اقبال اور حلاج

اقبال اور حلاج

اقبال پر لکھنے والے ابن حلاج پر معمولی یا بالکل توجہ نہیں دیتے رہے-مثلاً اقبالیات کا تنقیدی جائزہ(ص:135) میں اقبال اور ابن حلاج کے رابطے کی بالکل نفی کی گئی ہے مگر اقبال پر کام کرنے والے، سکالر بدیہی امور کا انکار کیسے روا رکھیں گے؟

حسین ابن منصور حلاج کا نام ،اکثر اپنے باپ منصور، کے نام سے مذکور ملتاہے - اس عاشق صوفی کا طنطنہ اور غلغلہ اناطولیہ سے برصغیرتک ہر کہیں موجود رہا - اس کے نعرہ ’’انا لحق ‘‘ کے ذریعے سب وصال بہ حق کی خواہش کا اظہار کرتے رہے اور اس کے انجام پر غور کرکے صوفیاء اس بات کی احتیاط کرتے رہے کہ اسرار و رموز ہر کہ و مہ کو نہ بتائے جائیں-صوفیاء کےہاں ابن حلاج کی دلچسپی بڑھتی گئی اور شعراء اور داستان گو اُس کے بارے میں حکایات وضع کرتے رہے مگر اس صدی میں جب لوئس مسینون (Louis Massignon) نے دو جلدوں میں ابن حلاج کے مستند حالات لکھے اور اس کی تصانیف شائع کیں، تو اس صوفی عاشق کی داستان شخصیت زیادہ حقیقی اوردل آ ویز بنی-

حسین ابن منصور جو اپنے پیشے کے اعتبار سے ’حلاج ‘ کہلاتاہے، اس کی ولادت اس سال ہوئی جس سال مصر کے معروف صوفی ذوالنون نے انتقال کیا تھا وہ اپنے آبائی علاقے ’فارس‘ سےبغداد گئے جو عباسیوں کے وسطی دور تک دینی اور صوفیانہ امور کا ایک اہم مرکز رہا ہے- یہاں حسن بصری کے ذریعے تصوف کا آغاز ہوا، رابعہ بصری نے زہد اور حُب خداوندی کے نظریات کو وسعت دی اور ابو حارث المحاسبی نے شریعت اور طریقت کو ایسا امتزاج دیا کہ انہیں امام محمد غزالی کا پیشرو بتایا جاتا ہے- یہیں عراق میں سری سقطی کا فروغ ہوا اور ان کے برادر زادے جنیدبغدادی کا بھی ،جنہوں نے فنا کا ہی نہیں،فنافی اللہ کا راگ الاپا اور اسے بقابااللہ سے ممتاز کیا- ابن حلاج ؒ شیخ جنید بغدادی ؒ کے مرید بنے لیکن ان دونوں کے درمیان بن نہ سکی بلکہ شیخ جنید نے ابن حلاج کو بُرا بھلا کہہ دیا - ابن حلاج کوئی ایک سال مکّہ رہے جہاں ان سے بعض کرامات ظاہر ہوئیں ،پھر آپ نے مشرق کا رخ اختیار کیا، برصغیر جنوبی ایشیا میں آئے تاکہ ’’یوگ‘‘ سیکھیں، پھر آپ ترکستان گئے - بغداد لوٹے تو 913ء میں انہیں نظر بند کر دیا گیا- علماء کے علاوہ بعض صوفیاء بھی ان پر کفر و الحاد کے الزام دھرنے لگے اور یہ بھی کہا جانے لگا کہ انتہا پسند شیعوں، قرمطیوں ، کے ساتھ ان کی ساز باز ہے اور اس گروہ کو سیاسی طور پر بے حد خطرناک سمجھا جاتا تھا- ابن حلاج کے معاصر صوفیہ، ابن خفیف شیرازی اور ابوعلی رودباری،کے سوا اس کے تصور’’ھو ھو‘‘ سے اتفاق نہ کر سکے اور نہ ’’انا الحق‘‘ کے وہ معانی سمجھ سکے-پہلے کلمات کا مفہوم یہ تھا کہ انسان رحمت خداوندی سے خدا کا شاہد زندہ بن جاتا ہے اور دوسرے کا یہ کہ انسان ایک تخلیق نما صداقت اور حقیقت ہے- یہ دوسرے الفاظ ایک بے خود اور فنا شدہ محب کا نعرہ مستانہ نہیں ہیں اور نہ ان میں “Monistic-Pantheistic” رحجانات مضمر ہیں -[1]

لوئس مسینون نے ابن حلاج کو تصّوفِ اسلامی کا نقطہ عروج بتایا ہے- فسادِ اخلاق رونما ہونے اور کلاسیکی تصوف کے زوال یافتہ ہونے کے بعد اس کے دورمیں تصوف نے ظاہری رسوم کو حقیقت کا جامہ دیا اور حُب خداوندی کی راہ میں مصائب اور مشکلات برداشت کرکے ابن حلاج نے حقیقی شاہد بننے کا ثبوت دیا، ایسا شاہد جو اس بات کی شہادت دیتا ہے کہ خدا ہی اسے محبت اور آرزوئے اظہا ر کی نعمتیں عطا کرتا ہے- ظاہر ہے یہ باتیں وحدت الوجود کے علی الرغم، وحدت الشہود کے نظریے کی اساس نظر آتی ہیں جبکہ مقدم الذکرنظریے پر یونانیت کے اثرات ہیں اور ابن عربی نے اسے زیادہ آب و تاب دی ہے -

ابن حلاج کی وفات کےبعد اس کے بارے میں افسانے اور داستانیں مشہور ہوتی رہیں،مگر جلد ہی اسے ایک محب حق مان لیا گیا اور ایک ایسا جری عاشق بھی جسے کوئی خوف و خطرہ اور حتی کہ صلیب (سولی) بھی اظہار حق سے باز نہ رکھ سکی-وہ ایک ایسا صوفی صافی تھا جس نے روحانی علو کی خاطر جان دے دی اور اپنے قطراتِ خون سے عشق و محبت کی فتح مند داستان ثبت کی-عطار ، ابن حلاج کے مصلوب ہونے کو معراج بتاتے ہیں اور رومی سرخ پھول کی شاخوں کو اس سے تشبیہ دیتے ہیں جبکہ برصغیر کے صوفیاء ( مثلاً دیکھیں شاہ عبد اللطیف بھٹائی کا رسالو شاہ جو ) صلیب ابن حلاج کو بستر عروسی قرار دیتے ہیں -

ابن حلاج کا واضح اثر شیخ عطار کی کتابوں میں پہلی بار مشہود ہوا، عطار اسے اپنا روحانی مرشد بتاتے ہیں اور ان کی وسیع پیمانے پر مقبول اور پڑھی جانے والی کتابوں کے ذریعے ابن حلاج فارسی ترکی اور اسلامی ہند کی شاعری میں راہ حق  میں مصائب برداشت کرنے والی ایک شخصیت کے طور پر متعارف ہو گئے-رومی کی غزلیات اور مثنوی میں بھی ابن حلاج کی تراکیب عیناً ملتی ہیں اور اس شہید محبت کا نعرہ ’’انا الحق‘‘ وہاں کئی توجیہات اور تعبیرات کے ساتھ مذکور ہے -تُرکی شاعروں کےابتدائی دور سے ہی ابن منصور کے ابتلاء  کی داستانیں دیکھی جاسکتی ہیں - ترک شاعر عماد الدین نسیمی (المتوفیٰ: 1417ء) نے ابن حلاج کے سوانح کو نظم کیا -بعد میں وہ بھی ملحدانہ خیالات ظاہر کرنے کے جُرم میں مصلوب ہوا اور اس نے بھی ’’نماز شہادت اداکرنے کے لیےاپنے خون سے وضو کیا ‘‘-

ایک دوسرا شاعر یونس ایمرے (المتوفیٰ:1321ء) ہے جو ابن حلاج کی اہمیت سے آگاہ ہوتا ہے اور تلاشِ حق میں ’’انا الحق‘‘ کی توجیہہ کرتے ہوئے وہ خود کو مثلِ ابن منصور کہنے لگتا ہے - ابن حلاج کی ابتلاء کی داستانیں تمام اسلامی ممالک میں معروف ہیں- مثلاً یہ بات کہ ابن حلاج کو سنگسار کیا جا رہا تھا اور اس وقت ان کے شاگرد ابوبکر شبلی نے ان پر گل باری کی اور ابن حلاج کو اس سے بھی سخت کوفت ہوئی تھی- اس داستان کو ترکی کے سولھویں صدی عیسوی کے شیعہ شاعر پیر سلطان عبدل نے لکھا ہے :

’’میں ان پتھروں سے نہیں زخمی ہوا جو مجھ پر پھینکے گئے البتہ ان پھولوں سے مجروح ہوں جو دوستوں نے گرائے ہیں- اقبال بھی ایک خط میں (اقبال نامہ ،ج: 2،  ص: 62) اس داستان کی طرف اشارہ کرتے ہیں - ترکی کے دھینے آج کل بھی ابن حلاج کی داستا نیں فخریہ انداز میں بیان کرتے رہتے ہیں ‘‘-

ابن حلاج کا نام متعارف نہ ہونے تک بھی قرون وسطیٰ کی مشرقی شاعری میں اس کی تصانیف کی علامات متداول رہی ہیں مثلاً شمع (محبوب) اور پروانے (عاشق) کی علامت جس سے گوئٹے بھی متاثر تھا - ابن حلاج کی کتاب ’’الطواسین‘‘ میں بڑے مؤثر انداز میں استعمال ہوئی ہے- جاویدنامہ میں اقبال نے طاہرہ کی زبان سے جو شعر کہلوائے ہیں وہ ابن حلاج کو ہی نہیں ‘ پروانے اور شمع کو بھی مجسم کر دیتاہے :

آخر از دار و رسن گیرد نصیب
بر نگردد زندہ از کوئے حبیب

’’آخرکار اس کا نصیب دار و رسن (پھانسی کا تختہ اور رسی) ہی بنتا ہے جو اپنے محبوب کی گلی سے گزر جائے، وہ زندہ واپس نہیں لوٹتا‘‘-

گزشتہ صدیوں کے دوران جہاں ابن حلاج کو ایک بے نظیر عاشق و محب تسلیم کیا گیا وہاں غلطی سے انہیں ’’پینتھی ازم‘‘  کا نمائندہ بھی بتایا جاتا رہا - دراصل ’’انا الحق‘‘ کو وصال و فنا  کا ایک اظہارِ بیان مانا جاتا رہا اور یہ قول صوفیاء کے حلقوں میں اس لئے زیادہ مقبول ہوا- شعراء نے بالخصوص اسے وصال بالحق کا بیان جانا اور اسے سلفی اسلامی عقائد کے مطابق ثابت کرتے رہے -

عظیم صوفی شاہ عبداللطیف بھٹائی مانیانہ انداز فکر سے کام لیتے ہوئے ابن حلاج کو آرزوئے حق کا ایک شرارہ بتاتے ہیں جو مادی دنیا میں محبوس اور دبا ہوا ہے -

اقبال بّرصغیر کے ماحول اور اردو، پنجابی اور فارسی زبانوں میں[2] موجود ابن حلاج کے بارے میں روایات و حکایات سے بخوبی آگاہ تھے،سید علی جلابی ہجویری ثم لاہوری (داتاگنج بخش) سے منسوب کتاب ’’منہاج الدین‘‘ میں ابن حلاج کے سوانح کافی تفصیل سے ملتے ہیں- 1907ء میں جب اقبال نے اپنا ڈاکٹر یٹ کا مقالہ لکھا تو وہ وحدت الوجود کی طرف مائل تھے اور ابن حلاج کا ذکریوں کرتے ہیں :

اس خیال کا اعادہ ،بظاہر منفی انداز میں، گلشن راز جدید میں بھی ملتا ہے :

دگر از شنکر و منصور کم گوے
خدا را ہم براہِ خویشتن جوے

’’شنکر اور منصور کی باتیں مزید کم کرو، اور خدا کو اپنے لیے خود تلاش کرو‘‘-

مگر یاد رہے کہ اقبال کے نزدیک حق اور خودی مترادف ہیں- لہذا ’’اناالحق ‘‘ کا مفہوم ان کے نزدیک یہ ہے کہ خودی حق ہے :

خودی را حق بدان باطل مپندار
 خودی را کشت بی حاصل مپندار

 ’’خودی کو حق سمجھو اور باطل کو باطل سمجھو-خودی کو بے فائدہ اور بے ثمر کھیتی نہ سمجھو‘‘-

اقبال نے اس موضوع پر بہت لکھا ہے کہ ’’انا الحق‘‘ خودی کی حقانیت کا اظہار تھا- ’’انا الحق‘‘ کہنے والا روحانی مراحل سُرعت سے طے کرتا ہے مگر ’’ہمہ اوست‘‘ کا قائل زمان ومکان کا غلام رہ جاتا ہے -

تحقیقی مقالہ لکھنے اور مندرجہ بالا شعر لکھنے کے درمیانی عرصے میں اقبال ابن حلاج کے بارے میں لوئس مسینون کی تحقیقات سے مستفید ہوئے -اس مستشرق نے 1914ء میں پیرس سے کتاب الطواسین شائع کروائی تھی اور اقبال 17 مئی 1916ء کے خط بنام مولانا اسلم جیراجپوری میں لکھتے ہیں کہ:

’’اس کتاب سے ابن حلاج کے بارے میں نئی معلومات ملتی ہیں اور کتاب مذکور کے حواشی بے حد مفید ہیں- یہ کتاب جس کا ذکر ابن حزم کی فہرست میں ہے، اس مصنف نےکتاب الملل میں جو کچھ ابن حلاج کے بارے میں لکھا ،اس کی تصدیق کرتی ہے -اقبال ابن حلاج کے سزایافتہ ہونے کو رواجانتے ہیں ،وہ لکھتے ہیں کہ غیر صوفیاء لوگوں کی اکثریت اس سے بیزار تھی مگر معلوم نہیں متاخرین اس کے اس قدردلدادہ کیوں ہوگئے ؟ [3]

ہمیں معلوم نہیں ابن حلاج کے بارے میں اقبال کا رویہ کیسے اور کب تبدیل ہوا البتہ جاوید نامہ اس تبدیلی کی تصویر پیش کرتا ہے - اس کتاب میں کتاب الطواسین کے زیر اثر شاعر فلک قمر پر طواسین انبیاء پیش کرتا ہے- کتاب ’’الطواسین ‘‘ میں نبوتِ حضرت محمد (ﷺ) کے اسرار و رموز بڑے والہانہ انداز میں بیان ہوئے ہیں-غالباً اسی مناسبت سے اقبال طاسین نبوت میں چار نبوتوں کےاسرار بیان کرتے ہیں-

لوئس مسینون نے کامیابی کے ساتھ ثابت کر دکھایا ہے کہ ابن حلاج کے دینی نقطہ نظر میں خدا کی خالص ماورائیت کا مکمل لحاظ ملتا ہے لیکن جب انسان عبادات اور روحانی ریاضتوں کے ذریعے اپنے دل کو پاک کرلے، تو ایسے مومن کے ہاں خدائی تجلیات کا وجود ایک امکانی عمل ہے- انسان اس لئے تخلیق ہوا کہ دنیا میں خدا کی محبت کو عام کرے ، اسی محبت نے اسے ازل سے ابد تک بقا دے رکھی ہے- خدا نے اسے اپنی صورت پاک پر پیدا کیا اور اس میں خدائی صفات رکھیں -

’’ھوھو‘‘ کا یہی مفہوم ہے اسی کے مطابق آدم کی اصل جو ہر یا روح بتائی جاتی ہے-ابن حلاج کہتا ہےکہ وصال حق سے صوفی کی شخصیت نہیں مٹتی بلکہ اس طرح وہ زیادہ کامل، مقدس، خداکی صفات کا حامل، آزاد اور فعال بن جاتا ہے- ابن حلاج کےتصورات، اقبال کے تصورات سے کس قدر اقرب ہیں-

ابن حلاج کے نزدیک خدا تخلیقی محبت اور اساس آرزو (عشق) ہے وہ ایک ایسی محبت کے ذریعے جو خود اسے بھی لاحق ہے، انسان کو قریب سے قریب تر لاتا رہتا ہے -جاوید نامہ میں اقبال یہ الفاظ ابن حلاج کے منہ سے اس لیے کہلواتے ہیں کہ وہ اس کے ہیں :

بے خلشہا زیستن، نا زیستن
باید آتش در تہ پا زیستن

’’بے چینی، درد اور تڑپ کے بغیر زندگی گزارنا، دراصل زندگی نہیں ہے- انسان کو اپنے اندر جدوجہد اور آگ لیے ہوئے زندگی گزارنی چاہیے‘‘-

معلوم نہیں ابن حلاج نے ’’انا الحق‘‘ کے کلمات اپنے مرشد جنید بغدادی کے سامنے کہے تھے کہ نہیں یہ کلمات ’’کتاب الطواسین‘‘کے باب ششم میں دیکھے جاسکتے ہیں-یہ ایسے قلب کے کلمات ہیں جسے یہ احساس تھا کہ روح ناطقہ خدا کی رحمت سے اس کی روح کےساتھ متصل ہوگئی ہے-بعد  کے مصلحین اور صوفیاء اس صورت حال کو ’’وحدت الشہود‘‘ کہتے رہے ہیں اور اس سے انسانی فطرت کو تقویت ملتی ہے -

متاخر صوفیاء ’’صوفی شہید ابن حلاج ‘‘ کے ’’انا الحق‘‘ کی مختلف تو جیہات کرتے رہے -بعض کے خیال میں ابن حلاج نے اپنی شخصیت کھودی تھی اور ایسا محسوس کیا تھا کہ خدا اس کے منہ سے بول رہا تھا -

امام محمد غزالی کے نزدیک یہ نعرہ ایک چھلاوہ تھا اور عام لوگوں کے سامنے ایسی بات کرنا خطرے سے خالی نہ تھا -

یہ عاشق کا ایک مبالغہ آمیز دعویٰ تھا کہ وہ محبوب کے ساتھ متصل ہوگیا ہے- دوسروں نے اسے خدا کے نام ’’الحق‘‘  کےساتھ قربت رکھنے کی بنا پر تنویر قلب کی صورت بتائی- محمد غزالی ’’مشکوۃ الانوار ‘‘میں لکھتے ہیں کہ :

’’جمالِ لایزال کے جلوے دیکھ کر شاید ابن حلاج نے ایسا کہا ہو‘‘-

عراق کے عظیم صوفی شیخ عبدالقادر گیلانی (المتوفیٰ: 1166ء) جو سلسلہ قادریہ کے بانی ہیں اور جن کے سلسلے میں اقبال نےبیعت کر رکھی تھی، نے انا الحق کی مندرجہ ذیل توضیح کی ہے :

’’ایک دن ایک عارف کی عقل نے اس کے درخت کی بیرونی سمت سے پرواز کی وہ افلاک میں پہنچی اور فرشتوں میں جاگھسی - یہ دنیا کے بازوں میں سے ایک باز تھی جس کی نگاہیں اس انسان پر جمی ہوئی تھیں جسے کمزور تخلیق کیا گیا ہے (القرآن 4:32) اسے افلاک میں کوئی ایسی چیز دکھائی نہ دی جسے وہ شکار کرسکتی - مگر شکار دیکھ کر وہ بولی: میں نے اپنے خداوند کو دیکھ لیا ہے، عارف حیرت زدہ تھا کہ اتنے میں اس کےمقصود نے کہا: تم جدھر بھی مڑو گے،ادھر اللہ کا چہرہ ہے (القرآن: 2:109) اس پر عارف نیچے اتر آیا تھا کہ اس چیز کی جستجو کرے تو زیر بحر آتش سے بھی زیادہ قیمتی ہے وہاں اس نے عقل پر توجہ کی کہ خداوند کے آثار و علامات ہی دیکھیں - وہ دنیا میں مارا مارا پھرا مگر محبوب سے زیادہ عمدہ چیز اسے میسر نہ آئی-اس حالت میں وہ مسرور ہوا اور ’’انالحق ‘‘ کا راگ الاپنے لگا مگر اولادآدم کے کان ایسے راگ سے ناآشنا تھے ،وہ اس راگ اور نغمے کی تکرار سے باز نہ رہا اور یہی اس کی موت کا موجب بنا‘‘ -

اس اقتباس میں پرندے کی تجسیم دلچسپ ہے- روز بہان بقلی نے اپنی شرح ’’شطحیات‘‘ میں ابن حلاج کو ’پرندگانِ محبت کا بادشاہ ‘‘ قرار دیا ہے اور شاید اس کے پیش نظر اقبال بھی جاوید نامہ کے فلک مشتری میں ابن حلاج کو پرندوں کی سی سیر دوام کرتے دکھاتےہیں:

ہر زمان دیدن تپیدن کارِ ماست
بے پر و بالے پریدن کارِ ماست

’’ہر لمحہ نئے امکانات اور نئی حقیقتوں کو دیکھنا اور مسلسل تڑپتے، کوشش کرتے رہنا ہمارا کام ہے اور بغیر پروں اور بال و پر کے بھی پرواز کرنا ہمارا شیوہ ہے‘‘-

عبدالقادرگیلانی بر محل فرماتے ہیں کہ من کا دلپذیر شکار تجلیات باری ہوتی ہیں -اقبال نے اپنی شاعری میں بھی یہ بات دہرائی ہے- ابن عربی البتہ ابن حلاج کے انا الحق کو ’’حق‘‘ سے مبّدل کر کے اپنے وحدت الوجودی مطالب نکالتے ہیں اور ان کے پیرو بھی انا الحق کا ایسا ہی مطلب بتاتے رہے ہیں کہ :

’’میں حق و صداقت ہوں اور میں مشہوداتِ عالم میں سرِّ خدا ہوں ‘‘-

اقبال کے معنوی مرشد رومی انا الحق سمجھانے کی خاطر آگ میں پڑے ہوئے لوہے کی مثال دیتے ہیں- لوہا جب آگ میں گرم ہو تو وہ لوہے ہونے کے باوجود آگ کا کام دیتا ہے اور علی اعلان کہہ سکتا ہے کہ اسے آزمالیا جائے اس وقت وہ آتش تپاں ہوتاہے اور اس کا رنگ ،مقصد یہ ہےکہ ذات کا اتصال ضروری نہیں،بعض صفات کی یکساں نوعیت سے اشیاء ایک گونہ ہوجاتی ہیں-

آں منم خُم خود انا الحق گفتن است
رنگِ آتش دارد الاّ آھن است
چوں بہ سرخی گشت ہمچون  زر کان
پس انا النار است لافش، بے  زبان

’’وہ میں ہی ہوں،ایک ایسا خُم (برتن)جو خود ’’انا الحق‘‘ کہتا ہے-اس کا رنگ آگ جیسا ہے، لیکن حقیقت میں وہ لوہا ہے-جب وہ لوہا سرخ ہو کر کان سے نکلے ہوئے سونے کی مانند چمکنے لگتا ہے، تو گویا وہ ’’انا النار‘‘ کہہ رہا ہے، اگرچہ اس کی زبان نہیں‘‘-

یہاں اس بات کا اشارہ کر دیں کہ آگ اور لوہے کی مثالیں،اتصال و وصال کی مثال کے طور پر، جملہ عقائد اور مذاہب کے پیرو لاتے رہے ہیں- مثلاً یونانی ،مسیحی (کیتھو لک اور پروٹسٹنٹ دونوں ) اور ہندو داس نام کا دانشور جو داراشکوہ کا دوست رہا ہے- البتہ اقبال پر رومی جیسے مصنفوں نے اثر کیا ہو گا -

آن ’’انا‘‘ بے ‏وقت گفتن لعنت است
آن ’’انا‘‘ در وقت گفتن رحمت است
آن ’’انا‘‘ منصور رحمت شد یقین
آن ’’انا‘‘ فرعون لعنت شد ببین

’’غلط وقت اور غلط موقع پر ’’انا‘‘ کہنا لعنت بن جاتا ہے، جبکہ مناسب وقت پر ’’انا‘‘ کہنا رحمت بن جاتا ہے-منصور کی ’’انا‘‘ رحمت بن گئی، جبکہ فرعون کی ’’انا‘‘ لعنت بن گئی- یہ فرق دیکھو ‘‘-

رومی یہاں کتاب الطواسین کی طرف اشارہ کررہے ہیں جہاں ابلیس ،فرعون اور دعویٰ انالحق کا ایک ساتھ ذکر ہے اور تینوں کے عزم جزم کی توصیف ہے- ابلیس کا انکارِ سجدہ، فرعون کا انکارِعبدیت اور ابن حلّاج کا عدم ترکِ انا الحق- البتہ یاد رہے کہ فرعون مسلمانوں کے عقاید کے مطابق ایک متکبرّ بادشاہ تھا جو دعویٰ خدائی پر اصرار کرتا رہا ہے -

اقبال نے خطبات کی مندرجہ ذیل عبارت میں انا الحق کی ہی تو ضیح کی ہے :

’’---یہ صرف تصّوف تھا جس نے کوشش کی کہ عبادات اور ریاضت کے ذریعے وارداتِ باطن کی وحدت کو پہنچے- قرآن پاک کے نزدیک یہ واردات ،علم کا ایک سر چشمہ ہیں جن میں ہمیں دو اور یعنی عالم تاریخ اور عالم فطرت کا اضافہ کر لینا چاہیے- اب اگر صرف مذہبی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو ان واردات کا نشوونما حلاّج کے نعرہ ’’انا الحق ‘‘ میں اپنے معراج کمال کو پہنچ گیا اور گو حلاج کے معاصرین، علی ہذا متبعین نے اس کی تعبیر وحدت الوجود کے رنگ میں کی- لیکن مشہور فرانسیسی متشرق لوئس مسینون نے حلاج کی تحریروں کے جو اجزا حال ہی میں شائع کئے ہیں، ان سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ اس شہید صوفی  نے انا الحق کہا-تو اس  سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ اسے ذاتِ الٰہیہ کے وراء الورا ہونے سے انکار تھا-لہٰذا ہمیں اس کی تعبیر اس طرح کرنی چاہیے جیسے قطرہ دریا میں واصل ہو گیا- حالانکہ یہ اس امر کا ادراک ،بلکہ علی الاعلان اظہار تھا کہ خودی ایک حقیقت ہے جو اگر ایک عمیق اور پختہ تر شخصیت پیدا کرلی جائے تو ثبات و استحکام حاصل کرسکتی ہے - اس لحاظ سے دیکھا جائے تو کچھ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے حلاّج ان الفاظ میں متکلمین کو دعوتِ مبارزت دے رہا تھا- آج کل بھی مذہب کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو اس میں کچھ ویسی ہی مشکلات پیش آتی ہیں مثلاً یہی ایک مشکل کہ حلاّج کا گزرجن احوال سے ہوا ، ان میں ابتداً تو اگرچہ کوئی بات ایسی نظر نہیں آتی جسے غیر طبعی کہا جائے، لیکن یہی احوال پختگی کو پہنچ جائیں تو خیال ہونے لگتا ہے کہ ہمارے شعور کے بعض مراتب ایسے بھی ہیں جن سے ہم قطعی بے خبر ہیں---‘‘-[4]

متداول فلسفیانہ اور مذہبی طریقوں کو دعوتِ مبارزت دینے کی مناسبت سے ہی اقبال کیمبرج کے اپنے استاد ڈاکٹر میک ٹیگرٹ (J. M. E. McTaggart) کا ابن حلاّج سےموازنہ کرتے نظر آتےہیں :

’’ابن حلاّج کا نعرہ’’انا لحق ‘‘ ایک ایسے وقت پورے عالم اسلام کو دعوتِ مبارزت تھی جب متکلمین انسان خودی کے اثبات کے علی الرغم باتیں کررہے تھے -ابن حلاّج اپنی خودی کے اثبات سے بازنہ رہا تا آنکہ ملااس پر غالب آکر اسے زندانی بنا نے میں کامیاب ہوگئے اور آخر اسے شکنجہ میں کس دیا گیا-مگر وہ نہایت پر سکون حالت میں موت کا لمحہ گزار گیا ‘‘-[5]

 اقبال کہتے ہیں کہ میک ٹیگر ٹ نے ذاتی بقائے دوام کا فلسفہ اس وقت پیش کیا جب مغرب میں اُس اہم عقیدہ کی اساس ویران ہو رہی تھی اور اس سلسلے میں اس نے مسیحیت کے تصورِ خدائےماوراء ، کی پرواہ نہ کی ، اس کی یہ جرأت ابن حلاج کی جرأت کے مشابہ ہے-

خطبات کے ایک دوسرے مقام پر اقبال ایمان کے مقتضیات اور نادر باطنی تجربے سے یقین و ایمان کی بازیافت پر اظہار خیال کرتےہوئے ابن حلاج کا ذکر بعنوان مثال پھر کرتے ہیں:

’’اپنی ذات اور وجود کا ذکر بھی وارداتِ اتحاد کا ایک ذریعہ ہے عالم اسلام نے جب پیغمبر اکرم (ﷺ) کے اس ارشاد کے مطابق کہ انسان اپنے اندر اخلاقِ الٰہیہ پیدا کرے، مذہبی مشاہدات اور واردات کی طرف قدم بڑھایا تو جیسا کہ مطالعے سے پتہ چلتا ہے، اس تقرب و اتصال کی ترجمانی کچھ قسم کے اقوال میں ہوتی ہیں- مثلاً انا الدھر، (حدیث رسول (ﷺ) میں قرآن ناطق ہوں، (حضرت علی ؓ)، ما اعظم شانی (بایزید ) یا اناالحق (ابن حلاّج )- لہٰذا اسلامی تصوف کے اعلیٰ مراتب میں اتحاد و تقرب سے یہ مقصود نہیں تھا کہ متناہی خودی لامتناہی خودی میں جذب ہو کر اپنی ہستی فنا کر دے،بلکہ یہ کہ لامتناہی، متنا ہی کے آغوشِ محبت میں ا ٓجائے ‘‘-[6]

تاریخی طور پر بظاہر مناسب نہیں کہ ان شطحیات کا ایک ساتھ ذکر کیا جائے (دو اقوال تو ہیں ہی اختلافی) لیکن کمال ہے کہ اقبال اپنے نظریات کے اثبات کی خاطر ان سب کو ایک ساتھ ذکر کر گئے اور انہیں ایک نوعیت کا بتادیا -پھر وہ ’’انالحق‘‘ کی انفرادی توجیہہ سے آگے بڑھتے اور اسے مومنوں کی جماعت (امت مسلمہ) سے منطق کرتےہیں- ان کے بعد از وفات شائع ہونے والے مجموعہ کلام ( ارمغان حجاز) میں ’’انا الحق ‘‘ کے عنوان والی کئی دو بیتیاں ہیں-وہ کہتے ہیں کہ وہی ملت مثالی ہے جو ’’اناالحق ‘‘ کی سزاوار بنے- یعنی خدا کی تخلیقی فعالیتیں اجتماعی زندگی میں وارد کرے اور خدا کی صفات کے مطابق تخلیق و تعمیر و ارتقاء کے مثالی کام انجام دے-

اقبال کے نزدیک فرد سے زیادہ قوم اس بات کی سزاوار ہےکہ ’’انا الحق ‘‘ کا اعلان کرتی رہے :

انا الحق جز مقام کبریا نیست
 سزائے او چلیپا ہست یا نیست
 اگر فردے بگوید سر زنش بہ
 اگر قومے بگوید ناروا نیست

’’انا الحق‘‘ کہنا مقامِ کبریائی کے سوا کسی کے لیے مناسب نہیں، اس کی سزا سولی ہے یا نہیں؟اگر کوئی ایک فرد یہ کہے تو اسے ملامت کیا جاتا ہے، لیکن اگر کوئی پوری قوم یہ کہے تو یہ ناجائز نہیں‘‘-

اقبال ایک مدت تک ابن حلاج سے بیزار سے رہے مگر بعد میں اسے دریافت اور درک کرلیا - جاوید نامہ میں وہ ان کے لئے ایک طرح کا پیشترو ہے - وہ اس سے ’’پیام مشرق‘‘ کی ایک ایسی غزل منسوب کرتے ہیں جسے انہوں نے کم از کم دس سال پہلے لکھا ہوگا، اس غزل میں عشق اور اختیار کا بیان ہے - اقبال ابن حلاج کو حقیقی تصوف کا نمائندہ جان کر اس کے انجام کے اشارے لاتے رہے ہیں جیسے:

از آن پیش بتان  رقصیدم و زنار  بر بستم
کہ شیخ شہر مرد باخدا گردد ز تکیفرم

’’میں نے بتوں کے سامنے رقص کیا اور زنّار باندھا، تاکہ شہر کا شیخ مجھے کافر قرار دینے کے بعد خود حقیقی خدا شناس بن جائے‘‘-

رقابت علم وعرفان میں غلط بینی ہے منبر کی
کہ وہ حلّاج کی سولی کو سمجھا ہے رقیب اپنا

اور ذیل کا قطعہ ان کے ابن حلاّج ثانی بننے کا گویا اعلان ہے :

فردوس میں رومی سے یہ کہتا تھا سنائی
مشرق میں ابھی تک ہے وہی کاسہ، وہی آش
حلاّج کی لیکن یہ روایت ہے کہ آخر
اک مرد ِقلندر نے کیا رازِ خودی فاش

جاوید نامہ کے فلک مشتری میں اقبال نے ابن حلاّج کے ذکر میں ’’انا الحق‘‘ کا موضوع نہیں چھیڑا لیکن نبوت کا مسئلہ نیز موضوع ابلیس کو چھیڑا ہے اور یہ دونوں باتیں، ’’کتاب الطواسین‘‘ کی مناسبت سے ہیں- جاوید نامہ کا یہ حصّہ نہایت دل آویز ہے جہاں اقبال "عبدہٗ" کی حقیقت پر اظہار خیال کرتے ہیں اور متعلقہ اشعار پر طاسین الفہم  اور طاسین النقطہ کے واضح اثرات ہیں- پھر یہاں نبوتِ محمد (ﷺ) کی جو تعریف اور حضرت محمد (ﷺ) کے مقامِ والا اور معراج کا جو ذکر ہے وہ کتاب الطواسین کے ہی طاسین السراج، کے تابع ہے- اس حصے میں ابن حلاج حضرت محمد (ﷺ) کو قبل از تخلیق کا ایک نور بتاتےہیں - وہ قبل از موجودات اور قلم کی تخلیق سے پہلے موجودتھے ،کتاب الطواسین کا ایک باب طاسین الازل والا لباس ہے اس میں ابلیس و شرّ پر اظہار خیال ہے اور اسی مناسبت سے اقبال بھی ابلیس کے ذکر پر فلک ِ مشتری کے حصّے کو ختم کرتے ہیں- اقبال نے ابن حلّاج کو ’’عاشق خالص‘‘ جو کہا ہے، یہ بھی بظاہر ابن حلاج کے ذکر ابلیس کی مناسبت سے ہے- پروفیسر لوئس مسینون نے اپنے مکتوب مورخہ 30جنوری 1961ء کو مجھے ’’ابن حلّاج اور اقبال‘‘  کی مناسبت سےلکھا تھا: اقبال نے یورپ آنے سے پہلے 18فروری 1932ء کو مجھے لاہور سے خط لکھا تھا کہ وہ پیرس میں مجھ سے ابن حلاج کی صوفیانہ توضیحات کے بارے میں بحث کریں گے، پیرس میں وہ برگسان سے بھی ملے تھے اور یکم نومبر 1932ء کو ہماری ملاقات ہوئی-اس طرح ہمارا اور برگسان کا ان سے خوب تعارف ہوا-

نوٹ :

دسمبر 1957ء کے آخر میں مجھے (پنجاب) یونیورسٹی لاہور میں اقبال کی تقریر کا ایک متن کالج آف فرانس کے ذریعے ملا- معلوم ہوا کہ اقبال نے میری مرتبہ ابن حلاج کی کتاب الطواسین کی کافی تعریف کی تھی-

جاوید نامہ میں ابن حلاج کا ذکر نطشے کے ساتھ موازنے میں آیا ہے - اقبال نطشے کو حلاج بے دار و رسن بتاتے ہیں- اس مجذوب نے’’اناالحق‘‘ کی بات ہی دہرائی تھی مگر مغربی ڈاکٹر اسے مجنوں (دیوانہ) کہنے لگے- وہ اب حلاج کی طرح ملاوں کے فتوے کے زیر اثر مصلوب تو نہ ہوا،مگر طبیبوں نے بیچارے کی جان لے لی :

باز ایں حلاّج بے دار و رسن
نوع دیگر گفتہ آں حرفِ کہن
بود حلاّجے بہ شہر خود غریب
جاں ز ملاّ برد و کشت او را طبیب

’’اس نئے حلاج نے دار و رسن کے بغیر ہی وہی پرانی بات ایک نئے انداز میں کہی-وہ اپنے ہی شہر میں ایک اجنبی حلاج تھا، اس نے ملاّ کی جان لے لی اور طبیب نے اسے قتل کر دیا‘‘-

اقبال کہتے ہیں کہ عالم اسلام میں شریعت و طریقت کی خود ساختہ جنگ معروف ہے :

رقابت علم وعرفان میں غلط بینی ہے منبر کی
کہ وہ حلّاج کی سولی کو سمجھا ہے رقیب اپنا

ایک ایسی جنگ مغرب میں عقل و عشق کے درمیان بھی متداول رہی ہے جس میں نطشے (صاحب عشق و جذب) کام آیا تھا -

30 جون 1917ء کے خط میں اقبال اپنے ایک دوست کو لکھتے ہیں کہ وہ اسرار ظاہر نہ کریں-اس سلسلے میں وہ ایک مصرع نقل کرتے ہیں جس میں ابن حلاج کا ذکر تو نہیں مگر برصغیر کے لوگ سمجھ جاتے ہیں کہ اس میں ابن حلاج کے واقعے کی تلمیح ہے -

بردار تواں گفت و بہ منبر نتواں گفت[7]

’’(وہ راز)بر سرِ دار تو کہا جاسکتا ہے ،مگر بر سرِ منبر نہیں کہا جاسکتا‘‘-

کوئی دو دہائیوں بعد وہ فرماتےہیں:

ترا با خرقہ و عمامہ کارے
من از خود یافتم بوے نگارے
ہمیں یک چوب نے سرمایۂ من
نہ چوب منبرے نے چوب دارے

’’تمہارا کام خرقہ اور عمامہ کے ساتھ ہے، جبکہ میں نے اپنے اندر ہی محبوب کی خوشبو پا لی ہے-میرے پاس صرف ایک بانسری کی لکڑی ہی میرا سرمایہ ہے، نہ مجھے منبر کی لکڑی چاہیے اور نہ دار (سولی) کی لکڑی‘‘-

اقبال نے کئی موقعوں پر اپنے آپ کو ابن حلاّج کے مثیل و مماثل قرار دیا ہے - ابن حلاّج کے شعر کا ترجمہ یوں ہے :

’’بخدا غیر مخلوق روح میرے نفس کے ساتھ متصل ہو رہی ہے اور میں ایسے محسوس کر رہا ہوں کہ صورِ اسرافیل مجھے ودیعت ہو رہی ہے‘‘-

یہ تعبیر اقبال کو بھی عزیز ہے اور اپنے بیدار ساز کردار کی بنا پر وہ اور ابن حلاج ایک ہیں، گو ابن حلاج کا دائرہ اثر عالم تصوف تک محددو رہا مگر اقبال کا پیغام ہمہ گیر بیداری کا حامل ہے- جاوید نامہ میں اقبال ابن حلاج کو اپنے آپ سے یو ں مخاطب کرواتےہیں :

ہر زماں ہر دل دریں دیر کہن
از خودی در پردہ می گوید سخن
آنچہ من کردم تو ہم کردی بترس
محشرے بر مردہ آوردی بترس

’’اس پرانی دنیا میں ہر وقت ہر دل خودی کے بارے میں پردے میں کوئی نہ کوئی بات کہتا رہتا ہے-میں نے جو کچھ کیا، وہی تم نے بھی کیا،اس سے ڈرو!-تم نے ایک مردہ پر قیامت برپا کر دی ہے، اس سے ڈرو! ‘‘-

اقبال پر ابن حلاّج کے اثرات سے ہنوز مفصل بحث نہیں ہوئی -

٭٭٭

(ماخوذ از : شہپرِ جبریل(علامہ اقبالؒ کے دینی افکار)، مصنفہ: ڈاکٹر این میری شمل

مترجم: ڈاکٹر محمد ریاض/ مطبوعہ: گلوب پبلشرز،اردوبازار، لاہور)



[1] اس انگریزی اصطلاح کا اردو ترجمہ وحدت الوجود کیا گیا ہے ، جبکہ تمام جدید تحقیقات کے مطابق ’’پینتھی ازم‘‘ یعنی نظریۂ عینیت اور ’’وحدت الوجود‘‘ ایک چیز نہیں ہیں ، اس لئے مصنفۂ مضمون ڈاکٹر شمل کی برتی گئی انگریزی اصطلاح کو ہی برقرار رکھا گیا ہے -

[2]ابن حلاج کا ذکر بلھے شاہ ؒ اور سچل سرمست وغیرہم کی شاعری میں بھی فراوانی سے دیکھاجاسکتا ہے-

[3](اقبال نامہ، ج:1،  ص: 55)

[4](تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ، ص:144-145،خطبہ 4)

[5](مقالہ:میک ٹیگرٹ کا فلسفہ)

[6](تشکیلِ جدید الٰہیاتِ اسلامیہ، ص:166)

[7]بنام مہاراجہ کشن پرشاد: ’’ (آپ کے ) چند اشعار کے گرد لکیر کھینچ دی ہے -ان کی اشاعت میرے خیال میں مناسب نہیں -کچھ اس وجہ سے کہ ’’ بردار تواں گفت وبہ منبر نتواں گفت‘‘ (اقبال نامہ، ج: 6،ص: 187) منقولہ مصرع مرزاغالب کا ہے -مترجم)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر