فقرِ محمدی(ﷺ) کے امین بانئ اصلاحی جماعت اور عہد حاضرمیں پاکستان کی روحانی ونظریاتی تشکیل

فقرِ محمدی(ﷺ) کے امین بانئ اصلاحی جماعت اور عہد حاضرمیں پاکستان کی روحانی ونظریاتی تشکیل

فقرِ محمدی(ﷺ) کے امین بانئ اصلاحی جماعت اور عہد حاضرمیں پاکستان کی روحانی ونظریاتی تشکیل

مصنف: ڈاکٹرلئیق احمد اگست 2026

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان محمد باھوؒ کی تالیف شمس العارفین میں فرماتے ہیں کہ خوارقِ عادات اور مادی تبدیلیوں کا تعلق درجاتِ مخلوق سے ہے- یہ تمام چیزیں انسان کو فقرِ محمدی (ﷺ) سے دُور رکھتی ہیں کیونکہ یہ معرفتِ الٰہی کے راستے میں حجاب بن جاتی ہیں- اصل فضیلت اس فکر کو حاصل ہے جو دل میں نورِ توحید پیدا کرے- فقرِ محمدی (ﷺ) تمام ظاہری کرامات اور دنیاوی و اخروی مراتب سے کہیں بلند ہے- اس راستے کا مسافر اللہ تعالیٰ کو ہر وقت حاضر و ناظر جانتا ہے اور اپنی جان و مال کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیتا ہے- جو لوگ ان ثانوی مراتب، دنیاوی اثرات میں الجھ کر انہیں ہی منزل سمجھ بیٹھتے ہیں وہ فقرِ محمدی(ﷺ)کی اصل روح اور حقیقی توحید سے محروم رہتے ہیں- فقر کے لغوی معنی قناعت و ریاضت کی زندگی، درویشی، توکّل،بھوک، افلاس، غربت، محتاجی، تنگ دستی کے ہیں- جبکہ علمِ تصوف میں اس کا معنی عدمِ اصلی کی طرف راجع ہونے کے ہیں- [1]

فقرِ محمدی ()کسے کہتے ہیں ؟

حضرت سلطان باھوؒ عین الفقر شریف میں فرماتے ہیں کہ حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:

’’فقر پر مجھے فخر ہے کہ فقر میرا خاص سرمایہ ہے، فقر ہی کی وجہ سے مجھے تمام انبیاءومرسلین پر افتخار حاصل ہے‘‘-[2]

 آپؒ  نے عین الفقر میں فقر کے متعلق فرمایا ہے کہ:

 فقر لایحتاج ہے-جنہیں فقر نصیب ہوجاتا ہے وہ دونوں جہان کی آرزوؤں سے آزاد ہو چکے ہیں -راہِ فقر میں اِستقامت کی ضرورت ہے نہ کہ ہوائے نفس و کرامت کی -”فقر“حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فخر ہے -”اِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہُ “ یعنی فقر جب کامل ہوتا ہے تو اللہ ہی اللہ ہوتا ہے (حضرتِ انسان کی عقل، دل، روح و سر محض اللہ تعالیٰ کے ذکر و فکر کا مرکز و محور ہو جاتے ہیں) –

صاحبِ فقر کے بارے میں یہ آیت رہنمائی کرتی ہے، فرمانِ حق تعالیٰ ہے:

”آپ اُن لوگوں میں رہا کریں جو اپنے ربّ کے دیدار کی طلب میں رات دن ذکر اللہ میں غرق رہتے ہیں“-[3]

”فقر دونوں جہان میں چہرے کا نور ہے“ -

سُلطان حق باھُو ؒ فرماتے ہیں کہ سالک کو چاہئے کہ پہلے فقہ، علم، عمل اور حلم کی حقیقتوں کو یکجا کرکے شریعت کے پانی میں گھولے، پھر اس میں طریقت، معرفت، حقیقت، عشق اور محبت شامل کرکے اسے پی لے اور اس کے بعد میدانِ فقر میں قدم رکھ کر دونوں جہانوں سے بے نیاز ہو جائے- فقرتجلی ہے جس سے نُورِ ذات پیدا ہوتا ہے- فقر انوارِ الٰہی سے روشن عین ذات بذات تجلیات کا نام ہے- سِرّ نام ہے فقر کا- فقر کا نفس نہیں ہوتا بلکہ نفَس ہوتا ہے- نفَس پاس انفاس کو کہتے ہیں اور پاس انفاس اُس ذکرِ خاص کو کہتے ہیں جو ہر آتی جاتی سانس کے ساتھ اِس طرح کیا جاتا ہے کہ کوئی دم بھی ذکر اللہ(اسمِ اَللہُ کا ذکر) سے خالی نہیں جاتا - جس کا دل مردہ اور دم اَفسردہ ہو وہ اہل ِ نفس امارہ ہے- باالفاظِ دیگر فقر سے مراد اپنے دل و دماغ، ظاہر و باطن کو دنیا سے بےرغبت کرکے، فقط اللہ تعالیٰ کا ہوجانا، یہاں تک کہ دوئی ختم ہوجائےاور دل میں کوئی بُت نہ بچے- فقر دراصل ترکِ معاش کا نام نہیں بلکہ دنیا میں رہ کر بھی اپنے دل کو انوار و تجلیاتِ الہٰیہ میں مستغرق رکھنے کا نام ہے-

فقرِ محمدی () کے امین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ :

آقا کریم (ﷺ) کی بعثت کے بعد نبوت و رسالت کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند ہوگیااور حضور نبی کریم (ﷺ) کی ذات بابرکات سے فقرکا یہ خزانہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا چلا آرہا ہے-جب یہ فقر کا خزانہ بیسویں صدی کے عظیم صوفی باصفاء بانیٔ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین سلطان الفقر حضرت سلطان محمد اصغر علیؒ کے سینہ مبارک میں روشن ہوا تو آپؒ نے حقیقی معنوں میں اس کی ترویج و اشاعت کو بصدقِ دل انجام دیا-آپؒ نے فقرِ محمدی (ﷺ) کی رسائی تک کا بنیادی عمل یعنی نماز پنجگانہ وشریعتِ مطہرہ کی مکمل پابندی اور ذکر و فکر و تصورِ اسم اللہ ذات کو ہر خاص و عام شخص کیلئے عام فرمادیا-آپؒ  نے اولیائے کاملین کی تعلیمات کو قرآن و سنت کی روشنی میں عامۃ الناس تک پہنچانے کے لئے 1987ء میں اصلاحی جماعت کی بنیاد رکھی جبکہ سعی اتحادِ امت کی خاطر عالمی تنظیم العارفین کی تشکیل  1999ء میں ہوئی-

بانی ٔ اصلاحی جماعت حضرت سلطان محمد اصغرعلیؒ نے 40 برس کی عمرمیں خصوصاً ظلمت و مادیت کے اندھیروں میں سعی ٔ اتحادِ امت فرمائی-آپؒ فرماتے تھے کہ انسان کا اصل وجود اس کی روح ہےاور اس روح کی بیداری کے لیے” اسمِ اللہ ذات“ کا ذکرہےجو کہ ایک بیج کی مانند ہے- جیسے ہی یہ بیج دل کی زمین میں کاشت ہوتا ہے، دل باغیچۂ نور کا آئینہ بن جاتا ہے جس سےنورِ الٰہی کی تجلیات کا عکس نظر آنے لگتا ہے-فقرِ محمدی (ﷺ)دینِ اسلام کی اصل ہے کیونکہ جس کا نصیبہ حضور نبی کریم (ﷺ) کے اس فخر سے مؤجزن ہوگیا وہ نیک مسلمان، مکمل انسان، باایمان،کامل عارف واکمل معرف و مقرب ہوکر بارگاہِ رسالت میں محبوبیت کو پالیتا ہے-لیکن اس کیلئے جہاں اسے دائمی پاکیزگی، ذکرِ اَللہُ، نماز پنجگانہ اور شریعتِ مطہرہ (طریقت و حقیقت و معرفت) کی مکمل پابندی سے قلب و رروح کو بیدار کرنا ضروری ہے وہیں بارگاہِ نبوی (ﷺ) سے منظورِ نظر مرشدِ کامل اکمل مکمل جامع نور الہدیٰ کی رہنمائی کی صحبت و قربت بھی درکار ہے-

بانیٔ اصلاحی جماعت نے فقرِ محمدی (ﷺ) کا عملی جامہ ظاہراًو باطناً زیب تن فرمایاتھا-البتہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جو شخص آپؒ سے ملتا اسے یہی گماں ہوتا کہ مخاطب ہم سے ہی رہے ہیں- احترامِ انسانی کا تقاضہ تھا کہ آپؒ بچوں کو بھی ”آپ“ کہہ کر پکارتے اور ہمہ تن گوش ان کی عرضی سماعت فرماتے تھے- شفقت کا یہ عالم تھا کہ ہمیشہ ’بیٹا جی‘ فرماتے اور یتیموں کے سر پہ شفقت والا ہاتھ رکھتے- آپؒ شیریں لہجے میں گفتگو فرماتے اور تشدد کی نفی کرتے ہوئے احباء و اقرباء سے حسنِ سلوک اور اپنے اخلاق و کردار سے بچوں کی تربیت کی تلقین فرماتے تھے- آپؒ کے سایۂ شفقت میں پرورش پانے والوں میں وفا، صدق اور حیاء درجۂ کمال پہ پائی جاتی ہے- آپؒ حیاء کے معاملے میں اس قدر حساس تھے کہ خواتین کو عمر کے لحاظ سے والدہ، بہن یا بیٹی کا درجہ دیتے-

سلطان الفقر حضرت سلطان محمد اصغر علیؒ نے تصورِ اسمِ اللہ ذات کے ذریعے تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب اور معرفتِ الٰہی کی تبلیغ کیلئے ملک بھر کے دور دراز علاقوں میں دفاترقائم کیے جن میں روزانہ درسِ قرآن و حدیث، کتبِ حضرت سلطان باھوؒ اور اسمِ اللہ ذات کا تصور معمول کا حصہ ہیں- آپؒ نے آنے والوں کو روایتی جمود سے نکال کر متحرک اور فعال کارکنان میں تبدیل کیا- آپؒ نے اپنی 56 سالہ زندگی کے 38 برس ملک کے گوشے گوشے کا سفر کرتے ہوئے گزارے تاکہ بندے کا اللہ تعالیٰ سے ٹوٹا ہوا تعلق بحال کر کے ایک ایسے مثالی، غیر متعصب اور مساوی حقوق پر مبنی معاشرے کی تشکیل کی جا سکے جو علامہ اقبال کی صوفیانہ فکر ”نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسمِ شبیریؓ“ کی عملی تفسیر پیش کرتا ہو- آپؒ کی شخصیت خانقاہی قیادت تک محدود نہ رہی، آپؒ نے ایک مرشدِ اکمل کے طور پر روحانی اصلاح کے ساتھ ساتھ پاکستان اور عالمِ اسلام کے نظریاتی تشخص کے دفاع میں بھی نمایاں خدمات سرانجام دیں-آپؒ کا فرمان تھا کہ شریعت کی پابندی سے ظاہری وجود پاک ہوگا تو دل ”قلبِ سلیم“ بنے گا- آپؒ کا کمال وصف یہ تھا کہ خلقِ خدا کے وسیع تر فائدے کے لیے، دورہِ شکار کے دوران دنیا داری میں مگن طبقے کو محبت اور اعلیٰ اخلاق سے شریعت اور تصورِ اسمِ اللہ ذات کی طرف راغب کیا- متشدد مزاج لوگوں کو معتدل انسان بنایا  -

میراثِ فقر کا بنیادی تقاضا خالق اور مرشدِ کریم کے ساتھ پختہ وابستگی اور عطا کردہ ”ذکرِ خاص الخاص کے طریقے“ کو دعوت و تبلیغ کا بنیادی ذریعہ بنانا ہے- آپؒ کا یہ انقلاب تعصبات اور فرقہ واریت سے پاک خالصتاً رضائے الٰہی پر قائم ہے- آپؒ نے اپنے تینوں صاحبزادوں کی ایسی تربیت فرمائی کہ ان کے وجود میں حضور نبی کریم (ﷺ)، اہلِ بیت اطہارؓ، صحابہ کرامؓ اور قرآن مجید کی محبت جاگزیں ہوئی- بچپن ہی سے انہیں تاریخِ اسلام، ایثار اور خدمتِ انسانی کے دروس دیئے- جماعت پاک کے تحت پاکستان کے تقریباً ہر شہر، قصبے، گاؤں اور علاقوں میں میلادِ مصطفےٰ (ﷺ)و حق باھوؒ کانفرنس منعقد کی جاتی ہے-یہاں تک کہ یہ دینی تقریبات بین الاقوامی سطح پر بھی انعقاد پذیر ہوتے ہیں- آج اگر کوئی فقرِ محمدی (ﷺ) کے امین کی روحانی عکس کو دیکھنا چاہے تو آپؒ کے جانشین حضرت صاحبزادہ سلطان محمد علی صاحب کو دیکھ لے جنہوں نے آپؒ کی تربیت سے اوصافِ حمیدہ حاصل کیے اور آج عالمی سطح پر دینِ اسلام کی اشاعت اور پاکستان کی خدمت کے فرائض بطریقِ احسن انجام دے رہے ہیں-

امینِ فقرِ محمدی()اورعہدِ حاضر میں پاکستان کی روحانی ونظریاتی تشکیل:

سلطان الفقر حضرت سلطان محمد اصغر علیؒ کا یقین ِ کامل تھا کہ پاکستان مسلمانوں کے لئے اللہ تعالیٰ کا تحفہ اور مدینہ ثانی ہے- آپؒ فرماتے اگر ریاستِ پاکستان مقبوضہ  کشمیر کی آزادی کے لیے اعلانِ جنگ کرے تو ہم انشاءاللہ پہلی صف میں کھڑے ہوں گے-

تنظیم کا ترجمان، ماہنامہ مرآۃ العارفین انٹرنیشنل، نظریۂ پاکستان کے فروغ کے ساتھ ساتھ کشمیر، فلسطین اور جونا گڑھ جیسے اہم موضوعات پر مستقل تحقیقی مضامین شائع کر رہا ہے- مزید برآں، سرپرستِ تحریک صاحبزادہ سلطان محمد علی نے 2012ء میں اسلام آباد میں”مسلم انسٹیٹیوٹ“ قائم کیا، جہاں کشمیر ڈیسک کے تحت قومی و بین الاقوامی کانفرنسز اور سیمینارز منعقد کیے جاتے ہیں تاکہ اس مسئلے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے- دربارِ حضرت سلطان باھو ؒپر قائم کردہ کشمیر ہاؤس، فلسطین ہاؤس اور جونا گڑھ ہاؤس جیسی عمارات کشمیریوں اور امتِ مسلمہ سے اظہارِ یکجہتی اور غیر متزلزل محبت کی عملی مثالیں ہیں جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک اہم سبق ہیں-جس طرح سے کشمیرپر موذی بربریت شدہ ہندوستان قابض ہے اسی طرح جوناگڑھ بھی پاکستان کا حصہ ہے اورآج بھی اقوام ِ متحدہ میں اس کا کیس موجود ہے-جانشین سلطان الفقر صاحبزادہ سلطان محمد علی صاحب، دیوان آف جوناگڑھ صاحبزادہ  سلطان احمد علی صاحب اور دیگر تحریکی کارکن مختلف محاذ پر جوناگڑھ کیلئےقانونی و سیاسی لڑائی جاری رکھے ہوئے ہیں-

بانیٔ اصلاحی جماعت حضرت  سلطان محمد اصغر علیؒ کی دینی، روحانی اور فکری خدمات کا ایک نمایاں اور امتیازی پہلو اقبالیات کی ترویج بھی ہے- آپؒ نے علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ کی فکر کو ایک ہمہ گیر فکری و عملی تحریک کے طور پر فروغ دیا- تعلیماتِ اقبال انسان میں خودی، ایمان، عمل، اجتہادی بصیرت اور تخلیقی شعور کو بیدار کرتی ہیں- انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں ایسی فکر پیش کی جو مسلمان کو مایوسی، جمود، غلامی اور فکری انتشار سے نکال کر علم، کردار، خود اعتمادی اور تعمیرِ ملت کی راہ پر گامزن کرتی ہے- اقبالؒ کے نزدیک حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ظاہری علوم کے ساتھ روحانی تربیت اور تزکیۂ نفس کو بھی مساوی اہمیت دی جائے، اور یہی وہ نقطۂ اتصال ہے جہاں ان کی فکر حضرت سلطان باھوؒ کے فقرِ محمدی (ﷺ) سے ہم آہنگ نظر آتی ہے، کیونکہ دونوں کے نزدیک ظاہر و باطن، علم و معرفت اور شریعت و طریقت ایک دوسرے کی تکمیل ہیں-

اسی فکری تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے جانشینِ سلطان الفقر حضرت صاحبزادہ سُلطان محمد علی صاحب نے مسلم انسٹیٹیوٹ میں ’’اقبال ڈیسک ‘‘ بھی قائم کیا گیا، جس کے ذریعے ملک بھر کی جامعات، مدارس اور دیگر تعلیمی اداروں میں فکرِ اقبالؒ کی ترویج و اشاعت کیلئے مختلف علمی، تحقیقی اور تربیتی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں- یہ درحقیقت بانیٔ  اصلاحی جماعت کی دور اندیشی اور فیضانِ نظر ہی کا ثمر ہے کہ آج آپؒ سے وابستہ احباب فکرِ اقبال کا گہرائی سے مطالعہ کرتے، اسے سمجھتے، اپنی عملی زندگی میں اپناتے اور اقبالیات کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے اس عظیم فکری ورثے کو نئی نسل تک منتقل کر رہے ہیں-

سلطان الفقر حضرت سلطان محمد اصغر علیؒ نے میدانِ تصوف اور خانقاہی نظام کے اندر نئی روح پھونک کر  اس کی حقیقی تصویر پیش کی کہ تصوف کی حقیقت فقرِ محمدی (ﷺ) ہے اور محض فلسفیانہ انداز کی بجائے عمل پر زور دیا- 14اپریل 2003ء کو آپؒ نے تاریخی اقدام فرمایا- اپنے بڑے صاحبزادہ حضرت سخی سلطان محمد علی صاحب مدظلہ الاقدس کو بیعت فرما کرفقر کی مقدس دستار اور باطنی خزانہ آپ (مدظلہ الاقدس) کے سر پر سجا دیا- اس فیصلے کا مخفی راز 26 دسمبر 2003ء کو آپؒ کے وصالِ مبارک پر عیاں ہوا- آج اسی شان کے ساتھ جانشین سلطان الفقر صاحبزادہ سلطان محمد علی صاحب اس مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں اور فقرِ محمدی (ﷺ) کا یہ خزانہ خلقِ خدا میں بانٹ رہے ہیں-آئیں اب آپؒ کی سعیٔ جلیلہ پر ایک عمیق نظر ڈالتے ہیں-

محمدیہ حیدریہ سلطانیہ اعوان کلب پاکستان مغربی ثقافتی یلغار کا اثر زائل کر کے دنیا بھر میں ملک کا مثبت امیج روشن کر رہا ہے- اس کلب نے نہ صرف پاکستانی ثقافت اور روایتی کھیلوں کا تحفظ کیا بلکہ انہیں عالمی سطح پر متعارف بھی کروایا جبکہ حال ہی میں نیزہ بازی کے میدان میں چھ عالمی ریکارڈز قائم کر کے قوم کا سر فخر سے بلند کیا ہے-

عصرِ حاضر کے مادی اور کلرک پیدا کرنے والے نظامِ تعلیم کے متبادل کے طور پر آستانہ عالیہ پر ایک ایسا جامع تعلیمی فلسفہ وضع کیا گیا جہاں قدامت اور جدت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے- 1987ء میں دینی تعلیم کے فروغ کے لیے”دار العلوم غوثیہ عزیزیہ انوارِ حق باھوؒ“ کا آغاز ہوا جس کی شاخیں اب ملک بھر میں اخلاقی و روحانی تربیت میں مصروف ہیں- اسی طرح دورِ جدید کے علمی چیلنجز سے نمٹنے کیلئے اکتوبر 2013ء میں جانشینِ سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب نے ”سلطان باھو سکول“(SBS)کی بنیاد رکھی، جس کا منشور ”علم حکمت کیلئے“ (Knowledge for Wisdom) ہے- اس تعلیمی نیٹ ورک کی درجنوں اضلاع میں شاخیں موجود ہیں جو نئی نسل کو سائنسی تحقیق اور فکری صلاحیتوں سے لیس کر کے مسلمانوں کی علمی نشاۃ ثانیہ کے لیے تیار کر رہی ہیں- آستانہ عالیہ پر تربیت پانے والے یہ فقراء ایک طرف ذکر و فکر اور علمِ دین سے سرشار ہیں تو دوسری طرف آکسفورڈ (Oxford)کے معیار پر جدید علوم حاصل کر کے دنیا کی تعمیر و تسخیر میں اپنا انقلابی کردار ادا کر رہے ہیں-

تبلیغی و فکری نظریات کی ترویج کے لیے 1992ء میں شعبہ نشر و اشاعت قائم کیا گیا جسے بعد میں”العارفین پبلی کیشنز“ کا نام دیا گیا- اس کے تحت حضرت سلطان باھوؒ اور دیگر اولیاء کی عربی و فارسی کتب کے کثیر اللسان تراجم، نصابی کتب اور کتابچے شائع کئے گئے ہیں جن کی اشاعت لاکھوں کی تعداد میں ہوئی ہے- ڈیجیٹل میڈیا کے لیے ”العارفین ڈیجیٹل پروڈکشن“ کے تحت 60 سے زائد صوتی و تصویری والیمز ”نوائے فقر“ جاری کیے گئے- سن 2000ء میں ماہنامہ ”مرآۃ العارفین انٹرنیشنل“ کا اجراء کیا گیاجو تصوف، باھو شناسی اور اتحادِ امت کا ترجمان بن کر اس وقت پاکستان کا سب سے زیادہ شائع ہونے والا دینی و اصلاحی مجلہ ہے جس کی ماہانہ اشاعت ایک لاکھ سے زائد ہے- مزید برآں، قومی و بین الاقوامی سطح پر مسلم امّہ کے فکری مسائل کے حل اور مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے 7 مارچ 2012ء کو جانشینِ سلطان الفقر حضرت سلطان محمد علی صاحب نے”مسلم انسٹیٹیوٹ“ قائم کیا- یہ معتبر تحقیقی ادارہ سیمینارز اور کانفرنسز کا انعقاد کرتا ہے جبکہ اس کے تحت 2016ء سے ’مسلم پرسپیکٹو‘ (MUSLIM Perspective) نامی سہ ماہی تحقیقی جریدہ اور”دی مسلم ڈیبیٹ“ نامی آن لائن ڈیِبیٹ فورَم بھی کام کر رہا ہے، جس میں ہارورڈ، آکسفورڈ اور کیمبرج جیسی عالمی جامعات کے سکالرز تعمیری مباحثوں میں حصہ لیتے ہیں-

اصلاحی جماعت 1400برس قبل دیے گئے آفاقی اسلامی نظریات کو عصرِ حاضر کے جدید تقاضوں کے مطابق پیش کرتی ہے- یہ تحریک سائنسی تحقیق، میڈیا کے مثبت کردار، اجتہاد کی اہمیت اور سماجی برائیوں (جیسے نوجوان نسل میں الحاد کا پھیلاؤ) پر فکری و علمی کام کر رہی ہے- بانیٔ تحریک کے وصال کے بعد جانشینِ سلطان الفقر نے ”سعی اتحادِ امت“ کا خصوصی شعبہ قائم کیا تاکہ مسلم ممالک کے درمیان دفاعی، تجارتی، تعلیمی اور ثقافتی تعلقات کو مضبوط کیا جا سکے- فکرِ سلطان الفقرؒ ظاہری و باطنی اور مذہبی امور کے مابین ہم آہنگی پیدا کر کے فرد کی کلی اصلاح کرتی ہے-

تحریک کے تحت فروری 1989ء سے دربارِ عالیہ حضرت سلطان باھوؒ پر سالانہ تربیتی اجتماعات منعقد کیے جا رہے ہیں، جن میں تشدد اور انتہا پسندی کے بجائے امن، محبت اور انسانیت کا درس دیا جاتا ہے- ان اجتماعات اور روزمرہ سرگرمیوں میں ٹیم ورک اور Workplace Spirituality کا بہترین نمونہ دیکھنے کو ملتا ہے- بانیٔ اصلاحی جماعت نے مختلف رنگ، نسل اور علاقوں کے لوگوں کو اخوت اور مواخات کے ایک ایسے پاکیزہ رشتے میں پرو دیا ہے جہاں انا پرستی کے بجائے ایثار اور مخلصانہ جذبہ کارفرما ہے-

بانیٔ اصلاحی جماعت سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی قدس اللہ سرہٗ نے روحانی وفود کا ایک منفرد اور مؤثر نظام قائم فرمایا، جس کی بنیاد مرشدِ کامل کی صحبت، باطنی تربیت، اخلاص اور سنتِ نبوی (ﷺ) پر رکھی گئی- آپؒ پہلے مبلغین کی اپنی نگاہِ کاملہ سے تربیت فرماتے، ان کے اندر طلبِ مولیٰ، محبتِ رسول (ﷺ)، توکل علی اللہ، اتباعِ شریعت اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرتے، پھر انہیں پاکستان کے مختلف شہروں اور ممالک میں دعوتِ الی اللہ کے لیے روانہ فرماتے- یہ وفود محض تبلیغی جماعتیں نہیں بلکہ عملی نمونے تھے، جو اپنے اعلیٰ اخلاق، حسنِ کردار، عاجزی اور محبت سے لوگوں کے دل جیتتے اور انہیں قرآن و سنت، ذکرِ اسمِ اللہ ذات، تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب اور معرفتِ الٰہی کی طرف راغب کرتے تھے- جس طرح آقا کریم (ﷺ) نے صحابۂ کرامؓ کی تربیت فرما کر انہیں مختلف علاقوں میں اسلام کی دعوت کیلئے بھیجا، اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے بانیٔ اصلاحی جماعت نے تربیت یافتہ نوجوانوں کو امت کی اصلاح، اتحادِ امت اور روحانی بیداری کے عظیم مشن کیلئے تیار کیا- یہی وفود آج بھی اصلاحی جماعت کے پیغام کو محبت، اعتدال، اخوت اور امن کے ساتھ دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچا رہے ہیں اور اپنے کردار، خدمت اور دعوت کے ذریعے معاشرے میں اخلاقی،  روحانی اور فکری اصلاح کا فریضہ انجام دے رہے ہیں-

آپؒ نباضِ قوم کی حیثیت سے اچھی طرح جانتے تھے کہ معاشرے میں بد امنی اور ناانصافی کی اصل وجہ انسان کی خود شناسی سے دوری ہے- آپؒ فرماتے کہ انسان خلیفۃ اللہ اور مسجودِ ملائک ہے، اس لیے اس کے باطنی شرف کا احترام لازمی ہے- اللہ تعالیٰ نے”وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْ آدَمَ“ فرما کر بنی نوع انسان کو اس کی تکریم سے آگاہ کیا ہے- آپؒ نے اسلامی تہذیب و تمدن کو صرف کتابوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے آستانہ عالیہ کے طرزِ عمل، فنِ تعمیر، لباس اور اسلامی تصورِ جمالیات کی خوشبو میں سمو کر نسلِ نو میں منتقل کیا- زہد و تقویٰ اور درویشی کا عالم یہ ہوا کہ سفر کے دوران مساجد کے پانی کا زیاں بھی گوارا نہ فرماتے تاکہ اسراف نہ ہو اور دربار کی مسجد کی تعمیر کے سامان کی سخت نگرانی فرماتے- آپؒ کو اپنے مرشد سے عطا کردہ گھوڑوں سے گہری محبت تھی جنہیں امانت سمجھ کر ذاتی مقاصد کیلئے فروخت کرنا ممنوع ہے- البتہ مسجد کا کام رکنے کے اندیشے کی صورت میں مسجدِ خدا کی تکمیل کے لیے انہیں فروخت کرنے کی اجازت دے کر عبادت گاہوں سے محبت کا انوکھا رول ماڈل قائم فرمایا-اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ سلطان الفقر کے فیضان پاکستان کو سدا قائم رکھے- آمین!

٭٭٭


[1]https://www.rekhtadictionary.com/meaning-of-faqr?lang=ur--

[2]( عین الفقر:49)

[3](الکہف:28)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر