نما ز تسبیح ،نماز اشراق وچاشت اور نماز حاجت کے فضائل ومسائل

نما ز تسبیح ،نماز اشراق وچاشت  اور نماز حاجت کے فضائل ومسائل

نما ز تسبیح ،نماز اشراق وچاشت اور نماز حاجت کے فضائل ومسائل

مصنف: مفتی محمد اسماعیل خان نیازی اکتوبر 2026

صلوٰۃُ التسبیح کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا ومغفرت طلب کرنا، دل کو ذکر سے روشن کرنا ہے - اس نماز کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں کثرت کے ساتھ مخصوص تسبیح پڑھی جاتی ہے، اسی نسبت سے اسے صلوٰۃُ التسبیح کہا جاتا ہے-یہ نماز رسول اللہ(ﷺ) نے اپنے چچا حضرت عباس بن عبد المطلب کوبطورتحفہ وعطیہ دیتے ہوئے ارشادفرمایا: اے عباس! اے میرے چچا! کیا میں آپ کو(ایک قیمتی تحفہ) عطا نہ کروں؟ کیا میں آپ کوہدیہ نہ دوں؟ کیا میں آپ کے ساتھ احسان نہ کروں؟ کیا میں آپ کو دس کام اور دس خصلتیں نہ بتاؤں (یعنی آپ کو ایک ایسا عمل بتاؤں جس سے آپ کو دس عظیم الشان منفعتیں حاصل ہوں، وہ ایسا عمل ہے کہ) جب آپ یہ عمل کریں گے تو اللہ تعالیٰ آپ کے گناہوں کی بخشش فرما دے گا، اگلے بھی اور پچھلے بھی، پرانے بھی اور نئے بھی، بھول چوک سے ہونے والے بھی اور دانستہ ہونے والے بھی، صغیرہ بھی اور کبیرہ بھی، ڈھکے چھپے بھی اور اعلانیہ ہونے والے بھی (گناہ معاف فرمادے گا)-وہ دس خصلتیں یہ ہیں کہ آپ چار رکعت نماز پڑھیں- ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور ایک سورت پڑھیں- پس جب آپ پہلی رکعت میں قرأت سے فارغ ہو جائیں تو کھڑے ہوئے پندرہ مرتبہ پڑھیں:’’سُبْحَانَ اللهِ، وَ الْحَمْدُ لِلهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَر‘‘، پھر رکوع کریں اور رکوع کی حالت میں اسے دس مرتبہ پڑھیں - پھر رکوع سے اپنا سر اٹھائیں اور اسے دس مرتبہ پڑھیں - پھر سجدے میں جائیں اور سجدے کی حالت میں اسے دس مرتبہ پڑھیں - پھر سجدے سے اپنا سر اٹھائیں اور اسے دس مرتبہ پڑھیں - پھر سجدہ کریں اور اسے دس مرتبہ کہیں- پھر اپنا سر اٹھائیں اور اسے دس مرتبہ کہیں-پس یہ ہر رکعت میں 75 مرتبہ ہوگا، اور آپ یہ عمل چار رکعتوں میں کریں- اگر آپ سے ہو سکے تو روزانہ یہ نماز پڑھا کریں اور اگر روزانہ نہ پڑھ سکیں تو ہر جمعہ کے دن پڑھ لیا کریں اور اگر آپ یہ بھی نہ کر سکیں تو سال میں ایک دفعہ پڑھ لیا کریں اور اگر یہ بھی نہ ہو سکے تو کم از کم زندگی میں ایک بار ہی پڑھ لیں-[1]

پڑھنے کا طریقہ:

اس حدیث پاک کی روشنی میں چاررکعات صلوٰۃ التسبیح کاطریقہ کچھ یوں ہے کہ نمازی نیت باندھ کرپہلی رکعت میں کھڑےہوکرثناء،تعوذ،تسمیہ،سورۂ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھنےکےبعد رکوع میں جانے سے پہلے 15 مرتبہ یہ تسبیح پڑھیں’’سُبْحَانَ اللهِ، وَ الْحَمْدُ لِلهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَر‘‘، پھررکوع میں’’سُبحَانَ رَبِّيَ الْعَظِیْم‘‘کےبعد10 مرتبہ تسبیح پڑھیں، پھرقومہ میں ’’سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہٗ، رَبَّنَا لَکَ الْحَمدُ‘‘ کے بعد 10 مرتبہ تسبیح پڑھیں، پھر پہلے سجدہ میں ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الاَعلٰی‘‘ کے بعد 10مرتبہ پڑھیں، پھر پہلے سجدہ سے اٹھ کر جلسہ میں 10 مرتبہ، پھر دوسرےسجدہ میں ’’سُبْحَانَ رَبِّیَ الاَعلٰی‘‘ کے بعد 10مرتبہ پڑھیں، پھردوسرےسجدےسےاٹھتےہوئے ’’اَللہُ اَکْبَرْ‘‘ کہہ کر بیٹھ جائیں اور 10مرتبہ تسبیح پڑھیں-پھر بغیر ’’اَللہُ اَکْبَرْ‘‘ کہے دوسری رکعت کیلئے کھڑے ہو جائیں پھر اسی طرح دوسری، تیسری اور چوتھی رکعت مکمل کریں-دوسری اور چوتھی رکعت کے قعدہ میں پہلے دس مرتبہ تسبیح پڑھیں اور پھر التحیات پڑھیں-اسی ترتیب سےچاروں رکعات میں تسبیح پڑھیں،اس طرح چاررکعات میں کل تسبیحات 300 مرتبہ ہوجائیں گی-

اسی طرح دوسرا طریقہ جوکہ ترمذی شریف کی روایت کی روشنی میں وہ کچھ یوں ہے ثناء کے بعد 15 مرتبہ تسبیح (سُبْحَانَ اللهِ، وَ الْحَمْدُ لِلهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَر‘‘) اس کے بعد تعوذ، تسمیہ،سورۃ الفاتحہ اور کوئی سورۃ پھر دس مرتبہ تسبیح رکوع میں دس مرتبہ قومہ میں دس مرتبہ پہلے سجدے میں دس مرتبہ جلسہ میں دس مرتبہ دوسرے سجدے میں-[2]اسی ترتیب سےباقی رکعات اداکریں دونوں طریقوں میں ہررکعت میں 75 مرتبہ اور چار رکعتوں میں کل 300 مرتبہ یہ تسبیحات ادا کی جائیں گی- مزید یہ کہ یہ دونوں طریقےاحادیث مبارکہ کی روشنی میں ہیں،جوطریقہ آسان معلوم ہواس کواختیارکیاجائے- نیز اس نماز کا کوئی خاص وقت نہیں ،اسےمکروہ اوقات کے علاوہ جب بھی ہوسکے پڑھ سکتے ہیں-

ان احادیث مبارکہ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے نمازِ تسبیح ایک عظیم نفلی عبادت ہے -اس نماز کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ اس کے ذریعے اللہ پاک بندے کے دس قسم کے گناہ معاف فرمادیتے ہیں:(1) اگلے، (2) پچھلے، (3) پرانے، (4) نئے، (5) غلطی سے کیے گئے، (6) جان بوجھ کر کیے گئے، (7) چھپے، (8) ظاہر، (9) چھوٹے اور (10) بڑے گناہ-علماء کرام نے لکھا کہ اگر انسان کے گناہ ریت کے ذروں، سمندر کی جھاگ، ستاروں یا بارش کے قطروں سے بھی زیادہ ہوں تو بھی اللہ تعالیٰ اس نماز کی برکت سے معاف فرمادیتا ہے لیکن یادرہے حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق صرف بندوں سے معافی مانگنے سے ہی معاف ہوں گے، نمازِ تسبیح ان کا کفارہ نہیں-

صلوٰۃ التسبیح میں بھول:

 اگر صلوۃ التسبیح میں بھول سے تسبیح کم ہو جائے تب بھی نماز ہو جائے گی ، جان بوجھ کر زیادہ تسبیح پڑھنے کی کوشش نہ کریں، تسبیح کی جتنی تعداد بتائی گئی ہے اتنی ہی بار پڑھا کریں، اگر کبھی کسی رکن یا رکعت میں تعداد بھول سے کم ہو جائے تو گمان غالب پر عمل کرتے ہوئے جتنی تسبیح باقی رہ جائے اسے اسی وقت مکمل کرلیں اور یقین و اطمینان ہو جائے کہ تسبیح کی تعداد مکمل ہوگئی ہے تو چھوڑ دیں، زیادہ پڑھنے کی ضرورت نہیں-مزید یہ کہ اگر کسی مقام پر تسبیح پڑھنا بھول گیا اور اگلے رکن میں پہنچ گیا تو وہیں اس کو پورا کرے یعنی اگر کسی جگہ بھول کر دس بار سے کم پڑھی ہیں تو دوسری جگہ پڑھ لے کہ وہ مقدار پوری ہو جائے اور بہتر یہ ہے کہ اس کے بعد جو دوسرا موقع تسبیح کا آئے وہیں پڑھ لے مثلا قومہ کی سجدہ میں کہے اور رکوع میں بھولا تو اسے بھی سجدہ ہی میں کہے بہتر ہے کہ وہ مقدار قومہ میں پوری نہ کرے کہ قومہ کی مقدار تھوڑی ہوتی ہے اور پہلے سجدہ میں بھولا تو دوسرے سجدہ میں پوری کرے جلسہ میں نہیں اوراگر سجدہ سہو واجب ہو اور سجدے کرے تو ان دونوں میں تسبیحات نہ پڑھی جائیں- اسی طرح تسبیحات کی مقدار کو تو دل میں شمار کرے ورنہ اُنگلیاں دبا کرشمارکر لے -

نمازِ اشراق وچاشت:

نماز صرف فرض نمازوں کا نام نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مقبول بندوں کے لیے نوافل کے ایسے دروازے بھی کھولے ہیں جن کے ذریعے بندہ فرض عبادات کے ساتھ ساتھ اپنے رب کا مزید قرب حاصل کرتا ہے- انہی عظیم نوافل میں نمازِ اشراق اور نمازِ چاشت شامل ہیں- سورج طلوع ہونے کے فوراً بعد نماز پڑھنا جائز نہیں- سورج طلوع ہونے کے بعد جب وہ کچھ بلند ہوجائے اور مکروہ وقت ختم ہوجائے تو نفل نماز پڑھی جاتی ہے-عام طور پر ہمارے ہاں اس ابتدائی وقت میں پڑھی جانے والی دو رکعت کو نمازِ اشراق کہا جاتا ہے-حضرت انس بن مالک سےمروی ہے کہ سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا:

’’جس نے فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی، پھر سورج طلوع ہونے تک اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتا بیٹھا رہا، پھر دو رکعتیں پڑھیں، اس کے لیے ایک حج اور ایک عمرہ کے برابر اجر ہے؛ مکمل، مکمل، مکمل‘‘- [3]

اس طرح چاشت کے بارے میں حضرت ابوذر (رضی اللہ عنہ) سےروایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ)نےارشاد فرمایا:

’’تم پر تمہارے جسم کے ہر جوڑ پر روزانہ صدقہ لازم ہے- پس ہر تسبیح صدقہ ہے، ہر تحمید صدقہ ہے، ہر تہلیل صدقہ ہے، ہر تکبیر صدقہ ہے، نیکی کا حکم دینا صدقہ ہے، برائی سے روکنا صدقہ ہے، اور ان سب کی جگہ دو رکعت نمازِ ضحٰی (چاشت کی نماز) کافی ہو جاتی ہیں‘‘-[4]

یہ حدیث مبارک ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ روزانہ کے اعمالِ خیر، چاہے وہ ذکرِ الٰہی ہو یا نیکی کی دعوت، سب صدقہ شمار ہوتے ہیں- اگر کوئی شخص یہ سب نہ کر سکے تو کم از کم نمازِ ضحٰی (چاشت کی نماز)کی دو رکعت ادا کر کے اس ذمہ داری کو پورا کر سکتا ہے-سوچیے، ہمارے جسم میں کتنے جوڑ ہیں!ہر جوڑ کی طرف سے صدقہ مطلوب ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ایسی عبادت عطا فرمائی کہ چاشت کی صرف دو رکعتیں اس ذمہ داری کی طرف سے کفایت کر جاتی ہیں-

یہ نماز صرف نفل نہیں ،یہ اپنے پورے جسم کی طرف سے شکرانے کا تحفہ ہے-اشراق اور چاشت دو الگ الگ نمازیں ہیں ،اشراق کی رکعتیں کم از کم دو اور چار ،زیادہ سے زیادہ چھ ہیں، جبکہ چاشت کی کم از کم دو، زیادہ سے زیادہ بارہ رکعت ہیں -اشراق اور چاشت دونوں کا وقت سورج نکلنے کے 10 منٹ بعد سے زوال سے پہلے تک ہے-افضل وقت اشراق کاسورج نکلنے کے 15-20 منٹ بعدہےاور چاشت کا چوتھائی دن گزرنے کے بعدہے، یعنی اگر طلوع سے زوال تک 6 گھنٹے ہوں تو ڈیڑھ گھنٹے بعد سے زوال تک کا وقت ہے، چونکہ دونوں کا وقت ایک ہی ہے، اس لیے ایک ساتھ بھی پڑھی جا سکتی ہیں، مگر بہتر یہ ہے کہ ہر ایک کو اس کے افضل وقت پر اداکیا جائے-

نماز حاجت:

انسان کو زندگی میں کئی مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے کبھی بیماری، کبھی تنگ دستی، کبھی اولاد کا مسئلہ، کبھی روزگار، کبھی گھر کا مسئلہ، کبھی دل کی پریشانی اور کبھی ایسی آزمائش جس کا حل انسان کی اپنی طاقت سے باہر ہوتا ہے تو اسلام نے ان معاملات میں بھی انسان کی راہنمائی فرمائی یہاں دو مستند روایت پیش کرتے ہیں:

’’حضرت عثمان بن حنَیف سے مروی ہے کہ ایک نابینا شخص نے بارگاہ رسالت مآب (ﷺ) میں حاضر ہو کرعرض کی: یارسول اللہ (ﷺ) اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے (اس مصیبت سے) نجات عطا فرمائے- آپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: اگر تو چاہے تو میں تیرے حق میں (اس دعا کو) مؤخر کر دوں اور وہ تیرے لیے بہتر ہے اور اگر تو چاہے تو میں تیرے حق میں دعا کروں ؟اس نے عرض کی : (یارسول اللہ (ﷺ)جناب دعا فرمائیں - پس رسول اللہ (ﷺ) نے اسے حکم فرمایا کہ وہ اچھی طرح وضو کرے اور دو رکعت نماز ادا کرے اور یہ دعا مانگے:

’’اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُكَ، وَأَتَوَجَّهُ إِلَيْكَ بِمُحَمَّدٍ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، يَا مُحَمَّدُ إِنِّيْ قَدْ تَوَجَّهْتُ بِكَ إِلٰى رَبِّيْ فِيْ حَاجَتِيْ هٰذِهٖ لِتُقْضٰى، اَللّٰهُمَّ فَشَفِّعْهٗ فِيَّ‘‘[5]

’’اے اللہ ! میں تیری بارگاہ میں سوال کرتا ہوں اور میں نبی رحمت حضرت محمد مصطفٰے (ﷺ) کے واسطے سے تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، یا محمد( ﷺ) میں اس ضرورت میں اپنےرب کی بارگاہ میں آپ(ﷺ) کو وسیلہ پیش کرتا ہوں تا کہ اس ضرورت کو پورا کیا جائے ، اے اللہ ! میرے حق میں آپ(ﷺ) کی شفاعت کو قبول فرما‘‘-

اس حدیث مبارک کی روشنی میں صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) کے معمولات مبارکہ پہ غور فرمائیں کہ ایک صحابی رسول (ﷺ) جس کی آنکھوں کی بینائی چلی گئی تھی اس کے دل کی چاہت تھی کی مجھے میری بینائی واپس ملےتو وہ خود بھی دعا کرسکتے تھے اور خانہ کعبہ بھی جاسکتے تھے اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں تھا لیکن اس نے درِ مصطفٰے (ﷺ) پہ دستک دینا مناسب سمجھا کیونکہ اسے معلوم تھا اس بارگاہ مبار ک میں دامن پھیلانے والا کبھی نامراد نہیں لوٹتا اور اللہ تعالیٰ اپنے محبوب مکرم (ﷺ) کی دعاؤں اور مناجات کو رد نہیں فرماتا اور میرے محبوب مکرم (ﷺ) کا یہ فیض اسی طرح آج بھی جاری وساری ہے پس بھیک مانگنے اوردامن پھیلانے کا ڈھنگ آنا چاہیے - 

اسی طرح سنن ترمذی میں حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’جس شخص کو اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت ہو، یا اللہ کی مخلوق میں سے کسی شخص سے کوئی حاجت ہو- اُسے چاہیے کہ وہ اچھی طرح وضو کرے پھر وہ دو رکعت نماز پڑھے - پھر وہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کرے اورسیدی رسول اللہ (ﷺ) کی ذاتِ اقدس پہ درود پاک پڑھے اوریہ کہے،حلیم و کریم اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، پاک ہے اللہ رب العزت جو عرشِ عظیم کا رب ہے تمام تعریفیں اللہ کیلئے ہیں، جو تمام جہانوں کا رب ہے -اے اللہ! میں تجھ سے تیری رحمت کے اسباب اور تیری مغفرت کے پختہ اسباب مانگتا ہوں اور ہر نیکی میں سے حصہ اور ہر گناہ سے سلامتی مانگتا ہوں-(میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ) میرے لیے کوئی گناہ باقی نہ چھوڑ مگر اسے بخش دے، کوئی غم باقی نہ چھوڑ مگر اسے دور فرما دےاور کوئی ایسی حاجت جو تیری رضا کے مطابق ہو، باقی نہ چھوڑ مگر اسے میرے لیے پورا فرما دے-اے سب سے زیادہ رحم فرمانے والے ‘‘- [6]

خلاصہ کلام :

 نماز تسبیح ہو ،نماز اشراق وچاشت ہو یا نمازِ حاجت یہ دراصل رجوع الی اللہ اور  ’’فَفِرُّوْٓا  اِلَی اللہِ‘‘ کا درس دیتی ہیں بالخصوص نماز حاجت اس بندۂ عاجز کی پکار ہے جو اپنی بے بسی کا اعتراف کرکے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں جھک جاتا ہے- جب دنیا کے سہارے کمزور پڑ جائیں، تدبیریں بے اثر دکھائی دیں اور دل کسی غیبی مدد کا منتظر ہو تو مؤمن کے لیے نماز اور دعا کا دروازہ کھلا رہتا ہے-نمازِ حاجت کی روایات ہمیں یہ درس دیتی ہیں کہ مانگنا ہو تو اللہ تعالیٰ ہی سے مانگو، مگر اس کے محبوب مکرم (ﷺ) کی بارگاہِ اقدس سے وابستگی اور آپ (ﷺ) کے وسیلۂ جلیلہ کو اختیار کرتے ہوئے  مانگو- حضرت عثمان بن حنیف کا واقعہ اس حقیقت کا نہایت ایمان افروز مظہر ہے کہ ایک صحابی اپنی حاجت لے کر بارگاہِ رسالت (ﷺ) میں حاضر ہوتے ہیں، حضور نبی کریم (ﷺ) انہیں نماز اور دعا کا طریقہ عطا فرماتے ہیں اور دعا میں اپنے محبوب (ﷺ) کا وسیلہ اختیار کرنا سکھاتے ہیں-یہ واقعہ ہمیں پکار پکار کر بتاتا ہے کہ اللہ والوں کا دامن پکڑ کر اللہ سے مانگنا مؤمن کی امید کو مضبوط کرتا ہے اور درِ مصطفٰے (ﷺ) سے وابستگی دل کی سب سے بڑی دولت ہے-لہٰذا مصیبت آئے تو گھبرانا نہیں، حاجت آئے تو مایوس نہیں ہونا، راستے بند ہوں تو امید نہیں چھوڑنی؛ وضو کرو، نمازِ حاجت پڑھو، درودِ پاک پڑھو، بارگاہِ الٰہی میں دستِ دعا بلند کرو اور حضور رحمتِ عالم( ﷺ)کے وسیلۂ جلیلہ سے اپنے رب کو پکارو-اور یقین رکھو جس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے جڑ جائے اور جس کا دامن مصطفے (ﷺ) کے وسیلے سے وابستہ ہو جائے، اس کیلئے کوئی حاجت بڑی نہیں، کوئی مصیبت ناقابلِ حل نہیں اور کوئی دروازہ اللہ کی رحمت سے بند نہیں-اللہ پاک ہم سب کے دامن کو رحمتِ مصطفٰے (ﷺ) سے بھردے -

٭٭٭


[1](سنن ابی داؤد،کتاب الصلوٰۃ ،بَابُ صَلَاةِ التَّسْبِيحِ،رقم الحدیث:1297)

[2](ماخوذ من سنن الترمذی، أَبْوَابُ الدَّعَوَاتِ عَنْ رَسُولِ اللہ(ﷺ)

[3](سنن الترمذي،أَبْوَابُ السَّفَرِ،بَابُ ذِكْرِ مَا يُسْتَحَبُّ مِنَ الجُلُوسِ فِي المَسْجِدِ بَعْدَ صَلَاةِ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ۔رقم الحدیث:586)

[4]( صحیح مسلم ، كِتَابُ صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا)

[5](سنن ابن ماجہ،بَابُ مَا جَاءَ فِي صَلَاةِ الْحَاجَةِ۔ رقم الحدیث 1385)

[6]( سُنن  الترمذی ، أَبْوَابُ الوِتْرِ،بَابُ مَا جَاءَ فِي صَلَاةِ الحَاجَةِ،رقم الحدیث:479۔)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر