کلام ِ اقبال میں تحفظ و تقدسِ فطرت کی پُکار: جدید ماحولیاتی بحران کے تناظرمیں

کلام ِ اقبال میں تحفظ و تقدسِ فطرت کی پُکار: جدید ماحولیاتی بحران کے تناظرمیں

کلام ِ اقبال میں تحفظ و تقدسِ فطرت کی پُکار: جدید ماحولیاتی بحران کے تناظرمیں

مصنف: انجنیئر رفاقت ایچ ملک نومبر 2026

فطرت ایک خاموش پیغام:

صبح کے وقت افق پر نمودار ہونے والا سورج، رات کے آسمان پر چمکتا ہوا چاند، بارش کے بعد مٹی کی خوشبو، پہاڑوں کی خاموش بلندی، دریاؤں کی روانی، سبزہ زاروں کی تازگی اور پرندوں کی چہچہاہٹ یہ سب محض قدرتی مناظر نہیں بلکہ انسان کیلئے غور و فکر کے دریچے ہیں- کائنات کا ہر منظر اپنے اندر ایک ایسی حقیقت سموئے ہوئے ہے جو انسان کو اس کے خالق کی قدرت، حکمت اور عظمت کی طرف متوجہ کرتی ہے-

اسلامی تصورِ حیات میں انسان اور فطرت کا تعلق محض استعمال کا تعلق نہیں- زمین انسان کے لیے مسخر ضرور کی گئی ہے، مگر وہ اس کا بے لگام مالک نہیں بلکہ ایک ذمہ دار امین ہے- اسے پانی، زمین، جنگلات، جانوروں اور دیگر قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے، لیکن ان نعمتوں کو برباد کرنے کی اجازت نہیں- بقول اقبال:

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہَ صحرائی یا مردِ کہستانی

آج پوری دنیا ماحولیاتی بحران کے اس نہج پہ ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی، فضائی آلودگی، پانی کی قلت، جنگلات کی کمی، زمین کی زرخیزی میں کمی اور حیاتیاتی تنوع کا نقصان انسانی مستقبل کیلئے سنجیدہ خطرات بن چکے ہیں- اس صورتِ حال میں اسلامی تعلیمات اور اقبال کی فکر ہمیں ایک ایسا فکری راستہ فراہم کرتی ہے جس میں فطرت کو محض مادی وسائل کے ذخیرے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی نشانی اور امانت سمجھا جاتا ہے-

کلام اقبال فطرت کے ساتھ گہرے روحانی اور اخلاقی سنگم سے ہم آہنگ ہے- ابتدائی کلام میں فطرت اپنی خوبصورتی اور جاذبیت کے ساتھ نمودار ہوتی ہے، جبکہ بعد کے کلام میں یہی فطرت انسان کیلئے فکر، حرکت، خود شناسی اور مقصدِ زندگی کا استعارہ بن جاتی ہے-

اقبال کے ہاں فطرت منظر سے معرفت تک:

اقبال کی فطرت نگاری اردو شاعری کی ایک خوبصورت روایت ہے، مگر اقبال کے ہاں فطرت محض حسنِ منظر کا نام نہیں- وہ پھول دیکھتے ہیں تو زندگی کا پیغام تلاش کرتے ہیں، ستاروں کو دیکھتے ہیں تو انسانی امکانات کا تصور سامنے لاتے ہیں اور پہاڑوں کو دیکھ کر عظمت، استقامت اور بلندی کا احساس دیتے ہیں - علامہ اقبال کے نزدیک فطرت ایک ایسی زبان ہے جسے حساس اور بیدار انسان پڑھ سکتا ہے-بزبانِ اقبال:

فطرت نے مجھے بخشے ہیں جوہرِ ملکوتی
خاکی ہوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند

یہاں انسان کی خاکی حقیقت اور اس کی بلند پروازی ایک ساتھ سامنے آتی ہے- انسان زمین سے وابستہ ہے، مگر اسے شعور، ارادہ اور عمل کی قوت عطا ہوئی ہے- اس قوت کا تقاضا یہ نہیں کہ وہ زمین کو پامال کرے بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھے- اقبال کے ہاں انسان کی عظمت فطرت سے لاتعلقی میں نہیں بلکہ اس کے ساتھ بامعنی تعلق قائم کرنے میں ہے-

ہمالہ اور طورِ سینا : فطرت کی عظمت کے استعارے

اقبال کی نظم ’’ہمالہ‘‘ فطرت سے ان کے گہرے تعلق کی ایک روشن مثال ہے- ہمالہ یہاں صرف ایک پہاڑی سلسلہ نہیں رہتا بلکہ ایک عظیم اور باوقار وجود کی صورت اختیار کر لیتا ہے-

اے ہمالہ! اے فصیلِ کشورِ ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں
تو جواں ہے گردشِ شام و سحر کے درمیاں
ایک جلوہ تھا کلیمِ طورِ سینا کے لیے
تو تجلی ہے سراپا چشمِ بینا کے لیے

اقبال ہمالہ کی اوٹ سے انسان کو ہیبت فطرت کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں- انسان جب فطرت کی عظمت کو محسوس کرتا ہے تو اس کے اندر غرور کے بجائے عجز پیدا ہونا چاہیے- یہی عجز تحفظِ فطرت کی بنیاد بن سکتا ہے- جو شخص درخت، دریا، پہاڑ اور حیوان کو محض اپنے مفاد کی چیز نہیں سمجھتا، وہ ان کے ساتھ زیادتی سے بھی گریز کرتا ہے-

وسعت کائنات انسانی وسعت نظری کا عندیہ:

اقبال کی شاعری انسان کو محدود سوچ سے نکال کر ایک وسیع کائناتی تناظر میں لے جاتی ہے- علامہ اقبال فرماتے ہیں:

ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
تہی زندگی سے نہیں یہ فضائیں
یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہیں

 یہ اشعار براہِ راست ماحولیات کا موضوع نہیں رکھتے، لیکن ان میں اقبال کی کائناتی وسعتِ نظر نمایاں ہے- انسان کو یہ احساس دلایا جارہا ہے کہ دنیا صرف اس کے محدود مفادات کا نام نہیں- کائنات اس سے کہیں زیادہ وسیع، پیچیدہ اور حیرت انگیز ہے- یہی شعور انسان کو اپنی مادی خواہشات پر قابو پانے کی طرف لے جا سکتا ہے- جب انسان کائنات کی وسعت اور اپنی محدود حیثیت کو سمجھتا ہے تو اس کے اندر اعتدال اور ذمہ داری پیدا ہوتی ہے-

چھوٹی مخلوق، بڑی حکمت:

اقبال کی بچوں کے لیے لکھی گئی نظموں میں فطرت کے ساتھ ان کا تعلق خاص طور پر نمایاں ہے- ’’ایک پہاڑ اور گلہری‘‘ میں ایک چھوٹی سی گلہری کو بظاہر کمزور اور حقیر سمجھا جاتا ہے، مگر وہ اپنے وجود کی اہمیت واضح کرتی ہے-

ہر ایک چیز سے پیدا خدا کی قدرت ہے
کوئی بڑا کوئی چھوٹا یہ اس کی حکمت ہے
نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
کوئی برا نہیں قدرت کے کارخانے میں

یہ چند اشعار فطرت کے پورے نظام کو سمجھنے کے لیے بنیادی اصول فراہم کرتے ہیں- قدرت کے کارخانے میں ہر مخلوق کا اپنا مقام ہے- انسان کسی مخلوق کو صرف اس لیے بے فائدہ قرار نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے فوری مفاد میں نہیں آتی-آج جب بہت سی حیوانی انواع معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں، یہ تصور مزید اہم ہوجاتا ہے- فطرت کی قدر صرف ان چیزوں کی بنیاد پر نہیں ہونی چاہیے جن سے براہِ راست انسان کو فائدہ پہنچتا ہے-

پرندے کی فریاد:

اقبال کی نظم ’’پرندے کی فریاد‘‘ فطرت اور آزادی کے تعلق کو ایک نہایت مؤثر انداز میں سامنے لاتی ہے-

آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ
وہ باغ کی بہاریں وہ سب کا چہچہانا
آزادیاں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کی
اپنی خوشی سے آنا اپنی خوشی سے جانا

قفس میں بند پرندہ اپنے قدرتی ماحول کو یاد کرتا ہے- باغ، گھونسلہ، آزادی اور چہچہاہٹ اس کی فطری زندگی کا حصہ تھے- اس نظم کو موجودہ دور کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ ہمیں حیوانات کے قدرتی مسکن کے تحفظ کی اہمیت کا احساس دلاتی ہے- جنگلات کا خاتمہ، غیر ضروری شکار، قدرتی علاقوں کی تباہی اور آلودگی نہ صرف انسانی زندگی بلکہ بے شمار جانداروں کے وجود کو بھی متاثر کرتی ہے- پرندے کی فریاد ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ کیا انسانی ترقی کا مطلب دوسری مخلوقات کے قدرتی مسکن چھین لینا ہے؟

انسان فطرت کا مالک نہیں بلکہ امین ہے :

انسان نے صنعتی ترقی کے ذریعے زمین کی بے شمار قوتوں کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا- بجلی، صنعت، زراعت، مواصلات اور ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو آسان بنایا- مسئلہ ترقی نہیں بلکہ بے اعتدالی ہے- دریا سے توانائی حاصل کرنا ایک مفید عمل ہے، لیکن دریا کو آلودہ کرنا ترقی نہیں- زمین سے فصل حاصل کرنا انسانی ضرورت ہے، مگر زمین کی زرخیزی ختم کردینا دانش مندی نہیں- جنگل سے لکڑی حاصل کرنا ضرورت ہوسکتی ہے، لیکن پورے جنگل کو ختم کردینا آنے والی نسلوں کے حق پر ڈاکہ ڈالنا ہے-

یہی وہ مقام ہے جہاں اقبال کا تصورِ خودی انسان کو ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے- طاقت کا مقصد صرف طاقت کا اظہار نہیں بلکہ اس کا درست استعمال ہے- اقبال اپنی نظم ’’ابر کوہسار‘‘ میں فرماتے ہیں:

کبھی صحرا ، کبھی گلزار ہے مسکن ميرا
شہر و ويرانہ میرا، بحر میرا ، بن ميرا
کسی وادی ميں جو منظور ہو سونا مجھ کو
سبزہء کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو
سبزہء مزرعِ نوخيز کی اميد ہوں ميں
زادہء بحر ہوں پروردہء خورشيد ہوں ميں

دور حاضر کا ماحولیاتی بحران اور اقبالی فکر:

آج دنیا درجۂ حرارت میں اضافے، گلیشیئرز کے پگھلنے، شدید موسمی حالات، پانی کی قلت، فضائی آلودگی، پلاسٹک کے پھیلاؤ اور جنگلات کی کمی جیسے مسائل کا سامنا کررہی ہے- ان مسائل کا حل صرف سائنسی یا سیاسی سطح پر تلاش کرنا کافی نہیں- ٹیکنالوجی ہمیں بہت سے حل فراہم کرسکتی ہے، مگر سوال یہ ہے کہ انسان اپنے رَوَیّے کو کس طرح تبدیل کرے گا؟ اقبال ماحول دشمن صنعتی ترقی اور آلات کو آلودگی گردانتے ہیں- سرمایہ پرستی کی وہ سوچ جس سے اقبال نے متنبہ کیا تھا وہ آج بھی کار فرما ہے- مغربی اقوام جن کا فضائی آلودگی میں بڑا کردار ہے عالمی ماحولیاتی اہداف کو پورا کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آتیں -

محرم نہیں فطرت کے سرود ازلی سے
بینائے کواکب ہو کہ دانائے نباتات
یورپ میں بہت روشنئ علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمہء حیواں ہے یہ ظلمات
ظاہر میں تجارت ہے حقیقت میں جوا ہے
سود ایک کا لاکھوں کے لئے مرگ مفاجات
یہ علم یہ حکمت یہ تدبر یہ حکومت
پیتے ہیں لہو دیتے ہیں تعلیم مساوات
ہے دل کے لیے موت مشینوں کی حکومت
احساس مُرَوّت کو کچل دیتے ہیں آلات
کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ
دنیا ہے تری منتظرِ روزِ مکافات

نئی نسل اور فطرت کی حفاظت:

ماحولیاتی شعور کی سب سے مضبوط بنیاد بچپن میں رکھی جاسکتی ہے- اگر بچوں کو یہ سکھایا جائے کہ پانی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے، درخت زندگی کا ذریعہ ہیں، جانور بھی اللہ کی مخلوق ہیں اور زمین ہماری ذمہ داری ہے تو ماحول سے محبت ان کی شخصیت کا حصہ بن سکتی ہے-

اس مقصد کے لیے اسکولز، کالجز، مدارس، مساجد اور جامعات میں ماحولیات کو صرف سائنسی موضوع کے طور پر نہیں بلکہ اخلاقی اور دینی ذمہ داری کے طور پر بھی پیش کرنا چاہیے- بچے کو یہ سکھانا کہ پانی کھلا نہ چھوڑے، کچرا سڑک پر نہ پھینکے، درختوں کو نقصان نہ پہنچائے، جانوروں کو بلاوجہ تکلیف نہ دے اور بجلی کا غیر ضروری استعمال نہ کرے، بظاہر چھوٹی باتیں ہیں، مگر اجتماعی سطح پر یہی عادات بڑے نتائج پیدا کرتی ہیں- اقبال کا یہ شعر گوکہ متروکہ کلام کا حصہ ہے مگر کس قدر نصیحت آموز ہے :

دیکھ کر چلنا کچل جائے نہ چیونٹی راہ میں
آدمی کو بے زبانوں سے بھی الفت چاہئے

بچے کے اندر ایک ایسی حساسیت پیدا کرتا ہے جو صرف انسانوں کے لیے نہیں بلکہ تمام جانداروں کے لیے احترام پیدا کرتی ہے-

فطرت سے محبت، مستقبل سے وفاداری:

ماحولیاتی تحفظ کا مطلب ماضی کی طرف واپس جانا نہیں بلکہ ترقی کے ایسے راستے کا انتخاب ہے جس میں انسان اور فطرت دونوں محفوظ رہیں-

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صاف ہوا، صاف پانی، زرخیز زمین، سرسبز جنگلات، برف پوش پہاڑ، بہتے دریا اور حیاتیاتی تنوع صرف خوب صورت مناظر نہیں بلکہ انسانی زندگی کے بنیادی ستون ہیں- فطرت کو نقصان پہنچا کر انسان بالآخر اپنے ہی مستقبل کو نقصان پہنچاتا ہے- جو درخت آج کاٹا جاتا ہے، اس کا نقصان صرف آج کے انسان کو نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بھی برداشت کرنا پڑتا ہے-

 فطرت کی حفاظت دراصل اپنی حفاظت ہے:

فطرت خاموش ضرور ہے مگر اس کی خاموشی معنی سے خالی نہیں- دریا اپنی روانی سے، پہاڑ اپنی استقامت سے، درخت اپنی خاموش نمو سے، پرندے اپنی آواز سے اور ستارے اپنی روشنی سے انسان کو اپنے خالق کی قدرت کی طرف متوجہ کرتے ہیں-

اقبال کے ہاں فطرت صرف پھول، پہاڑ، ستارے اور پرندے نہیں بلکہ ایک زندہ فکری تجربہ ہے- وہ انسان کو فطرت کے حسن میں رکنے کے بجائے اس کے پیغام کو سمجھنے کی دعوت دیتے ہیں- آج کا ماحولیاتی بحران ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم ترقی، ضرورت اور خواہش کے درمیان فرق کو دوبارہ سمجھیں- ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ زمین کو صرف استعمال کرنا ہے یا اسے آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ بھی رکھنا ہے-

اقبال کے کلام میں فطرت کی طرف رجوع دراصل انسان کو اس کی اپنی حقیقت کی طرف رجوع کی دعوت ہے-

چمن میں غنچہ گل سے یہ کہہ کر اڑ گئی شبنم
 مذاق جور گلچیں ہو تو پیدا رنگ و بو کر لے

فطرت کے اس جہان کو سمجھنے کے لیے صرف آنکھ کا کھلا ہونا کافی نہیں، دل اور شعور کا بیدار ہونا بھی ضروری ہے- قرآن کریم کا پیغام ہمیں زمین میں فساد سے روکتا ہے، میزان اور اعتدال کی تعلیم دیتا ہے اور کائنات میں موجود نشانیوں پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے- اقبال اسی شعور کو انسانی کردار، خودی، حرکت اور عمل کے ساتھ جوڑتے ہیں- لہٰذا فطرت کی حفاظت محض ایک جدید عالمی نعرہ نہیں بلکہ ہماری اخلاقی اور انسانی ذمہ داری بھی ہے- درخت کی حفاظت، پانی کی قدر، جانوروں کے ساتھ رحم، زمین کی زرخیزی کا تحفظ اور وسائل کا محتاط استعمال دراصل اس امانت کی پاسداری ہے جو انسان کو عطا کی گئی ہے- فطرت اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے، زمین ہماری امانت ہے اور اس کی حفاظت ہماری ذمہ داری- اگر ہم قرآن کریم کی ہدایت، اقبال کی فکر اور جدید سائنسی شعور کو ایک ساتھ لے کر چلیں تو ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے جس میں ترقی بھی ہو، شعور بھی ہو اور فطرت کا احترام بھی- کیونکہ آخرکار فطرت کا تحفظ کسی ایک درخت، ایک دریا یا ایک جنگل کا تحفظ نہیں یہ خود انسان کے مستقبل کا تحفظ ہے-

٭٭٭

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر