اسلامی تہذیب اور تصورخودی: اقبالؒ کے تناظر میں

اسلامی تہذیب اور تصورخودی: اقبالؒ کے تناظر میں

اسلامی تہذیب اور تصورخودی: اقبالؒ کے تناظر میں

مصنف: محمدرضوان اسلم نومبر 2026

تہذیب کا مفہوم:

      انگریزی میں تہذیب کے لیے Civilization کا لفظ استعمال ہوا ہے- انگریزی میں اس لفظ کے معنی تربیت، اصلاح اور درستگی کے ہیں-تہذیب انسانی سماج یا معاشرے کی وہ خصوصیت ہے جس میں ذہنی، تکنیکی، تمدنی اور معاشرتی ترقی ہوتی ہے- تہذیب سے مراد انسان کے خارجی حالات کی بہتری اور ان میں کمال کا حصول ہے- اس کا تعلق انسان کے ماحول اور دوسرے افرادِ معاشرہ کے ساتھ ہوتا ہے-

تہذیب کے عناصرِ ترکیبی حسبِ ذیل ہیں:

  • دنیوی زندگی کا تصور
  • زندگی کا نصب العین
  • اساسی عقائد و افکار یا مذہب
  • تربیتِ افراد

اسلامی تہذیب فکر اقبال کی روشنی میں:

دنیا کی تاریخ، تہذیبوں کی تاریخ ہے اس میں ہر دور اور معاشرے میں چھوٹی بڑی تہذیبیں موجود رہی ہیں، جن میں یونانی تہذیب، رومی تہذیب، عراقی تہذیب، ہندو تہذیب، چینی تہذیب اور مغربی تہذیب وغیرہ شامل ہیں- تاہم اسلامی تہذیب عصرِ حاضر میں موجود  دیگر تہذیبوں  سے مختلف ہے کیونکہ باقی تہذیبیں اور خاص طور پر مغربی تہذیب مادی اقدار کی علمبردار ہے ؛ جبکہ اسلامی تہذیب اپنے بنیادی اصول و نظریات میں آفاقی پیغام کی حامل ہے اور وہیں سے عدل و انصاف، اتحاد و اتفاق، مساوات، رواداری اور محبت و انس جیسی خصوصیات اخذ کرتی  ہے-

علامہ اقبال دوسری تہذیبوں کے ساتھ اسلامی تہذیب کا فرق کچھ یوں بیان کرتے ہیں:

اپنی ملّت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی
ان کی جمعیّت کا ہے ملک و نسب پر انحصار
قوّتِ مذہب سے مستحکم ہے جمعیّت تیری
دامنِ دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمعیّت کہاں
اور جمعیّت ہوئی رخصت تو ملّت بھی گئی

تاہم یہ نکتہ قابلِ غور ہے کہ مذہب کی قوت سے مراد وہ قوت نہیں جو تشریح ہمارے ہاں متشدد ملائیت نے پھیلا رکھی ہے- مضمون میں آگے چل کر اس کی کچھ وضاحت کی جائے گی-

اسلامی تہذیب اپنی ماہیت، عناصرِ ترکیبی اور اثرات کے لحاظ سے دنیا کی تمام دیگر تہذیبوں سے منفرد اور ممتاز حیثیت رکھتی ہے- اسلام اپنے آغاز ہی سے ایک نئی تہذیب کی روایت کے آغاز کا سرچشمہ بنا کیونکہ اس کا آفاقی پیغام قیامت تک کے انسانوں کیلئے ہے اور اب ایسے رہنما اصول دے دیئے گئے ہیں جن کی بنیاد پہ اپنی خداد صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے نئے جہاں تعمیر ہونے ہیں- اسی طرح اسلام نے رنگ، نسل، زبان، جغرافیہ اور دیگر تفریق مٹا کر   قومیت کی بنیاد بھی روحانیت پہ رکھی ہے-

وہ مذہب مردانِ خود آگاہ و خدا مست
یہ مذہبِ ملا و جمادات و نباتات

اسلام فقط عقائد کا مسلک نہیں ہے بلکہ یہ ایک عالمگیر نظام اور سماجی ضابطہ بھی فراہم کرتا ہے- اسلام نے رنگ و نسل کی تفریق کو ختم کیا ہے- اسلام انسانوں کے ذہنوں کو ایک سمت میں لانا چاہتا ہے- اسلام حقیقت میں بنی نوعِ انسان کے اتحاد اور روحانی ہم آہنگی کا نظریہ رکھتا ہے-چنانچہ مسلم تہذیب کی صورت گری اسلام کی آفاقی اور ابدی تعلیمات سے ہوئی ہے- خطبۂ الہٰ آباد میں علامہ اقبال نے اس کی وضاحت خود پیش کی ہے-

اسلامی تہذیب کی اقدار کا اظہار دراصل روزمرہ کے معمولات، رہن سہن اور لباس سے بھی ہوتا ہے-اقبال کے نزدیک مسلم تہذیب محض عمارات، تاریخ یا رسومات کا مجموعہ نہیں بلکہ اس کی روح توحید اور سنتِ نبوی (ﷺ) پر استوار ہے- وہ مسلمانوں کو یاد دلاتے ہیں کہ ان کی اجتماعی قوت اور تہذیبی بقا کا راز کسی مخصوص وطن یا نسل سے وابستہ ہونے میں نہیں بلکہ ایک معنوی اور ربانی پیغام سے جڑنے میں ہے- جب تک یہ مرکزیت قائم رہتی ہے، مسلم تہذیب زندہ اور متحرک رہتی ہے اور مسلم اُمہ دنیا میں اپنی مرکزی حیثیت برقرار رکھتی ہے-

اقبال نے یورپ کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے بعد مغربی تہذیب کی سائنسی ترقی کی جہاں پذیرائی کی وہیں اس کی ظاہری چمک دمک کے پیچھے چھپے ایسے عناصر کو بے نقاب کیا جو انسانی معاشرے سے انسانیت ختم کرنے کا باعث بنتے ہیں- ان کے نزدیک مغربی تہذیب کی بڑی خامی اس کا لادین (سیکولر) ہونا اور محض مادی مفادات کا حصول ہے- وہ اس تہذیب کو سائنسی اور مادی ترقی تو قرار دیتے ہیں، مگر  روح کو زخمی اور اخلاق کو تباہ کرنے کا سبب بھی قرار دیتے ہیں- آج دنیا بھر میں اس کی مثالیں ہمیں واضح دکھائی دیتی ہے جہاں انسانیت سسک رہی ہے لیکن اپنے مادی مفادات کے سبب بڑی بڑی طاقتیں خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہیں- مادیت کی چکاچوند کے سبب آج کا نوجوانوں مغربی تہذیب کی اندھی تقلید کرتا اور اسلامی تہذیب سے روگردانی کرتا نظر آ رہا ہے، جو کہ مسلم امہ کو غیر اخلاقی راستے پر گامزن کر رہا ہے- آج کے نوجوان روحانی طور پر کمزور دکھائی دیتے ہیں جو کہ مغرب کی اندھی تقلید کا نتیجہ ہے- اقبال نے مغربی تہذیب  کی ناپائیداری کی وجوہات بھی شاعری کی صورت میں بیان کی ہیں-

نظر کو خیرہ کرتی ہے چمک تہذیب حاضر کی
یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے

اس شعر میں علامہ اقبال جدید مغربی تہذیب کی ظاہری جاہ و جلال اور اس کی اندرونی حقیقت کا موازنہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ بظاہر یہ تہذیب اپنی سائنسی و مادی ترقی کی وجہ سے انسان کی آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہے اور پہلی نظر میں انتہائی دلکش اور متاثر کن معلوم ہوتی ہے- تاہم، حقیقت میں یہ تمام تر چمک دمک اور کاریگری سچے ہیرے جواہرات کی نہیں بلکہ کانچ کے سستے اور مصنوعی ٹکڑوں کی ریزہ کاری کی مانند ہے- اقبال کے نزدیک یہ تہذیب روحانی اور انسان دوست قدروں سے خالی ہے، اس لیے اس کی تمام تر ظاہری خوبصورتی ناپائیدار، مصنوعی اور محض ایک بصری دھوکا ہے-

علامہ اقبال فرماتے ہیں:

یہ پیر کلیسا کی کرامت ہے کہ اس نے
بجلی کے چراغوں سے منور کیے افکار
جلتا ہے مگر شام و فلسطیں پہ مرا دل
تدبیر سے کھلتا نہیں یہ عقدہ دشوار
ترکان 'جفا پیشہ' کے پنجے سے نکل کر
بیچارے ہیں تہذیب کے پھندے میں گرفتار

اسلامی تہذیب اور فکر اقبال سے حاصل بحث:

اسلامی تہذیب اور فکرِ اقبال کا باہمی تعلق درحقیقت روح اور جسم کا وہ ناگزیر رشتہ ہے جس کے بغیر کسی قومی اور فکری تجدید کا تصور ممکن نہیں- علامہ اقبال نے اپنے افکار، بالخصوص فلسفۂ خودی، عشق اور اجتہاد کے ذریعے اسلامی تہذیب کی عظیم معنوی و اخلاقی اقدار کو نہ صرف دوبارہ زندہ کیا، بلکہ انہیں جدید دور کے پیچیدہ تقاضوں اور معروضی حالات کے مطابق ایک نیا تحرک اور شادابی بھی بخشی- ان کا کلام اور فلسفہ محض ماضی کی داستاں سرائی یا آباؤ اجداد کے جاہ و جلال پر فخر کرنے تک محدود نہیں، بلکہ وہ اسلامی تہذیب کو ایک ایسا بیدار، آفاقی اور ہمہ گیر نظامِ حیات مانتے ہیں جو مادیت زدہ انسان کو روحانی سکون، انسانی مساوات اور حقیقی حریت عطا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے-اقبال کی نظر میں اسلامی تہذیب کا زوال دراصل اس کی بنیادی فکر سے دوری اور اجتہادی جمود کا نتیجہ تھا- اسی لیے انہوں نے مسلم قوم کو تقلیدِ مغرب کی زنجیریں توڑنے اور قرآنی تعلیم کی روشنی میں اپنے حالات کا ازسرِ نو جائزہ لینے کا درس دیا- موجودہ دور میں، جب مسلم امت فکری انتشار، اغیار کی کورانہ معنوی تقلید اور شدید تہذیبی و روایتی بحران کا شکار ہے، فکرِ اقبال کی پیروی محض ایک نظریاتی یا ادبی پسند نہیں بلکہ ہماری ملّی و قومی بقا کی عملی ضرورت بھی ہے-اقبال کا فلسفہ ہمیں یہ آفاقی سبق دیتا ہے کہ اگر مسلمان اپنے دینی و فکری ورثے کی دوبارہ دریافت کریں، خود اعتمادی کو اپنا شعار بنائیں اور قرآنی اصولوں پر مبنی عالمگیر اخلاقیات کی طرف لوٹ آئیں، تو وہ نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی شان و شوکت اور سیاسی و فکری وقار کو دوبارہ حاصل کر سکتے ہیں، بلکہ دورِ حاضر کے مادیت پرست ماحول میں عالمی سطح پر ایک متبادل، عادلانہ، متوازن اور انسان دوست تہذیب کی احیاء بھی کر سکتے ہیں- یہی وہ پیغام ہے جو اسلامی تہذیب کا گوہرِ مقصود ہے اور فکرِ اقبال کا حقیقی محور و مرکز-

تصور خودی اور فکر اقبال :

علامہ اقبال کی شاعری میں فلسفہ خودی نہایت اہمیت کا حامل ہے اور ان کی ایک بڑی وجہ شہرت بھی اسی فلسفہ کی بنیاد پر ہے- اقبال کے نزدیک خودی کے معنی انا، تکبر یا غرور کے ہرگز نہیں ہیں، بلکہ اس سے مراد انسان میں موجود اس کی روح، خود شناسی، عزتِ نفس اور اُن خداداد صلاحیتوں کو پروان چڑھانا ہے جو اسے کائنات میں ممتاز مقام عطا کرتی ہیں-یہ خودی ہی ہے جو کسی بھی انسان کو نہ صرف دیگر انسانوں سے ممتاز کرتی ہے، بلکہ اسے انفرادی خصوصیات کے ساتھ ساتھ ایک باعمل انسان بنا کر ’’نیابتِ الٰہی‘‘ کا درجہ بھی عطا کرتی ہے-انہوں نے اپنی اردو شاعری کے ساتھ ساتھ فارسی کلام میں بھی اس تصور کو بے حد خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے- اس سلسلے میں 1915ء میں ان کا فارسی شعری مجموعہ ’’اسرارِ خودی‘‘ شائع ہوا، جو  اسی فلسفے کا احاطہ کرتا ہے-

خودی کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے اقبال فرماتے ہیں:

خودی کیا ہے، رازِ درونِ حیات
خودی کیا ہے، بیداریِ کائنات

ایک اور مقام پر خودی کا مسکن انسانی دل کو قرار دیتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے:

خودی کا نشیمن تیرے دل میں ہے
فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے

مزید برآں، علامہ اقبال اپنی کتاب ’’ارمغانِ حجاز‘‘ میں خود آگاه انسان کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

خودی سے مردِ خود آگاہ کا جمال و جلال
کہ یہ کتاب ہے، باقی تمام تفسیریں

علامہ اقبال کے نزدیک  جب فرد اپنی خودی کی شناخت کر لیتا ہے تو اس کے اندر خوف، مایوسی اور دوسروں پر انحصار کا خاتمہ ہو جاتا ہے- وہ خودداری کے اس مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں وہ صرف اور صرف خدا کے آگے سرنگوں ہوتا ہے اور اسی مالکِ حقیقی سے سوال کرتا ہے جو تمام جہانوں کا مالک ہے اور بندۂ مومن کے دل میں اپنا جلوہ رکھتا ہے-

خود شناسی کے سفر میں جب انسان اپنی ہستی کے گہرے احساس سے دوچار ہوتا ہے تو  وہ اپنے باطنی تجربات اور وجودی احساسات کے ذریعے شعور کی ان گہرائیوں میں اتر جاتا ہے جہاں اسے خاموشی اور گہرائی کا احساس ہوتا ہے- زندگی کا یہ پراسرار اور گہرا پہلو تبھ تک سمجھ نہیں آتا  جب تک روح کے دروازے نہ کھلے ہوں، دل و دماغ مکمل طور پر بیدار نہ ہوں- خودی کا یہ بھی خاصہ ہے کہ وہ اپنے تجربات کے ذریعے اپنے آپ کو مضبوط کرے، کبھی بھی اس سفر کو ختم نہ سمجھے اور منزل بہ منزل یہ سفر جاری و ساری رہے-

تو رہ نورد شوق ہے، منزل نہ کر قبول
ليلیٰ بھی ہم نشيں ہو تو محمل نہ کر قبول
اے جوئے آب بڑھ کے ہو دريائے تند و تيز
ساحل تجھے عطا ہو تو ساحل نہ کر قبول
کھويا نہ جا صنم کدہ کائنات ميں
محفل گداز! گرمی محفل نہ کر قبول
صبح ازل يہ مجھ سے کہا جبرئيل نے
جو عقل کا غلام ہو، وہ دل نہ کر قبول
باطل دوئي پسند ہے، حق لا شريک ہے
شرکت ميانہ حق و باطل نہ کر قبول

ڈاکٹر یوسف حسین خان لکھتے ہیں:

’’حقائق کی دنیا خودی کی منزل اولین ہے، تسلسل میں زمان و مکاں کو توڑ کر جب وہ آگے بڑھتی ہے تو ضمیر وجود میں اس کو بے شمار عالم نظر آتے ہیں جو بظاہر بے نمود ہیں لیکن جن کے موجود ہونے کا امکان ہے‘‘-[1]

      خودی کو کمزور کرنے والے عوامل کو بھی علامہ اقبال نے شاعری میں نمایاں طور پر بیان کیا ہے- اقبال کے نزدیک جب انسان اپنی ذات کی شناخت، عزتِ نفس اور پرواز کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے تو اس کے اندر کی خودی دم توڑ دیتی ہے- غلامی، خوف، مایوسی، تقلیدِ بے جا اور سوال و گدائی (دوسروں کے آگے ہاتھ پھیلانا) وہ منفی عناصر ہیں جو خودی کا خاتمہ کر دیتے ہیں-

خودی کو گنوا دینے کے بعد انسان غلامانہ ذہنیت کا شکار ہو جاتا ہے اور محتاجی و بے بسی اس کا مقدر بن جاتی ہے- اقبال کے نزدیک ایسا شخص زندگی کی حقیقی لذت اور ارتقا سے محروم ہو کر روحانی اور معنوی اعتبار سے مردہ ہو جاتا ہے- وہ دوسروں کی فکر، تہذیب اور سہاروں پر زندہ رہنے کی کوشش کرتا ہے، جس سے اس کی اپنی تخلیقی صلاحیتیں ختم ہو جاتی ہیں- علامہ اقبال کے فلسفے کی روشنی میں، جو شخص اپنی خودی کو محفوظ نہیں رکھ سکتا، وہ دنیا میں کبھی عزت اور سربلندی حاصل نہیں کر سکتا، کیونکہ خودی کا باختہ ہونا اصل میں انسان کا اپنی انسانیت اور مقصدِ حیات سے دستبردار ہو جانا ہے-

خودی ہے زندہ تو دریا ہے بے کرانہ ترا
ترے فراق میں مضطر ہے موج نیل و فرات
خودی ہے مردہ تو مانند کاہ پیش نسیم
خودی ہے زندہ تو سلطان جملہ موجودات

علامہ اقبال ان اشعار میں بتاتے ہیں کہ انسان کی قوت اور مقام کا تمام تر انحصار اس کی خودی کے زندہ یا مردہ ہونے پر ہے- اگر انسان میں خودی زندہ اور بیدار ہو، تو اس کا وجود ایک بے کنار سمندر کی مانند وسعت اختیار کر لیتا ہے جس کی عظمت اور تاثیر کے سامنے نیل و فرات جیسے تاریخی اور عظیم دریا بھی بے تاب و بے قرار نظر آتے ہیں اور انسان پوری کائنات پر حکمرانی کے قابل ہو جاتا ہے- اس کے برعکس، اگر خودی مردہ ہو جائے، تو انسان کی حیثیت ہوا کے سامنے تنکے جتنی بے حقیقت ہو جاتی ہے، جسے حالات کا معمولی جھونکا بھی باآسانی اڑا کر لے جاتا ہے-

ایک مردِ خود آگاہ کو علامہ اقبال ایک ایسے انسانِ کامل کے طور پر دیکھتے ہیں جو خود شناسی اور بالیدگیِ فکر کے ذریعے حیات کے نئے آفاق دریافت کرتا ہے- اقبال کے یہ مشہور زمانہ اشعار اسی فکر کی ترجمانی کرتے ہیں:

دیارِ عشق میں اپنا مقام پیدا کر
نیا زمانہ، نئی صبح و شام پیدا کر
خدا اگر دلِ فطرت شناس دے تجھ کو
سکوتِ لالہ و گل سے کلام پیدا کر
مرا طریق امیری نہیں، فقیری ہے
خودی نہ بیچ، غریبی میں نام پیدا کر

ان اشعار کی فکری و معنوی جہتوں کو اجاگر کرتے ہوئے معروف نقاد شمیم حنفی اپنی کتاب ’’اقبال اور عصرِ حاضر کا خرابہ‘‘میں لکھتے ہیں:

’’یہ اشعار صرف ایک شخصی اور انفرادی منشور کی نشاندہی نہیں کرتے، ان سے ایک اجتماعی نصب العین، ایک سماجی وژن اور ایک قومی دستور العمل کی تصویر بھی مرتب ہوتی ہے اور یہی مخصوص اور منفرد انداز اقبال کو ان کے معاصر ترقی پسندوں کے طرزِ فکر سے ممیز بھی کرتا ہے‘‘-[2]

علامہ اقبال کا تصورِ خودی ان کے فکر و فلسفے کا بنیادی محور ہے، جو انسان کی ذات کی شناخت، بیداری، خود شناسی اور بالیدگی کا درس دیتا ہے- اقبال کے ہاں کامیاب انسان وہ ہے جو اپنی خودی کی تربیت اور استحکام کے ذریعے تسخیرِ کائنات کا اہل بنتا ہے، عزم و ہمت، سوز و ساز اور خودداری کا مجسمہ ہوتا ہے اور اطاعتِ الٰہی و ضبطِ نفس کے مراحل طے کر کے ’’نیابتِ الٰہی‘‘کے مقام پر فائز ہوتا ہے- اس کے برعکس ناکامیا ب انسان وہ ہے جو اپنی خودی کو غفلت، تقلیدِ محض، بے عملی، خوف اور بزدلی کی نذر کر دیتا ہے اور اپنی داخلی صلاحیتوں کو پامال کر کے دوسروں کا دستِ نگر اور غلام بن کر رہ جاتا ہے- اقبال نے اپنے اس فکر و فلسفے کا حقیقی مرکز و محور نوجوان (شاہین) کو قرار دیا ہے- ان کے نزدیک نوجوان قوم کا معمار اور متحرک طاقت ہے جسے وہ مادی آسائشوں، کاہلی اور بزمِ رنگ و بو سے بالاتر دیکھنا چاہتے ہیں- اقبال کا نوجوان زمان و مکان کی قید سے آزاد، مسلسل جدوجہد (عملِ پیہم)، بلند پروازی اور خودداری کا حامل ہے، جس کی پرواز ستارے کاٹنے اور زندگی کے نئے آفاق دریافت کرنے میں ہے- حاصلِ کلام یہ کہ اقبال کا یہ جامع پیغام انسانی شخصیت کی تعمیرِ نو، قوم کی اخلاقی و فکری رفتار کا ایک عالمگیر اور عملی لائحہ عمل اور مسلم تہذیب کے احیاء کی بنیاد فراہم کرتا ہے-

٭٭٭


[1](روح اقبال، ص: 150-151)

[2](اقبال اور عصرِ حاضر کا خرابہ،ص: 156)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر