اقتباس

اقتباس

  اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

وَاعْبُدْ رَبَّکَ حَتّٰی یَاْتِیَکَ الْیَقِیْنُ o (الحجر:۹۹)

اور اللہ کی عبادت ایسے کرو یہاں تک کہ تمہیں مرتبۂ یقین نصیب ہوجائے –

   رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

عَنْ اَبِیْ یَزِیْدَ الْمَدَنِیِّ قَالَ کَانَ مِنْ دُعَآئِ اَبِیْ بَکْرِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ’’ اَللّٰھُمَّ ھَبْ لِیْ اِیْمَانًا وَّ یَقِیْنًا وَّ مُعَافَاۃً وَّ نِیَّۃً‘‘

(موسوعۃ رسائل ابن ابی الدنیا، جلد:۳، ص:۱۶۳، ۱۶۲،دارالکتب العلمیہ بیروت)

حضر ت ابو یزید مدنی سے روایت ہے فرمایا کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی دعائوں میں سے یہ ایک دعا تھی کہ اے اللہ مجھے ایمان اور یقین عطا فرما، اور صحت و نیت عطا فرما-‘‘

   فرمان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ :

 ذکر ِقلب وہ ہے کہ جس میں قلب اپنے ضمیر میںاللہ تعالیٰ کے جمال و جلال کا مشاہدہ کرتا ہے - ذکر ِروح وہ ہے کہ جس کا نتیجہ صفاتِ الٰہیہ کے انوارو تجلیات کا مشاہدہ ہے -ذکر ِ سِرّ وہ مراقبہ ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ عم نوالہٗ کے اسرار منکشف ہوتے ہیں - ذکر ِخفی وہ ہے کہ جس میں عظیم قدرت والے شہنشاہ کے رو برو مجلسِ صدق میں بیٹھ کر انوارِ جمالِ ذاتِ  احدیت جل جلالہٗ کا معائنہ کیا جاتا ہے اور ذکر ِاخفی الخفی وہ ہے کہ جس میں حق الیقین کی آنکھ سے اللہ تعالیٰ کی اُس حقیقت کو دیکھا جاتا ہے کہ جس سے اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی آگاہ نہیں جیسا کہ فرمانِ حق تعالیٰ ہے -:’’ اللہ تعالیٰ جانتا ہے مخفی بھید کو بلکہ اُس سے بھی زیادہ مخفی اسرار کو ‘‘- یہ ذکر جملہ علوم کی غایت اور جملہ مقاصد کی انتہا ہے -  (سرالاسرار: ۴۰)

   فرمان سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ:

یقیں  دانم  درین عالم لا معبود الا ھُو

ولا موجود فی الکونین ولا مقصود الا ھُو

چون تیغِ لا بدست آری بیا تنہا چہ غم داری

مجو از غیرِ حق یاری کہ لا فتاح الا ھُو

بہ لا لالاہمہ لا کن بگو اللّٰہ واللّٰہ جو

نظر خود سوئے وحدت کن کہ لا مطلوب الا ھُو

   فرمان قائداعظم محمد علی جناح ؒ:

ایمان ، اتحاد ، تنظیم

پنجاب لیگ کونسل کے اراکین اور کارکنوں سے خطاب

میرے ذہن میں کوئی شک نہیں ، کوئی شک نہیں کہ ہم زبردست کامیابی حاصل کریں گے بشرطیکہ آپ متحد اور منظم رہے اور اِس جدو جہد پر بلا ہچکچاہٹ بے خوفی اور دلیری سے یقین رکھا- (لاہور: ۲۲مارچ ۱۹۴۶ء )

  فرمان علامہ محمد اقبال ؒ: 

یقیں افراد کا سرمایۂ تعمیرِ مِلّت ہے

یہی قُوّت ہے جو صُورت گرِ تقدیرِ مِلّت ہے

جب اِس انگارۂ خاکی میں ہوتا ہے یقیں پیدا

تو کرلیتا ہے یہ بال و پرِ رُوح الامیں پیدا (بانگِ درا)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر