اے ابو ذر! اگر تم چاہو تو مَیں اُن کی شان میں مزید بیان کروں؟ عرض کی ! ہاں اے اللہ کے رسول ! مزید ارشاد فرمائیں- فرمایا ! اگر کوئی جوں اُن کے کپڑوں میں گھس کر اُنہیں کاٹے گی تو اُس کی تکلیف کے بدلے اللہ تعالیٰ اُنہیں سترّحج اور سترّ عمرے کا ثواب عطا فرمائے گا اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے 40 غلام آزاد کرنے کا اُنہیں ثواب ملے گااور وہ غلام بھی اتنے قیمتی کہ اُن میں سے ہر ایک غلام کی قیمت بارہ ہزار دینار ہو- اے ابو ذر! اگر تم کہو تو مَیں اُن کی شان میں مزید بیان کروں ؟ عرض کی ! ہاں اے اللہ کے رسول ! مزید ارشاد فرمائیں - فرمایا! اُن میں سے جب کوئی اہل ِمحبت ذکر اللہ کرے گا تو اُس کی ہر سانس کے بدلے دس لاکھ درجات لکھے جائیں گے- اے ابو ذر ! اگر تم کہو تو مَیں اُن کے بارے میں کچھ اور بیان کروں؟ عرض کی! ہاں اے اللہ کے رسول ! مزید ارشاد فرمائیں- فرمایا ! اُن میں سے جب کوئی کوہ ِعرفات میں دو رکعات نماز ادا کرے گا تو اُس کے لئے حضرت نوح (علیہ السلام) کی ایک ہزار سالہ عمر کا ثواب لکھا جائے گا- اے ابو ذر ! اگر تم چاہو تو مَیں اُن کے بارے میں مزید بیان کروں؟ عرض کی ! ہاں اے اللہ کے رسول ! مزید ارشاد فرمائیں- فرمایا: جب کوئی اُن میں سے اسم اللہ ذات کی تسبیح کرے گا تو قیامت کے دن وہ تسبیح بارگاہِ الٰہی میں اِس بات سے افضل ہو گی کہ دنیا کے پہاڑ سونا چاندی بن کر اُس کے ساتھ چلا کریں- اے ابو ذر! اگر تم کہو تو مَیں اُن کے بارے میں مزید بیان کروں؟ عرض کی: ہاں اے اللہ کے رسول! مزید ارشاد فرمائیں- فرمایا: جس نے عقیدت بھری نظروں سے اُن کی طرف دیکھا تو اللہ تعالیٰ کو یہ بات بیت اللہ کی طرف دیکھنے سے زیادہ پسند ہو گی، جس نے عقیدت سے اُن کو دیکھا تو گویا اُس نے اللہ کو دیکھا، جس نے اُنہیں لباس پہنایا تو گویا اُس نے اللہ کو لباس پہنایا اور جس نے اُنہیں کھانا کھلایا تو گویا اُس نے اللہ کو کھانا کھلایا- اے ابو ذر! اگر تم کہو تو مَیں اُن کے بارے میں مزید بیان کروں؟ عرض کی! ہاں اے اللہ کے رسول! مزید ارشاد فرمائیں- فرمایا! وہ گنہگار جو گناہ کرنے پر بضد بھی ہو اور بے حد گنہگار بھی ہو ، اگر اُن کی محفل میں آ بیٹھے گا تو اُٹھنے سے پہلے اُس کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے- پس تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اہل ِدل کبھی کبھی سچے خوابوں کی صورت میں اسرارِ ملکوت کا مشاہدہ و مکاشفہ کرتے رہتے ہیں اور کبھی کبھی بیداری کی حالت میں بھی اُن پر مشاہدہ کی صورت میں معانی منکشف ہوتے رہتے ہیں اور یہ حالت اعلیٰ درجات میں سے ہے اور یہ درجاتِ نبوت میں سے ہے- بے شک سچے خواب نبوّت کا چھیالیسواں حصہ ہیں- پس تم اُن کے معاملے میں ڈرنا، اگر تم اِس بارے میں غلطی کرو گے تو تمہارے قصور کی حد تجاوز کر جائے گی اور تم ہلاکت میں جا پڑو گے- اُس عقل سے جہالت بہتر ہے جو اُن کے انکار کی طرف راغب کرے کیونکہ اولیاء اللہ کے امور سے جس نے انکار کیا اُس نے گویا انبیاء کا انکار کیا اور وہ دین سے مکمل طور پر نکل گیا‘‘-
(جاری ہے)