حضور نبی کریم (ﷺ)، رؤوف و رحیم، جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ (ﷺ) کی امت کے اولیاءِ کرام(رحمتہ اللہ علیھم) نے ہر دور میں دعوتِ الیٰ اللہ کی شمع کو فروزاں رکھا ہے- انہوں نے اپنے پاکیزہ کردار، دلنشیں گفتار اور روح پرور طرزِ عمل کے ذریعے بندگانِ خدا کو راہِ حق کی جانب متوجہ کیا اور دلوں میں محبتِ الٰہی کی روشنی پیدا کی- زمان و مکان، زبان و انداز یا تہذیب و ثقافت کا فرق تو بجا ہے لیکن ایک ہی مقصود کی چاہت کی وجہ سے صوفیاء کرام کی تعلیمات میں فکری مماثلت روزِ روشن کی طرح واضح ہے- صوفیاء کرام قرآن مجید، احادیثِ نبوی (ﷺ)، احادیثِ قدسی و اقوالِ اصحابِ رسول (ﷺ) و اتقیاء امت رحمہم اللہ اجمعین کی روشنی میں عرفانی نکات کو بیان کرتے ہیں اور لوگوں کو راہِ راست پر لانے کی کوشش کرتے ہیں- خواہ پنجاب کے سلطان العارفین حضرت سلطان حق باھُوؒ ہوں یا سندھ کے شاہ سائیں حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ ہوں، تعلیم و تلقین کی بنیاد سب کی ایک ہی ہے-
حضرت سلطان باھُو (رحمتہ اللہ علیہ) برصغیر پاک و ہند کے مشہور صوفیاء کرام میں سے ایک ہیں- آپ کے اسم گرامی سے کون واقف نہیں- آپؒ مادر زاد ولی کامل اور فقر کے بادشاہ ہیں- طالبی اور مرشدی کی رِیت میں جب بھی آپؒ کا اسم گرامی آتا ہے تو راہِ فقر میں چلنے والے طالبانِ مولا کیلئے آپؒ بطور جامع اکمل نورالہدیٰ مرشد معروف ہیں اور آپؒ کی تعلیمات فقرومعرفت کا بحرِ بیکراں ہے- جو طالب طلبِ مولا کی راہ پر گامزن ہے، اس کیلئے آپ کی ہر تصنیف بطور مرشد رہنمائی فرمانے کے ساتھ ساتھ اسے منزِل مقصود تک بھی پہنچاتی ہے- آپ نے کم و بیش 140 تصانیف تحریر فرمائیں اور یہ آپ کی تصنیفات کا امتیاز ہے کہ قاری کو ہر صفحے پر آیات قرآنی و احادیث نبوی (ﷺ) کے حوالہ جات درج ملتے ہیں- اگر کسی طالب کو مرشد کامل مکمل نہ ملے تو وہ حق باھُوؒ کی کتاب کو بطور مرشد مطالعہ کرے- جس طرح ایک مرشد کامل طالب کی ہر مقام پر رہنمائی فرماتا ہے بعین اسی طرح حق باھُوؒ کی کتاب اس کی رہنمائی فرمائے گی-
سندھ کی سرزمین پر شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کا ڈنکا بجتا ہے- آپؒ کی تعلیمات عشق و عرفان کا امتزاج اور دعوتِ الی اللہ کا کامل درس ہیں- جہاں حق باھُوؒ نے فارسی و لہندی میں نثر و نظم کے پیرائے میں تعلیمات تصوف کو بیان فرمایا ہے وہیں شاہ سائیں کا سندھی زبان میں صوفی کلام شاہ جو رسالو معروف بہ عام ہے- شاہ صاحب کی تعلیمات میں بھی اسم اعظم، حقیقتِ انسان، عشقِ حقیقی، ازلی زندگی، اسرار و معرفت و دیگر تصوف کے دقیق نکات ملتے ہیں جو کہ تعلیماتِ سلطان حق باھُوؒ میں بھی یکساں طور پر دکھائی دیتے ہیں-
حضرت سلطان باھُو اور حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی (رحمتہ اللہ علیھم) کی تعلیمات پر بات کرنے سے پہلے قارئین کیلئے ایک وضاحت غور طلب ہے کہ لوگ اکثر ولایت کو ہی روحانی مراتب کی انتہا سمجھ لیتے ہیں مگر حقیقت اس کے برعکس ہے- بیشک ولایت کا ایک اپنا الگ مقام ہے مگر فقر کا مقام اس سے بھی آگے ہے- جیسا کہ حدیث میں آقا کریم (ﷺ)کا فرمان مبارک ہے:
’’الفقر و فخری والفقر منی‘‘
’’فقر پر مجھے فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے (فقر میرے اندر کا نور ہے)‘‘-
حضرت سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
|
غوث قطب اورے اوریرے عاشق جان اگیرے ھو |
کیسا عجیب اتفاق ہے کہ 1102ھ میں حضرت سلطان باھُوؒ کا وصال مبارک ہوا اور شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی اسی سال یعنی 1102ھ میں ولادت ہوئی- حضرت سلطان باھُوؒ کی تعلیمات کا زیادہ تر خزانہ نثر کی صورت میں موجود ہے جس میں 139 فارسی میں لکھی ہوئی ہیں اور ایک ابیات باھُوؒ "چنبے دی بوٹی" کے نام سے ہر خاص و عام میں مشہور ہے جبکہ جیسے ماقبل عرض کیا گیا کہ شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی تعلیمات شاعری کی صورت میں موجود ہیں-
سلطان حق باھُوؒ اور شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی تعلیمات میں فکری مماثلت کا ابیات کی روشنی میں مختصر جائزہ لیتے ہیں - جیسے حضرت سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
|
الف: اللہ چنبے دی بوٹی میرے من وچ مرشد لائی ھو |
اس بیت شریف میں حضرت سلطان باھُوؒ طالب کو سمجھا رہے ہیں کہ الف سے مراد اسم اللہ ہے جس کو بمثل بیج طالب کے دل کی زمین پر مرشد کامل اپنی نگاہ کرم سے لگا دیتا ہے- سب سے پہلے مرشد کامل طالب کے دل کی زمین کو نفی اور اثبات کا پانی دیتا ہے- جب اسم اللہ کی بوٹی اس پانی سے پھوٹتی ہے تو وہ مشک سے زیادہ خوشبو پھیلاتی ہے یعنی اس طالب کے وجود سے لوگ مستفیض ہوتے ہیں- وہ طالب جہاں بیٹھتا ہے اللہ کے نام کی دعوت دیتا ہے اور حضرت سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں کہ اس مرشد کامل کا سایہ و نگاہ شفقت قائم رہے جس مرشد کامل نے یہ اللہ کے نام کی بوٹی میرے دل میں لگائی ہے-
شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ اپنے سندھی بیت میں ارشاد فرماتے ہیں:
|
اکر پڙھ ﺍﻟﻒ جو، ورق سڀ وسار، |
’’الف کا حرف ہی پڑھ (الف سے مراد ہے اسم اللہ ذات) باقی اوراق کو بھول جا- اور کتنے صفحات پڑھے گا ؟ بس اپنے اندر کو روشن کر لے‘‘-
شاہ سائیں اپنے ایک اور شعر میں فرماتے ہیں:
|
سا سِٽَ سارين، الف جنھن جي اڳ ۾، |
’’وہ سطر یاد کر جس کی ابتدا میں الف کا حرف ہو (الف سے مراد ہے اسم اللہ ذات) کہ تو خواہ مخواہ محبوب حقیقی کو کسی اور چیز میں تلاش کر رہا ہے‘‘-
یہاں غور طلب بات یہ ہے کہ حضرت شاہ سائیں اسم اللہ ذات کے متعلق ہی فرما رہے ہیں کہ اللہ کے نام کے ذکر سے انسان کا باطن صاف ہوتا ہے- اسی طرح دوسرے بیت میں فرمایا کہ اس سطر کو دیکھو کہ جس کی ابتدا میں اسم اللہ ذات ہو اس کے علاوہ کسی اور طرف اپنی توجہ نہ کی جائے-
حضرت سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
|
الف: الست بربکم سنیا جند قالو بلے کوکیندی ھو |
حق باھُوؒ نے واقعہ الست کے متعلق بات فرمائی کہ جب تمام ارواح نے سے الست ربکم کی صدا سنی ہے تو تمام روحوں نے ’’قالوا بلےٰ‘‘ کی صدا لگائی ہے اور اب معاملہ یہ ہے کہ وطن کی محبت اتنی غالب آ چکی ہے کہ ایک لمحے کے لیے بھی ارام نہیں اور اے راہزن دنیا تجھ پر خدا کا قہر نازل ہو تُو تو وہ ہے جو حق کے راستے کے درمیان بیٹھ کر حق کی جانب جانے والے سالکوں کو روکتی ہو اے باھُوؒ عاشق کبھی بھی اسے قبول نہیں کرتے چاہے وہ ان کے سامنے رو رو کے اپنا سر پتھر سے پھوڑ دے-
شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ فرماتے ہیں:
|
الست بربِّڪم، جڏهن ڪن پيوم، |
شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ صاحب فرماتے ہیں کہ جب سے الست بربکم کی اواز میرے کانوں پر پڑی تو ہم نے دل سے فورًا ہی وہاں ’’قالوا بلی‘‘ کہا اور اسی وقت ہی اپنے مالک سے وعدہ کر لیا-
حضرت سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
|
ب - باجھ حضوری نہیں منظوری توڑے پڑھن بانگ صلاتاں ھو |
حضرت سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں کہ حضوریٔ قلب کے بغیر انسان کی نماز قبول نہیں ہوتی چاہے وہ نفلی عبادات یا روزے رکھے یا پوری رات جاگتا رہے یا جب تک دل حاضر نہ ہو اور دل کی حضوری نصیب نہ ہو تو زکوۃ دینے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہاں قبول کرنے والا وہ مالک ہے پر روحانی اعتبار سے وہ چیز قابل قبول نہیں اور اللہ رب العزت کی ذات پہ فنا ہوئے بغیر جماعتوں یا گروہوں کے اندر بھی کوئی تاثیر نہیں-
اسی بات پر شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ صاحب فرماتے ہیں:
|
روزا ۽ نمازون، ايءُ پڻ وڏو ڪم، |
شاہؒ صاحب فرما رہے ہیں کہ نماز یا روز ے یہ بہت اچھے ہی کام ہیں لیکن وہ راز وہ رمز وہ راستہ ہی الگ ہے جس پر چل کر انسان اپنے محبوب حقیقی کے جلوے دیکھتا ہے اب وہ کون سا راز ہے وہ کون سی رمز ہے وہ کون سا راستہ ہے اس کے متعلق شاہؒ صاحب دوسرے ابیات میں فرماتے ہیں:
|
جن وڃايو وجود، سي فاني ٿيا في ﷲ ۾، |
شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ صاحب نے اس ابیات میں فنا کے حوالے سے بات فرمائی ہے کہ جن سالکوں نے اپنے وجود کو محبوب حقیقی کے راستے میں ضائع کیا یعنی زہد کی بھٹی میں خود کو ڈالا وہی سالکان فنا ہوئے جہاں پر نہ کوئی قاعدہ نہ کوئی قیام نہ ہی کوئی سجود کرنے کی ضرورت پڑتی ہے وہ جیسے ہی اپنے وجود کو ختم کرتے ہیں یعنی فنا کرتے ہیں تبھی وہ ذات باری تعالیٰ تک پہنچ پاتے ہیں-
حضرت سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
|
ن-نیڑے وسن تے دور سنڑیون ویہڑے ناہیں وڑدے ھو |
حضرت سلطان باھُوؒ کے یہ ابیات قرآن کریم کی دو آیات کی ترجمانی کرتا ہے ایک ’’وَ نَحْنُ اَقْرَبُ اِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ‘‘ دوسری آیت ’’وَ فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ ط اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ‘‘ کہ وہ ذات تو تمہارے بالکل قریب ہے وہ ذات تمہارے اندر موجود ہے لیکن تم اسے باہر تلاش کرتے ہو بے وقوفوں کی طرح حالانکہ تمہیں اپنے اندر تلاش کرنے کا وہ طریقہ نہیں اتا دور بھی گئے ہو لیکن حاصل کچھ نہیں ہوا حالانکہ اگر اپنے اندر جھانک لیتے تو وہ تمہیں اپنے اندر سے ہی مل جاتا چونکہ تمہارا یہ وجود یہ ایک گھر کی مثل ہے وہ اس گھر کے اندر موجود ہے لیکن مرشد کامل کی نگاہ کرم کے بغیر طالب اس راستے پر گامزن نہیں ہو سکتا، اگر اس ذات کو پانا چاہتے ہو تو اپنے دل کو شیشے کی طرح صاف کر لو دل صاف ہو جائے تو تمام پردے ہٹ جاتے ہیں تو ہی اس ذات کو تم پا سکتے ہو- اب دل کا شیشہ کیسے صاف ہوگا دل کا شیشہ مرشد کامل کی نگاہ گرم اور ذکر الٰہی کی بدولت ہی صاف ہوتا ہے کیونکہ فرمان نبوی (ﷺ) ہے: ہر چیز کو صاف کرنے کے لیے کوئی نہ کوئی آلہ ہوتا ہے مگر دل کو صاف کرنے کے لیے اللہ کا ذکر ہے- اب یہ ذکر کہاں سے نصیب ہوگا یہ ذکرالٰہی مرشد کامل کی بارگاہ سے ہی نصیب ہوتا ہے-
شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ فرماتے ہیں:
|
ھوت تنھنجي ھنج ۾، پڇين ڪوھ پرياڻ، |
شاہؒ صاحب فرما رہے ہیں کہ وہ مالک حقیقی تو تیرے پاس ہے لیکن تو ہے جو اسے دور سمجھ رہا ہے، قرآن کریم کی آیت مبارکہ میں وہ خود فرماتا ہے اے بندہ میں تو تیری شہ رگ سے زیادہ قریب ہوں یعنی وہ تیرے ساتھ ہے، کبھی اپنے اندر جھانک کے تو دیکھ وہ تیرے اندر موجود ہے لیکن تو اسے باہر تلاش کرتا ہے-
شاہؒ صاحب مزید فرماتے ہیں:
|
سڄڻ ساھ پساھ ۾، پرين پاڻ پساھ، |
شاہ ؒ صاحب فرماتے ہیں کہ محبوب ہماری روح میں جلوہ گر ہے محبوب خود جلوہ گر ہے جو محبوب حقیقی سے یکتا ہو گیا وحدت راہ تو اسی نے پائی ہے، قرآن میں وہ خود فرماتا ہے ’’میں تمہارے اندر موجود ہوں کیا تم دیکھتے نہیں‘‘جو قرآن کریم کا سچا فرمان ہے-
حق باھُوؒ فرماتے ہیں:
|
ج- جیں دل عشق خرید نہ کیتا سو دل بخت نہ بختی ھو |
حق باھُوؒ فرماتے ہیں کہ جس دل نے عشق کو نہیں خریدا تو اس دل کا نصیب، نصیب نہیں استاد (مرشدِ کامل) نے ازل کا سبق پڑھایا اور ہاتھ میں دل والی تختی یعنی اسم اللہ عطا فرما دی ہے اس راہ میں جو تکلیف سر پر آئے تو اے طالب اف بھی نہیں کرنا بلکہ صبر وتحمل سے کام لینا یہی اسم اللہ ذات توحید الٰہی ہے اسے پڑھ اور مالک حقیقی کے ساتھ واصل ہو جا- اس ابیات میں حضرت سلطان باھُوؒ نے بھی یہی فرما دیا کہ اسم اللہ ذات کا خزانہ مرشدِ کامل کی بارگاہ سے نصیب ہوتا ہے -
شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ صاحب فرماتے ہیں:
|
جن کي دور درد جو، سبق سور پڙھڻ، |
شاہؒ صاحب فرماتے ہیں کہ جسے محبت اور عشق حقیقی کو پانے کی طلب و جستجو ہو وہی عشق و محبت کا سبق پڑھتے ہیں دوسری سطر میں شاہ صاحب اسم اللہ ذات کے مطالعہ کی ہی بات فرما رہے ہیں کہ طالب خاموشی کے ساتھ اسم اللہ ذات کا مطالعہ کرتے ہیں وہ ہی صفحہ پڑھتے ہیں جس میں محبوب حقیقی کا جلوہ نظر آئے -
سلطان حق باھُوؒ فرماتے ہیں:
|
س - سینے وچ مقام ہے کیندا سانوں مرشد گل سمجھائی ھو |
حضرت سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں کہ سینے میں کس کا مقام یعنی جگہ ہے یہ بات مرشدِ کامل کے بغیر کوئی نہیں سمجھا سکتا اور جو یہ سانس آ اور جا رہے ہیں یہ ہی حقیقی رمز ہے جسے سمجھنا ہے کیونکہ سانسوں کے ذریعے ذکر الٰہی اسم پڑھنا ہے جو اصل میں راز الٰہی ہے -اے باھُوؒ یہی تو موت و حیات ہے اور یہ ہی راز الٰہی ہے- اس ابیات میں کتنی خوش اسلوبی کے ساتھ حضرت سلطان باھُوؒ اسم اللہ ذات ، ذکر الٰہی اور موت و حیات کی رمز کو سمجھا دیا جسے سمجھنے میں طالب سالہا سال اس راہ کا راہی بن کر گزارتا ہے-
حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ فرماتے ہیں:
|
من مڻڪو تن تسبيح، دل دنبورو جن، |
شاہؒ صاحب سانسوں میں ذکر کرنے کے طریقہ کار کو کیسے تشبیہات کی صورت میں سمجھا رہے ہیں کہ من اور تن تسبیح اور تسبیح کے دانوں کی طرح ہے دل مثل طنبورہ (آلہ موسیقی) ہے سانس طنبورے کی وہ تاریں ہیں جس سے سُر اور لے کی آواز سننے والے کو مسحور کر دیتی ہیں یہاں سانس وحدت کے سُر میں یعنی اسم اللہ ذات کے ذکر میں محو ہیں اور وحدہ لاشریک لہ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں یہی راگ الاپ رہے ہیں وہ طالب جن کہ سانس ذکر الٰہی میں چل رہے ہیں وہ بظاھر سوئے ہوئے ہی نظر آ رہے ہوں ان کا سونا بھی عبادت ہے-
حضرت سلطان باھُوؒ فرماتے ہیں:
|
ل - لکھن سکھیوئی تے لکھ نہ جاتا کیوں کاغذ کیتوئی ضایا ھو |
حضرت سلطان باھُوؒ فرما رہے ہیں لکھنا سیکھا مگر لکھ نہیں پاتے تو کاغذ ضائع کیوں کر رہے ہو مسند ارشاد پر بیٹھ کر طالبان مولا کو کس راہ پر چلا رہے ہو قلم چلانے کا ہنر نہیں جانتے اور خود کو کاتب کہلوا رہے ہو جب کسی مرشدِ کامل کے ہاتھ آئے تو تمہارے دعویٰ سب کہ سب دھرے رہ جائیں گیں، اے باھُوؒ اصل اور حقیقی بات تو ان کی ہے جنہوں نے اسم اللہ ذات اور اسم محمد (ﷺ)کو اپنے دل کی تختی پر نقش کر لیا-
حضرت شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ فرماتے ہیں:
|
ڪاتب لکين جيئن، لايو لام الف سين، |
اے کاتب جس طرح تیری مرضی تو الف اور میم (اسم اللہ ذات اور اسم محمد (ﷺ) کو لکھو میرا محبوب میری روح میں اسی طرح رہائش پذیر ہے- دوسرے ابیات میں شاہؒ صاحب فرماتے ہیں:
|
ڪوھ ٿو ڪاغذ ڪوريين، ويٺو وڃائين مس، |
کیوں کاغذ ضائع کررہے ہو اور ساتھ سیاہی بھی غور سے دیکھو تو صحیح جہاں سے حرف آیا ہے اس حرف سے مراد اسم اللہ ذات ہے-
حرف آخر:
زیرِ نظر مقالے میں حضرت سلطان باھُوؒ اور حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ کی تصوفانہ تعلیمات کا جو فکری جائزہ پیش کیا گیا ہے، اس سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ دونوں عظیم صوفیاء کرام کا سرچشمۂ فکر اور مقصدِ حیات ایک ہی ہے-زبان، مکان اور اندازِ بیان کے تنوع کے باوجود ان دونوں عارفینِ باللہ کے کلام میں توحیدِ الٰہی، اسمِ اللہ ذات سے باطن کی صفائی، ذکرِ قلبی ، فنا فی اللہ اور عظمتِ مرشد، حضوری مجلس محمد (ﷺ)، جیسے بنیادی صوفیانہ افکار کی کامل ہم آہنگی اور یکسانیت موجود ہے-پنجابی اور سندھی ابیات کی روشنی میں یہ موازنہ ثابت کرتا ہے کہ ظاہری علوم و نقوش کے بجائے باطنی عرفان، ذاتِ حق میں محویت اور اطاعتِ رسول (ﷺ) ہی فقر اور ولایت کا حقیقی گوہر ہے- بالآخر دونوں بزرگانِ دین کی تعلیمات سالکانِ حق کو ظاہری رسومات سے بالاتر ہو کر دل کو شیشے کی طرح مصفّٰی کرنے اور محبوبِ حقیقی سے وصال کی راہ دکھاتی ہیں-اللہ تعالیٰ ہمیں ان بزرگانِ دین کی تعلیمات کو پڑھنے اور اس پر دل و جان سے عمل کی توفیق عطا فرمائے- آمین!
٭٭٭
[1]سر جمن، داستان 7، بيت 17 "شاھ جو رسالو" مرتب: بانھوں خان شیخ پبلشر : شاھ عبداللطيف بھٹائی چیئر ،کراچی یونیورسٹی. جلد 1، ایڈیشن 1، 2000
[2]سر جمن، داستان 7، بيت نمبر 5 ایضاً
[3]سر مارئي، داستان 2 ابيات نمبر 1، ایضاً جلد 3، ایڈیشن 1، 2002
[4]سر آسا، داستان 1 ابيات نمبر 21، ایضاً جلد 3
[5]سر آسا، داستان 1 ابيات نمبر 25، ایضاً جلد 3
[6]سر سسئی داستان 5
[7]سر آسا، داستان 6 ابيات 4، ایضاً جلد 3
[8]سر جمن داستان 7 ابیات نمبر 2 ایضاً
[9]سر آسا، داستان 7 ابيات 18، ایضاً جلد 3
[10]سر جمن داستان 7 ابیات نمبر 18 ایضاً
[11]سر جمن داستان 7 ابیات نمبر 19 ایضاً