دستک: شہیدِ کربلا کا نظریہ:’’ اَقدار ، اِقتدار سے مقدم ہیں‘‘

دستک: شہیدِ کربلا کا نظریہ:’’ اَقدار ، اِقتدار سے مقدم ہیں‘‘

دستک: شہیدِ کربلا کا نظریہ:’’ اَقدار ، اِقتدار سے مقدم ہیں‘‘

مصنف: جون 2026

شہیدِ کربلا کا نظریہ:’’ اَقدار ، اِقتدار سے مقدم ہیں‘‘ 

کربلا کے عظیم سانحے کو محض ’’دو شہزادوں کی سیاسی جنگ‘‘ قرار دینا تاریخ کی بدترین فکری بددیانتی اور سطحی سوچ کا نتیجہ ہے-   اگر ہم اس واقعہ کو اخلاقی عدسے سے دیکھیں، تو یہ اقتدار کی نہیں بلکہ اقدار کی جنگ تھی-   سچ اور جھوٹ، یا عدل اور ظلم کے درمیان کوئی درمیانی راستہ (Grey Area) نہیں ہوتا، کچھ افعال اپنے جوہر میں ہی باطل ہوتے ہیں- سیدنا امام حسین(رضی اللہ عنہ) کا انکار کسی ذاتی انا یا سیاسی مفاد پر مبنی نہیں تھا، بلکہ اس قطعی اور اٹل سچائی پر استوار تھا کہ ایک فاسق و فاجر اور ملوکیت پسند نظام کو تسلیم کرنا بذاتِ خود ایک عظیم اخلاقی جرم ہے- یہ وہ مقام تھا جہاں صوفیائے کرام کے بقول، مصلحت اندیش عقل نے عشقِ الٰہی کے سامنے ہتھیار ڈال دیے-   امام عالی مقام کا یہ قدم اس بات کا اعلان تھا کہ جب حق اور باطل کا ٹکراؤ ہو، تو حق کو تخت کی نہیں، بلکہ سچائی کی بقا کی فکر ہوتی ہے-   لہٰذا یہ کسی تخت کے حصول کے لیے دو شہزادوں کا تصادم نہیں تھا، بلکہ ایک ابدی اور مطلق سچائی کا ایک عارضی اور کھوکھلے باطل کے خلاف اعلانِ جنگ تھا- 

اصل قیادت وہ نہیں جو صرف حکومت حاصل کر لے، بلکہ وہ ہے جو طاقت کو اخلاق کے تابع رکھے-   یزیدی تصورِ قیادت میں اقتدار اصل تھا اور اخلاق اس کے تابع جبکہ حسینی تصورِ قیادت میں اخلاق اصل تھا اور اقتدار اس کے تابع-   یہی وجہ ہے کہ کربلا دو شہزادوں کی جنگ نہیں، دو اخلاقی نظریات کا تصادم تھی -   ایک نظریہ کہ طاقت مل جائے تو اطاعت لازم کر دی جائے، دوسرا نظریہ کہ طاقت اگر عدل، دیانت، شریعت اور انسانی حرمت سے خالی ہو جائے تو اس کے سامنے کلمۂ حق کہنا دین کی امانت ہے-   اہلِ سنت کے مسلمہ مزاج میں حضرت امام حسینؓ مظلوم، برحق، سید الشہداء اور رسول اللہ (ﷺ) کے محبوب نواسے ہیں، ان کے مقابل کھڑی قوت کو اخلاقی طور پر normalize کرنا نہ علمی دیانت ہے، نہ دینی ادب، نہ تاریخی انصاف-   کربلا کا خلاصہ یہی ہے کہ فتح کبھی لشکر کی گنتی سے نہیں ہوتی، کبھی ایک مظلوم قافلہ پوری انسانیت کو یہ سکھا جاتا ہے کہ اصول پر مر جانا، اصول بیچ کر زندہ رہنے سے بلند تر ہے  -

علم الاخلاق کے مسلمہ اصولوں کی روشنی میں کربلا کا معرکہ انسانی ضمیر کی بیداری کا سب سے طاقتور استعارہ ہے-   ایک دنیاوی شہزادہ ہمیشہ زمین، وسائل اور اقتدار پر قبضے کے لیے فوج کشی کرتا ہے، لیکن امام حسین(رضی اللہ عنہ) کا سفر قبضے کے لیے نہیں، بلکہ غاصبانہ اور غیر اخلاقی حکمرانی کے خلاف ایک اصولی اور پرامن مزاحمت تھی-   آپؓ کا یہ تاریخی جملہ کہ ’’مجھ جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا‘‘ دراصل اس نظریے کی دلیل ہے کہ جب ریاست کا ڈھانچہ جبر، ظلم اور اخلاقی گراوٹ پر استوار ہو جائے، تو اس کے سامنے سینہ سپر ہونا ہر صاحبِ ایمان کا بنیادی فریضہ بن جاتا ہے-   آپؓ کی اس مزاحمت نے دنیا کو سکھایا کہ ظالم کی طاقت کے سامنے خاموش رہنا ظلم کی خاموش تائید ہےاور سچی اخلاقی مزاحمت وہ ہے جو مادی نتائج کی پرواہ کیے بغیر صرف اس لیے کی جائے تاکہ انسانیت کا اخلاقی توازن اور دین کا اصل ڈھانچہ مسخ ہونے سے بچ جائے-

اگر کربلا کے اس عظیم معرکے کو  علم الاخلاق کے جدید اور قدیم معیارات پر پرکھا جائے، تو یہ کھوکھلا دعویٰ یکسر زمین بوس ہو جاتا ہے کہ یہ تخت و تاج کی لڑائی تھی-   ایک شہزادہ جب جنگ کے لیے نکلتا ہے تو اپنے ہمراہ جنگجو، اسلحہ اور لشکر لے کر جاتا ہے، جبکہ امام حسینؓ کے کارواں میں خواتین، معصوم بچے اور بوڑھے شامل تھے جو اس بات کا حتمی اور ناقابلِ تردید ثبوت ہے کہ آپ کا مقصد اقتدار چھیننا نہیں، بلکہ دینِ مصطفیٰ (ﷺ) کی اصل روح کو اپنے خون سے سینچنا تھا-   اصولی قیادت ہمیشہ اپنے ذاتی مفاد اور جان کو نظریے پر قربان کرتی ہے جبکہ سیاسی اور ملوکیت پسند قیادت نظریے کو مفاد پر قربان کرتی ہے-   سیدنا امام حسین(رضی اللہ عنہ) نے اپنا سب کچھ لٹا کر یہ ثابت کر دیا کہ حقیقی قیادت وہ ہے جو اصولوں پر سودے بازی نہ کرے-   کربلا کے میدان میں فتح یزید کے خیمے میں نہیں گئی، بلکہ امام حسینؓ کے کٹے ہوئے سر کے ساتھ نیزے کی نوک پر مسکراتی رہی اور یہی وہ برحق نظریہ ہے جس نے ثابت کیا کہ یہ دو افراد کی نہیں بلکہ دو متصادم سوچوں کی جنگ تھی، جس میں ابدی بقا اور حقیقی فتح صرف حسینی نظریے کا مقدر بنی- 

اگر موجودہ دور کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ آج کی دنیا بھی ایک نئے انداز کی یزیدیت کے نرغے میں ہے- فرق صرف اتنا ہے کہ ظلم و استبداد کی صورتیں بدل چکی ہیں- اب ظالم اپنا ظلم صرف تلوار اور لشکر کے ذریعے نہیں ڈھاتا بلکہ میڈیا، معیشت، سیاست، ثقافتی اور فکری یلغار کے ذریعے بھی انسان کے شعور پر قبضہ کر کے اپنے مقاصد حاصل کرتا ہے جسے ففتھ جنریشن وار فیئر کہا جاتا ہے- اس جنگ میں میڈیا خواہ وہ روایتی ہو یا سوشل، رائے سازی کا سب سے بڑا ہتھیار بن چکا ہے-کہیں اپنے خیالات کو ’’بیانیہ‘‘ بنا کر پیش کیا جارہا ہے تو کہیں جھوٹ کو ’’حکمتِ عملی‘‘ کا نام دیا جا رہا ہے جبکہ انسانی اقدار کو مارکیٹ ویلیو کے مطابق ناپا جا رہا ہے- ’’سائنس‘‘میگزین میں شائع ہونے والے ایم آئی ٹی میڈیا لیب (MIT Media Lab) کے تجزیے کے مطابق، معلومات کی مختلف اقسام میں جھوٹی خبریں سچ کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ دور تک، تیزی سے اور بڑے پیمانے پر پھیلیں حتیٰ کہ خودکار اکاؤنٹس کو ہٹانے کے بعد بھی یہ رجحان برقرار رہا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسانی رویہ ہی ان معلومات کو پھیلانے کا اصل محرک ہے-

فیک نیوز کے انسانی زندگی پہ بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں- عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، ویکسینز نے گزشتہ 50 سالوں میں 15 کروڑ سے زائد انسانی جانیں بچائی ہیں، تاہم صرف 2024 میں 1 کروڑ 45 لاکھ شیر خوار بچے ضروری حفاظتی ٹیکوں سے محروم رہ گئے، جس کی ایک بڑی وجہ ویکسین کے بارے میں پھیلی غلط معلومات کو قرار دیا گیا ہے- یونیورسٹی آف بالٹیمور اور 'CHEQ' کی ایک تحقیق کے مطابق، غلط معلومات (ڈس انفارمیشن) سے عالمی معیشت کو سالانہ تقریباً 78 ارب ڈالر کا نقصان پہنچ رہا ہے، جس میں اسٹاک مارکیٹ میں ہونے والا 39 ارب ڈالر کا نقصان بھی شامل ہے- ایسے ماحول میں اسوۂ شبیریؓ محض مذہبی عقیدت کا استعارہ نہیں بلکہ حریتِ فکر ، اخلاقی خودمختاری اور انسانی وقار کے تحفظ کےلیے زندہ منشور کی حیثیت رکھتا ہے-

پاکستان سمیت پوری اُمتِ مسلمہ آج جن شدید بحرانوں سے دوچار ہے وہ محض سیاسی یا معاشی نوعیت کے نہیں بلکہ بنیادی طور پر فکری، اخلاقی، تہذیبی اور ہمہ گیر بحران ہیں- فرقہ واریت، داخلی انتشار، بدعنوانی، ناانصافی، عدم برداشت، شدت پسندی، فکری و روحانی غلامی اور اجتماعی بے حسی نے اُمت کو کمزور کر دیا ہے- وفا نیوز ایجنسی کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 72,737 ہو چکی ہے ، جبکہ اس تنازع میں اب تک کل 172,539 افراد زخمی ہوئے ہیں- 18 لاکھ سے زائد فلسطینی اپنے گھروں سے دربدر ہوچکے ہیں- غزہ میں بہت بڑا انسانی بحران ہے لیکن اسلامی دنیا محض خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے- مسلم دنیا وسائل رکھنے کے باوجود قیادت، اتحاد اور فکری خودمختاری سے محروم دکھائی دیتی ہے- اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اسوۂ شبیریؓ کو عمل کی بجائے محض رسم و عقیدت تک محدود کر دیا ہے -اگر کوئی کردار آج بھی پوری آب و تاب کے ساتھ انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے تو وہ سیدنا امام حسین(رضی اللہ عنہ) کی شخصیت ہے-

 بطورِ مسلمان ہم پہ لازم ہے کہ اسوۂ شبیریؓ کو نہ صرف اپنے ذاتی بلکہ اجتماعی کردار، قومی و سماجی رویّوں اور عملی زندگی کا حصہ بنائیں- ہمیں اپنے معاشرے سے ظلم و استحصال، بد عنوانی ، ناانصافی، فرقہ واریت، نفرت و شدت پسندی اور اخلاقی و روحانی انحطاط کی ان تمام صورتوں کا مقابلہ کرنا ہوگا جو جدید یزیدیت کی شکل اختیار کر چکی ہیں-

بقول حکیم الاُمت علامہ محمد اقبالؒ:

موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید

 

ایں دو قوّت از حیات آید پدید

موسیٰؑ اور فرعون، شبیرؓ اور یزید یہ دو قوّتیں ہیں جو زندگی سے ظاہر ہوئیں- اِن میں سے حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت امام حسین ؓ حق کے علمدار تھے- فرعون اور یزید نے باطِل کی پاسداری کی- دونوں قوّتیں ابتداء سے چلی آتی ہیں اور اِن کے درمیان کشمکش بھی ہوتی رہی ہے-

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر