حضور نبی کریم (ﷺ) کو اللہ تعالیٰ نے رحمت اللعالمین بنا کر اس دنیا میں مبعوث فرمایا- آپ (ﷺ) کی ذاتِ اقدس انسانیت کے لیے صرف ہدایت کا سرچشمہ ہی نہیں بلکہ انسان کی ظاہری و باطنی اصلاح اور اس کی فکری، اخلاقی اور روحانی تربیت کا کامل نمونہ بھی ہے- قرآنِ مجید میں مختلف مقامات پر رسول اکرم (ﷺ) کی متعدد صفات بیان ہوئی ہیں، تاہم ایک نہایت جامع مقام وہ ہے جہاں آپ (ﷺ) کے منصبِ رسالت کی یہ بنیادی خصوصیات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کے طور پر بیان کی گئی ہیں-جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُوْلًا مِّنْہُمْ یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ ط اِنَّکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ‘‘[1]
’’ اے رب ہمارے اور بھیج ان میں ایک رسول انہیں میں سے کہ ان پر تیری آیات تلاوت فرمائے اور انہیں تیری کتاب اور پختہ علم سکھائے اور انہیں خوب ستھرا فرمادے ، بیشک تو ہی ہے غالب حکمت والا ‘‘-
ان میں چار بنیادی امور نمایاں ہیں:
- قرآن مجید کی آیات کی تلاوت
- قرآن مجید کی تعلیم
- حکمت کی تعلیم
- تزکیۂ نفس
ان میں سب سے پہلے ’’یَتْلُوْا عَلَیْہِمْ اٰیٰتِکَ‘‘ کا ذکر ہے کہ آپ (ﷺ) لوگوں کے سامنے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تلاوت فرماتے ہیں، انہیں آیاتِ الٰہی سے جوڑتے ہیں اور ان کے دلوں میں کلامِ خداوندی کی تاثیر پیدا فرماتے ہیں-
اس کے بعد ’’ یُعَلِّمُہُمُ الْکِتٰبَ‘‘ یعنی کتاب کی تعلیم کا ذکر آتا ہے- اس سے مراد قرآنِ مجید کی تعلیم ہے؛ یعنی رسول اللہ (ﷺ) انسان کو اللہ تعالیٰ کے کلام سے آشنا فرماتے ہیں، اسے اس کے معانی و مطالب سمجھاتے ہیں اور اس کی زندگی کو کتابِ الٰہی کی روشنی میں ڈھالنے کی تربیت عطا فرماتے ہیں-
اس کے بعد رسول اللہ (ﷺ) انہیں حکمت کی تعلیم عطا فرماتے تھے-حکمت محض علم کا نام نہیں بلکہ علم کو صحیح وقت، صحیح موقع اور صحیح طریقے سے زندگی میں برتنے کا اندازہے- رسول اللہ (ﷺ)نے اپنے قول و عمل کے ذریعے انسان کو سکھایا کہ حق کو کیسے پہچاننا، حالات کو کیسے سمجھنا اور علم کو عمل میں کیسے ڈھالنا ہے- آپ (ﷺ) نے عبادت میں اعتدال، معاملات میں عدل، معاشرت میں حسنِ سلوک اور اختلاف میں صبر و تحمل کی تعلیم دی-
اس کے بعد قرآن مجید نے ’’تزکیہ‘‘ کو بیان کیا- تزکیہ کا مفہوم محض ظاہری پاکیزگی نہیں بلکہ انسان کے ظاہری وجود کی تطہیر، اس کے باطن کی اصلاح اور اس کی زندگی سے ان تمام آلودگیوں کا خاتمہ ہے جو اسے حق، خیر اور حقیقت سے دور کر دیتی ہیں- رسول اللہ (ﷺ) نے جہاں جہاں تزکیے کی ضرورت تھی، وہاں انسان کی رہنمائی فرمائی اور اس کی زندگی کے مختلف دائروں کو پاکیزگی عطا کی-
انسان کی زندگی کا ایک بنیادی تقاضا خوراک ہے- زندہ رہنے کیلئے انسان کو غذا درکار ہے، لیکن رسول اللہ (ﷺ) نے صرف خوراک کی ضرورت پوری کرنے کا طریقہ نہیں بتایا بلکہ اس کے لیے حلال و حرام اور پاک و ناپاک کا ایک واضح میزان بھی عطا فرمایا- کون سی چیز حلال ہے، کون سی حرام، کون سی پاکیزہ اور طیب ہے اور کون سی ناپاک اور غیر طیب-رسول اللہ (ﷺ) نے ان تمام امور کے اصول واضح فرمائے- آپ (ﷺ)نے انسان کے لیے طیب چیزوں کو پسند فرمایا اور غیر طیب چیزوں سے اجتناب کی تعلیم دی-
یوں انسان کے دہن سے لے کر اس کے شکم تک جانے والی غذا کو بھی تزکیے اور پاکیزگی کے دائرے میں لایا گیا-
اس کے بعد انسانی معاشرت کا مرحلہ آتا ہے- انسان جب دوسرے انسانوں کے ساتھ زندگی گزارتا ہے تو اس کے باہمی تعلقات ہی معاشرے کی بنیاد بنتے ہیں- چنانچہ رسول اللہ (ﷺ) نے معاشرتی زندگی میں موجود ان تمام ناپاک رویوں اور برائیوں کے خاتمے کی تعلیم دی جو انسانی معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں- ظلم، ناانصافی، جھوٹ، غیبت ، بہتان، چوری اور اس نوع کی دوسری اخلاقی برائیاں نہ صرف فرد کے کردار کو مجروح کرتی ہیں بلکہ معاشرے میں فساد، بداعتمادی اور انتشار پیدا کرتی ہیں- رسول اللہ (ﷺ) نے اپنی تعلیم، تربیت اور عملی قیادت کے ذریعے ان خرابیوں کو دور فرمایا اور انسانی معاشرے کو عدل، صداقت، امانت، اخوت اور حسنِ معاشرت کی بنیادوں پر استوار کیا-
اس کے بعد اگر ہم انسان کے وجود کی ایک اور گہری سطح کی طرف جائیں تو وہاں عقل، فکر اور خیال کی دنیا آتی ہے- رسول اللہ (ﷺ) نے صرف انسان کے ظاہر اور معاشرتی رویوں کی اصلاح نہیں فرمائی بلکہ اس کے افکار و خیالات کا بھی تزکیہ کیا- انسان کے اعمال اکثر اس کے خیالات سے جنم لیتے ہیں، اس لیے جب تک فکر پاکیزہ نہ ہو، عمل کی پاکیزگی بھی مکمل نہیں ہو سکتی- اسی لیے قرآن مجید نے انسانی ذہن و فکر کی تربیت کے لیے نہایت جامع اصول عطا فرمائے-قرآنِ مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اجْتَنِبُوْا کَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ ز اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ‘‘[2]
’’ اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو، بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے ‘‘-
یہ آیت اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ انسان کی اصلاح صرف اس کے ظاہر سے نہیں بلکہ اس کے باطن، اس کی سوچ اور اس کے خیالات سے بھی شروع ہوتی ہے- ہر خیال بے ضرر نہیں ہوتا، بعض گمان انسان کے رویے کو متاثر کرتے ہیں، پھر رویہ عمل میں تبدیل ہوتا ہے اور عمل معاشرے پر اثرانداز ہوتا ہے- اس لیے رسول اللہ (ﷺ) کی تعلیمات میں انسان کے فکر و شعور کی پاکیزگی بھی بنیادی اہمیت رکھتی ہے- یہی وہ جامع تزکیہ ہے جو انسان کو جسم کی سطح سے اٹھا کر اخلاق، عقل اور روح کی سطح تک لے جاتا ہے-
حضور نبی کریم (ﷺ) نے جس مبارک جماعت کی تربیت فرمائی، اس کی تربیت کا ایک بنیادی پہلو خیال کی پاکیزگی اور تزکیۂ قلب تھا- آپ (ﷺ) نے اپنے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) کو صرف ظاہری اعمال کی اصلاح نہیں سکھائی بلکہ ان کے باطن، ان کے خیالات اور ان کے دلوں کی بھی تطہیر فرمائی- قرآنِ مجید میں حضور (ﷺ) کے اپنے افکار اور دعاؤں کے حوالے سے بھی ایسے واقعات ملتے ہیں جہاں اللہ تعالیٰ آپ (ﷺ) کے قلبی احوال اور آپ کے خیالات کی طرف توجہ فرماتا ہے-حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
’’اَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِیْ بِیْ فَلْیَظُنُّ بِیْ مَا یَشَآئُ ‘‘[3]
’’مَیں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں پس جس طرح چاہے وہ میرے ساتھ گمان رکھے ‘‘-
اگر انسان اللہ تعالیٰ سے رحمت، کرم، مغفرت اور بھلائی کی امید رکھے تو وہ اپنے رب کی رحمت اور مغفرت کا امیدوار رہتا ہے- اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا خیال اور اس کا گمان اس کے روحانی سفر میں غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں-
حضور نبی کریم (ﷺ) نے اپنی مبارک جماعت کو منفی، فاسد، بدگمانی اور نزاع پیدا کرنے والے خیالات سے پاک کیا اور یہ تربیت دی کہ انسان سب سے پہلے اپنے خیال کو پاکیزہ کرے، کیونکہ انسان کا عمل اس کے خیال ہی سے جنم لیتا ہے- جب خیال میں نیکی پیدا ہوتی ہے تو انسان کے اعضا و جوارح بھی نیکی کی طرف مائل ہوتے ہیں اور جب فکر میں فساد پیدا ہو جائے تو اس کے اثرات رفتہ رفتہ انسان کے کردار اور اعمال میں ظاہر ہونے لگتے ہیں-
یہاں جدید نفسیات اور روحانی تصورِ انسان کے درمیان ایک اہم فرق بھی سامنے آتا ہے- جدید نفسیات عموماً خیال کے مرکز کو دماغ قرار دیتی ہے، جبکہ دینی اور روحانی تصور میں خیال کی ایک گہری نسبت قلب اور فؤادسے بیان کی گئی ہے- اس تصور کے مطابق اگر قلب کا تزکیہ ہو جائے، دل پاکیزہ ہو جائے، تو انسان کے خیالات بھی پاکیزہ ہونے لگتے ہیں- اسی حقیقت کو رسول اللہ (ﷺ) نے ایک نہایت جامع حدیث میں بیان فرمایا ہے کہ :
’’أَلَا وَ إِنَّ فِي الْجَسَدِ مُضْغَةً إِذَا صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ كُلُّهٗ وَإِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ كُلُّهٗ، أَلَا وَهِيَ الْقَلْبُ‘‘[4]
’’خبردار! بدن میں ایک گوشت کا ٹکڑا ہے جب وہ درست ہو گا تو سارا بدن درست ہو گا اور جہاں وہ خراب ہوگا تو سارا بدن خراب ہو جائے گا-خبردار! وہ ٹکڑا آدمی کا دل ہے‘‘-
گویا انسان کے ظاہری اعمال کی اصلاح کا سرچشمہ اس کا باطن اور اس کا قلب ہے-
اسی لیے انسان کی شخصیت، کردار اور اخلاق کی تعمیر میں تزکیۂ قلب اور تزکیۂ خیال بنیادی حیثیت رکھتے ہیں- تزکیہ کسی ایک پہلو تک محدود نہیں بلکہ انسان کی پوری زندگی کو محیط ہے-اس کی خوراک سے لے کر اس کے معاشرتی تعلقات تک، اس کے ظاہری اعمال سے لے کر اس کے باطن اور خیالات تک- رسول اللہ (ﷺ) نے انسان کے وجود کے ہر اس گوشے کی اصلاح فرمائی جہاں پاکیزگی کی ضرورت تھی-
اسی جامع عملِ تزکیہ کا ایک عظیم ثمر ’’تألیفِ قلب‘‘ تھا- حضور نبی کریم (ﷺ) نے مختلف قبائل، نسلوں، علاقوں اور مزاجوں سے تعلق رکھنے والے انسانوں کے دلوں کو ایک دوسرے سے جوڑ دیا- کلمۂ طیبہ ’’لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللّٰهِ‘‘نے ان قلوب کو ایک مرکز عطا کیا اور یوں ایک ایسی امت وجود میں آئی جس کی وحدت محض جغرافیے، نسل یا زبان پر قائم نہیں بلکہ ایمان اور قلبی وابستگی پر قائم ہے-
اسی لیے امتِ مسلمہ میں اصولی طور پر یگانگت اور یکجہتی موجود ہے- ہمارے رنگ مختلف ہو سکتے ہیں، نسلیں مختلف ہو سکتی ہیں، زبانیں مختلف ہو سکتی ہیں اور ہمارے جغرافیے اور علاقے ایک دوسرے سے دور ہو سکتے ہیں، لیکن ایمان، آخرت اور اعتقاد کے اعتبار سے ہم ایک ہی تسبیح کے دانوں کی مانند ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں- ہماری وحدت کا اصل سرچشمہ ظاہری یکسانیت نہیں بلکہ دلوں کی وہ وحدت ہے جسے رسول اللہ (ﷺ) نے تزکیہ، تعلیم اور تألیفِ قلوب کے ذریعے قائم فرمایا-
اس وحدت کی ایک زندہ اور نمایاں مثال اسلامی ثقافت و تمدن ہے- ثقافت کو محض کسی مخصوص لباس، عمارت یا ظاہری طرزِ زندگی تک محدود نہیں کیا جا سکتا- ثقافت کے عناصر اس سے کہیں زیادہ وسیع ہوتے ہیں، اس میں انسان کے اقدار، اخلاق، معاشرت، فکر، علم، فن، زبان، روایات اور اجتماعی زندگی کے وہ تمام مظاہر شامل ہوتے ہیں جو کسی تہذیب کی شناخت تشکیل دیتے ہیں- اسلامی تمدن کی یہی وسعت ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ امت کا تعلق صرف ایک عقیدے کی نظریاتی وابستگی نہیں بلکہ ایک ایسے جامع روحانی اور تہذیبی شعور سے ہے جس نے مختلف علاقوں اور نسلوں کے انسانوں کو ایک مشترک حقیقت سے وابستہ کر دیا ہے-
اسلامی تمدن کی خوب صورتی یہ ہے کہ اس میں ثقافتی تنوع کے باوجود بنیادی وحدت موجود ہے- مثال کے طور پر چین کی مساجد کے طرزِ تعمیر، ان کے ستونوں، رنگوں کے انتخاب اور چھتوں کی ساخت میں مقامی اور چینی تہذیب کا اثر نمایاں ہے، جس طرح وہاں کے مکانات، محلات اور بعض عبادت گاہیں بھی اپنے مخصوص مقامی طرزِ تعمیر کی نمائندگی کرتے ہیں- ترکیہ کی مساجد میں بازنطینی فنِ تعمیر اور شاہی محلات کے اسلوب کے اثرات دکھائی دیتے ہیں، انڈونیشیا میں مساجد کے مختلف مقامی طرزِ تعمیر نظر آتے ہیں، افریقہ میں مٹی سے تعمیر ہونے والی عمارتیں اپنے مقامی ماحول کی نمائندہ ہیں، جبکہ یورپ میں جدید یورپی طرزِ تعمیر کے مطابق مساجد تعمیر کی جا رہی ہیں ، مثلاً جرمنی کے شہر کلون کی جامع مسجد اور برطانیہ کے شہر کیمبرج کی سنٹرل مسجد- لیکن سوال یہ ہے کہ پاک و ہند، افریقہ، چین، انڈونیشیا، المغرب، عرب دنیا اور یورپ کی ان تمام مختلف طرزِ تعمیر والی مساجد کو آخر کون سی چیز ایک دوسرے سے جوڑتی ہے؟
انہیں بروقت اذان، بروقت جماعت، تکبیر، امام و مقتدیوں کی صف بندی ، جمعہ و عیدین کے اجتماعات، منبر، محراب اور قبلہ کی طرف رخ جوڑتا ہے- اس سے واضح ہوتا ہے کہ طرزِ تعمیر مختلف ہو سکتا ہے، لیکن یہی طرزِ تعمیر اسلامی ثقافت کی اصل تعریف نہیں کرتا- اسلامی ثقافت کو اس کے عقائد، عبادات، بنیادی اقدار اور اخلاقی اصول متعین کرتے ہیں-
یہی صورت لباس کی بھی ہے- ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں مسلمان شلوار قمیص پہنتے ہیں، عرب دنیا میں ثوب (لمبا اور ڈھیلا ڈھالا لباس)عام ہے، شام ، مراکو ، گلف، ترکیہ، انڈونیشیا، چین، چیچنیا اور یورپ کے مسلمانوں کے لباس ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن یہ اختلاف اسلامی تہذیب کی وحدت کو متاثر نہیں کرتا کیونکہ لباس کی اصل حیا ، ستر کا ڈھانپنا اور پاکیزگی ہے -
اسلام نے بعض بنیادی اصول ضرور متعین کیے ہیں، مثلاً مسجد قبلہ رُخ ہو، اس میں صفوں کی پاکیزگی اور نظم کا اہتمام ہو، ماحول صاف ستھرا ہو، نمازیوں کو سکون حاصل ہو اور اس میں ایسی علامت یا چیز نہ ہو جو اسلامی عقیدے اور حرمت کے منافی ہو- لیکن مسجد کا گنبد کیسا ہو، چھت کا اسلوب کیا ہو، ستون کس طرز کے ہوں یا خطاطی کا انداز کیا ہو—ان امور میں اسلام نے کوئی ایک مخصوص ثقافتی قالب لازم نہیں کیا-
چنانچہ اسلامی تمدن اپنے وسیع معنوں میں کسی خاص لباس، عمارت یا جغرافیائی طرزِ زندگی کا نام نہیں بلکہ ان مشترک اقدار، عقائد، عبادات اور اخلاق کا نام ہے جو مختلف قوموں اور تہذیبوں کو ایک روحانی وحدت میں پرو دیتے ہیں- یہ بنیادی اقدار اللہ تعالیٰ نے کتاب اللہ میں بیان فرمائیں اور رسول اللہ (ﷺ)نے اپنی سنتِ مبارکہ کے ذریعے ان کی عملی تشکیل فرمائی- یہی وہ مشترک بنیاد ہے جو مختلف رنگوں، نسلوں، زبانوں، علاقوں اور ثقافتی صورتوں کے باوجود امتِ مسلمہ کو ایک اکائی کے اندر مربوط رکھتی ہے-
تزکیے کا ایک بنیادی طریقہ قلبی ذکر ہے، یعنی اپنے دل کو اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رکھنا-حضور نبی کریم (ﷺ) نے انسان کی باطنی تربیت کے لیے صرف ظاہری عبادات اور طہارت ہی نہیں سکھائی بلکہ دل کی اس کیفیت کی بھی تعلیم دی جس میں انسان ہر حال میں اپنے رب سے جڑا رہے- عارفین فرماتے ہیں کہ دنیاوی معاملات میں انسان کتنا ہی مصروف کیوں نہ ہو، اسے اپنے دل کی رغبت اللہ تعالیٰ کی طرف قائم رکھنی چاہیے، کیونکہ دل کی یہی رغبت ایمان کی روح ہے- قرآنِ مجید میں حضور اکرم (ﷺ)کے حوالے سے ارشاد ہے:
’’قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَ مَحْیَایَ وَ مَمَاتِیْ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ‘‘[5]
’’تم فرماؤ بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا، سب اللہ کیلئے ہے جو رب ہے سارے جہان کا‘‘-
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی زندگی کا مقصد صرف مخصوص اوقات کی عبادت نہیں بلکہ اس کی پوری زندگی کا رخ اللہ تعالیٰ کی طرف ہونا ہے-
بظاہر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان ہر لمحہ اللہ کو کیسے یاد رکھ سکتا ہے، جبکہ وہ دنیاوی ذمہ داریوں اور معاملات میں مصروف ہوتا ہے؟
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ () فرماتی ہیں کہ :
’’كَانَ النَّبِيُّ (ﷺ)يَذْكُرُ اللهَ عَلٰى كُلِّ أَحْيَانِهٖ‘‘[6]
’’حضور نبی کریم (ﷺ)اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے ‘‘-
آپ (ﷺ) جو عمل بھی انجام دے رہے ہوں، کہیں تشریف لے جا رہے ہوں یا کسی کام میں مشغول ہوں، آپ کا دل اپنے رب کی یاد سے ہی متصل ہوتا تھا- کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید اپنے ذکر کا طریقہ خود بتاتا ہے کہ:
’’وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَہْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَo‘‘[7]
’’اور اپنے رب کا ذکر اپنے سانسوں کے ساتھ گِڑ گِڑا کر خفیہ طریقے سے بغیر آواز نکالے صبح و شام ذکر کرو اور غافلین میں سے مت بنو ‘‘-
حضور نبی کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:
’’اَلْاَنْفَاسُ مَعْدُوْدَۃٌ وَّ کُلُّ نَفْسٍ یَّخْرُجُ بِغَیْرِ ذِکْرِاللہِ تَعَالٰی فَھُوَ مَیِّتٌ ‘‘[8]
’’سانس گنتی کے ہیں اور جو سانس بغیر ذکراللہ کے نکلا وہ مُردہ ہے ‘‘-
اسی کیفیت کو عارفین نے دل کی بیداری اور ذکرِ دائمی سے تعبیر کیا ہے- جس کو حضرت سلطان باہوؒ اپنے پنجابی ابیات میں فرماتے ہیں:
|
جو دَم غافِل سو دم کافِر‘ اسانوں مُرشد ایہہ پَڑھایا ھو |
اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیا کے کام چھوڑ دے، بلکہ اصل مطلوب یہ ہے کہ زبان اپنے معمول کے کام میں مصروف ہو، ہاتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہوں، قدم اپنی منزل کی طرف بڑھ رہے ہوں، لیکن خیال، نیت، ارادہ اور دل کی کشش اپنے مولا کی طرف قائم رہے-یہی قلبی ذکر انسان کے اندر اخلاص پیدا کرتا اور تزکیۂ قلب کی بنیاد بنتا ہے-
اسی قلبی کیفیت کی اہمیت کو قرآنِ مجید نے بھی نہایت واضح انداز میں بیان فرمایا ہے، جہاں انسان کی ہدایت، گمراہی اور نجات کو اس کے دل کی کیفیت سے جوڑا گیا ہے-منافقین کے بارے میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ‘‘[9]
’’ان کے دلوں میں بیماری ہے‘‘-
اسی طرح قرآن نے ان لوگوں کی ناکامی کا سبب بھی دل کی غفلت کو قرار دیا جن کے پاس آنکھیں، کان اور دل موجود تھے لیکن وہ ان سے حقیقت کو پہچان نہ سکے- قرآنِ مجید فرماتا ہے:
’’وَلَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَالْاِنْسِ ز صلے لَہُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَہُوْنَ بِہَا ز وَلَہُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِہَا ز وَلَہُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِہَا ط اُولٰٓئِکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ہُمْ اَضَلُّ ط اُولٰٓئِکَ ہُمُ الْغٰفِلُوْنَ‘‘[10]
’’کثیر تعداد جنوں اور انسانوں کی ایسی ہے جن کا ٹھکانہ جہنم ہوگا انہیں دِل عطا کیے ہیں وہ دِل کی حقیقت سے بے خبر ہیں اور ان کی آنکھیں ہیں ان سے دیکھتے نہیں ، ان کے کان ہیں ان سے سنتے نہیں وہ جانوروں کی مثل ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں یہی لوگ غافل ہیں‘‘-
ایک اور مقام پہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنْ تَعْمَی الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ‘‘[11]
’’پس یہ ظاہری آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل اندھے ہیں جو سینوں میں ہیں‘‘-
اسی طرح قرآن سے ہدایت حاصل نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ دل کی غفلت اور تدبر سے محرومی ہے-جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُہَا‘‘[12]
’’تو کیا یہ لوگ قرآن میں تدبر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر قفل لگے ہوئے ہیں‘‘-
گویا قرآن کریم سے حقیقی ہدایت حاصل کرنے کیلئے صرف آنکھ سے الفاظ پڑھ لینا کافی نہیں، بلکہ دل کا بیدار، پاکیزہ اور حقیقت کو قبول کرنے کیلیے آمادہ ہونا بھی ضروری ہے-اسی لیے قرآنِ مجید نے قیامت کی کامیابی کا معیار بھی دل کو قرار دیا-جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’یَوْمَ لَا یَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَ اِلَّا مَنْ اَتَی اللہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ‘‘[13]
’’جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد- مگر وہ شخص کامیاب ہوگا جو اللہ کے حضور قلبِ سلیم لے کر آئے گا‘‘-
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی اصل کامیابی اس کے ظاہری اعمال کی کثرت سے بڑھ کر اس کے دل کی کیفیت سے وابستہ ہے- اسی بنیاد پر عارفین نے اصلاحِ عمل کا آغاز اصلاحِ قلب سے کیا اور یہ تعلیم دی کہ پہلے باطن کو درست کرو، کیونکہ جب نیت پاک ہو جاتی ہے تو عمل میں بھی پاکیزگی پیدا ہونے لگتی ہے-
حضرت سلطان باھوؒ نے اسی حقیقت کو نہایت سادہ اور خوبصورت الفاظ میں بیان کیا ہے کہ:
|
جے رَبّ ناتیاں دھوتِیاں مِلدا تاں مِلدا ڈڈواں مَچھیاں ھو |
اگر محض ظاہری طہارت سے رب مل جاتا تو مینڈک اور مچھلیاں سب سے پہلے اسے پا لیتیں؛ اگر لمبے بال رکھنے سے قربِ الٰہی حاصل ہوتا تو بھیڑیں اور بکریاں سب سے آگے ہوتیں؛ اگر رات بھر جاگنے سے خدا مل جاتا تو رات کو جاگنے والے بہت سے لوگ پہلے ہی اس مقام تک پہنچ چکے ہوتے- پھر آپؒ اصل حقیقت کی طرف متوجہ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ملتا ہے جن کی نیتیں سچی ہوں-گویا عبادت کی روح اخلاص ہے اور عمل کی حقیقت نیت سے متعین ہوتی ہے-
اسی حقیقت کو حضرت سلطان باھوؒ نے ایک اور مقام پہ نہایت مؤثر انداز سے بیان کیا ہے کہ:
|
جے دل نوں نماز پڑھائیاں ناہیں، کی ہویا جے نیتی ھو |
یعنی اگر دل کی حاضری اور نیت کی پاکیزگی موجود نہیں تو محض ظاہری نماز کیا معنی رکھتی ہے؟ اگر انسان اپنے جسم کے اعضاء کو دھو کر پاک کر لے لیکن اس کا باطن آلودہ رہے تو ظاہری پاکیزگی اسے حقیقی پاکیزگی نہیں دے سکتی- اگر عبادت لوگوں کو دکھانے کے لیے ہو تو وہ عبادت اپنی روح کھو دیتی ہے- یوں تزکیے کا سفر ظاہر سے باطن، عمل سے نیت اور عبادت سے اخلاص تک پہنچتا ہے اور اس سفر کی اصل بنیاد قلب کی پاکیزگی ہے-
الغرض! بنیادی حقیقت یہ ہے کہ انسان صرف اپنے ظاہر کو پاک کرنے پر اکتفا نہ کرے بلکہ اپنے باطن کو بھی پاکیزہ اور طیب بنائے، اپنے دل اور خیال کا تزکیہ کرے، کیونکہ انسان کی اصل اصلاح اس کے اندر سے شروع ہوتی ہے- اس تزکیے کا ایک اہم ذریعہ تصورِ اسم اللہ ذات ہے-جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
’’اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِ اللہِط اَلَا بِذِکْرِ اللہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ ‘‘[14]
’’جو ایمان والے ہیں اُن کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں ، خبردار !اللہ پاک کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے‘‘-
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا :
’’لِکُلِّ شَیْءٍ صِقَالَۃٌ وَّ صِقَالَۃُ الْقُلُوْبِ ذِکْرُاللہِ تَعَالٰی‘‘[15]
’’ہر چیز کو صاف کرنے کیلئے کوئی نہ کوئی آلہ ہوتا ہے دل کو صاف کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے‘‘-
ذکرِ الٰہی دل کو غفلت سے نکالتا، اسے پاکیزگی عطا کرتا اور اسے اپنے رب کی طرف متوجہ کرتا ہے-
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کو اللہ تعالیٰ نے عظیم مقاصد کے لیے مبعوث فرمایا اور ان مقاصد میں تزکیہ ایک بنیادی مقصد ہے- یہ تزکیہ صرف کسی ایک پہلو تک محدود نہیں بلکہ انسان کی پوری زندگی کو محیط ہے؛ اس کی خوراک سے لے کر اس کے خیالات تک، اس کے اعمال سے لے کر اس کے اخلاق تک اور اس کے ظاہر سے لے کر اس کے باطن اور قلب تک- جس طرح جسم کی پاکیزگی ضروری ہے، اسی طرح دل کی پاکیزگی بھی ضروری ہے، بلکہ انسان کے اعمال کی اصل پاکیزگی اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب اس کا باطن پاکیزہ ہو-
اسی باطنی پاکیزگی سے ہماری تہذیبی اور اخلاقی زندگی بھی تشکیل پاتی ہے-اسلامی ثقافت اور اسلامی تمدن محض لباس، طرزِ تعمیر یا ظاہری علامات سے متعین نہیں ہوتے بلکہ ان کی اصل بنیاد ان اقدار اور اخلاقی اصولوں میں ہے جو انسان کے باطن سے جنم لیتے ہیں- ہم کیا سوچتے ہیں، ہمارے دل میں کیا ہے اور ہماری نیت کیا ہے،اسی کے مطابق ہمارے اعمال، ہمارے رویے اور بالآخر ہماری اجتماعی زندگی تشکیل پاتی ہے-چنانچہ اسلامی تمدن کی حقیقی روح بھی اسی تزکیۂ باطن، پاکیزگیِ فکر، اخلاصِ نیت اور اللہ تعالیٰ سے تعلق میں پوشیدہ ہے-
اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کا یہی مشن اور مقصد ہے کہ انسان کے دل میں اللہ پاک کی محبت پیدا کی جائےاور انسان کو اللہ کے ذکر کی جانب رجوع دلایا جائے- یہ وہ جوہر ہے جو اولیاء کرام کی تعلیمات کا اصل ہے، جس کا مرکز اور بنیاد یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر قائم رکھا جائے، رسول اللہ (ﷺ) کی اطاعت و اتباع اختیار کی جائےاور حضور (ﷺ) کے قرب کو طلب کیا جائے-اللہ تعالیٰ ہم سب کو اعمالِ صالحہ کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اس راہ پر ثابت قدم رکھے-آمین!
٭٭٭
[1](البقرۃ:129)
[2](الحجرات:12)
[3](سنن الدارمی، کتاب الرقاق)
[4](صحيح بخاری ،كتاب الایمان)
[5](الانعام:162)
[6](صحیح مسلم، کتاب الحیض)
[7](الاعراف:205)
[8](حلیۃ الاولیاء ج:4، ص:346)
[9](البقرۃ:10)
[10](الاعراف:179)
[11](الحج:46)
[12](سورۃ محمدؐ:24)
[13](الشعراء:88-89)
[14](الرعد:28)
[15](مشکوٰۃ المصابیح، کتاب الدعوات)