کلام اقبال میں مشاہیراسلام: تجزیاتی مطالعہ

کلام اقبال میں مشاہیراسلام: تجزیاتی مطالعہ

کلام اقبال میں مشاہیراسلام: تجزیاتی مطالعہ

مصنف: ڈاکٹر ساجد محمود نومبر 2026

دور حاضر کے حالات کے پیش نظر ملک عزیز کے نوجوانوں کی خوش قسمتی یہ ہے کہ ان کی جڑیں اسلام کے ساتھ پیوستہ ہیں-جہاں اہل ایمان کی تابندہ و پائندہ تاریخ انہیں دعوت عمل کیلئے شوق دلا رہی ہے-لیکن جب کبھی کتاب ماضی کےاوراق اُلٹ کردیکھو ! تو نہ جانے کون ساصفحہ مڑا ہوا نکلے-وہ جو دیکھنے میں بہت ہی قریب لگتے ہیں-انہی کے بارے میں سوچو تو فاصلہ نکلے-تویہ فاصلے اور ان فاصلوں میں زمانے اور زمانے کے تیور، رجحان کو یک جنبش میں منظر کی صورت عیاں کرتا مفکر اسلام علامہ محمد اقبال ہے جو ’’پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ ‘‘کی نصیحت دے رہے ہیں-اس تجزیاتی مطالعہ کے ذریعے اُن اشجار کا تذکرہ ہے جنہوں نے زمانے کے دھارے کا رُخ اپنی گھنی چھاؤں کے سبب نفرت سے بدل کر محبت بنا دیا-

علامہ صاحب جہاں نو آبادیاتی نظام سے انحراف کی صورت میں نوجوانان اسلامیان ہند کودعوت عمل کی طرف مائل کرتے ہیں وہیں مشاہیر اسلام کی متحرک تصویری منظر کشی (Imagery) کی بدولت اپنے فلسفیانہ انداز فکر سےایسے دروازے کھولنے کی بھی سعی کرتے ہیں جو آج کے دور میں کھولنا عام لوگ ناممکن سمجھتے ہیں-تحقیق کی راہوں سے آشنا اذہان اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ اقبالؒ نے اپنے فکر و خیال کا ایوان مشاہیر اسلام کے کردار سے تعمیر کیا -جن کے کردار عشقِ رسول(ﷺ)سے مزین رہے جن کے اعمال اور کردار صورت قرآن کی تفسیر کے سوا کچھ نہ رہی-اقبال کی زبان جس کے لیے یوں گویا ہوئی:

ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں، کار کشا، کارساز
خاکی و نوری نہاد، بندہ مولا صفات
ہر دو جہاں سے غنی اس کا دل بے نیاز

مومن کے ہاتھ کی طاقت اور کار کشائی کا راز اقبالؒ سے پہلےابن عربی نے’’ فصوص الحکم‘‘ میں ’’انسان کامل‘‘ کے نام سے کیا-انہوں نے انسان کامل کے تین نمایاں پہلو بیان کیے-سب سے پہلا ’’کونی‘‘ اس اعتبار سےانسان کائنات کے جملہ وجود کا عکاس ہوتا ہے-دوسرے نمبر پر ’’پیغمبرانہ‘‘ یہ وہ امتیاز عطا ہے جو خدا ہی کا عمل اور کلمہ اور مرآۃ الرحمٰن ہے-جبکہ تیسرا ’’روحانی‘‘ اس طور انسان اپنے امکانات کےشعور کا حامل ہوتا ہے-اقبال ؒ کے نزدیک یہ مرد خود آگاہ ہر لحظہ اپنے لیےنئی دنیا تخلیق کرتا،’’ہر لحظہ ہے مومن کی نئی آن نئی شان‘‘  کا حامل ہوتا ہے- اسی آئیڈیل کو کرکیگارڈ (Kierkegaard) ’’فرد مصدقہ‘‘ کی صورت میں حضرت عیسیٰؑ کی صورت میں پیش کرتا ہے-اسی کو نطشے ’’فردکامل‘‘ کا نام دیتا ہے-یہ انسان کامل راہ سلوک کا باعمل مظہر ہوتا ہے -اس کی ابتدا’’برداً و سلاماً ‘‘ ہے- کرکیگارڈ عشق الٰہی کو خیر اعلیٰ سمجھتا ہے -جبکہ پیر رومی کے نزدیک عشق بقا کی خواہش سے مزین ہے جس کے سبب انسان حقیقت مطلق کا عرفان حاصل کر لیتا ہے-اس تناطر میں ذوالنون مصری کا قول ڈاکٹر محمد امین لکھتے ہیں :

’’اللہ سے محبت انسان کو اللہ سے جوڑ دیتی ہے-انسان ذات رب میں فنا ہوجاتاہے‘‘-[1]

حضرت بایزید بسطامیؒ نے اس کو ہی ’’سُکر‘‘ کہا-مولانا رومی کے مطابق خدا حُسنِ کامل ہےاور حُسنِ مجازی اسی کا پرتو ہے-لہٰذا مشاہیر اسلام سے اقبالؒ کی عقیدت،مخلصین سے محبت ہے جو کہ اللہ پاک کے خاص بندے ہیں-لہٰذا اللہ والوں کی محبت رسول اللہ (ﷺ) سے محبت  کرنا سکھاتی ہے اور رسول اللہ (ﷺ)  کی  محبت   اللہ تعالیٰ سے محبت کرنا سکھاتی ہے- یعنی  اللہ والوں کی محبت  اللہ و رسول (ﷺ)  کی محبت کا پہلا زینہ ہے -اسی محبت کے جلوے اقبالؒ کی شاعری میں کبھی عشق کے موضوع میں تو کبھی مردمومن کی شان سے،کبھی شاہین کے تصور میں تو کبھی خیر کے حاصلات میں دیکھے جا سکتے ہیں-ان سب کا اقبالؒ سمیت رہنما ’’عشق‘‘ ہی ہے-اسی عشق کی بدولت مشاہیر اسلام کے دل بھی زندہ ہیں-ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’ اَفَمَنْ شَرَحَ اللہُ صَدْرَہٗ  لِلْاِسْلَامِ فَہُوَ عَلٰی نُوْرٍ مِّنْ رَّبِّہٖ ط فَوَیْلٌ  لِّلْقٰسِیَۃِ قُلُوْبُہُمْ مِّنْ ذِکْرِ اللہِ ط اُولٰٓئِکَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ‘‘[2]

’’تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے ،اس جیسا ہوجائے گا جو سنگدل ہے تو خرابی ہے ان کی جن کے دل یادِ خدا کی طرف سے سخت ہوگئے ہیں،وہ کُھلی گمراہی میں ہیں‘‘-

حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی ؒکے مطابق:

’’قلبی نماز حیات قلب سے حاصل ہوتی ہے،جس میں قیام و قعود کے بغیر دل حضور(ﷺ)کی متابعت میں اپنے معبود سے ’’اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ ‘‘کہہ کر مخاطب ہوتا ہے‘‘-[3]

 علم فلسفہ کی رُو سے مراتب تصورات(Hierachy of ideas)خیر کا تصور فی نفسہ واحد ہے-لیکن اس میں تمام کائنات کی کثرت اور تنوع ایک ربط اور نظم کے ساتھ مدغم ہے-اس لیے تمام کائنات کا مآخذ خیر کا تصور ہے-علامہ محمد اقبالؒ نے اسی خیر کے بے بہا خزانہ عمل کی بنا پر مثالی، کامل، مکمل،اکمل صورت کو الفاظ کا جامہ پہنا کراسی لیے پیش کیا کہ مسلمانوں کو اپنے ازمنہ قدیم کی ارفع حالت جن کے سبب میسر آئی اُن کی پیروی کرنی چاہیے کیونکہ اُن کی صورت ان کے ایثار و قربانی کی بے مثال صورتوں کو اپنا کر خیر کی صورت بن گئی-جن کے عمل سے بحر و بر نعرہ تکبیر اور نعرہ رسالت (ﷺ) سے گونج اُٹھے-تو انہی مشاہیر اسلام کی اتباع سے دور حاضر کے مسلمان اپنے گوناں گوں مسائل پر قابو پا سکتے ہیں-

حضور نبی کریم (ﷺ) کی رحمت اس قدر بے پایاں ہے جس کا اندازہ لگانا محال ہے-جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’ وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰلَمِیْنَ ‘‘[4]

’’اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے لئے ‘‘-

علامہ صاحب عقل کُلی جسے غزالی ؒ نے عقل نبوی اور پیر رومیؒ نے عقل ایمانی کہا ،جسے برگساں خلاق کا نام دیتا ہے اُس محورکو’’ گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور‘‘ کہتے ہیں-اُسی محور سے بارگاہ حضور(ﷺ)بدست دعا ہیں:

شیرازہ ہوا ملت مرحوم کا ابتر
اب تو ہی بتا، تیرا مسلمان کدھر جائے
وہ لذت آشوب نہیں بحر عرب میں
پوشیدہ جو ہے مجھ میں وہ طوفان کدھر جائے
ہر چند ہے بے قافلہ و راحلہ و زاد
اس کوہ وبیاباں سے حُدی خوان کدھر جائے
اس راز کو اب فاش کر اے روح ِ محمدؐ!
 آیات الٰہی کا نگہبان کدھر جائے

دور حاضر میں تمدن نے جہاں سہولیات کی فراوانی کو یقینی بنایا وہاں ہی روحانی تسکین ناپید ہوگئی-انسان اپنی تمام جڑوں سے کٹ گیا-ایسے میں اب بے قافلہ نوجوان اگر آیات الٰہی کے نگہبان بننا چاہتے ہیں تو ’’روحِ محمد (ﷺ)‘‘ عشق رسول (ﷺ)میں خود کوپیش کرنا ہو گا-اقبالؒ کی درج بالا نظم’’روح محمد(ﷺ)‘‘میں نور حضور (ﷺ) سے درخواست گزار ہے کہ جب مجھ میں ’’اَنَّ فِیْكُمْ رَسُوْلَ اللٰهِ‘‘ کے سبب ہر ایک کے لیے درد موجود ہے جب کہ یہ درد اب  ناپید ہوتا جا رہا ہے-یہاں کیفیات اقبالؒ کا اظہار کلمہ ’’قوی‘‘ محض استحکام و متانت کے لیے نہیں بلکہ تشبیہ لطافت و ندرت میں دقیق کیفیات کو لطیف ابلاغ میں پیش کرنے کیلئے ہے-کیونکہ حضور نبی کریم (ﷺ) کی ذات اقدس مرکز  عقیدت اور ملت اسلامیہ کی شیرازہ بندی کا بنیادی اور واحد سر چشمہ ہے-اسی لیے آپ (ﷺ) کے عشق کو اقبالؒ نے دین و دنیا کی فلاح قرار دیا-اسی فلاح کے دریا میں غوطہ زن ہستیاں مشاہیر اسلام کے نام سے بقعہ نور کی مانند دنیا کے کینوس پر دعوت عمل کا نظارہ اپنے کردار عشق سے آج بھی دکھا رہی ہیں-ان کا احوال کلام اقبال میں دیدنی اور قابل ستائش ہی نہیں بلکہ قابل فخر انسانیت ہے-

مشاہیرِ اسلام :

اقبالؒ نے یوں تو اپنے کلام میں حضرت آدم ؑ سے لے کر ہر اُس ہستی کا ذکر کیا جس نے اپنے عہد میں خیر کے عنصر کی نمائندگی کی یا اس خیر کے نمائندہ سے جڑ کر اعلی افعال سر انجام دئیے،یعنی داعی الی اللہ کے تحت ’’ فَفِرُّوْٓا  اِلَی اللہِ‘‘کی ذمہ داری میں پیش پیش رہا-اقبال ؒ کی شاعری میں اس کی سب سے عمدہ مثال حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی بابرکت شخصیت ہےجن کو علامہ صاحب نے مثنوی ’’اسرار خودی‘‘ میں ’’مسلم اول شہ مرداں‘‘اور عشق کے سرمایہ ایمان کے طور پر سنہرے الفاظ کی مالہ کے سنہری ہیرے کےطورپرپیش کیاہے:

مُسلمِ اوّل شہِ مرداں علی
عشق را سرمایۂ ایماں علی

’’پہلے مسلمان اور مردوں کے سردار حضرت علیؑ ہیں، عشق کیلئے ایمان کا سرمایہ حضرت علیؑ ہیں‘‘-

از ولائے دودمانش زندہ ام
در جہاں مثلِ گہر تابندہ ام

’’میں ان کے خاندان کی محبت سے زندہ ہوں اور دنیا میں موتیوں کی مانند چمک رہا ہوں‘‘-

زمزم ار جوشد ز خاکِ من، ازوست
مے اگر ریزد ز تاکِ من، ازوست

’’اگر میری خاک سے زمزم ابلتے ہیں تو یہ انہی سے ہے اور اگر میری انگور کی شاخ سے مے ٹپکتی ہے تو یہ بھی حضرت علیؑ سے ہے‘‘-

از رُخِ اُو فالِ پیغمبر گرفت
ملّتِ حق از شکوہش فر گرفت

’’ان کے چہرۂ مبارک سے پیغمبرانہ فال (بشارت) حاصل کی گئی اور‍‌ ملّتِ حق نے ان کی شان و شوکت سے عزت حاصل کی‘‘-

اقبالؒ کا استعاراتی وسیلہ پیکر تراشی کی ایسی خوش ذوقی کا ثبوت ہے جو انتخاب شخصیت یا انتخاب مقام کا آئینہ دار محسوس ہوتا ہے یہاں’’ زمزم ‘‘کا استعارہ علم معرفت کے لیے اسی لیے استعمال ہوا ہےکہ یہ ایسا منبع نور ہے جو کبھی بھی نہیں رکا،اور نہ اس قسم کا اندیشہ ہے-یہی استعارہ پھیل کر علامت پھر مجاز اور پھر اپنے پھیلاؤ کی طاقت سے حقیقت تک پہنچنے کی قدرت کا حامل ہے-آخری شعر میں متحرک تصویری منظر کشی (Imagery) ہے کہ جب حضور نبی کریم (ﷺ) نبوت کا باقاعدہ اعلان فرماتے ہیں تو حضرت علی شیر خدا (رضی اللہ عنہ) کے چہرہ مبارک سے صداقت اور امانت کی فال عیاں ہوتی ہے-یہی حق کی شعاعیں حضرت  علی (رضی اللہ عنہ) سے شان و شوکت اور عزت و وقارکے حصول کی سند ہے-

’’بانگ درا‘‘ میں نظم ’’حکمت اور فقر حیدری‘‘ بھی عشق رسول(ﷺ) کی اعلیٰ مثال ہے-گویا اقبالؒ کا شاعرانہ تخیل قیاس استقراء کا ارفع قدم ہےجس کے ذریعے وہ تخیل کو وحدت کے جلوؤں سے مزین کرنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں-

تصوف کا ایک اہم اور بنیادی طریق اخلاق ہے-صوفیاء کا نظریہ اخلاق خدا، انسان اور کائنات کے باہمی تعلق سے مکمل ہوتا ہے کیونکہ اخلاقیات کے بھی مابعد الطبیعاتی مسلمات ہیں-خیر اعلیٰ کی تلاش انسان کا اخلاقی نصب العین ہے-اس کو ہی اولیاء تلاش حق کا نام دیتے ہیں -یہ وہ نظریہ ہے جوحیات بعد الموت سے بھی الگ نہیں کیا جاسکتا-علامہ اقبال خیر اعلیٰ کی تصویری منظر کشی (Imagery)  خیر الوریٰ سے جڑی ہر اس ہستی میں تلاش کرنے میں کامیاب ہوئے جس نے اپنے کندھوں پر انتہائی بھاری ذمہ داری اٹھائی-انہی کریم ہستیوں میں بنت ِرسول مکرم(ﷺ) سیدۃ النساء حضرت فاطمہ زہرہ (رضی اللہ عنہا) کا مبارک نام بھی اول اول ہے:

نور چشم رحمتہ للعالمین
آں امام اولین و آخرین

’’آپ (رضی اللہ عنہا)رحمۃ للعالمین (ﷺ) کی نورِ نظر، جو اولین و آخرین کی امام ہیں‘‘-

بانوئے تاجدار ھل اتی
مرتضٰی، مشکل کشا، شیر خدا

’’آپ  (رضی اللہ عنہ)تاجدار ’’ھل اتیٰ‘‘، مشکل کشا، شیرِ خدا سیدنا علی المرتضٰی(رضی اللہ عنہ) کی زوجہ محترمہ ہیں‘‘-

مادر آں مرکز پر کار عشق
مادر آں قافلہ سالار عشق

’’آپ(رضی اللہ عنہ)اس ہستی کی والدہ ہیں جو عشق کے مرکز و محور ہیں اور عشق کے قافلے کے رہنما ہیں‘‘-

آں امامِ عاشقاں  پورِ  بتول
سروِ آزادے ز بستانِ رسولؐ

’’وہ عاشقوں کے امام، حضرت فاطمہ زہرہ(رضی اللہ عنہا) کے فرزند ہیں، رسولِ اکرم (ﷺ) کے باغ کے ایک آزاد و سربلند سرو کی مانند ہیں‘‘-

اللہ اللہ بای بسم اللہ پِدر
 معنی ذبح عظیم آمد پسر

’’اللہ اللہ! ان کے والد بسم اللہ کے ’’ب‘‘ کی مانند ہیں، اور ان کا بیٹا (حضرت امام حسینؓ) ذبحِ عظیم کا مفہوم بن کر سامنے آیا‘‘-

موسیٰ و فرعون و شبیر و یزید
این دو قوت از حیاتِ آبدید

’’حقیقت یہ ہے کہ جیسے حضرت موسیٰ (علیہ السلام)کے مقابلہ میں فرعون اور امام حسین (علیہ السلام)کے مقابلہ میں یزید آیا ہے اسی طرح ہمیشہ سے اس کشمکش حیات میں یہ دونوں (حق و باطل) قوتیں آپس میں برسرِپیکار رہی ہیں‘‘-

اقبالؒ نے درج بالاعقیدت کے ذریعے ایک نقطے کی وضاحت کی ہے کہ جب آقا کریم (ﷺ)اس مردہ جہان کے اندر ایک تازہ روح پھونک دیتے ہیں تو بشریت زندہ ہو جاتی ہے-یثرب یثرب نہیں بلکہ مدینہ ہوجاتا ہے-حضرت فاطمۃالزہرا (رضی اللہ عنہا) حضورنبی کریم (ﷺ)کی صاحبزادی ہیں-دوسری نسبت اُس تاجدار کی زوجہ مطہرہ ہیں جن کے سر پر ’’سورہ دہر‘‘ جسے سورہ انسان کہا جاتا ہے، کا تاج رکھا ہوا ہے اور وہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ)  مشکل کشا ہیں- اس کے ساتھ امام حسین (علیہ السلام)کی حق پر استقامت کی نمائی کا منظر بھی دیدنی ہےجو اسلام کی حیاتِ نو کا مظہرہے-اقبالؒ نے حق اور باطل میں سے حق کی نمائندہ ہستیوں کی عظمت انسانیت کو سراہا خصوصاً حضور نبی کریم (ﷺ) کے اہل بیت اطہار (رضی اللہ عنہھم) کی عظمت یہ بھی ہےکہ وہ پہاڑ کی طرح ثابت قدم رہے -جن کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’اِنَّمَا یُوَفَّی الصّٰبِرُوْنَ  اَجْرَہُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ‘‘[5]

’’صرف صبر کرنے والوں کو ہی ان کا پورا پورا بےحساب اجر دیا جائے گا‘‘-

حضور(ﷺ) کے صحابہ کرام (رضی اللہ عنہھم)کی وفا شعاری بھی مثالی ہے-علامہ نے اُن سے بھی اسی طرح عقیدت و عشق کا اظہار کیاہے-

جیسےخلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ کا جب ذکر صادق اشعار کے محل کے کینوس میں پیش کرتے ہیں تو بارگاہ رسالت مآب (ﷺ) میں گویا بے مثال صدق کی گواہی سارا جہان دینے پر مجبور ہوجاتا ہے-’’بانگ درا‘‘ کی نظم ’’صدیق‘‘ غزوہ تبوک کا احوال اور مثالی ایثار کی تلمیحاتی یکسوئی حق نمائی کا بہانہ بن جاتی ہے-حضور(ﷺ) کی خدمت میں وہ گھر کا سارا سامان اٹھا لاتے ہیں،سارا منظر ایک لمحہ میں صدیوں کی مسافت طے کر جاتا ہے آخری شعر صدیق اکبر (رضی اللہ عنہ) کے انتہا عشقِ رسول (ﷺ) کی نمائندگی کا گواہ بن جاتا ہے:

اتنے میں وہ رفیق نبوت بھی آگیا
جس سے بنائے عشق و محبت ہے استوار
لے آیا اپنے ساتھ وہ مرد ِ وفا سرشت
ہر چیز جس سے چشمِ جہاں میں ہو اعتبار
مِلک یمین و درہم و دینار و رخت و جنس
اسپ قمر سم و شتر و قاطر و حمار
بولے حضورؐ چاہیے فکر عیال بھی
کہنے لگا وہ عشق و محبت کا رازدار
اے تجھ سے دیدہ مہ و انجم فروغ گیر
اے تیری ذات باعثِ تکوینِ روزگار
پروانے کو چراغ ہے بُلبل کو پھول بس!
صدیقؓ کے لیے ہے خدا کا رسول ؐ بس‘‘

اقبالؒ کے ہاں اجتماعی فلیش بیک سے مراد انسانی کاملیت سے حاصل ہونے والے وہ جبلی سانچے ہیں جو انسانی قلب میں منتقل ہو کر پوری انسانیت کا مشترکہ سرمایہ بن جاتے ہیں،جس پر ’’قُلْ ہُوَ اللہُ  اَحَدٌ‘‘ کا پیغام ہے کہ اگر کسی نے اسلام سیکھنا ہے تو مثالِ عشق حضرت ابوبکرصدیق (رضی اللہ عنہ) سامنے ہے-

جذبہ عشق رسول(ﷺ)ایسا جذبہ ہے کہ جو ہر صحابی کا زیور ہے-شہکارِ دربار عدل رسالت حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) کی شان جب اقبالؒ بیان فرماتے ہیں تو جیسےابھی بھی اُن کے جلال سے تخت و کلاہِ قیصر وکسریٰ لرزرہے ہوں اور روم و شام کپکپا رہے ہوں-ارمغان حجاز فارسی،’’حضور ملت‘‘ میں اس کی تصویر کشی دیکھیں:

جہانگیری بخاک ما سرشتند
امامت در جبین ما نوشتند

’’ہماری مسلمان قوم کی مٹی کی فطرت میں بادشاہی اور ہماری پیشانی میں امامت لکھی ہوئی ہے ‘‘-

درون خویش بنگر آن جہان را
کہ تخمش در دل فاروق کشتند

’’اس کے ثبوت کیلئے اے مسلمان اپنے اندر اس جہان کو دیکھ جو حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ)کے دل میں بویا تھا‘‘-

یہاں اقبال حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) کی شان حکمرانوں پر واضح کرتے ہیں کہ تم اپنے اندر یہ اعتماد اور ایمان پیدا کر لو کہ دنیا کی امامت اور جہانگیری خالق ارض و سما نے ہماری سرشت اور جبینوں میں تحریر کر رکھی ہے-خوف و ہراس کی اذیت ناک کیفیت سے نکل کر اپنے اندر پوشیدہ ان صلاحیتوں کو بروئے کار لاؤ جنہیں اللہ نے قلبِ عمرؓ میں بویا-

قلب کا ذکر 136مرتبہ قرآن کریم میں آیا-’’ق -ل -ب‘‘ کا مادہ 168 مرتبہ جب کہ 36 مرتبہ اسی مادے سے بننے والی دوسری صرفی صورتیں جیسے انقلب،نقلب وغیرہ-صوفیا کی تربیت میں سب سےزیادہ مضبوط دل ہی کیاجاتاہے -معرفت کے تخت کا نام ’’دل‘‘ہے - حضرت سلطان باھوؒ اپنی تصنیف ’’شمس العارفین‘‘ میں فرماتے ہیں:

’’ہر سانس کی نگہبانی کر کہ ہر سانس میں چودہ تجلیات، چودہ الہامات اور چودہ علوم پائے جاتے ہیں،جن میں بعض رحمانی اور بعض شیطانی ہوتے ہیں‘‘-

اقبالؒ نے نوجوانوں کے لیے نصائح کا ایک خزانہ مذکورہ موضوع کی صورت میں اپنی شاعری میں چھوڑ دیا ہے -جس کو ہم بحیثیت انسان اپنی زندگیوں میں لے آئیں تو معاشرے کے لیے افادیت کے حامل ہو سکتے ہیں اور اگر ہم اور ہمارے حکمران اسے بطور مسلمان اپنی ذمہ داریوں اور فرائض میں شامل کریں تو دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال سکتے ہیں-بطور مومن تو بات ہی کچھ اور ہے-

اسی تسلسل میں علامہ صاحب جب ’’جواب شکوہ‘‘ میں حضرت عثمان غنیؓ کی ذات کے لیے ’’دولت عثمانی ‘‘اصطلاح استعمال کرتے ہیں تو اس سے مراد ظاہری و روحانی تمام دولت مراد ہے:

ہر کوئی مست مئے ذوق تن آسانی ہے
تم مسلماں ہو یہ انداز مسلمانی ہے
حیدری فقر ہے نے دولت عثمانی ہے
تم کو اسلاف سے کیا نسبت روحانی ہے

یہاں دولت عثمانی سے مُراد ایک تو یہ ہے کہ وہ تاجر ہیں اور دنیا کے واحد تاجر اسلام سے پہلے بھی اور بعد میں بھی-لیکن ایک اور دولت ہے جو اُن کو میسر ہے وہ’’ غنا ‘‘کی دولت ہے یہاں کیونکہ فقر حیدری کے ساتھ غنایت عثمانی ہی اسلوب کی کاریگری ہے-جس کو وہ عشق رسول(ﷺ) کے سبب لوگوں میں بھی تقسیم کرنے والے ہیں-مؤذن شمع رسالت ،حضرت بلال ؓجن کے جذبہ عشق کی اعلیٰ مثال جس نے انہیں حبش سے حجازِ مقدس تک رہنمائی فرمائی-’’بانگ درا‘‘ میں نظم’’بلالؓ‘‘ کے عنوان سے اپنے جوہر خاص کی بناپر مسلم امہ کے دل دھڑکا رہی ہے:

چمک اٹھا جو ستارہ تیرے مقدر کا
حبش سے تجھ کو اُٹھا کر حجاز میں لایا

اس نظم کا ایک ایک لفظ کوثر و تسنیم سے جیسے دھُلا ہوا ہواورکلام اقبال میں اپنی زیبائی و رعنائی کے جلوئے بکھیر رہا ہو-اہل دل کے سینوں میں وجد طاری کرنے کا باعث بنتا ہے-بالخصوص  یہ شعر:

تری نظر کو رہی دید میں بھی حسرت دید
خنک دلے کہ تپید و دمے نیا سائید

اقبالؒ بظاہر اذان کی بات نہیں کررہے بلکہ وہ  روحِ اذانِ بلالی کے متلاشی ہیں-رفقائے نبوتؐ مجسمہ خلوص و وفا حضرت سلیمان فارسی (رضی اللہ عنہ) بھی ایسی محبوب ہستی ہیں جنہیں غایت تقرب مصطفٰیؐ کی وجہ سے اہل بیت اطہارؓ میں شمولیت کا اعزاز نصیب ہوا- اقبالؒ نے ان کے قرب رسول (ﷺ)  کو ’’رموز بےخودی ‘‘کے تیسرےشعر کے قالب میں یوں رواں کر دیا:

فارغ از باب و اُم و اعمام باش
ہم چو سلماں زادہ اسلام باش

’’اے مسلمان راز حیات یہی ہےکہ تو اپنے ماں باپ اور چچاؤں سے فارغ ہوکر حضرت سلمان (رضی اللہ عنہ) کی طرح اسلام زادہ بن جا‘‘-

چونکہ حضرت سلمان (رضی اللہ عنہ) ایک اعلیٰ بادشاہی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے مگر تمام رشتےداروں کو چھوڑ کر حضور (ﷺ) کے دامن شفقت میں پناہ لے لی اسی واقعے کی طرف علامہ صاحب نے بڑا بلیغ اشارہ فرمایا ہے-

اسی طرح حضرت ابو ذر غفاری (رضی اللہ عنہ) کی طبیعت میں حلم اور انکساری بدرجہ اتم پائی جاتی تھی-روایت یہ بھی ہے کہ آپؓ کو امراء کا طرز زندگی بالکل پسند نہ تھا ،وجہ یہ کہ بات بات میں دکھاوا کرتے ہیں-اقبالؒ نے نظم ’’طلوع اسلام ‘‘ کے ایک شعر میں انہیں مولا علیؓ اور حضرت سلمانؓ کے نام مبارک کے درمیان ان کی ترتیب رکھنے کی حسین کارگری سامنے لائی:

مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا؟ زور حیدرؓ، فقر بوذرؓ، صدقِ سلمانیؓ

اقبالؒ نے ایک ارفعٰ سطح پر فقر کی طاقت کے مظہر کو منبرِالفاظ کا ماہ ِکامل جبکہ درمیان میں فقر کے حامل کو ہلاہل کے طور پر پھر اُس کے نگہبان صدق کو پیش کیا-یہی ترتیب تو کمال ہے اقبالؒ کے عارف ہونے کی-

’’جنگ یرموک کا ایک واقعہ‘‘ یہ نظم بھی کلیات اقبال میں اپنے طور عشق صحابہ (رضی اللہ عنھم) اور وعدہ رسول(ﷺ) کی گواہی ہے-جہاں فتح کے بعد ایک صحابی حضرت ابو عبیدہ (رضی اللہ عنہ) سے اس لیے رخصت لیتے ہیں کہ رسول(ﷺ)کو فتح کی خبر دیں:

اے بُو عبیدہ رخست پیکار دے مجھے
لبریز ہوگیا مرے صبر و سکوں کا جام
بیتاب ہو رہا ہوں فراق رسول ؐمیں
اک دم کی زندگی بھی محبت میں ہے حرام

ابو عبیدہؓ جواب میں کہتے ہیں:

پوری کرے خدائے محمدؐ تری مُراد
کتنا بلند تری محبت کا ہے مقام
پہنچے جو بارگاہ رسول امیںؐ میں تو
کرنا یہ عرض میری طرف سے پس از سلام
ہم پہ کرم کیا ہے خدائے غیور نے
پورے ہوئے جو وعدے کیے تھے حضور ؐنے

اقبالؒ نے یہاں ’’سورہ جن ‘‘ ان آیات کو  مشاہداتی انداز میں بیان فرما دیا-

’’عٰلِمُ الْغَیْبِ فَلَا یُظْہِرُ عَلٰی غَیْبِہٖٓ اَحَدًا ؁ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ‘‘[6]

’’غیب کا جاننے والا تو اپنے غیب پرکسی کو مسلط نہیں کرتا-سوائے اپنے پسندیدہ رسولوں کے‘‘-

اسی طرح نظم ’’شکوہ‘‘ میں جب اقبالؒ حضرت اویس قرنی (رضی اللہ عنہ) کا حال بیان فرماتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ روحانی طور پر قربِ مصطفےٰ (ﷺ) کی خوشبو کو ہوا کے دوش پر آج کے انسانوں تک ایک پیغام کی صورت میں پہنچا رہے ہوں-حضرت اویس بن عامر (رضی اللہ عنہ) اہل یمن سے تھے-اسلام قبول کیا حضور (ﷺ) سے بے پناہ محبت تھی-جنگ صفین میں 37ھ میں حضرت علی (رضی اللہ عنہ)  کی طرف سے حصہ لیا اور 40 زخم کھا کر شہید ہوئے-اقبالؒ نے دور حاضر کے نوجوان کے لیے اہم پیغام دیاہے کہ تو اپنے اندر کےبتوں کو کیوں نہیں توڑ رہا -کسی ایسے مرد کے پاس کیوں نہیں جاتا جس کا نصب العین ’’فقر‘‘ہے-یہی تو رسم سلمان فارسیؓ اور اویس قرنیؓ ہے :

تجھ کو چھوڑا کہ رسولؐ عربی کو چھوڑا؟
بت گری پیشہ کیا؟ بت شکنی کو چھوڑا؟
عشق کو، عشق کی آشفتہ سری کو چھوڑا
رسمِ سلمانؓ و اویس ِ قرنیؓ کو چھوڑا؟

اقبالؒ نے اپنی فلسفیانہ روش اور طرز سخن سے یہ فکر اجاگر کرنے کی کوشش کی کہ حضور(ﷺ) کی امت کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ قیامت تک ہر عہد میں کوئی مرد شاہین صفت شہبازِ عارفاں ایسا موجود ہو گا جو راہ ہدایت کافیض عام کرتا رہے گا -ایسے ہی ناموروں میں اولیاء  اللہ جن کی شان فقر غیور سے سلامت ہے جن میں جنید بغدادیؒ اور بایزید بسطامیؒ بھی شامل ہیں:

مری نوا سے ہوئے زندہ عارف و عامی
دیا ہے میں نے انہیں ذوقِ آتش آشامی
عجب نہیں کہ مسلماں کو پھر عطاکر دیں
شکوہِ سنجروفقرِ جنید و بسطامیؒ

ہندوستان کی تاریخ میں حکمرانی کے باب سے غیور، بیدار مغزی اور بہادری کا سورج ٹیپو سلطان کی شہادت کے ساتھ غروب ہوا اور تاحال طلوع نہ ہوسکا-ٹیپو سلطان حیدر علی بانی سلطنت میسور کے فرزند تھے-7ستمبر 1782 میں تخت نشین ہوئے-انگریزوں سے کئی جنگیں لڑیں-1799 میں میر صادق کی غداری کی وجہ سے قلعہ میں انگریز فوج داخل ہوئی-4 مئی1799 کو ٹیپو سلطان شہید ہوئے-انگریز راج 200 سال تک رہا -انگریز اقتدار تو ختم ہوا لیکن اپنے پیچھےنوآبادیاتی نظام کی صورت میں افراتفری، تہذیبی مدغم اور لالچ چھوڑ گیا-اقبالؒ نے نظم ’’سلطان ٹیپو کی وصیت‘‘ کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ اگر اس وصیت پر عمل نہ کیا گیا تو آج تک جتنے شہداء  اپنی جانوں کے نذرانے دے کر اسلام کے جھنڈے کو لہرانے میں کامیاب ہوئے اُن کی شہادت کا مقصد رائیگاں ہو جائے گا-تہذیب انسانی کی جگہ تہذیب حیوانی لے لے گی-دنیا میں پھر سے طاغوتی قوتیں اپنے پھن پھیلائے تیار ہیں :

تو رہ نورد شوق ہے ؟ منزل نہ کر قبول
لیلیٰ بھی ہم نشیں ہوتو محمل نہ کر قبول
اے جوئے آب بڑھ کے ہو دریائے تندوتیز!
 ساحل تجھے عطا ہوتو ساحل نہ کر قبول
کھویا نہ جا صنم کدہ کائنات میں
محفل گداز! گرمی محفل نہ کر قبول!
صبح ازل یہ مجھ سے کہا جبرئیل نے
جو عقل کا غلام ہو وہ دل نہ کر قبول
باطل دوئی پسند ہے، حق لاشریک ہے
شرکت میانہ حق و باطل نہ کر قبول

’’رہ نورد شوق‘‘کی ترکیبی اصطلاح محبت اور شوق کی نمائندہ ہے -محبت میں شوق سے پروانے سے بڑھ کر ایک مسلمان کو ہونا چاہیے جو صراط مستقیم پہ چلے اور اپنی عبادت کو معراج بناتے ہوئے معرفت حق کو عام کرنے میں اپنا کردار ادا کرے-کیونکہ صراط مستقیم کے خلاف باطل سرگرم عمل ہے اُس کا سب سے بڑا ہتھیار انسان کے عقیدے میں تشکیک پیدا کرنا ہے   اور مشکوک دل کبھی بھی معرفت الہی کے لائق نہیں رہتا -

اس نظم میں اقبال ؒ ایک نقطے کی وضاحت بھی کرتے ہیں جبریل امین کے مطابق وہ دل جس پر عقل کی حکمرانی ہو وہی تو اندھا ہوتا ہے- لہٰذا اہل دل وہ ہیں جن کے دل اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) کی اطاعت میں مستغرق ہوں کیونکہ یہی دل معرفت حق کے لائق و فائق ہیں- جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَ اَطِیْعُوا اللہَ وَ رَسُوْلَہٗٓ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ‘‘[7]

’’اور اگر تم مومن (کامل) ہو تو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو‘‘-

اس تجزیاتی مطالعے کی روشنی میں عصر حاضر میں درپیش مسائل کا واحد حل مشاہیر اسلام کی حیات کا مطالعہ اور ان کے نقش قدم پر چلنے کے سوا کچھ نہیں-یہی وہ نفوس قدسیہ ہیں  جو بندے کا ٹوٹا ہوا رشتہ  پھر سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ استوار کردیتے ہیں -

٭٭٭


[1](ڈاکٹر محمد امین، وجودیت اور تصوف، بی آر پرنٹر، راولپنڈی، فروری2019،ص:22)

[2](الزمر:22)

[3](سیدنا شیخ عبد القادر جیلانیؒ، سر الاسرار، العارفین پبلیکشنز، لاہور، 2019، ص:141)

[4](الانبیاء:107)

[5](الزمر:10)

[6](الجن:26-27)

[7](الانفال:1)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر