جدید دور کا ٹیکنوفیوڈل ازم اور فِکراقبال: ایک تنقیدی جائزہ

جدید دور کا ٹیکنوفیوڈل ازم اور فِکراقبال: ایک تنقیدی جائزہ

جدید دور کا ٹیکنوفیوڈل ازم اور فِکراقبال: ایک تنقیدی جائزہ

مصنف: ڈاکٹر عبدالباسط نومبر 2026

جدید دور میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، ڈیٹا اکانومی، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور انٹرنیشنل ٹیکنالوجی کمپنیوں کے غیر معمولی پھیلاؤ نے سرمایہ داری کی ساخت کو نمایاں طور پر تبدیل کر دیا ہے- چند بڑی ڈیجیٹل کمپنیوں کے پاس میڈیا صارفین کا وسیع ڈیٹا موجود ہونے کے ساتھ الگورتھمک انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل مارکیٹس کا کنٹرول، ابلاغی پلیٹ فارمز کی ملکیت اور اشتہاری نظام پر غیر معمولی اختیار موجود ہے- اس صورت حال میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز صرف کاروباری ادارے نہیں رہے بلکہ معاشی و سرمایہ دارانہ نظام کے اعتبار سے جاگیر داری و اجارہ داری کی ایک نئی صورت بن چُکے ہیں- سرمایہ داری و معیشت کی اِس نئی شکل کو ’’پلیٹ فارم کیپٹل ازم ‘‘ کہا جائے تو غلط نا ہو گا-[1] اس تناظر میں علامہ محمد اقبال ؒ کی معاشی و سماجی فکر ایک بنیادی تنقیدی فریم ورک فراہم کرتی ہے-

با اِعتبار موضوع، یہ تحقیق کچھ بنیادی سوالات کے جوابات کی تلاش میں چھوٹی سی کوشش ہے- مثلًا!

  • ڈیجیٹل پلیٹ فارمز معاشی اور سماجی طاقت کے ارتکاز کا ذریعہ کیسے بنتے ہیں؟
  • فکر اقبال ؒ کے کون سے بنیادی تصورات موجودہ ڈیجیٹل سرمایہ داری اور ٹیکنو فیوڈل ازم کے تنقیدی مطالعے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں؟
  • جدید ڈیجیٹل معیشت میں فِکر اقبالؒ، اِنسانی آزادی و معاشی عدل اور اجتماعی فلاح کے لئے کیا رہنمائی فراہم کرتی ہے؟

اقبالؒ نے دورِ جدید کے ٹیکنو فیوڈل ازم کے بارے میں براہِ راست تو کوئی نظریہ پیش نہیں کیا لیکن ان کا تصور ِ خودی، آزادی، معاشی عدل، انسانی وقار، دولت کے ارتکاز کی مخالفت اور روحانی جمہوریت کو موجودہ ڈیجیٹل معیشت کے تجزیے کیلئے ایک مضبوط اخلاقی و تنقیدی فریم ورک مہیا کرتا ہے- اس تناظر میں ٹیکنو فیوڈلز کا اصل مسئلہ صرف ٹیکنالوجی نہیں بلکہ ملکیت، طاقت، ڈیٹا، رینٹ، اجارہ داری اور انسانی خود مختاری کا ارتکاز ہے- یہ بحث فکرِ اقبالؒ کے تناظر میں اس لئے بھی ضروری ہے کہ، فِکر اقبالؒ کا بنیادی سوال بھی یہی ہے کہ آیا معاشی نظام انسان کو آزاد، باوقار اور تخلیقی بناتا ہے یا اسے دولت، طاقت اور استحصال کے تابع کر دیتا ہے- فکرِ اقبالؒ میں ایسی معاشی ساخت قابل قبول نہیں جو انسان کو دولت، طبقاتی طاقت یا کسی دوسرے مادی نظام کے تابع کر دے- [2]

 اقبالؒ کی معاشی فکر میں سرمایہ دارانہ نظام قتل انسانیت کے مترادف ہے جس میں غربت، معاشی استحصال، جاگیردارانہ  طاقت، سرمائے کا ارتکاز، انسانی خودی و مساوات سےعاری افکار کو تقویت ملتی ہے- اقبالؒ نے علم الاقتصاد میں معاشی مسائل کو محض مادی نہیں کہا بلکہ انہیں انسانی اخلاق، معاشرتی ساخت اور انسانی زندگی کیلئے خطرہ قرار دیا ہے- ان کے نزدیک اِنسان محض مادی و معاشی مخلوق نہیں بلکہ اخلاقی، روحانی اور تخلیقی وجود رکھتا ہے - اقبالؒ کے نزدیک معاشی فکر صرف سرمایہ داری یا اشتراکیت تک محدود نہیں بلکہ اِسلامی اصولوں، انسانی خودی، معاشی عدل، محنت کی عزت، دولت کی منصفانہ گردش اور اجتماعی بہبود پر مبنی فلاحی انسانی معاشرے کا تصور پیش کرتی ہے-[3]

ٹیکنو فیوڈل ازم: تصور اور مفہوم

ٹیکنو فیوڈل ازم ایک ابھرتا ہوا نظریاتی تصور ہے جس میں ڈیجیٹل معیشت، طاقت اور معاشی انحصار کی نئی شکلوں کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے- ’’ٹیکنو فیوڈل ازم‘‘ دو اصطلاحات یعنی ٹیکنالوجی (Technology) اور فیوڈل ازم (Feudalism)  کے امتزاج سے وجود میں آنے والی ایک تنقیدی اصطلاح ہے جو بنیادی طور پر ڈیجیٹل معیشت کی خصوصیات و افکار پر سوالات اٹھاتی ہے کیونکہ اس کی اقدار قرونِ وسطٰی کے جاگیردارانہ نظام سے مشابہت رکھتی ہے-گوگل، ایمیزون، میٹا، ایپل اور دیگر بڑی کمپنیوں کی بڑھتی ہوئی معاشی و سماجی طاقت نے ایک ایسے نظام کو جنم دیا ہے جو بعض معاصرین و مفکرین کے نزدیک ٹیکنو فیوڈل ازم (Techno Feudalism) کہلاتا ہے- حالیہ تحقیق کے مطابق ڈیجیٹل پلیٹ فارمز صارفین کے پیدا کردہ ڈیٹا اور ڈیجیٹل سرگرمیوں سے اہمیت و قدر حاصل کرتے ہیں ، جبکہ پلیٹ فارمز کے مالکان اس قدر و اہمیت پر زیادہ کنٹرول ہونے کی بدولت اپنی مرضی اور مفاد کے پیش نظر مختلف اقدامات کرتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کیا جا سکے- ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر یہ اختیار (Monopoly)، مالکان کو ٹیکنو فیوڈل بناتا ہے جو اپنے سرمائے کو ڈیجیٹل سرمائے میں بدلتے ہوئے نئی معاشی طاقت کے طور پر ابھرتے ہیں- روایتی جاگیرداری میں زمین پیداوار کا بنیادی ذریعہ تھی جس پر مالک مکمل کنٹرول کے ذریعے مزارعین پر معاشی طاقت قائم کرتا تھا- جدید ٹیکنو فیوڈل ازم میں ڈیٹا، کلاؤڈ انفراسٹرکچر ، الگورتھمز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، اور نیٹ ورک ایفیکٹس(Effects) کو نئی قسم کے پیداواری اثاثوں کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے-

یانیس وارفاکس (Yanis Varoufakis) نے سب سے پہلے ’’ٹیکنو فیوڈل ازم‘‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے لکھا کہ، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں نے انٹرنیٹ کو ایسے نجی ڈیجیٹل علاقوں میں تبدیل کر دیا ہے جہاں پلیٹ فارم کے مالک معاشی سرگرمیوں کے بنیادی ڈھانچے پر قابض ہیں- وارفاکس کے مطابق 2008ء کے مالیاتی بحران کے بعد ریاستوں اور مرکزی بنکوں کی پالیسیو ں اور انٹرنیٹ کی نجکاری نے بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری اور ارتکاز کو بڑھایا ہے- [4]

مزید برآں! جیریمی گلبرٹ کے مطابق ’’ٹیکنو فیوڈل ازم‘‘ کی بجائے ’’پلیٹ فارم کیپٹل ازم‘‘ کو سرمایہ داری کے ایک نئے رجیم آف اکامولیشن (Regime of Accumulation) کے طور پر سمجھنا زیادہ بہتر ہے- ان کے مطابق ڈیجیٹل معیشت سرمایہ داری کے خاتمے کی بجائے اس کی ایک نئی تاریخی تشکیل کی نمائندگی کرتی ہے- ٹیکنو فیوڈل ازم، پلیٹ فارم کپیٹل ازم، ڈیجیٹل سرمایہ داری اور سرویلنس کیپٹل ازم (Surveillance Capitalism) کو وارفارکس اور جیریمی گلبرٹ کی تحقیق و مطالعات کے نتاظر میں سمجھا جا سکتا ہے- [5]

فِکر اقبالؒ اور ڈیجیٹل فیوڈل ازم:

فِکر اقبالؒ میں معیشت ، روحانی و اِخلاقی زندگی سے الگ نہیں- ان کے ہاں انسان صرف اکنامک مین (Economic Man) نہیں بلکہ ایک باوقار اور تخلیقی وجود ہے- اقبالؒ نے سرمایہ داری کو مسترد نہیں کیا بلکہ اس کے ان مظاہر پر تنقید کی ہے جو استحصال، دولت کے ارتکاز، سود، اجارہ داری اور انسانی وقار کی مادیت پرستی کا باعث بنتے ہیں- یہ فلسفہ اقبالؒ کی ابتدائی نثری تصانیف میں موجود ہے جن میں ’’علم الاقتصاد‘‘ بنیادی اہمیت کی حامل ہے- ان کی تصانیف میں سرمایہ دارانہ استحصال اور معاشی عدم مساوات کے خلاف کئی اشارے اور احتجاج ملتے ہیں- اقبالؒ کی نظم ’’فرمانِ خُدا‘‘ میں دولت مند (مالک) اور محروم طبقے (کسان) کے درمیان معاشی تفاوت کو بہترین تنقیدی انداز میں پیش کیا گیا ہے- فِکر اقبالؒ ! سرمایہ داری اور جاگیرداری کے استحصالی پہلوؤں کے مقابلے میں اِسلامی معاشی اصولوں، مساوی مواقع اور دولت کی منصفانہ تقسیم پر زور دیتی ہے-[6]

 اقبالؒ کی معاشی فِکر غربت کو ایک ناگزیر تقدیر کے طور پر قبول نہیں کرتی بلکہ ان کے ہاں غربت ایک ایسے معاشرتی اور معاشی نظام میں بگاڑ کا نتیجہ بھی ہو سکتی ہے جس میں دولت اور وسائل غیر منصفانہ تقسیم کی بدولت چند طبقات تک محدود ہو جائیں- اقبالؒ کو محض 'سوشلسٹ' یا 'سرمایہ داری مخالف انقلابی' قرار دینا ان کی فکر کو حد سے زیادہ سادہ اور آسان بنا دینا ہو گا- اقبالؒ نے مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے استحصالی پہلوؤں پر تنقید کرتے ہوئے مارکسزم کی مادیت پرستی کو بھی قبول نہیں کیا ، جبکہ ان کی فکر کا بنیادی سر چشمہ قرآن، سنت، اُسوہؔ حسنہ  اور اسلامی اخلاقی و روحانی اقدار ہیں- لہٰذا، اقبالؒ کی معاشی فکر کو ’’اسلامی اخلاقی معاشی تصور‘‘ کے طور پر سمجھا جا سکتا ہے-

مزید برآں! اقبالؒ کی فکر جدید ڈیجیٹل معیشت کے لئے پانچ بنیادی اُصول فراہم کر سکتی ہے-[7]

1- انسانی وقار

ہر دور میں ٹیکنالوجی کا کردار انسانی زندگی کو آسان اور پُر آسائش بنانے میں کارگر رہا ہے- جدیدٹیکنالوجی کا مقصد انسان کی خدمت ہونا چاہیے نہ کہ انسان کو ڈیٹا کموڈیٹی (Data Commodity) میں تبدیل کر دے- صارفین اپنی روز مرہ سرگرمیوں کے ذریعے وسیع ڈیٹا پیدا کرتے ہیں جو بڑے بڑے ڈیٹا سینٹرز میں محفوظ ہوتا چلا جاتا ہے: سرچ، لائکس، کمینٹس، لوکیشن پیٹرنس، خریداری، روابط اور دیگر استعمال ڈیجیٹل معاشی قدر میں اضافے کا باعث بنتے ہیں جنہیں سرویلنس کیپٹالزم (Surveillance Capitalism) کہا جاتا ہے- تصور اقبالؒ میں اگر انسان کی شخصیت، ترجیحات اور رویوں کو محض تجارتی ڈیٹا میں بدل دیا جائے تو انسانی وقار اور خودی کا تصور ایک بنیادی چیلنج رہ جاتا ہے- سوال یہ ہے کہ، اگر انسانی انتخاب، ترجیحات اور توجہ کو الگورتھمز مسلسل متاثر کریں تو اس کی خود مختاری اور خودی کس حد تک برقرار ہے گی؟ یہی وہ مقام ہے جہاں اقبالؒ کی فکر جدید ٹیکنالوجی کے لئے ایک تنقیدی فریم ورک (Ethical Critique) مہیا کرتی ہے-

2- معاشی عدل

ڈیجیٹل معیشت کے فوائد چند کمپنیوں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں- دور جدید میں ٹیکنالوجی خود مسئلہ نہیں جتنا بڑا مسئلہ ملکیت، استعمال اور طاقت کے اخلاقی نظام کا ہے- بڑی بڑی کمپنیاں صارفین کے ڈیٹا تک مکمل رسائی رکھتے ہوئے الگورتھمز کے ذریعے اپنے مطلوبہ نتائج حاصل کرتی ہیں- اقبالؒ نے معاشی نظریات میں ان اقدار کی مخالفت کرتے ہوئے ہر فرد کے حقوق اور خود مختاری کا احساس کرنے پر زور دیا ہے-

3- طاقت کا عدم ارتکاز

ڈیجیٹل دور میں الگورتھمز سوشل میڈیا کے صارفین کو متاثر کر سکتے ہیں- پرسنلائز فیڈز (Personalized Feeds)، ریکمنڈیشن سسٹم (Recommendation System) اور ٹارگٹڈ ایڈورٹائزنگ (Targeted Advertising) صارفین کے رویوں کو ترتیب دینے میں مدد کرتے ہیں- اگر طاقت کا توازن برقرار نا رکھا گیا تو مستقبل کی معاشی، علمی اور ابلاغی طاقت بھی بڑے بڑے سرمایہ داروں کے ہاتھ میں چلی جائے گی اور اس مقصد کی تکمیل کے لئے نئی نئی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے مراکز سامنے آئیں گے - روایتی جاگیرداری سے ہٹ کر، اے آئی کی موجودگی میں ' ڈیجیٹل فیوڈل ازم' مزید طاقتور ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے -اس صورت حال میں فکر اقبالؒ یہ سوال اُٹھاتی ہے کہ کیا علم اور ٹیکنالوجی انسان کو معاشی آزادی فراہم کر رہے ہیں؟ اگر نہیں تو دورجدید کے تقاضوں سے مزین نیا معاشی فلسفہ درکار ہے جس کی بنیاد معاشرتی و معاشی ترقی، فلاح انسانیت اور خود شناسی پر مبنی ہو-

4- اخلاقی ٹیکنالوجی

ٹیکنالوجی بذات خود نہ اچھی ہے نہ بُری بلکہ اس کا اخلاقی کردار اس کے استعمال ، مقصد، ملکیت اور گورننس سے متعین ہوتا ہے- اگر ٹیکنالوجی اجتماعی بہبود اور ترقی کے لئے استعمال ہو رہی تو اس سے اچھی چیز کوئی نہیں - ڈیجیٹل وسائل اور نالج انفراسٹرکچر کو صرف تجارتی مقاصد کے تابع کرنے کی بجائے پبلک انٹرسٹ سے متعین ہونا چاہیے- اقبالؒ کے نزدیک معاشی نظام کی کامیابی کا معیار محض دولت کی پیداوار نہیں بلکہ انسان کی آزادی، عزت، خودی، تخلیقی صلاحیت اور اجتماعی فلاح بھی ہے- یہی وجہ ہے کہ ان کی فکر جدید ڈیجیٹل معیشت کیلئے براہ راست تو کوئی معاشی ماڈل پیش نہیں کرتی لیکن ایک طاقتور نارمیٹیو فریم ورک (Normative Framework) ضرور مہیا کرتی ہے- اگر جدید ٹیکنالوجی انسان کی خود مختاری کو مضبوط ، علم تک رسائی کو وسیع ، معاشی مواقعوں کو منصفانہ اور اجتماعی فلاح کو بہتر بناتی ہے تو اقبال ؒ کے تصور انسان سے ہم آہنگ ہے-

5- محنت کی عزت

ڈیجیٹل دور میں محنت کی شکل و صورت بھی تبدیل ہو چکی ہے- روایتی مزدور فیکٹریوں، بازاروں اور چوراہوں پر کام کرتا تھا، جبکہ آج لوگ آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے ڈیجیٹل مواد تخلیق کرتے ہیں- یہ کارکن بظاہراً آزاد ہوتے ہیں لیکن ان کی آمدنی اور مواقع آن لائن پلیٹ فارمز کے قوائد ، درجہ بندی، الگورتھم اور کمیشن پر منحصر ہوتے ہیں-فکر اقبالؒ کے تناظر میں ڈیجیٹل کارکن (کسان) کو محض پلیٹ فارم اِن پُٹ (Platform Input) نہیں بلکہ ایک باوقار انسان سمجھنا ضروری ہے- جدید معیشت میں ڈیٹا ایک اہم معاشی وسیلہ ہے- ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر صارف کی تلاش، خریداری، پسند، گفتگو، مقام، سماجی روابط اور آن لائن سرگرمی سب کا سب معاشی قدر پیدا کرتا ہے- اس صورت میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا ڈیٹا صرف پلیٹ فارم کی ملکیت ہے؟ اگر صارف خود ڈیٹا پیدا کرتا ہے تو کیا اُسے اس ڈیٹا سے ہونے والی معاشی قدر میں کوئی حق حاصل نہیں؟ یہ سوالات ابھی عالمی سطح پر قانونی، معاشی اور اخلاقی بحث کا موضوع ہیں- فِکر اقبالؒ سے کم از کم یہ اُصول وضع کیا جا سکتا ہے کہ کسی معاشی وسیلے سے پیدا ہونے والی معاشی قدر کی تقسیم میں اُس قدر کو پیدا کرنے والے انسان کے مفاد کو مکمل نظر انداز کرنے کی بجائے مدّ ِنظر رکھنا چاہیے-

حاصل کلام:

جدید ٹیکنو فیوڈل ازم کو ایک قطعی معاشی حقیقت سمجھنے کی بجائے ایک تنقیدی نظری تصور کے طور پر استعمال کرنا زیادہ مناسب ہے- ڈیجیٹل دور نے سرمایہ داری کے بنیادی تعلقات کو ختم نہیں کیا بلکہ ملکیت، ڈیٹا، رینٹ اور الگورتھمک اختیار کے ذریعے انہیں نئی شکل دی ہے- یہی نکتہ اقبالؒ کی فکر کے ساتھ سب سے زیادہ مضبوط تعلق پیدا کرتا ہے- اگر ڈیجیٹل معیشت پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے لیکن دولت اور طاقت چند ہاتھوں میں مرکوز کر دیتی ہے تو اقبال کی  تنقید اس نظام کے اخلاقی جواز پر سوال اُٹھائے گی- اس لئے ڈیجیٹل دور میں فکر اقبالؒ کا مطالعہ ضروری ہے- یہاں سوال یہ نہیں ہونا چاہیئے کہ ٹیکنالوجی کتنی طاقتور اور ضروری ہے ؟ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ، ٹیکنالوجی کی طاقت کس کے پاس ہے؟ کس مقصد کیلئے استعمال ہو رہی ہے؟ اور اس کے فوائد کس طبقے تک پہنچ رہے ہیں؟ حل یہ ہے کہ، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی بے احتساب اجارہ داری کے خلاف مسابقتی قوانین وضع کئے جائیں- ڈیٹا کے استعمال اور ملکیت کے حوالے سے بھی صارفین کے حقوق کا تحفظ ضروری ہے- مصنوعی ذہانت اور الگورتھمز کے استعمال میں انسانی خودمختاری اور اخلاقی ذمہ داری کو بنیادی اصول بنایا جائے-ڈیجیٹل معیشت کی تشکیل کو فکرِ اقبالؒ سے مربوط کیا جائے-

٭٭٭


[1]Gilbert, J. (2024). Techno-feudalism or platform capitalism? Conceptualising the digital society. European Journal of Social Theory, 27(4), 561–578. https://doi.org/10.1177/13684310241276474

[2]Iqbal, A. M., & Zarb-e-Kaleem, K. W. M. (1990). Iqbal Academy Pakistan. Lahore, Istiqlal Paris, Lahore, 558.

[3]Iqbal, M. (2006). Bal-e-Jibril. Iqbal Academy Pakistan.

[4]Yan, J. (2026). Techno-feudalism as primitive accumulation: A Marxist perspective on digital capitalism. Critical Sociology, 52(1), 203–217. https://doi.org/10.1177/08969205241302838

[5]Zuboff, S. (2024). The age of surveillance capitalism: The fight for a human future at the new frontier of power. Journal of Information Ethics, 33(1), 84-85.

[6]Iqbal, A. M., & Zarb-e-Kaleem, K. W. M. (1990). Iqbal Academy Pakistan. Lahore, Istiqlal Paris, Lahore, 558.

Iqbal, M. (2006). Bal-e-Jibril. Iqbal Academy Pakistan.

[7]Iqbal, M. (2013). The reconstruction of religious thought in Islam. Stanford University Press.

Iqbal, A. M., & Zarb-e-Kaleem, K. W. M. (1990). Iqbal Academy Pakistan. Lahore, Istiqlal Paris, Lahore, 558.

Iqbal, M. (2006). Bal-e-Jibril. Iqbal Academy Pakistan.

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر