سیرتِ طیبہ اور ڈیجیٹل ہجوم کی نفسیات: ایک سماجی مطالعہ

سیرتِ طیبہ اور ڈیجیٹل ہجوم کی نفسیات: ایک سماجی مطالعہ

سیرتِ طیبہ اور ڈیجیٹل ہجوم کی نفسیات: ایک سماجی مطالعہ

مصنف: محمد ذیشان دانش اگست 2026

پس منظر اور تمہید :

وقت گزرنے کے ساتھ معاشرتی اقدار بدلتی ہیں اور یہ تبدیلی سماجیات، معاشیات، سیاسیات اور نظریات میں دیکھی اور محسوس کی جا سکتی ہے- معاشرتی نفسیات بھی متغیر ہوتی ہے جو حالات کے تحت اپنی صورت بدلتی رہتی ہے ، کہیں یہ بدلاؤ مختصر ہوتا ہے تو کہیں قدرے طویل- ماہر علم بشریات و نفسیات گسٹن لی بون (Gustave Le Bon) نے اپنی کتاب ہجوم کی نفسیات (Psychology of Crowd) میں ہجومی نفسیات کا مطالعہ کرتے ہوئے استدلال پیش کیا ہے کہ ہجوم میں موجود افراد شعوری عنصر سے محروم ہو جاتے ہیں اور ایک ہجوم کی سوچ (لوگوں کی دیکھا دیکھی) کو اپناتے ہیں- یہ سوچ عقل سے مبرا اورجذباتیت پر مبنی ہوتی ہے - کوئی ایک بات یا تجویز اس اجتماعی فیصلہ سازی پر بھرپور اثر انداز ہوتی ہے -

 معاشرے میں کچھ افعال اور محرکات عوامی نفسیات پر اثر انداز ہوتے ہیں جن کے باعث معاشرے میں کچھ افراد یا کسی گروہ میں غم و غصہ کی کیفیت پیدا ہوتی ہے جس کے اظہار کے لئے بعض اوقات اچانک اور بعض اوقات کسی منصوبے کے تحت بھی ہجوم اکٹھا ہوتا ہے -  ہجوم میں موجود افراد کسی شدت کی وجہ سے اپنی ذاتی شناخت کھو دیتے ہیں جس کے باعث ان کی اقدار و روایات اور خصائل ان لمحات میں بدل جاتے ہیں- ہجوم ایک انتہائی طاقتور سیلابی ریلے کی مانند ہوتا ہے - جس کے ہاتھ سےاکثر اوقات احتیاط کا دامن چھوٹ جاتا ہے - عمومی طور پر ہجوم اندھی تقلید کا قائل ہوتا ہے ، جہاں عقلی دلیل ، پر مغز تجزیہ یا حق و انصاف کی بات نہیں ہوتی ہجوم علم و دلیل کی بجائے خطیبانہ جملے بازی اور جذباتی نعروں پہ اکتفا کرتا ہےاور  انہی  جذباتی نعروں ہی فیصلے کرتا ہے  ہجوم ہمیشہ جذباتیت کی پیروی کرتا ہے ، جو سب سے زیادہ جذباتی ہو گا وہی ہجوم کا لیڈر قرار پائے گا ، مزے کی بات ہے کہ اسے کوئی  لیڈر نام زد نہیں کرتا  بلکہ وہ اپنے  جذبات اور بیہودہ گوئی  کی وجہ سے خود بخود نام زد ہو جاتا ہے ،   بعض دفعہ ہجوم میں شامل کوئی فرد جو بڑھ چڑھ کر کام کر رہا ہو یا کسی پر حملہ آوار ہو رہا ہو ہو سکتا ہے کہ وہ عام زندگی میں اتنا بہادر نہ ہو جتنا کہ وہ ہجوم میں نظر آ رہا ہے، زیادہ نعرہ بازی کرنے والا فرد شرمیلا ہو -مختصر یہ کہ، ہجوم میں انسانی نفسیات اور افعال وہ نہیں ہوتے جو عام زندگی میں ہوتے ہیں اور اس وقت جذباتیت کا غلبہ ہوتا ہے ، جبکہ سمجھنے بوجھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے - اگر ہم ماضی میں دیکھیں تو ہجوم کے ہاتھوں لوگوں کو زندہ جلانا ، جان سے مار دینا ، مار پیٹ کرنا ، لوٹ مار کرنا جیسی بے شمار مثالیں موجود ہیں - جدید دور میں جہاں ہمیں کسی فزیکل ہجوم میں اپنے آپ کو بچانا ہے وہیں ارتقائے زمانہ کے نتیجہ میں جدید ٹیکنالوجی اور سوشل میڈیا کے پلیٹ فارمز پر بھی ان پہلووں پر غور کرنے کی ضرورت ہے -

دنیا ایک گلوبل ویلج بن چکی ہے یہ صدی ڈیجیٹل انقلاب کی صدی ہے - سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی بھر مار ہے - ان پلیٹ فارمز نے ہر طرح کی معلومات تک رسائی کو آسان بناتے ہوئے ایک عام آدمی کی دسترس میں دے دیا ہےجس نے انسانی نفسیات اور معاشرتی رویوں پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں جو بسا اوقات تباہ کن بھی ثابت ہوئے ہیں- یہ تباہی انفراسٹرکچر یا اشیا کی نہیں بلکہ رویے ، سوچ ، اندازِ فکر ، تجزیاتی صلاحیت اور علم و معلومات کے مابین فرق کی بھی ہے - پاکستانی معاشرہ، جو پہلے ہی مختلف سماجی، معاشی، معاشرتی اور تعلیمی مسائل کا شکار تھا، ڈیجیٹلایزیشن کے اس سیلاب کے سامنے بری طرح بے بس نظر آتا ہے-

 لمحہ فکریہ  ہے کہ سوشل میڈیا صارف کا رویہ عمومی طور پر ایک فرد کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ڈیجیٹل ہجوم (Digital Mob) کے حصے کے طور پر سوچتا اور ردِعمل دیتا ہے- جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ ہجوم کی نفسیات (Crowd Psychology) یہ ہوتی ہے کہ اس میں فرد کی اپنی عقل ، صلاحیت ، علمی تجزیہ ، اخلاقیات اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور وہ سیل رواں کے دھارے میں بہہ نکلتا ہے جہاں پورا ہجوم جا رہا ہو- اس ڈیجیٹل ہجوم کے ہاتھوں روزانہ عزتیں اچھالی جاتی ہیں، بغیر تصدیق کے افواہیں پھیلائی جاتی ہیں اور نفرت کا بازار گرم کیا جاتا ہے- اس متشدد رویے کی بنیاد اور محرکات پر بحث کی جاسکتی ہے لیکن ان محرکات کی اوٹ میں ان رویوں سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا اور ان حالات میں اس انتہائی بنیادی رویے سے پہلو تہی ممکن ہی نہیں جب ’’خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ ہاشمی (ﷺ)‘‘-

اس سنگین اخلاقی اور نفسیاتی بحران سے نمٹنے کے لئے ہمارے لیے مشعلِ راہ سیرتِ طیبہ (ﷺ)اور اسوۂ حسنہ ہے- ہمارا ایمان ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) کی حیاتِ مبارکہ اور آپ (ﷺ)کی تعلیمات قیامت تک آنے والے ہر دور کے انسان اور ہر قسم کے بحران کے لیے ایک ابدی و آفاقی ضابطہ حیات ہے-

پاکستانی معاشرے کی ڈیجیٹل نفسیات اور اس کی کوتاہیاں:

پاکستانی سوشل میڈیا کا اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے، تو ڈیجیٹل ہجوم کی چند نمایاں اور خطرناک نفسیاتی خصوصیات سامنے آتی ہیں:

عدمِ تصدیق اور افواہ سازی

پاکستانی ڈیجیٹل ہجوم کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ یہاں معلومات کو ’’شیئر ‘‘ کرنے کی رفتار، اس کی ’’تصدیق‘‘ کرنے کی رفتار سےکئی گنا تیز ہے- جیسے ہی کوئی سنسنی خیز خبر، آڈیو یا ویڈیو سامنے آتی ہے، لوگ بغیر یہ سوچے کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ، اسے شئیر کرنے کے اثرات کیا مرتب ہو سکتے ہیں اور کیا اسے شئیر کرنا بھی چاہیئے یا نہیں ، یا اگر اس بات کو شئیر نہیں کرتے تو اس سے ہماری زندگی پر کیا اثرات ہوں گے یا کیا فرق پڑے گا، یہ سب سوچے بغیر ہم اس معلومات کو جو نہ جانے سچی ہے یا جھوٹی،حقیقت ہے یا افسانہ، اسے اس انداز میں آگے بڑھاتے ہیں جیسے یہ ہمارا مذہبی یا قومی فریضہ ہے-

کی بورڈ واریئرز اور ججمنٹل رویہ (Keyboard Warriors)

سوشل میڈیا نے ہر شخص کو یہ طاقت دے دی ہے کہ وہ اپنے بستر پر لیٹے لیٹے کسی کی بھی زندگی، ایمان اور کردار کا فیصلہ کر دے، خواہ اس وقت وہ خود کسی بھی حالت میں ہو - پاکستانی ڈیجیٹل ہجوم لمحات میں کسی کو صادق و امین تو کسی کو چور ولٹیرا ، کسی کو ولی کامل اور کسی کو بد کردار اور گناہگار ، کسی کو لائق ودائق پروفیسر اور کسی کو جاہل مطلق بنا دے گا -

ٹرولنگ، گالی گلوچ اور تضحیک (Digital Bullying)

ہمارے ہاں دوسرے کا مؤقف سننے کا حوصلہ تیزی سے ختم ہو تا جا رہا ہے- گو کہ اختلافِ رائے ہر معاشرے کا حسن ہوتا ہے جو سوالات کو جنم دیتا ہے، ترقی کی راہیں کھولتا ہے ،بند دروازوں کی کشادگی کا باعث بنتا ہے، لیکن پاکستانی ڈیجیٹل نفسیات میں اختلاف کا مطلب، بلکہ اختلاف تو شاید بڑا لفظ ہے فقط مختلف ہونے پر بھی ’’دشمنوں کا سا انداز ‘‘ ہے- اگر کوئی آپ کے سیاسی، مذہبی یا سماجی نظریات سے اتفاق نہیں کرتا، تو دلیل کے بجائے اس پر ذاتی حملے کیے جاتے ہیں، اس کی شکل و صورت کا مذاق اڑایا جاتا ہے اور غلیظ زبان استعمال کی جاتی ہے-معاملہ یہیں ختم نہیں ہوتا، اس کے خاندان کا ان معاملات سے تعلق نہ بھی ہو تو بھی ان کو کھینچ کر اس معاملے میں گھسیٹ لیاجاتا ہے- اس معاملے میں مرد و زن کی تفریق ختم ہو جاتی ہے، خواتین تک کو نہیں بخشا جاتا -

ہیرو ورشپ اور اندھی تقلید (Blind Following)

ڈیجیٹل ہجوم کسی ایک شخصیت (چاہے وہ سیاسی ہو یا مذہبی) کو اپنا آئیڈیل بنا لیتا ہے، اس کے بارے میں رائے سازی کی جاتی ہے، اس کو حق و سچ مان لیا جاتا ہے اور پھر اس کی ہر غلط بات کا بھی دفاع کرتا ہے- اس اندھی تقلید کے نتیجے میں معاشرے میں تقسیم در تقسیم (polarization) اتنی بڑھ جاتی ہے کہ لوگ اپنے خاندانوں اور دوستوں سے محض اس لیے قطع تعلق کر لیتے ہیں کیونکہ ان کا نظریہ مختلف ہے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر یا تو ان کو مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کہیں یہ بھی دیکھنے کو ملا ہے کہ چونکہ آپ اس کی حمایت نہیں کرتے جس کی ہم کرتے ہیں تو قطع تعلق کر لیا جاتا ہے -

 سیرتُ النبی () کی روشنی میں اصلاح اور رہنمائی

قرآن مجید اور سیرتِ طیبہ (ﷺ) میں ان تمام نفسیاتی بیماریوں کا بہترین حل اور اصولی رہنمائی موجود ہے- اگر ہم ان اصولوں کو اپنی ڈیجیٹل زندگی پر نافذ کر لیں تو ہم ہجوم کی تعریف سے نکل کر ایک مہذب اور باشعور قوم کے دائرے میں شامل ہو سکتے ہیں-

تحقیق اور تصدیق کا سنہری اصول

ڈیجیٹل ہجوم کی افواہ سازی کے توڑ کے لیے قرآنِ کریم نے ایک واشگاف اصول بیان فرمایا جس پر رسول اللہ (ﷺ)   نے پوری زندگی عمل کر کے دکھایا:

’’یٰٓاَیُّہَا  الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا  اِنْ جَآءَکُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَیَّنُوْٓا ‘‘[1]

’’اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر  لیا کرو‘‘-

رسول اللہ (ﷺ) کا فرمانِ عالی شان ہے:

’’کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کر دے‘‘ -[2]

آقا پاک (ﷺ) کی یہ حدیث مبارکہ ہماری رہنمائی کر رہی ہے کہ جب کوئی بات تم تک پہنچے تو تصدیق کرو، اپنی جستجو اور تحقیق کے گھوڑے کو دوڑاؤ ، اس رو میں بہہ مت جاو کیونکہ اللہ پاک نے ’’سورہ البقرہ ‘‘میں ارشاد فرمایا ہے کہ :

’’وَاتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْئًا وَّلَا یُقْبَلُ مِنْہَا شَفَاعَۃٌ وَّلَا یُؤْخَذُ مِنْہَا عَدْلٌ وَّلَا ہُمْ یُنْصَرُوْنَ ‘‘[3]

’’اور اس دن سے ڈرو جب کوئی شخص کسی شخص کا بدلہ نہ ہو سکے گا ‘ اور نہ کسی شخص کی (بلا اذن الہی) شفاعت قبول کی جائے گی اور نہ کسی شخص سے فدیہ لیا جائے گا اور نہ ان کی مدد کی جائے گی‘‘-

یعنی اس روز تم اپنے اعمال و افعال کے ذمہ دار خود ہو گے - لہٰذا سنی سنائی پر عمل نہ کرو - آج کے دور میں ’’سُنی سُنائی بات‘‘ سے مرادیہ بھی ہے کہ   ہر وہ پوسٹ، ٹویٹ یا واٹس ایپ میسج ہے جس کا کوئی مستند ذریعہ نہ ہو- اگر ہم صرف اس ایک حدیث پر عمل کر لیں، تو سوشل میڈیا پر پھیلی نفرت خود بخود ختم ہو جائے-

زبان اور ’’کی بورڈ‘‘ کی حفاظت

کبھی جو کام زبان کرتی تھی، آج کے دور میں وہی کام موبائل کا کی بورڈ کر رہا ہے- ہم انگلیوں سے ٹائپ کر کے چاہتے نہ چاہتے ، یا جانے انجانے میں فقط ان غافل لمحات کے اسیر ہو کر جن سے منع کیا گیا ہے دوسروں کے دلوں کو چھلنی کرتے ہیں-حضور نبی کریم (ﷺ) سے پوچھا گیا کہ مسلمان کون ہے؟ تو آپ (ﷺ) نے فرمایا:

’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں ‘‘-[4]

ایک اور مقام پہ آپ (ﷺ) نے حضرت معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہ)کو نصیحت کرتے ہوئے اپنی زبان مبارک کو پکڑا اور فرمایا:

’’اسے قابو میں رکھو- حضرت معاذ(رضی اللہ عنہ) نے عرض کیا: یا رسول اللہ(ﷺ)! کیا جو کچھ ہم بولتے ہیں اس پر بھی ہمارا مؤاخذہ ہوگا؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا:لوگ اپنی زبانوں کی کارستانیوں کی وجہ سے ہی اوندھے منہ جہنم میں ڈالے جائیں گے ‘‘-[5]

جب ہم کسی کے خلاف پوسٹ کرتے ہیں، سٹیٹس لگاتے ہیں یا کمنٹ سیکشن میں گالی لکھتے ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ وہ الفاظ نامۂ اعمال میں لکھے جا رہے ہیں- یہ خود احتسابی کا عمل ہمیں آقاکریم (ﷺ) کے اسوہ مبارکہ سے مل رہا ہے لیکن ہم اس سے منہ موڑے ہوئے ہیں -

 پردہ پوشی کرنا اور عیب جوئی سے گریز

پاکستانی ڈیجیٹل ہجوم کا ایک پسندیدہ مشغلہ دوسروں کے عیب تلاش کرنا اور ان کی خفیہ ویڈیوز یا آڈیوز کو وائرل کرنا ہے- سیرتِ طیبہ (ﷺ) ہمیں اس کے بالکل برعکس سکھاتی ہے- رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا:

’’جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کے عیب کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے عیبوں پر پردہ ڈالے گا‘‘-[6]

آپ (ﷺ) نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی جو دوسروں کے عیبوں کے پیچھے پڑتے ہیں:

’’اے ان لوگوں کی جماعت جو صرف زبان سے ایمان لائے ہو اور ان کے قلوب میں ایمان داخل نہیں ہوا مسلمانوں کی غیبت مت کیا کرو اور نہ ان کی عزت وآبرو کے درپے رہو- اس لیے جو کسی کی عزت کے درپے ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کا مواخذہ فرماتا ہے اور اللہ تعالیٰ جس کا مواخذہ فرماتا ہے تو اس کو اپنے گھر بیٹھے رسوا کردیتاہے‘‘-[7]

بدگمانی کی ممانعت

آج کل سوشل میڈیا پر کسی کی بات کا ہمیشہ بدترین مطلب نکالا جاتا ہے- اچھائی کو بھی برائی کے رنگ میں پیش کیا جاتا ہے- جبکہ سیرتِ نبوی (ﷺ) ہمیں دوسروں کے بارے میں حسنِ ظن (مثبت سوچ) رکھنے کی تعلیم دیتی ہے- قرآن پاک میں ارشاد ہے:

’’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ  اٰمَنُوْا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ ز اِنَّ  بَعْضَ الظَّنِّ  اِثْمٌ ‘‘[8]

’’اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے بچو ، بے شک بعض گمان  گناہ ہیں ‘‘-

حضور نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا بدگمانی سے بچو، کیونکہ بدگمانی سب سے جھوٹی بات ہے- اگر ڈیجیٹل میڈیا پر ہم دوسروں کی نیتوں پر شک کرنا چھوڑ دیں اور مثبت پہلو تلاش کریں، تو معاشرتی تناؤ ختم ہو سکتا ہے-

اخلاقِ حسنہ اور اختلافِ رائے کا سلیقہ:

رسول اللہ (ﷺ) کی بعثت مبارکہ کے بنیادی مقاصد میں سے ایک اخلاق کی تکمیل ہے- آپ (ﷺ) نے فرمایا:

’’بے شک مجھے بہترین اخلاق کی تکمیل کے لیے بھیجا گیا ہے‘‘-[9]

آقا کریم (ﷺ) نے بدترین دشمنوں سے بات کرتے ہوئے بھی کبھی فحش گوئی،گالی گلوچ یا بدزبانی کا سہارا نہیں لیا- اگر ہم سوشل میڈیا پر کسی سے شدید ترین اختلاف بھی رکھتے ہوں، تب بھی ہمیں اپنے اخلاق کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے- دلیل کا جواب دلیل سے دیا جائے، گالی سے نہیں-

 حاصلِ کلام اور تجاویز

پاکستانی معاشرے کی ڈیجیٹل نفسیات اس وقت ایک شدید اخلاقی بحران کا شکار ہے جہاں ہجومی نفسیات عقل اور شعور پر غالب آ چکی ہے- ہم اسمارٹ فونز کے مالک تو بن گئے ہیں، لیکن اخلاقیات سے محروم ہیں-

اس بحران سے نکلنے کا راستہ یہ ہے کہ ہم اپنے ڈیجیٹل رویوں کو سیرتِ طیبہ (ﷺ) کے سانچے میں ڈھالیں- اس کے لیے درج ذیل اقدامات انفرادی اور اجتماعی سطح پر ناگزیر ہیں:

انفرادی احتساب:

 ہر سٹیٹس یا پوسٹ کو لائک، کمنٹ، یا شیئر کرنے سے پہلے خود سے سوال کریں کہ:

  • اس بات کے ساتھ میرا کیا    تعلق ہے ؟
  • کیا   اس کا شیئر کرنا  لازمی  ہے ؟
  • اس کے  شیئر کرنے سے فائدہ کیا ہوگا ؟
  • اگر اس کو شیئر نہ کیا تو نقصان کیا ہوگا ؟
  • اگر پوسٹ کے مالک نے پوچھ لیا کہ اس کو شیئر کیوں  کیا ہے ؟ تو اس کا کیا جواب ہے ؟
  • آپ کے  پاس کیا ثبوت ہے کہ  یہ بات سچی بھی یا نہیں ہے؟
  •  کیا اس سے کسی کی دل آزاری تو نہیں ہو گی؟
  •  اور کیا میں قیامت کے دن اس لفظ کا جواب دے سکوں گا؟

ڈیجیٹل لٹریسی کا فروغ:

تعلیمی اداروں اور دینی مدارس میں ڈیجیٹل اخلاقیات (Digital Ethics) کو سیرت  طیبہ (ﷺ) کی روشنی میں پڑھایا جائے-

ہجوم کا حصہ بننے سے انکار کی جرات :

 جب کوئی ٹرینڈ یا مہم کسی بھی شخص کی تذلیل کے لیے چل رہی ہو، تو اپنی خودی کو بلند کریں اور اس کا حصہ بننے کے بجائے اس کا بائیکاٹ کریں-

اگر ہم نے آج اپنی ڈیجیٹل نفسیات کی اصلاح اسوۂ حسنہ کی روشنی میں نہ کی، تو یہ ڈیجیٹل ہجوم ہمارے معاشرے کے بچے کھچے اخلاقی ڈھانچےکو بھی تباہ کر دے گا- ہمیں اپنے سماجی رویوں کو بدلنے کی انتہائی ضرورت ہے- سوشل میڈیا کے استعمال بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے - سیرت طیبہ (ﷺ) کی روشنی میں تعلیم و روحانی تربیت سے ہم معاشرے میں مثبت تبدیلی کو پروان چڑھا سکتے ہیں - اللہ تعالیٰ ہمیں سوشل میڈیا کا استعمال مثبت، تعمیری اور سنتِ نبوی (ﷺ) کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے-آمین!

٭٭٭


[1](الحجرات: 6)

[2](مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الایمان)

[3](البقرۃ:48)

[4]( سنن ترمذی، كتاب الايمان)

[5](سنن ابن ماجہ، کتاب الفتن)

[6](سنن ترمذی، کتاب الحدود)

[7](سنن ابو داؤد، باب فی الغیبۃ)

[8](الحجرات:12)

[9](مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الآداب)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر