ابتدائیہ:
اقبال ؒ ایک عظیم مفکر تھے جن کی شاعری دنیائے ادب کا گراں بہا سرمایہ ہے- جہاں تک ان کے نظر و فکر کا تعلق ہے تو بلاشبہ مختلف علوم و فنون میں مہارت رکھنے کے ساتھ ساتھ وہ ایک عظیم متکلم بھی تھے کیونکہ انہوں نے مشاہیر متکلمین کی طرح مذہبی تعلیمات کی معاصر علمی انکشافات کے ساتھ تطبیق پیدا کرنے کی کوشش کی ہے- اس ضمن میں علامہ اقبال ؒ کے شاہکار خطبات ”تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ‘‘ (The Reconstructions of Religious Thoughts in Islam) خصوصی اہمیت کے حامل ہیں-ان خطبات میں اسلامی فکر کے مختلف موضوعات کو زیرِ بحث لایا گیا ہے-علامہ اقبالؒ کے ان خطبات کو جدید دور کے اسلامی ادب (literature) میں ایک خاص مقام حاصل ہے- علامہ اقبالؒ نے اپنے شاہکار خطبات میں جدید علمی رجحانات و انکشافات کی روشنی میں الٰہیات اسلامیہ کو از سر نو مرتب کرنے کی کوشش کی ہے، اس لحاظ سے وہ غزالی و رازی کی طرح ایک متکلم کا فرض انجام دے رہے ہیں- کیونکہ امام غزالی اور امام رازی نے قدیم فلسفہ نو فلاطونیت اور اسلامی عقائد میں مفاہمت کرنے کی کوشش کی تھی جبکہ علامہ اقبالؒ نے سائنس اور مذہبی مسلمات کی تطبیق کی سعی کی ہے “ - علامہ اقبالؒ کے خطبات کو اپنے موضوعات کے لحاظ سے عصر حاضر کا جدید علم الکلام کا نام دیا جا سکتا ہےجس میں انہوں نے حواس خمسہ کو تجربہ، وحی کو عشق، وجدان کو عارفانہ تجربہ و باطنی ادارک کے طور پر پیش کیا ہے-[1]
معروف اقبال شناس ڈاکٹر سہیل عمر کے بقول:
”علامہ اقبالؒ کے خطبات عصر حاضر کا جدید علم الکلام ہیں جس کی ضرورت کو ارباب فکر و بصیرت عرصہ دراز سے محسوس کر رہےتھے اس سے انکار ممکن نہیں ہے کہ یہ علم الکلام ہمارے قدیم علم الکلام سے بدرجہا فائق، مستحکم اور ایمان و بصیرت کو جلا بخشنے والا ہے“-[2]
جدید تعلیم یافتہ مفکرین میں عہد حاضر کی سب سے بڑی اور مؤثر آواز علامہ اقبال ؒ کی ہے لیکن علامہ کی فکری حیثیت محض جدید کلام کےایک نمائندے سے کہیں بلند تر ہے-ان کا کثیر الجہات شعری و نثری کارنامہ اپنے حدود و وسعت کے اعتبار سے تنگنائے کلام( اظہار کی تنگی ) کا اسیر نہیں کیا جاسکتا، تاہم جدید علم الکلام کی تشکیل کو ان کے پورے فکری تناظر کا ایک اہم جزو ضرور کہا جا سکتا ہے-علامہ ؒکے خطبات یعنی ”تشکیل جدید الہٰیات اسلامیہ“ کو تقریباً سبھی ماہرینِ اقبالیات نے عہد حاضر میں حقائق دین کی سب سے کامیاب اور ہمہ گیر تعبیر نو قرار دیا ہے-[3]
اقبال کے ہاں اسلامی عقائد (علم الکلام ) کا اثبات:
اقبال کا علم الکلام عملی نتائج پر مبنی ہے یعنی انہوں نے اسلامی عقائد کا اثبات عملی نتائج سے کیا ہے -قدیم زمانے میں جس طرح فلسفہ و سائنس کے مسائل عقلی دلائل سے ثابت کیے جاتے تھے بعینہ اسی طرح ہمارے متکلمین نے اسلامی عقائد مثلاً وجودِ باری تعالیٰ، توحید، نبوت، حشر ونشر وغیرہ کا اثبات عقلی دلائل سے کیا- لیکن ان دلائل سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ توحید ، نبوت اور رسالت وغیرہ کے عملی نتائج اس دنیا میں کیا ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ امام غزالی و رازی وغیرہ نے اس روش کو چھوڑ کرنظری وعملی نتائج سے نبوت و رسالت کا اثبات کیا-علامہ اقبالؒ نے اسلامی عقائد کا اثبات زیادہ تر اُن کے عملی نتائج سے کیا ہے اور خودی کا جو فلسفہ اُن کا مخصوص فلسفہ ہے اُن سے انہوں نے ان مسائل کی تشریح و اثبات میں بھی کام لیا ہے- اس لئے اُن کا طرزِ بیان قدیم علمائے کلام اور قدیم متکلم وصوفی شعراءکے اندازِ بیان سے زیادہ اس زمانے کے رجحان و زوق کے مطابق ہے-[4]
اقبال کا عقیدہ توحید:
عقیدہ توحید کی بنیاد تمام معبودانِ باطلہ کی نفی کرنااور ایک اللہ کےاقرار و تصدیق پر ہے، عقیدہ توحیدپرہی ملت اسلامیہ کے قیام، بقا اورعروج کا انحصار ہے، یہی توحیدامت مسلمہ کی قوت و طاقت کا سرچشمہ اور اسلامی معاشرے کی رُوحِ رواں ہے- عقیدہ توحید تمام عقائد کی جڑ اور اصل الاصول ہے اور یہ توحید ہی ہے جس نے ملت اسلامیہ کو ایک لڑی میں پروکر ناقابل تسخیر قوت بنا دیا ہے-علامہ اقبالؒ اپنے خطبات میں ارشاد فرماتے ہیں کہ اتحاد عالم کی بنا اصولِ توحید پر رکھی گئی ہے- لہذا بطور اساس اسلامی ریاست ہی وہ عملی ذریعہ ہے جس میں توحیدکا یہ اصول ہماری زندگی میں ایک زندہ عنصر کی حیثیت اختیار کرتاہے -[5]
اقبالؒ اپنے چھٹےخطبے میں عقیدہ توحید کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
“The essence of Tauhid as a working idea, is equality, solidarity, and freedom. The state, from the Islamic standpoint, is an endeavour to transform these ideal principles into space-time forces”.[6]
”عقیدہ توحید کا جوہراپنے عملی تصور میں مساوات یکجہتی اور آزادی ہے، اسلامی نقطہ نظر سے ریاست ان اعلیٰ اُصولوں کو زمانی اور مکانی قوتوں میں تبدیل کرنے کی جدو جہد سے عبارت ہے“-
علامہ اقبالؒ عقیدہ توحید کے عملی پہلو کو مرکزی اہمیت دیتے ہیں اور اس کے عقلی پہلو یعنی تصورِ خدا کو مذہبی زندگی کے دوسرے درجہ یعنی ’’ فکر‘‘ یا”اجتہادی“ درجہ کیلئے چھوڑ دیتے ہیں- اس لیے فقط توحید کا اقبالی فہم مقصود ہو تو یہ ’’اُمتِ واحد‘‘ کی خواہش کا نام ہے- ایک ایسا آرگینک (Organic) طرز کا رشتہ جو دنیا کے تمام انسانوں کے درمیان پیدا ہوجائے اور وہ خود کو ایک جسم محسوس کرنے لگیں یہ ہے اقبال کی توحید -[7]
|
زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی |
اس کامطلب واضح ہے کہ حق و باطل یا کفر و اسلام کے باہمی فرق میں توحید (اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک ماننا) بنیادی اور مرکزی حیثیت رکھتی ہے- ایک وقت تھا جب توحید ہی مسلمان کا حقیقی سرمایہ تھی اور اس کی پوری زندگی اسی ایک نقطے کے گرد طواف کرتی تھی- توحید کا یہ عقیدہ جو کبھی مسلمان کیلئے ایک متحرک، سچی اور پائیدار طاقت کی حیثیت رکھتا تھا، آج کے چندہ پرست بعض ملاؤں نے توحید کے نام پر تکفیر کا بازار گرم کر رکھا ہے اور دعوتِ توحید کو محض تکفیر کا آلہ بنا کر رکھ دیا ہے -
مزیدعلامہ اقبالؒ کے نزدیک توحید انسانی قلب کا بیش بہا تجربہ ہے-جو انسان کی کایہ پلٹ دیتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ عقیدہ توحید کو اپنی عملی زندگی میں برتیں اور انقلاب پیدا کریں-[8]
اقبال کا عقیدۂ ختمِ نبوت (ﷺ):
رسول پاک (ﷺ) کا آخری نبی اور رسول ہونا اسلام کے اُن بدیہی مسائل و عقائد میں سے ہے جن کو تمام عام و خاص، عالم و جاہل، شہری اور دیہاتی مسلمان ہی نہیں بلکہ بہت سے غیر مسلم بھی جانتے ہیں-متکلمین کےہاں نبی کی مشہور تعریف یہ کی جاتی ہے کہ:
’’نبی وہ انسان ہے جس کواللہ تعالیٰ ان احکام کی تبلیغ کے لئے بھیجتے ہیں جو ا ن کی طرف وحی فرماتے ہیں‘‘-[9]
اقبالؒ کا عقیدہ ختمِ نبوت پہ مؤقف غیر متزلزل اور بڑا واضح ہے -اقبالؒ عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے اپنی کتاب ’’رموزِ بے خودی‘‘ میں لکھتے ہیں :
|
پس خدا بر ما شریعت ختم کرد |
’’خدا نے ہم پر شریعت ختم کر دی اور ہمارے رسول (ﷺ) پر رسالت ختم ہو گئی-رسول اللہ (ﷺ) کا ارشاد ہے کے میرے بعد کوئی نبی نہیں-یہ خدا کا احسان ہے اور یہ دین مصطفیٰ کی ناموس کا پردہ ہے‘‘-
چونکہ ختمِ نبوت کا عقیدہ قرآن کی نصِ قطعی( وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ) [10]سے ثابت ہے، اِس پر اجماعِ اُمت ہے اور اِسے ضروریاتِ دین میں شمار کیاگیا ہے-
اقبال کا فلسفہ تقدیر:جبر و اختیار کی بحث
اقبالؒ نے اپنے خطبات میں تصورِ تقدیر کی وضاحت کیلئے کوئی مستقل اور مکمل خطبہ مختص نہیں کیا-تاہم دوسرے، تیسرے اور چوتھے خطبے میں انہوں نے اس موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے- اس کے باوجود تقدیر کے بارے میں اقبالؒ کے تصور کے اثرات ان کے پورے خطبات اور ان کی شاعری کے بیشتر حصے میں نمایاں اور ہمہ گیر طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں بلکہ یہ ان کے پورے فلسفۂ حیات کا ایک بنیادی محور ہے-[11]
اسلام میں مسئلہ تقدیر کو صحیح طور پر نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض احباب غلط فہمی کا شکار بھی ہوئے کچھ لوگ تو اعمال عبادات اس لئے چھوڑ بیٹھے کہ دوزخ و جنت جو بھی تقدیر میں لکھی جا چکی ہے وہ تو لازمی طور پر ملے گی اس لئے اعمال عبادات کرنے کا کیا فائدہ؟ لیکن اقبال ؒ کے نزدیک یہ خیال انسان کے عملی شرف کو کھو دیتا ہے اور اس کو نباتات و جمادات کی صف میں کھڑا کر دیتا ہے-
|
خبر نہيں کيا ہے نام اس کا، خدا فريبی کہ خود فريبی |
مزید یہ کہ اقبال ؒبراہِ راست قرآن حکیم اور اسلامی فکر کے بنیادی سرچشموں سے رہنمائی لیتے ہوئے اس تصورِ تقدیر کا درست مفہوم واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو ہمیں سراسر عمل کے امکانات کی طرف راغب کرتا ہےاور ہم پر کوئی ایسا مستقبل مسلط نہیں کرتا جو جبری طور پر پہلے ہی سےطے شدہ ہو اور اس میں انسانی کوشش کا کوئی کردار باقی نہ ہو،اسلام کا نظام تربیت ہمیں جبر نہیں بلکہ اختیار کے لئے تیار کرتا ہے-[12]
اس لئے اقبالؒ فرماتے ہیں کہ:
|
عبث ہے شکوۂ تقدیر یزداں |
ایک اور مقام پہ فرماتے ہیں:
|
تقدیر کے پابند نباتات و جمادات |
یہ اشعار اقبالؒ کے فلسفۂ خودی، انسانی وقار اور مومن کی روحانی خودمختاری کو اجاگر کرتے ہیں-نباتات و جمادات قانونِ فطرت کے پابند ہیں، جبکہ مومن شعورِ ذات اور خودی سے آشنا ہوکر تقدیر کے جبر کا بے اختیار اسیر نہیں رہتا بلکہ تصور تقدیر کی درست تفہیم کو پا لیتا ہے - وہ صرف اطاعتِ الٰہی کو اپنا مرکز بناتے ہوئے آزادیِ ارادہ اور بلند کردار کے ذریعے اپنی زندگی کی تشکیل کرتا ہے-
اقبال کا عقیدہ حیات بعد الموت:
موت کا خوف انہیں لاحق ہوتا ہے جو زندگی کو صرف اسی دنیا تک محدود سمجھتے ہیں اور حیات بعد الموت پر یقین نہیں رکھتے اقبال ؒنے اس تصور کے خلاف مسلسل جہاد کیا، اقبالؒ کے نزدیک چونکہ زندگی ارتقاء پذیر ہے اس لئے مقصد حیات صرف یہیں ختم نہیں ہو جاتا بلکہ موت زندگی کے عملِ تسلسل کا ایک مظہر ہے -جیسا کہ اقبالؒ فرماتے ہیں :
|
موت کو سمجھے ہیں غافل اختتامِ زندگی |
اقبالؒ کے ہاں موت کی یہ کیفیت صرف ان اہل ایمان والوں کے لئے مختص ہو سکتی ہے جن کی خودی مستحکم ہو چکی ہو-
|
خودی ہے زندہ تو ہے موت اک مقام حیات |
اقبالؒ کی رائے میں انسان کے اعمال اس کی خودی کو مضبوط بھی کرتے ہیں اور ہلاکت کا باعث بھی بنتے ہیں یعنی خودی کی بقا اور فنا انسانی اعمال پر منحصر ہے- اگر خودی اپنے اعمال کی بدولت اپنے اندر اتنا استحکام پیدا کرلے کہ موت اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے تو ایسی صورت میں موت اس کے لئے درحقیقت ایک راستہ ہے- اس راستے کو قرآن پاک نے ’’برزخ‘‘ کے نام سے یاد کیا ہے- اقبالؒ اپنے خطبات میں کہتے ہیں:
”جب ہم باطنی واردات اور مشاہدات کی طرف رجوع کرتے ہیں تو ان سے بھی یہی مترشح ہوتا ہے کہ برزخ نام ہے شعور کی اس حالت کا جس میں زمان و مکان کے متعلق خودی کے اندر کچھ تغیر رونما ہوجاتا ہے اور یہ بات کچھ غیر اَغْلَبْ بھی نہیں“-[13]
اقبال کی نظرمیں موت ایسا صید(شکار) ہے جس کی تاک میں بیٹھنے سے انسانی ہستی کا ارتقاءجاری رہتاہے-موت کے بعد روح ترقی کے راستے پراپنی صلاحیتوں کے مطابق درجات حاصل کرتی ہے- اقبالؒ فرماتے ہیں کہ:
“Life is one and continuous. Man marches always onward to receive ever fresh illuminations from an Infinite Reality which 'every moment appears in a new glory'. And the recipient of Divine illumination is not merely a passive recipient. Every act of a free ego creates a new situation, and thus offers further opportunities of creative unfolding”.[14]
”زندگی یکتا اور متسلسل ہےانسان ہمیشہ حقیقت مطلقہ سے تازہ روشنی حاصل کرنے کیلئے آگے کی سمت بڑھتا رہتا ہے جو ہر لحظہ نئی آن اور نئی شان سے ظاہر ہوتی ہے اور خدا سے روشنی کا حصول محض انفعالی نہیں- آزاد خودی کا ہر عمل ہر دم ایک نئی صورت حال پیدا کرتا ہے اور یوں وہ تخلیقی کشود کے مزید مواقع فراہم کرتا ہے“-
|
زندگانی ہے صدف قطرۂ نیساں ہے خودی |
چنانچہ جسمانی زندگی کا عرصہ خودی کے عارضی قیام کی جگہ ہے-انسانی جسم میں ظاہر ہونے سے پہلے خودی کی انفرادی سطح پر اپنی کوئی الگ شناخت نہیں تھی، یعنی اگر وہ کسی لامتناہی ہستی سے انسان میں منتقل ہوئی ہے تو بھی انسان میں آنے سے پہلے اس کی الگ شناخت نہ تھی-انسانی وجود میں جوہر کی صورت جلوہ گر ہونے کے بعد خودی کو ایک الگ انفرادی شناخت ہاتھ آگئی- اب اگر خودی چاہے تو اپنی شناخت کو مزید مضبوط بناتے ہوئے ہمیشہ کے لیے خود کو اتنا مستحکم کرلے کہ عارضی حیات میں کسی بھی قسم کا حادثہ اس کی بقائے دوام پر اثرانداز نہ ہو- یہاں تک کہ یہ حادثہ اگر ’’موت‘‘ کا حادثہ ہو تب بھی-[15]
حکیم الامت علامہ محمد اقبالؒ نے اسی طرف اشارہ کیا ہے کہ :
|
ہو اگر خودنگر و خودگر و خودگير خودی |
اختتامیہ:
خطباتِ اقبال میں کلامی مباحث محض عقائد کی نظری توضیح یا مجرد منطقی و فلسفیانہ استدلال نہیں بلکہ ایمان و عقائد کو عصرِ جید کے علمی، فکری اور تہذیبی سوالات سے ہم کنار کرنے کی ایک عظیم و بامقصد کاوش ہے-علامہ اقبالؒ نے توحید کو محض ایک نظری عقیدہ قرار نہیں دیا بلکہ اسے مساوات، اخوت، آزادی اور اجتماعی وحدت کی زندہ قوت بھی قرار دیا، ختمِ نبوت کو انسانی خودآگہی، دینی و تہذیبی ضرورت، عقل و اجتہاد اور فکری خودمختاری کی بنیاد سے مربوط کیا، مسئلۂ تقدیر میں جبر کے بجائے اختیار، عمل اور تخلیقی خودی کو نمایاں کیا جبکہ حیاتِ بعدالموت، جنت و جہنم کو انسان کے روحانی ارتقاء اور کردار کی تکمیل سے وابستہ کیا ہے-اس طرح اقبالؒ کے ہاں عقیدہ زندگی سے کٹا ہوا تصور نہیں بلکہ فرد کی تعمیر، ملت کی بیداری اور تہذیب کی تشکیل کا سرچشمہ ہے- یہی خطباتِ اقبال کی فکری معنویت اور جدید علمِ کلام کیلئے ان کی بے پایاں اہمیت ہے-
٭٭٭
[1]جدید علم الکلام اور اقبال، تحقیقی مقالہ برائے پی ایچ ڈی اقبالیات، مقالہ نگار طالب حسین اشرف، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد،ص14
[2]خطبات اقبال نئے تناظر میں ،محمدسہیل عمر، اقبال اکادمی پاکستان، ص:20
[3]ایضاً
[4]اقبالیات کے سو سال، رفیع الدین ہاشمی، محمد سہیل عمر،ڈاکٹر وحید عشرت،اقبال اکادمی پاکستان،ص:346
[5]جدید علم الکلام اور اقبال، تحقیقی مقالہ برائے پی ایچ ڈی اقبالیات، مقالہ نگار طالب حسین اشرف، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد،ص:17
[6]تجدیدِ فکریات اسلام، مترجم ڈاکٹر وحید عشرت، اقبال اکادمی پاکستان، ص:187
[7]علامہ اقبالؒ کے اسلامی عقائد کا تنقیدی جائزہ ، ادریس آزاد
[8]جدید علم الکلام اور اقبال، تحقیقی مقالہ برائے پی ایچ ڈی اقبالیات، مقالہ نگار طالب حسین اشرف، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد،ص:17
[9]شرح المقاصد،علامہ مسعود بن عمر عبداللہ سعد الدین تفتازانی، دارالکتب علمیہ بیروت، لبنان، جز: 3، ص: 268
[10]الاحزاب: 40
[11]Iqbal’s Idea of Taqdir (Destiny), Prof. Muhammad Munawwar, November 23, 2011, International Iqbal Society
[12]معاصر تہذیبی کشمکش اور فکر ِاقبال اسباب،اثرات اور حل، ڈاکٹر طاہر حمید تنولی، اقبال اکادمی پاکستان،ص:196
[13]تشکیل جدیدالٰہیات اسلامیہ‘سید نذیرنیازی‘لاہور،بزمِ اقبال 2012،ص:180
[14]تجدیدِ فکریات اسلام، مترجم ڈاکٹر وحید عشرت، اقبال اکادمی پاکستان، ص:149
[15]علامہ اقبالؒ کے اسلامی عقائد کا تنقیدی جائزہ ، ادریس آزاد