ابن خلدون اپنی شہرۂ آفاق تصنیف مقدمہ میں بیان کرتے ہیں کہ اقوام کے عروج و استحکام کی بنیاد ’’عصبیہ‘‘ یعنی اجتماعی یکجہتی، باہمی اعتماد اور مشترکہ مقصد پر قائم ہوتی ہے، جبکہ مذہب اس عصبیہ کو اخلاقی سمت، فکری رہنمائی اور روحانی قوت عطا کرتا ہے- [1]مذہب انسانوں کو تقسیم نہیں کرتا بلکہ انہیں عدل، رواداری، مکالمے اور باہمی احترام کے رشتے میں جوڑتا ہے- اسلام کی یہ تعلیمات ہمیں رسول اکرم (ﷺ) کی سیرتِ طیبہ کے ذریعے ملیں ہیں، جنہوں نے مختلف مذاہب، قبائل اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے، انصاف اور بقائے باہمی کی ایسی مثال قائم کی جو اسلاموفوبیا کے تدارک کے طور پر دیکھی جاتی ہے- تاہم ابن خلدون کے مطابق جب معاشرے اپنے بنیادی اخلاقی اصولوں سے دور ہو کر آسائش پسندی، ذاتی مفادات اور غیر محدود آزادی کے تصورات میں گم ہو جاتے ہیں تو ان کی اجتماعی یکجہتی کمزور پڑنے لگتی ہے- اسی حقیقت کو اس معروف اصول میں بھی بیان کیا جاتا ہے کہ ’’آپ کی آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے دوسرے کے حقوق متاثر ہونا شروع ہو جائیں‘‘- جب آزادی ذمہ داری سے جدا ہو جائے، مکالمے کی جگہ تعصب لے لے اور حقیقت کی جگہ خوف و غلط فہمیاں پیدا ہو جائیں تو اسلاموفوبیا جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں- آج مغربی معاشروں میں اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحانات اسی فکری و اخلاقی بحران کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں مسلمانوں کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کو اکثر شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے- برطانیہ میں غزہ کے مسئلے اور مسلم کمیونٹی کے خدشات پر لیبر پارٹی کے مؤقف کے نتیجے میں مسلمانوں کے ووٹنگ رجحانات میں آنے والی تبدیلی بھی اس بات کی مثال ہے کہ جب کسی گروہ کو اپنی شناخت، نمائندگی اور انصاف کے حوالے سے بے اطمینانی محسوس ہو تو وہ نئے سیاسی راستے تلاش کرتا ہے- لہٰذا اسلاموفوبیا کا حقیقی تدارک صرف سیاسی نعروں میں نہیں بلکہ رسول اکرم (ﷺ) کی طرف رجوع میں ہے جو انسانوں کو تعصب کے بجائے مکالمے، تصادم کے بجائے تعاون اور نفرت کے بجائے باہمی احترام کی تعلیم دیتا ہے- اسلام اور مغرب کے مابین سیاسی و ثقافتی کشمکش کی تاریخ بہت طویل ہے، اس کی وجہ باہمی خوف و انتشار، عدمِ اعتماد کا فقدان ہے- مغربی تہذیب لبرلزم، سیکولرزم، سوشلزم اور ہیومنزم (یعنی مذہب اور سیاست جدا جدا ہیں) جیسے نظریات پر قائم ہے، اس لیے عوامِ مغرب کی اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کی سطحیں بھی مختلف ہیں- [2]
علامہ اقبال کا مذہب اور سیاست کے حوالے سے سب سے مشہور اور بنیادی شعر یہ ہے:
|
جلال پادشاہی ہو کہ جمہوری تماشا ہو |
اسلاموفوبیا کا بڑھتا ہوا رجحان آج عالمی امن کیلئے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے- مسلمانوں کے خلاف تعصب، میڈیا میں منفی تاثر، مذہبی پابندیاں، مہاجرین کے ساتھ امتیازی سلوک اور عبادت گاہوں پر حملے اس نفرت کی مختلف شکلیں ہیں- اگرچہ یہ رجحان 11/9 سے پہلے بھی موجود تھا، لیکن وقت کے ساتھ اس نے مزید شدت اختیار کی ہے- 15 مارچ کو اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی اقوام متحدہ نے منظور کیا، اس دن کو منانے کا مقصد اسی نفرت کے خاتمے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کی کوششوں کو اجاگر کرنا ہے- یہ دن اسلاموفوبیا کے خلاف ان واقعات کی یاد دہانی کرواتا ہے، جن میں سفید فام انتہا پسندوں نے مذہبی اور نسلی نفرت کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر حملے کیے- [3]
- I. 2011ء میں ناروے میں اینڈرس بریوک نامی انتہا پسند نے حملہ کر کے 77 افراد کو قتل کیا-
- II. 2015ء میں امریکا کے شہر چارلسٹن کے ایک چرچ میں ڈیلن روف نے فائرنگ کر کے 9 افریقی نژاد امریکی افراد کو قتل کیا-
- III. 15 مارچ 2019ء کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں ایک 28 سالہ آسٹریلوی انتہا پسند نے دو مساجد میں داخل ہو کر نیم خودکار ہتھیاروں سے مردوں، عورتوں اور بچوں پر اندھا دھند فائرنگ کی- اس حملے میں 50 مسلمان شہید جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوئے- حملہ آور نے ایک نفرت انگیز منشور بھی جاری کیا تھا- جس میں سفید فام برتری کے نظریات کی حمایت کی گئی تھی-
- IV. کرائسٹ چرچ حملے کے اگلے ہی دن برطانیہ میں ایک سفید فام شخص نے ایسٹ لندن مسجد کے باہر ایک مسلمان نمازی پر ہتھوڑے سے حملہ کیا- اگلے روز برطانیہ کے علاقے سرے میں ایک 50 سالہ شخص نے ’’سفید فام برتری‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے 19 سالہ مسلمان نوجوان کو چاقو مار کر زخمی کر دیا-
- V. آسٹریلیا کے شہر کوئنزلینڈ میں ایک شخص نے اپنی گاڑی مسجد کے دروازے سے ٹکرا دی- برطانوی اخبار دی گارڈین کے مطابق کرائسٹ چرچ حملوں کے بعد برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں 593 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا-
- VI. اگست 2016ء میں امریکا کے شہر نیویارک کے علاقے کوئینز میں ایک امام اور ان کے ساتھی کو مسجد کے قریب سڑک پر گولی مار کر قتل کر دیا گیا-
- VII. دسمبر 2016ء میں سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں ایک شخص مسجد میں داخل ہوا اور نمازیوں پر فائرنگ کی-
- VIII. جنوری 2017ء میں کینیڈا کے شہر کیوبک میں ایک 27 سالہ شخص نے مسجد میں داخل ہو کر نمازیوں پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں 6 مسلمان شہید اور کئی زخمی ہوئے-
- IX. 2021ء میں کینیڈا کے صوبہ اونٹاریو میں ایک شخص نے ایک مسلمان خاندان کو جان بوجھ کر ٹرک سے کچل دیا، جس کے نتیجے میں خاندان کے چار افراد جاں بحق جبکہ ایک بچہ شدید زخمی ہوا-
- X. 2026ء میں امریکا کے شہر سان ڈیاگو میں 18 مئی کو دو کم عمر نوجوانوں نے سفید فام بالادستی کے نظریات سے متاثر ہو کر اسلامی سینٹر آف سان ڈیاگو پر فائرنگ کی، جس میں تین افراد اور سیکیورٹی گارڈ بھی شامل تھے- [4]
- XI. بھارت میں وزیرِ اعظم نریندر مودی اور بی جے پی کی حکومت کے دور میں متعدد انسانی حقوق کی تنظیموں اور ناقدین نے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ملک بتدریج ایک ہندو قوم پرست ریاست کی طرف بڑھ رہا ہے جہاں مسلمانوں کے خلاف امتیازی رویوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے- شہریت ترمیمی قانون (CAA) سمیت بعض حکومتی پالیسیوں کو مذہبی بنیادوں پر تفریق کا باعث قرار دیا گیا ہے، جبکہ 2024ء کے انتخابات کے دوران مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز تقاریر میں 74 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جن میں سے 98 فیصد سے زائد واقعات براہِ راست مسلمانوں کو نشانہ بناتے تھے- اس کے علاوہ ووٹر فہرستوں سے مسلم ووٹروں کے اخراج کے الزامات ’’بلڈوزر جسٹس‘‘ کے نام پر مسلم آبادیوں کی املاک کی مسماری اور ہجوم کے تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات نے اقلیتی برادری میں عدم تحفظ کے احساس کو مزید گہرا کیا ہے- انہی وجوہات کی بنا پر بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھارت میں مذہبی آزادی، سیکولر اقدار اور اقلیتوں کے حقوق کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے- [5]
کثیر الثقافتی اور کثیر نسلی دنیا میں پُرامن بقائے باہمی کے لیے ضروری ہے کہ مذہبی تعصب کو ختم کر کے احترام، برداشت اور مکالمے کو فروغ دیا جائے- [6]
اقوامِ متحدہ کے مطابق اسلاموفوبیا کی تعریف:
“Islamophobia is a fear, prejudice and hatred of Muslims that leads to provocation, hostility, and intolerance by means of threatening, harassment, abuse, incitement, and intimidation of Muslims and non-Muslims, both in the online and offline world. Motivated by institutional, ideological, political, and religious hostility that transcends into structural and cultural racism, it targets the symbols and markers of being a Muslim”.[7]
’’اسلاموفوبیا سے مراد مسلمانوں کے بارے میں خوف، تعصب اور نفرت کا ایسا رویہ ہے جو مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیزی، دشمنی اور عدم برداشت کو جنم دیتا ہے- اس میں مسلمانوں یا غیر مسلموں کو آن لائن یا حقیقی زندگی میں دھمکانا، ہراساں کرنا، بدسلوکی کرنا، نفرت پھیلانا اور خوف زدہ کرنا شامل ہے- یہ رویہ اداروں، نظریات، سیاست اور مذہبی مخالفت کی بنیاد پر پیدا ہو سکتا ہے، جو آگے چل کر معاشرتی اور ثقافتی سطح پر نسل پرستی کی شکل اختیار کر لیتا ہے- اس کا نشانہ مسلمانوں کی شناخت، مذہبی علامات اور ان چیزوں کو بنایا جاتا ہے جو ان کے مسلمان ہونے کی نمائندگی کرتی ہیں‘‘-
میڈیا اور اشاعتی صنعت کے ذریعے پھیلائے جانے والے اسلام مخالف مواد، جیسے خبریں، ٹی وی پروگرام، فلمیں، کتابیں اور تحقیقی مضامین، اکثر مسلمانوں اور اسلام کو منفی انداز میں دکھاتے ہیں، جس کے نتیجے میں غیر مسلم معاشروں میں غلط فہمیاں اور تعصبات پیدا ہوتے ہیں- اس کا مؤثر جواب دینے کے لیے ایک واضح حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے- اسلاموفوبیا کی ایک وجہ مسلمانوں کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی شناخت اور مختلف اقوام و ثقافتوں کے بارے میں محدود معلومات ہے، جو غلط تصورات کو جنم دیتی ہیں- اس لیے ضروری ہے کہ اسلام کے حقیقی پیغام، یعنی امن، رواداری، بھائی چارے اور انصاف کو مؤثر انداز میں دنیا تک پہنچایا جائے- [8]
قرآن پاک کی روشنی میں اسلاموفوبیا کا تدارک :
دینِ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے جس کی بنیاد قرآنِ مجید اور حضور نبی اکرم (ﷺ) کی سیرتِ طیبہ پر قائم ہے- اسلام انسان کی انفرادی، اجتماعی، اخلاقی، سیاسی اور معاشرتی زندگی کے لیے جامع رہنمائی فراہم کرتا ہے- قرآن و سنت کی روشنی میں اسلام نہ صرف عبادات کے اصول متعین کرتا ہے بلکہ دوسروں کے ساتھ تعلقات استوار کرنے، باہمی احترام کو فروغ دینے اور اختلافِ رائے کو مثبت انداز میں سنبھالنے کی تعلیم بھی دیتا ہے- یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات رواداری، عدل، باہمی احترام اور پُرامن بقائے باہمی کو ایک صالح اور متوازن معاشرے کی بنیاد قرار دیتی ہیں-
مغربی معاشروں میں اسلام اور مسلمانوں سے خوف اور ان کے خلاف نفرت کا احساس ہے جس کے نتیجے میں وہ اسلام کو دنیا کے سامنے ایک جنونی مذہب کے طور پر پیش کرتے ہیں- اسلام نہ صرف دوسرے مذاہب اور عقائد کے لوگوں کے لئے عدم برداشت اور تعصب کا رویہ اختیار کرتا ہے- بلکہ عملی طور پر ان کے قتل وغارت کو جائز بھی نہیں تسلیم کرتا-جب کہ قرآن پاک کی تعلیمات یہ ہیں:
’’ اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ وَ الْمَوْعِظَۃِ الْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ہِیَ اَحْسَنُ ط اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَ ہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ‘‘[9]
’’آپ اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ بلایئے اور احسن طریقہ کے ساتھ ان پر حجت قائم کیجیے، بیشک آپ کا رب ان کو بہت جاننے والا ہے جو اس کے راستہ سے بھٹک گئے اور ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جاننے و الا ہے‘‘-
’’قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ‘‘[10]
’’کہہ دو کہ میرے پروردگار نے تو انصاف کرنے کا حکم دیا ہے‘‘-
’’وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَیَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ ط وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُفْلِحُوْنَ‘‘[11]
’’اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کا حکم دے اور برے کاموں سے منع کرے- یہی لوگ ہیں جو نجات پانے والے ہیں‘‘-
’’ اِنَّ اللہَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْاِحْسَانِ‘‘[12]
’’بیشک اللہ عدل (انصاف) اور احسان (بھلائی) کا حکم دیتا ہے‘‘-
’’ لَآ اِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ قف لا قَدْ تَّبَیَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَیِّ‘‘[13]
’’دین میں کوئی زبردستی نہیں، بیشک ہدایت گمراہی سے الگ ہو چکی ہے‘‘-
یہ تمام قرآنی آیاتِ کریمہ انسانیت کو اعتدال، رواداری، مکالمے، حسنِ اخلاق، عمدہ کردار، عاجزی اور امن کا درس دیتی ہیں، نہ کہ نفرت، تشدد یا انتشار کا- اسلام کی تعلیمات کا بنیادی مقصد ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جو عدل، احترامِ انسانیت اور باہمی ہم آہنگی پر قائم ہو- خود لفظ ’’اسلام‘‘ عربی مادہ ’’س-ل-م‘‘ سے ماخوذ ہے جس کے لغوی معنی سلامتی، امن، عافیت اور اطاعت کے ہیں، جبکہ ’’مسلم‘‘ وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دے اور دوسروں کے لیے امن و سلامتی کا ذریعہ بنے- اسی لیے اسلام کی بنیاد ہی امن، صلح اور خیر خواہی پر استوار ہے-
سیرت رسول (ﷺ) کی روشنی میں اسلاموفوبیا کا تدارک :
اگرچہ ’’اسلاموفوبیا‘‘ کی اصطلاح پہلی مرتبہ بیسویں صدی کے اوائل میں فرانسیسی زبان میں استعمال ہوئی- تاہم مختلف ادوار میں مذہبی، نسلی اور ثقافتی اختلافات کی بنیاد پر دوسروں کے خلاف نفرت اورخوف کو فروغ دیا جاتا رہا ہے- اسلام کے ظہور کے ساتھ ہی اس تعصب نے ایک نئی شکل اختیار کی جب مکہ کے مشرکین، خصوصاً قریش کے سرداروں نے حضور نبی اکرم (ﷺ) کی دعوتِ توحید کو اپنے سیاسی، معاشی اور سماجی مفادات کیلئے خطرہ سمجھتے ہوئے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف منظم پروپیگنڈا، بائیکاٹ، ظلم و ستم اور نفرت انگیز مہمات کا آغاز کیا- تاہم حضور نبی اکرم (ﷺ) نے ان تمام مخالفتوں اور تعصبات کا جواب صبر، حکمت، مکالمے، حسنِ اخلاق، عفو و درگزر اور عملی کردار کے ذریعے دیا، جس سے اسلاموفوبیا کے تدارک کے مؤثر اصول سامنے آتے ہیں-
مکہ کے مشرکین نے رسول اللہ (ﷺ) کے خلاف صرف جسمانی یا سماجی مخالفت نہیں کی بلکہ ایک منظم نفسیاتی جنگ (Psychological Warfare) کوبھی برپا کیا- معاذ اللہ! آپ (ﷺ) کو ساحر،مجنون اور شاعر کہہ کر عوامی رائے کو آپ کے خلاف ہموار کرنے کی کوشش کی گئی، حتیٰ کہ آپ (ﷺ) کے مبارک نام ’’محمد (ﷺ)‘‘ (قابلِ تعریف) کو بگاڑ کر ’’مذمّم‘‘ (قابلِ مذمت) کہا جانے لگا تاکہ آپ کی شخصیت اور دعوت کی اخلاقی ساکھ کو نقصان پہنچایا جا سکے- تاہم، رسول اللہ (ﷺ) نے اس نفسیاتی اشتعال کا جواب غیر معمولی جذباتی استحکام اور فکری بلندی سے دیا- آپ (ﷺ) نے فرمایا:
’’تمہیں تعجب نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے قریش کی گالیوں اور لعنت ملامت کو کس طرح دور کرتا ہے۔ مجھے وہ ’’مذمم‘‘ کہہ کر برا کہتے، اس پر لعنت کرتے ہیں- حالانکہ میں تو محمد (ﷺ) ہوں‘‘-[14]
مزید یہ کہ جب حضور نبی کریم (ﷺ) مکہ مکرمہ میں شدید مخالفت اور ظلم و ستم کے بعد دعوتِ اسلام کیلئے طائف [15] تشریف لے گئے تو وہاں کے سرداروں نے آپ (ﷺ) کی دعوت قبول کرنے کے بجائے آپ کا مذاق اڑایا اور اوباش لوگوں کو آپ (ﷺ) پر پتھر مارنے کیلئے اکسایا، جس سے آپ (ﷺ) زخمی ہوگئے- اس موقع پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام)حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اگر آپ (ﷺ)حکم دیں تو دونوں پہاڑوں کو ان لوگوں پر ملا دیا جائے، مگر رحمتِ عالم (ﷺ) نے انتقام کے بجائے رحمت کا راستہ اختیار کرتے ہوئے فرمایا:
’’مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسلوں میں ایسے لوگ پیدا فرمائے گا جو صرف ایک اللہ کی عبادت کریں گے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے‘‘-[16]
اس واقعہ سے واضح ہوتا ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) اپنے مخالفین کے بارے میں بھی یہ سمجھتے تھے کہ وہ حقیقت سے ناواقف ہیں، اس لیے آپ (ﷺ) نے ان کیلئے ہدایت کی دعا فرمائی اور بدلے کے بجائے اخلاق اور صبر کی اعلیٰ مثال قائم کی-
دنیا میں اسلاموفوبیا کے خاتمے کے لیے حضور نبی کریم (ﷺ)کی مدینہ میں قائم کردہ میثاقِ مدینہ ایک اہم مثال ہے، جس میں مختلف مذہبی گروہوں، خصوصاً یہودی قبائل کے ساتھ اختلافات کو دشمنی کے بجائے مذاکرات، باہمی احترام اور مشترکہ ذمہ داریوں کے ذریعے حل کرنے کا اصول اپنایا گیا- اس معاہدے نے ایک ایسا معاشرتی نظام قائم کیا جس میں مذہبی آزادی، امن اور شہری حقوق کو اہمیت دی گئی- اسی فکر کی بنیاد پر حضور نبی کریم (ﷺ) نے انسانی برابری کا اصول بیان فرمایا:
’’کسی عربی کو عجمی پر، کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کی بنیاد پر‘‘-[17]
یہ اصول آج کے دور میں مذہبی نفرت اور اسلاموفوبیا کے مقابلے میں برابری، مکالمے اور باہمی احترام کو فروغ دینے کی بنیاد ہے-
اس کے علاوہ آقا کریم (ﷺ) کا عیسائی وفد کے ساتھ حسنِ سلوک اور مذہبی احترام بھی بین المذاہب رواداری کی ایک روشن مثال ہے- جب نجران (جزیرۂ عرب کے جنوب میں موجود عیسائی اکثریتی علاقہ، موجودہ یمن کے قریب) کے عیسائیوں کا وفد مدینہ منورہ آیا تو آقا کریم (ﷺ) نے ان سے مذاکرات کیے، ان کے مذہبی معاملات کا احترام کیا اور انہیں مسجد نبوی (ﷺ) میں اپنے طریقے کے مطابق عبادت کی اجازت دی- یہ واقعہ اس بات کی علامت ہے کہ اسلام اختلافِ عقیدہ کے باوجود احترام، مکالمے اور امن کے اصولوں کو فروغ دیتا ہے- موجودہ دور میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا اور مذہبی تعصبات کے خاتمے کے لیے اس نبوی طرزِ عمل سے رہنمائی لی جا سکتی ہے کہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ نفرت کی بجائے احترام اور برداشت کا رویہ اختیار کیا جائے اور اپنے اخلاق و کردار کے زور پر انہیں قریب کرنے کی کوشش کی جائے -
فتحِ مکہ کے موقع پر حضور نبی اکرم (ﷺ) کو مکمل سیاسی، قانونی اور ریاستی اختیار حاصل تھا کہ آپ (ﷺ) اپنے مخالفین سے ان کے سابقہ جرائم کا بدلہ لیتے، کیونکہ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے برسوں تک مسلمانوں پر ظلم، جنگ اور دشمنی مسلط رکھی تھی- لیکن اس کے برعکس آپ (ﷺ) نے انتقامی رویّے کے بجائے عمومی عفو و درگزر کا اعلان فرمایا اور ایک اعلیٰ اخلاقی مثال قائم کی، جو انسانی تاریخ میں عدل اور رحم کی بہترین تعبیر سمجھی جاتی ہے- قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ‘‘[18]
’’اور ہم نے آپ(ﷺ) کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے‘‘-
اسی طرح موجودہ دور میں آزادیِ اظہار کے تصور کو بعض اوقات اس حد تک وسعت دے دی جاتی ہے کہ وہ دوسرے مذاہب، عقائد اور سیاسی و سماجی جذبات کی تضحیک اور دل آزاری کا ذریعہ بن جاتا ہے- اس حوالے سے جدید فکری مباحث میں یہ سوال شدت سے زیرِ بحث ہے کہ آیا اظہارِ رائے کی آزادی کا مطلب یہ بھی ہے کہ دوسروں کے مذہبی مقدسات اور اجتماعی احساسات کو مجروح کیا جائے؟ اس صورتحال میں اسلامی تعلیمات یہ واضح کرتی ہیں کہ آزادی کے ساتھ ذمہ داری لازم ہے اور کسی بھی حق کا استعمال اس وقت تک جائز ہے جب تک وہ دوسرے انسانوں کے احترام، امن اور معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان نہ پہنچائے- [19]اسی اصول کی روشنی میں فتحِ مکہ کا واقعہ آج کے دور کیلئے بھی ایک رہنما اصول فراہم کرتا ہے کہ طاقت، آزادی اور اختیار کے باوجود دوسروں کے عقائد اور احساسات کا احترام اور پرامن بقائے باہمی ہی ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہے-
اسی طرح حجۃ الوداع کے خطبے میں آپ (ﷺ) نے واضح اصول دیا کہ ذاتی انتقام اور خون کے جھگڑے ختم کیے جائیں اور سب انسان عدل و مساوات کے اصول پر زندگی گزاریں- آپ (ﷺ) کا یہ طرزِ عمل آج کے دور میں نفرت، تشدد اور اسلاموفوبیا کے مقابلے میں امن، برداشت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کا بہترین نمونہ ہے- آپ (ﷺ) نے فرمایا:
’’ سن لو!جاہلیت کی ہر چیز میرے پاؤں تلے روند دی گئی ہے، جاہلیت کے خون (یعنی قتل) بھی ختم کر دیے گئے‘‘-[20]
آج اسلاموفوبیا اکثر آزادیِ اظہار (Freedom of Speech) کے نام پر نفرت انگیز تقاریر، مذہبی توہین اور مسلمانوں کے خلاف تعصب کو جواز فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے- تاہم، مغربی سیاسی فکر بھی آزادی کو مطلق حق تسلیم نہیں کرتی- جان اسٹورٹ مل (John Stuart Mill) نے اپنی مشہور کتاب ’’On Liberty‘‘میں واضح کیا کہ فرد کی آزادی وہاں تک قابلِ قبول ہے جہاں سے دوسروں کو نقصان پہنچنا شروع نہ ہو- اسی طرح عالمی اعلامیہ برائے حقوقِ انسانی (UDHR) کے آرٹیکل 29 کے مطابق ہر حق پر ایسی قانونی حدود عائد کی جا سکتی ہیں جو دوسروں کے حقوق، وقار اور سماجی نظم و امن کے تحفظ کیلئے ضروری ہوں- اقوامِ متحدہ بھی مذہبی نفرت، تعصب اور امتیازی بیانیوں کو سماجی ہم آہنگی کیلئے خطرہ تصور کرتی ہے- چنانچہ اسلام اور جدید انسانی حقوق کے اصول دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ آزادیٔ اظہار کو نفرت پھیلانے، مذہبی مقدسات کی توہین کرنے یا معاشرتی انتشار پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے- درحقیقت، انتہا پسند عناصر ہی آزادی کے تصور کو مسخ کر کے نفرت، تصادم اور مسلسل سماجی کشیدگی کو فروغ دیتے ہیں-
اختتامیہ
اسلاموفوبیا محض مسلمانوں کے خلاف ایک سماجی تعصب نہیں بلکہ ایک پیچیدہ فکری، سیاسی اور ثقافتی مسئلہ ہے جو خوف، غلط فہمی، نفرت انگیز بیانیوں اور شناختی عدم تحفظ سے جنم لیتا ہے- قرآنِ مجید اور سیرتِ نبوی (ﷺ) اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے صبر، حکمت، مکالمے، عدل، رواداری اور بین المذاہب تعاون جیسے اصول فراہم کرتے ہیں- حضور نبی اکرم (ﷺ) نے مکہ کی نفرت انگیز مہمات، طائف کی اذیتوں اور مختلف مذہبی گروہوں کے ساتھ تعلقات میں یہ ثابت کیا کہ تعصب کا مؤثر جواب انتقام نہیں بلکہ اخلاقی برتری، جذباتی استقامت اور انسان دوستی ہے- اسی طرح جدید مغربی سیاسی فکر اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصول بھی اس امر پر متفق ہیں کہ آزادیٔ اظہار کو نفرت، توہین اور دوسروں کے حقوق کی پامالی کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے- لہٰذا اسلاموفوبیا کے حقیقی تدارک کیلئے ضروری ہے کہ عالمی سطح پر ذمہ دارانہ اظہار، بین المذاہب مکالمے، باہمی احترام اور مشترکہ انسانی اقدار کو فروغ دیا جائے- درحقیقت، پائیدار امن اور عالمی ہم آہنگی اسی وقت ممکن ہے جب انسانیت تعصب اور خوف کے بجائے انصاف، احترامِ انسانیت اور بقائے باہمی کے اصولوں کو اپنی اجتماعی زندگی کی بنیاد بنائے-
٭٭٭
[1]ابن خلدون، مقدمہ ابن خلدون
[2]اسلاموفوبیا اور شیخ الاسلام کا فکری کردار,” Minhaj-ul-Quran Magazine, February 2025, accessed June 15, 2026
[3]MUSLIM Institute, “UN Thank You to Combat Islamophobia,” accessed June 14, 2026,
[4]Anadolu Agency, “Anti-Muslim Terror Attacks: Major Incidents Over the Past Decade,” last modified May 19, 2026,
[5]Human Rights Watch, "India Activates Discriminatory Citizenship Law," March 15, 2024,
https://www.hrw.org/news/2024/03/15/india-activates-discriminatory-citizenship-law.
[6]Sahibzada Sultan Ahmad Ali, “Militarized Islamophobia,” MUSLIM Institute, accessed June 14, 2026,
https://www.muslim-institute.org/images/articles/opinion-militarized-islamophobia5104.pdf.
[7]University of Pittsburgh, “Definition of Islamophobia,” accessed June 14, 2026,
[8]MUSLIM Institute, “Round Table Discussion on Islamophobia: Prevailing Trends and Remedial Measures,” March 21, 2019, https://www.muslim-institute.org/newsletter-rtd-islamophobia.html.
[9](النحل:125)
[10](الاعراف:29)
[11](آل عمران: 104)
[12](النحل:90)
[13](البقرۃ:256)
[14](صحیح بخاری، کتاب المناقب)
[15](طائف کے لوگ زیادہ تر عرب مشرک تھے اور بت پرستی کرتے تھے- ان کا سب سے مشہور بت لات تھا، جس کی عبادت قبیلہ ثقیف اور آس پاس کے قبائل کرتے تھے-)
[16](الشفا بتعريف حقوق المصطفےٰ (ﷺ)، جز: 1 ،ص : 255)
[17](مسند احمد)
[18](الانبیاء: 107)
[19]MUSLIM Institute, Freedom of Expression Gives One the Right to Insult, Research Report/Debate Brief (Islamabad: MUSLIM Institute, 2015), https://www.muslim-institute.org/newsletter-md-speech-freedom-close.pdf.
[20](مشکوٰۃ المصابیح، کتاب المناسک)