انسان بمقابلہ مشین: مصنوعی ذہانت کے عہد میں فکرِ اقبال کی معنویت

انسان بمقابلہ مشین: مصنوعی ذہانت کے عہد میں فکرِ اقبال کی معنویت

انسان بمقابلہ مشین: مصنوعی ذہانت کے عہد میں فکرِ اقبال کی معنویت

مصنف: وسیم فارابی نومبر 2026

ایک مشین اور انسان میں فرق کیا ہے؟

مصنوعی ذہانت کی آئے دن بڑھتی ہوئی کارکردگی کو دیکھ کر یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے - اگر مصنوعی ذہانت انسانی ذہن کی نسبت زیادہ مواد جمع کر سکتی ہے اور اس مواد سے حیران کُن نتائج بھی اخذ کر سکتی ہے تو کیا مصنوعی ذہانت انسانی ذہن سے زیادہ مفید اور طاقتور ہے؟ بالفرض کوئی یہ مان لے کہ انسانی شعور کا منبع دماغ ہے اگر دماغ کو نقصان پہنچے اور یہ غیر فعال ہو جائے تو اس صورت میں انسان  اپنی ہی محفوظ شدہ معلومات کے بارے نہیں جان سکتا اور کئی کیسز میں تو انسان یہ بھی نہیں جان پاتا کہ وہ خود کون ہے- کیا اس صورتحال میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ انسان کا دماغ ہی سب کچھ ہے؟ کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ ایک مشین یا روبوٹ انسان سے برتر ہے؟ اسی طرح اگر انسان کی وجودی حقیقت کو  محض دماغ کی اعصابی سرگرمیوں تک محدود کر دیا جائے تو یہ سوال صرف ایک سوال نہیں رہتا بلکہ ایک وجودی معمہ بن جاتا ہے کہ آخر انسان کی وجودی حقیقت کیا ہے؟ اب میرا بنیادی سوال کچھ یوں بن جاتا ہے کہ ایک انسان اور مشین میں فرق کا معیار کیا ہے؟ اس طرح کے کئی سوالات ہیں جو فلسفے میں پہلے سے زیرِ بحث تھے مگر مصنوعی ذہانت کے آنے سے یہ سوالات اب مزید اہمیت کے حامل ہو گئے ہیں- اس مضمون میں اقبال کے فلسفیانہ افکار کی روشنی میں ان فلسفیانہ سوالات کا مختصر جائزہ لیا جائے گا-

1-انسان کیا ہے؟

ڈیکارٹ کے نزدیک، جسم اور ذہن (اسے مذہبی ڈسکورس میں روح بھی کہا جاتا تھا) دونوں الگ الگ جوہر ہیں- جسم کی حقیقت یہ ہے کہ یہ مادی ہے - ڈیکارٹ کے نزدیک ہر وہ شے مادی ہے جو مکانی ہے یعنی جو Spatial Extension رکھتی ہے- اس سے اس کی مراد یہ نہیں تھی کہ ہر مادی شے مکان (Space)میں ہے بلکہ وہ یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ ہر مادی شے کی حقیقت ہی مکانی ہے- مادہ اور مکان ایک ہی ہیں- مکان (Space)جب مختلف شکلیں اختیار کرتا ہے تو ہم اسے مادہ کہہ دیتے ہیں-[1] اسی طرح ذہن (Mind) کی اصل خیال یا سوچنا ہے- اب دیکھا جائے تو خیال یا سوچ کا مرکز بظاہر تو انسانی دماغ ہے مگر ڈیکارٹ نے کہا کہ دماغ چونکہ مادی ہے اس لیے وہ جسم کا حصہ ہے اور سوچنا دراصل ذہن کا کام ہے جو جسم سے الگ وجود رکھتا ہے-[2] یہ نکتہ پریشان کُن تھا- بھلا مکان اور خیال میں کیسا ربط ممکن ہے؟ کوئی اگر یہ کہے کہ جب میں لاہور جاتا ہوں تو میرا ریاضی کا علم فعال ہوجاتا ہے مگر جب میں کراچی جاتا ہوں تو میں ریاضی کا سارا علم بھول جاتا ہوں تو یہ کتنی عجیب بات ہوگی !

 اب سوال یہ ہے کہ اگر دماغ مفلوج ہو جائے یا چوٹ لگنے سے شدید زخمی ہو جائے، ایسی صورت میں انسان کا شعور ہی زائل ہو جاتا ہے تو کیا روح بھی چلی گئی؟ [3]حالانکہ انسان زندہ ہے بس صرف اپنا یا اردگرد کے جہان کا شعور نہیں رکھتا- ایسے کئی اعتراضات ڈیکارٹ کے فلسفے پر کیے جا سکتے ہیں اور آج بھی کیے جاتے ہیں- اس طرح ڈیکارٹ نے جدید مغربی معاشرے میں روح اور جسم کی ایسی دوئی کو متعارف کرایا جس کا بتدریج نتیجہ روح کے انکار اور مادیت پرستی کے عروج میں نکلا ہے-

اقبال کے نزدیک، انسان کی حقیقت روحانی ہے حتیٰ کہ انسانی جسم بھی اسی روحانی حقیقت کا ہی مظہر ہے- وہ جسم اور روح میں ایسی دوئی پیدا نہیں کرتے جیسی ڈیکارٹ نے پیدا کی تھی- اقبال نے اپنے مشہور خطبہ الٰہ آباد میں روح اور جسم کی جذری دوئی (Radical Dualism) کی نفی کرتے ہوئے کہا:

’’اسلام انسانی وحدت کو روح اور مادے کی ایسی دوئی (duality) میں تقسیم نہیں کرتا جنہیں آپس میں ہم آہنگ نہ کیا جا سکے- اسلام میں خدا اور کائنات، روح اور مادہ اور مذہب اور ریاست، سب ایک دوسرے کے ساتھ نامیاتی (organic) تعلق رکھتے ہیں- انسان کسی ایسی دنیا کا باشندہ نہیں جسے کہیں اور واقع روحانی دنیا کی خاطر ترک کر دیا جائے- اسلام کی نظر میں مادہ (Matter) دراصل روح (Spirit) ہی کی وہ شکل ہے جو زمان و مکان (Space & Time) کے دائرے میں خود کو ظاہر اور متشکل کر رہی ہے‘‘-[4]

اقبال کے نزدیک، جسم روح سے الگ وجود نہیں ہے بلکہ جسم ، روح کا ہی زمان و مکان میں اظہار ہے- اس نظریے کی ایک دلیل حضرت بی بی مریم سے مکالمہ کے وقت اور  حدیثِ جبریل میں دیکھی جا سکتی ہے - جبرائیل جو ایک روحانی وجود رکھتے ہیں جب اس جہان میں ظاہر ہوئے تو ایک انسان کی صورت میں ظاہر ہوئے- اقبال کچھ ایسی ہی بات کر رہے ہیں کہ جسم، روح کا ہی ایک اظہار ہے نہ کہ روح سے الگ مادی وجود ہے- اگر اس بات کو مزید بڑھایا جائے تو یہ نکتہ سامنے آتا ہے کہ مادہ اپنی حقیقت میں روحانی ہے-

اسی نکتے کو اقبال ’’ بالِ جبریل ‘‘ میں کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

ترا جوہر ہے نوری، پاک ہے تو
فروغِ دیدہءِ افلاک ہے تو
ترے صیدِ زبوں افرشتہ و حور
کہ شاہینِ شہِ لولاک ہے تو

2- شعو ر کیا ہے؟

جدید دور میں شعور اور اس کی نوعیت کا سوال بہت اہم ہو گیا ہے- ’’فلاسفی آف مائنڈ‘‘ اس پر منقسم ہے- ایک گروہ کہتا ہے کہ شعور کا منبع انسانی دماغ ہے یعنی شعور جو کہ غیر مادی ہے اسے مادی دماغ ہی پیدا کرتا ہے- اس لیے انسانی دماغ اور شعور دونوں ایک ہی سکے کے دو رُخ ہیں- اس نظریے کو ’’Identity Theory of Mind ‘‘کہتے ہیں- یہ نظریہ سب سے پہلے U.T.Placeنے 1956ء میں دیا - [5]اس کے بعد Herbert Feigl اور J.J.C.Smart نے اس نظریے کو آگے بڑھایا- [6]

دوسرا گروہ دماغ اور شعور کی اس عینیت (Identity) کو تسلیم نہیں کرتا- ان کے نزدیک، شعور انسان کا ایسا تجربہ ہے جس کی مادی تخفیف نا ممکن ہے- مثال کے طور پر، جب ہم درد محسوس کرتے ہیں تو ہمارا جسم C-Fiber نیورانز کے ذریعے درد کے سگنل کو دماغ تک پہنچاتا ہے- کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمارا درد محسوس کرنا محض C-Fiber نیوران کا دماغ تک پہنچنا ہے- ہمارا درد کو محسوس کرنا کوئی الگ حقیقت نہیں رکھتا بلکہ نیوران کا فائر ہونا اور ہمارا درد محسوس کرنا دونوں ایک ہی ہیں- یہ گروہ یہاں اعتراض کرتا ہے کہ نہیں ایسا نہیں ہے- انسان کا تجربہ منفرد اور مخصوص ہے-

 اگر کسی روبوٹ میں ایسا پروگرا م کر دیا جائے کہ جب بھی اسے چوٹ لگے تو C-Fiber نیوران فائر ہو کر روبوٹ کے دماغ یعنی Processing Unit کی طرف جائے اور روبوٹ کراہنے کی آوازیں نکالے- کیا اس روبوٹ کا تجربہ اور ایک انسان کا تجربہ برابر ہوگا؟ اس گروہ کے نزدیک ہرگز ایسا نہیں ہے- روبوٹ نے درد محسوس کرنے کا تجربہ نہیں کیا بلکہ اسے محض تجربے کی معلومات دی گئی ہیں جس پر اس نے پہلے سے دی گئی ہدایات کے مطابق کراہنے کا ریسپانس دیا ہے- جبکہ انسان ہر تجربے کو اندرونی طور پر محسوس کرتا ہے اور اس پر مخصوص قسم کا رد عمل بھی دیتا ہے جو پوری طرح پہلے سے جانا نہیں جا سکتا- اس لیے یہ گروہ مانتا ہے کہ انسان کے اس اندرونی تجربے کو محض مادے کی خصوصیات تک محدود نہیں کیا جا سکتا - انسانی شعور مادی نہیں ہے بلکہ یہ اپنا الگ وجود رکھتا ہے - مادہ اور شعور دونوں اسی کائنات کا حصہ ضرور ہیں مگر دونوں ایک دوسرے سے بنیادی طور پر الگ ہیں- اس نظریے کو ’’Property Dualism‘‘کہتے ہیں- یہ ڈیکارٹ کی ’’Substance Dualism‘‘ کی ہی نئی شکل ہے- اس نظر یے کے حامیوں میں دو اہم نام [7]Thomas Nagel اور David Chalmers[8] ہیں- المختصر، جدید فلاسفہ کیلئے ایک طرف مادیت پسندی ہے تو دوسری طرف ڈیکارٹ کی جسم اور ذہن کی دوئی ہے-

اقبال کے نزدیک، شعور نہ ہی کوئی جوہر ہے اور نہ ہی یہ کسی مادی عمل ( جیسا کہ دماغ کے اعصابی عوامل) کا نتیجہ ہے- نہ ہی انسانی شعوری تجربہ اس بات کی تائید کرتا ہے جس میں خودی کا شعور مادی جہان پر فوقیت رکھتا ہے- اگر شعور کو ایسا مان لیا جائے تو اس کا لازمی نتیجہ انسان کو مشین ماننا ہے جس میں انسانی جسم ایک ہارڈ وئیر کی طرح ہے اور شعور ایک سافٹ وئیر کی طرح ہے- جبکہ اقبال کے نزدیک، انسانی وجود میں بنیادی شے اس کی روحانی حقیقت ہے اور مادہ بھی اسی کا ہی زمان و مکان میں اظہار ہے اس لیے اقبال شعور کو ایک روحانی اصول یا انرجی کہتے ہیں- اقبال اپنے خطبات میں شعور سے متعلق فرماتے ہیں:

’’شعور کو مادے کے پراسیسز کے پسِ مظہر (Epiphenomenon) کے طور پر بیان کرنا اس کی خود مختارانہ فعالیت (Independent Activity) کا انکار کرنا ہے اور اس کی خود مختارانہ فعالیت سے انکار کرنا علم کی صحت سے انکار ہے جو صرف شعور کا ہی ایک مربوط نظام ہے- اس لیے، شعور زندگی کے روحانی اصول کی ایک نوع ہے جو کہ کوئی جوہر نہیں ہے بلکہ ایک اُصولِ ناظمہ ہے، ایک مخصوص طریقِ کار جو لازمی طور پر اس کردار سے مختلف ہے جو مشینی انداز میں خارج ( خارجی جہان) میں کام کرتا ہے ‘‘-[9]

اقبال شعور کی ایسی حالتوں کا بھی ذکر کرتے ہیں جو انسان کے عمومی شعور (Ordinary Consciousness) میں واضح نہیں ہوتیں اور کچھ تو بالکل بھی نہیں آتیں مگر وہ حقیقت ہیں- اس کی وضاحت وہ یوں کرتے ہیں:

’’ شعور کی کچھ ایسی مبہم حالتیں بھی ہیں جہاں ہمیں مکمل بے سمتی نظر آتی ہے مگر ایسے معاملات میں احسا س بھی حالتِ التوا میں نہیں رہتا جو کہ غور طلب بات ہے- مثلاً، کوئی گھونسہ لگنے سے اگر میں حواس کھو دوں اور مجھے اس بات کا شعور نہ ہو کہ کیا ہوا اور نہ مجھے کوئی درد محسوس ہو مگر اتنا شعور ہو تا ہے کچھ ضرور ہو اہے- تجربہ ( بیرونی و اندرونی) ایک لمحے کیلئے شعور کی دہلیز پر محض ایک احساس کے بجائے ایک خالص حقیقت کے طور پر موجود ہوتا ہے حتٰی کہ کوئی خیال (Thought) اسے اپنا لے اور وہ (تجربہ) ایک ردِ عمل کی صورت میں اظہار پائے‘‘- [10]

اقبال حضرت آدم (علیہ السلام) کے جنت سے نکالے جانے کو بھی شعور سے جوڑتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’ ہبوطِ آدم (The Fall of Adam) کا مطلب اخلاقی گراوٹ نہیں بلکہ یہ انسان کی سادہ شعوری کیفیت سے خود آگاہی (Self-Consciousness) تک ارتقاء کے سفر کا آئینہ دار ہے- یہ ایک قسم کی خوابِ فطرت سے بیداری ہے جب انسان یہ محسوس کرتا ہے کہ اس کی ہستی کے اندر بھی اسباب و عَلَل کا سلسلہ موجود ہے‘‘- [11]

3- شعور اور خودی کا تعلق:

 اقبال کے نزدیک، شعور اور خودی میں ایک گہرا تعلق ہے اور اس تعلق کو سمجھے بغیر انسان شعور کی گتھی کو سلجھا یاہی نہیں سکتا- شعور اور خودی ایک دوسرے سے اس طرح باہم جڑے ہوئے ہیں کہ آپ ایک دوسرے کوجدا ہی نہیں کر سکتے- جونہی شعور کی بحث ہوگی تو لازمی طور پر خودی کا سوال ہوگا کہ خودی کیا ہے- اگر خودی کا نکتہ سمجھ آجائے تو شعور کی گتھی بھی سلجھ جاتی ہے- اقبال کے نزدیک، خودی ایک دو دھاری تلوار کی طرح ہے جس کا ایک رُخ اپنے سے بیرون جہان کی طرف ہے تو دوسرا اندر کے جہان کی جانب ہے- پہلے رُخ کو اقبال ’’فعال خودی‘‘ کہتے ہیں جس کا مرکز انسانی دماغ ہی ہے- اس رُخ کے ذریعے سے انسان اپنے سے بیرون جہان پر غور وفکر کرتا ہے اور اسے اپنے سے جدا حقیقت کے طور پر دیکھتا ہے- اقبال اپنے خطبات میں فرماتے ہیں:

’’ہمارے شعوری تجربے کی حقیقت کے بارے میں گہرے علم سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خودی اپنی حیات باطنی میں اندرونی مرکز سے بیرون کی طرف حرکت زن ہوتی ہے- لہٰذا یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کے دو رخ ہیں جو’’بصیر‘‘ اور ’’فعال‘‘کے طور پر بیان کیے جا سکتے ہیں- اپنے فعال رخ کے اعتبار سے اس کا تعلق دنیائے مکان سے ہے- فعال تلازماتی نفسیات(Associative Psychology) کا موضوع ہے ‘‘- [12]

بصیر خودی، خودی کا مرکز اور اندرونی رُخ دونوں ہی ہیں- دراصل، فعال خودی ،جس کا ظہور دماغ سے ہوتا ہے ، بصیر خودی اس کی بنیاد یا اس کا منبع ہے- اگر بصیر خودی کا وجود نہ ہو تو انسان واقعی محض ایک مشین ہے یا جانور ہے جس کے پاس نہ کوئی معنوی حقیت ہے نہ ہی زندگی کا کوئی مقصد ہے- عمومی طور پر خودی کا یہ رُخ ہم سے اوجھل ہی رہتا ہے جس کی وجہ فعال خودی ہے جو ہمارے اس جسمانی وجود کیلئے لازم بھی ہے- اس سے متعلق اقبال فرماتے ہیں:

’’خارجی اشیاء کے نظام میں ہماری محویت، جو ہماری موجودہ صورتحال (جسمانی وجود) کے لیے لازمی ہے، کی رُو سے یہ نہایت مشکل ہے کہ ہم بصیر خودی کی کوئی جھلک دیکھ سکیں- خارجی اشیاء کے ساتھ مسلسل معاملات کے نتیجے میں بصیر خودی کے گرد ایک پردہ سا حائل ہو جاتا ہے اور یوں ہمارے لیے ایک غیر متعلق شے ہو جاتی ہے- صرف گہرے استغراق کے لمحات میں ایسا ہوتا ہے کہ جب فعال خودی تعطل کا شکار ہوجاتی ہے اور ہم اپنی ذات کی گہرائیوں میں ڈوب جاتے ہیں اور (شعوری) تجربے کے اندرونی مرکز تک پہنچ جاتے ہیں‘‘- [13]

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر فعال خودی کا مرکز دماغ ہے تو بصیر خودی کا مرکز یا محل کیا ہے؟ اقبال کے نزدیک، بصیر خودی کا مرکز انسان کا باطن یا دل ہے- یہ دل جسمانی دل نہیں ہے بلکہ یہ ایک روحانی نطفہ ہے جسے قرآن کریم نے ’’ قلب یا فؤاد‘‘ کا نام دیا ہے- فعال خودی ہمہ وقت متحرک ہے اس لیے ہر کسی کیلئے قابلِ رسائی بھی ہے- بصیر خودی انسان کی وجودی گہرائیوں میں مخفی رہتی ہے جسے بیدار کرنا پڑتا ہے- جن لوگوں میں بصیر خودی بیدار ہوتی ہے وہ جہان کو دوئی کی بجائے وحدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں- ان کیلئے فکر اور سوچ کا محل دماغ ہوتا ہے جبکہ کشف اور ادراک کا مقام دل ہوتا ہے جو ذہنی شعور کا منبع ہے- جن لوگوں میں صرف ’’فعال خودی‘‘ہی متحرک ہوتی ہے وہ جہان کو ہمیشہ دوئی کی نگاہ سے دیکھتے ہیں- ان کیلئے شعور کا مرکز بھی دماغ ہی بن جاتا ہے یا زیادہ سے زیادہ وہ ڈیکارٹ کے نظریے کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں مگر یہ ان کیلئے بھی محض ایک نظریہ ہوتا ہے- کوئی ایسا تجربہ نہیں ہوتا جو انہیں اندرونی یقین دے کہ ہاں انسانی وجود صرف مادے تک محدود نہیں ہے- اقبال دل اور اس کے ادراک سے متعلق اپنے خطبات میں لکھتے ہیں:

’’حقیقت سے تعلق قائم کرنے کا ایک طریقہ تو بالواسطہ ہے جس میں وہ حواس کے ذریعے ہم سے تعلق رکھتی ہے- اس طرح ہم اس کا فکری مشاہدہ کرتے ہیں اور اس کی نشانیوں پر غور کرتے ہیں جو وہ ادراک بالحواس سے ہم پر اپنا انکشاف کرتی ہے- تاہم دوسرا طریقہ حقیقت سے براہ راست تعلق کا ہے جو ہمارے اندرون میں ہم پر اپنا انکشاف کرتی ہے- قرآن کریم کے مطالعہ فطرت پر زور دینے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا فطرت سے گہرا تعلق ہے اور فطرت کی قوتوں کو مسخر کرتے وقت ناکارہ خواہشات پر مبنی غلبہ محض کے بجائے اس مقصد کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے کہ روحانی زندگی اعلیٰ مدارج ِکمال کی طرف آزادی سے بڑھ سکے -لہٰذا حقیقت کا ایک مکمل وقوف حاصل کرنے کے لیے ادراک بالحواس کے ساتھ ساتھ دل، جسے قرآن کریم قلب یا فؤاد کہتا ہے، کے مشاہدات سے بھی کام لینا چاہیے‘‘-[14]

قلبی ادراک کی وضاحت کرتے ہوئے اقبال لکھتے ہیں:

’’قلب ایک باطنی وجدان یا بصیرت ہے جو مولانا روم کے خوبصورت الفاظ میں آفتاب ِ(حقیقت) سے غذا پاتا ہے اور جس کے ذریعے ہمارا حقیقت کے ان گوشوں سے رابطہ قائم ہو جاتا ہے جو حواس کی حدود سے باہر ہیں- قرآن کریم کے مطابق وہ (دل) دیکھتا ہے اور اس کی فراہم کردہ اطلاعات کی اگر درست طور پر تعبیر کی جائے تو وہ کبھی غلط نہیں ٹھہرتیں- تاہم اسے کسی مخصوص و پُراسرار طاقت سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ حقیقت کو جاننے کا ایک طریقہ ہے جس میں ظاہری حواس، بطور عضویاتی مفہوم کے، کوئی دخل نہیں دیتے- اس طریق سے حاصل ہونے والا مشاہدہ بھی اتنا ہی ٹھوس اور حقیقی ہے جتنا کوئی دوسرا تجربہ اور مشاہدہ ٹھوس اور حقیقی ہو سکتا ہے‘‘-[15]

اپنے کلام میں اقبال اس فکر کو کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں:

وہ شے کچھ اور ہے کہتے ہیں جانِ پاک جسے
یہ رنگ و نم، یہ لہو، آب و ناں کی ہے بیشی
ہے ذوقِ تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں
غافل تو نرا صاحبِ ادراک نہیں ہے

بصیر خودی اور دل کے تعلق پر اقبال اپنے کلام میں فرماتے ہیں:

خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے
فلک جس طرح آنکھ کے تِل میں ہے

4- سماجی و اخلاقی پہلو

اقبال صاحبِ بصیرت تھے- وہ اس دور کا عکس آج سے ایک صدی قبل ہی دیکھ رہے تھے جس کی جھلک ہمیں ان کی شاعری میں جگہ جگہ نظر آتی ہے- اسی فکر کو اقبال ’’بانگِ درا‘‘  میں کچھ یوں پیش کرتے ہیں:

کھول کر آنکھیں مرے آئینہء گفتار میں
آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ

اسی طرح وہ ’’ بالِ جبریل‘‘ میں لکھتے ہیں:

عالمِ نَو ہے ابھی پردۂ تقدیر میں
میری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجاب

 اس دور میں پیدا ہونے والی روح و بدن کی کشمش اور اس کے نتائج پر اقبال ’’ضربِ کلیم‘‘ میں فرماتے ہیں:

دنیا کو ہے پھر معرکۂ روح و بدن پیش
تہذیب نے پھر اپنے درندوں کو ابھارا
اللہ کو پامردیِ مومن پہ بھروسا
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہار

اقبال ’’بالِ جبریل ‘‘ میں لینن کی زبان سے یہ فکر یوں بیان کرتے ہیں:

ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساسِ مروّت کو کچل دیتے ہیں آلات

اقبال کے نزدیک، یہ دور روح اور بدن کی کشمش سے دو چار ہے جس میں مادی ترقی کے زیرِ اثر انسان اپنی روحانی حقیقت کو فراموش کیے بیٹھا ہے- جس کا نتیجہ واضح طور پر مادیت پرستی کا عروج ہے جو آج ہمیں نظر بھی آرہا ہے- اگر انسان کو محض مشین سمجھ لیا جائے یا اس کی حقیقت کو جسم تک محدود کر دیا جائے تو یہ انسانی معاشرے کی تباہی ہے- اس کے نتیجے میں انسان ایسا معاشرہ بنائے گا جس میں انسانیت کی بجائے درندگی اور بد تہذیبی عام ہوگی- اگر انسانوں نے ایک مثالی معاشرہ بنانا ہے تو وہ ایسی بنیاد پر ہی بن سکتا ہے جس میں انسان کی مادی اور روحانی دونوں اطراف کا امتزاج ہو- محض مادیت پرستی انسان کو درندہ بنا دے گی- محض روحانیت جس میں مادی جہان کی نفی ہو یہ انسان کی مدارجی ترقی کو روک دے گی- اس فکر کو اقبال اپنے خطبات میں یوں پیش کرتے ہیں:

’’زندگی کی مطلق روحانی اساس، جیسا کہ اسلام نے سمجھا ہے، ازلی ہے اور تغیر اور تنوع میں اپنا اظہار کرتی ہے- ایک معاشرے کے اندر جو حقیقت مطلق کے اس تصور پر استوار ہوتا ہے سکون و ثبات کے دونوں عناصر میں باہم موافقت پائی جانی چاہیے- اس کے پاس لازمی طور پر کچھ ایسے ابدی اصول ہوں جن پر وہ اپنی اجتماعی زندگی کو استوار کرے کیونکہ اس مسلسل تغیر پذیر دنیا میں نا بدلنے والے اصولوں کی وجہ سے ہمارے قدم جمع رہتے ہیں اور اکھڑنے نہیں پاتے- لیکن ان ابدی اصولوں میں سے اگر ہم تغیر کے سارے امکانات کو ختم کر دیں گے جو قرآن کریم کے مطابق خدا کی عظیم تر نشانیوں میں سے ہے (یعنی کائنات) تو اس سے ایک فطرتاً متحرک شے کو غیر متحرک بنانے کا رویہ سامنے آئے گا- یورپ کی سیاست اور سماجی علوم میں ناکامی اس مقدم الذکر اصول کے سبب ہے اور گزشتہ 500 برسوں  میں اسلام کی غیر حرکت پذیری مؤخرالذکر اصول کے سبب ہے‘‘-[16]

نتیجہ:

بلا شبہ ٹیکنالوجی انسانی زندگی کیلئے بہت زیادہ اہم ہے- انسانی زندگی کا شاید ہی کوئی گوشہ ہوگا جس میں ٹیکنالوجی نے اسے حیران نہ کیا ہو- راقم الحروف اس بنیاد پر ٹیکنالوجی اور سائنس کی گراں قدر خدمات کا معترف بھی ہے اور اس کی پذیرائی بھی کرتا ہے- مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ٹیکنالوجی پر حد سے زیادہ انحصار نہ صرف انسان کی سوچنے اور سمجھنے کی  صلاحیت بلکہ اس کی وجودی حیثیت کو بھی آہستہ آہستہ فراموش کر رہا ہے- ٹیکنالوجی جس بھی صورت میں ہو وہ ایک آلہ ہے اور انسان آلہ گر ہے- انسان اور ٹیکنالوجی میں موجود وجودی نسبت وہی ہے جو خالق اور مخلوق کے درمیان ہوتی ہے- اگر یہ نسبت برقرار رہے اور اس کی حدود کی حفاظت کی جائے تو ہر نئی ٹیکنالوجی انسانی معاشرے کیلئے مفید سے مفید تر ہے- اگر یہ نسبت ہی مبہم ہو جائے اور انسان مشینوں کے حیران کُن کرتب دیکھ کر اپنے کمال اور عظمت کو بھول جائے تو اس میں انسانی تہذیب کی تباہی ہے- اس لیے ہم سب پر یہ لازم ہے کہ مشینوں کا استعمال ضرور کریں مگر خود مشین مت بنیں- انسان کا مشین بننا میرے نزدیک فقط یہی ہے کہ انسان اپنی اس قابلیت اور کمال کو فراموش کر دے جس کی بدولت ٹیکنالوجی کو وجود ملا ہے- جیسا کہ اقبال فرماتے ہیں:

نہ تو زمیں کیلئے ہے نہ آسماں کیلئے
جہاں ہے تیرے لیے، تُو نہیں جہاں کیلئے

٭٭٭


[1]Descartes by John Cottingham (Basil Blackwell; New York; 1986) pp. 84.

[2]Descartes by John Cottingham (Basil Blackwell; New York; 1986) pp. 119.

[3]Neruo-philosophy and the Healthy Mind by George Northoff (Norton & Company; New York; 2016) pp. 14.

[4]The All-India Muslim League and Allama Iqbal’s Allahabad Address 1930 compiled and edited by Dr. Nadeem Shafiq Malik (Iqbal Academy; Lahore; 2013) pp. 381

[5]Is consciousness a brain process? By UT Place (British Journal of Psychology; London; 1956)

[6]The mental and the physical by Herbert Feigl (Minnesota Studies in the Philosophy of Science; Minnesota; 1958)

Sensations and brain process by JJC Smart (The Philosophical Review; Vol 68; No.2; North Carolina; 1959)

[7]What is it like to be a bat? By Thomas Nagel (The Philosophical Review; Vol.83; No.4; North Carolina; 1974)

[8]The conscious mind: In search of a fundamental theory by David Chalmers (Oxford University Press; Oxford; 1996).

[9]تجدیدِ فکریاتِ اسلام از علامہ  محمد اقبال ( اقبال اکیڈمی؛ لاہور؛ 2002)  ص: 59

[10]ایضاً، ص: 38

[11]ایضاً، ص: 105

[12]ایضاً، ص: 26

[13]ایضاً، ص: 27

[14]ایضاً، ص: 31

[15]ایضاً، ص: 32

[16]ایضاً، ص: 181

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر