اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
’’اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِہِمْ وَ اَزْوَاجُہٗٓ اُمَّہٰتُہُمْ‘‘
’’حضور نبی کریم (ﷺ)ایمان والوں کی جانوں سے بھی زیادہ ان کے مالک ہیں اور آپ (ﷺ) کی ازواج ان کی مائیں ہیں ‘‘-(الاحزاب:6)
رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
حضرت انس(رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضور نبی کریم (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوا-توآپ (ﷺ) نے اسے دو پہاڑوں کے درمیان موجود بکریاں عطا فرمادیں تو وہ شخص اپنی قوم کے پاس آیا اور بولا:اے میر ی قوم اسلام قبول کرلو،اللہ کی قسم! حضرت محمد(ﷺ) آدمی کو اتنا عطافرماتے ہیں کہ پھراسے فاقے کا خوف نہیں رہتا‘‘- (صحیح مسلم ، كِتَابُ الْفضائل)
فرمان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ :
’’جا ن لے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے روحِ محمد (ﷺ) کو اپنے نورِ جمال سے تخلیق فرمایا جیساکہ اللہ عزّوجل نے ارشادفرمایا:’’میں نے روحِ محمد (ﷺ) کو اپنے چہرہ(قدس)کے نورسے پیدافرمایا‘‘یا جیساکہ حضور نبی رحمت (ﷺ) کا فرمانِ ذیشان ہے :’’اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میری روح کو تخلیق فرمایا‘‘-اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا :اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے قلم کو پیدافرمایا- اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے عقل کو پیدافرمایا-ان سب سے مراد ایک ہی چیز ہے اوروہ ہے حقیقتِ محمدیہ (ﷺ)-جس کا نام نور اِس لیے رکھاکیونکہ آپ (ﷺ) کی ذاتِ (بابرکات) ظلماتِ جلالیہ سے بالکل پاک ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان مبارک ہے :’’بے شک تمہارے پاس آیا اللہ پاک کی طرف ایک نور اورکتاب مبین‘‘، اورعقل اس لیے نام رکھا کہ آپ (ﷺ) کی ذات پا ک تمام کلیات پر محیط ہے اورقلم اس لیے نام رکھا کہ آپ (ﷺ)کی ذات مبارک علم کو منتقل کرنے کا ذریعہ ہے جیساکہ قلم عالمِ حروفات میں علم نقل کر نے کا ذریعہ ہے ۔پس روحِ محمد(ﷺ) جملہ موجودات کا خلاصہ اورکائنات کی ہر چیز کی ابتداء اوراصل ہےجیساکہ رسول اللہ (ﷺ) کا فرمان مبارک ہے:میں اللہ تعالیٰ سے ہوں اورتمام مؤمنین مجھ سے ہیں ‘‘ - (سرالاسرار)
فرمان سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ:
ع:عَقل فِکر دی جَا نہ کائی جِتھے وحدت سرّ سُبحانی ھو
ناں اُوتھے مُلّاں پَنڈت جوشی ناں اوتھے علم قُرآنی ھو
جد اَحمدؐ اَحد وِکھالی ڈتا تاں کُل ہووے فَانی ھو
عِلم تمام کتونے حاصل باھوؒ کِتاباں ٹھَپ آسمانی ھو (ابیاتِ باھو)
فرمان قائداعظم محمد علی جناحؒ :
ایمان ، اتحاد، تنظیم
’’میرے پیشِ نظر ایک ہی اصول تھا یعنی اسلامی جمہوریت کا اصول-میرا عقیدہ ہے کہ ہماری نجات انہیں سنہری قوانین کی پابندی میں ہے جوہمارے شارعِ اعظم پیغمبرِاسلام (ﷺ)نے ہمارے لیے متعین کیے -آئیے ہم اپنی جمہوریت کی اساس صحیح اسلامی تصورات اوراصولوں پراستوارکریں ‘‘- (سبی،14 فروری،1948ء)
فرمان علامہ محمد اقبالؒ:
قُوّتِ عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
دہر میں اسمِ محمدؐ سے اُجالا کر دے
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں (بانگِ درا)