فکرِ اقبال اور ہماری ذمہ داریاں
فکرِ اقبال ایک ہی وقت میں ہمارے سنہرے ماضی، تاریک حال اور روشن مستقبل کی بات کرتی ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کیلئے مزید اہم ہو رہی ہے جس کی وجہ آئے دن بڑھتی ہوئی انتہا پسندی، متشدد ملائیت اور مادیت پرستی ہے- اس کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کا استعمال جہاں ہمارے لئے آسانیاں لا رہا ہے وہیں ہماری ذہنی و فکری صلاحیتوں کیلئے نِت نئے چیلنجز بھی لا رہا ہے- نوعمر طلباء جو ابھی حصولِ علم کے طریقے سیکھنے کے مراحل پہ ہوتے ہیں ان کا بھی اے آئی ٹُولز پہ بڑھتا انحصار تشویش ناک ہے- پیو ریسرچ کی حالیہ تحقیق کے مطابق نصف سے زائد امریکی نوعمر طلباء سکول کا کام کرتے ہوئے اے آئی کا استعمال کرتے ہیں-حتیٰ کہ بہت سے طلباء جذباتی سپورٹ کیلئے بھی اے آئی سے رجوع کرتے ہیں-شدت پسندانہ مذہبی فکر جو پہلے ہی ہمارے مذہبی افکار کو دھندلا رہی ہے، وہ اس جدید ذہن کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے- چنانچہ مذہبی افکار کی تفہیمَ نو کا جو کام علامہ اقبال نے شروع کیا اسے مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے-
عصرِ حاضر میں اقبال کی فکر ہم سے کچھ تقاضے بھی کرتی ہے- پہلا تقاضا خود شناسی ہے- نہ صرف بحیثیت مسلمان بلکہ بحیثیت انسان ہمارے لئے لازم ہے کہ اس کائنات میں اپنے مقام کی پہچان کریں- خود شناسی انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرتی ہے اور بالخصوص اے آئی سے ممتاز کرتی ہے- شعوری سطح پہ ایک جانور کے کوئی خاص زمانی و مکانی مقاصد نہیں ہوتے جبکہ مشین مقاصد کیلئے انسان کی محتاج ہے، لیکن ایک انسان کے زمانی و مکانی دونوں قسم کے مقاصد ہیں جنہیں نہ سمجھ کر وہ ’’بَلْ ہُمْ اَضَلّ‘‘ کا مصداق بن سکتا ہے- خود شناس انسان اپنی فکری و روحانی صلاحیتوں کو برؤے کار لاتا ہے جبکہ خود شناسی سے محروم شخص یا انسانیت سے محروم ہو کر مادیت پرستانہ زندگی گزارتا ہے یا خشک ملائیت کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے-
دوسرا تقاضا فطرت شناسی ہے- ایک انسان پر یہ بھی جاننا لازم ہے کہ کائنات کیا ہے- جو انسان کائنات پر غور و فکر کرتا ہے وہ یہ جان لیتا ہے کہ کائنات میں کوئی ایسا موجود نہیں ہے جو اپنی وجودی تشکیل میں انسان کی مانند ہو- یہ شعور ہی اسے اپنی ذات کا ایسا شعور دیتا ہے جس سے وہ جان لیتا ہے کہ زندگی تخلیق سے تعبیر ہے- جبکہ تیسرا تقاضا تاریخ شناسی ہے- تاریخ شناسی سے مراد محض تاریخ کو پڑھ لینا نہیں بلکہ ایک انسان کا انسانی تہذیب سے گہرا رشتہ قائم کرنا تاریخ شناسی ہے- ایسی تاریخ شناسی کیلئے خود شناسی اور فطرت شناسی کا ہونا لازم ہے- پہلے دونوں تقاضوں کے بغیر تصورِ تاریخ انسان کو یا جانور سمجھتا ہے یا مشین بنا دیتا ہے -
جب تک انسان خود شناسی اور فطرت شناسی حاصل نہیں کرتا، تب تک وہ انسانیت کے ماضی، حال اور مستقبل کی درست تفہیم سے بھی قاصر رہتا ہے اور نتیجتاً تشکیک، بدگمانی، الجھن اور ظاہری حدود و قیود (ملائیت)کا شکار ہو جاتا ہے- یہی شعور انسان کو اپنے ذاتی مسائل اور اجتماعی چیلنجز کے اسباب کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے- عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھر میں ایک ارب سے زائد افراد ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہیں، صرف سال 2021ء میں تقریباً 7 لاکھ 27 ہزار افراد نے خودکشی کی، جبکہ ذہنی بیماریوں کے باعث عالمی معیشت کو سالانہ ایک کھرب ڈالر کا نقصان ہوتا ہے- دنیا کے صحت کے بجٹ کا صرف 2 فیصد ذہنی صحت پر خرچ کیا جاتا ہے- یہ صورت حال اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ ایک طرف ذہنی صحت کے طبعی اصول اہمیت کے حامل ہیں تو ساتھ ہی ساتھ انسان ذاتی اور اجتماعی زندگی کے مسائل سے نمٹنے میں مشکلات کا سامنا کر رہا ہے- اقبال کی فکر اس تناظر میں انسان کو خود شناسی، فطرت شناسی اور تاریخی شعور کے ذریعے اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھنے، موجودہ مسائل کا ادراک کر کے پُریقین ہو کر مستقبل کی تعمیر کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کی دعوت دیتی ہے-
فکرِ اقبال کے مطابق ہمیں جدید علوم کے ساتھ ساتھ مسلم روایت کے ساتھ اپنا تعلق قائم رکھتے ہوئے خود شناسی، فطرت شناسی اور تاریخ شناسی کے مراحل سے گزر نا ہے- اقبال ایک ایسے مسلمان کی تشکیل کرنا چاہتے ہیں جس کے مضبوط کاندھوں پر مسلم تہذیب کی تعمیرِ نو کا بوجھ ڈالا جا سکے- جیسا کہ اقبال فرماتے ہیں:
|
ہو صداقت کیلئے جس دِل میں مرنے کی تڑپ |
|
پہلے اپنے پیکرِ خاکی میں جاں پیدا کرے |
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود شناسی اور فطرت شناسی اختیار کریں، اپنی صلاحتیوں کو پروان چڑھائیں اور ساتھ ساتھ اپنی تاریخ کا مطالعہ کریں تاکہ اپنی اصل شناخت کی تفہیمِ نو کر سکیں- اقبال کا عصرِ حاضر کیلئے یہ پیغام، بحیثیتِ فرد اور بحیثیتِ معاشرہ، ہمارے روشن مستقبل کی ضمانت ہے-