سیرت النبیﷺ کانفرنس

سیرت النبیﷺ کانفرنس

سیرت النبیﷺ کانفرنس

مصنف: ادارہ اکتوبر 2026

مسلم انسٹی ٹیوٹ کے زیرِ اہتمام’’ سیرت النبی (ﷺ) کانفرنس‘‘ 25 اگست 2026ء بروز منگل،شاہ عبداللطیف بھٹائی آڈیٹوریم، اسلام آباد میں منعقد ہوئی- کانفرنس کا آغاز جناب سعید احمد تاج کے استقبالیہ کلمات سے ہوا- مہمان مقررین نے حضور نبی اکرم (ﷺ) کی حیاتِ طیبہ، تعلیمات ِ کاملہ اور اسوۂ حسنہ کے متنوع پہلوؤں پر علمی و فکری مقالے پیش کیے- ڈاکٹر قیصرہ علوی کے کلماتِ تشکر سے کانفرنس کا اختتام ہوا-کانفرنس میں مختلف ممالک کےسفیروں، سفارتی نمائندؤں، علمائے کرام، پالیسی سازوں، تعلیمی ماہرین اور قانونی ماہرین سمیت ملک عزیزکی ممتاز شخصیات نے شرکت کو یقینی بنایا- کانفرنس کی نظامت کے فرائض جناب زالند خان ایڈووکیٹ کے سپرد رہے- کانفرنس کا اجمالی احوال پیش خدمت ہے:

استقبالیہ :

سعید احمد تاج

چیئرمین بورڈ آف مینجمنٹ، میڈیکل کالج

 اینڈ الائیڈ ٹیچنگ ہاسپیٹل، گوجرانوالہ

میں صاحبزادہ سلطان احمد علی صاحب اور مسلم انسٹیٹیوٹ کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے مجھے اس کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی-سیرت طیبہ (ﷺ) سے جہاں ہمیں مثالی زندگی کے قرینے ملتے ہیں وہیں آج سیرتِ النبی (ﷺ) سے ہمیں ہجرت کی مثال بھی ملتی ہے-اس مثال سے جومعاشرہ اور نظام آپ (ﷺ) نے قائم کیا، جو معاشیات اورنظام وہ لائے، جس کی بدولت اس کے پانچ سے سات سال بعد کوئی بھی شخص ایسا نہیں ملتا جس کو زکوٰۃ کی ضرورت پڑے- یہ انقلاب ہے جو آپ (ﷺ) کی عملی زندگی کا مظہر ہے- اس کی خصوصیات آپ (ﷺ) کی ہستی میں موجودہیں- جس کو آج جامعات میں آقا کریم (ﷺ) کی سیرت طیبہ کو بطور راہنما، ماہرِ سیاست، ماہرِ معاشیات، منصوبہ ساز، نصاب پڑھانے کی ضرورت ہے-آج دنیا گلوبل ویلیج بن چکی ہے، اس میں مسلمان آپ (ﷺ)کی سیرت کی شکل میں ایک نیا متبادل نظام متعارف کرا سکتے ہیں جس کی اس وقت بے حد ضرورت ہے-

مہمان گرامی کے تاثرات:

جناب جلیل عالی:

 ممتاز شاعر اور ادبی نقاد

برصغیر میں مسلمانوں کے عروج کے زمانے میں ادبی روایت کے مطابق مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے شعراءاپنی مثنوی یا دیوان کاآغاز ’’حمد‘‘ اور ’’نعت رسول (ﷺ) سے شروع کیا کرتے تھے- لیکن برطانوی دور کے بعد اردو ادب میں ایک بڑی تحریک نے عدل اور مساوات کے تصورات کو مادیت کی بنیاد پر پیش کیا- اشتراکیت کے زیرِ اثر اس فکر میں مذہب کو افیون قرار دیا گیا اور ادبی رسائل پر ایسے حلقوں کا اثر بڑھ گیا، جس کے باعث نعت رسول (ﷺ)کو ادب سے الگ سمجھا جانے لگا-

اس کے برعکس علامہ محمداقبال کی فکر میں رسول اکرم (ﷺ) کا عشق مرکز ی حیثیت کا حامل ہے- فکر، سیاست، معاشرت اور تہذیب کے ہر پہلو میں اقبال کی نگاہ اسوۂ رسول اکرم (ﷺ) کی تعبیر ہے- ان کی شاعری میں عشقِ رسول (ﷺ) اور اسلامی تہذیب کا گہرا اظہار ملتا ہے- تشکیلِ پاکستان کے بعد یہ روایت مزید مضبوط ہوئی اور نعت دوبارہ ادبی پرچوں اور شعری روایت کا اہم حصہ بن گئی- اقبال کے گہرے اثرات کے سبب اس خصوص کے حامل بیشتر شعراء جن میں ناصر کاظمی، فیض، احمد ندیم قاسمی نمایاں رہے-

منیر نیازی کی شاعری میں بھی عشقِ رسول (ﷺ) کی کیفیت نمایاں نظر آتی ہے-پاکستان کی تہذیبی زندگی میں نعت اور صوفیانہ روایت نے ایک مزاحمتی قلعے کا کردار بھی ادا کیا ہے- گلوبلائزیشن اور مارکیٹ اکانومی کے ذریعے آنے والی بہت سی منفی ثقافتی تبدیلیاں پاکستان میں اس شرح سے نہیں پنپ سکیں جس طرح دیگر معاشروں اور ممالک میں برپا ہوئیں- عارفانہ کلام خصوصاً نصرت فتح علی خان اور کلاسیکل گھرانوں کی روایت نے جدید موسیقی اور عالمی ثقافتی مضمرات کو پاکستانی تہذیبی و ثقافتی رچاؤکے ذریعے زائل کرنے کی سعی کی-یہی تہذیبی و ثقافتی سرمایہ ایک مخصوص انداز میں رسول اکرم (ﷺ)سے وفاداری، محبت اور عشق کا طور بھی ہے- اسی لیے نعت صرف ایک شعری صنف نہیں بلکہ پاکستان کی تہذیبی شناخت، فکری روایت اور اجتماعی شعور کا ایک اہم حصہ ہے-

’’عصری تہذیبی کشمکش اور مغربی فکر و فلسفہ:

سیرتِ طیبہ کی روشنی میں‘‘ تحقیقی و تنقیدی مطالعہ

پروفیسر ڈاکٹر محمد اکرم ورک

پرنسپل گورنمنٹ گریجویٹ اسلامیہ کالج،گوجرانوالہ

 انقلابِ فرانس سے قبل دور کو عہد ظلمت کہا جاتا ہے- مغربی تہذیب کے آنے سے پہلے کا دور جہالت ، قرون مظلمہ اور عہد ظلمت کا دور تھا- اس دور کے بعدمغرب نے جو تہذیبی تجربات کیے، ان کا شعوری مطالعہ نہ صرف اہمیت کا حامل ہے بلکہ اسی کے سبب سے ہم حقیقت حال کو جان سکتے ہیں-دوسری طرف روشنی کا دور! حضرت محمد رسول اللہ (ﷺ) نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرما یا کہ اے لوگو! جاہلیت کی ہر قدر آج میں اپنے پاؤں کے نیچےروند کر جا رہا ہوں- تو گویا کہ عرب کا جو عہد جاہلیت ہے وہ ولادت باسعادت اور خطبہ حجۃ الوداع سے پہلے کا دور ہے اور اس کے بعد روشنی کا دور ہے-سیرتِ طیبہ (ﷺ) اور دین رسول (ﷺ) صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ انسانیت کیلئے اور عالمی دین ہے- قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر (ﷺ) کو رحمۃ للعالمین، نازل کردہ کتاب کو ذکر للعالمین اور اپنے آپ کو رب العالمین کے طور پر متعارف کرایا ہے- اسلام کا یہ عالمی پہلو اور عالمی وژن آج کے دور میں خصوصی توجہ کا متقاضی ہے جو حدود سے ماورا ہے-جسے جغرافیائی حد بندیوں، مسلکی تقسیم اور مختلف فقہی حدود تک محدود نہیں کیا جا سکتا-

جہاں مغربی فکر و فلسفہ اپنے تہذیبی تجربات کو بنیادی طورپر جمہوریت، حقوقِ نسواں، مذہبی رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی، بنیادی انسانی حقوق اور آزادیِ اظہارِ رائے کو انسانیت کی تہذیبی ترقی کی ارفع منزل کے طور پر پیش کرتا ہے،وہاں ہی انسانیت کے فقدان کا رونا بھی روتا ہے:

’’The End of History and the Last Man‘‘کے تصور کے مطابق مغرب کا دعویٰ ہے کہ انسانیت ایک ایسے مقام پر ساکن ہو گئی ہے جس سے آگے کسی بہتر فلسفۂ حیات کا تصور ممکن نہیں-

اس کے برعکس اسلام قیامت تک کے انسانوں کے لیے ایک عالمی پیغام اور مکمل نظامِ حیات پیش کرتا ہے- امتِ مسلمہ کا موجودہ زوال اسلام کا زوال نہیں بلکہ مسلمانوں کے عمل کی کمزوری ہے- اسلام کی طرف واپسی اور اس کی عملی شکل کو سمجھنے کی سب سے بڑی بنیاد سیرتِ طیبہ (ﷺ)ہے، کیونکہ اسلام وہ ہے جسے اللہ کے پیغمبر (ﷺ) نے عملاً کر کے دکھایا-

اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست کے استحکام کیلئے صرف مذہبی شناخت کافی نہیں بلکہ جہاں تک مذہب کا سوال ہے؟ مذہب روحانی وحدت پیدا کرتا ہے-جب کہ باشعور باکردار قیادت (leadership) اس روحانی وحدت کو سیاسی وحدت میں تبدیل کرتی ہے- پاکستان کے بانیان نے اسی روحانی وحدت کو سیاسی وحدت میں تبدیل کر کے پاکستان حاصل کیا تھا- ریاست کے استحکام کیلئے مضبوط فوج ضروری ہے، لیکن مضبوط اور مستحکم ریاست کایہ واحد عنصر نہیں- عوام بھی اصل فریق ہیں اور ریاست کی مضبوطی کیلئے انہیں بنیادی انسانی حقوق فراہم کرنا ضروری ہیں-آج کی نازک صورتحال میں ریاستِ مدینہ کو رواداری، ہم آہنگی اور مختلف مذہبی گروہوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی سمجھنے کی ضرورت ہے-اس مثال سے سبق لینے کی ضرورت ہے کہ میثاقِ مدینہ کے ذریعے یہود اور مسلمانوں کو مذہبی طور پر نہیں بلکہ ریاست کے شہری ہونے کے ناطے ایک کمیونٹی کے طور پر تسلیم کیا گیا، جبکہ عیسائیوں کے ساتھ’’ معاہدۂ نجران‘‘ بھی مذہبی رواداری کی ایک اہم اور انوکھی مثال ہے-

آج خواتین کے حوالے سے بھی اسلام اور مسلمانوں کے عمل میں تضاد کو سمجھنا ضروری ہے- اسلام نے آزادیِ نسواں کے بجائے حقوقِ نسواں کی بات کی اور عورت کو وراثت، مہر، نان و نفقہ اور دیگر حقوق فراہم کیے، لیکن ان حقوق پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے دنیا مسلمانوں کے عمل کو ہی اسلام سمجھتی ہے-یاد رکھا جائے کہ اسلامی قانون میں خواتین کے مالی اور قانونی حقوق کے تحفظ کو بھی اہمیت حاصل ہے- فقہائے اسلام نے ’’لا رضا مع الاضرار‘‘ کے اصول کے تحت یہ تصور پیش کیا کہ اگر کسی شخص کو نقصان پہنچ رہا ہو تو محض رضامندی کو بنیاد نہیں بنایا جا سکتا- حقِ مہر اور وراثت کے معاملات میں بھی عورت کے حقوق کو قانونی تحفظ دیا گیاہے-

سیرت رسول (ﷺ) کا مطالعہ اکیسویں صدی کے تناظر میں:

سفیر (ر) افرسیاب مہدی ہاشمی قریشی:

مصنف /سیرت نگار

حضرت محمد (ﷺ) کا نام مکہ کے قبائل کے لیے نسبتاً نیا تھا اور اس کے معنی ہیں: وہ شخصیت جس کی تعریف کی جائے-آج دنیا بھر میں 150 ملین سے زائد افراد کا نام محمد ہے، جو انسانی تاریخ میں اپنی نوعیت کی ایک بے مثال سچائی ہے-1500 برس گزرنے کے باوجود آج بھی ہر مسجد میں دن میں پانچ مرتبہ اذان کے ذریعے محمد (ﷺ) کی رسالت کا اعلان کیا جاتا ہے- ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے علمی و قومی فرض اور قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں پاکستان کے قیام کے پس منظر میں بھی آقا کریم (ﷺ) کا پیغام ایک بنیادی محرک کے طور پر موجود تھا-مسلمانوں اور اسلام میں فرق موجود ہے- اسلام کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ قرآن کریم کو خود پڑھا جائے- اسلام اور مسلمانوں کی تاریخ کو سمجھنے کیلئے اصل ذریعہ کا مطالعہ بھی ضروری ہے- اگر ہم مجاہدینِ اسلام کا مطالعہ کریں تو اس کی مثال ابنِ ہشام اور ابنِ اسحاق کی شخصیات سے دے سکتے ہیں جنہوں نے اپنے مطالعات کی ابتداء  پیغمبر (ﷺ) کی سوانح عمری سے کی-جس کے سبب اسلامی تاریخ اور اسلام کو سمجھنے کے بعد وہ اعلیٰ مقام کے حامل ہوئے- اس حوالے سے علماء اور تعلیم کے ماہرین کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اس تناظر میں مطالعہ کو وسعت سے ہمکنار کریں-

محمد علی جناح کہا کرتے تھے کہ اگر مسلمان اسلام کے لیے مرنا جانتے ہیں تو انہیں اسلام کیلئے جینا بھی سیکھنا چاہیے- اسلام مختلف فرقوں (sects) میں تقسیم ہے، لیکن کسی بھی فرقے سے تعلق رکھنے والا شخص پیغمبرِ اسلام (ﷺ) کے احترام اور محبت سے اِنکار نہیں کر سکتا-لہٰذاحضور نبی کریم (ﷺ) کی سیرت کو عملی طور اپنا کر تمام مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے-پاکستان کے حوالے سے مایوسی اور بدعنوانی جیسے مسائل کو اکثر اس انداز میں پیش کیا جاتا ہے کہ پاکستان ہر حوالے سے ناکام ہے-اس تناظر میں دیگر ممالک کے حالات کا تقابلی جائزہ بھی ضروری ہےکیونکہ بدعنوانی اور دیگر مسائل صرف پاکستان تک محدود نہیں ہیں-

آقا کریم (ﷺ) صرف ایک مبلغ ہی نہیں تھے بلکہ ایک سفارت کار، جنرل، استاد، منتظم اور مذاکرات کار بھی تھے- وہ خالد بن ولید جیسے جرنیلوں کے استاد تھے اور بین المذاہب ہم آہنگی کے مباحثے میں بھی شامل صورتِ قرآن اور ہدایت کا سرچشمہ تھے- رسول اللہ (ﷺ) کی شخصیت کا یہی وہ جامع پہلو ہے جسے سیرتِ طیبہ (ﷺ) کے مطالعہ میں سمجھنے کی ضرورت ہے-

سوال و جواب کا سیشن: 

قرآنِ مجید ایک جامع کتاب ہے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کے بعض احکام (احکامِ شرعیہ) تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں، بعض اجمالی صورت میں بیان ہوئے ہیں، جبکہ بعض دیگر امور کو عمومی اصولوں کی صورت میں پیش کیا گیا ہے- جن معاملات کو عمومی اصولوں کی صورت میں بیان کیا گیا، رسول اللہ (ﷺ) نے ان کی تفصیل اور توضیح فرمائی- مثلاً جب مسیلمہ کذّاب کے سفیر حضور نبی اکرم (ﷺ) کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس وقت مسیلمہ پہلے ہی نبوت کا دعویٰ کر چکا تھا- تاہم مسند احمد میں منقول روایت کے مطابق، حضور نبی اکرم (ﷺ) نے فرمایا کہ اگر سفیروں کو قتل نہ کرنے سے متعلق بین الاقوامی قانون موجود نہ ہوتا تو آپ (ﷺ)، ان دونوں کو قتل کروا دیتے- اس سے یہ مفہوم اخذ ہوتا ہے کہ اگرچہ رسول اللہ (ﷺ) کو اسلامی نظام کے تحت اس سزا کے نفاذ کا مکمل اختیار حاصل تھا، تاہم اس وقت رائج بین الاقوامی معاہدے اور سفارتی روایات کو ملحوظ رکھتے ہوئے آپ (ﷺ) نے اس سزا کے نفاذ کو روک دیا-

جب ہم کسی کے ساتھ مکالمہ کریں تو ہمیں اسی اسلوب اور طرزِ بیان کو اختیار کرنا چاہیے جسے ہمارا مخاطب سمجھتا ہو- مغرب معاملات کو عقل، انسانی فطرت اور انسانی نفسیات کے دائرۂ کار کی بنیاد پر سمجھنے کی کوشش کرتا ہے- اس کی ایک مثال امام غزالیؒ کا عہد ہے، جب یونانی فلسفہ مسلم معاشروں میں تیزی سے سرایت کر رہا تھا-تو! امام غزالیؒ نے اس کے ردِّعمل میں فلسفے ہی کی اصطلاحات اور اسلوب کو اختیار کرتے ہوئے جواب دیا- مسلم علماء نے اسلامی احکام و تعلیمات کی حکمت اور ان کے پسِ پشت کارفرما علت و منطق کو محض عقل اور انسانی فطرت کی بنیاد پر واضح کیا-جب صحابۂ کرام (﷢) کو رسول اللہ (ﷺ) کے حکم پر دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے روانہ کیا جاتا تھا تو انہیں ہدایت کی جاتی تھی کہ اسلام کو کسی سخت گیر یا دشوار مذہب کے طور پر پیش نہ کریں، کیونکہ اسلام سختی اور شدت کا مذہب نہیں بلکہ آسانی اور سہولت کا دین ہے- انہیں مزید ہدایت دی جاتی تھی کہ وہ کسی دوسرے مذہب کی عبادت گاہوں میں مداخلت نہ کریں اور نہ ہی ان کی بے حرمتی یا نقصان کے مرتکب ہوں- اسی طرح انہیں یہ بھی تاکید کی جاتی تھی کہ ان عبادت گاہوں میں عبادت میں مشغول کسی راہب، پادری یا سادھو کو نہ نقصان پہنچایا جائے اور نہ ہی اس کی تضحیک یا تحقیر کی جائے-

اختتام:

موضوع کی رفعت کے حوالے سے اس عظیم علمی نشست کے اختتام پر’’ نعتیہ مشاعرہ ‘‘کا انعقاد بھی ہوا-جس میں ممتاز شعراء و شاعرات، جن میں جناب جلیل عالی، جناب ادریس آزاد، محترمہ فرح رضوی، جناب سعید شارق، محترمہ تبسم رباب، جناب گوہر اعوان اور محترمہ یاسمین کنول نے اپنا نعتیہ کلام پیش کیا- اس نشست کی نظامت جناب مستحسن جامی نے انجام دی-

 

اظہارِ تشکر:

ڈاکٹر قیصرہ علوی

صدر،پاکستان فیڈریشن آف یونیورسٹی ویمن اسلام آباد

سیرتِ طیبہ کو محض عقیدت و احترام کے موضوع کے طور پر نہیں، بلکہ مسلسل تحقیق، غوروفکر اور عملی تطبیق کے ایک ایسے میدان کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جو انسانی کردار، فکری و علمی بیانیے اور اجتماعی زندگی کی تشکیل میں مؤثر کردار کے طور پرکارگر ہو- اسی طرح نعت محض شاعری نہیں بلکہ رسولِ اکرم (ﷺ) سے محبت کا ایک دیرپا تہذیبی و تمدنی اظہار ہے، جس کی موجودہ دور میں بڑھتے ہوئے فکری اور ثقافتی چیلنجز کے تناظر میں پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے- ایسی علمی و ادبی تقریبات باطن کیلئے باعثِ اطمینان اور قلبی تسکین کا ذریعہ ہوتی ہیں- میں ان ابھرتے ہوئے رجحانات کے موضوع پر اس اہم کانفرنس کے انعقاد پر صاحبزادہ صاحب کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتی ہوں - میں مسلم انسٹی ٹیوٹ، تمام معزز مقررین، شعراء و شاعرات اور کانفرنس میں شریک تمام شرکاء کی بھی دلی طور پر شکر گزار ہوں-

٭٭٭

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر