جدید دور کی نسل کیلئے فکر اقبال کی معنویت و ضرورت پہلے سے کہیں بڑھ گئی ہے کہ یہ نسل ایک ایسے ڈیجیٹل ماحول میں پروان چڑھ رہی ہے جہاں اس کی شخصیت کی تعمیر و تشکیل صرف گھر، مدرسہ، سکول یا سماجی و تربیتی اداروں تک محدود نہیں رہی بلکہ سکرین، سوشل میڈیا، ڈیجیٹل رجحانات اور بصری ثقافت (Visual Culture)بھی اس کی فکر و شعور، ذوق، ترجیحات اور جذبات و خواہشات پہ برابراثر انداز ہو رہے ہیں- اس لیے ڈیجیٹل دور میں نوجوان نسل کی تربیت کا تقاضا محض یہ نہیں کہ اسے کیا تعلیم دی جائے یا کن علوم وافکار سے روشناس کرایا جائے بلکہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی نگاہ ، قلب اور باطن میں کن خیالات و تصورات کو جگہ دیتا اور اپنی توجہ و ترجیحات کا مرکز کس کو بناتا ہے -انٹرٹینمنٹ کی آڑ میں اُس کی نگاہ سکرین پہ کیا دیکھتی ہے؟کتنی دیر دیکھتی ہے؟ کیوں دیکھتی ہے؟ اور اس دیکھنے کے قلب و روح پہ کیا منفی یا مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ؟ یہ سوال محض تفریحی ذوق کا نہیں بلکہ توجہ طلب امر یہ ہے کہ ڈیجیٹل ایپس پر دکھائی دینے والا مواد نسلِ نو کی اخلاقی و روحانی تربیت اور شخصیت کی تشکیل پر کس حد تک اثرانداز ہورہا ہے؟ یوں ڈ یجیٹل عہد میں دل اور نظر کی پاکیزگی (عفّتِ قلب و نگاہ) کا تحفظ ایک سنگین اخلاقی و روحانی چیلنج بن چکا ہے-
آج نوجوان نسل کی روزمرہ زندگی اسکرین کے مہلک جال میں اسیر ہے جہاں نگاہ ہر لمحہ ایسے فتنہ انگیز مناظر ومواد کی زد میں ہے جو براہِ راست دل پہ اثرات مرتب کرتے ہیں - پاکستان میں 80 فیصد سے زائد نوجوان مبینہ طور پر اسکرین کی لَت کا شکار ہیں جو روزانہ اوسطاً 6 گھنٹے ڈیجیٹل آلات کے استعمال میں صرف کرتے ہیں-[1] پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کے مطابق 2025ء میں پاکستان میں سمارٹ فون صارفین کی تعداد 19 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے- گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں خصوصاً نوجوانوں میں انٹرنیٹ اور اسمارٹ فون کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے - ٹک ٹاک، انسٹاگرام، یوٹیوب اور نیٹ فلکس جیسی ایپس اب ان کی روزمرہ زندگی کا نمایاں حصہ بن چکی ہیں- [2] نوجوانوں میں سکرین کلچر کا یہ تیزی سے بڑھتا رجحان صرف وقت کے ضیاع یا ذہنی و نفسیاتی مسائل تک محدود نہیں بلکہ نگاہ کی پاکیزگی اور قلبی کیفیت کو بھی متاثر کر سکتا ہے- اسمارٹ فون، سوشل میڈیا، شارٹ ویڈیوز(ٹک ٹاک،انسٹا گرام ریلز، یوٹیوب شاٹس)، اشتہارات، لامحدود آن لائن نازیبا و غیر اخلاقی اور حیا سے متجاوز بصری مواد تک رسائی کے درمیان نگاہ کی حفاظت آسان نہیں جو یکایک نگاہ کو اپنی گرفت میں لیتے ہیں- 2024ء کی ایک تحقیق میں پاکستان کے 16 سے 24 سال کی عمر کے 151 نوجوانوں کا جائزہ لیا گیا- تحقیق کے مطابق 102 نوجوانوں(67.5 فیصد)نے اعتراف کیا کہ حرام و نازیبا نوعیت کا مواد دیکھ چکے ہیں جبکہ 49 افراد (32.5 فیصد) نے اس سے انکار کیا- محققین کے مطابق انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ذرائع نوجوانوں کو نازیبا وغیر اخلاقی مواد تک رسائی فراہم کرنے کا ایک اہم وسیلہ بن چکے ہیں- [3]یہ حقائق واضح عکاسی کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل ماحول میں نوجوانوں کی نگاہ کو عفت شکن مناظر سے محفوظ رکھنا دشوار تر ہوتاجارہا ہے - یہ خاموش ڈیجیٹل یلغار رفتہ رفتہ نگاہ کی پاکیزگی کو مجروح، دل کی بیداری کو ماند اور ارتکازِ توجہ کو منتشر کر رہی ہے-
عفّت کا مفہوم ،آنکھ نیچی رکھنے کا قرآنی اصول اور قلب ونگاہ کا باہمی تعلق :
عفّت محض ظاہری پاک دامنی یا جنسی بے راہ روی سے اجتناب کا نام نہیں بلکہ یہ انسان کے باطن، نگاہ، جذبہ و خواہش، ارادہ و خیال اور کردار کو پاک رکھنے کا ایک جامع اخلاقی اصول ہے- اسلامی تعلیمات میں عفت و پاکدامنی کو ایک صالح و نیک شخصیت اور پاکیزہ و حیادار معاشرے کی تشکیل کےلیے بنیاد قراردیا گیا ہے -قرآنِ مجید نے عفّت کے تصور کو نگاہ کی حفاظت، شرم گاہ کی حفاظت اور تزکیہ نفس کے باہمی ربط کے ساتھ پیش کیا ہے-ارشادِ ربّانی ہے:
’’قُلْ لِّـلْمُؤْمِنِيْنَ يَغُـضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ط ذٰ لِكَ اَزْكٰى لَهُم ‘‘ [4]
’’آپ مومن مَردوں سے فرما دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کیا کریں، یہ ان کے لئے بڑی پاکیزہ بات ہے‘‘-
اللہ رب العزت نے نگاہیں جھکانے (غَضِ بصر) کے حکم کو شرم گاہوں کی حفاظت کے حکم پر مقدم رکھا ہے کیونکہ گناہوں کی ابتدا نگاہ سے ہوتی ہے اور یہی زنا کی طرف لے جانے والا راستہ ہے- نگاہ نیچی رکھنا اہلِ ایمان کے دلوں کے لیے پاکیزگی، تزکیہ اور ان کی عصمت و عفت کی حفاظت کا وسیلہ ہے - [5]
امام ابن قیم الجوزیؒ نے ’’الجواب الكافی لمن سأل عن الدواء الشافی‘‘ میں لکھا ہے :
’’نگاہ شہوت کی قاصد اور پیامبر ہوتی ہے اور نگاہ کی حفاظت در اصل شرمگاہ اور شہوت کی جگہ کی حفاظت ہے ، جس نے نظر کو آزاد (بے لگام ) کردیا اس نے اس کو ہلاکت میں ڈال دیا اور نظر ہی تمام آفتوں کی بنیاد ہے جس میں انسان مبتلا ہوتا ہے‘‘-
قرآنی تفاسیر کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ ’’غض البصر‘‘ سے مراد آنکھوں کو مکمل طور پر بند کرلینا یا ہر چیز سے نگاہ پھیر لینا نہیں بلکہ نگاہ پر ایک اخلاقی پابندی عائد کرنا ہے یعنی انسان کو چاہیے کہ وہ کسی ممنوع و حرام چیز یا مناظر پر اپنی نگاہ کو جمائے نہ رکھے بلکہ فوراً اپنی نگاہ اس سے پھیرلے - یہ ضبط نگاہ ’’نگاہ پر قابو پانا‘‘محض دیکھنے سے اجتناب کا معاملہ نہیں بلکہ اس کا تعلق براہِ راست انسان کے باطن سے ہے- متعدد محدثین و مفسرین کے بقول بے قابو نگاہ قلب کے حفاظتی حصار کو کمزور کردیتی ہے- نگاہ قلب کے لیے ایک واسطہ اور ذریعہ کی حیثیت رکھتی ہے، آنکھیں جو کچھ قلب تک پہنچاتی ہیں وہ خواہش، اخلاقی انحطاط اور جذباتی بے اعتدالی کو جنم دے سکتا ہے- [6]
’’غضِ بصر‘‘سے متعلق احکامِ نبوی(ﷺ) کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ یہ محض ایک سادہ اخلاقی حکم نہیں تھا بلکہ روح کی حفاظت کے لیے ایک گہری روحانی تربیت کا حصہ تھا- حضور نبی کریم (ﷺ) نے نگاہ نیچی رکھنے کو ایک احتیاطی تدبیر کے طور پر واضح فرمایا جس کا مقصد صرف گناہ سے بچنا ہی نہیں بلکہ قلب کو ان لطیف کثافتوں سے بھی محفوظ رکھنا تھا جو بادی النظر میں معمولی محسوس ہوتی ہیں مگر بتدریج باطن کی تباہی کا سبب بن سکتی ہیں - ایک روایت میں آتا ہے کہ حضور نبی اکرم (ﷺ) نے پہلی نگاہ کے بعد دوسری نگاہ ڈالنے سے متنبہ فرمایا کیونکہ پہلی نگاہ اچانک اور غیر ارادی ہو سکتی ہے لیکن دوسری نگاہ اکثر خواہش، تخیل اور روحانی خطرے کو اپنے اندر سموئے ہوتی ہے- [7]
نسلِ نو کےلیے ضبطِ نگاہ (غضِّ بصر) محض ایک عارضی احتیاط نہیں بلکہ ڈیجیٹل ماحول میں دل و نگاہ کی عِفّت و حفاظت کی مسلسل تربیت ہے-اسلام میں نگاہ نیچی رکھنا،بد نظری سے بچنا اور نگاہ کی حفاظت کرنا ایسا پاکیزہ اصول ہے جسے اپنا کر موجودہ ڈیجیٹل معاشرہ ہر طرح کی خباثت ، جنسی ہوس اور شہوت و لذاتِ نفسانی سے پاک ہوسکتا ہے-
دل نگاہ کی پیروی کرتا ہے:
اقبالؒ کے نزدیک قلب کی پاکیزگی کا آغاز نگاہ کی پاکیزگی سے ہوتا ہے کیونکہ دل نگاہ کا پیرو ہے -جو کچھ نگاہ سکرین پہ دیکھتی ہے اس کا اثر براہِ راست انسان کے دل پر پڑتا ہے-سکرین کے سامنے نگاہ اگر بے مہار ہو جائے تو وہ دل کے سکون، فکر کی پاکیزگی اور قوتِ ارادی کو مجروح کر سکتی ہے -اس کے برعکس جب حرام ڈیجیٹل مناظر سے نگاہ کو پاک رکھا جائے تو یہ ارادے ،خیالات اور باطن کو پاکیزگی کی طرف لے جاتی ہے-
|
نگاہ پاک ہے تیری تو پاک ہے دل بھی |
چنانچہ اقبالؒ نوجوانوں کو مہر و ماہ کی مانند عفّتِ نگاہ اختیار کرنے کی تلقین کرتے ہیں:
|
نگہ را پاک مثل مہر و مہ دار |
’’اپنی نگاہ کو سورج اور چاند کی طرح پاک رکھ (مسلسل عروج کا جذبہ پاکی نگاہ پر موقوف ہے)‘‘-
اقبالؒ نگاہ کو مہر (سورج) اور ماہ (چاند) سے اس لیے تشبیہ دیتے ہیں کہ یہ دونوں آسمان کی بلندیوں پر رہتے ہوئے روشنی، پاکیزگی اور رفعت کی علامت ہیں- سورج اپنی روشنی سے کائنات کو منور کرتا ہے اور چاند رات کی تاریکی میں روشنی کا وسیلہ بنتا ہے- اسی طرح اقبالؒ ڈیجیٹل نوجوان کی نگاہ کو ایسی پاکیزہ اور روشن دیکھنا چاہتے ہیں جو اسے سکرین کی ظلمت اور پستیوں میں دھکیلنے کے بجائے بلندی، بصیرت اور بامقصد زندگی کی طرف رہنمائی کرے-
قلب و نظر کی رنجوری: ڈیجیٹل عہد کا عالمگیر روحانی بحران
اقبالؒ کے نزدیک ڈیجیٹل دور میں قلب و نظر کی روحانی بیماری کسی ایک خطے، معاشرے یا تہذیب تک محدود نہیں رہی بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں ہے - اقبالؒ اس عالمگیر روحانی بحران کی طرف ان الفاظ میں ا شارہ کرتے ہیں:
|
نہ مشرق اس سے بَری ہے، نہ مغرب اس سے بَری |
بے سوز دل اور ناپاک نگاہ نے نسل ِ نو سے بے باکی اور جرأتِ کردار چھین لی ہے:
اقبالؒ کے ہاں انسان میں بے باکی، حق گوئی اور جرأتِ کردار اس وقت پیدا ہوتی ہے جب اس کا دل مقصدِ حیات کی تڑپ ،حرارتِ باطنی سے معمور اور اس کی نگاہ پاکیزہ و شفاف ہو مگر نسل ِ نو پاک نگاہ اور سوزِ دل دونوں سے تہی دامن ہے- جس نوجوان کی نگاہ سکرین کے فریب انگیز مناظر میں الجھ کر آلودہ اور دل شہوانی جذبات کو بھڑکانے والی بصری ترغیبات کی زد میں آجائے اس میں حق گوئی کی جرأت، باطل کے مقابل استقامت، اخلاقی خود اعتمادی اور اپنے اصولوں پر ڈٹے رہنے کی قوت ناپید ہوجاتی ہے -
|
دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے |
فرنگی تہذیب سے مرعوب ڈیجیٹل نسل قلب و نظر کے فتنے میں مبتلا ہے:
اقبالؒ کے ہاں مغربی تہذیب کی ظاہری چمک دل کو لبھانے والی،نظر کو خیرہ کرنے والی مگر در حقیقت باطن کیلئے موت ہے - حال ہی میں منظرِ عام پر آنے والی ایپسٹین دستاویزات (Epstein Files) نے دنیا پر یہ حقیقت آشکار کر دی ہے کہ دوسروں کو تہذیب و اخلاقیات کا درس دینے والی مغربی تہذیب خود کس قدر روحانی و اخلاقی گراوٹ اور تنزلی کا شکار ہے-اقبالؒ نے مغرب کے علم و فن اور سائنسی ترقی کو سراہا ہے مگر اس کی تہذیبی نقالی اور اندھی تقلید میں اپنی اخلاقی و روحانی شناخت کھونے سے منع کیا ہے کہ ا س کے نتیجے میں قلب و نظر کی پاکیزگی متاثر ہوتی ہے- چنانچہ اقبال ؒ اسے قلب ونظر کیلئے فتنہ و خرابی کہتے ہیں کیونکہ فرنگی تہذیب و تمدن بذاتِ خود حیا اور پاک دامنی سے عاری ہے-
|
فسادِ قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب |
اقبالؒ کا یہ پیغام ڈیجیٹل نسل کیلئے فکری تنبیہ کی حیثیت رکھتا ہے جو فرنگی تہذیب سے اس قدر متاثر ہے کہ اس کے ظاہر ی تصَنُّع اور بناوٹ کو بلاتنقید اپنے لیے معیار بنالیتی ہے-
آج ہماری نوجوان نسل حوریانِ فرنگی (مغربی ماڈلز و انفلوئنسر ز ) کی اسیر اور بہشت مغربیاں (مغرب کی عارضی چمک دمک و مصنوعی جلووں) پہ فریفتہ ہوچکی ہے جو سوائے دل و نظر کے فریب اور بےحیائی کےکچھ نہیں -
|
يہ حوريان فرنگی، دل و نظر کا حجاب |
ان اشعار کو ڈیجیٹل تناظر میں دیکھیں تو سوشل میڈیا کے عالمی پلیٹ فارمز، انفلوئنسر کلچر، ماڈلنگ، فیشن اور مصنوعی طرزِ زندگی کی مسلسل نمائش ایک ایسی بصری ثقافت تشکیل دیتی ہے جو نوجوان نسل کے ذوق اور ترجیحات پر اثر انداز ہوتی ہے- المیہ یہ ہے کہ ہمارا تعلیم یافتہ نوجوان بھی اس فرنگی تہذیبی یلغار سے محفوظ نہیں رہا- اقبالؒ مسلم نوجوان کی اس فکری و تہذیبی غلامی پر نالۂ درد بلند کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
|
آہ مکتب کا جوانِ گرم خُوں! |
حقیقتِ زمانہ کا ادراک اور جہاں بینی ، قلب و نظر کی پاکیزگی سے مشروط ہے :
نسلِ نو اسکرینوں کی مسلسل بصری یلغار، سطحی معلومات اورا پنی مصنوعی و خیالی ڈیجیٹل دنیا میں اس قدر محصور ہے کہ وہ دنیا میں رونما ہونے والے انقلاب و حوادث کی حقیقت تک رسائی کی بصیرت کھوتی جا رہی ہے -حقیقتِ زمانہ کے ادراک کیلئے محض معلومات کی فروانی اور عقل و دانش کافی نہیں بلکہ پاکیزہ نگاہ اور بیدار قلب بھی درکار ہے جو ظاہری منظر کے پیچھے پوشیدہ حقیقت کا ادارک کرسکے- اگر قلب پر نفسانی خواہشات اور نگاہ پر مفسد ڈیجیٹل مواد کی اسیر ہوجائے تو آنکھ صرف منظر دیکھتی ہے مگر اس کے پسِ پردہ چھپی حقیقت کو نہیں پہچان پاتی - اقبالؒ اسی باطنی حجاب کی طرف متوجہ کرتے ہیں:
|
زمانہ اپنے حوادث چھپا نہیں سکتا |
یعنی حقیقتِ زمانہ پردے میں نہیں، اصل پردہ نوجوانوں کے قلب و نظر پر پڑا ہوا ہے -
اسی طرح اقبالؒ ’’ارمغانِ حجاز‘‘میں پاکیزہ نگاہ کو محض دیکھنے کی صلاحیت نہیں بلکہ جہاں بینی کی شرط قرار دیتے ہیں:
|
روشن تو وہ ہوتی ہے، جہاں بیں نہیں ہوتی |
یعنی آنکھ کا روشن ہونا کافی نہیں بلکہ جہاں بیں ہونا ضروری ہے اور جہاں بینی کا تعلق محض بصارت سے نہیں بلکہ نگاہ کی پاکیزگی سے ہے-جب نگاہ ہوائے نفس اور باطنی کدورتوں سے پاک ہو تو وہ صرف زمانے کا ظاہر نہیں بلکہ حقیقت ِ زمانہ کو دیکھنے کی صلاحیت پیدا کرلیتی ہے-
اسکرین کے چنگل میں قلبِ سلیم بطور مزاحمتی قوت (ضربِ کاری):
اقبالؒ فرماتے ہیں:
|
ضرب کاری ہے اگر سینے میں ہے قلب سلیم |
ڈیجیٹل عہد میں قلبِ سلیم یعنی سلامت، پاکیزہ اور بیدار دل انسان میں باطنی خود مختاری اور مزاحمت کی وہ قوت ہے جو اسے اسکرین کے منفی اثرات کے تابع ہونے سے بچاتی ہے - یہ نسلِ نو کو ڈیجیٹل دنیا سے فرار نہیں بلکہ اس میں رہتے ہوئے اپنی نگاہ، توجہ اور انتخاب پر شعوری ضبط قائم رکھنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے-
اسی طرح قلبِ سلیم کا حامل نوجوان اسکرین کے سامنے ہر دکھائی دینے والے منظر کا اسیر نہیں رہتا،وہ اپنے ایک کلک سے یہ طے کرنے کا شعور رکھتا ہے کہ کیا دیکھنا ہے، کس منظر سے نگاہ ہٹانی ہے اور کس مواد کو اپنے دل تک رسائی نہیں دینی- اس کے برعکس جب دل پاکیزہ و بیدار نہ ہو تو انسان نگاہ کو بہکانے اور خواہش کو بھڑکانے والے ڈیجیٹل مواد کی گرفت میں باآسانی آجاتا ہے اور اس کے سینے میں باطل اثرات کے مقابلے کی وہ باطنی تاثیر باقی نہیں رہتی جسے اقبالؒ ’’ضربِ کاری‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں-
|
دلِ بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تک |
نظارۂ غیر کی کشش اور قلب ونگاہ کا ایمان سے انحراف:
|
گوارا ہے اسے نظارۂ غیر |
ڈیجیٹل دور میں ’’نظارۂ غیر‘‘ سے مراد محض نامحرم کو دیکھنے سے نگاہ روک لینا نہیں بلکہ اسکرین کے ذریعے مسلسل دوسروں کے جسم، لباس، طرزِ زندگی، فیشن،عیش و عشرت اور مصنوعی جلووں کا قیدی ہونے سے دامن کو بچانا ہے- یہ ’’نظارۂ غیر‘‘ نگاہ کو عارضی لذتوں کا خوگر بنا کر رفتہ رفتہ حیا اور باطنی پاکیزگی سے دور کرسکتا ہے- یہاں ’’نگہ کی نا مسلمانی‘‘ نگاہ کی اس باطنی کیفیت کی طرف اشارہ ہے جو ایمان، حیا اور پاکدامنی کی پاسداری کھو کر ہر ڈیجیٹل کشش کو قبول کرنے لگتی ہے جس کے نتیجے میں قلب حلاوتِ ایمانی سے محروم ہو جاتا ہے-
اقبالؒ کے نزدیک ایمان محض زبان سے توحید کا اقرار یا عقل سے ’’لا اِلٰہ‘‘ کو تسلیم کرلینے کا نام نہیں بلکہ اس کی حقیقی تاثیر انسان کے حسنِ کردار سے ظاہر ہوتی ہے اور اس کا قلب و نگاہ نورِ ایمان سے معمور ہو تا ہے -
|
خرد نے کہہ بھی دیا لا اِلٰہ تو کیا حاصل |
قلب و نگاہ کی پاکیزگی کے لیے ضبطِ نفس کا اصول:
فکرِ اقبالؒ میں قلب و نظر کی پاکیزگی کے لیے ضبطِ نفس (Self-Control) بنیادی اہمیت کا حامل ہے جسے وہ تربیتِ خودی کا اہم مرحلہ قرار دیتے ہیں- خودی اُس وقت استحکام پاتی ہے جب انسان اپنی خواہشات، جذبات اور ارادے پہ شعوری ضبط قائم کرلیتا ہے- یہی ضبط نوجوان کی نگاہ کو ہوس انگیز بصری مناظر اور قلب کو اسکرین کے گمراہ کن اثرات کے مقابل ڈھال فراہم کرتا ہے-
ڈیجیٹل دور میں عفّتِ قلب و نگاہ کیسے ممکن ہے؟
ڈیجیٹل دور میں قلب و نظر کی پاکیزگی و طہارت نگاہ کی حفاظت اور قلب کی بیداری سے مشروط ہے - اگر نگاہ ناپاک ہو تو دل کی پاکیزگی متاثر ہوتی ہے اور دل زنگ آلود ہوجائے تو انسانی شخصیت کی تطہیر و تکمیل کا تصور بھی ادھورا رِہ جاتا ہے کیونکہ قلب انسانی وجود کا مرکز ہے جس میں بگاڑ سارے وجود میں بگاڑ کا سبب بنتا ہے - حضور نبی اکرم (ﷺ) نے اس حقیقت کو یوں ارشاد فرمایا:
’’بیشک انسان کے جسم کے اندر گوشت کا ایک ٹکڑا ہے اگر وہ صحیح ہے تو سارا جسم صحیح ہے اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہو جاتا ہے خبردار! وہ دِل ہے‘‘- [8]
حدیث مبارکہ میں ذکرِ الٰہی کو قلب کی صفائی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے:
’’ہر چیز کو صاف کرنے کےلئے کوئی نہ کوئی آلہ ہوتا ہے دل کو صاف کرنے کےلئے اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے‘‘- [9]
لہٰذ ڈیجیٹل فتنوں سے دل اور نگاہ کی حفاظت محض ظاہری پابندی کا نام نہیں بلکہ قلب کی حیات و بیداری سے وابستہ ہے جس کیلئے مؤثر ترین ذریعہ ذکرِ الٰہی ہے- حضرت سلطان باھوؒ اپنی کتاب ’’کلید التوحیدکلاں‘‘حیا تِ قلبی کےلیے ذکرِ الٰہی کو فرضِ عین بندگی قراردیتے ہیں:
’’پس اللہ کا نام پاک ہے اور اس کا دائمی ذکرِ جہر و ذکرِ خفیہ فرض عین بندگی ہے جس سے دل کو زندگی نصیب ہوتی ہے‘‘-
اقبالؒ فرماتے ہیں :
|
گفت مرگِ عقل؟ گفتم ترکِ فکر |
’’اس نے مجھ سے پوچھا، عقل کی موت کیا ہے میں نے جواب دیا فکر کو ترک کر دینا - پھر اس نے پوچھا ، دل کی موت کیا ہے میں نے کہا ذکر کو ترک کردینا ‘‘-
یہ ذکر محض زبانی مشق نہیں بلکہ اپنی ہر سانس کو دائمی یادِ الٰہی میں لگانا ہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَہْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ‘‘[10]
’’اور اپنے رب کا اپنے دل (سانسوں کے ساتھ) میں ذکر کیا کرو عاجزی و زاری اور خوف و خستگی سے اور میانہ آواز سے پکار کر بھی، صبح و شام (یادِ حق جاری رکھو) اور غافلوں میں سے نہ ہوجاؤ‘‘-
دل اور نظر کی طہارت کےلیے روحانی تربیت ناگزیز ہے:
|
علم کا مقصود ہے پاکی عقل و خرد |
یہاں اقبالؒ علم کو عقل و خرد کی تطہیر اور فقر کو قلب و نگاہ کی پاکیزگی سے جوڑتے ہیں- گویا علم عقل کو سنوارتا ہے مگر روحانی تربیت قلب و نگاہ کو پاکیزہ بناتے ہیں- لہٰذا فقر یعنی روحانیت میں کمالات کے حامل فقیر ِ کامل کا مطمعِ نظر معاشرے میں عفّت قلب و نگاہ کی عملی ترغیب دینا ہے -
ڈیجیٹل بے حیائی کے اس دور میں سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ کی خانقاہ عالیہ سے فقر ِ محمدی (ﷺ) کے وارث و امین، مردِ خودآگاہ و فقیرِ کامل سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے انسانیت کی ظاہری وباطنی تربیت اور تکمیل و تطہیر ِانسانی کے لیے اسم اللہ ذات کے قلبی ذکر (سانسوں کے ساتھ دل میں ذکر کرنا ) کو عام فرمایا جو آج بھی آپ ؒ کے آستانہ سے فی سبیل اللہ بانٹاجاتا ہے -اسم اللہ ذات وہ عظیم نعمت و اَرفع ترین روحانی قوت ہے جو نگاہ کو ضبط ، قلب کو پاکیزگی اور باطنی حیات عطا کرتی ہے- جب اسم اللہ ذات کا نور دل میں قرار پکڑتا ہے تو نگاہ خود بخود حیا و عفت کی پابند ہونے لگتی ہے- آج روحانی و اخلاقی تربیت، تصفیہ نگاہ و قلب اور ضبطِ نفس کیلئے اسم اللہ ذات کا قلبی ذکر ہر نوجوان کی ضرورت ہے جواسے ڈیجیٹل یلغار سے بچا کر معاشرے کا ایک باعفت و باحیاء اور پاکدامن شخص بنا دیتا ہے-
آئیے ! ڈیجیٹل فتنوں کے اس دور میں ذکر و تصورِ اسم اللہ ذات حاصل کرکے اپنے ظاہر و باطن کو پاک اور قلب و روح کو بیدار کریں تاکہ معاشرہ عفت، حیا اور پاکدامنی کا گہوارہ بن سکے-
٭٭٭
[1]Screen addiction, Published in The Express Tribune, May 12th, 2023
[2]The Silent Rise of Screen Addiction in Pakistan, By Wali Muhammad Khan, Ajar Wahid and Muhammad Ibrahim Usman / June 1, 2026
[3]Sexual-themed content and its linkages with education: views and practices of students in Pakistan, Muhammad Asad Latif, Published by Springer Nature
[4](النور:30)
[5](سهم إبليس وقوسه،عبد الملك بن قاسم، الناشر: دار القاسم)
[6]The Role of Hadith in Shaping Digital Spirituality: An Analysis of Texts on Controlling the Gaze and the Heart, Retno Endah Kusuma Wardani, Nasrulloh Nasrulloh, Pelita: Jurnal Studi Islam Mahasiswa UII Dalwa, Vol.3, No.1, November 2025, 93-106
[7](ایضاً)
[8](صحیح بخاری، کتاب الایمان)
[9](مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الدعوات)
[10](الاعراف:205)