آزاد قیدی: فکرِ اقبال سے مختصر مطالعہ

آزاد قیدی: فکرِ اقبال سے مختصر مطالعہ

آزاد قیدی: فکرِ اقبال سے مختصر مطالعہ

مصنف: ڈاکٹرعثمان حسن نومبر 2026

تمہید:

تاریخِ اِنسانی کے اِبتدائی اَدوَار میں اِنسانوں کو اِنفرادی طور پہ غُلام بنایا جاتا تھا جَبْ  باقاعدہ غُلاموں کی تِجارت اور زِندگی بھَر اُن سے مِحنت مُشَقَّت لینے کا سِلْسَلَہ چَلتا تھا- وَقت گُزرتا گیا اور اِنسانی سَماج نے اُس غُلامی سے بہت حد تک چھُٹکارا حَاصل کر لِیا اور اَفراد کو اس جَبْری غُلامی سے آزادی حاصل ہوئی- تَاہم سَامراج اور اِسْتَبْدَاد  کے ہَاتھوں لوگوں کو غُلام بَنانے کا طَرِیْقَہْ کَار بِھی اِرْتَقَاء  پَایَا اور سِیَاسِی اور مُعاشی غُلامی کا سِلْسَلَہ شروع ہوا- یہی وہ دور تھا جَبْ  مُفَکّرِین ایسے قیدیوں کو آزاد کروانے پہ غَوْر و فِکْر کرتے تھے کہ جو اپنی زنجیروں سے پیارکرنے لگتے ہیں-

گُزَشْتَہ چند سو برسوں سے جہاں حُرِّیَّت  پسندمُفَکّرِین کے اَفْکَار  نے اِرْتَقَاء  پایا ہے وہیں سامراج و اِسْتَبْدَاد  کے  اَفْکَار  بھی اِرْتَقَاء  پذیر ہیں- نوآبادیاتی دور اور اس کے بعد سے اس کی صورتیں بہت زیادہ تبدیل ہوئی ہیں حتیٰ کہ اَب  بسا اوقات غُلامی میں مُبْتَلَا قوموں کے قیدیوں کو زنجیروں سے مُحَبَّت  نہیں ہوتی بلکہ انہیں معلوم ہی نہیں ہوپاتا کہ وہ قید ہیں اور زنجیریں دِکھتی ہی نہیں- اگر کہیں نظر آ بھی جائیں تو آزادی کے ایک نئے تَصَوُّر  پہ غُلامی کی نئی زنجیریں تیَّار  کی جاتی ہیں جو قیدیوں کو پہلے سے زیادہ مربوط انداز میں جکڑنے کیلئے غیر محسوس انداز میں پہنا دی جاتی ہیں-

غُلامی اور آزادی پہ بَحْث  کرنے سے قَبْل  آزادی کی عُمومی   تعریف جاننا ضروری ہے- عُمومی   طور پہ آزاد سے مُراد  کسی بھی بیرونی جَبْر، پابندی یا  زبردستی کے بغیر زندگی بسر کرنا ہے-

علم نفسیات کے نظریہ ردِ عمل (Reactance theory) کے مطاَبق جَبْ  انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ اس کی عملی آزادی کو محدود کیا جا رہا ہے تو وہ نفسیاتی ردِعمل (Reactance) کا تجربہ کرتے ہیں جو انہیں آزادی حاصل کرنے پہ اکساتا ہے- خود ارادیت کے نظریہ (Self-determination theory) کے مطاَبق تین بنیادی انسانی ضروریات میں پہلی ضرورت خود مختاری یعنی آزادی کا تَصَوُّر  ہے کہ انسان کسی دوسرےکے اختیَّار  یا پاَبندی میں آنے کی بجائے خود اپنے فیصلے اپنی مرضی سے آزادانہ طور کرنا چاہتا ہے- یقیناً یہ ایک فطری عمل ہے اور اسی لئے آزادی کا نعرہ پرکشش ہے کیونکہ اس کا تعلُّق  انسان کی فطری جَبِلَّت  اور بنیادی انسانی حقوق سے ہے- علامہ اقبال نے اپنے خطبات میں اسی امر کی جانب توجہ دلائی ہے کہ:

’’انسان کی نافرمانی کا پہلا عمل دراصل اس کی آزادئ ارادہ کا پہلا اظہار تھا ‘‘-

 اجتماعی حیثیت میں بھی آزادی کے مختلف معنی لئے جا سکتے ہیں جیسے معاشی آزادی، سیاسی آزادی، جغرافیائی آزادی وغیرہ- تاہم آج کے دور میں جہاں ان تمام پہلوؤں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے، فکری آزادی ہماری توجہ اپنی جانب مبذول کرواتی ہے- کسی بھی قوم کےمُفَکّرِین اور سماج کے اپنائے جانے والے اَفْکَار  کا سامراج اور اِسْتَبْدَاد کی مسلط کردہ فکر سے آزاد ہونا اولین ترجیح ہے-

جَبْ  ہم فکری آزادی کی بات کرتے ہیں تو اس میں اہم پہلو یہ ہے کہ اکثر اوقات آزادی کا تَصَوُّر  بھی ہمارے اردگرد موجود سماج پیدا کرتا ہے – آج کی عالمی دنیا میں رواَبط بڑھنے کے سبب دوسروں قوموں کے اپنائے گئے نظریات بھی آزادی کے نام پہ ہمارے سامنے آتے ہیں- چنانچہ سماج میں پیدا ہونے والے آزادی کے تَصَوُّر  کی بنیادوں کو سمجھنا از حد ضروری ہے-

 آزاد محکوم:

 جَبْ  ہم کسی ایک جغرافیے یا سماج میں مُقیَّد  ہو کر اس تعریف کو اپناتے ہیں تو دوسرے لفظوں میں مُقیَّد  اَفْکَار  کی بنائی گئی آزادی کی تعریف اپناتے ہیں تو دراصل وہ ہمیں ایک نئی قید میں دھکیل دیتی ہے اور انسان جانے انجانے میں محکوم بنتا ہے-  اگر آزادی کی ایسی تعریف کسی باقاعدہ مُنظَّم  طریق سے کسی معاشرے میں داخل کی جائے تو بسا اوقات اُس معاشرے کےمُفَکّرِین بھی اس کا شکار ہو سکتے ہیں جس سے پوری قوم کو آزادی کے نام پہ نئے انداز میں محکوم بنانے کی راہ ہموار ہوجاتی ہے- علامہ اقبال اسی جانب توجہ دلاتے ہیں:

اُس قوم کو تجدید کا پیغام مبارک!
ہے جس کے تَصَوُّر  میں فقط بزمِ شبانہ
لیکن مجھے ڈر ہے کہ یہ آوازۂ تجدید
مشرق میں ہے تقلیدِ فرنگی کا بہانہ

سَلطَنَت  عثمانیہ مسلم تاریخ میں ایک عظیم سَلطَنَت  رہی ہے جس کے زیرِ سایہ بہت سے اَفْکَار  اور علوم و فنون پروان چڑھے ہیں- لیکن انیسویں صدی کے اختتام پہ جَبْ  مغرب میں نیشنل ازم اپنی عروج پہ تھا تو یہ اَفْکَار  عثمانی سَلطَنَت  میں بھی سرایت کر گئے-سَلطَنَتِ  عثمانیہ میں نیشنل ازم بظاہر آزادی کے نام پہ آیا تھا- ینگ ترک موومنٹ کے نعرے اور عرب نیشنل ازم کے نعرے بظاہر آزادی کے لبادے میں لپٹے تھے لیکن اس نیشنل ازم نے مسلم دنیا کو ایک ایسی سیاسی و فکری قید میں جکڑا ہے کہ سوا سو برس بعد بھی اس سے نکلنے کا راستہ نہیں تلاش کر پا رہی- علامہ اقبال زبور عجم میں لکھتے ہیں:

خرد را با دل خود همسفر کن
یکی بر ملت ترکان نظر کن
به تقلید فرنگ از خود رمیدند
میان ملک و دین ربطی ندیدند

’’ اپنی عقل کو اپنے دل کے ساتھ ہم سفر کر اور ذرا ترک قوم کے حال پر نظر ڈال- وہ فرنگ کی تقلید کرتے ہوئے اپنی حقیقت سے دور ہوگئے اور انہوں نے ریاست اور دین کے درمیان کوئی تعلُّق  نہ دیکھا‘‘-

برصغیر پاک و ہند میں بھی کم و بیش یہی اثرات سامنے آئے کہ نوآبادیاتی نظام سے نجات حاصل کرنے کیلئے سامراج کا ہی مسلط کردہ انڈین نیشنل ازم کا نعرہ کئی حلقوں کی جانب سے اپنایا گیا حتیٰ کہ کئی مسلمان لیڈروں نے بھی ’’قرآن‘‘ کا تصورِ قومیت چھوڑ کر ’’اوطان‘‘ کا تصور اختیار کر لیا - تاہم مسلمانوں کی خوش قسمتی تھی کہ انہیں علامہ محمد اقبال جیسا مفکر میسر آیا جو سامراجی فکر کو بھانپ گیا تھا اور پھر اس نے مسلمانوں کو اس نئی آزادی کی دلدل میں پھنسنے سے بچایا- یہ اسی لئے ممکن ہوا کہ اقبال نے یورپ، فلسطین، مسلم دنیا، دیگر خطوں میں اٹھنے والی تحاریک و نظریات کا مطالعہ عمیق نظری سے کیا اور پھر واضح کیا کہ ہمارے سماج میں سامراجی فکر کیسے انڈین نیشنل ازم کے نام پہ نیا آزاد قیدی ترتیب دینے کے چکر میں ہے- ’’پس چہ باید کرد‘‘ میں فرماتے ہیں:

از نوائی پخته سازم خام را
گردش دیگر دهم ایام را
فکر شرق آزاد گردد از فرنگ
از سرود من بگیرد اَب و رنگ

’’میں اپنی نوا سے خام لوگوں کو پختہ بنا دوں اور زمانے کی گردش کو ایک نیا رخ دے دوں-مشرق کی فکر فرنگ (مغرب)سے آزاد ہو جائے اور میرے نغمے سے تازگی، حسن اور قوت حاصل کرے‘‘-

افسوس کہ اقبال مخالف اوطان پرست ملائیت سیاسی مفادات کیلئے فکرِ اقبال کی شارح بن بیٹھی ، نیز ، فکرِ اقبال کو ہم نے اُس سطح پہ نہیں اپنایا جس کی یہ حقدار تھی اور نتیجتاً پے در پے آزادی کے نعرے نئی سامراجی و اِسْتَبْدَاد ی قید کی نذر ہوتے چلے گئے- اس کی ایک بڑی مثال سرد جنگ میں ہونے والی افغان جنگ ہے- سرد جنگ کے عروج پہ افغانوں کو آزادی کیلئے سووویت یونین کے خلاف ’’مدد‘‘ دی گئی اور پھر آنے والے دہائیوں پہ میں اُس ’’مدد‘‘ کا خمیازہ افغانستان اور پاکستان سمیت پورے خطے نے بھگتا ہے- یقیناً یہاں اُن حُرِّیَّت  پسندوں کے پاکیزہ جذبوں کی نفی نہیں کی جا سکتی جنہوں نے اپنی مادرِ وطن کے تحفظ کیلئے جانیں قربان کیں لیکن یہ بھی درست ہے کہ ایک وسیع پیمانے پہ اس جنگ میں آنے والی ’’مدد‘‘ کو پرکھا جائے تو نجانے کتنے ہی معصوم افراد سامراجی عزائم کا نشانہ بنے جنہیں بسا اوقات ان کی قیادت کی جانب سے چند ڈالروں کیلئے آزادی کے نام پہ قربان کر دیا گیا-

گزشتہ صدی میں سوشلسٹ انقلاَب  دنیا کے منظر نامے میں بڑی تبدیلیاں لے کر آیا- دنیا بھر کے مزدوروں کو لگا تھا کہ شاید اشتراکیت انہیں آزادی دلائے گی- اس کے نعرے نہایت ہی دل لبھانے والے تھے حتیٰ کہ سرد جنگ کے خاتمے کے کئی دہائیاں بعد بھی اس کے نعرے سماج میں گونجتے ہیں اور یہ درست بھی ہے کہ بہت سے ممالک میں بننے والے فلاحی نوعیت کے قوانین اسی انقلاَب  کے دباؤ کے نتیجے میں تھے- لیکن کمیونزم کے نام پہ سامراج نے نئی شکل ہی اختیَّار  کی اور عام لوگوں کا اِستِحصَال  کم و بیش اُسی طرح جاری و ساری رہا بلکہ سرمایہ دارانہ نظام اور اشتراکیت کے ٹکراؤ میں بہت سے تیسرے دنیا کے ممالک پِس گئے اور اس کشمکش میں پاکستان نے بھی بھاری قیمت چکائی ہے-

 آج کی دنیا میں وکٹم بلیمنگ (victim blaming) کا اکثرذکر ہوتا ہے- اگرچہ یہ زیرِ نظر مضمون کا موضوع نہیں لیکن ضمنی طور پہ مسلم سیاسی فکر کے ضمن میں راقم یہاں اس امر کا اظہار کرنا چاہتا ہے کہ فکری سطح پہ وکٹم بلیمنگ کا جتنا شکار علامہ اقبال ہوئے ہیں شاید ہی کوئی دوسرا مفکر ہوا ہے- یعنی وہ مفکر جس نے سامراج کی زبردست فکری یلغار کے آگے بند باندھے، مسلمانوں کو اپنی بنیاد سے جوڑا، بدقسمتی سے بکاؤ ملائیت نے اُسی مفکر کی فکر کو توڑ مروڑ کرسامراج کی جنگ کیلئے استعمال کیا اور پھر اِس بنیاد پہ اقبال کو شدت پسند شاعر اور نجانے کیا کیا کہا گیا-مُفَکّرِین میں وکٹم بلیمنگ کی اس سے بڑھ کر شاید ہی کوئی مثال ہمیں مل سکے-

آج کی دنیا کے فلسفیانہ اَفْکَار  کی بات کریں تو عصرِ حاضر میں دنیا میں رائج فلسفے کا ایک اہم پہلو تشکیک ہے- یہ درست ہے کہ سائنسی علوم تشکیک کے بنا پروان نہیں چڑھتے اور علامہ اقبال بھی اسی فکر کے قائل تھے- ’’پیام مشرق‘‘ میں فرماتے ہیں:

ھمای علم تا افتد بدامت
یقین کم کن گرفتار شکی باش

’’ اگر تو چاہتا ہے کہ علم کی ہما تیرے جال میں آ جا ئے تو یقین کم کر، ہر بات کو شک کی نظر سے دیکھ‘‘-

تاہم دوسرے شعر میں عمل، جو انسان کی خودی سے جنم لیتا ہے، اس کے متعلُّق  یقین حاصل کرنے کی تلقین کرتےہیں:

عمل خواہی یقین را پختہ تر کن
یکی جوی و یکی بین و یکی باش

’’اگر عمل چاہتا ہے، تو اپنا یقین پختہ کر ، ایک مقصود کے پیچھے لگ جا، اسی پر نظر رکھ اور وہی ہو جا‘‘-

زندگی کے مقاصد کے لئے یقین پہلی سیڑھی ہے جس پہ علامہ اقبال نے بطور تحریک کے کام کیا- چنانچہ انفرادی یا قومی زندگی کے مقاصد کے متعلُّق  تشکیک میں مُبْتَلَا ہونا آزادی نہیں بلکہ فکری یلغار ہے- راقم اس بات کا گواہ ہے کہ بہت سے فورمز پہ ایک سائنسدان اور محقق کیلئے ایسا ماحول تشکیل دیا جاتا ہے کہ مذہب بیزار(بالخصوص عالمگیر اُصولوں پہ مبنی مذہبی روایت کے خلاف) رویہ اپنایا جائے وگرنہ وہ آزاد نہیں گردانا جاتا اور قرار واقعی پذیرائی حاصل نہیں کر پاتا- اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایسے رویوں کے اسباَب  میں شدت پسندانہ مذہبی طبقات خود بھی قصوروار ہیں لیکن تحقیق کے دامن سے واَبستہ افراد اور انسانیت کی سائنسی علمی میراث کا دعویٰ کرنے والوں کیلئے ایسی کوئی توجیح قاَبل قبول نہیں ہو سکتی-اسی طرح معاشروں میں اگر کوئی اپنے آپ کو جدید فکر کا حامل کہلانا چاہتا ہے تو اسے ایک مخصوص لباس کے ساتھ ہی سامنے آنا پڑتا ہے- یہ وہ فکری یلغار ہے جو سماج میں سرایت کر گئی ہے-اس کی ایک بڑی وجہ یہ  ہے کہ وہ نام نہادمُفَکّرِین جنہیں بہت سے لوگ اپنے لئے رہنما سمجھ بیٹھتے ہیں کہ انہیں آزادی کا راستہ دکھائیں گے، و ہ قوم کو سامراجی فکر کے ہی تاَبع کرنے میں لگے ہیں، چاہے وہ تشکیک کی چنگاریاں سلگائیں، چاہے سوال کے نام پہ بے اخلاقی و بد تمیزی سکھائیں، چاہے تحقیق کے نام پہ روایات کو منہدم کریں- غلام قوم کے اجتہاد سے اسی لئے بچایا گیا کہ اُن کے نام نہاد مجتہد یا مفکر سامراج کا آسان شکار ہوتے ہیں- ’’رموز بیخودی‘‘ میں فرماتے ہیں:

اجتہاد اندر زمانِ انحطاط
 قوم را برہم ہمی پیچد بساط
از اجتہادِ عالمانِ کم نظر
 اقتدا بر رفتگان محفوظ تر
تنگ بر ما رہگذار دین شد است
 ہر لئیمے راز دار دین شد است

’’زوال و انحطاط کے زمانے میں اجتہاد قوم کا شیرازہ بکھیر دیتا ہے اور اس کی بساط لپیٹ دیتا ہے-کوتاہ نظر (بے بصیرت) عالموں کے اجتہاد کی بجائے اسلاف کی پیروی (تقلید) خطرات سے زیادہ محفوظ ہے-ہم پر دین کا راستہ تنگ ہو چکا ہے ہر بیوقوف (فرد) مایۂ دین کے راز جاننے کا دعویدار (بنا بیٹھا) ہے‘‘-

 بدقسمتی سے آج معاشرے میں موجود لوگ اللہ تعالیٰ کے آفاقی پیغام کو بھی اپنی عظیم روایات مسمار کرنے کیلئے استعمال کرتے نظر آتے ہیں- یہی وہ فتنے ہیں جن سے اقبال نے ہمیں سو برس قَبْل  خبردار کر دیا تھا:

وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پلا ہو کرگسوں میں
اسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسم شاہبازی

جَبْ  تک فکری طور پہ قوم آزاد نہیں ہوتی، اس کےمُفَکّرِین سامراج کے دیئے گئے تَصَوُّر  آزادی سے آزاد نہیں ہوتے، یکجائی سے عہدِ غُلامی نہیں کرتے، آزادی کے نعرے اور غلامانہ اجتہاد کی کاوشیں، دراصل نئے پیکٹ میں پرانی ٹافی ہی ہے-فکر و تدبر کے بغیر آزادی اَفْکَار  کا دعویٰ کرنا تباہی ہے:

اس قوم میں ہے شوخی اندیشہ خطرناک
جس قوم کے افراد ہوں ہر بند سے آزاد
 گو فکر خدا داد سے روشن ہے زمانہ
آزادی اَفْکَار  ہے ابلیس کی ایجاد

جَبْ  علم و فکر اور تدبر سے محروم لوگ منبر سنبھال لیں تو قومیں نہ صرف غُلامی کی زنجیروں سے پیار کرتی ہیں بلکہ اکثر  انہیں معلوم ہی نہیں ہو پاتا کہ وہ غُلامی کا شکار ہو چکی ہیں-

آج کا دور جو انسانی تاریخ میں غلط اور گمراہ کُن معلومات (Disinformation and misinformation) کے لحاظ سے بدترین دور گردانا جا رہا ہے، ایسے میں آزادی کے پُرکشش نعروں اور نئے نظریات کی تعمیر و تکمیل پہلے سے بھی زیادہ احتیاط طلب کرتی ہے- اقبال نے اسی لئے غلام قوم کےمُفَکّرِین کی آزادی پہ بہت زور دیا ہے- سب سے پہلے جاننا کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور کونسی فکر کِس پیمانے میں دی جا رہی ہے-’’ارمغان حجاز ‘‘میں فرماتے ہیں:

به تقلید فرنگی پائے کوبی
به رگهای تو آن طغیان خون نیست

’’تو فرنگیوں کی تقلید میں پاؤں پٹک کر رقص کرتا ہے، مگر تیری رگوں میں وہ حقیقی جوش و خروش اور خون کی طغیانی موجود نہیں ‘‘-

خون کی طغیانی اور حقیقی طور پہ اپنی فکر کو غیروں سے آزاد کرنے کا عَلم جو علامہ اقبال نے بلند کیا تھا، ہمیں اپنے آپ کو اس سے منسلک کرنے کی ضرورت ہے- جن قوموں کو ایسی قیادت مل جائے جو نِت نئے اَفْکَار  جنم دے اور سامراجی فکر کے مقاَبلے میں قوم کو راہ راست پہ ڈال سکے، ایسے میں نئے اَفْکَار  کو جنم دینا اور روایات سے منسلک رہتے ہوئے نئے نظریات قائم کرنا ہی زندہ قوموں کی نشانی ہے-

ایک المیہ یہ بھی ہے کہ جَبْ  کوئی نوجوان دنیا، بالخصوص مسلم دنیا کے مسائل پہ بار کرتا ہے تو اسے نصیحت کی جاتی ہے کہ دنیا بھر کے معاملات کو چھوڑو اور صرف اپنے آپ پہ توجہ دو، یہ دلیل بھی دراصل ایک نئے آزاد قیدی کی تیَّار ی کا طریقہ ہے- جَبْ  تک مُفَکّرِین دنیا کے معاملات سے آگاہ نہیں، اپنی تہذیب سے آشنا نہیں، آفاقی پیغام سے منسلک نہیں، حقیقت تک رسائی نہیں رکھتے، وہ قوم کو ایک طرزِ غُلامی سے نکال کر دوسری میں تو دھکیل سکتے ہیں، آزاد قیدی تو بنا سکتے ہیں لیکن فرد و قوم کو آزاد نہیں کر سکتے، بندہ آزاد نہیں بنا سکتے- علامہ اقبال اسی لئے لکھتے ہیں کہ:

غُلامی کیا ہے؟ ذوق حسن و زیبائی سے محرومی
جسے زیبا کہیں آزاد بندے، ہے وہی زیبا
 بھروسا کر نہیں سکتے غلاموں کی بصیرت پر
کہ دنیا میں فقط مردان حر کی آنکھ ہے بینا

اگلے حصے میں اَفْکَار  اقبال سے مُراد ن حُر یا بندہ آزاد کے متعلُّق  جاننے کی کوشش کرتے ہیں-

بندہ آزاد اور جرأت رندانہ

اَفْکَار  اقبال میں سامراجی اَفْکَار  سے آزادی اور آفاقی ہدایت کی بندگی ہی انسان کی اصل آزادی ہے- فرماتے ہیں:

کسی یکجائی سے اَب  عہد غُلامی کر لو
ملت احمد مرسل کو مقامی کو لو!

 یہی عہدِ غُلامی دراصل انسان کی اصل آزادی کی بنیاد ہے جو کسی سامراج کے قبضے میں نہیں- لا الہ کے آفاقی اخلاقی اصولوں سے واَبستہ ہونے کے بعد انسان مقامِ انسانیت سے بھی آشنا ہوتا ہے اور پھر کسی فانی نظریے کی حاکمیت تسلیم نہیں کرتا- علامہ اقبال نے آزاد انسان کیلئے ’بندہ آزاد‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے- یہ کلام اقبال کی خوبصورتی ہے کہ بندہ(یعنی اللہ کا غلام) اور آزاد جیسی بظاہر متضاد اصطلاحات کو یکجا کیا ہے کیونکہ بندہ آزاد خدا کا ایسا غلام ہے جو اللہ کے سوا کسی کی غُلامی قبول نہیں کرتا، نہ انفرادی سطح پہ نہ اجتماعی سطح پہ- اقبال کے نزدیک مادر پدر آزادی بظاہر آزادی محسوس ہوتی ہے لیکن حقیقی طور پہ یہ کوئی آزادی نہیں بلکہ نفس کی قید ہے، محکومیت ہے-ارمغان حجاز میں قبر ایک محکوم شخص کی میت سے کہتی ہے:

آہ، ظالم! تو جہاں میں بندہ محکوم تھا
میں نہ سمجھی تھی کہ ہے کیوں خاک میری سوز ناک
 تیری میت سے مری تاریکیاں تاریک تر
تیری میت سے زمیں کا پردۂ ناموس چاک

’’ارمغان حجاز‘‘ میں ہی مزید فرماتے ہیں:

چه عصر است این که دین فریادی اوست
هزاران بند در آزادی اوست

’’یہ کیسا زمانہ ہے کہ دین اس کے خلاف فریاد کناں ہے؛ اس کی آزادی میں بھی ہزاروں پاَب ندیاں اور زنجیریں موجود ہیں‘‘-

بندگی سے آزاد ہونے کا تَصَوُّر  حیوانوں کی صفت تو ہو سکتا ہے انسانوں کی نہیں کیونکہ حیوان اچھائی برائی میں تمیز کرنے میں آزاد نہیں بلکہ اپنی جَبِلَّت سے مجَبُور ہیں- جَبْ کہ انسان کی خودی انسان کو اچھائی برائی میں تمیز سکھاتی ہے-چنانچہ اس آزاد خودی کو استعمال میں لائے بنا آزادی کا ہر تَصَوُّر  فریب ہے- یہی سبب ہے کہ عالمگیر اچھائی سے اپنا دامن باندھے بنا کوئی بھی آزادی بالآخر سامراج کی جھولی میں لے جاتی ہے- علامہ اقبال نے بندہ آزاد کیلئے اصول واضح کیا ہے کہ:

صنوبر باغ میں آزاد بھی ہے، پا بہ گل بھی ہے
انھی پاَبندیوں میں حاصل آزادی کو تو کر لے

کہ جو اللہ تعالیٰ کے پیغام سے اپنے آپ کو مضبوطی سے باندھ لے اور پھر نیا جہان تعمیر کرنے کیلئے آزاد ہے- آفاقی اَبدی پیغام سے اپنی بنیادوں کو مضبوط کرنا انسان کو مضبوط بناتا ہے اور حوصلہ دیتا ہے، بے باکی دیتا ہے-یہی جرأت تھی کہ عالم انسانیت کیلئے مثال ایک بہترین نظم و نسق کے دور میں بھی لوگ مثالی حکمران کے سامنے اپنی بات کہنے میں ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے تھے- حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کے دور میں سیدنا سلمان (رضی اللہ عنہ) کی جانب سے دو چادروں پہ بے باکی سے سوال آیا-مہر کی رقم کے معاملے پہ ایک عورت نے خلیفہ وقت حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کی رائے کے خلاف رائے دی جسے قبول کیا گیا- یہ بندہ آزاد کی ایسی مثالیں ہیں جو رہتی دنیا تک انسانیت کیلئے مشعل راہ ہیں- ساتھ ہی ساتھ عدل و انصاف کا نظام اور منصبِ حکمرانی بھی زندہ و تاَبندہ مثال ہے جس نے حق بات سننے اور ماننے میں آفاقی پیغام کے سامنے کسی ماسویٰ اللہ کی پرواہ نہیں کی-

بندہ آزاد کے ساتھ ساتھ جرأت رندانہ کی اصطلاح کو بھی مومن کی بے باکی کیلئے سمجھا جا سکتا ہے:

یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہر یک دانہ
یک رنگی و آزادی اے ہمت مردانہ!
میری میں فقیری میں ، شاہی میں غُلامی میں
کچھ کام نہیں بنتا بے جرأت رندانہ

جرأت رندانہ آزاد بندوں کا کام ہے- یہ جرأت سامراج و اسبتداد کی نفی(لا الہ) اور آفاقی پیغام کے اثبات (الا اللہ) سے حاصل ہوتی ہے- حق رسیدہ لوگ ہی بے باکی سے اپنی بات کہنے اور حق بات پہ قائم رہنے کی مثال پیش کرتے ہیں-اسی آزاد بندگی اور جرأت رندانہ نے صوفیاء کو ہر دور میں سامراج کے مقاَبلے میں کھڑا کیا- حتیٰ کہ مسلم دنیا کے بدترین غُلامی کے دور میں بھی وہ سامراج کے کسی ہتھکنڈے کا حصہ نہیں بنے اور مصائب تو برداشت کئے لیکن اپنی آزاد فکر  پہ سمجھوتہ نہیں کیا-

قومی زندگی میں تقلید:

ایسی قوم جس کےمُفَکّرِین جرأت رندانہ سے عاری ہوں، اس کیلئے علامہ اقبال نے جاوید نامہ میں لکھا ہے:

کشتۂ ناز بتان شوخ و شنگ
خالق تهذیب و تقلید فرنگ

’’وہ شوخ و دلکش بتوں کے ناز پر فریفتہ ہوگیا؛ خود تہذیب کا خالق ہوتے ہوئے فرنگ کی تقلید کرنے لگا‘‘-

نقش باطل می پذیرد از فرنگ
سر گذشت خود بگیرد از فرنگ

’’وہ فرنگ سے باطل نقش قبول کرتا ہے، یہاں تک کہ اپنی ہی سرگزشت بھی فرنگ سے اخذ کرتا ہے‘‘-

ایسے حالات میں آزادی کے نام پہ سامراجی ہتھکنڈوں میں پھنسنے کی بجائے، آفاقی پیغام سے واَبستہ روایات کی تقلید کو علامہ اقبال بہتر روش قرار دیتے ہیں-جیسا کہ وہ رموزِ بیخودی میں لکھتے ہیں:

مضمحل گردد چو تقویم حیات
ملت از تقلید می گیرد ثبات
راه آبا رو که این جمعیت است
معنی تقلید ضبط ملت است
در خزان ای بی نصیب از برگ و بار
از شجر مگسل به امید بهار

’’جَبْ  زندگی کی ساخت کمزور اور مضمحل ہو جاتی ہے تو ملت تقلید کے ذریعے ثبات اور استحکام حاصل کرتی ہے-اپنے اَباؤ اجداد کے راستے پر چل کہ اسی میں جمعیت ہے؛ تقلید کا مطلب ملت کے نظم اور وحدت کو قائم رکھنا ہے-اے خزاں میں برگ و بار سے محروم شاخ! بہار کی امید میں اپنے درخت سے جدا نہ ہو‘‘-

آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں، عالمی سیاست، معیشت، تجارت، فلسفہ، نفسیات اور گو کہ ہر شعبہ میں مسلم تہذیب کو سامراجی یلغار کا سامنا ہے اور بہت سے پہلو ہماری فکر کو سامراج کے زیرِ تسلط رکھے ہوئے ہیں اور آزادمُفَکّرِین کا قحط ہماری حالت کو مزید اَبتر بنا رہا ہے-ایسے میں ایک عام انسان کیسے رہنمائی حاصل کرے اور آزادی کا کٹھن سفر کیسے طے کرے؟علامہ اقبال نے ایسے حالات کیلئے بھی ہماری رہنمائی کی ہے کہ ایسی صورت میں قومی زندگی میں بنیادی چیز اپنی تہذیب سے آشنائی ہے اور ایسی قیادت کے ساتھ دامن واَبستہ کرنا ہے جو سامراج کے ہر ہتھکنڈے سے واقف ہو، قرآن کے دامن سے واَبستہ ہو، انسان اور کائنات کی حقیقت سے خود بھی آشنا ہو اور ہمیں بھی آشنا کر سکے- جاوید نامہ میں فرماتے ہیں:

ای به تقلیدش اسیر آزاد شو
دامن قرآن بگیر آزاد شو

’’اے فرنگ کی تقلید میں گرفتار شخص! اس غُلامی سے آزاد ہو جا، قرآن کا دامن تھام لے اور حقیقی آزادی حاصل کر‘‘-

حرفِ آخر:

آزادی ہر انسان کا بنیادی حق ہے اور اسی حق کے نام پہ مسلم معاشرےگُزَشْتَہ صدی سے اِستِحصَال  کی زد میں ہیں- فکرِ اقبال ہمارے لئے چراغ روشن کرتی ہے کہ سب سے اہم فکری آزادی ہے جس کیلئے ہمیں مانندِ اقبال مُفَکّرِین درکار ہیں جو غیر کی کسی سازش کا شکار نہ ہوں نہ کسی طور اپنی خودی کا سودا کریں- ایسی صورت میں ہی بحیثیت قوم ہم اپنے زوال سے نکل سکتے ہیں- محکومیت کے شکار اور سامراجی اَفْکَار  کی تقلید کرنے والے نام نہادمُفَکّرِین سے اپنے آپ کو بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے- غُلامی کے دور میں ہماری تہذیب و روایات ہمارا سب سے بڑا سرمایہ ہیں اور ان کا دامن پکڑے رکھنا اور پھر ترقی کی منازل طے کرنا ہمیں نئے مستقَبْل  کی نوید سنا سکتا ہے-فکرِ اقبال میں اپنی بنیادوں کو آفاقی پیغام سے منسلک کر کے خود کو زمان و مکان کی قید سے آزاد کرنا اصل مدعا ہے- یعنی ہمارے سماج میں موجود نظریات جو دنیا کی دیگر اقوام سے شعوری یا لاشعوری طور پہ سرایت کرآتےہیں، ان پہ اپنی قوم کی بنیاد نہ رکھنا بلکہ اپنے آپ کو آفاقی پیغام سے ہی منسلک کئے رکھنا اور ان کی روشنی میں اپنا جہان خود تعمیر کرنا-

کھلے ہیں سب کے لیے غربیوں کے میخانے
علوم تازہ کی سرمستیاں گناہ نہیں
 اسی سرور میں پوشیدہ موت بھی ہے تری
ترے بدن میں اگر سوز 'لا اِلٰہ' نہیں

چنانچہ سوز لااِلٰہ  کے ساتھ علوم تازہ سے رجوع میں ہی ہماری بقا کا راز مضمر ہے جو ہمیں محکومیت سے نجات دلا کر بندہ آزاد بنانے کا طریق ہے اور یہ عالمگیر اخلاقی اصولوں کے ساتھ ممکن ہوتا ہے-

٭٭٭

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر