خرد کو غلامی سے آزاد کر

خرد کو غلامی سے آزاد کر

خرد کو غلامی سے آزاد کر

مصنف: ڈاکٹر ادریس آزاد نومبر 2026

اکیسویں صدی کا دوسرا رُبع شروع ہو چکا ہے-آج سے تقریباً 90 برس پہلے، 1935ء میں، اپنی وفات سے فقط تین برس قبل، اقبال کا مجموعۂ کلام ’’بالِ جبریل‘‘ شائع ہوا، جس میں ان کی بے مثال نظم ’’ساقی نامہ‘‘ شامل ہے- اس نظم کو پڑھیے تو ایک عجیب کیفیت طاری ہوتی ہے- ایسا لگتا ہے کہ اقبال روئے زمین کے حالات پر نگاہ ڈال رہے ہیں اور دیکھ رہے ہیں کہ دنیا انگڑائی لے رہی ہے، عالمی حالات تیزی سے کروٹ بدل رہے ہیں- گراں خواب چینی سنبھلنے لگے ہیں، ہمالہ کے چشمے ابل رہے ہیں- سرمایہ دارانہ نظام رخصت ہوا چاہتا ہے اور وہ عقلی علوم جنہوں نے صدیوں تک اس نظام کی پرورش کی تھی، اب بوسیدگی کا شکار ہیں- مگر جب یہی نگاہ مسلم اُمّہ کی طرف پلٹتی ہے تو انہیں مسلمانانِ عالم ابھی تک خوابِ غفلت میں ڈوبے دکھائی دیتے ہیں- دنیا بدل رہی ہے اور مسلمان اپنی موروثی بندشوں سے نکلنے پر آمادہ نہیں- تب اقبال اپنے ساقی سے دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہیں:

شرابِ کہن پھر پلا ساقیا
وہی جام گردش میں لا ساقیا
مجھے عشق کے پر لگا کر اُڑا
مری خاک جگنو بنا کر اُڑا
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر
تڑپنے پھڑکنے کی توفیق دے
دلِ مرتضیٰؓ، سوزِ صدیقؓ دے

غلامی کا لفظ سنتے ہی انسان کے ذہن میں پہلا خیال جسمانی غلامی کا آتا ہے، زنجیروں میں جکڑا ہوا ایک آدمی، جو آزادی سے جی نہیں سکتا کیونکہ اس کے جینے کا اختیار کسی اور کے ہاتھ میں ہے- لیکن غلامی صرف جسم کی نہیں ہوتی- ذہنی غلامی اس سے کہیں زیادہ موذی اور ظالم ہے- ذہنی طور پر غلام آدمی کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ زنجیروں کو زیور سمجھ کر خود برضا و رغبت اپنے گلے میں ڈال لیتا ہے- عمیر نجمی نے اسی کیفیت کو کتنی خوبی سے کہا ہے:

نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ
اب اس پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے

تاہم اقبال کے مصرعے ’’خرد کو غلامی سے آزاد کر‘‘ میں ذہنی غلامی سے بھی آگے ایک اور طرح کی غلامی کا ذکر ہےاور وہ فکری غلامی ہے- ذہنی غلامی کسی قوم کے عام لوگوں کو اپنی گرفت میں لیتی ہے، جبکہ فکری غلامی کا شکار اس کے مفکرین ہو جاتے ہیں- ایسی قوم علمی اعتبار سے غالب اور مستبد قوموں کی محتاج ہونے لگتی ہے- اس کے لکھاری، صحافی، اہلِ علم اور اہلِ قلم غالب اقوام کے مقرر کردہ دائروں سے آگے بڑھنے کی جرأت کھو بیٹھتے ہیں- علم و تحقیق میں ان کا رویہ معذرت خواہانہ ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اپنے ہی علمی خزانوں کی طرف لوٹتے ہوئے انہیں جھجک اور شرمندگی محسوس ہونے لگتی ہے- اقبال کا مطمحِ نظر ان کے ایک اور شعر سے مزید کھل جاتا ہے:

خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زُنّاری
نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الٰہ الا اللہ

زُنّار اس دھاگے کو کہتے ہیں جو مذہبی وابستگی کی علامت کے طور پر پہنا جاتا ہے- اقبال کہہ رہے ہیں کہ عقل نے زمان و مکاں سے باقاعدہ وفاداری کا عہد کر لیا ہے، خردزمان و مکاں کی غلام ہوگئی ہے، یعنی وہ انہیں تحقیق کی شرطیں اور اوزار نہیں، حقیقت کی آخری سرحد سمجھنے لگی ہے اور اس کے فوراً بعد ’’لا الٰہ الا اللہ‘‘ کا اعلان آتا ہے، جو زمان و مکاں کے تجربی وجود کو نہیں مٹاتا، صرف ان کے آخری اور مطلق ہونے کی نفی کرتا ہے- اب سوال یہ ہے کہ زمان و مکاں کی یہ غلامی آخر ہے کیا؟

عہدِ حاضر کے علوم بنیادی طور پر قابلِ پیمائش اشیا کی پیمائش اور ان کے باہمی تناسب کے مطالعے کے علوم ہیں اور یہ پیمائشیں زمان و مکاں کے بغیر ممکن نہیں- جدید زبان میں یہی زمان و مکان (time and space) ہیں- ہم جب کسی شے کو جاننے لگتے ہیں تو اسے انہی دونوں کے پیمانوں پر رکھ کر دیکھتے ہیں- اس کا حُجم مکاں میں ناپا جاتا ہے اور اس کا قیام، اس کی تبدیلی اور اس کی مدت زمانے میں- پھر دیکھا جاتا ہے کہ وہ دوسری اشیا پر کیا اثر ڈالتی ہے اور ان سے کیا اثر لیتی ہے- اس مطالعے کا بنیادی طریقہ علت و معلول (cause and effect) کی تحقیق ہے- ماچس کی تیلی سے خشک تنکوں کو آگ لگائی جائے تو آگ علت ہے اور تنکوں کا جل اٹھنا معلول- اس ترتیب میں علت پہلے آتی ہے اور معلول بعد میں اور یہ ’’پہلے‘‘ اور ’’بعد‘‘ کا تصور ہمارے ذہنوں میں زمانِ متسلسل (serial time) ہی کا مرہونِ منت ہے- اقبال اپنے خطبات (The Reconstruction of Religious Thought in Islam) میں لکھتے ہیں:

’’زمانِ متسلسل علّیت کی جان ہے، جیسا کہ کانٹ نے اس کی تعریف کی ہے‘‘-

یہ تصور بے حد کارآمد ہے، مگر کیا زمانہ بس وہی ہے جو گھڑی ناپتی ہے؟ ذرا سوچیے! انتظار کا ایک گھنٹہ اور کسی عزیز دوست کی صحبت کا ایک گھنٹہ گھڑی میں برابر ہیں، مگر جس پر گزرتے ہیں اس کے لیے برابر نہیں ہوتے- گھڑی مقدار بتاتی ہے جبکہ انسانی زندگی اس مقدار میں یاد، امید اور اندیشہ بھی گھول دیتی ہے- گھڑی کی پیمائش غلط نہیں، مگر وہ اس کیفیت کا بدل نہیں جس سے انسان گزر رہا ہے-

پیمائش کی ایک اور مثال رفتار ہے، جسے میٹر فی سیکنڈ میں ظاہر کیا جاتا ہے- میٹر مکاں کی پیمائش کی اکائی ہے اور سیکنڈ زمانے کی- مادہ، توانائی اور ان کے باہمی تناسبات اسی طرح ہمارے علم میں آتے ہیں- بالفاظِ دیگر، اگر خرد زمان و مکاں کی غلام ہو کر سوچے گی تو صرف انہی چیزوں کو موضوعِ مطالعہ ٹھہرائے گی جنہیں معروضی زماں و مکاں کے پیمانوں پر ناپا جا سکے جیسے ولاسٹی، اسراع، مادہ ، توانائیاں، اور جس شے کی پیمائش ممکن نہ ہو، وہ اس کے لیے علم کا موضوع ہی نہیں رہے گی- تب محبت، نفرت، غصہ، حسن، ذوق، فن اور موسیقی کہاں جائیں گے؟ کسی سُر کا حسن کس پیمانے میں ناپا جائے گا؟ کسی شعر کی خوبی کتنے میٹر اور کتنے سیکنڈ ہے؟ ایک تصویر سامنے رکھی ہے، اس کا کتنا حصہ خوب صورت ہے اور کتنا بُرا؟ رنگوں کی مقدار یا آواز کی فریکوئنسی معلوم کر لینا اس حسن کا علم نہیں جو انسان کے باطن کو چھوتا ہے- زمان و مکاں کی اسیر خرد اِن سب حقیقتوں کو اپنے پیمانوں میں سمیٹ نہیں پاتی اور اسی لیے انہیں علم کا موضوع ماننے سے گریز کرتی ہے-

ایک قدم آگے بڑھ کر دیکھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ قابلِ پیمائش اشیا کے مطالعے سے جو علوم برآمد ہوتے ہیں، وہ ہمیں ہمیشہ ماضی کی خبر دیتے ہیں، کیونکہ علت و معلول کی تحقیق کسی موجود صورت کو اس کے پہلے کے اسباب تک لے جاتی ہے- یہ کائنات کیسے وجود میں آئی؟ نظامِ شمسی کیسے بنا؟ زمین نے اپنی موجودہ صورت کیسے پائی؟ زمین پر زندگی کیسے پیدا ہوئی اور زندگی کے پاس شعور کیسے آیا؟ ان سب سوالوں میں نگاہ پیچھے کی طرف جاتی ہے- مستقبل کے بارے میں کہ اب آگے کیا کرنا ہے، یہ علوم ہمیں اعداد و شمار کی مدد سے کی گئی پیش گوئیوں کے سوا کچھ نہیں دے سکتے- اقبال اسی بات کو ایک شعر میں یوں کہتے ہیں:

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے
کہ میں اس فکر میں رہتا ہوں، میری انتہا کیا ہے

اور اسی مضمون کا ایک اور شعر ہے:

حیراں ہے بُوعلی کہ میں آیا کہاں سے ہُوں
رومی یہ سوچتا ہے کہ جاؤں کدھر کو میں

بوعلی کی حیرت کا رخ ماضی کی طرف ہے کہ میں کہاں سے آیا- رومی کا سوال مستقبل کا ہے کہ مجھے کدھر جانا ہے- سائنسی علوم بے حد ضروری ہیں اور ان کے بغیر کسی قوم کی ترقی ممکن نہیں، لیکن وہ حقیقت کے صرف ایک رخ پر نظر رکھتے ہیں، جسے میں اپنے الفاظ میں ’’ کائناتی طرزِ فکر‘‘ (cosmological way of thinking) کہتا ہوں- اس کے مقابل ایک دوسرا رخ بھی ہے، ’’غایتی طرزِ فکر‘‘ (teleological way of thinking) جس میں مقاصد پر نظر رکھی جاتی ہے اور مقاصد کا تعلق مستقبل سے ہے- اقبال کے نزدیک خرد کو ان دونوں طریقوں سے کام لینا ہے-

صرف ایک مثال دیکھیے! ایک نوجوان وکیل بننا چاہتا ہے- ابھی اس کی تعلیم مکمل نہیں ہوئی، وہ عدالت میں پیش بھی نہیں ہوا، لیکن یہ مستقبل آج ہی اس کی زندگی کو ترتیب دے رہا ہے- اس کی پڑھائی، اس کے اوقات، اس کے دوستوں کا انتخاب، حتیٰ کہ اس کی قربانیاں بھی اسی مقصد کے تابع ہو چکی ہیں- یہاں علت و معلول کی وہ ترتیب الٹ گئی ہے جو ماضی کے علوم میں ہوتی ہے- وہاں علت پہلے آتی تھی اور معلول بعد میں-یہاں مقصد، جو مستقبل میں ہے، علت کا کردار ادا کر رہا ہے اور اس کا معلول، یعنی نوجوان کی کوشش، حال میں موجود ہے- اقبال کے تصورِ مقصد کی روشنی میں یہی فرق ہے کہ علت باہر سے عمل کرتی ہے اور مقصد اندر سے- میکانکی سبب پیچھے سے دھکیلتا ہے، جبکہ مقصد آگے سے کھینچتا ہے- اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ مستقبل کوئی بنا بنایا نقشہ ہے جس کی فقط نقل اتارنی ہو- مستقبل کھلا ہے مگر خالی نہیں، بامقصد ہے مگر پہلے سے طے شدہ نہیں-

اقبال کا یہ نقطۂ نظر براہِ راست قرآنِ کریم سے ماخوذ ہے- ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’سَنُرِیْہِمْ  اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِیْٓ  اَنْفُسِہِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ  لَہُمْ  اَنَّہُ  الْحَقُّ‘‘ [1]

’’عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے اپنے نفسوں میں بھی، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے کہ یہی حق ہے‘‘-

گویا قرآن کریم کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی نشانیاں، جو بجا طور پر کائنات ہی کی تشریحات ہیں، دو جگہ دیکھنے کے لائق ہیں- کائنات کو آفاق کے علوم سے بھی سمجھا جائے اور انفس کے علوم سے بھی- محبت اور نفرت کا مطالعہ علم سمجھ کر کیا جائے، حسن اور فن کو بھی علم مانا جائے، کیونکہ یہ بھی کائنات ہی کی تشریح ہے- کائناتی طرزِ فکر اکیلا کافی نہیں، غایتی طرزِ فکر بھی اتنا ہی ضروری ہے- انفس کی طرف رخ کرنے کا مطلب انسان کا اپنے اندر اترنا ہے، جہاں وہ اپنے شعور، ارادے، مقصد، قدر اور روحانی تجربے کو پہچانتا ہے- علم النفس اور روحانیت اسی میدان کے نام ہیں- یہ وہ میدان ہے جسے پیمائش کی عقل نے اپنی دنیا سے باہر رکھ دیا تھا، مگر جسے باہر رکھ کر انسان کا کوئی بیان مکمل نہیں ہو سکتا-

اقبال اس بات پر بھی بار بار متنبّہ کرتے ہیں کہ جزوی علم کو حقیقت کا مکمل بیان نہ سمجھ لیا جائے- کسی شے کا باریک مطالعہ کرنے کے لیے اسے بعض تعلقات سے الگ کرنا پڑتا ہے- طبیعیات مادے کی چند خصوصیات چنتی ہے، حیاتیات زندگی کو دیکھتی ہے اور نفسیات ذہن کو- اس چناؤ سے علم میں صحت اور گہرائی آتی ہے، مگر مادہ، زندگی، ذہن، مقصد، قدر اور شعور کے باہمی رشتے کا جواب کوئی ایک علم اکیلا نہیں دے سکتا- اپنے خطبات میں اقبال نے اس صورتِ حال کی نہایت سخت تشبیہ دی ہے:

’’فطری علوم (فزکس، کیمسٹری، بیالوجی وغیرہ) کی مثال ان گِدھوں اورچیل کوّوں کی سی ہے جو فطرت کی لاش پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور ہر ایک اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا لے کر بھاگ نکلتا ہے‘‘-

اس تشبیہ کو سائنس کی توہین سمجھنا درست نہ ہوگا- سائنس کو الگ کرنا ہی پڑتا ہے اور اسی لیے وہ جس فطرت کا مطالعہ کرتی ہے وہ اقبال کے الفاظ میں ’’ایک بہت مصنوعی چیز‘‘ ہے- اس لیے نہیں کہ وہ غلط ہے، بلکہ اس لیے کہ اسے ایک مقصد کے تحت چنا گیا ہے- غلطی وہاں ہوتی ہے جہاں چنا ہوا ٹکڑا خود کو زندہ کُل کے طور پر پیش کرنے لگے-کسی شعر کے ایک مصرعے کی مثال لیجیے- اس کے سارے لفظ لغت میں موجود ہوں، تب بھی لغت کے معنی الگ الگ جمع کر لینے سے مصرعے کی تاثیر حاصل نہیں ہوتی- لفظ جملے سے معنی لیتا ہے، جملہ سیاق سے اور پوری تحریر انسانی تجربے سے- حصوں کو سمجھنا ضروری ہے، مگر ان کے رشتے اور مجموعی صورت کو نظرانداز کر دیا جائے تو بہت کچھ اوجھل رہ جاتا ہے-

یوں اقبال کی دعا کا مطلب یہ ہوا کہ خرد کو سائنس پرستی اور خشک عقلیت پسندی (rationalism) کی قید سے آزاد کیا جائے- عقل خود ،عقلیت پسندی سے کہیں وسیع چیز ہے- اس میں مشاہدہ، تجربہ، یادداشت، تخیل، استدلال، اخلاقی پہچان اور اقبال کے نزدیک وجدان اور دینی تجربہ بھی شامل ہیں- عقلیت پسندی عقل کا ایک خاص اور منظم استعمال ہے جو مظاہرِ فطرت ، مجردعقلی تصورات اور ثابت کیے جا سکنے والے نتائج کی تلاش میں رہتا ہے- اقبال فکر اور وجدان کو ایک دوسرے کا حریف نہیں سمجھتے- ان کا استدلال یہ ہے کہ دونوں ایک ہی جڑ سے پھوٹتے ہیں اور ایک دوسرے کے محتاج ہیں- ان کا نشانہ وہ مغرور مگر سطحی عقلیت پسندی ہے جو فکر کو اس کے محدود تصورات کی دیواروں میں ہمیشہ کے لیے قید سمجھتی ہے اور جب یہی عقلیت پسندی عام لوگوں کی سطح پر پہنچتی ہے تو ’’سائنس پرستی‘‘ (scientism) بن جاتی ہے، یعنی یہ عقیدہ کہ صرف وہی چیز حقیقی اور بامعنی ہے جسے سائنس ناپ سکے، دہرا سکے اور سب کے سامنے ثابت کر سکے- سائنس عقل کا کارنامہ ہے اور سائنس پرستی اس کارنامے کو ایک ایسی مابعد الطبیعیات میں بدل دینا ہے جو باقی سب کچھ خارج کر دے- عقل ایک سلطنت ہے اور عقلیت پسندی اس کا ایک محکمہ- غلامی اس وقت شروع ہوتی ہے جب محکمہ خود کو پوری سلطنت قرار دے دے-

دلچسپ بات یہ ہے کہ آج خود سائنس کے اندر سے ایسی آوازیں اٹھ رہی ہیں جو اسی حد کی طرف اشارہ کرتی ہیں- کمپیوٹیشنل سائنسز کے ماہر اورمعروف ریاضی دان اسٹیفن وولفرام (Stephen Wolfram) کہتے ہیں کہ نہایت سادہ قاعدے بھی ایسے پیچیدہ نتائج پیدا کر سکتے ہیں جنہیں پہلے سے جاننے کا کوئی مختصر راستہ موجود ہی نہیں ہوتا- ان کا انجام دیکھنے کے لیے نظام کو خود چلنا پڑتا ہے- یعنی کسی قانون کا علم مستقبل پر قبضہ نہیں اور اِیان میک گلکرسٹ (Iain McGilchrist) توجہ کے دو طریقوں میں فرق کرتے ہیں، جو دماغ کے دو نصف حصوں سے وابستہ ہیں- ایک طریقہ چیزوں کو الگ کرتا، ناپتا اور خانوں میں بانٹتا ہے اور ایک سادہ نقشہ بنا لیتا ہے- دوسرا طریقہ ان کے سیاق وسباق، رشتوں اور زندہ کُل کو دیکھتا ہے- یعنی بایاں دماغ اشیا کے اجزاء کو الگ الگ دیکھتاہے، جبکہ اس کی مکمل تصویر دماغ کا دایاں حصہ دیکھتاہے-نقشہ ضروری ہے- راستہ نقشہ ہی دکھاتا ہے- مشکل اس وقت ہوتی ہے جب ہم نقشے کو شہر سمجھ بیٹھیں اور بھول جائیں کہ اس نقشے کو بناتے ہوئے شہر کا کیا کیا کچھ چھوڑدیاگیا تھا- یہ اس غلامی کی ایک جدید تصویر ہے جس کی طرف اقبال اشارہ کر رہے ہیں- یہ بھی واضح رہے کہ دونوں کا مؤقف ایک نہیں- وولفرام حسابی توضیح کی وسعت دکھاتے ہیں، جبکہ میک گلکرسٹ کے نزدیک شعور، قدر، محبت اور حسن حقیقت کی گہری ساخت کا حصہ ہے- اقبال اس مقام پر میک گلکرسٹ کے زیادہ قریب دکھائی دیتے ہیں-

یہاں تک پہنچ کر بات آزادی کی طرف بڑھتی ہے، کیونکہ اقبال کی پکار محض ایک بڑے نظریے کی نہیں، آزادی کی پکار ہے- انسان پر حیاتیات، تاریخ، معاشرے اور حالات کا اثر ضرور ہوتا ہے، مگر اثر کا مطلب مکمل جبر نہیں- اقبال انسان کو ایک تخلیقی سرگرمی اور ترقی کرتی ہوئی روح کہتے ہیں، جو قوتوں کے مطابق اپنے آپ کو ڈھالتا ہے، ان کا مقابلہ کرتا ہے، ان کا رخ بدلتا ہے اور اپنی اور اپنی دنیا کی تقدیر بنانے میں شریک ہوتا ہے- الٰہی عمل انسانی عمل کو ختم نہیں کرتا، اس کی توسیع کرتا ہے- ارشادِ باری تعالیٰ  ہے:

’’اِنَّ اللہَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوْا مَابِاَنْفُسِہِم‘‘[2]

’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے‘‘ -

ایسی آزادی نہ بے سبب فعل کا نام ہے اور نہ تاریخ سے باہر معلق کسی خالی ارادے کا- اس کے لیے ایک حقیقی ذات چاہیے جو مختلف اثرات کو جمع کر کے جواب کی صورت دے اور اس جواب کی ذمہ داری قبول کرے- اسی ذات کا نام خودی ہے اور خودی بے قید خواہش نہیں- سُر کی پابندی گانے والے کی صلاحیت کو مٹاتی نہیں، اسے اظہار دیتی ہے؛ زبان کے قواعد شاعر کو خاموش نہیں کرتے، اسے معنی پیدا کرنے کے وسائل دیتے ہیں- اسی طرح عزم، ضبطِ نفس اور جواب دہی آزادی کے دشمن نہیں، اس کی تربیت ہیں- آزادی کے لیے ایسا باشعور فاعل چاہیے جو معنی اور قدر کو پہچان سکے-

اب ایک آخری سوال باقی ہے- علم ہمیں بتا سکتا ہے کہ ہم کیا کر سکتے ہیں- کیا وہ اسی طریقے سے یہ بھی بتا سکتا ہے کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ سائنس یہ سمجھا سکتی ہے کہ ایٹم کو کیسے توڑا جائے، جینزمیں کیسے تبدیلی کی جائے، مگر یہ فنی بیان خود بخود یہ طے نہیں کرتا کہ عمل منصفانہ ہے یا نہیں- کسی طریقے کا کامیاب ہونا اس کے منصفانہ ہونے کی ضمانت نہیں- اور اگر ’’اچھا‘‘ کا مطلب صرف ’’فائدہ مند‘‘ رہ جائے تو پھر بھی پوچھنا پڑے گا کہ کس کے لیے، کتنی مدت تک اور کس کی قیمت پر؟ ایک بے گناہ آدمی محض اس لیے قابلِ قربانی نہیں ہو جاتا کہ اس کے نقصان سے بہت سے لوگوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے- اقبال نے اسی صورتِ حال کو ایک شعر میں سمیٹ دیا ہے:

وہ حکمت ناز تھا جس پر خرد مندانِ مغرب کو

ہوس کے پنجۂ خونیں میں تیغِ کارزاری ہے

اقبال یہ نہیں کہتے کہ حکمت بذاتِ خود ہتھیار ہے- فاعل ’’ہوس‘‘ ہے، یعنی حرص، خواہش اور طاقت و ملکیت کی بھوک- علم قدرت پیدا کرتا ہے، مگر جب وہ کسی اعلیٰ مقصد کی پہچان نہ دےسکے تو پہلے سے غالب خواہش خود مقصد بن بیٹھتی ہے- حکمت تلوار اس لیے بنتی ہے کہ اسے قید کر لیا گیا ہے- یوں فکری غلامی اپنی آخری منزل پر پہنچ کر سماجی غلامی بن جاتی ہے، بکھرا ہوا تصورِ حقیقت، بکھرا ہوا علم پیدا کرتا ہے، بکھرا ہوا علم بے پناہ طاقت اور اخلاقی افق سے خالی طاقت کو ہوس، منافع اور پروپیگنڈا ہتھیا لیتے ہیں- پھر تعلیم میں سوال کی جگہ رٹا، سیاست میں دلیل کی جگہ وابستگی اور ابلاغ میں سچ کی جگہ اثراندازی اہم ہونے لگتی ہے-

چنانچہ یہی وجہ ہے کہ فکری غلامی میں گرفتار قومیں اپنے علمی خزانوں کی طرف لوٹتے ہوئے جھجکنے لگتی ہیں- اپنے ورثے کی طرف رجوع کا مطلب اس کی ہر تعبیر کو آخری سچ مان لینا نہیں- اقبال نے جدید علم کا گہرا مطالعہ کیا، مگر اپنی روایت کے سامنے معذرت خواہ بن کر کھڑے نہیں ہوئے- دونوں کو سامنے رکھ کر سوال اٹھایا اور حقیقت کے زیادہ وسیع فہم کی جستجو کی- ان کی دعا ہمیں بھی یہی جرأت دیتی ہے کہ علم کے کسی ایک سانچے کو فکر کی آخری حد نہ سمجھیں-

اب ساقی نامہ کی اس دعا کی طرف لوٹیے جس سے بات شروع ہوئی تھی- اقبال ’’خرد کو غلامی سے آزاد کر‘‘ سے پہلے ’’مجھے عشق کے پر لگا کر اُڑا‘‘ کہتے ہیں اور بعد میں ’’دلِ مرتضیٰؓ، سوزِ صدیقؓ دے‘‘- میری رائے میں یہ ترتیب اتفاقی نہیں- خرد کی آزادی دل کی بیداری سے الگ نہیں- آزاد خرد بے حد و حساب عقل کا نام نہیں- وہ ایسی عقل ہے جو اپنے اوزاروں کی حد جانتی ہے، آفاق کے ساتھ انفس کے لیے بھی کھلی رہتی ہے، قدر کو پہچانتی ہے اور اس مستقبل کی ذمہ داری قبول کرتی ہے جس کی تعمیر میں وہ شریک ہے- مقیّد عقل صرف یہ پوچھتی ہے کہ ہمیں کس نے پیدا کیا، آزاد عقل یہ بھی پوچھتی ہے کہ ہمیں کون بلا رہا ہے- مقیّد عقل طاقت پیدا کرتی ہے، آزاد عقل پوچھتی ہے کہ طاقت کس لیے ہےاور شاید یہی وہ مقام ہے جہاں علم حکمت بن جاتا ہے-

٭٭٭


[1](حٰمٓ السجدہ: 53)

[2](الرعد: 11)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر