تمہید:
انسان کیلئے معاشرے کی اہمیت ہمیشہ سے مسلم ہے- ہر معاشرے یا تہذیب کے خاص خدوخال ہوتے ہیں جو اس کو دیگر معاشروں سے ممتاز کرتے ہیں- جس میں اس کا مذہب، ثقافت اور طرز ِزندگی وغیرہ شامل ہیں- وقت کے ساتھ جیسے جیسے سیاسی و سماجی حالات بدلتے ہیں، یہ تہذیبیں ایک دوسرے پر اثرانداز ہوتی رہتی ہیں، جس وجہ سے جہاں مثبت نتائج آتے ہیں وہیں مسائل بھی پیدا ہوتے ہیں- سیرتِ رسولِ اکرم (ﷺ) ،جو کہ انسانوں کیلئے ذریعۂ ہدایت ہے، کی روشنی میں کثیر المذاہب اور کثیر الثقافتی معاشرے کے درمیان رواداری اور ہم آہنگی کو فروغ دے کر ایک مثالی معاشرے کا قیام یقینی بنایا جا سکتا ہے- علامہ اقبال کے مطابق آپ (ﷺ) قدیم اور جدید زمانے کے سنگم پر تشریف فرما ہیں، جس وجہ سے تما م زمانوں کی مجموعی صفاتِ عالیہ آپ (ﷺ)کی سیرتِ طیبہ میں موجود ہیں- جدید دنیا جو کہ ایک عالمی گاؤں( Global Village )کا روپ دھار چکی ہے، جہاں پر دنیا کے تمام مذاہب، ثقافتیں اور تہذیبیں ایک دوسرے پر اثر انداز ہو رہی ہیں، ان کے درمیان امن، انصاف اور بھائی چارہ کےلیے سیرت ِنبوی (ﷺ) ایک مثالی نمونہِ عمل ہے-
تہذیب کی تعریف:
علامہ ابنِ خلدون، جو کہ عالم اسلام کے مشہور مؤرخ، ماہرِ عمرانیات اور فلسفی ہیں،’’تاریخ ابن خلدون‘‘ میں تہذیب و تمدن کی بنیادی خدوخال کی وضاحت میں رقم طراز ہیں:
’’اجتماع انسانی دنیا کی آبادی (تمدن و عمران) ہےاور ان احوال و عوارض کا بیان ہے جو اس تمدن (عمران) کی فطرت کے سبب اسے پیش آتے ہیں؛ جیسے وحشی پن (بدویت)، مانوس ہو جانا (شہری زندگی)، عصبیتیں (گروہی یکجہتی و خاندانی غیرت)، انسانوں کے ایک دوسرے پر غلبہ پانے کے مختلف طریقے اور اس غلبے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی حکومتیں، ریاستیں اور ان کے مختلف درجات و مراتب، وہ طریقے جنہیں انسان اپنے اعمال اور کوششوں کے ذریعے کمائی، روزگار، علوم اور صنعت و حرفت (سکلز) کی شکل میں اپناتا ہے اور وہ تمام احوال و کیفیات جو اس تمدن (معاشرے) میں اس کی اپنی فطرت کے تقاضے سے رونما ہوتی ہیں‘‘-[1]
کیمبرج ڈکشنری کے مطابق:
“Human society with its well developed social organizations, or the culture and way of life of a society or country at a particular period in time”.
’’مہذب انسانی معاشرہ، اپنی ترقی یافتہ سماجی تنظیموں کے ساتھ، یا کسی خاص دور میں کسی معاشرے یا ملک کی ثقافت اور طرزِ زندگی سے مراد تہذٰیب ہے-
تہذیب کا تعلق ایک خاص قوم ، مذہب یا علاقے سے ہوتا ہے، اس کے ذرائع پہچان میں معاشرتی اقدار، عقائد، عبادات اور سماجی رسوم شامل ہیں- تہذیب انسان کی تربیت میں اہم کردار ادا کرتی ہے- انسان کی ظاہری شکل و صورت گویا کمپیوٹر کی ہارڈ ویر Hardware ہے، اس کا سوفٹ ویر Software یا ونڈو Window کا نام تہذیب ہے جس میں وہ نشوونما پاتا ہے- مجموعی طور پر ، ایک تہذیب کے افراد یکساں خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں-
دنیا میں موجود بڑی تہذیبیں:
انسانی تاریخ دراصل تہذیبوں کے عروج و زوال اور ان کے ارتقا کی ایک طویل داستان ہے- ماضیِ بعید میں دنیا میں عظیم الشان قدیم تہذیبوں (Ancient Civilizations) نے جنم لیا جنہوں نے انسانی شعور کو جلا بخشی، ان میں وادیٔ سندھ کی تہذیب، میسوپوٹیمیا ، یونان ، روم اور قدیم مصر کی تہذیبیں شامل ہیں- وقت کے ساتھ یہ قدیم مادی ڈھانچے تو مٹ گئے، لیکن ان کا فکری ورثہ آج بھی زندہ ہے- جدید تہذیبیں کسی ایک جغرافیائی خطے تک محدود رہنے کے بجائے وسیع ثقافتی اور نظریاتی بلاکس کی شکل اختیار کر چکی ہیں- آج مغرب کا لبرل سرمایہ دارانہ نظام، اسلام کی آفاقی اور اخلاقی اقدار اور چین کا کنفیوشس کا نظریہ دنیا کے نقشے پر الگ اور واضح ثقافتی شناخت رکھتے ہیں- عالمگیریت (Globalization) کی مادی یکسانیت کے باوجود موجودہ دور کی یہ بڑی تہذیبیں اپنی منفرد مذہبی، سماجی اور روایتی جڑوں کو بچانے کیلئے نہ صرف کوشاں ہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کے رخ کا تعین بھی کر رہی ہیں-
جدید تہذیبی کشمکش کیا ہے؟
جدید تہذیبی کشمکش سے مراد وہ فکری، ثقافتی اور معاشی تصادم ہے جو عالمگیریت (Globalization) کے اس دور میں مختلف تہذیبوں کے درمیان پایا جاتا ہے- بیسویں صدی کے اختتام پر سیموئیل ہنٹنگٹن نے پیشگوئی کی تھی کہ مستقبل میں جنگیں ملکوں کے بجائے تہذیبوں کے درمیان ہوں گی اور آج یہ کشمکش واضح طور پر نظر آ رہی ہے- ایک طرف مغربی تہذیب ہے جو انفرادیت پسندی، لبرل جمہوریت اور سیکولر اقدار کو پوری دنیا پر نافذ کرنا چاہتی ہے، تو دوسری طرف اسلامی دنیا، چین اور روس جیسی روایتی تہذیبیں ہیں جو اپنی خاندانی اقدار، اجتماعی سماجی ڈھانچے اور منفرد سیاسی نظام کا تحفظ کر رہی ہیں- یہ کشمکش صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ میڈیا، ٹیکنالوجی کی بالادستی، مصنوعی ذہانت،معاشی تجارتی پابندیوں اور بیانیے کی جنگ (Information Warfare) کی شکل میں لڑی جا رہی ہے-
سیرتِ نبوی (ﷺ) کی روشنی میں تہذیبی کشمکش کے مسائل کا حل:
1.اخلاقی زوال کا مقابلہ: مادہ پرستی بمقابلہ روحانیت
جدید تہذیب نے مادی اور معاشی ترقی کو ہی انسانیت کا معراج سمجھ لیا ہے، جس سے اخلاقی اقدار پسِ پشت چلی گئی ہیں- جدید دور کی سائنسی تحقیقات بھی اب اسی حقیقت کی تصدیق کر رہی ہیں- ہارورڈ یونیورسٹی کی 85 سالہ طویل ترین سائنسی تحقیق (Harvard Study of Adult Development) یہ ثابت کرتی ہے کہ مادی اشیاء اور دولت کی اندھی دوڑ انسان کو ذہنی تناؤ اور تہذیبی تنہائی کی طرف دھکیل دیتی ہے، جبکہ انسانی زندگی کی بقا اور حقیقی خوشی کا دارومدار صرف اچھے اخلاق اور مخلصانہ رشتوں پر ہے- یہ جدید سائنسی دریافت براہِ راست آقا پاک (ﷺ) کے اس فرمان کی تائید کرتی ہے:
’’رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا: اللہ عزوجل تمہاری صورتوں اور اموال کی طرف نظر نہیں کرتا لیکن تمہارے دلوں اور اعمال کی طرف نظر فرماتا ہے‘‘-[2]
آپ(ﷺ) نے مکے کے اس جاہلی معاشرے کی کایا پلٹ دی جہاں طاقتور کا قانون چلتا تھااور ایک ایسی تہذیب کی بنیاد رکھی جہاں انسان کی قیمت اس کی دولت یا نسل سے نہیں، بلکہ اس کے تقویٰ اور حسنِ اخلاق سے طے ہوتی ہے-
2.بقائے باہمی اور تکثر پسندی (Pluralism): میثاقِ مدینہ کی روشنی میں
جدید کشمکش کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ غالب طاقتیں دنیا کو اپنے تہذیب و تمدن کے تحت لانا چاہتی ہیں اور دوسرے طرزِ زندگی کو برداشت نہیں کرتیں- سیرتِ رسول (ﷺ) اس کا بہترین عملی حل ’’میثاقِ مدینہ‘‘ کی صورت میں پیش کرتی ہے- ہجرتِ مدینہ کے بعد آپ (ﷺ) نے جو پہلا تحریری دستورِ مملکت بنایا، اس میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ یہودی قبائل اور مشرکینِ مدینہ کو بھی ایک سیاسی کیمونٹی (Single Political Community) کا حصہ تسلیم کیا گیا اور انہیں اپنے دین پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دی گئی- یہ ماڈل بتاتا ہے کہ مختلف مذاہب اور تہذیبیں اپنے عقائد پر قائم رہتے ہوئے بھی امن اور بقائے باہمی کے ساتھ ایک ریاست میں رہ سکتی ہیں-
3.مکالمہ اور سفارت کاری: صلح حدیبیہ کا ماڈل
تصادم کے اس دور میں جہاں مذاکرات کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں، صلح حدیبیہ کی سفارت کاری ہمیں ایک انمول سبق دیتی ہے- اگرچہ کچھ مسلمانوں کو محسوس ہوا کہ کفار کے مطالبات کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے، لیکن حضور نبی کریم (ﷺ)نے امن و سلامتی کی خاطر صلح کو فوقیت عطا فرمائی-بظاہر مغلوب نظر آنے والے معاہدے کو قرآن کریم نے ’’فتحِ مبین ‘‘ قرار دیا :
’’اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِیْنًاۙ ‘‘[3]
’’بیشک ہم نےآپ کے لیے روشن فتح کافیصلہ فرمادیا‘‘-
جدید دنیا کی کشمکش کو ختم کرنے کے لیے عالمی طاقتوں کو پروپیگنڈا اور جنگ کے بجائے پرامن مکالمے اور سفارتی راستوں کو اختیار کرنا ہوگا-اس حوالے سے حالیہ ایران امریکہ جنگ میں پاکستان کا کردار قابلِ صد تعریف ہے جس نے ثالث کا کامیاب کردار ادا کیا -
برطانوی ڈپٹی فارن سیکرٹری ہیمش فیلکنر Hamish Falconer پاکستان کی مدح سرائی میں کہتے ہیں:
“(US-IRAN Deal) projects Pakistan as an advocate of global peace”.[4]
’’یہ معاہدہ پاکستان کو عالمی امن کے ایک مضبوط داعی کے طور پر پیش کرتا ہے‘‘-
دورِ حاضر میں جنگیں بہت مہلک ہو چکی ہیں ، ایسے میں مکالمہ اور مذاکرات ہی پائیدار امن اور سلامتی کو یقینی بنا سکتے ہیں-
4-مذہی آزادی اور ریاست کا کردار
موجودہ دور میں مذہب کی بالادستی کے نام پر دوسری اقوام پر جبر روا سمجھا جاتا ہے- اسرائیل ہزاروں فلسطینیوں کو صرف مسلمان ہونے کی وجہ سے شہید کر چکا ہے- اسی طرح، میانمار حکومت نے مسلمانوں کی صرف دینی شناخت کی وجہ سے سیاسی اور سماجی زندگی اجیرن کر دی ہے- ان حالات میں ریاستِ مدینہ کا نظام خوبصورت راہنمائی کرتا ہے- جناب رسول اللہ (ﷺ) نے یہودیوں، مشرکوں اور دیگر اقوام کو ایک سیاسی دھارے میں جمع کیا اور ان کے حقوق متعین فرمائے-رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا :
’’ خبردار ! جس کسی نے کسی عہد والے ( ذمی ) پر ظلم کیا یا اس کی تنقیص کی ( یعنی اس کے حق میں کمی کی ) یا اس کی ہمت سے بڑھ کر اسے کسی بات کا مکلف کیا یا اس کی دلی رضا مندی کے بغیر کوئی چیز لی تو قیامت کے روز میں اس کی طرف سے جھگڑا کروں گا‘‘-[5]
ریاست بغیر کسی تفریق کے سب کے سیاسی و قانون حقوق کی حفاظت کی ذمہ دار تھی- حضرت عمرفاروق (رضی اللہ عنہ) نے بیت المقدس کی فتح کے دوران اسی وجہ سے عیسائیوں کے کلیسا میں نماز ادا نہ کی، تاکہ ان کی انفرادی حیثیت محفوظ رہے- آج کے دور میں لازم ہے کہ ہر فرد وقوم کے مذہب کا احترام بجا لایا جائے-
5- حقوقِ نسواں
اسلام کی آمد سے قبل عورتوں کے ساتھ نہایت برا سلوک کیا جاتا تھا-وہ لوگ بیٹیوں کو زندہ درگور کر دیتے - اس تاریک زدہ دور میں رسول اللہ(ﷺ)نے عورتوں کو باوقار مرتبہ عطا کیا- موجودہ عالمی تہذیبی کشمکش میں خواتین کے حقوق سب سے بڑا فکری میدانِ جنگ ہیں- ایک طرف مغربی لبرل فیمینزم ہے، جس نے حیا کو چھین کر عورت کو مارکیٹ کیلئے محض ایک ’’کمرشل پروڈکٹ‘‘بنا دیا ہے، دوسری انتہا پر بعض روایتی معاشروں کا سخت پدر شاہی نظام ہے جہاں خواتین پر تعلیم و تعلم کے راستے مسدود کر دیے گئے ہیں- ان دونوں انتہاؤں کے مابین سیرتِ طیبہ (ﷺ) کا ماڈل واحد متوازن متبادل ہے، جو عورت کو 'امانتِ الٰہی' قرار دے کر تحفظ اور وقار بخشتا ہے-
رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا:
’’عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم نے انہیں اللہ کی امانت کے ساتھ لیا ہے‘‘-[6]
6-مادیت اور روحانیت میں خوبصورت ہم آہنگی
سرمایہ درانہ نظام اور تہذیبِ مغرب کی وجہ سے مادیت پرستی کا کلچر زور پکڑتا جا رہا ہے ، جس میں روحانی پاکیزگی کو ذرا برابر بھی اہمیت نہیں دی جاتی - اس وجہ سے دنیا میں روحانی ترقی، اخلاقی اصول، ہمدردی، احساس اور رواداری جیسی خوبیاں دم توڑ رہی ہیں- یہی اوصاف معاشرے میں خیر و برکت اور فلاح و بہبود کا ذریعہ ہیں- سیرت رسول عربی (ﷺ) کی تعلیم مادیت اور روحانیت کے درمیان توازن قائم کرتی ہے- جس کے نتیجے میں ایک طرف معاشرہ دنیاوی اعتبار سے نکتہ عروج پر ہوتا ہے اور دوسری جانب اخلاقی میدان میں اعلیٰ اقدار کا حامل ہوتا ہے- آپ ایک انسان کو جہاں تعلق باللہ کا درس دیتے ہیں ،وہیں سماجی معاملات میں شرکت کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں-
آپ(ﷺ) نے ارشاد فرمایا:
’’سب سے پاکیزہ کھانا وہ ہے جو آدمی اپنی (محنت کی) کمائی سے کھائے‘‘-[7]
خاندانی ذمہ داریوں کی جانب ترغیب دیتے ہوئے آپ (ﷺ) نے فرمایا:
’’جب مسلمان اپنے گھر میں اپنے اہل و عیال پر ثواب کی نیت سے خرچ کرتا ہے تو اس میں اس کو صدقے کا ثواب ملتا ہے ‘‘-[8]
مغرب کا سرمایہ دارانہ خاندانی نظام خالص مادی معاہدے پر قائم ہے، جہاں شدید انفرادیت پسندی (Hyper-Individualism) کے باعث والدین بالآخر اولڈ ایج ہومز (Old Age Homes)کی تنہائی کی نذر ہو جاتے ہیں- اس کے برعکس، سیرتِ طیبہ (ﷺ) میں رزقِ حلال کمانا اور اہلِ خانہ پر خوش دلی سے خرچ کرنا ایک روحانی عبادت اور اعلیٰ ترین صدقہ قرار دیا گیا ہے، جو مادی آسودگی کے ساتھ خاندانی استحکام اور باہمی محبت کی ضمانت دیتا ہے-
7-انسانی حقوق کا آفاقی اعلامیہ: خطبہ حجتہ الوداع
خطبہ حجتہ الوداع میں آپ(ﷺ)نے ارشاد فرمایا:
’’پس بےشک تمہارے خون، تمہارے مال اور تمہاری آبروئیں، تم (میں سے ہرایک )پر اسی طرح حرام ہیں جیساکہ آج کےدن کی، آج کےاس مہینے میں تمہارے اس شہر کی حرمت ہے‘‘-[9]
آج کل مغربی دنیا انسانی حقوق (Human Rights) کے علمبردار کے طور پر خود کو پیش کرتی ہے، لیکن اس میں اکثر دوہرے معیارات (Double Standards) پائے جاتے ہیں- غزہ میں نسل کشی (Genocide) پر مغربی ممالک کی مجرمانہ خاموشی بلکہ بلواسطہ مدد اور جدید سامراجیت سے دیگر ممالک کا استحصال اس حقیقت کا نا قابلِ تردید ثبوت ہے - حضور تاجدارِ مدینہ (ﷺ) نے اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں کسی قسم کی سیاسی یا سفارتی مصلحت کے بغیر انسانی حقوق کا وہ چارٹر پیش کیا جو رہتی دنیا تک کے لیے مشعلِ راہ ہے- آپ (ﷺ) نے رنگ، نسل، زبان اور جغرافیے کے تمام بتوں کو توڑ کر واضح فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں- خواتین کے حقوق، جان و مال کا تحفظ اور نسلی مساوات کے جو اصول آپ (ﷺ) نے 1400 برس پہلے طے فرمائے، وہ آج کی تہذیبی کشمکش کو ختم کرنے کی کلید ہیں-
8-سود سے پاک کاروبار اور عدل پر قائم معاشی نظام
جدید سہولیات کی وجہ سے موجودہ زمانے میں لوگوں کے تجارتی و مالی تعلقات میں وسعت آتی جا رہی ہے- انٹرنیٹ اور بینکاری نظام کی بدولت ایک ملک و ملت کے لوگوں کا دوسرے ممالک کے لوگوں سے خرید و فروخت کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے- یہ جدید معاشی نظام سود پر مبنی ہے ، جو کہ قرآن و سنت کے قطعی خلاف ہے-
حضرت عبداللہ بن مسعود (رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کہ :
’’رسول اللہ (ﷺ) نے سود کھانے والے پر ، سود دینے والے پر ، اس کے گواہوں پر اور اس کی تحریر لکھنے والے پر لعنت فرمائی ہے ‘‘-[10]
سود مثل دیمک کے ہے جو کہ معیشت کو اندر سے کھوکھلا کر دیتا ہے- نتیجتاً، ایک طرف چند امیر ترین لوگ ہیں اور دوسری طرف کثیر لوگ غربت کی لکیر سے بھی نیچے ہیں - اس معاشی پیچیدگی سے نکلنے کےلیے سیرت طیبہ بہترین معلم کا کردار ادا کرتی ہے - آپ نے لین دین میں عدل و انصاف کےلیے ہرممکن راہنمائی فرمائی ہے- ، جیسا کہ آپ (ﷺ) نے غلے کے ڈھیر میں ہاتھ ڈال کر اندر سے گیلا پانے پر تاجر سے فرمایا تھا:
’’دھوکہ دینے والا ہم میں سے نہیں ہے‘‘- [11]
9-برداشت اور رواداری کا فروغ : فتح مکہ میں مثالی کردار
آپ (ﷺ) نے فرمایا:
’’ آسانی کرو اور سختی نہ کرو اور خوش کرو اور نفرت نہ دلاؤ‘‘- [12]
جدید ثقافتی اشتراک کی وجہ سے لوگوں میں عدم برداشت اور شدت پسند ی میں اضافہ واقع ہو رہا ہے- انٹرٹینمنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر متشدد نوجوان نسل کی کارستانیاں بڑھتی جا رہی ہیں- فروعی اختلافات کو رنگ ونسل کی آڑ میں ہوا دی جاتی ہے جس وجہ سے نفرتٰیں زور پکڑتی ہیں- آپ (ﷺ) کی زندگی مبارک برداشت، معافی اور رواداری کا عملی نمونہ ہے-فتح مکہ کے دوران جان کے پیاسے دشمنوں کو بھی عام معافی عطا فرمائی- آپ (ﷺ) نے زندگی میں کبھی بھی ذاتی بدلہ نہ لیا-
حضرت عائشہ صدیقہ (رضی اللہ عنہا)فرماتی ہیں:
’’پیارے آقا (ﷺ)نے کبھی بھی اپنی ذات کیلئے کسی سے انتقام نہیں لیا‘‘-[13]
سرکار ِدو عالم (ﷺ) کی ان خصائلِ مبارکہ پر عمل پیرا ہو کر جدید زمانے میں لوگوں کے درمیان انس و الفت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے-
10-قانون کی حکمرانی: کثیر الثقافتی معاشرے اور ہجرتِ حبشہ کا قانونی ماڈل
جدید دور میں کثیر الثقافتی (Multicultural) معاشرے وجود میں آ گئے ہیں جہاں مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے لوگ اکٹھے رہ رہے ہیں، وہاں امن کا واحد ضامن قانون کی حکمرانی (Rule of Law) ہے- اس بین الاقوامی قانونی تناظر میں، سیرتِ طیبہ ہمیں ہجرتِ حبشہ کا پندرہ سالہ دور ایک لازوال فکری اور عملی ماڈل کے طور پر فراہم کرتا ہے-
حکمِ رسول (ﷺ) کے تحت صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) نے ایک غیر مسلم ریاست میں پندرہ (15) سال قیام کیا اور وہاں کے مروجہ قوانین، ریاستی حدود اور سماجی امن کی مکمل پاسداری کر کے ایک 'مثالی اقلیت' (Model Minority) کا عالمی معیار قائم کیا- سیرت کا یہ پہلو آج یورپ اور امریکہ میں مقیم لاکھوں مسلمانوں (Muslim Diaspora) کے لیے اور دیگر اقوام کےلیے ایک واضح قانونی ضابطہ ہےکہ وہ اپنے ویزے، پاسپورٹ یا شہریت کے معاہدے کا پاس رکھتے ہوئے ہر ملک کے آئین وقانون کا احترام کریں، تاکہ ان کا وجودان معاشروں میں امن، امانت داری اور قانون پسندی کا استعارہ بنے-
ریاست کے اندرونی استحکام اور عالمی امن کا قیام قانون کی اسی غیر جانبدارانہ حکمرانی سے ہی ممکن ہے، جہاں کوئی بھی طبقہ خود کو قانون سے بالاتر نہ سمجھے- یہی وہ آفاقی اصول ہے جو آقا پاک (ﷺ) نے قبیلہ مخزوم کی ایک اثر و رسوخ والی خاتون کے چوری کے مقدمے میں سفارش لانے پر حضرت اُسامہ (رضی اللہ عنہ)کو فرمایا تھا:
”اے اسامہ! بنی اسرائیل صرف اس وجہ سے ہلاک و برباد ہوئے کہ جب ان میں سے کوئی اونچے طبقے کا آدمی کسی حد کا مستحق ہوتا تو اسے چھوڑ دیتے اور اس پر حد نافذ نہیں کرتے اور جب کوئی نچلے طبقے کا آدمی کسی حد کا مستحق ہوتا تو اسے نافذ کرتے، اگر (اس جگہ) فاطمہ بنت محمد(رضی اللہ عنہا) بھی ہوتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا“-[14]
حرفِ آخر:
سیرت طیبہ (ﷺ) میں جدید دور کے تمام مسائل کا حل موجود ہے- آپ (ﷺ) کے فرامین مبارک دورِ حاضر میں قوموں کے درمیان باہمی تعلقات کی مضبوطی کی ضمانت ہیں- رنگ ونسل کے امتیازات کے باوجود سیرت ِ نبوی (ﷺ) میں خالص انسانی برابری کو ترجیح دی گئی ہے تاکہ ہر ابن ِآدم کو بنیادی حقوق میسر آ سکیں- کوئی کسی پر زیادتی نہ کر سکے اور معاشرہ خیر و برکت کا عملی نمونہ بن سکے-
٭٭٭
[1]( مقدمہ ابن خلدون ، الجز الاول صفحہ 46)
[2](صحیح مسلم، رقم الحدیث:2564)
[3](الفتح:1)
[4]tribune.com.pk/epaper/news/Karachi/2026-06-18
[5](سنن ابی داود، رقم الحدیث:3052)
[6](صحیح مسلم)
[7](سنن نسائی، کتاب البیوع)
[8](صحیح بخاری/ صحیح مسلم)
[9](صحیح مسلم، كِتَابُ الْقَسَامَةِ وَالْمُحَارِبِينَ وَ الْقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ)
[10](سنن ابو داؤد، کتاب البیوع)
[11](صحیح مسلم، کتاب الایمان)
[12](صحیح بخاری، کتاب العلم)
[13](صحیح بخاری، کتاب المناقب)
[14](سنن نسائی، كتاب قطع السارق)