اسلامی ریاست کا تعلیمی نظام سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں

اسلامی ریاست کا تعلیمی نظام سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں

اسلامی ریاست کا تعلیمی نظام سیرت النبی ﷺ کی روشنی میں

مصنف: سبینہ عمر اگست 2026

اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب و الشھادہ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور اس کی تخلیق اور اپنی عطا کردہ جملہ نعمتوں پر کبھی احسان نہیں جتلایا- لیکن اپنے تمام عالمین کے لیے اس وقت ایک ایسی ہستی جلوہ گر فرمائی جس وقت انسان کھلی گمراہی کا شکار تھااس نعمت کبریٰ کاذکر خود قرآن مجيد میں ذات باری تعالیٰ نےاحسان کی صورت میں کیا-

’’لَقَدْ مَنَّ اللہُ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِہِمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِہٖ وَیُزَکِّیْہِمْ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ ج وَ اِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ‘‘[1]

’’ بیشک اللہ کا بڑا احسان ہوا مسلمانوں پر کہ ان میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا ہے اور انہیں پاک کرتا اور انہیں کتاب و حکمت سکھاتا ہے اور وہ ضرور اس سے پہلے کھلی گمراہی میں تھے‘‘-

 خالق ارض و سماءنے جب اپنے حبیب مکرم (ﷺ) کو بلد الامین میں برملا اعلانِ نبوت کا حکم فرمایا تو سیاہ دل اندھوں نے اپنی جہالت کے باعث اپنی ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے جبلِ جبر کو مشت بھر اہلِ ایمان پر مسلط کیا- اس کشمکش اور خفی حالات میں سے نورِ ایمان اور علم و عرفان کا فیضان صحابی رسول حضرت ارقم (رضی اللہ عنہ)کے دور سے شروع ہوا جہاں آقا کریم  (ﷺ) صحابہ کرام کو علمِ باطنیہ کی دولت سے نوازا کرتے- یہ علم و عمل کی خفیہ کچہری کو قوتِ حمزہ و فاروق نے جلا بخشی اور جب حکم الہٰی نے کاروانِ محمدی (ﷺ) کو ہجرت کا حکم دیا جو بطحا سے طیبہ کو آیا اور نتیجتاً دینِ اسلام کی پہلی ریاست معرضِ وجود میں آئی- اس ریاست میں اصحابِ کبار، اصحابِ صفہ و تشنگانِ حق نے علم و فضل کو براہِ راست ہادی اعظم (ﷺ) کی صحبت سے حاصل کیا- المختصر، دارالارقم کا وہ کم لووالا  چراغ ریاستِ مدینہ میں آفتاب بن کر چمکا -

دنیائے تاریخ شاہد ہے کہ حضور نبی کریم(ﷺ) نے علم و عمل اور تعلیم کو رائج کرنے میں جو فلسفہ ٔتعلیم اپنایا آج کا نظام تعلیم اس بات کا متقاضی نظر آتا ہے کہ اس اہم نکتہ کو سمجھا جائے- اگر ہم واقعی سیرت النبی (ﷺ) اور اس کے اصولوں کا اطلاق اپنے تعلیمی نظام میں سرایت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے تعلیم کے اس فلسفے کو سمجھنا ہوگا جو وحی کے ذریعے حضور نبی کریم (ﷺ) تک پہنچا  اور پھرآقاکریم (ﷺ) نے   اپنے اصحاب اور اہل بیت اطہار (رضی اللہ عنھم) کے ذریعے سے امت کو عطا فرمایا  -علم کیا ہے؟  فلسفہ تعلیم کیا ہے  ؟   کہ تعلیم کی اصل کیا ہے ؟ آیئے اس کو سمجھتے ہیں:

فلسفہ ٔتعلیم

تعلیم با اعتبار معنی و مفہوم:

 بااعتبارا صل لفظ تعلیم ’’علم‘‘سے اخذ کردہ ہے- علم سے مراد کسی چیز کو جاننا یا حقیقت کی عمیق گہرائی کا ادراک کرنا ہے- تعلیم بمعنی انگریزی لفظ ایجوکیشن (Education)جو کہ لاطینی زبان کے لفظ’’educere ‘‘[2]سے  ماخوذ ہے جس کا واضح مطلب رہنمائی کرنا ہے-

گویا معلوم ہوا کہ تعلیم لفظ سے مراد رہنمائی ہے یا ایک ایسا تربیتی نظام ہے جس کا تعلق کسی بھی ادارے میں سکھانے اور سیکھنے کے طریقوں کے ساتھ مربوط ہے- کسی بھی ریاست کی اقدار اور مجموعی علم کی منتقلی کا واحد ذریعہ تعلیم ہے-تعلیم کا مقصد نہ صرف رہنمائی کرنے بلکہ معلومات جمع کرنے کے ساتھ پوشیدہ صلاحیتوں کو نکھارنا بھی ہے-بذریعہ تعلیم نیکی و بدی کی پہچان ہوتی ہے، انسان معرفت خودی اور عرفان خداوندی اور رضائے الٰہی کے حصول تک ممکنہ طور پر رسائی حاصل کرتا ہے-

فلسفہ با اعتبار معنی و مفہوم:

فلسفہ یونانی زبان کے لفظ philosophia [3]اور انگریزی کے لفظ philosophy سے لیا گیاہے- اس کے لفظی معنی حُبِ دانش کےہیں- ابتداء میں لفظ فلسفہ ہر قسم کے غور و فکر اور اس فکر سے حاصل کیے گئے علم کے لیے مستعمل ہوتا رہا-فلسفہ معنوی اعتبار سے اتنا متوسع ہے کہ دنیا میں موجود تمام علوم کا تعلق بالواسطہ یا بلاواسطہ فلسفے سےہی ہے- دور جدید میں فلسفہ دیگر معانی میں مستعمل ہے -مثلاً: نظریہ، عقیدہ، منطقی یا مشاہداتی، کسی خاص علم کی بنیاد اور ماخذکا جائزہ، زندگی سے متعلق معاملات، معاشرت ،دینیات، ادبیات ،سیاسیات، معاشیات اورایسے نظریات جن میں فلاح و بہبود کی بہتری ہو ، فلسفے کا لازمی جزو ہیں-

فلسفہ تعلیم با اعتبار موضوع :

تعلیم بنیادی اعتبار سے عینیت، حقیقت پسندی، عملیت پسندی، وجودیت،تعمیر پسندی جیسے پانچ بڑے فلسفے رکھتی ہے جو کہ تعلیمی نظام کی تشکیل میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت ہے-

فلسفہ تعلیم اور اس کی ہیت:

کسی بھی علم کے ادراک کے لیے اس کے فلسفے کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے-فلسفہ کسی شے کی حقیقت یا حقائق کے ادراک کا نام ہے- فلسفہ کی شاخ علمیات جوکہ علم کی حقیقت ، ماہیت ، نوعیت ، حدود ، مسائل اور ذرائع سے مبحث ہوتی ہے - اس میں مربوط شکل میں معلومات کو علم کا درجہ دیا جاتا ہے - اسی طرح غیر مربوط معلومات رائی کے پہاڑ کی طرح بے وقعت کہلائی جاتی ہے-فلسفۂ علم اصطلاحاً عقلیت یا عقلیت پسندی کے زمرے میں آتا ہے- جسے Rationalism بھی کہا جاتا ہے- مخالفانہ سمت میں ایک اور اصطلاح پائی جاتی ہے- جو تجربیت یا تجربیت پسندی ہےجسے Empiricism بھی کہا جاتا ہے- [4]

یہ دونوں ایک دوسرے کے مابین مکمل مکتبِ فکرہیں -عقلیت پسند کے نزدیک حواسِ خمسہ سے حاصل ہونے والا علم ناقابل اعتبار ہے جبکہ تجربیت پسند بذریعہ حواسِ خمسہ ہی کے ذریعے حاصل ہونے والے علم پر یقین رکھتے ہیں-[5]

اب یہاں اختصار سے کام لیتے ہوئے اس بات کی طرف آتے ہیں کہ یونانی فلسفہ عقلیت پسندی کے تابع رہتے ہوئے نشوونما پاتا رہا جبکہ اس کے برعکس قرآنی تعلیمات سے اخذ ہونے والا فلسفہ عقلیت پر تجربیت کو فوقیت دیتا ہے- قرآن مجید سب سے زیادہ زور حواسِ خمسہ سے حاصل ہونے والے علم پر دیتا ہےمسلم فلسفی امام غزالی ؒنے حواسِ خمسہ کی اس حیران کُن حقیقت کو واضح کیا- حواسِ خمسہ سے حاصل ہونے والے علم ’’عملی سائنس‘‘ پر مشتمل ہے، جو کہ یونان میں انتہائی کم نظرآتی ہے-

جبکہ قرآنِ پاک حواسِ خمسہ کے ذریعےعلم کشید کا حکم فرماتا ہے جیسے ’’انَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ‘‘ کے الفاظ پر مبنی آیات ہیں جو کہ حواسِ خمسہ کی تکریم و توقیر کو بیان کرتی ہیں مزید برآں حواسِ خمسہ کا استعمال نہ کرنے والوں کے لئے ’’صُمٌّۢ بُکْمٌ عُمْیٌ‘‘ کَہہ کر پکارا گیا- قرآن کریم انسانوں کو ارض سماوات کو تسخیر کرنے کی ہدایت دیتا ہے تاکہ وہ اللہ کی نشانیوں کو جھٹلا نہ سکیں-[6]

علامہ اقبال اپنے خطبات میں رقم طراز ہیں کہ :

یونانی فلسفہ کی حیثیت تاریخِ اسلام میں ایک زبردست ثقافتی قوت کی رہی ہے-لیکن جب ہم علم ِ کلام کے ان مختلف مذاہب پر نظر ڈالتے ہیں جن کا ظہور فلسفۂ یونان کے زیر اثر ہوا اور اُن کا مقابلہ قرآن پاک سے کرتے ہیں تو یہ اہم حقیقت ہمارے سامنے آجاتی ہے کہ یونانی فلسفہ نے مفکرین اسلام کے مطمح نظر میں اگرچہ بہت کچھ وسعت پیدا کردی تھی مگر بحیثیتِ مجموعی قرآن  مجید میں اُن کی بصیرت محدود ہو کر رہ گئی-منطق کی دو اقسام ہیں-استخراجی اور استقرائی - علامہ اقبال نے اپنے خطبات میں جب کہا کہ ’’اسلام کا ظہور استقرائی عقل کا ظہور ہے‘‘ تو گویا اس سے مراد اسلام کاوہ انقلاب ہے جو یونانی عقلیت کے مدِ مقابل اہلِ زمین کی زندگیوں میں برپا ہوا اور اُنہیں خواب و خیال کی زندگی سے نکال کر حقیقی دنیا میں لا کھڑا کیا- علامہ اقبال  خصوصیت کے ساتھ اِس امر کا تذکرہ کرتے ہیں کہ اِس لحاظ سے دیکھاجائے تو یوں نظر آئے گا جیسے پیغمبر اسلام (ﷺ) کی ذاتِ گرامی کی حیثیت دنیائے قدیم اور جدید کے درمیان ایک واسطہ کی ہے- [7]

امام غزالی نے اپنی کتاب تہافۃ الفلاسفہ میں وضاحت کی کہ قرآنی فکر کائنات کو حقیقت تسلیم کرتے ہوئے ایک زندہ و تابندہ فکر ہے جبکہ افلاطونی فکر  خواب و خیال،جمُود اور سکوت کی دنیا ہے - اما م غزالیؒ کی نظر میں فلسفہ تعلیم ایسا عمل ہے جس کے ذریعے فرد کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرسکے اور نیکی و بدی میں تمیز کرنے کا اہل بن سکے -[8]ابن خلدون کی نظر میں تعلیم کا مقصد علم کی حقیقت کا حصول ہے جو کہ بذریعہ پیغمبران اسلام ہم تک پہنچا ہے-

اسلامی فلسفۂ تعلیم:

اسلامی فلسفہ تعلیم کا آغاز لفظ ’’اقراء‘‘سے ہوتا ہے اور اسی سے حضور رسالت مآب (ﷺ) پر وحی کی ابتداء ہوئی- بنیادی طور پر دین اسلام تعلیم و تربیت کا ایک ایسا نظام ہے جو تمام انسانیت کے لیے ہر پہلو سے نفع بخش ہے -حضور رسالت مآب (ﷺ) کے بنیادی تعلیم کی ترسیل میں تزکیۂ نفس کو اوّلیت حاصل تھی یعنی تعلیمات نبوی (ﷺ) میں انسانی زندگی اور روح کی تطہیر شامل تھی - ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’کَمَآ  اَرْسَلْنَا فِیْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّا لَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْنَ‘‘[9]

’’جیسا کہ ہم نے تم میں ایک رسول تم ہی میں سے بھیجا جو تم پر ہماری آیتیں پڑھتا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب اور دانائی سکھاتا ہے اور تمہیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے‘‘-

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں:

’’حضور نبی کریم(ﷺ) ایک دن مسجد نبوی میں تشریف لائے اور صحابہ کرام کے دو حلقے دیکھے- ایک تلاوت اور دعا میں مصروف تھا، دوسرا درس و تدریس میں مصروف تھا- حضور نبی کریم (ﷺ) نے پہلے ارشاد فرمایا: دونوں گروہ اچھے کام میں مشغول ہیں- پھر ’’اِنَّمَا بُعِثْتُ مُعَلِّمًا‘‘ کہہ کر علمی حلقے میں بیٹھ گئے-حضورنبی کریم  (ﷺ) نے فرمایا:

’’طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيْضَةُ عَلٰى كُلِّ مُسْلِمٍ‘‘[10]

’’علم کی طلب ہر مسلمان (مرد و عورت) پر فرض ہے‘‘-

اسلامی نظام تعلیم میں اکابر صحابہ کرام کی تعلیم و تربیت کے فریضہ کی انجام دہی میں رسالت مآب (ﷺ) پہلے معلم اعلیٰ تھے- مسجد نبوی (ﷺ) ایک جامع اور عمومی درسگاہ تھی جہاں ذوق، مناسب طبع اور استعداد کے لحاظ سے سب افراد کو تعلیم میسرتھی-

اسلام زندگی گزارنے کے تمام رہنما اصول واضح کرتا ہے- اسلامی تعلیمات کے تمام تر اصول قرآن مجید میں کہیں اجمالاً اور کہیں مفصلاً بیان کردہ ہیں-قرآن مجید چونکہ تا قیامت رشد و ہدایت کا خزانہ ہے جس میں نسل انسانی کے تمام ثقافتی ،معاشرتی، معاشی اور سیاسی مسائل کے حل موجود ہیں - اسلام کے نزدیک تعلیم کابنیادی مقصد اللہ تعالیٰ کی معرفت اور اس کی خوشنودی کے حصول کے لیے روشنی اور ہدایت کا سامان فراہم کرنا ہے-گویا اسلام ہر شخص کے لیے علم کا تصور پیش کرتے ہوئے تعلیم کو بنیادی ضرورت قرار دیتا ہے تو دوسری طرف اس کے حصول کی ذمہ داری فرد اور ریاست کے ساتھ شامل معاشرہ دونوں پر عائد کرتاہے- اصولاً اسلام میں جو حکم سب پر فرض ہو، اس کی ذمہ داری خود فرد پر اور پھریہ ذمہ داری ریاست پر عائدہوتی ہے -ڈاکٹر ایم- اے- عزیز لکھتے ہیں:

’’اسلامی نظام تعلیم سے مراد ایسا تعلیمی نظام ہے جس میں ایک مسلمان بچہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد اپنے خاص علم و فن میں مہارت اور قابلیت حاصل کرنے کے ساتھ ایک اچھا مسلمان بھی بنے، جس کا قلب ایمان اور تقویٰ سے سرشار ہو، ضروری عقائد سے واقف ہو، ضروریات دین اور فرائض کا علم رکھتا ہو اور اسلامی اعمال و اخلاق کا صحیح نمونہ ہو- اگر کسی نے اپنے لیے طب کا پیشہ اختیار کیا ہے تو وہ اپنے فن میں ایک مسلمان ڈاکٹر کا کردار ادا کرے اور اگر اس نے تجارت کا پیشہ اختیار کیا ہے تو وہ اپنی تجارت میں ایک مسلمان تاجر کا رول ادا کرے اور اگر اس نے اپنے لیے ایک فوجی زندگی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے تو وہ اپنی عسکری زندگی میں ایک مسلمان مجاہد کا کردار ادا کرے- اس طرح زندگی کے جس شعبے سے اس کا تعلق ہو، بحیثیت مسلمان اپنا فرض انجام دے، اس لیے کہ اسلام نے زندگی کے ہر شعبے سے متعلق کچھ احکام و آداب بیان کیے ہیں‘‘-[11]

تعلیم کا مقصد انسان کے اندر خوف و رجاء کی کیفیت پیدا ہو تاکہ وہ تقویٰ کی راہ اختیار کرے، طالب علم میں شکر گزاری اور احسان مندی کا جذبہ پیدا ہو تاکہ  طالب علم کے کردار کی تشکیل کو یقینی بنایا جائے- غرض یہ کہ انسان معرفت الہٰی کی منزل تک پہنچ جائے- اسلام کے تعلیمی نظام میں مقصود نہ دولت دنیا ہے، نہ علمی تفاخر، نہ شہرت و مباہات ہیں- حضور رسالت مآب (ﷺ) نے جن مقاصد محمودہ کی جانب توجہ مبذول کروائی ان میں خشیت الٰہی، فرائض دینی اور ان کی ادائیگی کا اہتمام، تزکیۂ نفس، دنیا سے بے نیازی اور دین اسلام کا احیاء و غلبہ شامل ہیں-

مساجد بحیثیت ریسرچ سینٹرز:

حضور رسالت مآب (ﷺ) نے مکہ سے ہجرت کے دوران مدینہ آمدسے قبل ہی مدینہ سے باہر مسجد قباء کی بنیاد ڈالی جو اسلام کی پہلی مسجد ہے- پھر جب حضور (ﷺ) مدینہ پہنچے تو آپ نے ’’المربد‘‘ میں مسجد نبوی(ﷺ) کی بنیاد ڈالی -مسجدِ نبوی(ﷺ) کے ایک گوشے میں ایک سائبان اور چبوترہ (صفہ) بنایا گیا-[12]

 ریاست مدینہ کی یہ علمی و تحقیقی مسجد مسلمانوں کے علمی عہد کے روشن باب کی صورت میں ابھر کر سامنے آئی -یہاں مکہ معظمہ اور دیگر علاقوں سے دین کی تعلیمات حاصل کرنے کے لیے صحابہ کرام بھی یہاں قیام فرماتےتھے اور ان میں وہ مہاجرین صحابہ کرام(رضی اللہ عنھم) بھی شامل تھے جن کے پاس نہ رہائش کا انتظام تھا نہ ہی مال و متاع - صفہ ان اصحاب کا مسکن تھا جنہوں نے اپنی زندگی تعلیمِ و تبلیغِ اور جہاد کے ساتھ دیگر اسلامی خدمات کے لیے وقف کر دی تھی- اصحابِ صفہ کی مفلسی کا یہ عالم تھا کہ یہ اصحاب دن بھر پانی بھرتے ،جنگل سے لکڑیاں لانا اور فروخت کر کے جو آمدن ہوتی اس سےاپنے مصارف پورے کیا کرتے تھے- اصحابِ صفہ کی صورت میں مبلغین کی ایک جماعت تیار ہوئی تو آقا کریم (ﷺ) نے ان اصحاب کو، جو اپنے علم و فضل کی وجہ سے ’’قراء ‘‘ کہلائے گئے، بیس مختلف دعوتی وتبلیغی مہمات پر ان کو روانہ کیا جاتا-

پروفیسر بختیار حسین صدیقی لکھتے ہیں:

’’مسجد اسلام کا روایتی ادارہ ہے جس کی ابتداء مسجد نبوی سے ملحق اصحاب صفہ کی درس گاہ سے ہوئی جو باہر سے آنے والے طلبہ کے لیے دارالاقامہ کا کام دیتی تھی اور مدرسے کا بھی- پہلی صدی ہجری میں جہاں جہاں بھی اسلام کے قدم جمے، مسجد تعلیم کا مرکز رہی‘‘-[13]

اسلامی معاشرے کے مستقل اور مرکزی ادارے کے طور پر مساجد ہر اسلامی عہد میں اہمیت کی حامل رہی ہیں- یہ صرف ایک عبادت گاہ ہی نہیں بلکہ ریسرچ سنٹرزکےطور پر بھی استعمال ہوتی رہی ہیں- یہ اخلاق ساز ادارے دینی اور دنیاوی دونوں اعتبار سے تعلیم و تربیت کیلئے نہایت مخصوص رہے ہیں-

اسلام کےاوائل دور میں مدینہ منورہ میں 9 مزید مساجد تھیں جہاں تعلیم و تدریس کا مقدس فریضہ سر انجام دیا جاتا تھا- مہر گل محمد کے مطابق ان میں مسجد بنی زریق، مسجد بنی غفار، مسجد اسلم، مسجد جہنیہ، مسجد بنی عمرو، مسجد بنی ساعدہ، مسجد بنی عبید، مسجد بنی سلم، مسجد بنی رائح شامل ہیں- [14]

 ریاست کے تعلیمی نظام میں سیرت سے اخذ کردہ اصولوں کا اطلاق

تعلیمی نظام میں ریاست کی اہمیت:

’’ریاست‘‘اسلام کے اعلیٰ ترین مقاصد کی تکمیل اور تعلیم کے حصول کا وہ اہم ذریعہ اور راستہ ہے جس کے بغیر مسلمانوں میں اسلام اپنی پوری صورت و روح کے ساتھ جا گزیں نہیں ہوسکتا- اسلام کے عائد کردہ علمی و عملی نفاذ کے لئے ریاست کا قیام حکم الٰہی، سنت نبوی (ﷺ) اور معاشرے کے تقاضوں کے مطابق ہر فرد کی اہم ذمہ داری ہے- اللہ تعالیٰ نےقرآنِ مجیدمیں کئی مقامات پہ بیان فرمایا ہے جوکہ معاشرت کے عمرانی فلسفے سے تعلق بھی رکھتا ہے- فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَہُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ‘‘[15]

’’بے شک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا اور ہم نے اُن کے ساتھ کتاب اور میزانِ عدل نازل فرمائی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہو سکیں‘‘-

اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام (علیھم السلام)کے ذریعے عوام الناس میں انصاف اور عدل کو قائم فرمایا اور یہی عدل و انصاف زندگی کے ہر شعبے بالخصوص علمی میدان میں آقا کریم(ﷺ) نے بھی رائج کیا- آپ (ﷺ) کے پیش نظر مقاصد میں سب سے اہم اسلامی فلاحی ریاست کا قیام تھا اور اس کیلئے حکومت کا ہونا ناگزیر تھا- آپ (ﷺ) کی حکومت بے مثال اور آئیڈیل تھی اور اس کے مقاصد میں دعوت دین، اصلاح ِ اخلاق، تزکیۂ نفس اور تصفیۂ باطن شامل تھے- قرآن پاک نے اسلامی ریاست کا مقصد رضائے الہٰی کا حصول اورفلاح بہبود متعین  کیا- اس ریاست کی بنیاد خاندانی عصبیت اور نسلی شعور کے بجائے دینی وحدت یعنی امتِ مسلمہ کے درمیان عقائد، عبادات اور دینی مقاصد میں اتفاق و اتحاد پر قائم تھی-

ریاست مدینہ کا نظامِ تعلیم:

اسلامی ریاست میں نظام تعلیم کو تمام معاملات پر فوقیت حاصل ہے -اہل مکہ چونکہ پڑھنے لکھنے میں عار محسوس کرتے تھے - حافظہ کے ذریعے ہی اپنے علمی اثاثے محفوظ کرتے تھے- آپ (ﷺ) نے علم کے حصول، اشاعت و ترسیل کے لئے بہترین حکمت عملی اختیار فرمائی -آپ(ﷺ) نے ہجرت سے قبل مکہ میں دارارقم کو مرکزِ تعلیم بنایا اور آپ (ﷺ) پر جو وحی آتی ،صحابہ کرام اس کی تشریح و توضیح فرماتے -مدینہ آمد سے قبل حضرت مصعب بن عمیر (رضی اللہ عنہ) کو معلم بنا کر مدینہ بھیجا اور ہجرت کے بعد مسجد نبوی (ﷺ) کو باقاعدہ درس گاہ کا درجہ حاصل ہو گیا- جہاں آقا کریم (ﷺ) نے غیر رسمی تعلیم کے ساتھ ساتھ رسمی تعلیم کا اہتمام بھی فرمایا -صفہ کے نام سے موسوم غیر مقامی طلبہ کے لیے چبوترہ ڈالا گیا، یہاں یہ طلبہ قیام کرتے تھے- عرب میں چونکہ پہلے لکھنے کا رواج نہیں تھا اس لیے مسجد نبوی میں ہی حضرت عبد اللہ بن سعید بن العاص اور حضرت عبادہ بن صامت (رضی اللہ عنہ)کو لکھائی سکھانے پر مامور کیا گیا- صحابہ کرام کو مختلف زبانوں کا علم دیا گیا اور فنون حرب کی تعلیم ہر فردکے لیے لازم قرار دی گئی- خواتین علمی میدان میں حضور رسالت مآب (ﷺ) کے احکام کے مطابق عمل پیرا ہوتیں اور گھریلو صنعتوں کے ساتھ علاج معالجے کا انتظام بھی سنبھالتیں-الغرض کہ ایک صحابیہ نے مسجد نبوی ہی میں خیمہ نصب کر دیا تھا جہاں زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کی جاتی تھی- جو قیدی کسی علمی میدان میں ماہر ہوتے ان کی ذمہ داری لگائی جاتی کہ انہیں اپنی رہائی کے عوض مسلمانوں کو پڑھانا ہوگا- [16]

مستقل معلمین:

اصحابِ صفہ کی تعلیم و تربیت کے نظام کی تشکیل خود آقا کریم (ﷺ) کی ذاتِ اقدس نے فرمائی- حضورپاک  (ﷺ) کے علاوہ کئی مستقل معلمین بھی مقررتھے- جن میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ اور حضرت معاذ بن جبل (رضی اللہ عنہ) شامل تھے-اس کے علاوہ حضرت عبد اللہ بن سعید بن العاص خوشخط تھے اور زمانۂ جاہلیت میں بھی بحیثیت کاتب مشہور تھے اور اصحابِ صفہ کو لکھنا سکھایا کرتے تھے-

حضرت ابو موسیٰ اشعری(رضی اللہ عنہ) بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ(ﷺ) نمازِ فجر ادا فرمالیتے تو ہم سب لوگ آپ (ﷺ) کے پاس بیٹھ جایا کرتے اور ہم میں سے کوئی آپ سے قرآن کریم کے بارے میں سوال کرتا، کوئی فرائض کے بارے میں دریافت کرتا اور کوئی خواب کی تعبیر معلوم کرتا تھا-

علمی حلقوں کے اوقات :

اصحاب صفہ دن بھر مشقت مزدوری کے باعث تعلیمی حلقوں میں شریک نہیں ہوپاتے تھے اس مصروفیت کی بناء پر ان کے لیےرات کا وقت مختص کیا گیا تھا جس میں تقریباً 70کے قریب اصحاب صفہ رات کے وقت ایک معلم سے تعلیم حاصل کیا کرتے تھے-حضرت انس (رضی اللہ عنہ)روایت کرتے ہیں :

’’جب رات ہوجاتی تھی تو یہ لوگ مدینہ میں ایک معلم کے پاس جاتے اوررات بھر پڑھتے حتی کہ صبح ہو جاتی‘‘-[17]

حلقوں میں نظم و ضبط:

ابتداء میں مجلس میں طلبہ کے بیٹھنے کا کوئی خاص انتظام اور طریقہ مروج نہ تھا،جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے حلقوں کے بجائے آپ (ﷺ) نے باقاعدہ ایک حلقہ تشکیل دیا اور سب کوایک ساتھ بیٹھنےکا حکم دیا-  حضرت جابر بن سمرہ (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں:

’’رسول اللہ (ﷺ) مسجد میں داخل ہوئے جہاں صحابہ کرام(رضی اللہ عنھم) کے جدا جدا حلقے تھے،آپ(ﷺ) نے فرمایاکہ کیا بات ہے تم لوگ جداجدا ہو (یعنی ایک ساتھ بیٹھو)‘‘-[18]

آقا کریم (ﷺ) کا طرز تدریس نہایت شائستہ تھا-حاضرین مجلس میں موجود عالم ہو یاجاہل،شہری ہو یا بدوی، عربی ہو یا عجمی ،بوڑھے ہوں یا بچے سب ہی ان سےپوری طرح فیض یاب ہوتے تھے-حضرت انس(رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں:

’’رسول اللہ (ﷺ) جب کوئی حدیث بیان کرتے تو اس کو تین بار کہتے تھے تاکہ بات سمجھ لی جائے اور جب کسی جماعت کے پاس جاتے تو ان کو تین بار سلام کرتے تھے‘‘نرم کلامی کی بدولت بدوی لوگ بھی حضور نبی کریم (ﷺ) پر فدا تھے‘‘- [19]

اصحابِ صفہ میں درس وتدریس کا ایک طریقہ یہ بھی تھا کہ ایک شخص قرآن مجید پڑھتا جاتا اور دوسرے لوگ سنتے جاتے- چار پہلوؤں کو پیش نظر رکھ کر تعلیم کا انتظام کیا گیا جن میں تلاوت آیات، تزکیہ نفس ، قرآن مجید، تعلیم حکمت کے ساتھ ساتھ قرات و تجوید، تحفیظ القرآن، سیرت و مغازی، علم الفرائض، علم الانساب،کتابت و املاء کو لازمی جزو قرار دیا گیا-[20]

ہم نصابی سرگرمیاں:

آپ (ﷺ) نے بہت سی ہم نصابی سرگرمیاں رائج فرمائیں-مثلاً تقریری مقابلے، ادب و شاعری، المسابقت (دوڑیں)المصارعت، گھڑ سواری، تیراندازی اور تیراکی وغیرہ -[21]

تعلیمی انقلاب :

تعلیمی انقلاب کی ایک تحریک 1400 برس قبل چلی - کفار کو جہالت کے اندھیرے سے نکال کر علم کے نور سے منورکیا گیا- آقا کریم (ﷺ) نے ایسا تعلیمی انقلاب بپا کردیا کہ ابھی ایک صدی کا اختتام بھی نہ ہوا کہ عالم اسلام شرق سے غرب تک ساری دنیا میں افضل حیثیت اختیار کر گیا- 1000 برس تک یہ عروج رہاکہ سپین، مصر، دمشق، نیشاپور، قرطبہ، غرناطہ، بغداد، غرض تمام عالم اسلام کے مختلف بلاد میں ہمہ جہتی تعلیم کے حصول کا سلسلہ جاری و ساری رہا- تاریخ شاہد ہے کہ یہ ترقی اس قدر ہوئی کہ آج کے مغربی اسکالرز، مؤرخین ،ادیب بھی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ اس امر میں کوئی شبہ نہیں ملتا کہ یورپ کی سائنسی فکر پر اسلامی سائنسی فکر کے گہرے اثرات مرتب ہوئے ہیں -

مغرب کی اس علمی نشاۃ ثانیہ پر اسپین، اٹلی، فلسطین کے گہرے اثرات بھی مرتب ہوئے- ان سطور کو اختصار سے اس لئے بیان کیا گیا کیونکہ آرٹیکل کو جامع کیا جاسکے- مطلب یہ ہے کہ مغرب  میں جو علمی بیداری یا نشاۃ ثانیہ کی تحریک اٹھی، اس پر مختلف اسلامی یا تاریخی علاقوں کا اثر پڑا، خاص طور پر:

اسپین (اندلس): قرون وسطیٰ میں اندلس  علم و فنون، فلسفہ، طب، ریاضی اور سائنس کا مرکز رہا- مسلمان علماء جیسے ابنِ رشد، ابنِ سینا اور الزہراوی کی کتابیں لاطینی میں ترجمہ ہو کر یورپ پہنچیں اور نشاۃ ثانیہ کا سبب بنیں-

اٹلی: نشاۃ ثانیہ کا آغاز اٹلی میں ہی ہوا، لیکن اٹلی نے بھی اسلامی دنیا سے بہت کچھ سیکھا، خاص طور پر تجارت، فنون لطیفہ اور فلسفہ کے میدان میں-

فلسطین: اگرچہ فلسطین براہِ راست علمی مرکز نہیں رہا، لیکن صلیبی جنگوں کے ذریعے یورپی اقوام اسلامی تہذیب و تمدن سے روشناس ہوئیں، جس نے ان کے علمی، ثقافتی شعور کو متاثر کیا-

یعنی یہ جملہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مغرب کی ترقی صرف مغرب کی محنت کا نتیجہ نہیں تھی بلکہ اسلامی دنیا کے علمی ورثے نے اس میں اہم کردار ادا کیا-ہم سب واقفیت رکھتے ہیں کہ مغربی ممالک کے لوگ مسلم ثقافت اور سائنسی اسلوب سے نا صرف روشناس ہوئے بلکہ بعد ازاں مشرق وسطی اور مغربی یورپ مکمل طور پر سائنسی، ثقافتی، تہذیبی اور فنی ترقی کی منزلوں پر اسلام کی بدولت گامزن ہوا-مندرجہ بالا بحث سے یہ سوال ہمارے ذہنوں میں کیوں اجاگر نہیں ہوتا کہ سیرت النبی (ﷺ) کی بدولت وہ علمی ماحول جو ہمارے اسلاف کو میسر تھا اب ہم کیوں مغرب کے رحم و کرم پر ہیں -

ریاست کا تعلیمی نظام:

فلسفۂ علم اور نظام تعلیم میں مقصدیت کا ہونا جزو لانیفک ہے- عصر حاضر کا نظام تعلیم نا صرف افادیت سےعاری ہے بلکہ مقصدیت سے بھی خالی نظر آتاہے-اصل وجہ غور طلب ہے کہ ہم اور ہماری نسلیں اپنے زندگی کے مقصد سے آگاہ نہیں -ہم صرف کسی شعبے سے منسلک ہوجانا اپنی زندگی کا معیار سمجھ لیتے ہیں - سوال یہاں یہ ہے کہ کیا محض پیشہ ورانہ زندگی ہی ہمارا مقصد ہے یا یہ روزگار کمانے کا ایک ذریعہ ہے؟ مقصدیت کی کھوج کی جائے تو یہ کسی اور جانب متقاضی نظر آتی ہے - جیسا کہ انسان کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمایا ہے کہ :

’’وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ ‘‘[22]

’’ اور میں نے جن اور آدمی اپنے ہی لئے بنائے کہ میری بندگی کریں‘‘-

تخلیق انسان کی اصل اللہ اور بندے کے درمیان تعلق، اپنی معرفت اور بندگی کے رشتے کوپختہ کرنے کے سبب ہے-کسی خاص فن میں کمال حاصل کرنا یہ معمولی ذرائع ہیں جن سےانسان اپنی زندگی کو آسان بناتا ہے اور معاشرے کی ترقی میں اپنا نمایاں کردار پیش کرتا ہے-

 ریاستی تعلیم کےمقاصد :

انفرادی لحاظ سے تعلیم کے ذریعے انسانی شخصیت کے ہر پہلو کی تکمیل و نشوونما ہونا ضروری ہے- اسلام کا فلسفہ ٔتعلیم اور نظام تعلیم کی بنیادی خوبی ہے کہ اس میں انسان کی شخصیت کے ہمہ جہتی پہلووں کی نشوونماہوتی ہے،غرض یہ کہ انسانی شخصیت کی حیاتیاتی،عمرانی اور سماجی،ثقافتی، نفسیاتی اور ماورائی پہلو کی بھی تعلیم کے ذریعے نشوونما، ارتقاء و تکمیل ریاست کے تعلیمی نظام میں ضروری ہے- اسلام کا مقصود انسانی شخصیت کے ہر گوشے بالخصوص اخلاق اور دیگر ظاہری و باطنی علوم اور نظام تعلیم کے ذریعے متناسب نشوونما و ارتقاء کرنا ہے- انسان کی شخصیت کی متناسب نشوونما اسلامی تربیت ہے انسانی شخصیت میں مادی گوشہ کی زیادتی ہوجائے تو انسان کو مذہب سے دور کردیتی ہے-اسی تناظر میں اسلامی نظام تعلیم معاشرے کی صحیح تصویر دکھاتا ہے-اجتماعی و معاشرتی اعتبار سے تعلیم کے ذریعے انسانی شخصیت میں انقلاب برپا ہوتا ہے جو کہ اپنے اجتماعی اثرات رکھتا ہے-

عصر حاضر کے نظام تعلیم اجتماعی معاشرتی زندگی میں مثبت اور مضبوط کردار پیدا کرنے کی صلاحیت سے عاری نظر آتے ہیں، مادیت پرستی کے رجحانات علمی اداروں کی اخلاقیات پر کاری ضرب کا کام کر رہے ہیں- ایسی ڈگریز، جابزانسان کو تعلیم کے ذریعے صرف مادی پہلو تک پہنچاسکتی ہیں-جس طرح نظام تعلیم اور علم کے ذریعے انسان کو مضبوط کردار کا بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے اسی طرح معاشرے کو بھی ایک باوقار کردار بنانا ریاست کے ذمہ ہے-ایسا نظام تعلیم جوانسان اور معاشرے کی اصلاح نہ کرسکے اسلام ایسے نظام کو مسترد کرتا ہے- یہ نظام تعلیم کا فقدان ہے کہ آج لسانی گروہ بندیوں نے سیرت النبی(ﷺ) سے دورکردیا ہے جبکہ ان گروہ بندیوں کا خاتمہ آقا کریم (ﷺ) نے خطبہ حجۃ الوداع میں یہ فرماکر کردیا تھا کہ:

’’ کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر، کسی کالے کو گورے پر کوئی فوقیت نہیں، مدار فوقیت اور معیار برتری صرف تقویٰ، پرہیز گاری اور اﷲ کا خوف ہے‘‘-[23]

دنیا میں لا تعداد سماجی مصلحین ،فلاسفہ و حکماء ،مدبرین و سیاست داں، مقنّنین ومنتظمینِ سلطنت آئے، لیکن جتنے ہمہ گیر اثرات حضور(ﷺ) کی ذاتِ اقدس کے مرتب ہوئے، اتنی اثر آفرینی تا قیامت ملنا نا ممکن ہے-حضور (ﷺ) کی شخصیت ہر زمانے اور دنیا کے ہر خطے میں مؤثرترین شخصیات میں صف اول پر ہیں اور آپ (ﷺ) کی اعلی صفات اور حکمت عملی ہی مسلمانوں کا سرمایہ ہے اور یہی فلسفہ تعلیم و اسلامی فلسفہ ہے-

عصر حاضر کے تعلیمی چیلنجز:

عصرِ جدید کا تعلیمی منظرنامہ بظاہر ترقی کی علامت ہے، مگر اس کے باطن میں کئی فکری و اخلاقی چیلنجز پوشیدہ ہیں- ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا غلط استعمال، سیکولرازم کا غلبہ، نصاب میں روحانیت کی کمی اور اخلاقی زوال جیسے عوامل نے تعلیم کے اصل مقاصد کو دھندلا دیا ہے- گزشتہ دہائیوں میں تعلیمی نظام نے ٹیکنالوجی کو مرکزی حیثیت دی ہے- بظاہر یہ ترقی کا مظہر ہے، تاہم اس کے مضمرات پر توجہ دینا ضروری ہے- طلبہ اب ’’علم‘‘ کے بجائے ’’ڈیٹا‘‘ کے ساتھ تعامل کر رہے ہیں اور اس تبدیلی نے علم کے تصور کو کمزور کیا ہے-

یہ صورتحال طلبہ میں تنقیدی شعور (critical thinking) اور حکمت (wisdom) کی کمی کو جنم دے رہی ہے، جو کہ کسی بھی تعلیمی نظام کے بنیادی مقاصد میں شامل ہونا چاہیے-اسی طرح سیکولر فکر کے تحت تعلیمی ادارے مذہبی و روحانی اقدار سے دور ہوتے جا رہے ہیں- اس طرزِ فکر نے تعلیم کو محض دنیوی مفادات تک محدود کر دیا ہے-یہ انقطاع انسان کی شخصیت میں توازن کو بگاڑتا ہے اوریک رُخی (one-dimensional) فرد کی تخلیق کرتا ہے جو معاشرے میں اخلاقی بگاڑ کا باعث بنتا ہے-عصر حاضر میں جو علمی چیلنجز سامنے آرہے ہیں ان میں معاصر نصاب زیادہ تر معاشی ضروریات اور مارکیٹ ڈیمانڈز کے تحت ترتیب دیا گیا ہے- اس میں اقدار، روحانیت اور اخلاقی تعمیر کی جگہ نہ ہونے کے برابر ہے-

تعلیم یافتہ معاشروں میں اخلاقی انحطاط ایک المیہ ہے- کرپشن، عدم برداشت اور خودغرضی جیسے رویے تعلیمی نظام کی اخلاقی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں- امام غزالی کے مطابق ’’علم بغیر اخلاق کے وبالِ جان ہے‘‘-

جدید تعلیمی نظام میں اخلاقی تربیت کا نہ ہونا، معاشرتی سطح پر ایک گہرا خلاء پیدا کر رہا ہے، جسے پُر کرنا اب ناگزیر ہو چکا ہے-

نتائج و سفارشات:

موجودہ مغرب زدہ معاشرے سے مرعوبیت نے ہم کو اسلام کی عطا کردہ شناخت، امتیاز، مقصد حیات سے دور کیا اور مادیت پرستی میں مبتلا کر کے ہمیں منبع علم و بصیرت  حضور رسالت مآب  (ﷺ) سے بھی دور کردیا- موجودہ نظام تعلیم کا سب سے بڑا نقصان افراد میں ایسی سوچ و فکر کا فقدان ہےجو قوم کو ایک قوم نہیں بنا پارہی-نظام تعلیم سے مراد دولت پیسہ دیگر ممالک میں رہائشی وظائف حاصل کرنا مقصود نہیں بلکہ سیرت النبی (ﷺ) کی روشنی میں ہمارا نظام تعلیم وہی ہے جو ہماری شناخت حضور رسالت مآب (ﷺ) کی غلامی اور ان کی اتباع کا احاطہ کرتے ہوئے ترتیب دیاجائے- حضور پاک (ﷺ) نے جو صحابہ کرام(رضی اللہ عنھم) کی جماعت تیار کی، وہ رات کو جہاد بانفس کرتےجبکہ دن میں فروغ اسلام کی خاطرجدوجہد کرتے نظر آتے- اسلامی نظام تعلیم کے اہم موضوعات میں جہاں سائنسی ترقی، ماحول کی تسخیر اور ٹیکنالوجی کی ترقی ہے وہاں اخلاقیات اور روحانیات کی ترقی بھی اہم موضوعات میں سے ہیں جس کا تعلق تصفیہ باطن سے ہے- ٹیکنالوجی کو علم کا متبادل نہیں، بلکہ علم کا  معاون سمجھا جا نا چاہیے -ہمارا موجودہ ریاستی نظام تعلیم اخلاقیات اورروحانیت سے دور ہورہا ہے ہمارے علم اور نظام تعلیم میں اخلاق اور روحانیت کی کوئی بنیاد نظر نہیں آتی -جدید ایجادات اختراعات وقت کے ساتھ ممکن ضرور ہیں لیکن اصل یہ ہے کہ نظام تعلیم ایسا ہونا چاہیے جس میں سماجی سائنسز اور فلسفہ تعلیم و اسلامی نقطہ نظر کو مد نظر رکھتے ہوئے سائنسدان، ٹیکنالوجی کے ماہرین، ڈاکٹر، بیالوجسٹ، ایمبریالوجسٹ، بھی بنائے اور تمام سائنسی علوم کے ساتھ ساتھ اخلاقی و روحانی اعتبار سے حقیقی مرد مومن کی طرف رغبت بھی دلائے-

موجودہ ریاست کا نظامِ تعلیم مسلم امہ کی گردن میں غلامی کا ایسا طوق ہے جس سے پوری قوم کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے- ذلت و غلامی سے نبرد آزما ہونے کےلئے قومی و اجتماعی سطح پر ہر شعبہ میں عظیم مقاصد کا تعین کرنا ازحد ضروری ہے- علاوہ ازیں نظام تعلیم کو حقیقی مقصدیت کے سانچے میں ڈھالنا کے لیے اس میں بنیادی تبدیلیاں لانا ہوں گی- اساتذہ کی تربیت میں اخلاقی و روحانی پہلوؤں کو شامل کیا جائے- نصاب میں اخلاقیات، فلسفہ اور روحانیت کو مربوط کیا جائے-تعلیم کو مارکیٹ سے نہیں، بلکہ معاشرتی و تہذیبی اقدار سے جوڑا جائے-

٭٭٭


[1](آل عمران:164)

[2]Oxford Advanced Learner’s Dictionary, 8th ed., S.V. “Education”.

[3]https://www.etymonline.com/word/philosophy

[4]https://study.com/academy/lesson/rationalism-vs-empiricism-similarities-differences.html

[5]https://www.mirrat.com/article/47/48

[6]https://www.mirrat.com/article/47/48

[7]https://www.mirrat.com/article/47/482

[8]https://ilhaad.com/muslim-philosophy/philosph/greek-philosophy-in-muslim-world/

[9](البقرۃ:151)

[10](سنن ابن ماجہ،کتاب السنۃ)

[11](تعلیم اور معاشرتی تبدیلی،ص: 272-273)

[12](آنحضور (ﷺ) کی تعلیمی جدوجہد، ص:23)

[13](مسلمانوں کی تعلیمی فکر کا ارتقاء ، ص: 40)

[14](پاکستان میں پرائمری تعلیم ،ص: 66)

[15](الحدید:25)

[16](آنحضور (ﷺ) کی تعلیمی جدوجہد ،ص: 13)

[17]https://alsharia.org/2003/may/madani-ahd-e-nubuwat-taleem-tableegh-nizam-prof-akram-virk

[18]https://alsharia.org/2003/may/madani-ahd-e-nubuwat-taleem-tableegh-nizam-prof-akram-virk

[19]https://alsharia.org/2003/may/madani-ahd-e-nubuwat-taleem-tableegh-nizam-prof-akram-virk

[20]( آنحضورؐ کی تعلیمی جدوجہد، ص:25-28)

[21]( آنحضورؐ کی تعلیمی جدوجہد، ص:29-31)

[22](الذاريات: 56)

[23](مسند احمد، ج:5، ص:411)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر