بیسویں صدی میں موجودہ قومی ریاست کا تصور،مسلم دُنیا میں مغرب سے منتقل ہوا- اِس ماڈل کی بنیاد رنگ و نسل، لسانیات، جغرافیہ اور قومی مفادجیسے نظریات پر رکھی گئی- نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان جیسے نظریاتی ممالک بھی وقت کے ساتھ لسانی، صوبائی اور فرقہ وارانہ تقسیم کا شکار ہو گئے- میڈیا، سکول اورسیاست نے ’’ہم کون ہیں؟‘‘کا جواب تلاش کرنے اور اس کی جستجو پیدا کرنے کی بجائے، ’’ہم ایک دوسرے سے مختلف کیسے ہیں؟‘‘کو ہوا دیتے ہوئے تقسیم کی بنیاد رکھی- یہ اختلاف کبھی نظریاتی تو کبھی معاشی، کبھی معاشرتی تو کبھی اقدار و روایات کی بنیاد پر قائم رہا، جو کہ ریاستی 'بیانیے کا بحران 'بنا- یعنی ریاست ایک مربوط، منظم اور اخلاقی بیانیہ فراہم کرنے میں ناکام رہی، جو کہ تقسیم در تقسیم کی بنیادی وجہ بنا- ریاست ’’ماں‘‘سی ہوتی ہے جو اپنی اکائیوں کو تسبیح کے دانوں کی طرح پرو کر رکھتی ہے جس میں بنیادی ڈھانچہ (دھاگہ) اخلاقی اقدار و روایات پر کھڑا ہوتا ہے- مادیت و ظاہر پرستی پر قائم جدیدیت کا یہ ڈھانچہ مسلم معاشروں میں پِٹ کر رہ گیا، جس کی بنیادی وجہ عقائد و نظریات میں اختلاف اور ٹکراؤ تھا-
مُسلم معاشرہ، ہمیشہ اپنی اقدار و روایات اور نظریات کی عملی تفسیر سے پہچانا جاتا ہے، جس کا دور جدید میں فقدان نظر آتا ہے-مُسلم ریاستوں میں ’’بیانیے‘‘ کا یہ ٹکراؤ موجودہ مسائل کی ایک جڑ ہے، جو اتحاد و اتفاق قائم نہ ہونے کی ایک بنیادی وجہ ہے- مُسلم ریاست میں عقائد و نظریات، اقدار و روایات اور حتیٰ کہ قوانین کااصل ماخذ سیرت النبی (ﷺ) ہے - ریاست مدینہ دس برس میں جس طرح مختلف قبائل، نسلوں اور مذاہب کو ایک اُمّت بنانے میں کامیاب ہوئی ، وہی ماڈل آج بھی قابل اطلاق ہے- اُنہی افکار و نظریات کی روشنی میں ایسا بنیادی فریم ورک ترتیب دیا جا سکتا ہے جو حقیقی طور پر 'ریاست ' کو تقویت دے اور اُس کے 'بیانیے' کو مضبوطی فراہم کرے- یہ مضمون سیرت النبی (ﷺ) سے تین نبوی اصول اخذ کر کے جدید ریاست کی تشکیلِ نَو پر تجاویز پیش کرے گا- جن کی بنیاد، وحدت، شہریت اور اخلاقی قیادت پر مشتمل ہو گی-
1- اتحاد اور وحؔدت کا تصور:
ہجرت مدینہ کے وقت تین بڑی رُکاوٹیں موجود تھیں- اول، اوس خزرج کی 120 سالہ دُشمنی- دوم، مہاجرین و انصار کا معاشی فرق- سوم، مسلمان و یہود کا نظریاتی اختلاف- اگر دیکھا جائے تو پاکستان میں بھی بنیادی تین رکاوٹیں موجود ہیں جن میں صوبائیت، طبقاتی فرق اور فرقہ واریت کا ناسور- حالانکہ، پاکستان دُنیا میں ایک واحد ریاست ہے جس کا نظریاتی ڈھانچہ کلمہ طیبہ پر قائم کیا گیا- تو ضروری ہے کہ ان مسائل کا حل بھی افکارِ نبوی(ﷺ)سے تلاش کیا جائے- حضور نبی کریم (ﷺ) نے میثاق مدینہ کی پہلی شق میں ’’ اُمتؔ واحد‘‘ کا تصور پیش کرکے مسلمانوں کو ایک اکائی کی طرح جوڑتے ہوئے اعلان فرمایا کہ مسلمان خواہ کسی قبیلے سے ہوں، ایک امت ہیں-
یہاں ’’اُمت‘‘ کا مطلب صرف مذہبی گروہ نہیں بلکہ سیاسی، سماجی، معاشی اور معاشرتی اکائی ہے- اِس وحدت کی تین بنیادیں رکھی گئیں:
(الف): اخوتِ ایمانی
مواخات کے ذریعے 90 مہاجرین کو 90 انصار کا بھائی بنا دیا جو کہ اپنی مثال آپ ہے- ہر تقسیم اور فرق کو مٹا کر ایک نظریے پر جمع کر دیا- اس مواخات میں صحابہ ؓ (انصار) نے ہر طرح سے قربانی پیش کی اور کوئی کسر اٹھا نہ رکھی- اس مواخات میں جہاں باقی صحابہؓ کے واقعات مشہور ہیں وہیں حضرت سعد ؓ کا وہ واقعہ بھی مشہور ہے جس میں انہوں نے اپنے مہاجر بھائی کیلئے آدھا آدھا مال کیا- یہی وہ جذبہ تھا جس نے میثاق مدینہ کا 'یک ریاستی' تصور پیش کیا جو 'وحدت' کی تقویت کا باعث بنا اور ریاست کے 'بیانیے' کو مضبوطی ملی- آج ہمیں اِن اَفکار و روایات سے سبق سیکھتے ہوئے عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے - تا کہ موجودہ درپیش مسائل کو حل کرتے ہوئے ، اتحاد و اتفاق قائم کیا جا سکے-
(ب)- لاقومیت
خطبہ حجتہ الوداع میں حضور نبی کریم (ﷺ)نے ہر لسانی و طبقاطی تقسیم کو ختم کرتے ہوئے ’’وحدت‘‘ کا ایسا پرچار کیا کہ، اسلامی عقائد و نظریات کی بنیاد ٹھہرا- آپ (ﷺ) نے فرمایا:
’’کسی عربی کوعجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت حاصل نہیں سوائے تقویٰ کے‘‘-
یہی وہ عملی تصویر تھی جس کی بنیاد پر حضرت بلالؓ حبشی کو مؤذن ، حضرت سلمان ؓفارسی کو مشیر جنگ، اور حضرت صہیب ؓ رومی کو بیت المال کا نگران بنایا گیا- قومیت و لسانیت کا معیار ختم کر کے تقویٰ کا معیار مقرر کیا- آج ضرورت اس امؔر کی ہے کہ ہم اپنے گروہی، فروعی، نظریاتی، معاشی، معاشرتی ، لسانی اور طبقاتی اختلافات چھوڑ کر ایک لڑی میں پرو جائیں تاکہ منافرت و تقسیم کی اس یلغار کا قلع قمع کیا جا سکے- معاشرے میں ہم آہنگی، برداشت اور بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیئے - ہمارے تعلیمی نصاب میں امؔن، رواداری اور تنقیدی سوچ کو نا صرف شامل کرنے بلکہ پروان چڑھانے اور اسے جگہ دینے کی بھی ضرورت ہے تا کہ نوجوان نسل میں مختلف مذاہب، ثقافتوں اور نظریات کے احترام کا مادہ پیدا ہو سکے- سوشل میڈیا کی موجودگی میں نفرت انگیز مواد کی تشہیر کی روک تھام کے لئے سخت الگورتھمز اور رپورٹنگ سسٹم کے مؤثر استعمال کے ساتھ ڈیجیٹل لٹریسی کے فروغ پر کام کرنے کی بھی ضرورت ہے-
ج- مشترکہ مقصد
کوئی بھی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتی جب تک مشترکہ مقاصد کو ذاتی مفاد اور مقاصد پر ترجیح نہ دے- میثاق مدینہ میں طے ہوا کہ بیرونی حملے کی صورت میں تمام اندرونی اختلافات معطل کئے جائیں گے اور یک جان ہو کر دُشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے مشترکہ مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا- جیسا کہ آپ(ﷺ) نے فرمایا:
’’جب دشمن سامنے ہو تو اوس خزرج، مہاجر و انصار سب ایک صف بن جائیں‘‘-
یہی ’’قومی سلامتی سب سے پہلے‘‘ کا نبوی اصول ہے- آج پاکستان کو جہاں اندرونی دشمنوں کا سامنا ہے وہیں بیرونی طاقتیں بھی ہر طرح سے اسے توڑنے پر تُلی ہیں- پاکستان میں وحدت کا بحران اس لئے ہے کہ ’’پاکستانی ‘‘ شناخت کو ’’مسلم‘‘ شناخت پر ترجیح دی گئی- حالانکہ مدینہ کا ماڈل اس سے برعکس تھا ، جہاں ’’مدنی‘‘ ہونا ’’مومن‘‘ ہونے کے بعد کی بات تھی- جب تک ہم قومیت، صوبائیت اور زبان کو شناخت بنائیں گے، تقسیم برقرار رہے گی- ضرورت ہے کہ ہم اپنے سیاسی و معاشی ، ذاتی مفادات پر ’’قومی سلامتی‘‘ و ’’قومی مفاد‘‘ کو مقدم جانیں اور ’’ہم ایک امت ہیں‘‘ کے بیانیے کو مرکزی حیثیت دیں- اداروں میں اعتمادکی فضا پیدا کرنے کے ساتھ عوامی رائے کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے- بنیادی طور پر عوام ہی ریاست اور اداروں کی طاقت کا سر چشمہ سمجھی جاتی ہے- اگر، عوام اور اداروں میں تناؤ پیدا ہو جائے تو بیرونی طاقتوں کے مقاصد کا حصول کوئی مشکل عمل نہیں- اس لئے ہمیں سمجھ بوجھ کے ساتھ اپنے اندرونی مسائل کا حل تلاش کرنا ہو گا- جس کے لئے سیرت نبوی(ﷺ) سے بڑھ کر اور کوئی چیز بہتر رہنمائی فراہم نہیں کر سکتی-
2- شہریت اور مذہبی کثرت کے ساتھ سیاسی وحدت:
ریاست کا آئین ہر شہری کے بنیادی حقوق اور مفادات کی حفاظت کرتا ہے-جبکہ مغربی نظریات میں جدید قومی ریاست کا ایک بڑا بحران اقلیتوں کے مفادات و نظریات کا تحفظ ہے- مغربی ماڈل یا تو ’’سیکولرزم‘‘ کے نام پر مذہب کو پرائیویٹ کر دیتا ہے، یا ’’اکثریت‘‘ کے نام پر اقلیت کو دبا دیتا ہے- دونوں صورتوں میں ریاست ٹوٹ جاتی ہے- میثاق مدینہ کی شق 25 اور 47 میں یہود کے حقوق کا ذکر ہے، جن میں حضور نبی کریم (ﷺ) نے یہود کو امت مسلمہ کے ساتھ ایک ’’اکائی‘‘قرار دیا- یعنی سیاسی طور پر ایک ریاست جبکہ مذہبی طور پر الگ - کسی بھی ریاست میں بسنے والے تمام افراد کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی ریاست کے آئین اور قوانین کا احترام کریں اور ہر مشکل گھڑی میں ملک و ملت کی محافظت کو یقینی بنائیں- میثاق مدینہ کے تناظر میں شہریت کے تین بنیادی اصول تھے-
(الف)- مشترکہ دفاع
حضور نبی کریم (ﷺ) نے ریاست مدینہ میں ایسے اصول متعارف کروائے کہ ہر فرد (مسلم و غیر مسلم) کو اس بات کا پابند بنایا گیا کہ وہ ریاست کے دفاع و ترقی میں اپنا کردار ادا کرے- جیسا کہ فرمایا گیا:
’’جب تک جنگ ہے، یہود بھی خرچ کریں گے‘‘-
میثاق مدینہ کی شق 45 تمام شہریوں کو پابند بناتی تھی کہ وہ یثرب (مدینہ) کا دفاع یقینی بنائیں گے- جیسا کہ فرمایا گیا:
’’یثرب پر حملہ آور کے خلاف سب مل کر لڑیں گے‘‘-
یعنی، شہریت کی پہلی شرط ریاست سے وفاداری تھی نا کہ مذہب (مسلمان ہونا) کی- جو ریاست کا دفاع کرے گا، وہ ریاست کا حصہ ہو گا- کوئی بھی ریاست اس وقت تک قائم نہیں رہ سکتی جب تک اس میں بسنے والے تمام افراد ، ملک و ملت کے مفاد و دفاع کو ذاتی مفاد پر ترجیح نا دیں- شہریت کے ان قوانین کے تناظر میں آج پاکستان کے مسائل کا حل نظر آتا ہے- اندرونی خلفشاروں اور ذاتی رنجشوں کو بھلا کر ملک و ملت کی ترقی و بہبود کیلئے مل جل کر کام کرنا ہو گا اور اس کے اندونی و بیرونی دشمنوں کا ریاستی اداروں کے ساتھ مل کر مقابلہ کرنا ہو گا- رنگ و نسل اور مذہب و سیاست سے مبراؔ ہو کر ملک و ملت کے محافظت ہر شہری پر لازم ہے-
(ب)- مذہبی آزادی
ریاست میں بسنے والے تمام مذاہب کے افراد کو مذہبی آزادی ہونی چاہئیے، جو کہ ان کا بنیادی حق ہے- میثاق مدینہ کی شق 25 میں فرمایا:
’’یہودیوں کے لئے ان کا دین ہے اور مسلمانوں کے لئے ان کا دین‘‘-
ریاست نے کسی پر بھی مذہب مسلط نہیں کیا بلکہ یثرب (مدینہ)میں مسلمانوں کی اکثریت کے باوجود یہود کو اپنے عبادت خانوں میں جانے کی مکمل آزادی تھی- جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضور نبی کریم(ﷺ)نے تمام مذاہب کے پیروکاروں کو اپنے مذہبی فرائض کے ادا کرنے کی مکمل آزادی دے رکھی تھی- ذمؔی کے مال و جان اور مذہب کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے-
(ج)- عدل و مساوات
معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے لیکن ظلم و بربریت پر نہیں، کیونکہ عدل کی غیر موجودگی اس کی جڑیں کھوکھلی کر دیتی ہے اور زیادہ دیر تک اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکتا- دین اسلام کی آمد سے پہلے بہت ساری روایات غلط اور فرسودہ تھیں- جیسا کہ ایک فرد کے جرم کی سزا پورے خاندان یا پورے قبیلے کو دی جاتی تھی- آپ(ﷺ) نے اس فرسودہ روایت کا نا صرف خاتمہ کر دیا بلکہ مجرم کی سزا کا نظام بھی متعارف کروایا- میثاق مدینہ کی شق 42 میں ارشاد فرمایا:
’’جرم کی سزا فرد کو ہو گی ، پورے قبیلے کو نہیں‘‘-
سزا کا یہ نظام تمام افراد (مسلم و غیر مسلم) کیلئے یکساں نافذ ا لعمل تھا- جیسا کہ مشہور واقعہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد ایک عورت نے چوری کی تو حضرت اسامہ بن زیدؓ اس کی سفارش کی غرض سے حضور نبی کریم (ﷺ) کی بارگاہ میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا:
’’اگر فاطمہؓ بنت محمد ؐ بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا‘‘-
یہ رول آ ف لاء (Rule of Law) کی عملی مثال تھی جس میں برابری کی سطح پر ہر مجرم کو جرم کے اعتبار سے قانون کی نظر سے دیکھا جانے لگا- امیر اور غریب، شاہ اور گدا کے لئے ایک ہی پیمانہ بنایا گیا تاکہ ریاست میں عدل و انصاف کا بول بالا ہو سکے- ضروری ہے کہ، ریاست آئین کے ذریعے تمام شہریوں کو تحفظ دے اور بدلے میں وفاداری مانگے- مذہب کو ریاست کا آلہ کار نہیں بنانا چاہئیے اور نہ ہی مذہب سے خالی کیا جائے- میثاق مدینہ کا اصول ’’البراءۃ من المشرکین‘‘ (مشرکین سے اعلان لاتعلقی) کا فیصلہ سیاسی وفاداری کے لئے تھا، نہ کہ مذہبی جبر کے لئے- رسول اللہ (ﷺ) کی جانب سے یہ فیصلہ حکم خدا وندی (سورۃ التوبہ) کے تناظر میں ان مشرکین عرب سے معاہدے ختم کرنے کی صورت میں کیا گیا جنہوں نے ماضی میں صلح کے معاہدوں کی خلاف ورزی کی تھی- ان عہد شکن مشرکین کو چار ماہ کی مہلت دی گئی تاکہ وہ اپنے معاملات درست کر لیں ورنہ ان کے پاس اسلام قبول کرنے یا جنگ کے سوا کوئی راستہ نہ رہا-
3- قیادت کے اخلاقی اصول:
اسلامی نظریات میں حکمرانی اللہ پاک کی امانت ہے اور حکمران قطعی طور پر مطلق العنان نہیں ، بلکہ عوام کے سامنے جواب دِہ ہے- حکمران ایک خادم کی حیثیت سے ریاست اور عوام کی خدمت کرتا ہے- جدید ریاست میں جہاں بے شمار مسائل ہیں وہیں ’’ گورننس‘‘ بھی ایک بنیادی مسئلہ ہے- قوانین موجود ہیں لیکن ریاست عدل قائم کرنے میں ناکام نظر آتی ہے- لاقانونیت کا یہ عالم ہے کہ، مجرم دندناتے پھرتے ہیں جبکہ مظلوم انصاف کی تلاش میں دربدر رسوا ہوتا ہوا نظر آتا ہے- عوام اور ریاست میں تناؤ اس حد تک بڑھ جاتا ہے کہ حکومت کے لئے رٹ قائم کرنا محال ہو جاتا ہے- حکمران دولت اور طاقت کے نشے میں، عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں اور اخلاقی بدحالی یہ ہے کہ کوئی اصولی ڈھانچہ موجود ہی نہیں- نتیجہ؛ عوام، ریاست اور اداروں سے کٹ جاتے ہیں- اخلاق پر مبنی قیادت کی بے شمار خصوصیات تھیں ، لیکن ہم یہاں تین کا ذکر کریں گے-
(الف): مشاورت
حکمران کے لئے اپنے رفقاء سے مشورہ لینا اور معاملات کے حل کے لئے تجاویز مانگنا سنت نبویؐ سے ماخوذ ہے- جنگ بدر میں مقام کا تعین صحابہ کے مشورے سے ہوا- جنگ احزاب میں خندق کھودنے کا مشورہ بعد از عملِ مشاورت حضرت سلمانؓ فارسی کا تھا-صلح حدیبیہ کے تمام فیصلے مشاورت سے ہوئے- ان تمام معاملات میں قرآن کریم کے حکم ’’وَشَاوِرْہُمْ فِی الْاَمْر‘‘ کی عملی تفسیر نظر آتی ہے- کتاب الھدایہ، کتاب القضاء میں ’’الامر شورٰی بینھم‘‘ کو حکومت کی بنیاد قرار دیا گیا- یعنی حکمران کسی بھی طور پر جواب دہی سے مبرا نہیں ہے- لازم ہے کہ مفادِ عامہ کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جائے اور لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی کَسَر اُٹھا نہ رکھیں- حکمران کسی بھی طور پر مطلق العنان نہیں ، کیونکہ اس مقام و مرتبے پر فائز شخص اپنے اختیارات کا ذمہ داری اور امانت دار ی سے استعمال کرتا ہے- جدید جمہوریت اور اسلامی و سیاسی فلسفے میں اقتدار عوامی تائید ، آئین اور قانون کے تابع ہوتا ہے-
(ب)- عفو درگزر
فتح مکہ نبویؐ قیادت کا عروج تھا، جو اصول و قواعد کی بنیاد پر اپنی مثال آپ تھا- 20 سال تک جس شہر نے مسلمانوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ ڈھائے، جب وہ قدموں میں تھا تو حضور نبی کریم (ﷺ) نے صرف چار مجرموں کے سوا سب کو معاف فرما دیا- سیاسی انتقام نہ لینا اخلاقی قیادت کے اعلیٰ وصف کی نشانی ہے- نتیجہ یہ نکلا کہ کوئی ایک تیر چلائے بغیر ناصرف مکہ فتح ہو گیا بلکہ مسلمان بھی ہو گیا- فتح مکہ محبوب کبریا، امام الانبیاء(ﷺ) کے ’’رحمت اللعالمین‘‘ ہونے کی عملی تفسیر ہے-
(ج)- عہد کی پاسداری
اگر قیادت و حکمران عہد و پیمان کی پاسداری کریں اور اپنی بات پر قائم رہیں تو معاشرتی اقدار مزید مضبوط اور توانا ہوتی ہیں- صلح حدیبیہ کی شرائط بظاہر مسلمانوں کے خلاف تھیں کہ ’’ اگر کوئی مکہ والا مسلمان ہو کر مدینہ آئے تو واپس بھیجو گے‘‘- لیکن جب حضرت ابو بصیرؓ واپس بھیجے گئے تو فرمایا! ’’ ہم اہل عہد ہیں، عہد میں خیانت نہیں کرتے‘‘- اسی طرح حضرت ابو جندل ؓ کی واپسی کا واقعہ بھی انتہائی جذباتی اور تاریخی موڑ تھا جو کہ صلح حدیبیہ کے تحت انہیں کفار (اُن کے والد) کے حوالے کرنا تھا- تو ثابت ہوا کہ اخلاقی قیادت کا مطلب ہے وقتی نقصان برداشت کرتے ہوئے دور اندیشی سے کام لینا اور اپنے اصولوں اور عہد پر قائم رہنا- حضور نبی کریم (ﷺ) کی دور اندیشی کا عالم یہ تھا کہ صلح حدیبیہ کےدو سال بعد فتح مکہ کی راہ ہموار ہوئی اور اسلام کا بول بالا ہوا- عہد کی پاسداری ہر کلمہ گو پر لازم ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے نبی (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:
’’جو اپنے عہد و پیمان کی حفاظت نہیں کرتا وہ ہم میں سے نہیں ہے‘‘-
حاصل کلام:
طاقت سے وفاداری نہیں خریدی جا سکتی جبکہ اخلاق سے کمائی جا سکتی ہے- حکمران اگر مشاورت کریں ، عدل کریں اور عہد و پیمان کی حفاظت کریں تو عوام خود بخود ٹیکس دیں گے، قانون مانیں گے، عدلیہ اور افواج کا ساتھ دیں گے- ریاست مدینہ کا راز بھی یہی تھا کہ حکمران سب سے زیادہ جواب دِہ تھا- مغرب کی جدید ریاست ظاہر پرستی، نمود و نمائش اور مادہ پرست نظریات پر قائم ہے جبکہ دوسری طرف جو ریاست سیرتِ طیبہ(ﷺ) پر قائم ہے اس میں روحانی اختصاص، اخلاقی اقدار، ایفائے عہد، ایمانداری، یقین اور ایمان بنیادی عقائد و نظریات کا جزو ہیں- جو بنیادی طور پر فلاحی و اصلاحی معاشرہ میں اپنا اہم کردار ادا کرتے ہیں- اگر پاکستان اپنے آئین کی تمہید میں ’’اللہ تعالیٰ کی حاکمیت‘‘ کو دل و جان سے تسلیم کرتا ہے تو پھر حاکمیت کے بنیادی تقاضے بھی پورے کرنے ہوں گے جن کا ماخذ سیرت طیبہ (ﷺ) کے سوا کہیں نہیں ملتا- بیانیے کا بحران اسی دن ختم ہو گا جس دن ہم ’’ ہم کون‘‘ کا جواب قرآن و سنت (ﷺ) سے دینا شروع کر دیں گے-
٭٭٭
حواشی
- امام ابن ہشام: السیرۃ النبویہ
- امام ابن کثیر: البدایہ والنہایہ
- امام بخار ی و مسلم: صحیحین