہم ہو جاتا ہے-

ایک محقق سیرت کا مطالعہ اپنے تحقیقی سوالات کے تناظر میں کرتا ہے- اس کے سامنے تاریخی مباحث، مصادر کی جانچ، روایات کا تقابل اور علمی نتائج کا حصول ہوتا ہے- ایک عالمِ دین سیرت کو دینی استنباط، تربیت اور دعوت کے زاویے سے دیکھتا ہے- لیکن ایک عام انسان کی ضرورت ان دونوں سے مختلف ہوسکتی ہے-

ایک خاتونِ خانہ جو گھر کے کاموں میں مصروف ہے، ایک استاد جو طلبہ کو تعلیم دے رہا ہے، ایک پروفیسر جو درس و تدریس میں مشغول ہے، ایک بینک میں کام کرنے والی خاتون، ایک دکاندار، ایک رکشہ ڈرائیور، ایک مزدور، ایک اُوبر ڈرائیور یا کوئی بھی شخص جو زندگی کی روزمرہ جدوجہد میں مصروف ہے، اس کے پاس سیرت کے پیچیدہ علمی مباحث میں اترنے کا وقت نہیں ہوتا- وہ سیرت سے ایسی روشنی چاہتا ہے جو اس کی زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کر دے، اس کے اخلاق کو سنوار دے، اس کے دل کو اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم (ﷺ) کی محبت سے بھر دے اور اسے آخرت کی کامیابی کے راستے پر گامزن کر دے-

لہٰذا اصل سوال یہ نہیں کہ سیرت پر مزید کیا لکھا جا سکتا ہے؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ سیرتِ رسول (ﷺ) کو کس زاویے سے پڑھا جائے کہ وہ محض معلومات کا ذخیرہ نہ رہے بلکہ ہدایت کا سرچشمہ بن جائے- ایسی ہدایت جو انسان کی زندگی بدل دے، اس کے باطن کو منور کر دے اور اس کی آخرت کے حق میں بہترین سرمایہ ثابت ہو-

اس سارے پس منظر میں ایک اور اہم مسئلہ بھی ہمارے سامنے آتا ہے، اور وہ ہے سیرتِ نبوی (ﷺ) کے مطالعے کے لیے مصادر اور مصنفین کا انتخاب- بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کے بعض طبقوں میں ایک ایسا رجحان پیدا ہوا جس کی بنیاد علمی تحقیق سے زیادہ نفسیاتی غلامی پر ہے- انہیں اپنی علمی روایت سے ایک طرح کا اجنبیت کا احساس ہونے لگا- عربی ان کے لیے اجنبی ہو گئی، فارسی ان کے لیے غیر متعلق ہو گئی اور صدیوں پر محیط مُسلِم علمی ورثہ ان کی نگاہ میں اپنی کشش کھونے لگا- اس کے برعکس مغرب سے آنے والی ہر چیز، ہر نام اور ہر مصنف غیر معمولی اعتبار اور وقعت کا حامل بن گیا-

یہ دراصل اس تہذیبی اور نفسیاتی اثر کا نتیجہ ہے جو جدید مغربی غلبے نے مسلم دنیا پر مرتب کیا- سیاسی غلامی سے کہیں زیادہ خطرناک نفسیاتی غلامی ہوتی ہے، کیونکہ اس میں انسان اپنے فیصلے بھی دوسروں کے معیار پر کرنے لگتا ہے- ہمارے بعض خواص اور تعلیم یافتہ طبقات اسی نفسیاتی غلامی کا شکار ہوئے، یہاں تک کہ کسی کتاب یا مصنف کی علمی قدر کا معیار اس کا مغربی ہونا قرار پانے لگا-

یہاں ایک نہایت اہم فرق کو سمجھنا ضروری ہے- مغربی مصنفین کی لکھی ہوئی سیرت کا مطالعہ فی نفسہٖ کوئی ممنوع یا ناقابلِ قبول چیز نہیں، لیکن ایک عام مسلمان کے لیے، جو نہ تحقیقی پس منظر رکھتا ہو اور نہ علمی تنقید کے اصولوں سے واقف ہو، یہ میدان بعض اوقات فکری خطرات سے خالی نہیں ہوتا-اس لیے کہ سیرت نگاری صرف تاریخی واقعات کا بیان نہیں بلکہ ایک عقیدے، ایک الہامی تعلق اور ایک ایمانی نسبت کا معاملہ بھی ہے-

یہ بات بھی انصاف کے خلاف ہوگی کہ تمام مغربی مصنفین کو ایک ہی پیمانے سے ناپا جائے- بہت سے ایسے اہلِ قلم گزرے ہیں جنہوں نے رسول اللہ (ﷺ)کی شخصیت، آپؐ کے کردار اور آپؐ کے تاریخی اثرات کا مطالعہ غیر معمولی دیانت داری اور علمی سنجیدگی کے ساتھ کیا- ان کے کام کا اعتراف کرنا علمی امانت کا تقاضا ہے- مثلاً مونٹگمری واٹ، کیرن آرم سٹرانگ، ریورنڈ بوزورتھ اسمتھ اور الفونس دے لامارتین جیسے مصنفین نے اپنے اپنے انداز میں سیرتِ نبوی کے بعض پہلوؤں کو مثبت اور متوازن انداز سے پیش کیا ہے-

تاہم اس کے ساتھ یہ حقیقت بھی موجود ہے کہ بعض مصنفین کی تحریروں میں ایسا زاویۂ نظر ملتا ہے جو سیرتِ رسول (ﷺ) کو محض ایک تاریخی یا سماجی مظہر کے طور پر دیکھتا ہے- بعض اوقات ان کے بیانیے میں ایسے مفروضات، ایسے اندازِ بیان اور ایسے تجزیے شامل ہوتے ہیں جو ایک مسلمان کے ایمانی تصور سے ہم آہنگ نہیں ہوتے- یہی وجہ ہے کہ جو شخص سیرت کے بنیادی مصادر اور اسلامی روایت سے واقف ہو، وہ ان تحریروں کے درمیان فرق محسوس کر لیتا ہے، لیکن ایک غیر تربیت یافتہ قاری کیلئے یہ امتیاز ہمیشہ آسان نہیں ہوتا-

مثال کے طور پر بعض معاصر مغربی مصنفین کی کتابیں ہمارے علمی اور اشرافی حلقوں میں خاصی مقبول ہیں- ان کی زبان دلکش، اسلوب جدید اور اندازِ تحریر پرکشش ہوتا ہے، لیکن جب وہ رسول اللہ (ﷺ) کے خاندان، نسب، ماحول ، ابتدائی زندگی اور قیامِ ریاست کے بعد کے فیصلوں اور اقدامات کا تذکرہ کرتے ہیں تو ان کے بعض تجزیات میں ایسے فکری مفروضات شامل ہوتے ہیں جو اسلامی روایت سے متضاد بنیادوں پر قائم ہوتے ہیں- ایک باخبر قاری اس فرق کو سمجھ لیتا ہے، مگر ایک عام قاری بسا اوقات صرف اسلوب سے متاثر ہو کر ان نتائج کو بھی قبول کر لیتا ہے جو محلِ نظر ہوتے ہیں-

اسی طرح تاریخ میں بعض ایسے مصنفین بھی گزرے ہیں جن کی تحریروں میں واضح تعصب، مذہبی مخالفت یا استشراقی رجحانات نمایاں رہے ہیں- ان کی کتابوں کا مطالعہ تحقیق کیلئے تو مفید ہو سکتا ہے، لیکن انہیں براہِ راست رہنمائی کا ماخذ سمجھ لینا دانشمندی نہیں-

اس تمام صورتِ حال کے باوجود ایک خوش آئند تبدیلی بھی سامنے آئی ہے- مغربی دنیا میں اسلام قبول کرنے والے بہت سے اہلِ علم اور مفکرین نے سیرتِ نبوی (ﷺ) پر ایسا گراں قدر کام کیا ہے جس نے علمی دیانت اور ایمانی وابستگی کو ایک ساتھ جمع کر دیا ہے- ان کی تحریروں میں مغربی علمی معیار بھی موجود ہے اور رسول اللہ (ﷺ)سے قلبی محبت بھی-

اس سلسلے میں مارٹن لنگز کا نام خصوصی طور پر قابلِ ذکر ہے- ان کی کتاب ’’Muhammad: His Life Based on the Earliest Sources‘‘ سیرتِ نبوی پر لکھی گئی انگریزی زبان کی نمایاں ترین تصنیفات میں شمار ہوتی ہے- ان کا اسلوب نہایت شستہ، دلنشین اور ادبی حسن سے آراستہ ہے- انگریزی زبان کے اعلیٰ ذوق رکھنے والے قارئین اس کتاب میں کلاسیکی برطانوی نثر کی خوبصورتی بھی محسوس کرتے ہیں اور سیرتِ رسول (ﷺ) کی روحانی عظمت بھی- مارٹن لنگز، جنہوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد  اپنا نام ابوبکر سراج الدین اختیار کیا،وہ علمی اعتبار سے بھی ایک ممتاز شخصیت تھے اور ان کی اس تصنیف نے مغربی علمی حلقوں میں سیرتِ نبوی(ﷺ) کے تعارف میں اہم کردار ادا کیا-

اصل مسئلہ یہ نہیں کہ مصنف مشرقی ہے یا مغربی، بلکہ یہ ہے کہ اس کا زاویۂ نظر کیا ہے؟ اس کے مصادر کیا ہیں؟ اس کی علمی دیانت کتنی ہے ؟اور وہ رسول اللہ (ﷺ)کی شخصیت کو کس فکری تناظر میں دیکھتا ہے؟ مغرب میں ہر قسم کے مصنف موجود ہیں، منصف بھی، متعصب بھی، محقق بھی اور معترض بھی-

لہٰذا جو شخص کتابوں، علمی منہجوں اور مختلف فکری روایتوں سے گہری واقفیت نہیں رکھتا، اس کے لیے صرف کسی غیر ملکی نام یا انگریزی عنوان سے متاثر ہو کر سیرت کی کتاب منتخب کرنا ہرگز ہرگز مناسب نہیں- سیرتِ رسول (ﷺ) کا مطالعہ ایک نہایت حساس اور بابرکت عمل ہے- اس میں انتخاب کا معیار شہرت یا زبان نہیں، بلکہ علمی امانت، صحتِ مصادر اور وہ روحانی و ایمانی خیر ہونی چاہیے جو قاری کو رسول اللہ (ﷺ) کے قریب لے جائے، نہ کہ اسے شکوک و شبہات کی الجھنوں میں مبتلا کر دے-

یہی پس منظر ہے جس کے بعد ہم اس سوال کی طرف بڑھتے ہیں کہ آخر سیرتِ نبوی کے مطالعے کے لیے وہ کون سا محفوظ زاویۂ نظر اختیار کیا جائے جو جدید دور کے فکری انتشار کے درمیان بھی انسان کو یقین، اطمینان اور ہدایت فراہم کر سکے-

اب یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر مغربی مصنفین کو رسول اللہ (ﷺ) کی سیرت کے مطالعے اور اس پر لکھنے میں دلچسپی کیوں پیدا ہوئی؟ اگر ان کے محرکات کا جائزہ لیا جائے تو مجموعی طور پر دو بڑے عوامل سامنے آتے ہیں- ایک عنصر خوف کا تھا اور دوسرا سیکھنے اور سمجھنے کی خواہش کا-

تاریخ کے مختلف ادوار میں مغربی دنیا اسلام کو ایک ایسی قوت کے طور پر دیکھتی رہی جس نے نہ صرف مذہبی سطح پر بلکہ تہذیبی، سیاسی اور سماجی سطح پر بھی غیر معمولی اثرات مرتب کیے- چنانچہ بعض لوگوں نے اسلام اور اس کے بانی رسول اللہ (ﷺ) کا مطالعہ اس لیے کیا کہ وہ اس قوت کو سمجھ سکیں جس نے دنیا کے ایک بڑے حصے کو متاثر کیا- دوسری طرف بہت سے اہلِ قلم ایسے بھی تھے جنہوں نے خالص علمی تجسس اور تاریخی فہم کی بنیاد پر اس موضوع کا انتخاب کیا-

تاہم ایک بات یہاں ہمیشہ پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ ان مصنفین کی اکثریت جب سیرتِ نبوی پر قلم اٹھاتی ہے تو ان کی بنیادی مخاطب مسلم دنیا نہیں ہوتی- ان کی اصل آڈینس مغربی معاشرہ، مغربی قاری اور وہ لوگ ہوتے ہیں جو رسول اللہ(ﷺ)اور اسلام کے بارے میں بنیادی تعارف حاصل کرنا چاہتے ہیں- اس لیے ان کی تحریروں کے مقاصد، ان کے سوالات اور ان کے زاویۂ نظر بھی اسی پس منظر سے تشکیل پاتے ہیں-

یہ نکتہ سمجھنا ضروری ہے کہ مسلم معاشروں کے لوگ عمومی طور پر ان کتابوں کے اولین مخاطب نہیں ہوتے، اگرچہ بعد میں وہ کتابیں مسلم دنیا میں بھی مقبول ہو جاتی ہیں- بعض اوقات ہم محض اس وجہ سے ان تصنیفات کو غیر معمولی اہمیت دینے لگتے ہیں کہ وہ مغربی مصنفین کی لکھی ہوئی ہیں، حالانکہ ان کی اصل فکری جہت اور مخاطب کوئی اور ہوتے ہیں- یہی وہ مقام ہے جہاں نفسیاتی غلامی ، فکری مرعوبیت اور علمی تنقید کے درمیان فرق کو سمجھنے کی ضرورت پیش آتی ہے-

ان مصنفین میں سے بہت سے لوگ رسول اللہ (ﷺ) کی شخصیت سے اس لیے متاثر ہوتے ہیں کہ وہ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر وہ کون سی قوت تھی جس نے عرب کے منتشر قبائل کو ایک امت میں تبدیل کر دیا- وہ یہ سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کس طرح صرف 23برس کے عرصے میں ایک ایسی تہذیبی اور اخلاقی تبدیلی رونما ہوئی جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی ہے- وہ اسلام کے بنیادی اصولوں، اس کے اخلاقی نظام، اس کے تمدنی اثرات اور اس کی سیاسی و سماجی تشکیل کا مطالعہ کرتے ہیں اور اپنی علمی روایت کے مطابق اس کی تشریح پیش کرتے ہیں-

تاہم ان کی تشریحات ہمیشہ واضح اور دوٹوک نہیں ہوتیں- بعض اوقات ان کے تجزیے اس قدر مبہم ہوتے ہیں کہ قاری کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ مصنف کسی پہلو کو سراہ رہا ہے یا اس پر تنقید کر رہا ہے- یہی وجہ ہے کہ ان کتابوں کا مطالعہ کرتے وقت فکری بصیرت اور تنقیدی شعور کی ضرورت ہوتی ہے-

اسی سلسلے میں مائیکل ہارٹ کی مثال اکثر پیش کی جاتی ہے- ان کی معروف کتاب ’’The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History‘‘ میں رسول اللہ (ﷺ)کو تاریخ کی سب سے مؤثر شخصیت قرار دیا گیا- گوکہ بات ذرا غیر متعلق ہو جاتی لیکن ، دلچسپی سے خالی نہیں کہ اردو زبان کے مترجمین و ناشرانِ کتب نے اس کتاب کا نام ہی بگاڑ دیا جس کا مقصد علمی دیانت نہ تھا بلکہ کتاب کی زیادہ فروخت تھی ، مثلاً شروع شروع میں خود ناچیز نے بھی نام سے متاثر ہو کر کتاب لی تھی کہ کتاب کا نام رکھا گیا تھا’’سو عظیم آدمی‘‘اور اس میں سب سے اوپر ہمارے پیارے نبی پاک (ﷺ) کا اسمِ گرامی تھا جبکہ عنوانِ کتاب کا نہ تو یہ نام بنتا ہے اور نہ ہی مصنف کا یہ مقصد تھا کہ ’’عظیم لوگوں‘‘ کی فہرست بنائی جائے، مائیکل ہارٹ نے بہت واضح لفظوں میں لکھ رکھا ہے کہ اگر وہ عظیم لوگوں کی فہرست بناتا تو (معاذ اللہ) حضرت محمد (ﷺ) کا نام سب سے اوپر نہ ہوتا ، یہ فہرست تاریخ پہ سب سے زیادہ اثر انداز ہونے والی شخصیات کی ہے  - 

ایک مسلمان کیلیے تو اس حقیقت میں سرے سے کوئی شبہ نہیں کہ رسول اللہ (ﷺ)تمام انسانیت میں سب سے اعلیٰ و ارفع مقام رکھتے ہیں- آپ (ﷺ) ہی ایمان کا مرکز، ہدایت کا سرچشمہ اور دنیا و آخرت کی کامیابی کا راستہ دکھانے والے ہیں-

لیکن اگر مائیکل ہارٹ کی پوری کتاب اور اس پر ہونے والی تنقیدات کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی درجہ بندی کا معیار خالصتاً ایمانی یا روحانی نہیں تھا- انہوں نے شخصیات کو ان کے تاریخی اثرات، سماجی نفوذ اور انسانی تاریخ پر مرتب ہونے والے نتائج کے اعتبار سے جانچا تھا- اسی پیمانے پر انہوں نے رسول اللہ (ﷺ) کو سب سے اوپر رکھا،  کیونکہ ان کے نزدیک کوئی دوسری شخصیت ایسی نہیں تھی جس نے بیک وقت مذہبی اور دنیاوی دونوں میدانوں میں اتنا گہرا اور وسیع اثر چھوڑا ہو-

لیکن اس کے ساتھ ساتھ مصنف کی بعض دیگر تحریروں اور تبصروں میں ایسے زاویے بھی نظر آتے ہیں جو اسلامی تصورِ نبوت اور ایک مسلمان کے ایمانی نقطۂ نظر سے مطابقت نہیں رکھتے- بعض مقامات پر ان کے تجزیات میں وہی فکری حدود اور وہی تہذیبی پس منظر جھلکتا ہے جس سے وہ خود تعلق رکھتے تھے- چنانچہ ایک جگہ وہ غیر معمولی انصاف اور اعتدال کا مظاہرہ کرتے ہیں، جبکہ دوسری جگہ ان کے فکری رجحانات اور تعصبات زیادہ واضح ہو جاتے ہیں-

اسی طرح بعض تاریخی شخصیات کی درجہ بندی میں بھی ان کے انتخاب سے اختلاف کیا جا سکتا ہے- مثال کے طور پر حضرت عمر بن خطاب (رضی اللہ عنہ) جیسی عظیم شخصیت کے مقام کے بارے میں ان کی درجہ بندی کو بہت سے اہلِ علم ناکافی سمجھتے ہیں، کیونکہ اسلامی تاریخ اور انسانی تہذیب پر حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے اثرات ایسے ہیں جن کا احاطہ خود مغربی تاریخی معیارات کو سامنے رکھ کے کیا جائے تو بھی مائیکل ہارٹ نے کھلی بد دیانتی کا ارتکاب کیا ہے -

اس لیے کسی مغربی مصنف کی ایک مثبت رائے کو لے کر اسے حرفِ آخر سمجھ لینا بھی درست نہیں اور اس کی ہر بات کو یکسر رد کر دینا بھی علمی دیانت کے خلاف ہے- درست رویہ یہ ہے کہ ہر مصنف کو اس کے پورے فکری پس منظر، اس کے معیارِ تحقیق اور اس کے مجموعی کام کی روشنی میں سمجھا جائے- سیرتِ نبوی کا مطالعہ عقیدت کے ساتھ ساتھ بصیرت بھی چاہتا ہے اور یہی بصیرت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کسی شخصیت یا کتاب کا فیصلہ ایک اقتباس یا ایک جملے کی بنیاد پر نہیں بلکہ اس کے پورے تناظر کو سامنے رکھ کر کیا جائے-

غیر مسلم مصنفین کے مقابلے میں سیرتِ نبوی (ﷺ) کے مطالعے کے حوالے سے ایک عام قاری کا طرزِ عمل کیا ہونا چاہیے؟ یہاں ایک نہایت اہم نکتہ یہ ہے کہ بعض اوقات ہم اپنے ایمان کے سب سے حساس اور بنیادی ترین موضوعات کے بارے میں مطالعے میں وہ احتیاط نہیں برتتے جو برتنی چاہیے- حالانکہ ہمارے عقیدے کی بنیاد ہی دو کلمات پر قائم ہے: ’’لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ‘‘- یعنی ہماری پوری دینی، فکری اور روحانی دنیا اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کے گرد گھومتی ہے-

اسی لیے ایک عام مسلمان کیلئے پہلی اور بنیادی رہنمائی یہ ہونی چاہیے کہ وہ سیرتِ نبوی (ﷺ) کے فہم کا آغاز غیر مسلم مصنفین سے نہ کرے، جب تک کہ وہ تحقیق کے کسی خاص مرحلے میں ہو، اس میدان میں گہری مہارت رکھتا ہو، یا کسی علمی مسئلے پر براہِ راست تحقیق کر رہا ہو- یہ ایک بالکل مختلف علمی طریق ہے جس میں تنقیدی شعور، مصادر کی پہچان اور فکری پس منظر کا گہرا ادراک ضروری ہوتا ہے-

اگر معاملہ ایک عام قاری کا ہے جو اپنے ایمان کو تازہ کرنا، اپنے دل میں محبتِ رسول (ﷺ) کو بڑھانا اور اپنی زندگی میں دین کے اثرات کو محسوس کرنا چاہتا ہے، تو اس کے لیے درست راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی ابتدائی فکری اور روحانی تربیت مسلمانوں کے اہلِ علم اور سیرت نگاروں کی تصنیفات سے حاصل کرے- یہی وہ محفوظ علمی اور ایمانی گہوارہ ہے جس میں انسان کا شعور بتدریج نشوونما پاتا ہے اور اس کے فہم میں استحکام پیدا ہوتا ہے-

مسلمان اہلِ علم کے نزدیک سیرتِ نبوی (ﷺ) کا بنیادی مقصد محض تاریخی معلومات فراہم کرنا نہیں، بلکہ انسان میں محبتِ رسول(ﷺ) کو گہرا کرنا، اس کے عمل کو درست کرنا، اس کے اخلاق کو سنوارنا اور اسے ایمان و عمل کے قریب لانا ہے- یہی وہ زاویۂ نظر ہے جو سیرت کے مطالعے کو ایک زندہ، مؤثر اور تربیتی عمل بناتا ہے-

البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ نوآبادیاتی دور کے بعد پیدا ہونے والے فکری ماحول نے اس میدان کو بھی متاثر کیا ہے- خود مسلمان اہلِ علم و قلم سمیت بعض سیرت نگاری اس دور میں ایسی بھی ہوئی ہے جو براہِ راست یا بالواسطہ طور پر مختلف فکری، سیاسی یا علمی ایجنڈوں کے زیرِ اثر رہی- بالعموم نو آبادیات کے دوران و بعد اور خاص طور پر سرد جنگ کے زمانے میں بعض علمی و تحقیقی کام ایسے بھی سامنے آئے جن کے پس منظر میں عالمی سامراجی طاقتوں کے فکری مفادات اور ادارہ جاتی ترجیحات کارفرما تھیں- جدید دور میں معلومات کے پھیلاؤ اور رائے سازی کے طریقے بھی اسی طرزِ فکر کی توسیع معلوم ہوتے ہیں، جہاں بظاہر کوئی رائے یا کتاب فطری اور علمی نظر آتی ہے، لیکن اس کے پیچھے ایک منظم فکری تشکیل اور سامراجی مفادات کارفرما ہو سکتے ہیں -

یہی وجہ ہے کہ سیرت کے مطالعے میں محض جدید اسلوب سے متاثر ہو جانا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پس منظر، اس کے فکری رجحان اور اس کے مصادر کو سمجھنا بھی ضروری ہے- اس کے مقابلے میں وہ کلاسیکی اسلامی مصادر زیادہ محفوظ اور قابلِ اعتماد بنیاد فراہم کرتے ہیں جن پر صدیوں سے امتِ مسلمہ کا علمی اعتماد قائم ہے-

اس تناظر میں سب سے بنیادی اور محفوظ ترین ماخذ خود قرآنِ مجید ہے- قرآنِ کریم نہ صرف دینِ اسلام کی اساس ہے بلکہ رسول اللہ (ﷺ) کی سیرت کا سب سے مستند، سب سے محفوظ اور سب سے بلند بیان بھی ہے- قرآنِ مجید میں حضور نبی اکرم (ﷺ) کی حیاتِ طیبہ کے مختلف پہلو نہایت حکمت، ترتیب اور تدریج کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں، جو انسان کے ایمان کو بھی مضبوط کرتے ہیں اور اس کی فکری رہنمائی بھی کرتے ہیں-

جو شخص سیرتِ نبوی (ﷺ) کو قرآنِ مجید کی روشنی میں سمجھتا ہے، وہ نہ صرف فکری گمراہی سے محفوظ رہتا ہے بلکہ اس کا تعلق رسول اللہ (ﷺ) سے ایک گہری ایمانی وابستگی کی صورت اختیار کر لیتا ہے- قرآن مجیدچونکہ ہر قسم کی تحریف، کمی اور اضافے سے محفوظ ہے، اس لیے سیرت النبی (ﷺ) کے فہم میں بھی یہ سب سے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے-

یوں سیرتِ نبوی کے مطالعے کا صحیح اور محفوظ راستہ یہ ہے کہ انسان اپنی فکری بنیاد قرآن مجید اور معتبر اسلامی مصادر پر قائم کرے اور پھر ضرورت اور بصیرت کے ساتھ دیگر علمی متون سے استفادہ کرے- یہی وہ متوازن منہج ہے جو ایمان کو بھی محفوظ رکھتا ہے اور علم کو بھی وسعت عطا کرتا ہے-

اس میں کوئی شک نہیں کہ مغربی علمی دنیا میں بے شمار قابلِ احترام ادارے، محققین اور اہلِ علم موجود ہیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بعض علمی مباحث میں ایسے دوہرے معیار (double standards) بھی نظر آتے ہیں جنہیں دیکھ کر ایک سنجیدہ قاری حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہے-

مثلاً ایک بار میری ملاقات جارج ٹاؤن یونیورسٹی جیسے ممتاز تعلیمی ادارے میں ایک سکالر سے ہوئی- گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ آج بھی مغربی جامعات کے دیونٹی (Divinity) اور مذہبی مطالعات کے شعبوں میں اس بات پر بنیادی بحث جاری ہے کہ قرآنِ مجید آیا ’’Word of God‘‘ ہے یا نہیں- یعنی ایک ایسی کتاب جو کروڑوں انسانوں کے ایمان، عبادت اور زندگی کا مرکز ہے، اس کی بنیادی حیثیت ہی ابھی تک مغربی علمی حلقوں میں زیرِ بحث ہے-

یہ بات صرف چند جدید مصنفین تک محدود نہیں بلکہ ان اہلِ علم میں بھی نظر آتی ہے جنہوں نے اسلام یا قرآن مجید کا نسبتاً مثبت تعارف پیش کیا، مثلاً بعض مستشرقین یا محققین نے قرآن کریم کے اسلوب، اثرات اور تاریخی اہمیت پر تو بات کی، لیکن بہت کم ایسا ہوا کہ انہوں نے واضح اور دوٹوک طور پر یہ اعتراف کیا ہو کہ قرآن کریم ابتدا سے آخر تک اللہ تعالیٰ کا کلام ہے-

اس کے مقابلے میں اگر دیکھا جائے تو بعض دیگر مذہبی متون کے بارے میں علمی دنیا میں ایک مختلف رویہ موجود ہے- مثلاً بائبل کے بارے مغربی اکثریت یہ یقین سے لکھتی رہی ہے کہ یہ خداوند کا کلام ہے -  پروٹیسٹنٹ فرقہ میں زیادہ تر رائج کنگ جیمز کی بائبل کی مثال لیں- اس کی تدوین 1611ء میں ہوئی، اس کی تاریخِ تدوین اور اس کے بعد ہونے والی ترامیم علمی حلقوں میں معروف ہیں- تاریخی اعتبار سے انجیلِ مقدس معروف لفظوں میں بائبل کا متن مختلف زبانوں اور ادوار سے گزرتا ہوا موجودہ شکل تک پہنچا ہے-آرامی، یونانی، لاطینی اور پھر مختلف یورپی زبانوں میں اس کے تراجم اور ایڈیشنز سامنے آتے رہے-

مزید یہ کہ 1611ء میں کنگ جیمز کی بائبل مرتب ہوئی اس کے بعد اس میں متعدد ترامیم اور نظرِ ثانی کے مراحل آئے، 1629ءمیں ابتدائی ریویژن ہوئی، 1769ء میں اہم تبدیلیاں کی گئیں اور 1885ء کے ایڈیشن میں ہزاروں ترامیم شامل کی گئیں- بعض تاریخی ریکارڈز کے مطابق صرف اس ایک مرحلے میں 30ہزار کے قریب تبدیلیاں مختلف الفاظ، اسلوب اور تراجم کی سطح پر کی گئیں- بعد ازاں 1901ء میں American Standard Version جیسے نئے ایڈیشن بھی سامنے آئے جنہوں نے مزید ترامیم اور ایڈیٹوریل تبدیلیوں کو شامل کیا-

اس تمام تاریخی پس منظر کے باوجود یہ کتابیں اپنے ماننے والوں کے نزدیک ’’Word of God‘‘ کے طور پر تسلیم کی جاتی ہیں اور اس بنیادی دعوے پر عمومی طور پر کوئی سوال نہیں اٹھایا جاتا-

اس کے برعکس اگر قرآنِ مجید کو دیکھا جائے تو اس کی ایک منفرد تاریخی اور متنی حیثیت ہے- حضرت رسول اللہ (ﷺ) کے زمانہ مبارک اور خلفائے راشدین (رضی اللہ عنھم) کے دور سے لے کر آج تک،1400برس سے زائد عرصے میں اس کے متن میں کوئی کمی بیشی یا تبدیلی واقع نہیں ہوئی- شرق سے غرب تک ایک ہی متن، ایک ہی تلاوت اور ایک ہی کتابی صورت پوری امت میں رائج ہے- اگرچہ قرأت کے اسالیب موجود ہیں، مگر متن کی حفاظت اور وحدت میں کوئی اختلاف نہیں-

یہی وہ نکتہ ہے جہاں ایک سنجیدہ قاری کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ علمی معیار کے تعین میں یہ دوہرا رویہ کیوں موجود ہے؟ ایک طرف ایک تاریخی طور پر تبدیل ہونے والی کتاب کو بلا تردد ’’الہامی و آسمانی‘‘تسلیم کیا جاتا ہے اور دوسری طرف ایک ایسی کتاب جس کے متن میں صدیوں سے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی، اس کی الہامی حیثیت پر مسلسل بحث جاری ہے-

یہاں مقصد کسی مذہب یا علمی روایت کی تردید نہیں، بلکہ صرف اس مغربی علمی رویے کی طرف توجہ دلانا ہے جس میں بعض اوقات معیارات یکساں نہیں رہتے- ایک علمی اور منصفانہ رویہ یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہر متن کو اس کے اپنے تاریخی، لسانی اور داخلی معیار کے مطابق پرکھا جائے، نہ کہ پہلے سے قائم شدہ مفروضات کی بنیاد پر اس کا فیصلہ کیا جائے-

یہی وہ مقام ہے جہاں یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ مختلف علمی معیارات، مختلف زاویۂ نظر اور مختلف پیمانے ہمارے اور دوسروں کیلئے الگ الگ رکھے جاتے ہیں- بدقسمتی سے ہم میں سے اکثر افراد ان فکری تعصبات اور علمی جھکاؤ (biases) کو نہ تو پہچانتے ہیں اور نہ ہی ان کا شعور رکھتے ہیں- یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ہم غیر شعوری طور پر ایک ایسے علمی ماحول کا حصہ بن جاتے ہیں جس میں علمی غیر دیانت داری (academic dishonesty) کے پہلو بھی شامل ہوتے ہیں، مگر وہ علمی جواز کے پردے میں چھپ جاتے ہیں-

اسی پس منظر میں ایک اور نہایت اہم حقیقت یہ ہے کہ مغربی علمی روایت میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بعض گہرے اور تاریخی سطح پر جڑیں رکھنے والے تحفظات اور نفسیاتی رویے بھی موجود رہے ہیں- یہ کوئی سادہ یا سطحی مسئلہ نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی پس منظر رکھتا ہے جس کا ایک پورا فکری اور تہذیبی نصاب ہے- اسے سمجھنے کے لیے محض چند کتابوں کا مطالعہ کافی نہیں ہوتا بلکہ صدیوں پر پھیلی ہوئی فکری تاریخ، تہذیبی کشمکش اور مذہبی تعاملات کو دیکھنا پڑتا ہے-

اسلام کے ظہور کے بعد اور خصوصاً رسول اللہ (ﷺ) کی بعثت کے بعد جو تہذیبی انقلاب رونما ہوا، اس نے اس وقت کی بڑی عالمی طاقتوں اور قائم شدہ تہذیبوں کیلئے ایک نیا فکری چیلنج پیدا کیا- ابراہیمی روایت میں ایک ایسی شخصیت کا ظہور جو بنی اسحاق کی بجائے بنی اسماعیل میں سے تھی بلکہ یروشلم کی مدنیت کی بجائے مکہ جیسے بدوی معاشرے سے اٹھ کر پوری انسانی تاریخ کے فکری اور اخلاقی نظام کو بدلنے کا دعویٰ لے کر آئی،یہ بات اُس وقت کی غالب تہذیبوں کے لیے بالخصوص رومیوں کیلئے قبول کرنا آسان نہیں تھا کہ پہلا ریلہ ہی ان کے ہاتھوں سے عرب کی حکمرانی بہا لے گیا -

اس کے بعد تاریخ کے مختلف ادوار میں یہ فکری کشمکش مختلف شکلوں میں جاری رہی- کبھی تحریری مباحث، مذہبی مناظرے اور کبھی سیاسی و عسکری محاذ آرائیوں کی صورت میں- صلیبی جنگیں اس تاریخی سلسلے کا ایک نمایاں باب ہیں، جن کے بعد مشرق و مغرب کے درمیان تعلقات میں ایک نئی قسم کی فکری حساسیت اور نفسیاتی فاصلے پیدا ہوئے- یہ وہ پس منظر ہے جس میں بعد کے ادوار میں اسلام اور پیغمبرِ اسلام (ﷺ)کے بارے میں مختلف علمی بیانیے تشکیل پاتے رہے-

یہ ایک وسیع اور پیچیدہ موضوع ہے جسے مکمل طور پر سمجھنا عامۃ الناس کے ذمے نہیں نہ ہی یہ ہر ایک کے بس کی بات ہے - اس کیلئے گہرے تاریخی مطالعے، بین الثقافتی تجزیے اور علمی بصیرت کی ضرورت ہوتی ہے- ’’روٹین‘‘ کی زندگی گزارنے والے عام قاری کے لیے اس پورے پس منظر میں اترنا اتنا  آسان نہیں  ہے -

اسی لیے جب ہم سیرتِ نبوی (ﷺ)کے مطالعے کی بات کرتے ہیں تو ایک بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے لیے محفوظ اور قابلِ اعتماد علمی راستہ کون سا ہے؟

عام سطح پر رہتے ہوئے ایک مسلمان قاری کے لیے یہ زیادہ مناسب ہے کہ وہ ان مصادر کی طرف رجوع کرے جنہیں امت کے جمہور اہلِ علم نے صدیوں کے علمی تعامل اور تحقیق کے بعد قابلِ اعتماد سمجھا ہے-

ایک اور اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ بعض جدید فکری رجحانات میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ)کی زندگی کے صرف بعد از بعثت حصے کو ہی مطالعے کا مرکز بنایا جائے، کیونکہ قرآنِ مجید میں زیادہ تر حوالہ جات اسی دور سے متعلق ہیں- لیکن سوال یہ ہے کہ پھر بعثت سے پہلے کی چالیس سالہ زندگی کو ہم کس طرح سمجھیں؟

یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں مستند سیرت نگاری کی ضرورت پیش آتی ہے- وہ سیرت نگار جو امت کے علمی تسلسل سے جڑے ہوئے ہوں، جن کی تصانیف صدیوں کے علمی اعتماد سے گزری ہوں اور جنہوں نے رسول اللہ (ﷺ) کی پوری حیاتِ مبارکہ،قبل از بعثت اور بعد از بعثت کو ایک مربوط اور جامع تناظر میں پیش کیا ہو-اسی متوازن منہج کے ذریعے ہی سیرتِ نبوی (ﷺ) کا وہ فہم حاصل کیا جا سکتا ہے جو نہ صرف علمی طور پر مضبوط ہو بلکہ ایمانی طور پر بھی انسان کیلئے ہدایت، اطمینان اور استقامت کا ذریعہ بن سکے-

قرآنِ مجید خود رسول اللہ (ﷺ) کی بعثت سے پہلے کی حیاتِ طیبہ کو بھی متعدد مقامات پر بطور دلیل پیش کرتا ہے- اس سے یہ غلط فہمی دور ہو جاتی ہے کہ قرآن مجید صرف اعلانِ نبوت کے بعد کی زندگی کو موضوع بناتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ قبل از بعثت حیات بھی قرآن  مجید کے استدلال کا حصہ بنتی ہے-

مثال کے طور پر قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’قُلْ لَّوْ شَآءَ اللہُ مَا تَلَوْتُہٗ عَلَیْکُمْ وَلَآ اَدْرٰىکُمْ بِہٖ زصلے فَقَدْ لَبِثْتُ فِیْکُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِہٖ ط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ‘‘[1]

’’اے حبیب مکرم (ﷺ)فرما دیجئے: اگر اللہ چاہتا تو نہ ہی میں اس (قرآن) کو تمہارے اوپر تلاوت کرتا اور نہ وہ (خود) تمہیں اس سے باخبر فرماتا، بیشک میں اس (قرآن کے اترنے) سے قبل (بھی) تمہارے اندر عمر (کا ایک حصہ) بسر کرچکا ہوں، سو کیا تم عقل نہیں رکھتے‘‘-

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم (ﷺ) کو اپنی چالیس سالہ زندگی کو بطور دلیل کے لوگوں کے سامنے پیش فرمانے کا حکم ارشاد فرمایا جب کفار مکہ نے قرآن کریم کی حقانیت پر اعتراض اُٹھایا -جب خود قرآن  کریم آپ (ﷺ)  کی زندگی مبارک کو اپنی حقانیت کی دلیل کے طور پر پیش کر رہا ہے تو پھر اس حیاتِ مبارکہ کا مطالعہ کس قدر اہم ہوگا،یہ بات خود بخود واضح ہو جاتی ہے-

اسی طرح سورہ الحجر میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’لَعَمْرُکَ اِنَّہُمْ لَفِیْ سَکْرَتِہِمْ یَعْمَہُوْنَ ‘‘[2]

’’(اے حبیبِ مکرّم!) آپ (ﷺ)کی عمرِ مبارک کی قَسم، بیشک یہ لوگ (بھی قومِ لوط کی طرح) اپنی بدمستی میں سرگرداں پھر رہے ہیں ‘‘-

یہاں ’’لَعَمْرُکَ‘‘ کے الفاظ میں مفسرین کے مطابق اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (ﷺ) کی حیاتِ طیبہ کی قسم اٹھائی ہے- یہ اپنے آپ میں ایک عظیم اعزاز اور مقام کی دلیل ہے، کیونکہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا کسی انسانی زندگی کی قسم اٹھانا اس کی غیر معمولی عظمت، طہارت اور معنوی رفعت کو ظاہر کرتا ہے-

اس آیت کریمہ کی تفسیر میں امام بغویؒ لکھتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں کہ:

’’مَا خَلَقَ اللهُ نَفْسًا أَكْرَمُ عَلَيْهِ مِنْ مُّحَمَّدٍ (ﷺ) وَمَا أَقْسَمَ اللهُ تَعَالٰى بِحَيَاةِ أَحَدٍ إِلَّا بِحَيَاتِهٖ‘‘[3]

’’اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفےٰ(ﷺ) سے بڑھ کر اپنے نزدیک کسی جان کو باعزت اور مکرم پیدا نہیں فرمایا-اور اللہ تعالیٰ نے کسی کی زندگی کی قسم نہیں کھائی مگر آپ (ﷺ) کی زندگی کی‘‘-

اسی طرح سورہ الاحزاب میں فرمایا گیا:

’’لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنْ کَانَ یَرْجُو اللہَ وَالْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَذَکَرَ اللہَ کَثِیْرًا ‘‘[4]

’’فی الحقیقت تمہارے لئے رسول اﷲ (ﷺ) کی ذات) میں نہایت ہی حسین نمونۂ (حیات) ہے ہر اُس شخص کے لئے جو اﷲ (سے ملنے) کی اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اﷲ کا ذکر کثرت سے کرتا ہے‘‘-

یہ آیت کریمہ اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) کی پوری زندگی،بعثت سے پہلے اور بعد دونوں ادوار میں،انسانیت کے لیے ایک جامع، کامل اور قابلِ تقلید نمونہ ہے-

ان تین  آیات مبارکہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سیرتِ نبوی (ﷺ) نہ صرف تاریخی اعتبار سے معتبر ہے بلکہ قرآنی استدلال کے مطابق ایک بنیادی اور قطعی طور پر قابلِ اعتماد حقیقت ہے- کیونکہ سیرتِ رسول(ﷺ)  کی  حقانیت (Authenticity) قرآنِ مجید خود قائم کرتا ہے-

لیکن یہاں ایک اور نکتہ بھی سمجھنا ضروری ہے اور وہ ہے خالصیت(Purity) یعنی اس سیرت کی فکری اور اخلاقی پاکیزگی- قرآن  مجید نہ صرف اس کی صداقت کو ثابت کرتا ہے بلکہ اس کی معنوی پاکیزگی اور اخلاقی بلندی کی بھی گواہی دیتا ہے- رسول اللہ (ﷺ)کی حیاتِ طیبہ محض ایک تاریخی روایت نہیں بلکہ ایک ایسا مکمل اخلاقی ماڈل ہے جو ہر زمانے کے انسان کیلئے رہنمائی فراہم کرتا ہے-

یوں کہا جا سکتا ہے کہ قرآنِ مجید ایک طرف سیرتِ نبوی کی  حقانیت (Authenticity) کو ثابت کرتا ہے اور دوسری طرف اس کی   خالصیت (Purity) اور اخلاقی برتری کو بھی واضح کرتا ہے- یہی وہ دو بنیادی ستون ہیں جن پر سیرتِ نبوی (ﷺ) کے مطالعے کی پوری عمارت قائم ہوتی ہے-

قرآنِ مجید سیرت النبی (ﷺ) کی خالصیت کو نہایت واضح اور فیصلہ کن انداز میں یوں بیان کرتا ہے:

’’وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَوٰی؁ اِنْ ہُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی‘‘[5]

’’اور وہ کوئی بات اپنی خواہش سے نہیں کرتے وہ تو نہیں مگر وحی جو انہیں کی جاتی ہے ‘‘-

یہاں ایک بنیادی حقیقت واضح ہوتی ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کا قول کسی عام انسانی اظہارِ خیال کی طرح محض ذاتی رائے یا خواہش پر مبنی نہیں ہوتا تھا- بلکہ آپ(ﷺ) کا کلام وحی کی رہنمائی سے مربوط ہوتا تھا جس میں انسانی خواہش کا کوئی دخل نہیں -

اسی حقیقت کو مفسرین  کرام نے نہایت خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے- امام ابی عبدالرحمن بن الحسین بن موسی السلمی (المتوفی : 412ھ ) اپنی تفسیر ’’تفسیر السلمی‘‘ میں اسی آیت کے تحت لکھتے ہیں :

’’مَا یَنْطِقُ اِلَّا بِاَمْرٍ وَّلَا سَکَتَ اِلَّا بِاَمْرٍ‘‘[6]

’’آپ (ﷺ) کلام نہیں فرماتے مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اور نہ ہی آپ (ﷺ) خاموش رہتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کے حکم سے‘‘-

یعنی آپ(ﷺ) کی پوری حیاتِ مبارکہ قولاً بھی اور سکوتاً بھی اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ہدایت کے مطابق تھی-یہی وہ  خالصیت (Purity) ہے جس کی طرف قرآن  کریم ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) کی شخصیت کسی ذاتی رجحان یا انفرادی خواہش کا نام نہیں، بلکہ مکمل طور پر ہدایتِ الٰہی کا مظہر ہے-

سیرت النبی (ﷺ) کی خالصیت کو قرآن مجید ایک اور مقام پر یوں واضح کرتا ہے کہ غزوۂ بدر کے موقع پر جب آپ(ﷺ) نے کفار کی طرف کنکریاں پھینکیں تو قرآن مجید نے اس عمل کو بھی براہِ راست اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا:

’’وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللہَ رَمٰی ‘‘[7]

’’اور اے محبوب وہ خاک جو تم نے پھینکی تم نے نہ پھینکی تھی بلکہ اللہ نے پھینکی ‘‘-

اس آیت کریمہ میں آپ (ﷺ) کے فعل کو اللہ تعالیٰ اپنا فعل قرار دے رہا ہے تو یہ آپ (ﷺ) کی معاشرت اور سیرتِ طیبہ کے حق ہونے پر مہر ِ الٰہی ثبت ہے-

اسی طرح سورہ الانعام میں فرمایا گیا:

’’قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ‘‘[8]

’’اے حبیب مکرم، آپ (ﷺ) فرما دیجئے! بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کیلئے ہے جو رب  ہے سارے جہان کا‘‘-

اس آیت کریمہ میں آپ (ﷺ) کا ہر فعل ظاہراً  و باطناً اور عملاً و اعتقاداً ماسویٰ اللہ سے پاک ہونے پر  قرآن کریم مہرِ تصدیق پیش کررہا ہے جو آپ (ﷺ) کی سیرتِ طیبہ کی خالصیت پر بطورِ مہرِ الٰہی  کے ثبت ہے-

یہی وہ خالصیت (Purity) ہے جو سیرتِ نبوی (ﷺ) کو انسانی تاریخ کی تمام شخصیات سے ممتاز اور منفرد بناتی ہے- یہ ایک ایسی کامل وابستگی ہے جو انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ زندگی کا اصل معیار اپنی خواہشات نہیں بلکہ اللہ  تعالیٰ کی رضا ہے- یہی وہ حقیقت ہے جس کے ساتھ انسان جب خود کو جوڑتا ہے تو اس کی فکر، اس کا عمل اور اس کی پوری زندگی ایک نئے معنوی استحکام سے ہمکنار ہو جاتی ہے-

آخر میں ایک نہایت اہم قرآنی نکتہ اس پوری بحث کو ایک جامع نتیجے کی طرف لے آتا ہے-سورہ التوبہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَاللہُ وَرَسُوْلُہٗٓ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْہُ اِنْ کَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ ‘‘[9]

’’اللہ اور اس کا رسول (ﷺ) زیادہ حق دار ہے کہ اسے راضی کیا جائے اگر یہ لوگ ایمان والے ہوتے‘‘-

یہاں ایک نہایت باریک فکری نکتہ سامنے آتا ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے- عربی زبان میں ضمائر (pronouns) کے ذریعے معنی کی بہت دقیق سطحیں بیان کی جاتی ہیں- واحد (singular)، تثنیہ (dual) اور جمع (plural)،  یہ تینوں اس زبان کا حصہ ہیں، جس کے ذریعے معنی میں نہایت باریکی اور تہہ داری پیدا ہوتی ہے-

ظاہری طور پر یہاں دو ہستیاں بیان ہو رہی ہیں: اللہ اور اس کا رسول (ﷺ)- اگر صرف عددی اعتبار سے دیکھا جائے تو تثنیہ کا صیغہ یعنی ’’ہمُا‘‘ استعمال ہونا چاہیے تھا- لیکن قرآنِ مجید نے یہاں ’’ یُرْضُوْہُ‘‘ میں واحد کا صیغہ استعمال کیا-

مفسرین نے اس نکتہ کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہاں رضامندی کی نسبت الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے طور پر بیان کی جا رہی ہے- یعنی اللہ کی رضا اور رسول اللہ (ﷺ) کی رضا دو مختلف سطحیں نہیں، بلکہ ایک ہی مرکزِ حقیقت کے دو مظاہر ہیں- جس نے اللہ تعالیٰ کو راضی کیا، اس نے رسول اللہ (ﷺ) کو راضی کیا اور جس نے رسول اللہ (ﷺ)کو راضی کیا، اس نے درحقیقت اللہ  تعالیٰ ہی کو راضی کیا-

اسی طرح قرآنِ مجید ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:

’’مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہَ‘‘[10]

’’جس نے رسول (ﷺ)کی اطاعت کی، اس نے اللہ  تعالیٰ کی اطاعت کی‘‘-

یہ آیت اس فکری وحدت کو مزید روشن کرتی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) کی اطاعت، اللہ  تعالیٰ کی اطاعت سے جدا کوئی عمل نہیں بلکہ اسی کا تسلسل اور اظہار ہے-

خلاصہ یہ ہے کہ قرآنِ مجید کی روشنی میں سیرتِ نبوی (ﷺ)نہ صرف حق’’Authentic‘‘ ہے بلکہ اپنی کامل ترین صورت میں  خالص (Pure) بھی ہے- آپ (ﷺ) کا ہر قول، ہر عمل، ہر فیصلہ اور ہر نسبت اللہ تعالیٰ کی ہدایت کے ساتھ اس طرح جڑا ہوا ہے کہ اسے جدا کر کے دیکھنا ممکن نہیں-

لہٰذا جب ہم رسول اللہ (ﷺ) کی پیروی کرتے ہیں تو درحقیقت ہم کسی انسانی شخصیت کی پیروی نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ ایک ایسی رہنمائی کے ساتھ جڑ رہے ہوتے ہیں جو ہمیں براہِ راست اللہ  تعالیٰ کی رضا تک پہنچاتی ہے-

٭٭٭


[1](یونس:16)

[2](الحجر:72)

[3](تفسیر بغوی، زیر آیت الحجر:72)

[4](الاحزاب:21)

[5](النجم:3-4)

[6](تفسیر السلمی، زیر آیت، النجم:3-4)

[7](الانفال:17)

[8](الانعام:162)

[9](التوبہ:62)

[10](النساء:80)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر