آج ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو رہے ہیں جو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کا دور ہے-یہ تاریخِ انسانی کا بالکل نیا مرحلہ ہے، جس کی وسعت اور نتائج کا مکمل اندازہ شاید آج ہمارے لیے ممکن نہیں-جب انسان نے پہیہ ایجاد کیا تھا تو اس وقت شاید کسی نے یہ نہیں سوچا ہوگا کہ ایک دن دنیا کے ذرائع ابلاغ (Means of Communication) اتنے تیز رفتار ہو جائیں گے، تجارت اس قدر وسعت اختیار کر لے گی، لوگ ایک دوسرے کے اتنے قریب آ جائیں گے اور دنیا کے درمیان موجود فاصلے اس حد تک مٹ جائیں گے-
اسی طرح جب انسان نے انجن ایجاد کیا تو شاید کچھ لوگ اس کی ممکنہ ترقی کا اندازہ رکھتے ہوں، لیکن ہر انسان یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب یہی انجن سپرسونک طیاروں (Supersonic Aircraft) کی صورت اختیار کر لے گا، جو آواز کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے سفر کریں گے-
اسی لیے جب میں آج مصنوعی ذہانت کو دیکھتا ہوں تو مجھے پہیہ اور انجن یاد آتے ہیں- جب پہیہ ایجاد ہوا اور انجن نے ابتدائی طور پر کام شروع کیا، تب انسان یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ آنے والے سو برسوں میں یہ ایجادات انسانی زندگی اور تہذیب کو کس حد تک بدل دیں گی-
آج مصنوعی ذہانت کے معاملے میں بھی ہم شاید اسی مقام پر کھڑے ہیں- ایک عام انسان کی حیثیت سے میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ مصنوعی ذہانت ہمیں آنے والے زمانے میں کہاں لے جائے گی- لیکن ایک بات واضح ہےکہ مصنوعی ذہانت کے ساتھ انسان کا جو نیا تعلق قائم ہو رہا ہے اس کے کئی پہلو ہیں اور ان میں سب سے اہم انسان کی جذباتی زندگی ہے، کیونکہ جذبات ہماری شخصیت اور زندگی کا بنیادی حصہ ہیں-
اگر ہم بحیثیت انسان جذباتی طور پر مستحکم اور جذباتی خودمختاری (Emotional Sovereignty) نہیں رکھتے، تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مصنوعی ذہانت ہمارے لیے حقیقی معنوں میں مفید اور نفع بخش ثابت ہوگی-
جس طرح انسانی ذہن کے بارے میں کہا جاتا ہے: اگر آپ اپنے ذہن کو قابو میں نہیں رکھیں گے تو آپ کا ذہن آپ پر قابو پا لے گا-
بالکل یہی اصول مصنوعی ذہانت کے آلات (AI Tools) پر بھی لاگو ہوتا ہے- اگر آپ جذباتی طور پر مستحکم نہیں ہیں، اگر آپ اپنے جذبات پر اختیار نہیں رکھتے اور اگر آپ مصنوعی ذہانت کو اپنے مقصد کے مطابق استعمال کرنے اور اسے اپنی حدود میں رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے، تو ایک وقت ایسا آ سکتا ہے جب مصنوعی ذہانت آپ کو حکم دینے لگے گی، آپ کی رہنمائی کرنے لگے گی اور آپ کے فیصلوں پر اثرانداز ہونے لگے گی-
چند دن پہلے بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ایسی متعدد خبریں اور تحقیقات سامنے آتی رہی ہیں جن میں خودکشی کے مختلف واقعات، خصوصاً نوجوانوں میں خودکشی کی کوششوں کا ذکر کیا گیا- جب ایسے بعض واقعات میں متاثرہ افراد کے ساتھ انٹرویوز کیے گئے اور ان کی مشاورت (Counselling) کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے ساتھ کس نوعیت کا مکالمہ اور کس طرح کا مسلسل رابطہ قائم کیا تھا-بعض معاملات میں یہ مکالمہ طویل عرصے تک جاری رہا اور اس نے ان افراد کے خیالات اور رویوں پر گہرا اثر ڈالا، یہاں تک کہ بعض افراد خودکشی کی کوشش کی طرف بڑھ گئے-
ان واقعات اور مطالعات سے سامنے آنے والا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جو انسان مصنوعی ذہانت کے ساتھ مسلسل تعامل (Interaction) کر رہا ہے، اگر وہ جذباتی طور پر خودمختار نہیں ہے اور اپنے جذبات پر اختیار نہیں رکھتا تو وہ مشین کے اثر سے خود بھی تباہ ہو سکتا ہے اور مشین کے ذریعے دوسروں کے لیے بھی نقصان کا سبب بن سکتا ہے-کیونکہ دل انسان میں ہے، مشین میں نہیں-
اگر آپ جذباتی خودمختاری حاصل کر لیتے ہیں تو آپ اپنے جذبات کے اس پست درجے اور ان کے تاریک پہلو (Dark Side of Emotions) سے بلند ہونے کے قابل ہو جاتے ہیں، جو آپ کو کسی بڑے نصب العین کو اختیار کرنے سے روکتا ہے، آپ کو کوئی بڑا خواب دیکھنے نہیں دیتا اور آپ کی سوچ کو محدود کر دیتا ہے-
لیکن جب انسان اپنے ان کمزور اور منفی جذبات سے خود کو بلند کر لیتا ہے، جب اسے اپنے جذبات پر دسترس حاصل ہو جاتی ہے، جب اپنے جذبات کی باگ ڈور اس کے اپنے ہاتھ میں آ جاتی ہے اور وہ اپنے احساسات پر اختیار حاصل کر لیتا ہے، تو اس کے اندر ایک نئی قوت پیدا ہوتی ہے-پھر وہ اپنے لیے ایک بڑا نصب العین تخلیق کرنے کے قابل ہو جاتا ہے- وہ ایک بڑا خواب دیکھ سکتا ہے- انسان زندگی میں وہ جو کچھ کرنا چاہتا ہے، اس کا مقصداور اس کا ہدف زیادہ عظیم اور بامعنی ہو جاتا ہے-
سقراط (Socrates) نے کہا تھا:
“An unexamined life is not worth living.”
’’جو زندگی غور و فکر اور احتساب سے خالی ہو، وہ زندگی جینے کے لائق نہیں‘‘-
اگر انسان کی زندگی کا کوئی بڑا مقصد نہیں ہے، اگر وہ اپنی زندگی کو کسی بڑے نصب العین کے ساتھ نہیں جوڑتاتو سقراط کے نزدیک ایسی زندگی زیادہ بامعنی زندگی نہیں ہے-
اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ انسان یہاں ہمت ہار دے یا زندگی سے دست بردار ہو جائے- اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان یہاں سے ایک نئی زندگی کا آغاز کرے، اپنے جذبات پر غلبہ حاصل کرے، ان کے بے قابو بہاؤ کو روکیں اور اس کی جگہ وہ حقیقت، قوت اور اعلیٰ جذبات پیدا کرے جو بنی نوعِ انسان ہونے کے ناطے، حضرت آدم، حضرت نوح اور حضرت شیث(علیہ السلام) کی اولاد ہونے کے ناطے اور حضرت محمد مصطفیٰ (ﷺ) کا کلمہ گو ہونے کے ناطے آپ کو زیب دیتے ہیں-
اسی لیے اقبال کے ہاں نوجوان اور نوجوانی کا جو تصور ہے، اس میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ نوجوان جذباتی طور پر ذمہ دار (Emotionally Responsible) ہو، جذباتی طور پر مستحکم (Emotionally Stable) ہو اور جذباتی طور پر خودمختار (Emotionally Sovereign) ہو-
جب اقبال انسان کی مکمل آزادی کی بات کرتے ہیں تو اس آزادی میں صرف بیرونی غلامی سے نجات شامل نہیں، بلکہ سیاسی غلامی سے نجات بھی شامل ہے، نفسیاتی غلامی سے نجات بھی شامل ہے اور جذباتی غلامی سے نجات بھی شامل ہے-
جب انسان دنیا کو دیکھے تو اسے ایک آزاد انسان کی حیثیت سے دیکھے؛ ایسے انسان کی حیثیت سے جس نے اپنے باطل اور بے قابو جذبات (False Emotions) پر غلبہ حاصل کر لیا ہو، جو اپنے جذبات پر دسترس رکھتا ہو اور اپنے جذبات کا مالک ہو-
ایسا انسان صرف اس فطرت کے تابع ہوتا ہے اور ان احکام کی پیروی کرتا ہے جو اس کے پیدا کرنے والے نے اس کے لیے مقرر کیے ہیں- وہ اپنے جذبات کا غلام نہیں ہوتا، اپنے جذبات کے بہاؤ میں بہتا نہیں چلا جاتا، بلکہ اس کے جذبات اس کی پیروی کرتے ہیں، اس کے تابع ہوتے ہیں-اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کہاں مجھے اپنی بات مکمل کرکے "فل اسٹاپ" لگانا ہے-
یہی زندگی ہے اور زندگی بھی اپنی ایک تحریر کی طرح ہے، جس کی رموزِ اوقاف (Punctuation) آپ کو معلوم ہونی چاہییں-
جس طرح انسان اپنے کلاس روم میں کسی امتحان کے لیے پیراگراف لکھتا ہے، یا کسی بھی امتحان میں تحریری جواب دیتاہے تو استاد انسان کو سب سے پہلے یہ سکھاتا ہے کہ کہاں رموزِ اوقاف استعمال ہوں گے، جملہ کہاں مکمل ہوگا اور کہاں وقفہ دینا ہوگا- زندگی بھی انسان سے یہی رموزِ اوقاف (Punctuations) مانگتی ہے- لیکن انسان یہ رموزِ اوقاف اس وقت تک نہیں لگا سکتا جب تک اسے یہ معلوم نہ ہو کہ اس کے جذبے کی حقیقت کیا ہے، اس کی اصلیت کیا ہے، اس کا خلوص کیا ہے اور اس وقت وہ جذبہ اسے کہاں لے کر جا رہا ہے؟
زندگی میں ایک مقام ایسا آتا ہے جہاں انسان کو اپنے جذبات کے اس بہاؤ کے سامنے ایک فل اسٹاپ لگانا پڑتا ہے-اقبال کےنزدیک انسان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ مجھے کس مقام پر خاموش رہنا ہے، کون سی خوشی ہے جس میں مجھے خوش ہونا ہے، کون سا غم ہے جس میں مجھے غمگین ہونا ہے، کون سا مقام ہے جہاں مجھے جذباتی ہونا ہے اور کون سا مقام ہے جہاں مجھے پُرسکون اور ٹھہراؤ کے ساتھ رہنا ہے-یہ سب کچھ انسان کے اپنے ہاتھ میں ہونا چاہیے-
اگر انسان اپنی خوشی کے لیے دوسروں پر انحصار کرتا ہے تو اقبال کے نزدیک انسان کی مثال ایک آئینے کی طرح ہے- جب انسان آئینے کے سامنے ہنس رہا ہوتا ہے تو آئینہ بھی انسان کو ہنستا ہوا دکھاتا ہے- انسان رو رہا ہے تو آئینہ بھی روتا ہوا چہرہ دکھاتا ہے- انسان غصے میں ہو تو وہ غصے کی تصویر دکھاتا ہے- انسان پُرسکون ہو تو وہ چہرے پر وہی سکون دکھاتا ہے-
یعنی جب انسان اپنی خوشی کا انحصار دوسرے انسان پر کرتا ہے کہ وہ مجھے خوش کرے گا تو مجھے خوشی ملے گی، تو اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ جو شخص آپ کو خوشی دے سکتا ہے، وہ آپ کی خوشیوں کو تباہ بھی کر سکتا ہے-یعنی اگر کوئی آپ کو مشتعل (Escalate) کر رہا ہے تو آپ مشتعل ہو جائیں گے- کوئی آپ کو بے حد مضطرب (Hyper) کر رہا ہے تو آپ ویسے ہی ہائپر ہو جائیں گے- کوئی آپ کو غصہ دلا رہا ہے تو آپ غصے میں آ جائیں گے-اقبال کے نزدیک یہی جذباتی غلامی (Emotional Slavery) ہے-
اقبال اسی فلسفہ کو’’پیامِ مشرق‘‘ میں فرماتے ہیں:
|
مثلِ آئینہ مشو محو جمالِ دگراں |
’’آئینے کی مانند دوسروں کے حسن و جمال پر فریفتہ مت ہو، غیروں کا خیال اپنے دل اور آنکھ سے نکال دے‘‘-
|
در جہاں بال و پرِ خویش کشودن آموز |
’’دنیا میں اپنے بال و پر کھولنا سیکھ کیونکہ دوسروں کے بال و پر سے اڑا نہیں جا سکتا ‘‘-
اقبال کے نزدیک آپ کی زندگی اپنے ہی بال و پر کی احتیاج سے ہونی چاہیے- اگر کوئی آپ کے لیے خوشی لے کر آ رہا ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے، لیکن اگر آپ کی خوشیاں کسی دوسرے انسان پر منحصر ہیں تو حقیقتاً وہ آپ کی اپنی خوشی نہیں ہیں- اسی طرح اگر آپ کا ٹھہراؤ اور سکون کسی دوسرے شخص پر منحصر ہے تو وہ آپ کا اپنا سکون نہیں ہے-
آج لوگ مختلف چھوٹے چھوٹے گروہوں کے ہاتھوں کیوں استحصال (Exploitation) کا شکار ہو جاتے ہیں؟
اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ لوگ جذبات کی رو میں بہتے ہیں- وہ یہ تجزیہ (Examine) نہیں کر پاتے کہ کس بات پر مجھے جذباتی ہونا چاہیے اور کس بات پر مجھے ٹھہراؤ اختیار کرنا چاہیے-
اسی لیے کہا گیا ہے:
“Be the captain of your own ship.”
’’اپنی (زندگی کے) جہاز کے کپتان خود بنو‘‘-
علامہ اقبال نے نوجوانوں کو اسی بات کی طرف متوجہ کرنے اور رہنمائی دینے کی کوشش کی ہے کہ زندگی ہم سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم ایک ذمہ دار شہری (Responsible Citizen) بنیں، اپنی زندگی کیلیے دوسروں کے محتاج نہ ہوں، ہماری حقیقی خودی (True Ego) کسی کے احسان کے سامنے سرنگوں نہ ہو اور ہم اپنی خودی کو کسی کی محتاجی کے حوالے نہ کریں-اسی بات کی وضاحت کرتے ہوئے علامہ اقبال نے ’’اسرارِ خودی‘‘میں ایک پورا باب لکھا، جس کا عنوان ہے:
’’در بیان این کہ خودی از سوال ضعیف می گردد‘‘-
’’اس بات کے بیان میں کہ سوال کرنے سے خودی کمزور ہو جاتی ہے‘‘-
اس باب میں علامہ اقبال کہتے ہیں:
|
اے فراہم کردہ از شیراں خراج |
’’اے (مسلمان) کبھی جو تو شیروں سے خراج وصول کرتا تھا،اب حاجت مندی کے باعث تیری طبیعت لومڑی جیسی ہو گئی ہے‘‘-
اقبال کے نزدیک جب انسان دوسروں کا محتاج ہوتا ہےتو اس کے مزاج میں شیرجیسی دلیری باقی نہیں رہ سکتی- بلکہ اس کا مزاج لومڑی جیسا ہو جاتا ہے- اس میں مکاری و خوشامد آتی ہے، خوف آتا ہے، طمع و حرص آتی ہے اور سب سے بڑھ کر دوسروں کی محتاجی پیدا ہو جاتی ہے-
اس لئے اقبال کے نزدیک زندہ خودی والے انسان کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو دوسرے کا محتاج نہیں سمجھتا-جیسا کہ اقبال حضرت عمر(رضی اللہ عنہ)کی مثال دیتے ہیں:
|
از خُمِ ہستی مَے گلفام گیر! |
’’تو زندگی کے مٹکے سے مئے رنگین لے اور اپنا سرمایہ زمانے کی جیب سے حاصل کر ‘‘-
|
خود فرود آ از شتر مثلِ عمر |
’’حضرت عمر(رضی اللہ عنہ)کی طرح (اپنا گرا ہوا کوڑا اٹھانے کیلئے)خوداونٹ سے نیچے اتر، غیروں کا احسان اٹھانے سے بچ اور ضرور بچ‘‘-
ایک مرتبہ حضرت عمر(رضی اللہ عنہ)اپنے اونٹ پر سوار تھے اور اونٹ چلانے کا تازیانہ نیچے گر گیا- حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے اونٹ روکا، اس سے نیچے اترے، تازیانہ اٹھایا اور پھر اونٹ پر سوار ہو گئے-آپ کے ساتھ موجود خادم اس بات پر حیران ہوا- اس نے عرض کیا: امیرالمؤمنین! اس معمولی کام کیلئے آپ نے اپنی سواری اور قافلہ روک دیا؟ آپ مجھے حکم کرتے، میں آپ کی خدمت پر مامور ہوں، میں آپ کیلئے یہ تازیانہ اٹھا دیتا- حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے مجھے اونٹ سے اترنے اور اپنے ہاتھوں سے تازیانہ اٹھانے کی صلاحیت دی ہے تو میں تمہارے سامنے سوال کیوں کروں؟
یہی وہ بات ہے جس کی طرف اقبال اشارہ کرتے ہیں کہ جو کام انسان خود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ، اگر اس کام کے لیے بھی وہ کسی دوسرے کا محتاج ہے تو اقبال کے نزدیک اس کی خودی کمزور اور ضعیف ہے، وہ اپنی روحانی قوت کو مجروح اور اپنی شخصیت کو کمزور کرتا ہے-
اس کے بعد اقبال کہتے ہیں:
|
فطرتے کو بر فلک بندد نظر |
’’وہ بلند فطرت جو آسمان کی طرف نظر رکھتی ہے، دوسرے کے احسان سے پست ہو جاتی ہے‘‘-
اس کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کی زندگی کا مقصد بہت بڑا ہو وہ دوسرے کا احسان اٹھانے سے اپنے آپ کو پست محسوس کرتا ہے-اسی لیے انسان کی زندگی کے بنیادی اصولوں میں سے یہ ایک اصول ہے کہ وہ خود کو کسی کا احسان مند نہ بنائے-
اقبال کے ایک پیرو کار کے طور پہ ہمارا یہ اولین فریضہ ہے کہ ہم چیلنجز کا سامنا کریں، آسانی (Comfort Zone) سے باہر نکلیں، اور خود کو سہولتوں کا گرویدہ نہ بنائیں- اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے دنیا کی بہت سی بڑی تہذیبیں زیادہ تر ان خطوں میں پروان چڑھیں جہاں انتہائی سخت موسمی حالات (Extreme Weather Conditions) موجود تھے-
مثلاً جزیرۂ عرب کو دیکھیں، جہاں سے اسلام کا ظہور ہوا- آج آپ مکہ مکرمہ جائیں اور ایک ایسے خیمے میں رہنے کی کوشش کریں جس میں پنکھا نہ ہو، بجلی نہ ہو، ایئر کنڈیشن (Air Conditioning) نہ ہو- اس شدید گرمی اور تپش میں غارِ حرا تک جانے کی کوشش کریں، صحرا عبور کریں اور طوافِ کعبہ کریں-آج حرم شریف میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایسی بے شمار سہولیات موجود ہیں کہ انسان کو شاید محسوس بھی نہ ہو کہ وہ کسی مشقت میں مبتلا ہے- لیکن ذرا اس زمانے کو یاد کریں جب حضرت ہاجرہؑ نے صفا و مروہ کے درمیان چکر لگائے ہوں گے- اس وقت وہاں نہ ایئر کنڈیشن تھا، نہ ٹھنڈا فرش ، نہ ہر دس قدم پہ ٹھنڈے پانی کا انتظام اور نہ وہ سہولیات جو آج ہمیں میسر ہیں-
انسان جتنی زیادہ مشکلات اور چیلنجز کا سامنا کرتا ہے، اس کی قوت، خودی اور شخصیت اتنی ہی مضبوط اور مستحکم ہوتی جاتی ہے-اسی لیے علامہ اقبال کے نزدیک باطل خودی (False Ego) اور حقیقی خودی (Pure Ego) کے درمیان ایک بنیادی فرق یہ بھی ہے کہ انسان سہولتوں کو کس حد تک قبول کرتا ہے اور مشکل کو کس حد تک اختیار کرتا ہے-
اقبال کے نزدیک جو انسان جذباتی طور پر خودمختار (Emotionally Independent) اور جذباتی طور پر صاحبِ اختیار (Emotionally Sovereign) ہوگا، وہ اپنے لیے ہمیشہ مشکل راستے کو پسند کرے گا، اپنے لیے مشکل کام کو اختیار کرے گا اور چیلنج سے فرار نہیں ہو گا-
اقبال فرماتے ہیں:
|
شرعِ محبت میں ہے عشرتِ منزل حرام |
اقبال کے نزدیک محبت کی شریعت اور عشق کی دنیا میں ایک آزاد انسان کے لیے منزل کی عیش و عشرت حرام ہے- وہ کسی ایک مقام پر پہنچ کر یہ نہیں کہتا کہ اب یہی میری آخری منزل ہے- وہ جہاں پہنچتا ہے، وہاں سے آگے بڑھتا ہے؛ وہاں رک نہیں جاتا-وہ اپنے آپ کو طوفان کے اندر رکھنا پسند کرتا ہے- وہ ہمیشہ ساحل کے سکون اور آرام میں رہنا پسند نہیں کرتا، کیونکہ اس کی زندگی کا مقصد صرف آسائش حاصل کرنا نہیں بلکہ مسلسل آگے بڑھنا ہے-
آپ کا تعلق زراعت سے رہا ہے تو آپ جانتے ہیں کہ پرانے زمانے میں آسمانی بجلی فصلوں کو جلا سکتی ہے، درختوں کو جلا سکتی ہے- خاص طور پر اگر آپ شمالی علاقوں یا پہاڑی علاقوں میں جائیں تو آپ کو ایسے درخت بھی ملیں گے جن پر بجلی گری ہوتی ہے-اقبال کہتے ہیں کہ عشق اور آزادی بجلی کو پسند کرتے ہیں، حاصل کو نہیں- یعنی جو شخص آزادی اور عشق کی راہ پر چلتا ہے، وہ صرف حاصل شدہ چیزوں پر مطمئن نہیں ہو جاتا- وہ آسانی (Comfort Zone) کو توڑ کر باہر آتا ہے، مشکل کو قبول کرتا ہے اور آگے بڑھنے کی جستجو جاری رکھتا ہے-
جو آدمی جذبات پر اپنی خودمختاری حاصل کر لیتا ہے، دنیا کو دیکھنے کا اس کا نقطۂ نظر (Perspective) بھی بدل جاتا ہے-دنیا کو دیکھنے کے دو زاویۂ نظر ہیں: ایک شکار کا زاویۂ نظر اور دوسرا شکاری کا زاویۂ نظر-ہرن شکار ہے اور شیر شکاری-
ہرن صبح اٹھتا ہے تو سب سے پہلے ادھر اُدھر دیکھتا ہے کہ کہیں شیر تو نہیں آ رہا- ہرنوں کا ایک ریوڑ چراگاہ کی طرف جاتا ہے، گھاس چرتے ہوئے تالاب تک پہنچتا ہے اور پانی پینے لگتا ہے- چالیس ہرن پانی پی رہے ہیں، لیکن دو ہرن دو مختلف سمتوں میں کھڑے ہو کر مسلسل ادھر اُدھر دیکھ رہے ہیں کہ شیر تو نہیں آ رہا-وہ چراگاہ میں گھاس پر چل رہے ہوں، درختوں کی چھاؤں میں بیٹھے ہوں، کسی غار کے دہانے پر موجود ہوں، کہیں پہاڑ پر چڑھ رہے ہوں یا نیچے اتر رہے ہوں، ہر ہرن کی نگاہ ادھر اُدھر ہوتی ہے کہ شیر تو نہیں آ رہا، چیتا تو نہیں آ رہا، کوئی ایسا جانور تو نہیں آ رہا جو اسے پھاڑ کھائے-شام ہوتی ہے تو وہ سونے سے پہلے اپنے ٹھکانے کے اردگرد کی جگہ کو محفوظ کرتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ کہیں ان کا شکار کرنے والا، انہیں مارنے والا یا ان کا مقابلہ کرنے والا تو موجود نہیں-
اس کے برعکس جب شیر صبح اٹھتا ہے تو جیسے ہی اس کی آنکھ کھلتی ہے، اس کے ذہن میں سب سے پہلے یہ سوال ہوتا ہے کہ آج میں نے سب سے پہلا شکار کس چیز کا کرنا ہے؟وہ جس جانور اور پرندے کو دیکھتا ہے، اس نظر سے دیکھتا ہے کہ یہ میری خوراک اور غذا ہے-
آپ ان دونوں ذہنیتوں کا موازنہ کریں- ایک شیر کی سوچ ہے اور ایک ہرن کی سوچ- ایک شکار کی سوچ ہے اور ایک شکاری کی سوچ-شکاری کی سوچ ہمیشہ فاتح کی سوچ ہوتی ہے، جبکہ شکار کی سوچ مغلوب اور مفتوح کی سوچ ہوتی ہے- شکار ہر وقت اپنے آپ کو غیر محفوظ (Insecure) اور خطروں میں گھرا ہوا محسوس کرتا ہے-
اقبال کی فکر میں آپ جس کلمے کو پڑھتے ہیں’’لا الٰه إلا الله محمد رسول الله‘‘یہ کلمہ آپ کو شکار نہیں بناتا، یہ آپ کو شکاری بناتا ہے- یہ آپ کو ہرن نہیں بناتا، یہ آپ کو شیر بناتا ہے-اس لیے جب دنیا کو دیکھو تو شکار کی نظر سے مت دیکھو- دنیا کو شکاری کی نظر سے دیکھو، دنیا کو غالب کی نظر سے دیکھو، دنیا کو فاتح کی نظر سے دیکھو، دنیا کو ایک فاتح انسان کی نظر سے دیکھو-
دنیا میں جو قومیں زمین سے اٹھ کر آسمان کی بلندیوں تک جاتی ہیں، ان کے اندر ایک غالب نقطۂ نظر ہوتا ہے، مغلوب کا نقطۂ نظر نہیں؛ آقا کی ذہنیت ہوتی ہے، غلام کی نہیں؛ فاتح کی سوچ ہوتی ہے، مفتوح کی نہیں-وہ دنیا کو دیکھتے ہیں تو اسے محض ایک ایسی جگہ نہیں سمجھتے جہاں انہیں خود کو بچانا ہے، بلکہ اسے ایک ایسی دنیا سمجھتے ہیں جہاں وہ اپنے مقصد، اپنی صلاحیت اور اپنی قوت کے ساتھ داخل ہو کر کچھ دریافت اور تخلیق کر سکتے ہیں-
ایک آدمی جو زرعی علوم (Agricultural Sciences) پڑھتا ہے، اپنی ڈگری مکمل کرتا ہے، اس کی جسمانی صحت بھی اچھی ہے، پھر پولیس کی ملازمت کا اعلان ہوتا ہے، وہ اس میں امتحان دیتا ہے، منتخب ہو جاتا ہے- یہ اچھی بات ہے کہ وہ ایک پورے گھرانے کا کفیل بن گیا ، لیکن سوال یہ ہے کہ اس شخص نے زرعی علوم کے علم کو کس نظر سے دیکھا؟ اس نے علم حاصل کرنے کا مقصد (Purpose of Knowledge) کیا سمجھا؟
ایک دوسرا آدمی ہے جو زرعی علوم پڑھ کر ہائی اسکول میں سائنس کا استاد بن جاتا ہے- یہ بھی اچھی بات ہے- وہ ساری زندگی سائنس اور علم کی خدمت کرے گا- آخر اسکول سے پڑھ کر ہی کوئی طالب علم آگے یونیورسٹی تک جائے گا اور پھر سائنس دان بنے گا-
اس کے بعد ایک تیسرا آدمی ہے-فرض کر لیجیے کہ اس کا نام نارمن بورلاگ (Norman Borlaug) ہے-اب سوال یہ ہے کہ نارمن بورلاگ نے علم کو کس طرح دیکھا؟ کیا یہ ضروری ہے کہ ہم جب بھی علم حاصل کریں تو صرف اس لیے حاصل کریں کہ اس کے بعد ہمیں کوئی چھوٹی موٹی ملازمت مل جائے؟ یا ہم کہیں جا کر اسکول ٹیچر بن جائیں اور ہماری زندگی ایک محفوظ مقام (Comfort Zone) میں آ جائے، ہمارے پاس سرکاری وسائل اور سرکاری سہولیات حاصل ہو جائیں؟
کیا آپ نے ابھی تک اپنے اندر کے نارمن بورلاگ کو دریافت کیا ہے؟کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کے اندر بھی ایک نارمن بورلاگ ہو سکتا ہے؟ آپ کے اندر بھی ایک دریافت کرنے والا (Discoverer) ہو سکتا ہے- آپ کے اندر بھی ایک نوبیل انعام یافتہ (Nobel Laureate) بننے کی صلاحیت ہو سکتی ہے-فرق صرف جستجو کا ہے-علم وہی ہے، کتابیں وہی ہیں، تجربہ گاہیں وہی ہیں؛ فرق صرف اس بات کا ہے کہ آپ اس علم کے ساتھ کس طرح تعامل (interact) کرتے ہیں-
آپ علم کو شکار کی نظر سے دیکھتے ہیں یا شکاری کی نظر سے؟اقبال کہتے ہیں کہ :
|
در دشتِ جنونِ من، جبریل زبوں صیدے |
’’میرے جنون کے صحرا میں حضرت جبریلؑ بھی ایک عام شکار ہیں- اے ہمت مرداں یزداں پر کمند ڈال (اپنے اندر خدائی صفات کا رنگ پیدا کر اور یہ رنگ عشق رسول کی بدولت پیدا ہو سکتا ہے)‘‘-
یہاں ’’ یزداں بہ کمند آور‘‘ لفظی طور پر’’یزداں کو کمند میں لے آؤ‘‘ ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے بارے میں اس سے مراد حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ کو قابو میں لے آنا نہیں، وہ اس سے پاک ہے ، وہ تو ’’اِنَّ اللہَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘‘ہے ،بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ اے مردانہ ہمت! اپنی بلند ہمتی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی معرفت، محبت اور قرب میں خود کو وہاں تک لے جا کہ ’’خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے‘‘-
اقبال مذہب کو بھی ایک مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں- ظاہر ہے، گزشتہ کئی دہائیوں میں متشدد و اقتدار پرست ملائیت کے سبب مذہب کی جو جامد تعبیرات ہمارے سامنے رہی ہیں، انہوں نے شاید اتنی گنجائش نہیں چھوڑی کہ ہم اقبال کی اس تعبیر کو اس طرح سمجھ سکیں کہ وہ مذہب کو کس نظر سے دیکھتے ہیں اور وہ انسان میں کتنی ہمت اور دلیری پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ علم کے مسائل سے نبرد آزما ہو سکے-
اگر انسان علم کے میدان میں نارمن بورلاگ بننا چاہتا ہے، اگر خود کو کسی بلند مقام تک لے جانا چاہتا ہے، تو سب سے پہلے اس میں جذباتی استحکام (Emotional Stability) ہونا چاہیے جو اس کو ایک مقام پر ٹھہرنے نہ دے-انسان کے مقاصد اتنے بلند ہونے چاہییں کہ کوئی معمولی کامیابی اس کو مطمئن نہ کر سکے-
جب انسان پیامِ مشرق میں علامہ اقبال کی نظم کا یہ حصہ دیکھتا ہےتو حیران رہ جاتا ہے کہ اتنے بلند مقاصد بھی کسی انسان کے ہو سکتے ہیں کہ وہ کسی مقام پر ٹھہرے نہیں، کسی جگہ رکے نہیں، کوئی چیز اس کے پاؤں کی زنجیر نہ بن سکے، کوئی منظر اسے ٹھہرا نہ سکے اور کوئی مشکل اسے روک نہ سکے- وہ ہر چیز سے آگے، مزید آگے اور مزید آگے بڑھنا چاہتا ہے-اقبال فرماتے ہیں:
|
چہ کنم کہ فطرتِ من بہ مقام در نسازد |
’’میں کیا کروں کہ میری فطرت ایک مقام پر قناعت نہیں کرتی -میں اس صبا کی مانند جو ، لالہ میں سے گزر جاتی ہے، بے قرار دِل رکھتا ہوں‘‘-
|
چو نظر قرار گیرد بہ نگار خوبروئے |
’’جب میری نظر ایک حسین چہرے پر ٹِکتی ہے تو اسی لمحے میرا دل اس سے بڑھ کر حسین کے لئےتڑپنے لگتا ہے ‘‘-
اقبال کی فکر یہ ہے کہ انسان ایک مقام پر رک کر خود کو مکمل نہ سمجھے- جب وہ ایک خوب صورت منظر دیکھے تو اس سے آگے کے حسن کی تلاش کرے، جب ایک چنگاری دیکھے تو ستارے کو تلاش کرے، جب ستارہ دیکھے تو سورج کی جستجو کرے-کیونکہ جو انسان ایک مقام پر رک جاتا ہے، اس کی جستجو رک جاتی ہےاور جب جستجو رک جائے تو انسان کی معنوی زندگی بھی رکنے لگتی ہے-
پیامِ مشرق میں اقبال کی ایک نظم ہے- کاش یہ قوم اس نظم کو اپنا سبق بنا لے، اسے اپنی زندگی کا حاصل، اپنی جستجو، اپنی زندگی کا نصب العین اور اپنی زندگی کا قرینہ و سلیقہ بنا لے-اقبال کہتے ہیں:
|
ساحل افتادہ گفت، گرچہ بسے زیستم |
’’ایک سنسان ساحل کہنے لگا اگرچہ میں بڑی دیر زندہ رہا ہوں مگر افسوس مجھے کچھ معلوم نہیں ہوا کہ میں کون ہوں کیا ہوں ‘‘-
|
موج ز خود رفتہٖ تیز خرامید و گفت |
’’ایک متوالی لہر تیزی سے بڑھی اور بولی اگر چلتی رہوں تو میں ہوں اگر نہ چلوں تو میں نہیں ہوں (یعنی زندگی حرکت اور جدوجہد کا نام ہے) ‘‘-
اسی لیے اقبال کہتے ہیں:
|
جہاں میں اہلِ ایماں صورتِ خورشید جیتے ہیں |
یہ مومن کی زندگی ہے- وہ ایک مقام پر ٹھہرتا نہیں، ایک جگہ پر رک نہیں جاتا- وہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں رہتا ہے، بہتر سے بہترین کی جستجو میں رہتا ہے اور اعلیٰ سے اعلیٰ تر کی تلاش میں مسلسل آگے بڑھتا رہتا ہے-
یہی وہ زندگی ہے جس میں جذبات انسان کے تابع ہوتے ہیں، انسان جذبات کے تابع نہیں ہوتا- جس میں علم محض ملازمت کا ذریعہ نہیں رہتا بلکہ دریافت کا وسیلہ بنتا ہے اور جس میں انسان اپنی زندگی کو ایک ایسی مسلسل جستجو بنا دیتا ہے جو اسے ہر اگلے مقام سے آگے، ایک اور بلند مقام کی طرف لے جاتی ہے-
اقبال کے تناظر میں جذباتی غلامی (Emotional Slavery) کی ایک بڑی علامت محدود جذبات اور چھوٹے مقاصد ہیں- یہ چیزیں انسان کو کبھی دنیا کو فتح کرنے، بڑے مقاصد اختیار کرنے اور اپنی صلاحیتوں کو بلند ترین سطح تک پہنچانے کی اجازت نہیں دیتیں-
ارطغرل سیریز میں ’’سرخ سیب‘‘ کا تصور اسی بڑے مقصد کی علامت ہے- مسلمانوں نے صدیوں کی جدوجہد کے بعد 1453ء میں قسطنطنیہ فتح کیا-یہ صرف ایک شہر کی فتح نہیں تھی، بلکہ ایک بڑے مقصد، بڑے خواب اور مسلسل جدوجہد کی مثال تھی- قسطنطنیہ کی فتح کے بعد ’’سُرخ سیب‘‘ یورپ کا ایک اور مقدس شہر تھا - یہ بات کہنے کا مطلب یہ ہے کہ فاتح ذہنیت کی قوم کا ’’سُرخ سیب‘‘ ایک شہر پہ ختم نہیں ہو جاتا بلکہ فتح کے بعد وہ اگلی فتح کا تعین کر لیتی ہے -
آج ہمارے اندر بڑے خواب اور خطرات کا سامنا کرنے کی صلاحیت کہاں سے آئے گی؟
ہم اپنے بچوں سے بچپن ہی میں شجاعت اور بے خوفی چھین لیتے ہیں- کبھی بلی، کبھی کتے، کبھی جن اور کبھی اندھیرے کا خوف پیدا کرکے ہم انہیں وقتی طور پر خاموش تو کر دیتے ہیں، مگر انجانے میں ان کے اندر خوف کی ایک مستقل دنیا آباد کر دیتے ہیں-
قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے دوستوں کے بارے میں کہتا ہے:
’’اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآءَ اللہِ لَاخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلَاہُمْ یَحْزَنُوْنَ‘‘[1]
’’ سن لو! بیشک اللہ کے ولیوں پر نہ کچھ خو ف ہے اور نہ کچھ غم‘‘-
کیا ہم نے اپنے گھروں میں اپنے بچوں کو خوف اور حزن سے آزاد کیا ہے؟
شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے بچوں میں ایسے خوف پیدا ہو جاتے ہیں جو برسوں گزرنے کے باوجود ختم نہیں ہوتے- یوٹیوب (YouTube) یا گوگل (Google) کھولیں تو دنیا کے مختلف حصوں میں ایسے مناظر نظر آئیں گے جہاں بہت کم عمر بچوں کو تیراکی کے تالاب میں تربیت دی جا رہی ہے- کہیں چھوٹے بچوں کو اپنے والدین کے ساتھ فری فال جمپنگ (Free-Fall Jumping) کروائی جا رہی ہے، کہیں انہیں بنجی جمپنگ (Bungee Jumping) جیسے تجربات سے گزارا جا رہا ہے اور کہیں چار سال کے بچے اپنے والدین کے ساتھ سکوبا ڈائیونگ (Scuba Diving) کرتے ہوئے سمندر کی گہرائیوں تک جا رہے ہیں- نتیجہ یہ ہے کہ ان بچوں میں بلندی کا خوف (Height Phobia)، رفتار کا خوف (Speed Phobia)، تاریکی کا خوف (Fear of Darkness) اور پانی کا خوف (Water Phobia) اسی شدت سے پیدا نہیں ہوتا جس شدت سے ہم اپنے بچوں میں مختلف خوف پیدا کر دیتے ہیں-
ہمارے بچے بلی، کتے، جن، چڑیل اور ہر چھوٹی چیز سے خوف محسوس کرتے ہیں اور یوں خوف ان کی شخصیت کا حصہ بنتا چلا جاتا ہے-
اس لیے بچوں کو تجربات سکھائیں، انہیں مہم جوئی (Expedition) کا حصہ بنائیں اور انہیں آسانی (Comfort Zone) سے باہر نکلنا سکھائیں-
دنیا کی جدید یونیورسٹیز داخلے یا اسکالرشپ کے لئے طالب علم کی صرف کتابی قابلیت نہیں دیکھتیں، بلکہ اس کی غیر نصابی سرگرمیوں، مہمات، کھیلوں اور چیلنجز سے نمٹنے کے تجربات کو بھی اہمیت دیتی ہیں - وہ یہ دیکھنا چاہتی ہیں کہ انسان اپنے کمفرٹ زون سے کس حد تک باہر آیا ہے، کتنے کھیل جانتا ہےاور خاص طور پر مہم جو اور انتہائی نوعیت کے کھیلوں (Extreme Sports) کا اس کو کتنا تجربہ ہے-
اسی لیے علامہ اقبال نے ایک نہایت خوب صورت مکالمہ دو ہرنوں کے درمیان لکھا ہے:
|
غزالے با غزالے دردِ دل گفت |
’’ایک ہرن نے دوسرے سے اپنے دل کا درد کہا اس کے بعد میں حرم میں بسیرا کر لوں گا(کیونکہ وہاں کوئی کسی کو قتل نہیں کر سکتا )‘‘-
|
بصحرا صید بنداں در کمین اند |
’’صحرا میں شکاریوں نے گھات لگا رکھی ہے ہرنوں کی نہ کوئی صبح سازگار ہے نہ کوئی شام ‘‘-
|
امان از فتنۂ صیاد خواہم |
’’میں صیاد (شکاری) کے فتنے سے پناہ چاہتا ہوں-اندیشوں سے آزاد ایک دل چاہتا ہوں ‘‘-
|
رفیقش گفت ائ یار خردمند |
’’اس کے ساتھی نے کہا اے دانا دوست اگر تجھے زندگی کی چاہ ہے تو خطرات میں جی (اگر زندگی چاہتا ہے تو خطرات میں بسر کر) ‘‘-
|
دما دم خویشتن را برفساں زن |
’’خود کو ہر لحظہ سان (تلوار کی دھار ) پر رگڑ ، اصیل تلوار سے زیادہ تیز بن کر زندہ رہ ‘‘-
|
خطر تاب و توان را امتحان است |
’’خطرہ ہمیشہ ہمت و حوصلے کا امتحان ہوتا ہے جسم اور روح کے امکانات کی کسوٹی ہے(خطرات ہی سے انسان کی ذہنی اور بدنی قوتوں کا پتہ چلتا ہے) ‘‘-
یعنی خود کو مسلسل آزماؤ، اپنی صلاحیتوں کو مسلسل تیز کرو اور اپنے آپ کو خطرات کا سامنا کرنے کے قابل بناؤ-کیونکہ خطرات کے ساتھ زندگی کی صلاحیتیں بیدار ہوتی ہیں- خطرات ہی کے ذریعے اپنی حدود کا علم ہوتا ہے کہ میں کہاں تک جا سکتا ہوں، میری قوت کتنی ہے اور میری صلاحیتیں کس مقام تک پہنچ سکتی ہیں-
جو انسان خود کو مشکل میں ڈال کر آسانی حاصل کرنا نہیں سیکھتا، وہ کبھی یہ نہیں جان سکتا کہ آسانی حقیقت میں کیا چیز ہے-وہ عظمت کا مفہوم نہیں سمجھ سکتا، کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکتا، کسی بڑے مقصد تک نہیں پہنچ سکتا اور زندگی میں ایک بڑا انسان بننے کی صلاحیت پیدا نہیں کر سکتا، اگر اس نے خطرات کے اندر زندہ رہنا نہ سیکھا ہو-
علامہ اقبال کی فکر انسان کو اسی مقام تک بلند کرتی ہے کہ وہ ہر طرح کی غلامی سے اپنے آپ کو باہر نکالنے کی صلاحیت پیدا کرے- وہ خوف کا غلام نہ رہے، حالات کا غلام نہ رہے، اپنے محدود جذبات کا غلام نہ رہے اور دوسروں کی بنائی ہوئی حدود میں قید ہو کر زندگی نہ گزارے-یہی جذباتی خودمختاری (Emotional Sovereignty) ہے جس میں انسان خود کو آسانی (comfort zone) سے باہر نکل کر اپنی حقیقی صلاحیتوں کو دریافت کرتا ہے-
اس پوری گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ عام زندگی میں بھی اگر انسان کے اندر اپنے باطل اور بے قابو جذبات (False Emotions) کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت نہیں ہے تو وہ زندگی میں حقیقی معنوں میں آگے نہیں بڑھ سکتا-
خصوصاً آج، جب ہم مصنوعی دور (Artificial Age) اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کے عہد میں داخل ہو چکے ہیں، جہاں مصنوعیت (Artificiality) اس قدر بڑھ گئی ہے کہ ہمیں اس سے خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں، لیکن ہمیں یہ ضرور طے کرنا ہے کہ ہم اس مصنوعی دنیا میں غلام بن کر زندہ رہیں گے یا آزاد انسان کی حیثیت سے-
اگر انسان غلام بن کر زندہ رہنا چاہتاہے تو پھر اس کو اپنے جذبات کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں- لیکن اگر انسان ایک آزاد مرد، ایک آزاد عورت، ایک آزاد مسلمان کی حیثیت سے زندگی گزارنا چاہتا ہے جو اللہ تعالیٰ اور آقا کریم (ﷺ) نے سکھائی ہےتو پھر اس کو اپنے آپ پر عبور حاصل کرنا سیکھنا ہوگا-
دنیا میں ایسا کوئی جذبہ نہیں جس پر قابو نہ پایا جا سکے، لیکن اس کے لیے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ کہاں اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا ہے اور کہاں انہیں اظہار دینا ہے- ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور جذبات بھی حدود سے آزاد نہیں ہوتے-
گزشتہ 200 برس میں بالخصوص مغربی ادب (Western Literature) کا ہماری اسلامی تہذیب پر جو اثر پڑا، اس کے نتیجے میں یہاں جس نوعیت کے افسانے لکھے گئے، جس طرح کے ناول تخلیق ہوئے، جس قسم کی رومانوی شاعری سامنے آئی، جس طرح کے ڈرامے لکھے گئے، جس نوعیت کی فلمیں بنیں، جس طرح کا سینما وجود میں آیا اور روزمرہ کے محاورے تک تشکیل پائے، ان سب کے پیچھے جذبات کی ایک مخصوص تشکیل موجود ہے-
جن جذبات کی تطہیر (Purification) تقریباً ہر صاحبِ کتاب مذہب نے کی تھی، جنہیں تہذیب، اخلاق اور مذہبی تعلیمات نے پاکیزگی اور اعتدال عطا کیا تھا، رومانوی ادب (Romantic Literature) نے ان جذبات کو ایک نئے انداز میں ابھارا- پھر اسی رومانوی ادب کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سینما نے ان جذبات کو مزید مشتعل کیا، انہیں نمایاں کیا، ان سے فائدہ اٹھایا اور بعض صورتوں میں ان کا استحصال (Exploitation) بھی کیا- اس استحصال کے نتیجے میں ایک فرد کے اندر جو جذباتی بے ثباتی (Emotional Instability) پیدا ہوئی، اس نے انسانی تہذیب کو کتنا نقصان پہنچایا اور انسانیت کو کس قدر متاثر کیا، یہ اپنی جگہ ایک الگ موضوع ہے-
اگر آج استعمال ہونے والی زبان اور روزمرہ کے محاورے پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ بہت سے الفاظ اور محاورے محض الفاظ نہیں ہوتے بلکہ ان کے پیچھے ایک جذباتی کیفیت اور ایک مخصوص ذہنی رویہ موجود ہوتا ہے-اس لئے آج ہمیں خود سےسوال کرنا ہوگا کہ کیا ہماری زندگی ہماری اپنی ہے یا اس کا اختیار کسی اور کے ہاتھ میں ہے؟
انسان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی آزادی کے ساتھ زندہ رہے- لیکن یاد رکھیں! اگر انسان اپنے جذبات کا غلام ہے تو زندگی میں کسی بھی مقام پر انسان اس آزادی سے حقیقی طور پر لطف اندوز نہیں ہو سکتا-اس لئے دنیا میں سب سے بڑی مہارت (Mastery) اپنے جذبات پر مہارت ہے، کیونکہ جو انسان اپنے جذبات کا مالک نہیں، وہ بظاہر آزاد ہو کر بھی اندر سے آزاد نہیں ہوتا-
علامہ اقبال کا تصورِ خودی ایک ایسے آزاد انسان کو دیکھنا چاہتا ہے جو اپنی نفسیات اور اپنے جذبات میں غلام نہ ہو، جو دوسروں کے ہاتھوں ہی نہیں بلکہ اپنے بے قابو جذبات کے ہاتھوں بھی محکوم نہ ہو بلکہ وہ اپنے نفس پر اختیار رکھتا ہو، اپنے ارادے کا مالک ہو اور اپنی آزادی کو شعوری طور پر برتنے کی صلاحیت رکھتا ہو-یہی خودی کی آزادی اور ضبطِ نفس ہے جہاں انسان محض دنیا میں زندہ نہیں رہتا بلکہ اپنی زندگی کا حقیقی اختیار اپنے ہاتھ میں لے لیتا ہے-
٭٭٭
[1](یونس:62)