اقبال کی اردو شاعری اور فلسفہ دعا

اقبال کی اردو شاعری اور فلسفہ دعا

اقبال کی اردو شاعری اور فلسفہ دعا

مصنف: مستحسن رضا جامی نومبر 2026

علامہ محمد اقبال (1877ء–1938ء) برصغیر کے عظیم مفکر، شاعر اور فلسفی تھے جنہوں نے اردو و فارسی شاعری کو اسلامی فکر، خودی، عشق، عمل اور احیائے ملت کے فکری تصورات سے نئی معنویت اور رنگ عطا کیا- ان کی شاعری محض ادبی و لسانی اظہار نہیں بلکہ فرد اور ملت کی روحانی اور فکری بیداری کا ایک ہمہ گیر تصور پیش کرتی ہے- اقبال کا فلسفیانہ نظامِ فکر ایک عالمگیر اور متحرک تصورِ حیات پر استوار ہے جس میں خودی، عشق، عمل، آزادی، اجتہاد، عقل و وجدان، فرد و ملت، مردِ مومن، حرکت و ارتقا اور توحید بنیادی تصورات کی حیثیت رکھتے ہیں-

اقبال کے ہاں فلسفے کی جن جہات پر بات کی گئی ہے ان کی خوبصورتی یہ ہے کہ وہ عالمگیر شہرت کی حامل ہیں- اگر اقبال کے فلسفہ دعا کی بات کی جائے تو اقبال دعا کو محض روایت یا ایک روایتی عبادت تصور نہیں کرتے بلکہ اقبال یہ سمجھتے ہیں کہ دعا اللہ تعالیٰ کے قرب کا ذریعہ ہے - شریعت کی روح سے دعا عبادت کا مغز ہے - ان کی نظم و غزل میں بہت سارے ایسے اشعار ہیں جن کا رنگ دعائیہ ہے اور اس سلسلے میں ان کے اشعار دعا کے فلسفے کو احسن انداز میں پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں- فلسفہ دعا پر بات کرنے سے قبل دعا کی شرعی حیثیت کا مختصر جائزہ ذیل میں پیش خدمت ہے- قرآن مجید میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:

’’وَ اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ ط اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ  ۙ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّہُمْ یَرْشُدُوْنَ‘‘[1]

’’اور (اے حبیب!) جب میرے بندے آپ سے میری نسبت سوال کریں تو (بتا دیا کریں کہ) میں نزدیک ہوں، میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب بھی وہ مجھے پکارتا ہے پس انہیں چاہئے کہ میری فرمانبرداری اختیار کریں اور مجھ پر پختہ یقین رکھیں تاکہ وہ راهِ (مراد) پا جائیں‘‘-

سورہ الاعراف میں ارشاد ربانی ہے:

’’اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً ط اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ‘‘[2]

’’تم اپنے رب سے گِڑگڑا کر اور آہستہ (دونوں طریقوں سے) دعا کیا کرو، بیشک وہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا‘‘-

دعا کی شرعی حیثیت پر مفصل بات کی جا سکتی ہے- لیکن ان دو آیات مقدسہ میں مختصرا ًہم دعا کے مفہوم کو سمجھ سکتے ہیں-نہ صرف قرآن مجید میں بلکہ احادیث مبارکہ میں بھی بیشتر مقامات پر دعا کی اہمیت و فضیلت کا ذکر ملتا ہے- احادیث مبارکہ میں دعا کی اہمیت ان الفاظ میں موجود ہے-

’’حضرت انس بن مالک (رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا : دعا عبادت کا مغز (یعنی جوہر) ہے‘‘-[3]

’’حضرت سلمان (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا : دعا کے علاوہ کوئی چیز تقدیر کو بدل نہیں سکتی اور نیکی کے علاوہ کوئی چیز عمر میں اضافہ نہیں کر سکتی‘‘-[4]

قرآن مجید ، احادیث مبارکہ ، صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) کے اقوال اور صوفیائے کرام کی مختلف تحریروں میں بھی دعا کی اہمیت اور فضیلت کا بیان ملتا ہے- دعا عبادت کا ایک جزو ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کا اللہ تعالیٰ سے رابطے کا بھی ذریعہ ہے- انسان اپنی شکستہ اور بکھری معروضات بارگاہ الٰہی میں گڑگڑا کر پیش کر سکتا ہے اور یہ وہ واحد ذریعہ ہے کہ اس میں کوئی تیسرا فرد حائل نہیں ہوتا- انسان اور اللہ تعالیٰ کے مابین یہ ذاتی معاملہ ہے کہ انسان اپنے مالک و خالق سے کیا مانگتا ہے اس کے مانگنے کا انداز کیسا ہے اور وہ اپنے خالق کو مخاطب کیسے کرتا ہے-

جب ہم دعا کی اہمیت اور اس فلسفے کو اقبال کے کلام بالخصوص ان کی اردو شاعری میں دیکھتے ہیں تو بہت ساری چیزیں واضح ہوتی ہیں اور ان کے کلام میں بدرجہ اتم ایسے اشعار موجود ہیں جن میں دعا کی اہمیت کا تذکرہ ملتا ہے- اقبال کے ہاں دعا کا فلسفہ بہت واضح اور الگ انداز میں نظر آتا ہے -امت مسلمہ کے مسائل، اللہ تعالیٰ سے انسان کا تعلق اور حضور نبی اکرم (ﷺ)  کا عشق بہت ساری ایسی چیزیں ہیں جن کا تذکرہ انہوں نے اپنے دعائیہ اشعار میں کیا ہے- یہ ذکر انہوں نے کس انداز میں کیا ہے ان کی عملی مثالیں ہم ان کے اشعار میں دیکھتے ہیں-

اقبال کے دعائیہ اشعار کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ اشعار عقیدت اور محبت کے رنگ میں ڈھل کر سامنے آتے ہیں- یہ اشعار محض الفاظ نہیں بلکہ اپنے اندر ایک تاثیر کا پہلو بھی رکھتے ہیں- درد اور سوز میں لپٹی یہ دعائیں اپنی مثال آپ ہیں- اقبال کی نظمیں ہوں یا غزلیں دونوں اصناف میں دعائیہ اشعار کا پر خلوص رنگ قاری کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے-

اقبال کی یہ نظم گو کہ بچوں کےلئے لکھی گئی لیکن اس نظم میں جذبات کی رو اور خلوص کی جو صداقت جھلکتی ہے وہ بہت عمدہ ہے- ایک بچے کو یہ درس دیا جا رہا ہے کہ میری زندگی مثل شمع ہو تاکہ میرے وجود سے روشنی ، علم کی ترسیل اور محبتوں کا درس عام ہو سکے-

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا
دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
مرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو
نیک جو راہ ہو اس رہ پہ چلانا مجھ کو

اقبال کی کئی نظمیں ایسی ہیں جن میں مسلسل دعائیہ کیفیت ہے- ایک ایسی درد اور سوز کی لے ہے جو پڑھنے والے کے دل میں اترنے کے ساتھ ساتھ اسے گداز بھی کر دیتی ہے- مثال کے طور پر یہ اشعار :

یا رب دلِ مسلم کو وہ زندہ تمنا دے
جو قلب کو گرما دے، جو روح کو تڑپا دے
پھر وادیٔ فاراں کے ہر ذرے کو چمکا دے
پھر شوقِ تماشا دے، پھر ذوقِ تقاضا دے
بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے
میں بلبلِ نالاں ہوں اک اجڑے گلستاں کا
 تاثیر کا سائل ہوں، محتاج کو داتا دے

اس نظم میں دعا انفرادی و ذاتی نجات سے نکل کر اجتماعی تعمیر کا رخ اختیار کر لیتی ہے- اقبال اللہ تعالیٰ سے ایسی شخصیت اور ایسی ملت کی تشکیل کی التجا کرتے ہیں جو زندہ ارمان رکھتی ہو، بصیرت سے بہرہ مند ہو، عشق سے سرشار ہو، بلند مقاصد کی حامل ہو، خوددار اور آزاد ہو، صداقت میں بے باک ہو اور مستقبل کے تقاضوں سے آگاہ ہو- یہ دعا انسان کو بے عملی اور تقدیر پرستی کی طرف نہیں لے جاتی بلکہ اس کے اندر ایسی اخلاقی، روحانی اور فکری قوت پیدا کرتی ہے جس کے نتیجے میں وہ اپنے حالات کو بدلنے کے قابل ہوتا ہے -یوں ’’دعا‘‘ میں اقبال کا تصورِ دعا ایک ایسی فعال روحانی قوت کے طور پر سامنے آتا ہے جو انسان کے باطن کو بیدار، کردار کو مضبوط، نگاہ کو بصیرت مند، مقصد کو بلند اور عمل کو مؤثر بناتی ہے- یہی نکتہ اسے محض ایک نظم کے بجائے اقبال کے فکری، اخلاقی اور ملی فلسفے کی نہایت اہم شعری دستاویز بنا دیتا ہے-

محمد منور اس سلسلے میں رقم طراز ہیں:

’’یہ بھی ایک اندازِ بیان ہے کہ شاعر کچھ کہنے کی بجائے اپنے خیالات کا دوسروں کی زبانی اظہار کرے جو ’’گفتہ آید در حدیثِ دیگراں‘‘کا مصداق ہے‘‘-[5]

اسی طرح ایک اور نظم ’’ایک آرزو‘‘ میں اقبال کی فکر ایک ایسے حساس اور بیدار مغز انسان کی داخلی کیفیت بن کر سامنے آتی ہے جو ظاہری ہنگامہ، مصنوعی معاشرت اور بے کیف اجتماعی زندگی سے اکتا چکا ہے اور اب فطرت کی خاموش آغوش میں پناہ چاہتا ہے- نظم کے استعارات و تلازمے ایک ایسی خوبصورت زندگی کی علامتیں ہیں جہاں انسان اپنے باطن سے مکالمہ کر سکے اور مادی نمود و نمائش سے آزاد ہو سکے- شاعر کی مطلوبہ خلوت دراصل دنیا اور نظام دنیا سے فرار نہیں بلکہ روحانی تطہیر اور فکری تجدید کا مرحلہ ہے-اقبال کے نزدیک یہ دکھ بھی ہے کہ میری آواز پر مسلسل خاموشی اور بے توجہی کا عالم ہے- میری فکر و جستجو سے استفادہ نہیں کیا گیا- یہ امت بے ہوشی کے عالم میں ہے- میرا پر درد اور پر سوز پیغام ان پر کوئی اثر نہیں چھوڑ رہا -

پھولوں کو آئے جس دم شبنم وضو کرانے
رونا مرا وضو ہو، نالہ مری دعا ہو
اس خامشی میں جائیں اتنے بلند نالے
تاروں کے قافلے کو میری صدا درا ہو
ہر درد مند دل کو رونا مرا رلا دے
 بے ہوش جو پڑے ہیں شاید انھیں جگا دے

علامہ اقبال کی نظم ’’طارق کی دعا‘‘ اسلامی تاریخ کے ایک نمایاں کردار طارق بن زیاد کو علامت بنا کر مردِ مومن کی ایمانی و روحانی قوت، دولت خودی، عشقِ الٰہی، جذبۂ شہادت اور احیائے ملت کا پیغام پیش کرتی ہے- اقبال کے نزدیک غازیان دین کی قوتِ ایمان کے سامنے صحرا، دریا اور پہاڑ کوئی معنی نہیں رکھتے- الله تعالیٰ کی ذات سے گہری وابستگی اور عشق انسان کو دنیاوی مفادات سے بے نیاز کردیتا ہے اسی لیے مومن کیلئے مالِ غنیمت مقصد نہیں بلکہ شہادت اور رضائے الٰہی اصل مقصود ہیں- ’’خونِ عرب‘‘، ’’سوزِ جگر‘‘ اور ’’اذانِ سحر‘‘ جیسی علامتوں اور استعاروں کے ذریعے اقبال اس روحانی انقلاب کی طرف اشارہ کرتے ہیں جس نے منتشر صحرا نشینوں کو ایک متحد ، صاحبِ بصیرت اور صاحبِ مقصد جماعت کی شکل میں لا کھڑا کیا- آخر میں اقبال اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے دلوں میں طارق اور ان کے ساتھیوں جیسا ایمانی جوش، بلند عزائم، جرأتِ عمل اور حق شناسی دوبارہ پیدا ہو اور ان کی نگاہ ’’تلوار‘‘ کی مانند تیز، باوقار اور فیصلہ کن بن جائے- نظم میں پیش کیا گیا متذکرہ بالا جوش و ولولہ درحقیقت عظمت رفتہ کی سمت اشارہ ہے اور آخر پر دعائیہ الفاظ اس جانب توجہ مبذول کرتے ہیں کہ یہ سب رعب و دبدبہ امت مسلمہ کو دوبارہ عطا کر دیا جائے-

یہ غازی یہ تیرے پُر اَسرار بندے
جنہیں تو نے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیبت سے رائی
کیا تو نے صحرا نشینوں کو یکتا
خبر میں، نظر میں، اذانِ سحر میں
طلب جس کی صدیوں سے تھی زندگی کو
وہ سوز اس نے پایا انھی کے جگر میں
کشادِ درِ دل سمجھتے ہیں اس کو
ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں
دلِ مردِ مومن میں پھر زندہ کر دے
وہ بجلی کہ تھی نعرۂ ’’لا تذر‘‘ میں
عزائم کو سینوں میں بیدار کر دے
نگاهِ مسلمان کو تلوار کر دے

علامہ اقبال کی نظم دعا جو مسجد قرطبہ میں لکھی گئی اس میں ان کی کیفیت بہت پرسوز ہے- اقبال اس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ میری نماز اور میرا وضو بنیادی طور پر میری شاعری ہے جو کہ میرے جگر کا لہو ہے- جس کی طرف کسی کا دھیان نہیں ہے- کوئی میرے درد دل کو سمجھنے کے لیے تیار نہیں ہے- اقبال کی دعا کا یہ انداز ان کی بیشتر نظموں میں ملتا ہے- وہ بہت ساری جگہوں پر اس کرب کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ میں جس جانب توجہ دلانا چاہتا ہوں کوئی اس پر غور نہیں کرتا یہ بہت المناک کیفیت ہے- اقبال جیسا بڑا دماغ، فلسفی اور شاعر اپنے الفاظ میں بار بار امت مسلمہ کو جگانے کی کوشش کرتا ہے لیکن وہ اس طرف توجہ نہیں کرتے- اس نظم میں ایسی عارفانہ اور باطنی مناجات ہیں جس میں شاعر رسمی عبادت سے آگے بڑھ کر عشقِ الٰہی، صحبتِ اہلِ صفا، سوزِ دروں، جستجوئے حق اور قربِ خداوندی کی دعا کرتا ہے- وہ اہلِ صفا کی صحبت، نور، حضور اور سرور کا طالب ہے اور محبت کی راہ میں دنیاوی رفاقت کے بجائے صرف اپنی آرزو کو ساتھی سمجھتا ہے- ’’آتشِ اللہ ھو‘‘ ذکرِ الٰہی کے اس روحانی شعلے کی علامت ہے جو سینے کو عشق اور معرفت سے منور کرتا ہے- شاعر دعا کرتا ہے کہ اس کی زندگی سوز، درد، تپش اور طلب سے خالی نہ ہو، کیونکہ یہی کیفیت اسے خدا کی جستجو میں زندہ رکھتی ہے-اسی نظم کے اگلے حصے میں اقبال شراب کہن کی بات کرتے ہیں اور یہ شراب کہن اسلاف کے اس تاریخی دور کی طرف اشارہ ہے جب دنیائے اسلام اپنے پورے عروج پر تھی- اسلام ، حق اور انصاف کا بول بالا تھا- دنیا مسلمانوں کے فیصلوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھی- اقبال اسی دور کی آرزو میں بے قرار ہیں- وہ دوبارہ وہی زمانہ دیکھنا چاہتے ہیں اور اسی زمانے کے اسرار و رموز سے آشنائی حاصل کرنا چاہتے ہیں-چشم کرم ساقیا کے الفاظ براہ راست اپنے ساقی سے مخاطب ہونے کی علامت ہیں اور پھر دوبارہ وہی شراب کہن طلب کی جا رہی ہے جس کا اوپر ذکر کیا گیا- مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو بار بار اقبال کے ہاں ایک تڑپ ، ایک جستجو ، یاد ماضی اور عظمت رفتہ استعارے بار بار نظر آتے ہیں-یوں پوری نظم ایک گہری دعائیہ مناجات بن جاتی ہے جس میں اقبال دنیاوی آسائش یا مادی کامیابی نہیں بلکہ خدا کی محبت، ذکر کی حرارت، روحانی سرمستی، دردِ طلب اور قربِ الٰہی مانگتے ہیں- یہی اس نظم کا بنیادی دعائیہ اور صوفیانہ جوہر ہے-

ہے یہی میری نماز، ہے یہی میرا وضو
میری نواؤں میں ہے میرے جگر کا لہو
راہِ محبت میں ہے کون کسی کا رفیق
ساتھ مرے رہ گئی ایک مری آرزو
پھر وہ شرابِ کہن مجھ کو عطا کر کہ میں
ڈھونڈ رہا ہوں اسے توڑ کے جام و سبو
چشمِ کرم ساقیا! دیر سے ہیں منتظر
جلوتیوں کے سبو، خلوتیوں کے کدو

اقبال کی طویل نظم ’’ساقی نامہ‘‘ میں دعائیہ اشعار دراصل شاعر کے تصورِ احیائے ملت، تجدیدِ ایمان، خودی، عشق، حرکت اور روحانی بیداری کا جامع اظہار ہیں- اقبال ’’ساقی‘‘ سے محض جام و مے کی طلب نہیں کرتے بلکہ اسے ایک روحانی فیض رساں قوت کی علامت بنا کر ملتِ اسلامیہ کے مردہ دلوں میں زندگی، حرارت اور عمل کی نئی روح پیدا کرنے کی دعا کرتے ہیں- ساقی نامہ کے دعائیہ مزاج کا نقطۂ عروج وہ مقام ہے جہاں اقبال اپنی ذات سے بلند ہوکر پوری ملتِ اسلامیہ کیلئے دعا کرتے ہیں- وہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دلوں میں عشقِ رسول (ﷺ)، خودی کا شعور، بلند حوصلگی، اتحاد، آزادیِ فکر اور جہدِ مسلسل دوبارہ پیدا ہو اور وہ مغلوبیت، جمود اور غلامانہ ذہنیت سے نجات حاصل کریں- اقبال کے ہاں دعا محض دستِ سوال دراز کرنا نہیں بلکہ انسان کے اندر پوشیدہ قوتوں کو بیدار کرنے کا وسیلہ ہے- اسی لیے ساقی سے مانگی جانے والی مے دراصل وہ روحانی توانائی ہے جو فرد کو عمل اور ملت کو بیداری عطا کرتی ہے- اس اعتبار سے ’’ساقی نامہ‘‘ کے دعائیہ اشعار میں اقبال کا فلسفۂ دعا واضح ہوتا ہے کہ دعا، عشق و یقین کو بیدار کرکے عمل، خودی اور اجتماعی احیاء کا ذریعہ بنتی ہے؛ یعنی اقبال کے نزدیک حقیقی دعا وہ ہے جو انسان کو خدا سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ اسے زندگی کے میدان میں جدوجہد، تعمیر اور سربلندی کے لیے تیار کرے-

شرابِ کہن پھر پلا ساقیا
وہی جام گردش میں لا ساقیا
مجھے عشق کے پر لگا کر اڑا
مری خاک جگنو بنا کر اڑا
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا استاد کر

جب ہم ساقی نامہ پر غور کرتے ہیں تو اس نظم میں اقبال کا دعائیہ انداز اور مناجات کی کیفیت یکسر تبدیل ہو جاتی ہے-ایک مسلسل دعا کا رنگ ہے جو پوری شدت جذبات سے موجود ہے- ان اشعار کا بنیادی موضوع وہی کیفیت عشق اور ماضی کا عظیم الشان دور ہے- اقبال اس راز سے بخوبی واقف ہیں کہ یہ ملت اگر جاگ جائے اور اپنے مقام کو پہچان لے تو یہ دوبارہ دنیا پر حکومت بھی کر سکتے ہیں اور دنیا میں اپنا آپ منوا بھی سکتے ہیں- لیکن افسوس اقبال اس چیز کا ذکر کرتے ہیں کہ امت اس چیز سے بے خبر ہو چکی ہے- امت نے اپنا عظیم ماضی بھلا دیا اور درس توحید فراموش کر دیا-

جوانوں کو سوزِ جگر بخش دے
مرا عشق، میری نظر بخش دے
مرے دیدۂ تر کی بے خوابیاں
مرے دل کی پوشیدہ بے تابیاں
مرے نالۂ نیم شب کا نیاز
مری خلوت و انجمن کا گداز
امنگیں مری، آرزوئیں مری
امیدیں مری، جستجوئیں مری
یہی کچھ ہے ساقی متاعِ فقیر
اس سے فقیری میں ہوں میں امیر
مرے قافلے میں لٹا دے اسے
لٹا دے، ٹھکانے لگا دے اسے

لہذا ’’ساقی نامہ‘‘ محض ایک تلاطم خیز نظم ہی نہیں بلکہ مسلمانوں کو بیداری، خود شناسی، عمل اور ایک نئے عزم کے ساتھ اپنے شاندار مستقبل کی تعمیر کا پیغام دینے والی ایک انقلابی اور فکری نظم ہے-

شکوہ اور جواب شکوہ علامہ اقبال کی مشہور ترین نظمیں ہیں - ان دونوں نظموں کا انداز اقبال کی دیگر شاعری سے قدرے مختلف ہے - جب اقبال کی نظم شکوہ منظر عام پر آئی تو اقبال کو بہت زیادہ تنقید کا سامنا کرنا پڑا- لیکن جب جواب شکوہ آئی تو بہت سارے اعتراضات کا جواب اقبال نے نظم کی صورت میں دے دیا- شکوہ و جواب شکوہ میں کچھ اشعار ایسے ہیں جو دعائیہ ہیں جن میں اقبال اپنے درد دل کا مختلف پہلوؤں سے اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں- شکوہ سے ایک بند ملاحظہ ہو:

مشکلیں امتِ مرحوم کی آسان کر دے
مورِ بے مایہ کو ہمدوشِ سلیماں کر دے
جنسِ نایابِ محبت کو پھر ارزاں کر دے
ہند کے دیر نشینوں کو مسلماں کر دے

نظموں کے ساتھ ساتھ غزلوں میں بھی ایسے دعائیہ اشعار بکثرت موجود ہیں- جو عشق و سرمستی اور مناجات کا رنگ لیے ہوئے ہیں- اقبال کا عشق اس بات کا متقاضی ہے کہ میں اپنے خالق و مالک کو لباس مجاز میں دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ مری جبین نیاز حقیقی سجدہ کی تڑپ سے آشنا ہو سکے -

کبھی اے حقیقتِ منتظر نظر آ لباسِ مجاز میں
کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبینِ نیاز میں

ایک اور غزل میں اپنی عشقیہ کیفیت کا اظہار اقبال یوں کرتے ہیں:

ہوا ہو ایسی کہ ہندوستاں سے اے اقبال
اڑا کے مجھ کو غبار رہ حجاز کرے

بال جبریل میں موجود ایک غزل میں جس انداز میں دعائیہ کیفیت نظر آتی ہے وہ کچھ یوں ہے:

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی
ہاتھ آ جائے مجھے میرا مقام اے ساقی
تین سو سال سے ہیں ہند کے میخانے بند
اب مناسب ہے ترا فیض ہو عام اے ساقی

ایک جگہ پر لکھتے ہیں

دل بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دل کا نور نہیں

 بال جبریل میں موجود ایک غزل میں علامہ اقبال اللہ رب العزت کی بارگاہ میں ایک دعا کرتے ہیں کہ اے مالک کائنات میری شخصیت، میری فکر اور عشق کو مزید قوت و تابندگی عطا فرما اور مجھے اپنی حقیقت سے آشنا کردے- اقبال اپنی کم مائیگی کا اعتراف کرتے ہوئے خود کو ایک مختصر سی آبجو اور خدا کو بے کراں سمندر قرار دیتے ہیں- انسان کو ہمیشہ ایسے ہی عجز اور محبت کا مظاہرہ کرنا چاہیے- اقبال چاہتے ہیں کہ یا تو اسے اپنی ذاتِ الٰہی کے قرب و وصال سے ہم کنار کر دیا جائے یا اس کی ہستی کو اپنی وسعتِ بے کراں میں فنا کر دیا جائے- صدف اور گوہر کی تمثیل کے ذریعے اقبال نے حقیقت کو واضح کرنے کی منفرد کوشش کی ہے- وہ اپنی محدود اور نیم سوختہ زندگی کو بھی بہار کے پرندے کی مانند نغمۂ حیات عطا کرنے کی التجا کرتے ہیں-اقبال اس حقیقت سے بھی باخبر ہیں کہ انسان کو خدا کی نظر میں، ساری کائنات کے مقابلے میں جو کرامت حاصل ہے، اس کی وجہ سے یہ بشر گوہرِ تخلیق کی حیثیت رکھتا ہے- اپنے خالق کی نظر میں یہ انسان ہی محبوب ترین ہے، اس لیے یہ مورِ ناتواں اپنے پروں کو دیکھ کر نازاں ہو جاتا ہے اور جب قدموں پر نظر جاتی ہے تو شرمساری کے جذبات بھی پیدا ہوتے ہیں- یوں یہ نظم عشقِ الٰہی، خود سپردگی، معرفتِ حق، تزکیۂ نفس اور روحانی کمال کی ایک نہایت مؤثر اور پُرسوز دعا بن جاتی ہے- غزل کے کچھ اشعار ملاحظہ ہوں:

گیسوئے تاب دار کو اور بھی تاب دار کر
ہوش و خرد شکار کر، قلب و نظر شکار کر
عشق بھی ہو حجاب میں، حسن بھی ہو حجاب میں
یا تو خود آشکار ہو یا مجھے آشکار کر
تو ہے محیطِ بے کراں، میں ہوں ذرا سی آبجو
یا مجھے ہم کنار کر یا مجھے بے کنار کر
میں ہوں صدف تو تیرے ہاتھ میرے گہر کی آبرو
میں ہوں خزف تو تو مجھے گوہرِ شاہوار کر
نغمۂ نو بہار اگر میرے نصیب میں نہ ہو
اس دمِ نیم سوز کو طائرکِ بہار کر
باغِ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں؟
کارِ جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر
روزِ حساب جب مرا پیش ہو دفترِ عمل
آپ بھی شرم سار ہو، مجھ کو بھی شرم سار کر

اقبال کی رباعیات میں بھی دعا اور مناجات کے بہت عمدہ نمونے موجود ہیں- اقبال کہتے ہیں کہ دلوں کو وفا و محبت کا مرکز و محور بنا دیا جائے- کیونکہ صوفیاء کرام کے ہاں قلب کی ماہیت اور اہمیت پر بہت مفصل گفتگو ملتی ہے-

دلوں کو مرکزِ مہر و وفا کر
حریمِ کبریا سے آشنا کر
جسے نانِ جویں بخشی ہے تو نے
اسے بازوئے حیدر بھی عطا کر

ایک اور رباعی میں اسلاف کی عظمت اور جذبہ عشق کے متلاشی نظر آتے ہیں- خرد کی گتھیاں سلجھانے کے بعد صاحب جنوں ہونا چاہتے ہیں-

عطا اسلاف کا جذبِ دروں کر
شریکِ زمرۂ 'لا تَحْزَنُوں' کر
خرد کی گتھیاں سلجھا چکا میں
مرے مولا ! مجھے صاحب جنوں کر

نوجوانوں سے اقبال کی محبت بے لوث تھی- اقبال کی نظموں، غزلوں کے ساتھ ساتھ رباعیات میں بھی نوجوانان ملت کو مخاطب کیا گیا ہےاور نور بصیرت عام کرنے کی آروز کی گئی ہے-

جوانوں کو مری آہِ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا! آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کر دے

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اقبال کے ہاں فلسفہ دعا پر کثیر کلام موجود ہے - ان منتخب اشعار کے علاوہ بھی اردو کلام میں دعائیہ اشعار و مناجات موجود ہیں- اسی طرح اقبال کے فارسی کلام میں بھی دعائیہ مناجات و اشعار بکثرت موجود ہیں- اقبال کے کلام اور فکر کے ساتھ حقیقی طور پر انصاف یہ ہے کہ کلام کو سمجھا جائے اور صحیح معنوں میں استفادہ کیا جائے- حق بھی یہی بنتا ہے کہ اپنے قومی شاعر کو ویسے ہی سمجھا جائے جیسے مفکرین اور ہیروز کو اہمیت دی جاتی ہے-

٭٭٭


[1](البقرہ:186)

[2](الاعراف:55)

[3](مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الدعوات)

[4](المستدرك على الصحيحين،   كتاب الدعاء والتكبير والتھليل والتسبيح والذك)

[5]محمد منور، میزان اقبال، طبع دوم، اقبال اکادمی لاہور، 1986، ص:118

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر