قومی وحدت و ملی بیداری کے لیے سیرتِ طیبہ (ﷺ) سے رہنمائی
رسول اکرم (ﷺ) کی حیاتِ طیبہ انسانیت کیلئے قیادت، ریاست، معاشرت، اخلاق، قانون، امن اور اجتماعیت کا کامل ترین نمونہ ہے- سیرتِ طیبہ(ﷺ) ایک ایسی مکمل تہذیبی، سماجی، سیاسی اور اخلاقی دستاویز ہے جس نے ایک منتشر ومنقسم اور بے راہ روی کے شکار معاشرے کو دنیا کی بہترین اُمت میں بدل دیا - یہ انقلاب حسن ِ کردار، حکمتِ بلیغ، عدل و انصاف، رحمت و شفقت اور اجتماعی تربیت کے ذریعے برپا ہوا-عرب کا وہ معاشرہ جو نسلی تفاخر، قبائلی عصبیت، سماجی ناانصافی، معاشی استحصال اور اخلاقی و روحانی انحطاط کی زد میں تھا چند ہی برسوں میں عدل، اخوت، مساوات، ذمہ داری، اجتماعی شعور اور انسانی احترام کا ایسا نمونہ بن گیا جس کی نظیر انسانی تاریخ میں نہیں ملتی - یہ وحدت ایک مشترک اخلاقی و قانونی نظام کا نتیجہ تھی جس نے مختلف طبقات کو ایک اصولی معاہدے کے تحت منظم کیا -میثاقِ مدینہ اس حقیقت کی واضح مثال ہے -اس معاہدے نے یہ آفاقی اصول وضع کیا کہ قومی وحدت کا انحصار نسلی و علاقائی امتیاز پہ نہیں بلکہ انصاف، مساوات، اعتماد اور باہمی ذمہ داری پر ہے- اس کے علاوہ مدینہ منورہ میں مہاجرین و انصار کے درمیان قائم ہونے والی مؤاخات صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ قومی یکجہتی کا ایسا عملی ماڈل ہے جس میں رنگ و نسل، زبان، قبیلہ اور جغرافیہ سب ثانوی حیثیت اختیار کر گئے اور اخوتِ انسانی بنیادی قدر بن گئی- یہی وہ اصول ہیں جو جدید ریاستی نظریات میں عمرانی معاہدے کے طور پر زیرِ بحث آتے ہیں مگر سیرتِ نبوی (ﷺ) میں یہ اصول عملی اور عالمگیر تاریخی حقیقت کی صورت میں موجود ہیں- غرضیکہ سیرتِ طیبہ اجتماعی زندگی کی تشکیل اورقومی وحدت و ملی بیدار ی کےلیے ایک جامع و مکمل اسلوب فراہم کرتی ہے -
آج پاکستان اور بحیثیت مجموعی امت مسلمہ میں لسانی و علاقائی شناخت، فرقہ واریت اور سماجی وطبقاتی تقسیم، اخلاقی و فکری زوال، تشکیک، علمی انحطاط اور اجتماعی ذمہ داری سے فرار جیسے عناصر قومی وحدت و یکجہتی کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں- افسوسناک امر یہ ہے کہ اختلافِ رائے کو دشمنی اور تعمیری تنقید کو نفرت میں بدلنے کا رجحان معاشرے میں گہرا ہوتا جا رہا ہے- اسی طرح سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پہ جھوٹی خبریں، کردار کشی، افواہیں اور نفرت انگیز بیانیے قومی وحدت کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں کیونکہ ہر خبر اور ہر بیانہ قومی مزاج پہ اثر انداز ہوتا ہے- کچھ عرصہ قبل حکومتِ پاکستان کے ایک وزیر نے رپورٹ شئیر کی کہ پاکستان میں 90 فیصد کے قریب سوشل میڈیا پہ جھوٹی خبریں پھیلائی جاتی ہے- اسی لیے رسول اللہ (ﷺ) نے حسنِ ظن اور ذمہ دارانہ ابلاغ کی تاکید فرمائی -’’کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات کو بیان کر دے‘‘- (صحیح مسلم)
ملی بیداری دراصل اپنے دین، وطن، تہذیب، آئین، قومی ذمہ داریوں اور قومی مفادات کے شعور سے عبارت ہے- ایک بیدار قوم وہ ہوتی ہے جو اپنے حقوق کے ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو بھی سمجھتی ہو، قانون کی پاسداری کرے، قومی وسائل کو امانت سمجھےاور ریاستی امن و استحکام کو نقصان نہ پہنچائے - کیونکہ جب معاشرے کے ہر فرد میں امانت، دیانت،صداقت، انصاف، خدمت، ایثار، قانون کی پاسداری اور اجتماعی خیر خواہی کا جذبہ پیدا ہو جاتا ہے تو ریاست خود بخود مضبوط ہونے لگتی ہے- یہی ملی بیداری پاکستان میں استحکام، معاشی ترقی اور سماجی ہم آہنگی کی بنیاد بن سکتی ہے-
یہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ پاکستان کا قیام محض ایک سیاسی واقعہ نہیں بلکہ ایک فکری ونظریاتی جدوجہد کا نتیجہ تھا جس کی روح اسلامی اصولوں پہ مبنی تھی - لہٰذا سیرت طیبہ (ﷺ) نہ صرف ہماری دینی وایمانی ضرورت ہے بلکہ ہمارے قومی تشخص اور ریاستی فکر کا بھی بنیادی سرچشمہ ہے-بانیان ِ پاکستان نے بھی ایک ایسی ریاست کا تصور پیش کیا تھا جہاں قانون کی حکمرانی، مذہبی رواداری، قومی یکجہتی، مساوات اور انسانی وقار کو بنیادی حیثیت حاصل ہو-
آج ہمیں اپنی نوجوان نسل میں مطالعۂ سیرت کو محض روایتی مضمون کے بجائے قیادت، کردار سازی، سماجی انصاف، قومی یکجہتی و قومی تعمیر کے عملی ماڈل کے طور پر پیش کیا جائے- اسی طرح علمی و تحقیقی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیرتِ طیبہ(ﷺ)کے اصولوں کو جدید قومی و ریاستی مسائل کے تناظر میں ازسرِ نو مرتب کریں تاکہ نئی نسل انہیں محض تاریخی واقعات نہیں بلکہ عصرِ حاضر کے قابلِ عمل حل کے طور پر سمجھے-یہی وہ منبعِ ہدایت ہے جو قوموں کو انتشار سے اتحاد، مایوسی سے امید،زوال سے عروج کی طرف لے جاتا ہے-
|
لوٹ جا عہدِ نبی (ﷺ) کی سمت رفتارِ جہاں! |
|
پھر میری پسماندگی کو ارتقاء درکار ہے |