علامۃ التابعین عامر بن شراحیل المعروف امام شَعبی

علامۃ التابعین عامر بن شراحیل المعروف امام شَعبی

علامۃ التابعین عامر بن شراحیل المعروف امام شَعبی

مصنف: مفتی محمد صدیق خان قادری اکتوبر 2026

نام ونسب:

آپ کا نام عامر ،کنیت ابو عمروہے الشعبی اگرچہ ایک قبیلے کی طرف نسبت ہے لیکن شہرت کی وجہ سے اس نسبت نے امام صاحب کیلئے لقب کی حیثیت اختیا ر کرلی ہے آپ کا نسب نامہ کچھ اس طرح ہے :عامر بن شراحیل بن عبدبن ذی کبار-[1]

آپ کو شعبی کہنے کی و جہ یہ ہے کہ یمن کے ایک نامور قبیلہ حمیر میں ایک مشہور شخص حسان بن عمرو الحمیری گزرا ہے اور وہ یمن کی ایک پہاڑی ذوشعبین میں پیدا ہُوا اور مرنے کے بعد اسی مقام پر دفن کیا گیا تو وہ ذوشعبین مشہور ہو گیا - اُس کے بعد یہ نسبت اس کی نسل میں جاری رہی اس کی نسل کی ایک شاخ ہمدان میں تھی اسلامی فتوحات کے بعد یہ شاخ کوفہ میں آباد ہوگئی اور یہ شاخ شعبی کہلاتی تھی اور عامر بن شراحیل اسی شاخ سے تھے تو اس لئے الشعبی مشہور ہو گئے-[2]

 ولادت :

امام صاحب کی ولادت حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ)کے دور خلا فت میں ہُوئی ہے اور سنہ ولادت کے بارے اختلاف ہے ایک قول کے مطابق اُن کی ولادت سنہ 20 ھ میں ہُوئی ہے اور ایک قول کے مطابق سنہ 21ھ میں ہُوئی ہے -[3]

شرف تابعیت اور تحصیل علم :

اما م شعبی کا شمار اجل تابعین میں ہوتا ہے آپ کو بہت سے صحابہ کرام کی زیارت کا شرف نصیب ہُوا آپ خود فرماتے ہیں:

’’ادرکت خمس مأۃ من اصحاب النبی(ﷺ)‘‘[4]

’’میں نے پانچ سو صحابہ کرام کی زیارت کی ہے ‘‘-

امام صاحب کی پیدائش اور پرورش ایسے زمانے اور شہر میں ہوئی جہاں محبوب کریم (ﷺ) کے تربیت یافتہ صحابہ کرام کی کثیر تعداد موجود تھی شہر کوفہ بے شمار صحابہ کرام کا مسکن بن چکاتھا چنانچہ آپ اس موقع کو غنیمت جانتے ہُوئے اپنی علمی پیاس بجھانے کیلئے علوم نبوی کی بحر بے کنار شخصیات سے تحصیل علم میں مصروف ہوگئے آخر کار ان فیض یافتہ ہستوں نے اپنے فیض سے آپ کو امام العصر اور علامۃ التابعین بنا دیا-اس کے پیچھے آپ کا شوق اور ان تھک محنت بھی کار فرما ہے یہی وجہ ہے کہ جب آپ سے پوچھا گیا کہ آپ کے پاس اتنا وسیع علم کہاں سے آیا ہے تو انہوں نے فرمایا:

’’نفی الاغتمام و السیر فی البلاد  و صبر کصبر الحمام  و بکور کبکور الغراب‘‘[5]

’’فکر اور پریشانی کو دور کرنے سے مختلف شہروں اور علاقوں کا سفر کرنے سے کبوتر جیسا صبر اختیار کرنے سے اور کوے کی طرح صبح سویرے اٹھنے سے‘‘-

 اساتذہ:

آپ کےاساتذہ کرام محبوب کریم (ﷺ) کی بارگاہ کے تربیت یافتہ صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم)تھے- جن صحابہ کرام اور صحابیات(رضی اللہ عنھم) کے فیض سے آپ کو فیض یاب ہونے کا شرف ملا ہے اُن میں سے چند درج ذیل ہیں :

’’حضرت علی المرتضی، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت ابو موسی اشعری، حضرت سعید بن زید، حضرت ابو ہریرہ ، حضرت مغیرہ بن شعبہ ، حضرت جابر بن سمرۃ، حضرت حسن بن علی ، حضرت عبداللہ بن عمر ، حضرت اُسامہ بن زید ، حضرت عبداللہ بن عباس ، حضرت براء بن عازب، حضرت زید بن ارقم، حضرت عمر ان بن حصین، حضرت سمرۃ بن جندب، حضرت نعمان بن بشیر، حضرت جابر بن عبد اللہ، حضرت کعب بن عجرۃ، حضرت عبد الرحمن بن سمرۃ، اور صحابیات میں سے حضرت اُم سلمۃ ، حضرت عائشہ ، حضرت میمونہ ، حضرت اسماءبنت عمیس، حضرت فاطمۃ بنت قیس (رضی اللہ عنھم) -[6]

تلامذہ:

آپ سے اکتساب علم و فیض کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اُن میں سے چند مشہور درج ذیل ہیں:

’’امام حماد ،ابو اسحاق السبیعی ، داؤد بن ابی ہند ،ابن عون،اسماعیل بن ابی خالد ،عاصم الاحول ،مکحول الشامی، منصور بن عبدالرحمن ،عطاء بن السائب ،مغیرہ بن مقسم،  یونس بن ابی اسحاق ،عبداللہ بن عیاش ،ابن ابی لیلی، امام اعظم ابو حنیفہ(رحمتہ اللہ علیھم)‘‘-[7]

آئمہ کرام کے تأ ثرات و آراء :

امام شعبی علم کے میدان میں ایک خاص مقام رکھتے تھے اُن کا شمار فنون علم کے ماہرین میں ہوتاتھا -آئمہ کرام اُن کے علمی کمالات کے معترف نظر آتے ہیں-انہوں نے مختلف انداز میں اُن کے علمی مقام و مرتبہ کو اُجاگر کیا ہے- امام ابن معین فرماتے ہیں :

’’الشعبی ثقۃ‘‘[8] ’’امام شعبی ثقہ ہیں‘‘-

ابو اسحاق الحبال اُن کی علمی جلالت کو کچھ اس انداز میں بیان فرماتے ہیں:

’’کان واحد زمانہ فی فنون العلم‘‘[9]

’’وہ فنون العلم میں اپنے زمانے میں یکتا تھے ‘‘-

امام ابن جوزی اُن کے علم پر اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہُوئے فرماتے ہیں:

’’وکان مفتیا فی العلوم و حافظا ثقۃ‘‘[10]

’’وہ مختلف علوم میں صاحب فتویٰ تھے( یعنی اُن کی رائے کو قبول کیا جاتا تھا )وہ ایک باکمال حافظ اور ثقہ تھے ‘‘-

امام ذہبی اُن کی شخصیت پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’کان اماما حافظا فقیھا متفننا ثبتا متقنا‘‘[11]

’’وہ نامور امام ،حافظ، فقیہ مختلف علوم و فنون میں مہارت رکھنے والے روایت میں نہایت ثقہ اور مضبوط حافظے والے تھے ‘‘-

امام مکحول اُن کی وسعت علمی کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں:

’’مارأ یت اعلم من الشعبی‘‘[12]

’’میں نے شعبی سے زیادہ کوئی عالم نہیں دیکھا ‘‘-

علامہ داؤد فرماتے ہیں:

’’ماجالست احد اعلم من الشعبی‘‘[13]

’’میں کسی ایسے بندے کی مجلس میں نہیں بیٹھا جو امام شعبی سے زیادہ علم والا ہو ‘‘-

علم حدیث میں مقام و مرتبہ :

علم حدیث میں اُن کی شخصیت مسلمہ تھی حدیث میں وسعت نظر رکھنے کی وجہ سے آئمہ کرام نے انہیں الحافظ جیسے لقب سے نوازا ہے حدیث میں اُن کا دائرہ علم اتنا وسیع تھا کہ وہ خود فرماتے ہیں:

’’ماسمعت منذ عشرین سنۃ من رجل یحدث بحدیث الا وانا اعلم بہ ‘‘[14]

’’میں نے بیس سال کے عرصہ میں کسی سے کوئی ایسی حدیث نہیں سنی جس سے میں بیان کرنے والے سے زیادہ واقف نہ رہا ہوں ‘‘-

علامہ عاصم الاحول حدیث میں اُن کے مقام و مرتبہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’مارأیت احدااعلم بحدیث اھل الکوفۃ و البصرۃ و الحجاز من الشعبی‘‘[15]

’’میں نے کوفہ،بصرہ اور حجاز کے محد ثین میں سے امام شعبی سے زیادہ حدیث کو جاننے والا نہیں دیکھا ‘‘-

امام ابن ابی لیلی امام شعبی اور ابراہیم نخعی کا ذکرکرتے ہُوئے فرماتے ہیں:

’’کان الشعبی صاحب آثار و کان ابراہیم صاحب قیاس ‘‘[16]

’’امام شعبی صاحبِ آثار یعنی محدث تھے اور ابراہیم مجتہد تھے ‘‘-

حدیث میں گہری بصیرت رکھنے کی وجہ سے آئمہ کرام طالبان حدیث کو امام شعبی کی صحبت اختیار کرنے کی ترغیب دیتے تھے جیسا کہ ابوبکر الہذلی فرماتے ہیں کہ مجھے محمد بن سیرین نے نصیحت کی :

’’یا ابابکر اذا دخلت الکوفۃ فاستکثر من حدیث فان کان لیسال و ان اصحاب محمد (ﷺ)  لا حیا ء‘‘[17]

’’اے ابی بکر جب تو کوفہ میں جائے تو بہت زیادہ امام شعبی سے احادیث کو لینے کی کوشش کرنا کیونکہ اُن کا تو یہ مقام ہے کہ اُن سے مسائل پوچھے جاتے ہیں حالانکہ صحابہ کرام زندہ ہیں ‘‘-

حدیث میں اُن کے کمال کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہےکہ آئمہ کرام نے اُن کی مرسل احادیث کو صحیح کا درجہ دیا ہے -

امام عجلی اسی چیز کا اظہار کرتےہُوئے فرماتے ہیں:

’’مرسل الشعبی صحیح لایکا دیرسل الاصحیحا‘‘[18]

’’امام شعبی کی مرسل حدیث صحیح ہےکیونکہ وہ شاذو نادر ہی کسی صحیح مرسل کے علاوہ کوئی روایت بیان کرتے ہیں‘‘-

امام ابو داؤد نے بھی امام صاحب کی مرسل حدیث پر مہر ثبت کی ہے ،وہ فرماتے ہیں:

’’مرسل الشعبی احب الی من مرسل النخعی ‘‘[19]

’’امام شعبی کی مرسل احادیث مجھے بنسبت امام نخعی کی مرسل احادیث سے زیادہ محبوب ہیں ‘‘-

آپ کی علم میں امامت و جلالت کا یہ عالم تھا کہ صحابہ کرام کی موجودگی میں اُن کا حلقہ درس قائم ہوگیا تھا-امام ابن سیر ین فرماتے ہیں:

’’قدمت الکوفۃ وللشعبی حلقۃ عظیمۃ و الصحابۃ یومئذ کثیر‘‘[20]

میں جس زمانے کوفہ آیا اُس وقت امام شعبی کا بہت بڑا حلقہ درس قائم ہوچکا تھا حالانکہ اُس وقت صحابہ کرام بہت بڑی تعداد میں موجود تھے -

قوت حافظہ:

اللہ تعالیٰ نے جس طرح آپ کو دیگر صلاحیتوں سے نوازا تھا تو اسی طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں قوت حافظہ جیسی نعمت سے بھی مالامال کیا تھا،جو چیز سنتے وہ فورًا یاد ہوجاتی سنانے والے کو دوبارہ کہنے کی حاجت پیش نہ آتی- بہت سے آئمہ کرام نےان کا اپنا قول نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا -

’’ماکتبت سوداء فی بیضاء الی یومی ھذا ولا حد ثنی رجل بحدیث قط الاحفظتہ ولا احببت ان یعید علی‘‘[21]

’’میں نے آج تک کاغذ پرکچھ نہیں لکھا جب کوئی شخص مجھے کو ئی حدیث سناتا تو مجھے حفظ ہوجاتی اور میں پسند نہیں کرتا تھا کہ وہ دوبارہ مجھ پر پڑھے ‘‘-

فقہی بصیرت :

 امام صاحب حدیث کی طرح فقہ میں بھی گہری بصیرت رکھتے تھے ان کا شمار اپنے وقت کے اجل فقہا ء کرام میں ہوتا تھا اُن کا فقہی کمال اتنا مسلم تھا کہ صحابہ کرام جو علوم نبوی (ﷺ) کے حقیقی وارث تھے ان کی موجودگی میں نہ صرف اُن کا حلقہ ٔ درس قائم ہوچکاتھا بلکہ اُن سے مسائل بھی پوچھے جاتے تھے یہی وجہ ہے کہ آئمہ و علماء اُن کی فقاہت کے معترف نظر آتے ہیں - علامہ ابو حصین فرماتےہیں :

’’مارأ یت احدا قط افقہ من الشعبی‘‘[22]

میں نے امام شعبی سے زیادہ کسی کو فقیہ نہیں دیکھا-

ابو مجلز اُن کی فقہی شان و شوکت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’مارأیت احد افقہ من الشعبی لاسعید بن المسیب ولاطاوس ولا عطاء ولا الحسن ولا ابن سیر ین‘‘[23]

’’میں نے امام شعبی سے بڑھ کر کوئی فقہیہ نہیں دیکھا، سعید بن المسیب امام طاؤس ،امام عطاء ،امام حسن بصری اور امام ابن سیرین بھی فقہ میں اُن کےہم پلہ نہیں تھے‘‘-

امام مکحول بھی یہی کہتے ہیں کہ :

’’میں نے اُن سے زیادہ کسی کو فقیہ نہیں دیکھا ‘‘-[24]

امام شعبی اور علم مغازی :

امام صاحب دیگر علوم کی طرح علم مغازی (جنگوں کے حالات) میں گہری واقفیت رکھتے تھے اور لوگ کثرت کے ساتھ اُن سے مغازی کے بارے پوچھتے اور وہ اُن کو بیان فرماتے -عبد الملک بن عمیر فرماتے ہیں:

’’مرابن عمر بالشعبی وھویقرأ المغازی کان ھذا کان شاھدا معنا وھو احفظ لھامنی و اعلم‘‘ [25]

’’ایک دن عبداللہ بن عمر امام شعبی پر گزرے تو وہ آپ (ﷺ) اور صحابہ کرام کے جنگی کارنامے بیان فرمارہے تھے آپ نے سن کر فرمایا ایسا لگتا ہے کہ یہ جنگوں میں ہمارے ساتھ تھا شعبی تو ان واقعات کو مجھ سے بھی بہتر جانتے ہیں‘‘-

فہم وفراست :

امام صاحب میں فہم وفراست اعلی درجے کی پائی جاتی تھی حاضر جوابی اور موقع و مناسبت پر صحیح فیصلہ لینے میں آپ بے مثال تھے اور ایک نہایت ذہین انسان تھے -

ایک مرتبہ عبدالملک بن مروان نے انہیں سلطنت روم کے بادشاہ کی طرف سفیر بنا کر بھیجا تورومیوں نے انہیں بادشاہ کے دربار میں ایسے چھوٹے اور پست دروازے سے داخل کرنا چاہا کہ داخل ہونے والا لازماً جھک کر اندر جائے تاکہ وہ اس جھکنے کو بادشاہ کیلئے تعظیم سمجھیں لیکن امام شعبی نے اُن کی اس چال کو بھانپ لیا چنانچہ وہ الٹے رخ ( پیٹھ کی جانب ) داخل ہُوئے اس طرح کہ ان کا سر بادشاہ کے سامنے نہ جھکا، روم کے بادشاہ نے جب ان کی غیر معمولی ذہانت، عمدہ گفتگو اور حاضر جوابی دیکھی تو پوچھا کیا آپ اہل خلافت یعنی خلیفہ کے خاندان میں سے ہیں انہوں نے جواب دیا نہیں میں تو عرب کا ایک عام آدمی ہوں اس پر رومی بادشاہ نے عبدالملک بن مروان کو خط لکھا کہ مجھے ان لوگوں پر تعجب ہےکہ جن کے پاس ایسا باکمال شخص موجود ہے انہوں نے حکومت کسی اور کو سپرد کررکھی ہے -

جب عبدالملک بن مروان نے یہ خط پڑھا تو شعبی سے کہا اس نے تمہارے بارے مجھے حسد دلانے کی کوشش کی ہے تاکہ میں تمہیں قتل کردوں تو امام صاحب نے نہایت حکمت سے جواب دیا اگر وہ تمہیں دیکھ لیتا تو ایسا نہ کہتا -[26]

وفات:

امام صاحب کی تاریخ وفات میں اختلاف ہے، با اختلاف روایات سنہ 104ھ،سنہ105ھ ،یا سنہ 109ھ ،میں آپ کا وصال ہُوا -جب آپ کی وفات کی خبر حضرت امام حسن بصری کو پہنچی تو انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہُوئے فرمایا اللہ کی قسم وہ بہت علم والے اور عظیم حلم والے تھے اور اسلام میں عظیم منصب پر فائز تھے-[27]

٭٭٭


[1](وفیات الاعیان جز:3،ص:12)

[2](اللباب فی تہذیب الانساب ،جز،2 ،ص:198)

[3](الثقات لابن حبان ،جز،5،ص:185)

[4](سیر اعلام النبلاء ،جز،4،ص:298)

[5](ایضاً، ص:300)

[6](ایضاً ،ص:296)

[7](ایضاً ،ص:297)

[8](تہذیب التہذیب، جز:5، ص:67)

[9](ایضاً، ص:64)

[10](المنتظم ،جز،7،ص:93)

[11](تذکرۃ الحفاظ، جز:1، ص:63)

[12](ایضاً، ص:64)

[13](تاریخ بغداد، جز:14، ص:143)

[14](تذکرۃ الحفاظ ،جز1،ص:68)

[15](ایضاً ،ص:64)

[16](ایضاً، ص:64)

[17](تاریخ بغداد، جز:14،ص:143)

[18](تذکرۃ الحفاظ ،جز:1،ص:63)

[19](تہذیب التہذیب، جز:5، ص:68)

[20](تذکرۃ الحفاظ ، جز:1، ص:65)

[21]( تاریخ الاسلام للذہبی ،جز،7،ص:125)

[22](تذکرۃ الحفاظ، جز:1، ص:64)

[23](ایضاً)

[24](تہذیب التہذیب، جز:5، ص:67)

[25](سیر اعلام النبلاء، جز:4، ص:302)

[26](آثار البلاد اخبار العباد، جز:1، ص:48)

[27](الثقات، جز:5، ص:185)

( طبقات الفقہاء، جز:1، ص:81)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر