|
علم کی حد سے پرے بندہء مومن کے لئے |
کبھی وہ دور بھی تھا کہ انسان کی نظر عرشِ عُلیٰ اور تحت الثرٰی تک جاتی تھی-مگر وہ ہمارے آباء تھے جو زندگی کا ہر کام با مقصد طریقے سے کرتے تھے یعنی ان کی زندگی با مقصد ہوا کرتی تھی-حصولِ علم کا مقصد تلاشِ ملازمت نہیں تھا بلکہ حصولِ علم کو عبادت سمجھا جاتا تھا اس لئے ہر ذی شعور کی یہ خواہش ہو ا کرتی تھی کہ لفظوں کی گہرائی میں اترا جائے تاکہ لفظوں کی گہرائی اور پیغام تک رسائی ممکن ہو سکے-لفظوں کی سطحیت تک محدود نہ رہا جائے بلکہ بقول اقبال قلزمِ خاموش کے پاتالوں تک اُترا جائے-مگر ایسا کرنے کیلئے ایک مخصوص حلقہء اتالیقی میں زانوئے تلمذ تہہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور صاحبِ نظر سے فیض پانے کی تمنا لازم ہوتی ہے-آیئے ہم فکرو نظر کے لغوی و اصطلاحی معنی پر غور کرتے ہیں اس کے بعد اصل عنوان کا احاطہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں-
لفظ ’’فکر ‘‘ کے لغوی معنی غور و خوض، سوچ و بچار، دھیان، خیال اور اندیشہ یا پریشانی کے ہیں- غور و فکر یا سوچ بچارکرنے کے حوالے سےعقل اور شعور کو استعمال کرتے ہوئے کسی مسئلے یا علم کا ادراک کرنا، خیال و نظریہ کے حوالے سے دھیان یا وہ نظریہ جو عقل و شعور کے نتیجے میں مرتب ہو اُسے فکر کہتے ہیں- اندیشہ یا پریشانی لاحق ہو تو کسی بات کی فکر، غم، تردد کو فکر کہتے ہیں-صوفیاء کی زبان میں اللہ تعالیٰ کی ذات، اس کی نشانیوں اور ماسوی اللہ سے بے نیاز ہو کر محض اس کی یاد میں محو ہو جانے کا عمل یعنی مراقبہ کرنا فکر کہلاتا ہے اور لغوی معنی کے اعتبار سےعقل و نظر سے کسی معاملہ میں گہرائی میں اترنا، دل کا کسی بات پر متردد یا متوجہ ہونا اور کسی شے کے بارے میں سوچنا فکر کہلاتا ہے-
فکر کی اصطلاحی تعریف یوں کی جا سکتی ہے کہ فکر ایک ایسا ذہنی عمل ہے جس میں انسان اپنی توجہ کسی نکتہ، خیال یا مشاہدے پر مرکوز کرتا ہے تاکہ کسی نتیجے یا معرفت تک پہنچ سکے-
لفظ ’’نظر‘‘ کے لغوی معنی دیکھنا، نگاہ اور چشم کے ہیں،بینائی اور ظاہری چشم کے حوالے سے اس کے معنی آنکھ، چشم، بصارت یا دیکھنے کی طاقت،دیکھنا اور دیدار کے حوالے سےکسی چیز کی طرف نگاہ اٹھانا یا دیدار کرنا-غور و فکر کے اعتبار سے تامل، سوچ وبچار اور عقل کی گہرائی کے معنی لئے جاتے ہیں ،رسائی اور ادراک کے اعتبار سے مجازاً کسی چیز کا فہم، پہنچ یا سمجھ بھی اس سے مراد لیا جاتا ہے-کسی کا مزاج بدل جائے تو تیور یا نگاہ کا خاص انداز بھی نظر کہلاتا ہے،کسی کے حاسدانہ طرز کو آشکارا کرنے کے لئے روز مرہ میں بد نگاہی کے اثر کو بھی نظر کہتے ہیں-
عروجِ فکرو نظر یہ ہے کہ جو تحریر بھی انسان اپنی ظاہری آنکھ سے پڑھے تو لفظوں کے پیچ و تاب میں اُلجھنے کی بجائے اُن کی اصل تک پہنچے اور اللہ تعالیٰ نے اگر باطنی آنکھ عطا کی ہے تو مجاز سے حقیقت کی طرف منتقل کرنے یا ہونے کا ملکہ پیدا کرے-تجسس بھرا دل و دماغ متجسس کو اُس وقت تک چین نہ لینے دے جب تک فکر و خیال کی روح تک نہ پہنچ جائے-صورتِ مطالعہ ایسی ہو کہ جب عقل محوِ پرواز ہو تو دنیا و ما فیہا سے بے نیاز ہو کر صرف اور صرف اپنی نگاہیں مقصدِ مطالعہ پر مرکوز رکھے-اگر بنظر غائر دیکھیں تو محقق بنا جائے اور تحقیق کے اصولوں کے مطابق کام کیا جائے،جس بھی مسئلہ پر تحقیق ہو جائے، پھر محقق سے کوئی گوشہ،کوئی پہلو پنہاں نہ رہے بلکہ یقین کی منزل پر پہنچ جائے مگر اس کی بنیاد مطالعہ سے جڑی ہے-کتاب دوستی سے منسلک ہے-کتاب سے دوری،علم سے دوری ہے،کتاب سے دوری جہل سے دوستی کا پیش خیمہ ہے-ہمارا نظامِ تعلیم جب تک صاحبانِ فکرو نظر سے جڑا رہا ،کتب خانے بھی ہمارے تھے، اہلِ قلم بھی ہمارے تھے اور دنیا کے تمام شعبہ جات بھی ہمارے تھے مگر بدقسمتی بھی کہیئے اور اپنوں کی بے اعتنائی بھی کہیئے کہ جب سے کثیر الجہتی تعلیم کو تفردِ شعبہ و نظم کا شرف حاصل ہوا لفظوں کے خاندان بکھر گئے،سوچوں کے زاویے منتشر ہو گئے اور انسان کو یک طرفہ سوچنے پر مجبور کیا گیا-سوچیں مسدود ہو گئیں اور نہ صرف زوالِ فکرو نظر بلکہ زوالِ فن بھی شروع ہو گیا-فعالیت جاتی رہی،اپنی پہچان سے صرفِ نظر کرنےلگے،اب کہاں کی باریکیٔ خیال اور کہاں کی بلندیٔ فلک اور کہاں کا تصورِ تسخیرِ کائنات-
زوالِ فکرو نظر کی بنیادی وجوہات:
1-کسی بھی قوم کا نظامِ تعلیم ،اس کا نصاب مکمل طور پر اُس کے فلسفہ پر کھڑا ہوتا ہے-مغرب نے یہ نعرہ لگایا کہ مذہب ہماری ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے اور انہوں نے اسے دنیاوی عملیت پسندی کے نظریے سے تعبیر کر لیا-مادیت پرستی نے مغربی تہذیب اور مادہ پرستانہ فلسفے نے انسان کو خدا اور روحانیت سے دور کر دیا-نہ صرف وہ خود دور ہوئے بلکہ جو بھی ان کے نظریے پر چلا وہ بھی دور ہوگیا-
2-اندھی تقلید اور بے عملیت ایسا عمل ہے جو انسان کے جوہرِ خوابیدہ(خودی) کو زنگ آلودہ کر دیتا ہے-امتِ مسلمہ نے اجتہاد کا دروازہ بند کر کے تقلید اور غلامی کو اپنا مقدر بنا لیا، جس سے ان کی فکری صلاحیتیں زوال پذیر ہو گئیں-اس سے یہ ہوا کہ علمی دروازے ہم پر بند ہوگئے،ترقی اس وقت ہوتی ہے جب نئی نئی اختراعات منظرِ عام پر آئیں،ایک نکتے سے کئی کئی در واں ہو جائیں-مگر افسوس ،نہ مذہب کے پیرو رہے نہ ہی دنیا کی ترقی ملی-
|
نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم |
3-عقلِ جزوی کی غلامی سے انسان کمزور پڑ جاتا ہے جب تک اسے ایمان کی حرارت نہ ملے-اقبال کے نزدیک محض طبعی اور استدلالی عقل انسان کو پست کر دیتی ہے جب تک اسے ایمانی فہم و فراست کا سہارا نہ ملے-مگر اس سے بڑی اور گمراہی کیا ہو گی کہ اب اہلِ اسلام کے دل سے یہ احساس بھی جاتا رہا کہ ہم نے من حیث القوم سوچنا ہی چھوڑ دیا-اب ہمارا کیا نفع ہوتا ہے، کیا نقصان ہوتا ہے ہمارا اس سے واسطہ ہی نہیں اس سے بڑی بے حسی اور کیا ہوگی-
اقبال ؒکےمردِ مومن کی صفات اور خدو خال:
اقبال کا مردِ مومن قرآن کریم کے بیان کردہ مردِ مومن کا عکس ہے،یاد رہے کہ اقبال ؒ کے بیان کردہ اوصافِ مومن اور مقاماتِ مومن محبتِ رسول (ﷺ) کے سبب سے ہیں -جسے زبان ِ تصوف میں فنا فی الرسول کہتے ہیں- اس کا مصداق بنے تو اقبال ؒ کا مومن بنتا ہے-آپ نے مردِ مومن کا جو ماڈل پیش کیا اس کے اجزاء کچھ اس طرح ہیں:
1-تشکیلِ خودی : مردِ مومن وہ ہے جو ضبطِ نفس، اطاعتِ الٰہی اور نیابتِ الٰہی کے مراحل طے کر کے اپنی خودی کو استحکام بخشتا ہے اور جب یہ خودی مضبوط ہوتی ہے تو پھر بندۂ مومن لافانی ہو جاتا ہے-
|
ہو اگرخود نگر و خود گر و خود گیر خودی |
2-فقر و استغناء: وہ دنیا کی چکاچوند اور مال و دولت سے بے نیاز رہتا ہےاور اس کا فقر اسے باطل کے سامنے جھکنے نہیں دیتا-استغنا ء کو اقبال نے معراجِ مسلمانی قرار دیا ہے:
|
نہ ڈھونڈاس چیز کو تہذیبِ حاضر کی تجلی میں |
3-مقصودِ کائنات: وہ وقت اور فطرت کے قوانین کا اسیر نہیں بلکہ اپنی ایمانی قوت سے حالات اور تقدیر کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے-
|
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے |
4-مظہرِ شانِ قدرت: اقبال ؒکے نزدیک مردِ مومن کا کردار اتنا بلند ہوتا ہے کہ اس کا ہاتھ خدا کی قدرت کا مظہر بن جاتا ہے کیونکہ بندہ اپنے رب کی پیروی کرتے کرتے اس کی تجلیات کو اپنے اندر سمو لیتا ہے-جیسے اللہ پاک کی صفت ہے کہ اسے نہ نیند آتی ہے نہ اونگھ،اب بندہ اگر اپنے رب سے تعلق اور نسبت قائم کرنے کے لئے کم سونا شروع کردے تو اللہ پاک اس پر اپنی تجلی ڈال دیتا ہے-اسی لیے اللہ پاک فرماتا ہے کہ جب بندہ میرا ہو جاتا ہے تو میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے،میں اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے-اب اُس بندۂ مومن کی فراست کا عالم کیا ہوگا کہ جس کی آنکھوں کو خدا اپنی آنکھیں فرماتا ہے-اُس بندہء مومن سے بھلا کیا نہاں رہ سکتا ہے؟
|
ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ |
5-پیکرِ عشق:اقبال ؒکا تصورِ عشق ،عزمِ صمیم ،عملِ پیہم اور جہدِ مسلسل سے تعبیر ہے-اپنے محبوبِ حقیقی کی تمنا، منزل کی لگن دل میں ہو تو تمہارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا-تم چاہو تو سمندر میں گھوڑے دوڑا دو،تم چاہو تو آگ کے اندر اتر جاؤ،تمہارا پرور دگار تمہاری حفاظت فرمائے گا،تمہیں اس کی خبر ہی نہ ہو گی کہ وہ کس طرح تمہاری مدد فرماتا ہے اور تمہاری حفاظت فرماتا ہے مگر یہ سب تمہاری رب کے حضور حوالگی کے بعد ہی نصیب ہوگا-
|
بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق |
عقل اور عشق کا ہمیشہ تقابلی کھیل رہا ہے-عشق ذرا برابر بھی کارِ عشق میں تاخیر برداشت نہیں کرتا لہٰذا پہلے سے زیادہ رفتار کا مطالبہ کرتا ہے-مگر عقل اسے عجلت پسندی سمجھتی ہے اور محبوب کے پیغام کا مفہوم ہی نہیں سمجھتی –
|
قہر ہے تھوڑی سی غفلت بھی طریقِ عشق میں |
اقبالؒ بھی اسی تاخیر سے ڈرتے ہیں کہیں وقت بیت نہ جائے اور آنکھوں سے منزل اوجھل نہ ہو جائے- آپ فرماتے ہیں:
|
عشق فرمودہ قاصد سے سبک گام عمل |
اقبالؒ عشق کے جام کو پینے والے کی حیات کو ابدی قرار دیتے ہیں-مگر یہ بدنامِ زمانہ عشق نہیں بلکہ پارسائی ہے اور محبوب ِ حقیقی تک رسائی ہے-
|
مردِ خدا کا عمل عشق سے صاحبِ فروغ |
اقبال ایک بہت ہی خوبصورت نکتہ بیان فرماتے ہیں کہ مومن اور عشق لازم و ملزوم ہیں-مومن اور عشق ایک دوسرے کے بغیر رہ نہیں سکتےاور عشق کے سامنے ناممکن نام کی چیز ہی نہیں ہوتی،عشق تو ناممکن کو بھی ممکن بنا دیتا ہے-یہ عشق کا تصرف ہے جو اقبال مومن کے خصائص میں شامل فرماتے ہیں:
|
مؤمن از عشق است و عشق از مؤمن است |
’’مومن کی قوت اور زندگی عشق سے ہے اور عشق کی حقیقت مومن ہی کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے-عشق وہ طاقت ہے جو ہمارے لیے ناممکن کاموں کو بھی ممکن بنا دیتی ہے‘‘-
صرف یہی نہیں بلکہ ریگستانوں،بیابانوں ،دریاؤں اور پہاڑوں کی کیفیت بندہ مومن کے سامنے رائی کے دانے جیسے ہوتی ہے جب چاہے اسے مسل کر پھینک دے-
|
دو نیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا |
عشق انسان کو اپنی پہچان عطا کرتا ہے،آدابِ زندگی سکھاتا ہے-مغلوب قلوب و اذہان پر وہ راز منکشف کرتا ہے کہ وہ ایک نئی کروٹ لیتے ہیں اور اپنے طرزِ زندگی سے نکل کر نئی راہ لیتے ہیں-صرف ایک خدائے لم یزل کے سامنے جھکنے کے سبب در در پہ جھکنے سے بچ جاتے ہیں-
|
جب عشق سکھاتا ہے آدابِ خود آگاہی |
6-پیکرِ یقین:قرآنِ حکیم مردانِ حق کا ذکر ہوں بیان فرماتا ہے کہ:
’’الَّذِیْنَ یَذْکُرُوْنَ اللہَ قِیٰمًا وَّقُعُوْدًا وَّعَلٰی جُنُوْبِہِمْ‘‘[1]
’’جو لوگ کھڑے ہوئے اور بیٹھے ہوئے اور کروٹ کے بل لیٹے ہوئے اللہ کا ذکر کرتے رہتے ہیں‘‘-
وہ اپنے محبوبِ حقیقی سے کسی لمحہ غافل نہیں رہتے-اسی ضمن میں حضرت سلطان باہو ؒ فرماتے ہیں :
|
جو دم غافل سو دم کافر مرشد ایہہ فرمایا ھو |
یعنی جو لمحہ اپنے معبودِ حقیقی کی یاد سے بے گانہ ہو کر گزرا، سمجھ لیجئے عالِم کفر میں گزرا-
ایک اور مقام پر اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
’’وَاصْبِرْ نَفْسَکَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْہَہٗ‘‘[2]
’’ اور آپ اپنے آپ کو ان لوگوں کے ساتھ لازم رکھیں جو صبح اور شام اپنے رب کی رضا چاہتے ہوئے اس کی عبادت کرتے ہیں ‘‘-
ایک اور جگہ ارشاد ہوتا ہے :
’’وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّہِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا‘‘[3]
’’اور وہ لوگ جو اپنے رب کے حضور سجدہ اور قیام میں رات گزار دیتے ہیں‘‘-
کاروبارِ زندگی ہو، لین دین ہو، تجارت ہو، طرزِ معاشرت ہو یا عائلی زندگی ہو وہ کسی صورت اپنے رب کی یاد سے غافل نہیں ہوتے-اسی تناظر میں اقبال فرماتے ہیں کہ بندۂ مومن یہ وصف رکھتا ہے کہ وہ اپنے ہر فعل کا نتیجہ اپنے رب پر چھوڑ دیتا ہے-وہ اپنے اوپر اپنے مالک کا جو حق سمجھتا ہے اس پر پورا بھروسہ کرتا ہے اور یہ یقین رکھتا ہے کہ میرے پیدا کرنے والی ذات کبھی میرا بُرا نہیں کرے گی-وہ میدانِ کارزار میں اُترتا ہے تو اپنے پروردگار سے زیادہ کسی فانی چیز پر تکیہ نہیں کرتا -اُسے صرف اپنے رب پر اعتماد ہوتا ہے اس لئے وہ بڑے بڑے خطرات مول لیتا ہے اور وقت کے فرعونوں سے ٹکرا جاتا ہے-
|
کافر ہے تو شمشیر پہ کرتا ہے بھروسہ |
ساتھ ہی اقبال یہ نصیحت فرما رہے ہیں کہ تم آزاد ہو تو سب کچھ تمہارا ہے ،تم ہر چیز پر اپنا تسلط قائم کرسکتے ہو،اپنے پرورد گار پرتیقن کفر کے بتوں کو پاش پاش کر دیتا ہے-لیکن اگر تم نے اپنی روش کو چھوڑ کر غلامی کے طرزِ زندگی کو اپنایا تو بے شک تمہارے پاس کتنا ہی اسلحہ کیوں نہ ہو،تمہاری تلواریں پڑی پڑی زنگ آلودہ تو ہو سکتی ہیں،تم سوچوں کے ذریعے خوابوں میں بادشاہ تو بن سکتے ہو لیکن حقیقت میں کبھی فاتح نہیں بن سکتے ہو-غلامانہ ذہنیت ہی تمہاری آزادی کی قاتل ہے-
|
غلامی میں کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں |
اقبالؒ بیداریٔ مسلماں اور وصفِ مومن کی حفاظت کا نسخہ بھی عطا کرتے ہیں ،زبانی کلامی مسلماں ہو تو پھر تم کچھ بھی نہیں ہو-لیکن اگر تمہاری خودی زندہ ہے اور ا س کو تادیر زندہ دیکھنا چاہتے ہو تو پھر اس کی حفاظت کرو- مگر کس سے؟ جواب آتا ہے اس کی نگہبانی تم سب بیداری سے کرو،ذکر و فکر (مراقبہ) سے کرو پھر دیکھو تمہیں کیسا سکون نصیب ہوتا ہے-تم کیسے اسمِ با مسمٰی مسلمان بنتے ہو-آپ فرماتے ہیں:
|
خرد نے کہہ بھی دیا لا الٰہ الااللہ تو کیا حاصل |
7-طائرِ لاہوتی:اس وصفِ مومن سے اقبال یہ درس دیتے دکھائی دیتے ہیں کہ بندہ مومن جب خاک کے وصف سے آزاد ہو جاتا ہے تو بشری لباس ہوتے ہوئے مکاں کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے ،سارے فاصلے اس کے سامنے سمٹ کے رہ جاتے ہیں-وہ مکان کی حدود و قیود سے باہر نکل کر جب لا مکاں کے سفر پرنکل کھڑا ہوتا ہے تو پھر تمام رکاوٹیں دور ہو جاتی ہیں اور اس پر حقائق آشکارا ہو جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ بندہ مومن حتی الامکان اس بات کی کوشش کرتا ہے کہ اس کی پرواز متاثر نہ ہو یعنی منزل کی طرف کئے جانے والے سفر پر ہر گز سمجھوتہ نہیں کرتا اور اسے جاری رکھنے کی کوشش کرتا ہے-بقیہ تمام چیزوں کو ضمنی گردانتا ہے-
|
اے طائرِ لاہوتی اس رزق سے موت اچھی |
اس کے ساتھ ساتھ اقبالؒ بندہ مومن کو امیدِ منزل دلاتے ہیں کہ یہ تو تیری پرواز کے آگے کچھ نہیں،چند قدم کی مسافت پر موجود ہے،یہ چاند ستارے اور ان کی چمک دمک تمہاری منزل نہیں-تمہیں اس سے بھی آگے جانا ہے-
|
تو اے اسیرِ مکاں، لا مکاں سے دور نہیں |
8-صاحبِ تقدیر:بندہ مومن جب اپنے رب کے ہر حکم کو بجا لاتا ہے تو اسی کے حکم سے عالمِ رنگ و بو کی پنہائیوں پر تصرف حاصل ہو جاتا ہے-پھر اللہ تعالیٰ اپنے محبوب بندے پر اپنی عنایات تمام کر دیتا ہے اور فیصلہ اسی پر چھوڑ دیتا ہے اور سب کچھ اس کے تصرف میں دے دیتا ہے-
|
کی محمدسے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں |
لیکن جب اقبالؒ اپنے محبوب کریم (ﷺ) کے امتی کو تہی دامن دیکھتے ہیں تو متفکر ہو کر کہتے ہیں:
|
ترے دریا میں طوفاں کیوں نہیں ہے |
خلاصہء کلام یہ ہے کہ اقبالؒ کا مردِ مومن صاحبِ کردار اور ان کے بیان کردہ خصائص کی بنیاد پر صاحبِ اوصاف تھا -غور و خوض سے اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ مومن کا صاحبِ کردار ہونا اوراس کا عروج ِ فکر و نظر کی بدولت تھا-یوں کہیئے کہ جب تک صاحبِ ایمان افکارِ اسلامیہ سے جڑا رہا،اُس کی سوچ ،تدبراورتفکر انتہائے کمال کو چھوتے دکھائی دیتا تھا،بہ ایں معنی کہ ہم جب سے فکرِ اقبال سے بے گانہ ہوئے ،ہم اپنے تابناک ماضی سے کٹ گئے-ایک مخصوص لائحۂ عمل کے تحت نسلِ نو کو اقبال ؒ سے بے گانہ کیا گیا-موجودہ حالاتِ نظامِ تعلیم اس بات کی گواہی پیش کر رہے ہیں کہ ہماری اساسِ تعلیم کو کھوکھلا کردیا گیا ہے-ہم اپنے بچوں کو تعلیم تو دے رہے ہیں مگر روحِ تعلیم کب کی فوت ہو گئی ہے-بے ذائقہ اور بے بنیاد باتیں قوتِ تفکر کو مردہ کر رہی ہیں-فہمِ زبان دانی،ادب شناسی سے ہم بہت دور نکل گئے-یہی وجہ ہے کہ ہمارے افکار سطحیت پر قائم ہونے لگے،عقل و خرد سے عاری نظام اب ایسی شخصیات پیدا کررہا ہے جو یہ نعرہ لگا رہے ہیں کہ ہماری ترقی کی راہ میں مذہب حائل ہے-جبکہ اقبالؒ تو فرما رہے ہیں ’’مذہب جو نہیں تم بھی نہیں‘‘-اہلِ قلم اور اربابِ اختیار سے سفارش کی جاتی ہے کہ اگر ہم نسلِ نو کو زوال سے بچانا چاہتے ہیں تو اسے پھر سے فکرِ اقبال سے جوڑا جائے-
٭٭٭