عصر حاضر میں قومی زبوں حالی اور خصوصاً قوم کے نوجوانوں کی حالت زار دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے - ملی اعتبار سے بھی یہ فسانۂ درد، کرب اور پشیمانی کی تصویر پیش کرتا ہے - ایسا محسوس ہوتا ہے !گویا زوال اس امت ِمظلوم کا نصیب بن چکا ہےجو زندگی کے ہر پہلو کو اپنے شکنجے کی مضبوط گرفت میں لے کر اسے روزبروز ختم کرنے کے در پے ہے-زوال کا یہ سفر فکری اور شعوری پستی سے شروع ہو کر نظریاتی وتہذیبی بقاء کو اپنے لپیٹ میں لیتا ہواگہرائی کے ساتھ اخلاقی پستی،عملی بے حسی اور علمی وتحقیقی و روحانی عدم دلچسپی تک آن پہنچا ہے -
موجودہ صورتحال کے تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم کو اب کسی رومی ،غزالی یا اقبال کی صدا سنائی جائے، جو ان کی افکار میں لہروں کی مانند تلاتم برپا کردے ، شعور کی موجوں میں تندی وطغیانی کا باعث بن سکے ، بحرعلم وتحقیق میں اضطراب پیدا کر دے،کردار کو بلندی عطاء کرے اورخودی کو طاقت پرواز بخش دے- لیکن میرے عہد کا شاہین کرے بھی تو کیا کرے جس کے پاس اقبال ہی نہیں- اسی لیے ’’جرأت آموز میری تاب سخن ہے مجھ کو ‘‘ کہ پیغامِ اقبال کو موجودہ قومی صورتِ حال کے پیشِ نظر اپنے رنگ میں پیش کرنے کی کوشش کر رہا ہوں- 122 برس قبل اقبال کی نصیحت کو موجودہ معروضی حالات کے تناظر میں مؤثر بنانے کی غرض سے بندہ ناچیز یہ جسارت کر رہا ہے کہ موجودہ قومی مسائل کا حل فکرِ اقبال سے اخذکیا جائے-
یوں تو اقبال نے یہ نظم 1904ء کےمتحدہ ہندوستان کے کچھ مخصوص حالات کے پیش نظر اور ایک خاص تاریخی دور کے پس منظر میں لکھی جس میں وہ اہلیان برصغیر کو قومی یکجہتی کیلئے نصیحت کررہے ہیں اور ان کی زبوں حالی ،قومی بے حسی، باہمی اختلافات،غلامانہ ذہنیت اور مستقبل کے خطرات اور ان کو نظر انداز کرنے کی روش کو درد مندانہ انداز میں بیان کر رہے ہیں- لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ گویا اقبال اکیسویں صدی میں بھی ایک ایسی قوم سے مخاطب ہے جو اپنی سمت کھو چکی ہے - جس کا قافلہ لٹ رہا ہے اور اس کے اندر قافلہ لٹنے کا احساس بھی دم توڑ رہا ہے - بلکہ یوں کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ یہ نظم آنے والے ہر دور کے لوگوں کے لیے ایک ایسے آئینے کی مثل ہے جس میں وہ اپنا میلا کچیلا اور گدلا عکس واضح طور پر دیکھ سکتے ہیں - یہی کلام اقبال کے فن کاکمال ہے کہ اس کا ربط ہر دور سے قائم ہے اور ہر دور کے لئے موزوں ہے- اسی لیے یہ ہر اُس قوم کے لیے پیغام ہے جس کے حالات و واقعات ازمنہ ماضی جیسے ہیں- اس حقیقت کا اشارہ کچھ حد تک علامہ صاحب کے درج ذیل اشعار سے بھی ملتا ہے:
|
اٹھائے کچھ ورق لالے نے ،کچھ نرگس نے ، کچھ گُل نے |
تغیر ِزمانہ کے ساتھ مسائل کی نوعیت بھی بدل جاتی ہے لیکن انسانی کمزوریاں بڑی حد تک وہی رہتی ہیں، جیسا کہ غفلت و انتشار کی جانب مائل خصلت،خود غرضی و بے حسی،اخلاقی و کردار کی کمزوری اور بے عملی کا رجحان وغیرہ - دیکھا جائے تو اقبال محض کچھ مخصوص حالات پہ تبصرہ کرنے کے بجائے انہی انسانی کمزوریوں کی اصلاح کی فکر میں کوشاں نظر آتے ہیں- یہی اصلاح کا اصل تقاضا بھی ہے کہ حالات پہ رونے دھونے اور ماتم کرنے کے بجائے انسانی ذات و صفات کی پرورش پہ توجہ مرکوز رکھی جائے - اسی شعوری کوشش سے انسانی وجود میں ایسے کرشماتی اثرات اور قدرت پیدا کی جا سکتی ہے جس کے ذریعے زمانے کی تنا بو ں کو تھام کر دنیا کی لہروں کا رخ اپنی مرضی سے موڑا جاسکتا ہے -
اگر دوسرے بند کے اس مصرعے کو آج کی نظر سے دیکھا جائے تو :
|
ریاض دہر میں ناآشنائے بزمِ عشرت ہوں |
آج کے نوجوان کا المیہ بھی کم و بیش یہی ہے کہ اپنی ذات و صلاحیت اور اپنی عظمت و اشرف المخلوقات کے مرتبے سے ناواقف ہے- یہ محرومی اس کو کافی نہ تھی کہ اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا کے تقاضوں سے بھی نا واقف ہے- یہ نہ تو اپنے زمانے کی ترقی و خوش حالی کے اطوار پہچان سکا اور نہ ہی اپنے دور میں عزت و وقار کے ساتھ سر اٹھا کر جینے کا سلیقہ - ایسی غفلت! کہ نہ یہ اپنی خودی پہچان سکا اور نہ ہی زمانے میں پنپنے کے انداز - نہ یہ اپنے وجود کے اندر کے جہان کو دریافت کر سکا اور نہ ہی یہ دنیاکو تسخیر کر سکا - مطلب نہ تو اس نےاپنے آپ کو اوج ثریا پر مقیم ہونے کے قابل بنایا جہاں انسان اپنی روح کی بیداری اور طاقت پرواز کے ذریعے فطرت کے راز دانوں میں شامل ہو کر دل کے آئینے میں کائنات کے چھپے رازوں کا مشاہدہ کر سکے - جیسا کہ اقبال اس نظم کے دوسرے بند کے آخری شعر میں کہتے ہیں:
|
مجھے رازِ دو عالم دل کا آئینہ دکھاتا ہے |
اور نہ ہی یہ اس قابل بننا چاہتا ہے کہ اپنے نظریات اور اپنی تہذیب کے پُر اثر اظہار سے اہل ِ زمانہ کو مسحور کر سکے-
ویسے تو اقبال اپنےدور کی عکاسی کرتے ہوئے یہ شعر کہتے ہیں کہ:
|
میری بگڑی ہوئی تقدیر کو روتی ہے گویائی |
لیکن اگر اس شعر کو آج کی مناسبت سے دیکھا جائے تو ہمارا نوجوان، اس کی صلاحیتیں اور اس کا تہذیبی اظہار، در اصل وہ حرفِ زیرِ لب ( اس حرف کی مانند جو اتنا آہستہ ادا کیا گیا ہو جو کسی کے کان تک نہ پہنچ سکے) بن چکا ہے جو یا تو ادا ہی نہ ہو سکا اور اگر ادا ہوا بھی تو اس کا اثر اہلِ زمانہ کی سماعتوں پر نہ پڑ سکا - جب یہ اپنے اظہار کا فن ہی کھو چکا ہے تو ایسے میں یہ اپنی تاثیر کہاں سے لائے گا- اس کے تہذیبی اظہار، صلاحیتوں اور اعلیٰ کردار کی تاثیر کا راز اس کی خود شناسی اور خود آگاہی کے سفر میں چھپا ہوا ہے اوریہ اس سفر کی طرف آنا ہی نہیں چاہتا- یہی وجہ ہے کہ عہد حاضر کا نوجوان تو اپنی دنیا میں محرومِ مسرت ہے ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ ریاض ِ دہر (دنیا) دراصل اس کے وجود اور صلاحیتوں کے جلوے سے ناآشنا ہے- گویا آج اگراقبال ہوتے تو وہ اپنے درد میں تنہا نہ ہوتے بلکہ آج اہل جہاں بھی ان کے ساتھ اس درد میں افسوس کے ساتھ شریک ہوتے کہ اس مردِ مومن کے جوہر کیوں نظر نہیں آتے جس کے لیے بزمِ دنیا سجائی گئی ہے- اسی دوسرے بند کے کچھ اشعار میں اقبال مزید فرماتے ہیں :
|
یہ سب کچھ ہے مگر ہستی میری مقصد کا قدرت کا |
بعین اسی صورت آج بھی انسان اپنے آپ کوپہچاننے سے انکاری ہے اور اقبال کا درد اب بھی حسبِ حال مؤ ثر ہے- یہ چاہے تو اس کے اندر دل کی سلطنت اور نفس کو فتح کرنے والی شانِ سکندری موجود ہے لیکن یہ آئینہ سکندری بننے کے بجائے گردِ کدورت (عداوت کا غبار) بننے پہ راضی ہو گیا ہے- یہ جاننا ہی نہیں چاہتا کہ یہ محض غبارِ راہ کی مانند ایک حقیر و بےقدر و قیمت شے نہیں ہے بلکہ ’’ وَ فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ‘‘ کے خزانے کا مالک ہے ،’’اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً‘‘ کا پیکر بن کر نیابت کا تاج اپنے سر پر سجائے ’’ فِیْٓ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ‘‘ کا خطاب پانے والا اشرف المخلوقات ہے- آج کا انسان اپنی اصل بھول کر خود کو اس مادی دنیا کا ایک حقیر سا ذرہ ثابت کرنے پر تلُا ہواہے- اس کو جان لینا چاہیے کہ وہ دنیا کے لیے اور دنیا کی وجہ سے نہیں بلکہ دنیا اس کے لیے ہے- بقولِ رومی:
|
بادہ از مامست شد نے ما ازو |
’’شراب ہماری وجہ سے مست ہوئی ہے نہ کہ ہم اس سے، جسم ہماری وجہ سے پیدا ہوا ہے نہ کہ ہم اس کی وجہ سے‘‘-
اسی ضمن میں اقبال تصویرِ درد کے دوسرے بند کے ساتوے شعر میں کہتے ہیں:
|
نہ صہبا ہوں نہ ساقی ہوں، نہ مستی ہوں نہ پیمانہ |
اب کوئی افسوس کیوں نہ کرے کہ مکتبِ عشق میں خود آگاہی کے سفر کا مسافر اور خود شناسی کی منزل کا راہی اور کائنات کی تسخیر کرنے والا شاہین نہ جانے کس طرح حمام و کبوتر کے دامِ فریب کا اسیر ہو گیا - مادیت کی زنجیر غالب آ گئی اور روحانیت کی آزادی پسِ پشت رہ گئی-
’’تصویرِ درد‘‘ کے تیسرے بند میں علامہ صاحب نے اس وقت کے متحدہ ہندوستان اور بر صغیر کی اقوام کے آپس کے تنازعات کے باعث انگریز سامراج کو ملنے والی طاقت اور نو آبادیات کی غلام قوم کومزید مغلوب رکھنے کی استطاعت اور محکوم قوم کے استحصال کے بارے میں ایک شعر اس انداز میں کہا کہ:
|
نشانِ برگِ گل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گلچیں! |
یہاں علامہ صاحب نے گلچیں ( پھول توڑنے والا) سے مراد انگریز سامراج کو لیا، باغ یعنی گلستاں سے مراد وطن (ہندوستان) اور باغبانوں سے مراد ( اقوامِ برصغیر) کو لیا ہے- یعنی اگر باغبان ( قوم) اسی طرح آپس میں لڑتے رہے تو گلچیں (انگریز سامراج) اس باغ (ہندوستان) کو ضرور تاراج کر دے گا- اب اگر تخیلاتی سطح پر عہدِ حاضر کے تناظر میں اقبال کی صدا سنی جائے تو معلوم ہو گا کہ باغ سے مراد (وطنِ پاکستان) ہے اور گلچیں وہ تمام تر تعصبات اور فکری ناپختگی، بے حسی اور بے عملی، استعماری تخریب پر مبنی نعرے اور مسلم امہ کی امنگوں کے برعکس جذبے (قوم پرستی، فرقہ واریت، لسانیت، مادیت پرستی کے تخیلات اور بے لگام آزادی کے افکار وغیرہ) ہے اور باغبان وہ تمام راہنمائے وطن ( مذہبی راہنما، سیاسی اکابرین اور اہل فکر و دانش) ہیں، جبکہ برگِ گل قوم کے افراد کی تمام تر خوبیاں اور خصوصیات ہیں- جیسا کہ نظریاتی و تہذیبی شناحت، فکری و شعوری ارتقا اور تحقیقی و تخلیقی صلاحیتیں ہیں-
اب اگر اس شعر کو ان جدید معانی اور مفاہیم کے ساتھ دیکھا جائے تو کلامِ اقبال کے درد کی تشریح موجودہ قومی حالات پر صادق آتی ہےکہ ہمارا گلچیں (قومی و لسانی تعصبات ، نظریاتی و تہذیبی بگاڑ ، مادیت پرستی پر مبنی افکار ، امہ کی امنگوں کے بجائے استعماری اثرات قبول کرنے والی سوچیں، فرقہ واریت کے انگارے اور قوم پرستی کے تنگ نظری پر مبنی تعبیرات) اس باغ ( پاکستان) کے پھولوں ( افراد) کی ایک ایک پتی (تحقیقی و تخلیقی صلاحیتیں، فکری و شعوری سفر، کردار اور اخلاقیات کی ارفع صورت) کو آہستہ آہستہ توڑ رہا ہے- جن کو وہ توڑنے کی قدرت نہیں رکھتا ان کو ایسے انداز میں زہر آلودہ کر رہا ہے کہ یہ ایک ایک برگِ گل مرجھا کر خود ہی پھول سے اپنا تعلق توڑ دیتے ہیں- لیکن افسوس صد افسوس ان باغبانوں پہ ( مذہبی راہنما، سیاسی اکابرین اور اہلِ فکر و دانش) پر ہے جو ایک دوسرے کے مدِ مقابل صف آرا ء ہیں- کیا یہی اس باغ کی قسمت ہے اس کو باغبان بھی ملے ہیں تو کج فہم ، مفاد پرست اور متعصب ملے ہیں - جن کو نہ باغ کی فکر ہے نہ اس باغ کے پھولوں کی اور نہ پھولوں کے برگِ گل کی- ایسے میں عنادل (اہلِ نظر اور اہلِ درد )، وہ بلبل جو گلشن اور پھول سے عشق کا دعویٰ کرتی ہے ، کیسے بے پروا ہو کر بیٹھ سکتی ہے- ان کو متحرک ہونا پڑے گا اور جو بلبل جدوجہد کر رہے ہیں ہمیں ان کے ہاتھ مضبوط کرنے ہونگے- عنادل اب بھی اگر اس وطن کی فکر نہیں کریں گے تو ان کو یاد رکھناچاہیے کہ لمحوں کی وہ خطائیں جو ان کو بے ضرر محسوس ہوتی ہیں کہیں وہ صدیوں پر محیط سزاؤں میں نہ بدل جائیں-
|
چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردُوں نے |
ہماری بے حسی پر آسمانوں کی اب تک کی خاموشی کو غنیمت جان لینا چاہیے ان بے مقصد آرزوؤں کے سحر اور آرام طلبی کے محل سے اب باہر آ جانا چاہیے- اپنے آپ کو اور اپنی قوم کی حالت کو کھلی آنکھوں سے دیکھنا چاہیے کہ ہم کیا سے کیا ہو گئے اور ہمارے ساتھ ہونے کیا والا ہے- ہم تعمیری سرگرمیوں کے بجائے قصے کہانیوں پر دل کو بہلا رہے ہیں- بے مقصد اور لاحاصل بحثوں میں الجھنے کے بجائے عروج سے زوال تک پہنچنے والے اپنے بغداد کے قصے سے عبرت حاصل کرنی چاہیے : اور ’’ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے ، ہونے والا ہے‘‘-
یہ روش کب تلک؟ ممکن ہے فطرت ہماری انفرادی کوتائیوں سے اغماض بھی برت لے لیکن شاید وہ ہمارے اجتماعی گناہوں کو معاف نہ کرے- ڈریں اس وقت سے جب ہم بھی ان قوموں کی صف میں شامل ہو جائیں جن کا تذکرہ تک بھی نہیں ہوتا عالمی داستانوں میں --کیونکہ
|
یہی آئینِ قدرت ہے، یہی اسلوبِ فطرت ہے |
اس نظم کے پانچویں بند میں علامہ صاحب کہتے ہیں :
|
کنویں میں تو نے یوسف کو جو دیکھا بھی تو کیا دیکھا |
اس شعر میں یوسفؑ کا استعاراتی پہلو(شان و شوکت ، کمالاتِ مہارت، صلاحیت اور اعلیٰ کردار کے اظہار ) کو ظاہر کرتا ہے- جب کہ ان کو کنویں تک لے جانے والی فکرِ باطل دراصل تعصبات اور اخلاقی پستی (تعصب، کینہ، عداوت، جھوٹ فریب) کو ظاہر کرتی ہے- آج کا نوجوان بھی اسی طرح جب کبھی تعصبات اوراخلاقیات کی پستی کا شکار ہوتا ہے یا خود اس پستی کا مظہر بنتاہے تو اس کی شان و شوکت، کمالاتِ مہارت، صلاحیتیں زمین کی تہہ میں دفن ہو جاتی ہیں بالکل اسی طرح جیسے ماہِ کنعان ، چاہ کنعان میں ہو- دنیا یوسفؑ کا جلوہ تب دیکھتی ہے جب وہ کنویں (تعصب ، کینہ ، عداوت اور اخلاقی مسائل کے حملے ) سے نجات پا لے-
یوسف ؑ کو تاجروں نے کنویں سے نکال کر قبضہ میں لے لیا- پہلےمصر کے تاجر اپنی کم علمی ، کم فہمی اور فکری ناپختگی کی وجہ سے یوسفؑ کی اصل قدر و منزلت سے ناواقف رہے- اسی طرح ہم تعصبات اور اخلاقی پستی والے کنویں سے نکل کر مادیت اور زر پرستی کے غلام بن جاتے ہیں - گویا پستی سے نکل کر غلامی کی دلدل میں پھنستے چلے جاتے ہیں- اس مادیت پرستی کے اثر میں انسان مانند ِ تاجر عبادت کو بھی تجارت کے ترازو میں تولتا ہے - ہمارے نوجوانان کی مہارتیں اور صلاحیتیں بھی فکری نا پختگی کی وجہ سے مادیت پرستی کی غلام بن جاتی ہیں جو چمک دمک اور دام درہم کے علاوہ حیات کے اعلیٰ مقاصد سے ناواقف رہتے ہیں-یہ اندر کے وہ چور ہیں جو پہلے دماغ کو غلام بناتے ہیں اور دماغ کے ذریعے انسانی وجود کو - تو بظاہر دنیاوی کامیابیاں اور دھن دولت رکھنے والا شخص دراصل حرص، مادہ پرستی اور لالچ کا غلام بن جاتاہے- جیسا کہ عہدِ قید و بند میں یوسفؑ کی اصل قدرومنزلت آشکار نہیں ہوئی تھی بلکہ وہ مادیت پرست اقدار(تاجروں) کے رحم و کرم پر تھے-اسی طرح ہمارے نوجوان بھی مادیت کے غلبے کی صورت میں اور فکری آزادی کی غیر موجودگی میں ان کمزوریوں کا شکار بن جاتے ہیں جن کے باعث کبھی بھی یہ اپنی صلاحیت اور قابلیت کو برؤے کار نہیں لا پاتے-
کنویں کی پستی ( تعصبات اور اخلاقی مسائل، مادیت اور کم علمی) سے آگے یوسفؑ (شان، صلاحیت، مہارت) کی قید ہے-حضرت یوسف (علیہ السلام) پر بھی ایک ایسا پُرآزمائش مرحلہ بھی آیاہے کہ جب زلیخا انہیں اپنے دامِ فریب و محبت میں گرفتار کرنے کےلئے ہر ممکن حربہ آزما لیتی ہے، جس کا ہر ہر قفل اس کی حیلہ سازیوں کی ترجمانی کرتا ہے تاکہ یوسفؑ کو کسی طریقے سے لقمہ ہوا و ہوس بنا لیا جائے -مگر قرآن کہتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام)کو اللہ تعالیٰ کی برہان نے بچا لیا اور مفسرین کرام کی تفسیر کا مفہوم یہ ہے کہ یہاں اللہ کی برہان سے مراد ان کے والد ماجد حضرت یعقوب (علیہ السلام) ہیں ،جو اس وقت سامنے آ کر حضرت یوسف (علیہ السلام)کی رہنمائی کرتے ہیں اور منع فرماتے ہیں ، جس کی وجہ سے حضرت یوسف (علیہ السلام) زلیخا کی حیلہ سازیوں کے باوجود اپنی عصمت و طہارت اور عفت و پاک دامنی پر ثابت قدم رہتے ہیں-
بالکل اسی طرح آج کی زلیخا یعنی دنیا آج کے یوسف یعنی نوجوان کو اپنے دام فریب و محبت میں پھنسانے کیلئے قفل پہ قفل یعنی نئے روپ پہ روپ ، نئے رنگ پہ رنگ ، یعنی طرح طرح کے حربے اورحیلہ سازیاں پیش کر رہی ہے ، تاکہ آج کے یوسف (نوجوان ) کو اپنی ہوا و ہوس کا لقمہ بنایا جا سکے -
یاد رکھئے ! آج کی زلیخا کے فریب سے آج کے یوسف کو بچانے کیلئے وقت کے یعقوب (شیخ)کی ضرورت ہے ، اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہے-
ہمارے عہد کا نوجوان بھی مرحلہ وار تعصبات، اخلاقی پستی ، کم علمی اور فکری ناپختگی اور نفسانی خواہشات کے باعث سرگردان ہے- ان جملہ ناسور سے آزادی پا کر ہی وہ مقام حاصل کیا جاسکتا ہے جہاں مستقبل کی تعبیرات کی جا سکیں، جہاں دور اندیشی کا اظہار کیا جا سکے-یقیناً ایسا مقام جہاں یوسفؑ کا کرتا بھی شفا بخش ہو جاتا ہے اور بینائی عطا کرتا ہے- ہماری قوم کو بھی اب خون آلود اور پھٹاہوا کُرتا (یعنی مغربی تہذیب )اتار کر وہ شفا بخش، بصیرت عطا کرنے والا اور دور اندیشی ( یعنی سیرت مصطفے (ﷺ)کا کُرتا زیبِ تن کرنا چاہیے جو اقوامِ عالم کو علمی و رُوحانی بصیرت عطا کر سکے- جو مستقبل کی تعمیر و تعبیر کر سکے، جو انسانیت کے لیے شفا بخش موجودات پیدا کر سکے ، مستقبل کے مسائل کا حل پیش کر سکے اور اعلیٰ ظرفی کی مثال قائم کر سکے- یہ اظہار تبھی ممکن ہو سکتا ہے جب مانندِ یوسفؑ ہم کنویں ، غلامی اور قید سے فاتحانہ انداز میں آگے گزر جائیں-
تعصبات اور اخلاقی پستی کی صورت میں شان و شوکت زمین کی تہہ میں چلی جاتی ہے- کم علمی، کم فہمی اور فکری استطاعت کی عدم موجودگی میں جوہر چھپ جاتے ہیں اور کمالات اور مہارتیں غلام بن جاتی ہیں - نفسانیت کے غلبے کی صورت میں دور اندیشی قید ہو جاتی ہے ، مستقبل کی تعمیر و تعبیر کی صلاحیت زندان میں چلی جاتی ہے ، شفا بخشی اور بصیرت عطا کرنے والی صلاحیت اندھیروں میں چلی جاتی ہے- اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ’’تصویر درد‘‘ آج کے جوان سے مخاطب ہے-
اس نظم کےچھٹے(6) بند میں بصیرت سے متعلق علامہ صاحب فرماتے ہیں:
|
دکھا وہ حسن عالم سوز اپنی چشم پر نم کو |
نصیحت پر مبنی یہ اشعار ویسے توہر دور کیلئے سبق آموز ہیں لیکن اگر اِن کو آج ہماری قومی محرومیوں اور فکری و شعوری تاریکی کے عالم کے اعتبار سے دیکھا جائے تو کسی حد تک یہ ہمارے اندھے پن کا درماں بن سکتے ہیں- ہم اِن سے یہ رجحانِ فکر اخذ کر سکتے ہیں کہ اپنی آنکھوں کو ہوس اور لطف کے زیرِ اثر محض دنیاوی نظارے دیکھنے کے لیے نہ چھوڑیں بلکہ ان کو چشمِ بینا اور پیکرِ بصیرت بنا ئیں- ان کو وہ بصیرت (Vision) عطا کریں کہ ان میں مشاہداتی صلاحیت پیدا کر کے جملہ موجودات کے مختلف پہلو ؤں کو پرکھ سکیں اور ساتھ ہی اپنی تحقیقی نظرکو بروئے کار لا کر کائنات کے رازوں کو مختلف زاویوں سے جانچ سکیں- ان صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ ایسی بصیرت بھی پیدا کریں جس کے ذریعے انسان اپنے باطن میں جھانک کر اپنی حقیقت تک پہنچ سکے- جامِ جمشید (بادشاہ جمشید کے حکماء نے اس کے لیے ایسا جام تیار کیا تھا جس کے توسط سے وہ ساری دنیا کے حالات سے واقف ہو جاتا تھا لیکن وہ خود جمشید کو جمشید کے بارے میں کچھ نہ بتا سکا یوں وہ کبھی اپنی حقیقت سے آگاہ نہ ہو سکا ) کی طرح ایسی بینائی سے کیا حاصل جو کائنات کے احوال تو دیکھ لے لیکن اس میں اتنی صلاحیت نہ ہوکہ انسان کو اپنے بارے میں کچھ بتا سکے- سارے عالم کا مشاہدہ (سائنسی تحقیق و تخلیق) ایک رخ ہے اور اپنی حقیقت کو پا لینا (عرفانِ حقیقتِ انسان، عرفانِ انسانیت اور عرفانِ مقصدِ حیات وتخلیقِ کائنات ) دوسرا اور اہم رخ ہے-
اسی طرح ہماری ایسی آنکھ اور بینائی کا کیا فائدہ جو تعصب کے زیرِ اثر ہمیں انسانی معاشرے کو مختلف طبقات، فرقوں اور گروہوں میں تقسیم کر کے دیکھائے، جو ہماری فکری شعوری اور تخیلاتی استطاعت کے ذریعے ہمیں بلندی پر پہنچنے کا تصور ہی نہ دے سکیں، جو ہماری آرزوؤں کو نفسانی و حسن پرست خواب دیکھانے کی بجائے ہمیں عالم ِ انسانیت کے لئے امن و فلاح کے خواب نہ دکھا سکے جو صرف رونے دھونے اور ماتم کے اظہار کے طور پر کام آئے اور آفاقی امنگوں کو دیکھنے کے قابل ہی نہ بن سکے- جو قوم کے دکھوں کا مداوا اور امت کے درد کا درمان ڈھونڈنے کی جستجو ہی نہ کر سکے-
چشمِ ظاہر کے ساتھ ساتھ دل کی آنکھ کو کھولنا ضروری ہے- اس کے ذریعے دیکھے جانے والے نظاروں کی ترجیحات اور نو عیت بدل جاتی ہیں- دل کی آنکھ نفس، تعصب یا ہوس کی کیفیات کے زیرِ اثر نہیں دیکھتی بلکہ وہ محبتِ الٰہی کے نور کے اثرسے دیکھتی ہے- جس کے باعث وہ ہر خیا ل، تصور ، آرزو اور فکر کو ایسا حسن ِ عالم سوز (ایسا حسن جو دنیا کو اپنی حرارت سے گرما دے) دیکھاتی ہے جس کے لیے انسان پروانے کی طرح تڑپنا شروع کر دیتا ہے اور شبنم کی طرح اپنا فیض بلا تفریقِ رنگ و نسل بانٹنا شروع کر دیتا ہے-
|
شرابِ بے خودی سے تا فلک پرواز ہے میری |
رنگ و نسل، فرقہ وارانہ تعصبات و منافرت سے پاک ہو کر اور ان سے بے پرواہ ہو کر ،مناصب و مراتب کے اعتبار سے آسمان کی بلندیوں تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے-بقول اقبال میں نے یہ گُر پھولوں سے سیکھا ہے جن کا رنگ تو اڑ جاتا ہے لیکن ان کی خوشبو، جس کی بظاہر شناخت نہیں ہوتی ،آخر وقت تک قائم رہتی ہے- اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ظاہری امتیازات ( جن پہ ہم بے پناہ فخر کرتے ہیں ) ختم ہو جاتے ہیں جبکہ وہ جذبے جو پوری انسانیت کیلئےہوں ( جن کو ہم اکثر نظر انداز کرتے ہیں) وہ نہ مٹنے والے ہوتےہیں-
دنیا کی بیشتر قوموں نے نفرت، عداوت اور تعصبات کوختم کر کے اپنے سوئے ہوئے نصیب کو جگایا ہے- اسی ضمن میں اس نظم کا ایک شعر ہے کہ :
|
محبت ہی سے پائی ہے شفاء بیمار قوموں نے |
اقبال کے اس دعوے کی تائید میں یوں تو بے شمار قوموں کی تاریخ کو بطور ثبوت پیش کیا جا سکتا ہے لیکن ان میں نمایاں ترین مثال عرب صحرا نشینوں کی ہے- جب یہ لوگ پانی پینے پلانے ، گھوڑے آگے دوڑانے جیسے معمولی مسائل پر اور قبائلی برتری اور انتقام جیسے تعصبات پر لڑتے رہے، تو قابلِ توجہ نہ تھےلیکن جب انہوں نے اللہ کی برحان (حضرت محمد مصطفٰے (ﷺ ) کی سرپسرستی میں باہمی محبت اور اخوت اختیار کی تو تاجِ سرِداراں ان کے قدموں میں آگیا-
کوئی بھی معاشرہ ہوتووہ نفرت کی آگ میں فقط جل تو سکتا ہے، پنپ نہیں سکتا-اس کی نشوونما کے لیے ضروری ہے کہ اس میں نفاق کا خاتمہ عمل میں لایا جائے اور اس عمل کے لیے تعمیری معاشرتی مکالمہ اہم کرار ادا کرتا ہے-جبکہ مکالمہ اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب معاشرے کے افراد احترامِ آدمیت کے قائل ہوں اور دوسروں کے وجود کو کھلے دل سے تسلیم کرتے ہوں- تنگ نظری اور عدم برداشت جیسی کیفیات دراصل نفرت اور تعصب کی پیداوار ہیں جس کے نتیجے میں مکالمہ ختم ہو جاتا ہےاور جب مکالمہ ختم ہوتا ہے تو معاشرے میں وحشت بڑھ جاتی ہے- پس محبت ہی وہ راہبرِ کاروانِ اقوام ہےجو معاشرے کے کارواں کو بہترین طریقے سے ایک قابلِ رشک منزل کی طرف رہنمائی فراہم کر سکتا ہے -کیونکہ محبت ہی وہ جذبہ ہے جس کے سوز و گدازکے باعث نفرت، نفاق، تعصب اور تنگ نظری کا وجود نیست و نابود ہوکر ان کی جگہ رغبت، اتحاد، رواداری، وسیع النظری، احترام اور اخلاص کو حیا تِ نو کی ضمانت مل جاتی ہے -
|
سکوت آموز طولِ داستانِ درد ہے ورنہ |
آج اگر اقبال زندہ ہوتے تو وہ ، موجودہ قومی حالات کے پیشِ نظر، اس نظم کی اس خاص طرز پر کی گئی تشریح کو یقیناً اپنے درد کی درست ترجمانی اور تعبیر تسلیم کرتے یا شائد وہ بندہ ناچیز کی فکری نا پختگی اور کم فہمی پر مسکراتے- بحر حال اس کاوش کے ذریعے اگر ہم اقبال کے شاہینوں کے سینوں میں فکری و شعوری شمع کو روشن کرنے کے لیے اور ان کے ذہنو ں میں علم و تحقیق کا چراغ جلانے کے لیے ایک ہلکی سی شرر فراہم کرنے کا کردار بھی ادا کر سکیں، تو ہم سمجھیں گے کہ اقبال کی ’’تصویرِ درد‘‘ میں فکری بیداری اور محبت کے پر کشش رنگ بھرنے کا حق ادا کردیا ہے -
٭٭٭